کارواں - چوتھی قسط

افغانستان کا ناول


میری آنکھ زور زور کی دستک سے کھل گئی۔ صبح ہی صبح نور محمد دروازہ پیٹ رہا تھا، 'ملر صاحب! کیپٹن مورگن نے گیارہ بجے میٹنگ بلائی ہے'۔ یہ سنتے ہی میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
میں نے اٹھ کر منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے۔ اس دوران نور محمد خود ہی چولہے پر پانی ابال کر لے لایا جس سے میں نے شیو بنائی۔ نیم گرم پانی کے چھپاکوں اور شیونگ کریم کے جھاگ سے تازگی مل گئی اور گزشتہ شب کی ساری تھکاوٹ دور ہو گئی۔ میں نے غسل خانے میں سے ہی منہ پر صابن ملتے ہوئے پوچھا، 'نور، ہمارے پاس کتنا وقت ہے؟'
'پونے دس ہیں!' اس نے خبردار کیا۔ میں اچھی طرح ہاتھ منہ دھو کر ہال میں آیا تو دیکھا کہ نور نے معمول سے بڑھ کر تیاری کر رکھی ہے۔ تازہ شیو، نیا مغربی سوٹ اور سر پر قراقلی ٹکا رکھی ہے۔ یہی نہیں، وہ عام دنوں سے زیادہ چہک بھی رہا تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ کچھ دیر بعد آخرکار وہ خود ہی بے صبری سے بولا، 'در اصل ،صاحب نے آج مجھے بھی میٹنگ میں بلا رکھا ہے'۔ وہ الماری سے فوراً جوتوں کا برش اور پالش نکال لایا۔ پہلے اپنے جوتے چمکائے اور منع کرنے کے باوجود میرے بوٹ بھی پالش کر دیے۔ اگرچہ اسے میری خدمت کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن وہ میری سنتا کب تھا؟ اس کا کام تو صرف سفارتخانے کے امور میں میری معاونت کرنا تھی لیکن چونکہ وہ شادی شدہ تھا اور اسے اضافی کمائی کی ضرورت رہتی تھی، اسی لیے اکثر چھوٹے موٹے کام کر دیا کرتا۔ میں بھی اسے کبھی کبھار تنخواہ کے علاوہ اپنی جیب سے کچھ نہ کچھ اضافی رقم دے دیتا تھا۔ اسے میرے گھر پر نوکروں سے چڑ تھی۔ اکثر کہتا، 'آپ مجھے ان سے نبٹنے دیا کریں، یہ آپ کو لوٹ رہے ہیں'۔
ان دنوں میری رہائش کابل شہر کے شمالی حصے میں واقع پبلک پارک کے بغل میں واقع نئی تعمیر شدہ عمارتوں میں سے ایک میں رہا کرتی تھی۔ پارک کیا تھا؟ ایک وسیع و عریض میدان تھا جس میں دلچسپی کا کوئی سامان نہیں تھا۔ یہ جگہ انگریزوں کے گھر کے قریب ہی واقع تھی جبکہ اس کی دوسری جانب امریکی سفارتخانہ تھا۔ یہ دونوں جگہیں میری رہائش سے کافی نزدیک، بمشکل دس منٹ کی پیدل مسافت پر واقع تھیں۔ میٹنگ میں زیادہ وقت نہیں تھا لیکن میں بجائے ناشتہ کرتا، چھت پر چڑھ گیا۔ یہ میرا معمول تھا کہ ہر روز دن بھر دفتری امور میں مصروف ہو جانے سے قبل، کچھ دیر کے لیے صبح کے وقت چھت پر چڑھ کر گردوپیش کا نظارہ ضرور کیا کرتا تھا۔ تب اردگرد کا منظر بہت دلکش رہا کرتا۔ یہ نظارہ اس قدر مسحور کن رہا کرتا تھا کہ مجھے یہ معمول انگریزوں کے گھر اور سفارتخانے کے امور سے کہیں زیادہ اہم لگا کرتا تھا۔ میں کابل کے مضافات میں پھیلے پہاڑوں کی چوٹیوں کا نظارہ کیا کرتا، تا کہ دن بھر دفتر کے امریکی ماحول کی بجائے اس اجنبی دیس بارے یاد دہانی رہے۔
کشادہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر سب سے پہلے میں نے مغرب کی جانب دیکھا جہاں کوہ بابا کے طلسماتی پہاڑ سر اونچا کیے، سورج کی تازہ کرنوں میں نہا رہے تھے۔ پہاڑ اس قدر قریب محسوس ہوتے تھے کہ لگتا، ہاتھ بڑھا کر چھو سکتا ہوں۔ کوہ بابا قدرت کی عجیب شان ، یہ اس قدر طرح دار اور پیراستہ سلسلہ ہے کہ مجھے اکثر ان پر اصل کی بجائے پہاڑوں کی گوتھی مورت کا گماں ہوتا تھا۔ شمال کی طرف عظیم و الشان مگر قدرے تاریک اور دھند میں گم کوہ ہندوکش کے سلسلے نے کابل ہی نہیں بلکہ سارے خطے پر سایہ کر رکھا تھا۔ ہندوکش کو دیکھ کر ہمیشہ کھٹکا سا لگتا۔ کوہ بابا کے برعکس ہندوکش کا عجب رنگ اور بڑی ہیبت تھی۔ ہندوکش کا نام بھی عجیب تھا، اسی نام کے سبب دیو مالا داستان بھی مشہور تھی۔ کہا جاتا تھا کہ ہندوستان کے باسی، یعنی ہندو جب بھی کٹھن راستہ پار کر کے سمرقند کے میدانوں میں پہنچنے کی کوشش کرتے تو یہ پہاڑ، ظالم دیو کی مانند ہمیشہ ان کے راستے میں حائل رہا کرتے اور جو سر کرنے کی سعی کرتا، یہ اسی کی موت ثابت ہوتے۔ اس طرح یہ ہندوکش کہلائے۔ دن اور رات میں کسی بھی وقت ہندوکش پر نظر پڑ جاتی تو مجھے شدت سے احساس ہوتا کہ میں ایشیاء کے قلب میں بیٹھا، اس کی روح سے جڑا ہوا ہوں۔ دیو قامت پہاڑوں کا یہ سلسلہ شمال سے مشرق میں پھیل کر دور ایک ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں کئی دوسرے سلسلے بھی آن کر مل جاتے ہیں۔ اس ملاپ کی جگہ کو پامیر کہا جاتا تھا۔ یہ کیسی جگہ ہے؟ انتہائی دشوار گزار۔ پامیر میں کسی انسان کا داخلہ ممکن نہیں تھا۔ ہمارے لیے وہاں اسرار ہی اسرار تھا اور پہاڑوں کا ایسا گٹھا ہوا میخ کو ہو رہا تھا جہاں پہاڑ ہی نہیں بلکہ کئی قوموں کی حدیں بھی آن کر ٹکر کر ختم ہو جاتی تھیں۔ پامیر سے قراقرم کا سلسلہ بھی نکلتا ہے جو ایشیامیں سب سے دشوار گزار مشہور ہے، ہندوکش سے بھی کئی درجے پرے ہے۔ قراقرم کی پناہ میں ہنزہ کے لوگ بستے ہیں، گلگتی ہیں اور کشمیریوں کا ڈیرہ ہے۔ قراقرم سے آگے ہمالیہ آتا ہے۔ ہمالیہ مشرق میں یہاں سے دور، بلکہ بہت ہی دور ایشیاء کی آخری حد تک ریڑھ کی مانند بل کھاتا ہوا پھیل جاتا ہے۔ ہمالیہ کے قدموں میں ہندوستان ہے۔ ہندوستان میں کئی جدید اور قدیم تہذیبیں آباد اور برباد ہیں۔ گنگا، جمنا اور سندھو دریا ہے۔ یہاں خوشحالی اور ہریالی ہے۔
یوں ہر صبح جب میں دفتر کے لیے نکلنے سے قبل گھر کی چھت پر یہ نظارہ دیکھتا تو افغانستان ہی نہیں بلکہ ایشیاء اور اس براعظم میں اپنی یادوں میں کھو جاتا تھا۔ مجھے یاد آتا کہ کیسے جنگ کے زمانے میں ہمالیہ کے اوپر سے اڑان بھر کر چین تک گیا تھا، گلگت میں جاسوسی مشن، مشرقی ایشیاء میں ہواؤں سے نبرد آزما اور لڑتے بھڑتے گہرے بادلوں میں اکا دکا سمندری جھڑپیں اور آج کل کابل میں دفتر خارجہ کی نوکری کر رہا تھا۔ میں نے یہاں کیا نہیں دیکھ رکھا تھا؟ میں نے صبح کی تازہ ہوا میں چپ چاپ کھڑے، آنکھیں بند کر کے کئی گہرے سانسیں لیں اور پہاڑی سلسلوں کا گراں اور بوجھل احساس، یاد کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا اپنے اندر سمو لیا۔ پھر چھت سے اتر آیا۔ نور محمد اور نوکر ناشتے کی میز پر بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔
میٹنگ میں مورگن نے ہم دونوں کے علاوہ سفارتخانے کے ان دو اہلکاروں کو بھی طلب کر رکھا تھا جو ایلن جاسپر کے معاملے میں کافی معلومات رکھتے تھے۔ ان میں پہلا شخص تو انٹیلی جینس کا اہلکار رچرڈسن تھا۔ مجھے رچرڈسن بہت پسند تھا کیونکہ وہ معلومات کی فراہمی میں عام طور پر بے تکلف واقع ہوا تھا لیکن اس کو دوسروں سے ایک ہاتھ آگے رہنے کی عادت تھی۔ پتلی مونچھ اور تیکھے نقش، کل وقت پائپ پیتا رہتا تھا۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ معقول شخص ہے، پوری سوجھ بوجھ سے بات کیا کرتا اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، صرف پوچھے جانے پر ہی رائے دیا کرتا۔ وہ اس سے قبل ایف بی آئی میں کام کرتا تھا اور پھر دفتر خارجہ میں بھرتی ہو گیا۔ سیکورٹی اور روسی معاملات میں ماہر سمجھا جاتا تھا۔ رچرڈسن کی افغانستان میں تعیناتی بارے گمان یہی تھا وہ محدود عرصے کے لیے افغانستان کی سرحد پر روس کے جنوبی حصے میں روسیوں کے اصل ارادوں کی کھوج لگانے آیا ہے۔ وہ بھی مورگن کی طرح ایلن جاسپر کے معاملے کو سفارتخانے کے باقی انتہائی اہم امور میں بے جا خلل سمجھتا تھا اور کئی بار اس بات کا برملا اظہار بھی کر چکا تھا۔ وہ اس میٹنگ میں بہر حال موجود تھا کیونکہ اس کو معلومات جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ میز پر اپنی فائل دھرے، دونوں ہاتھ اسی پر ٹکائے سوال پوچھے جانے کا منتظر، تیار بیٹھا تھا۔
دوسرا شخص نیکسلر تھا۔ نیکسلر کو سفارتخانے کا سب سے چالاک اور زیرک سفارتی اہلکار سمجھا جاتا تھا۔ وہ چالیس برس کا ادھیڑ عمر شخص تھا جو ہر وقت کسر نفسی سے کام لیتا رہتا۔ نیکسلر کا معاملہ ہم سب سے قدرے مختلف تھا۔ وہ یوں کہ نیکسلر ہم سب یعنی مورگن، رچرڈسن یا میری طرح دوسرے محکمات سے نہیں بلکہ اول دن سے ہی دفتر خارجہ سے منسلک چلا آ رہا تھا۔ یعنی، وہ خالص سفارتکار تھا اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس نے سفارتکاری کے علاوہ کبھی کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ وہ اپنی قابلیت سے متعلق کسر نفسی سے کام لیتا تھا لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طور ہم سب کو اس فرق کا احساس دلاتا ہی رہتا تھا۔ چونکہ وہ منجھا ہوا سفارتکار تھا، اس لیے ہم سب کے بارے اپنی رائے اپنے پاس محفوظ رکھتا۔ ہم بھی تھڑے نہیں تھے، کسی نہ کسی طرح ہمیں اس کے انداز سے باور ہو ہی گیا کہ اصل میں وہ نیول اتاشی کو سیاسی پرزہ، رچرڈسن کو ایف بی آئی کے بغض میں معمولی پولیس افسر اور مجھے ایسی فاش غلطی سمجھتا تھا جو دفتر خارجہ نے خواہ مخواہ ہی اپنے سر مول لی تھی۔ اس کے خیال میں امریکی حکومت نے مجھ ایسے لوگوں کو بھرتی کر کے خواہ مخواہ ہی خزانے پر بوجھ بڑھا رکھا تھا۔ اسے کابل ہر گز پسند نہیں تھا اور یہاں تعیناتی پر اندر ہی اندر گھلتا رہتا تھا۔ اس کی ہر دم کوشش یہ رہا کرتی کہ کسی طرح جان چھڑا کر مشہور سفارتخانوں جیسے بیونس آئرس یا ویانا وغیرہ میں جا کر ٹک جائے۔ وہ بھلے سفارتکاری میں استاد تھا مگر بہرحال کسی بھی صورت لندن یا پیرس جیسے سفارتخانوں کا اہل نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔ ہمیشہ، جس قدر ممکن ہوتا ہر چیز سے خود کو دور رکھنے اور اپنی زبان بند رکھنے کی کوشش کرتا رہتا۔
کیپٹن مورگن نے بات کا آغاز مجھے اطلاع دیتے ہوئے کیا، 'شاہ خان کے دفتر سے کاغذات موصول ہو گئے ہیں۔ تم قندھار جا سکتے ہو'،
'میں کل صبح ہی روانہ ہو جاؤں گا' میں نے کہا،
'مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میرے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سفر سے تمھاری توقعات کیا ہیں؟'
'شاہ خان نے تین مختلف طرح کے امکانات سے روشناس کیا ہے۔ پہلا یہ کہ ایلن جاسپر نے خودکشی کر لی ہو گی!'،
'کیا ایسا ممکن ہے؟' مورگن نے بے ساختہ پوچھا،
'یہ عین ممکن ہے۔ افغانستان میں من چاہی زندگی حاصل نہ ہو پانے کے بعد وہ دلبرداشتہ ہو چکی ہو گی۔ محب خان نے تو افغانستان کی زندگی بارے کئی ایسی چیزیں بتائیں کہ میں خود بھی حیران و پریشان رہ گیا تھا۔۔۔'،
'محب خان؟ وہی جو افغان دفتر خارجہ کے معاملات کو دیکھتا ہے؟' مورگن نے تصدیق چاہی،
'بالکل، وہی محب خان۔ شاہ خان کا بیٹا!' میں نے اثبات میں سر ہلایا، 'اس نے مجھے ایسی کئی نئی باتیں بتائیں جن کا ہماری رپورٹوں میں سرے سے ذکر ہی موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کو علم ہے کہ نظر اللہ امریکہ جانے سے قبل ہی شادی کر چکا تھا اور اس کے یہاں پہلے ہی ایک بچہ بھی تھا؟'
'ہم یہ بات بہت پہلے سے جانتے ہیں!' رچرڈسن نے سامنے رکھی فائل پر انگلیاں بجا کر سکون سے کہا۔
اس بات پر مجھے سخت غصہ آیا۔ 'کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ۔۔۔' میں نے تلملا کر پوچھا، 'جب نظراللہ اور جاسپر کی شادی ہوئی تو وہ اس کے بعد بھی افغان بیوی کے ساتھ بسر کرتا رہا ہے؟ یہی نہیں بلکہ ان دونوں کے یہاں دوسرا بچے کی پیدائش بھی اسی عرصے کے دوران ہوئی۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ شاید اسی وجہ سے ایلن جاسپر نے خودکشی کر لی ہو؟ تین سال قبل ایک دوسری لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا'۔
کمرے میں موجود سبھی لوگ اس واقعہ کو یاد کر کے چکری کھاتے دکھائی دیے۔ رچرڈسن نے میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹ پوچھا، 'اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو ہمیں اس کی کوئی اطلاع کیوں نہیں ملی؟'
'میں نے بھی یہی سوال اٹھایا تھا!' میرے لہجے میں طنز تھا، 'تم جانتے ہو محب خان نے کیا جواب دیا؟ اس نے کہا کہ ایلن جاسپر صرف ایک عورت ہے۔ اس کے نزدیک یہ اتنی اہم بات نہیں، نظراللہ کابل لوٹ کر آیا تو وہ ہمیں اس کے متعلق اطلاع کر دے گا'۔
'دوسرے دو امکانات کیا ہیں؟' مورگن نے بات آگے بڑھائی۔ میں نے دیکھا کہ نیکسلر ہمارے الفاظ کے چناؤ پر سخت نالاں ہے، وہ بار بار سر جھٹک رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ سفارتکاری کی زبان میں ہمارے اندازوں کو 'امکان' نہیں بلکہ 'قیاس' گردانتا۔ لیکن میں مورگن سے متفق تھا۔ یہ قیاس آرائیاں نہیں بلکہ امکانات ہی تھے کیونکہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے تھے۔
'دوسرا امکان یہ ہے کہ۔۔۔' میں نے نیکسلر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا، 'ایلن کے شوہر نے اسے نظربند کر رکھا ہے اور ہم اگلے چند برس تک اسے ڈھونڈ نکالنے میں ناکام رہیں گے۔ یاد ہے، اس سے پہلے سینڈرسن اور اس ڈینش لڑکی، کیا نام تھا اس کا۔۔۔'
'ونڈور ڈنک!' رچرڈسن نے لقمہ دیا،
'کیا تم ان قیاس آرائیوں پر اعتبار کرتے ہو؟' مورگن نے پوچھا تو نیکسلر کے کان کھڑے ہو گئے، اسے تسلی ہو گئی۔
'مجھے پورا بھروسا ہے۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں'، میں نے پورے وثوق سے کہا۔
لیکن رچرڈسن اس زاویے سے متفق نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس نے پائپ سلگا لیا اور محتاط انداز میں کہا، 'میرے پاس جو شواہد ہیں۔ ان کے مطابق نظراللہ اپنی امریکی بیوی سے محبت کرتا تھا۔ اس نے ایلن جاسپر کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ میرے خیال میں یہ کسی بھی طرح سے سینڈرسن یا ونڈور ڈنک کی طرح کا معاملہ نہیں ہے۔ ان دونوں لڑکیوں کے شوہر بالآخر ان سے اکتا گئے تھے، بلکہ کہا جانا چاہیے کہ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ انہوں نے آٹھ یا نو برس تک اپنی بیویوں کو قید رکھا اور یہی ان کی نفرت کا ثبوت تھا۔ میں اس امکان کو یکسر رد کرتا ہوں'
'ہم اس گتھی کے کسی سرے کو یوں ایک دم رد نہیں کریں گے' مورگن نے حتمی لہجے میں رچرڈسن کو چپ کرا دیا، 'یہ افغانستان ہے اور ہم میں سے کوئی بھی افغانوں کے دماغ کے اندر گھس کر ان کی ذہنیت کو سمجھنے کا اہل نہیں ہے۔ تم اس قدر وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ نظراللہ نے آخر کیا قدم اٹھایا ہو گا؟'
تس پر رچرڈسن نے خوش مزاجی سے سر ہلا دیا، گہرا کش لیا اور عادت سے مجبور، جواب کی بجائے پھر سوال اٹھایا، 'چلو مان لیا کہ اس نے ایلن جاسپر کو قید کر رکھا ہے۔ لیکن کہاں؟ قندھار جیسے شہر میں؟ یا قلعہ بست جیسے اجاڑ مضافات میں؟' اس سوال پر سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
'میں کچھ کہوں؟' نور محمد نے معذرت خوانہ لہجے میں اجازت طلب کی۔ مورگن نے سر ہلایا تو وہ بولا، 'میں نے حالیہ برسوں میں پیش آنے والے اس طرح کے تمام واقعات کا بغور جائزہ لیا ہے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے اگر غیر معمولی حالات نہ ہوں تو عام طور پر لڑکیوں کو آبائی گھروں میں بند کر کے رکھا جاتا ہے۔ بیوی اگر فرنگی ہو تو اسے عورتوں کے بیچ گھیر دیا جاتا ہے۔ عورتوں کے پردے پیچھے، چھپائی ہوئی فرنگی لڑکیوں کو کون ڈھونڈ سکتا ہے؟ ویسے بھی، افغان عورتیں فرنگی بیویوں کو پردے کی پابند بنانے کی شوقین ہوتی ہیں'۔
مورگن نے نور محمد کو یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ بیٹا، ہم تمہیں جتنی تنخواہ دیتے ہیں۔۔۔ تم اس سے کہیں بڑھ کر فائدہ مند ثابت رہتے ہو۔ اس نے با آواز بلند سب سے پوچھا، 'کیا ہم نے نظراللہ کے آبائی گھر سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں؟'
'جس قدر ممکن تھا، ہم پہلے ہی پتہ کر چکے ہیں' نور محمد نے ہی جواب دیا، 'ہمیں کچھ نہیں ملا!'۔
اب نیکسلر بھی سنبھل کر بیٹھ گیا اور پہلی بار گویا ہوا، 'لیکن کیا تمھاری حکومت نے سینڈرسن اور ونڈور ڈنک کی دفعہ، ان کے شوہروں کے گھروں کی تلاشی نہیں لی تھی؟'
'ایسا ہی ہوا تھا' نور نے اعتراف کیا، 'لیکن کیا آپ کو یاد نہیں؟ تلاشی پر بھی کچھ برآمد نہیں ہوا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ نظراللہ کا خاندان ان دوسرے افغانوں کی نسبت خاصا روشن خیال ہے'۔
'کیا یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے اسے یہیں، کابل میں چھپا رکھا ہو؟' مورگن نے کریدا،
'نہیں!' نور محمد نے جلدی سے اس کا اندازہ رد کر دیا لیکن فوراً ہی سمٹ کر بولا، 'جناب عالی! جیسا کہ آپ نے کہا، یہ افغانستان ہے۔ یہاں کچھ بھی ممکن ہے لیکن اس معاملے میں میری رائے یہی ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے'۔ اس پر قائم مقام سفیر نے اپنے سر کو ہلکا سا خم دے کر اس کی بات کو بظاہر مان لیا۔ امریکی حکام کو 'جناب عالی' اور 'عزت ماب' وغیرہ قسم کے خطابات سے پکارنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگرچہ کیپٹن مورگن کا بھی یوں خم سر کے اشارے سے مراد شاہانہ انداز نہیں تھا لیکن میں نے عام طور پر یہی دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی مقامی شخص امریکیوں کو اس طرح کے خطابات سے نوازتا تھا، انہیں سمجھ نہ آتی کہ شائستگی سے جواب دیں یا پھر اس بات پر سرزنش کریں؟ اسی لیے وہ آخر میں مورگن کی ہی طرح سر ہلا کر رہ جاتے۔
نیول اتاشی نے نور محمد کو سراہا لیکن اپنے سٹاف کو تڑاک سے کہا، 'تم تلاشی کی بات کرتے ہو؟ ایسا لگتا ہے جیسے بھول چکے ہو کہ تم افغانستان میں ہو۔ افغانستان میں ہر گھر سے مراد ایک قلعہ ہے اور قلعوں میں اسلحے کی بہتات ہوتی ہے۔ تم ان کے یہاں گھسنے کی کوشش تو کرو، وہ تمہیں گولیوں سے بھون ڈالیں گے۔ اس ملک میں تلاشی کا وارنٹ نامی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ویسے بھی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایلن جاسپر پر امریکی حکومت کا اب کوئی قانونی حق باقی نہیں رہا' وہ صاف جھلایا ہوا تھا۔
'یہ بات ہمیں نہیں، پنسلوانیا کے سینیٹر کو سمجھنی چاہیے!' نیکسلر نے خشک لہجے میں کہا،
'پنسلوانیا کا سینیٹر یا کوئی بھی ہو، وہ لڑکی کو برآمد کرنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالتے پھریں یا ناک بھوں چڑھائیں۔۔۔' قائم مقام سفیر نے شکایتی لہجے میں کہا، 'لیکن مجھے بتاؤ، ہم کیا کریں؟ ہم تو افغان حکومت پر اس بابت کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے۔ انہیں مجبور تو نہیں کر سکتے۔ خیر چھوڑو! تیسرا اندازہ کیا ہے؟' اس کے لہجے میں ناپسندیدگی تھی۔
'شاہ خان نے ہمیں ماضی میں پیش آنے والی ایک تیسری امکانی صورت کو نظر میں رکھنے کی تاکید کی ہے۔ اس کے مطابق ایلن جاسپر موقع تاڑ کر بھاگ نکلی ہو گی۔ اس نے چمن میں برطانوی ریلوے سٹیشن تک پہنچے کی کوشش کی ہو گی۔ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو پھر دو باتوں ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ چمن پہنچ گئی ہو گی لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا کیونکہ ہمیں اس بارے کوئی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری یہ کہ وہ راستے میں ہی، صحرا میں ہلاک ہو گئی ہو گی۔ اس سے پہلے بھی، دو دفعہ ایسا ہی ہوا ہے'۔
'مجھےاس سے پہلے پیش آنے والے ایسے کسی واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ میری فائل میں۔۔۔' رچرڈسن نے با آواز بلند احتجاج کیا،
'یہ تمھاری تعیناتی سے پہلے کی بات ہے' میں نے موقع تاڑ کر ٹوک لگائی تو وہ پائپ کے کشوں میں پناہ ڈھونڈنے لگا۔
'تمہارے پاس یہی رپورٹ ہے؟' مورگن نے پوچھا،
'جی جناب!' میں نے حتمی لہجے میں کہا لیکن میں جانتا تھا کہ بات پوری نہیں ہوئی۔ شاہ خان نے ایک افواہ کا ذکر بھی کیا تھا لیکن اس بابت مزید معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔ میں نے فی الوقت اس قیاس کا ذکر چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ میں چاہتا تھا کہ پہلے تمام امکانات کو اچھی طرح کھنگال لیں تو پھر ہی افواہوں اور سنی سنائی باتوں پر بھی غور کر لیں گے۔
'میں تم سب کی توجہ اس نکتے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔' مورگن نے حقیقت بینی سے کام لیتے ہوئے پر زور انداز میں کہا، 'ملر، تمھارے پہلے امکان کا جہاں تک تعلق ہے، اس میں سے دو مزید باتیں نکلتی ہیں۔ تم لوگ نہ جانے کیوں، اس بات پر غور نہیں کر پائے؟ شاہ خان کے مطابق ممکن ہے کہ ایلن جاسپر نے خودکشی کر لی ہو گی لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ نظراللہ نے اسے قتل کر دیا ہو گا؟'
نور محمد بارے خیال تھا کہ وہ اپنے ہم وطن کے دفاع میں اٹھ کھڑا ہو گا لیکن حیران کن طور پر سب سے پہلے اسی نے مورگن کی بات سے اتفاق کیا، 'اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا' لیکن یہ کہہ کر وہ میری توقع کے عین مطابق فوراً اپنی اصل بات پر آیا۔ اس کے لہجے میں مضبوطی تھی، 'لیکن بات یہ ہے کہ میں نظراللہ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میرے خیال میں وہ کسی فرنگی پر ہتھیار اٹھانے کی حماقت کبھی نہیں کرے گا!'۔
قائم مقام سفیر نے سر ہلا کر کہا، 'شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نظراللہ کے بارے جس قدر جان چکا ہوں، وہ واقعی ایسا نہیں لگتا۔ لیکن دیکھو، میں کسی بھی امکان کو یکسر رد نہیں کر سکتا'۔
'آپ کا خیال درست ہے' میں نے مورگن کی ہی بات کو آگے بڑھایا۔ اس کی ہاں میں ہاں ملا کر کہا، 'میں نے کبھی نظراللہ سے ملاقات نہیں کی لیکن اس کے بارے جس قدر پڑھا یا سن چکا ہوں۔۔۔ وہ ایسا دکھائی نہیں دیتا!'۔
'ہم کسی حوالے کے بغیر ہی یکدم نتائج اخذ کر رہے ہیں!' مورگن نے متنبہ کیا، 'مجھے ٹھوس حقائق سے آگاہ کرو تا کہ فیصلے پر پہنچ سکیں!'
اس پر رچرڈسن گلا کھنکار کر بولا، 'حقائق؟ میرے پاس ایلن جاسپر کے بارے تفصیلی رپورٹ ہے۔ نیول انٹیلی جینس اور ایف بی آئی نے جس قدر ممکن تھا، معلومات جمع کر کے فراہم کر دی ہیں' یہ کہہ کر اس نے فائل کو رسمی انداز میں کھولا، نیکسر کی جانب دیکھا اور پوچھا، 'کیا میں پڑھ کر سناؤں؟' اس سے پہلے کہ اسے اجازت ملتی، وہ خود ہی بے صبری سے پڑھنے لگا،
'ایلن جاسپر۔ 1922ء میں پنسلوانیا کے شہر ڈارسٹ میں پیدا ہوئی۔ باپ رئیل اسٹیٹ اور انشورنس کے کاروبار میں ہے۔ اس کا ایک بھائی ہے جو اس سے تین سال چھوٹا ہے۔ یہ لڑکا، ہر لحاظ سے معمولی ہے۔ جنگ کے دوران فوج میں بھرتی کیا گیا تھا۔ اس نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی، آج کل پین سٹیٹ میں کالج کی پڑھائی مکمل کر رہا ہے۔ ہمارے پاس جاسپر خاندان کا گروپ فوٹو بھی ہے جو 1943ء کا ہے۔ یہ ایلن جاسپر کی نظراللہ سے ملنے سے ایک برس پہلے کی فوٹو ہے'۔
رچرڈسن نے فائل سے فوٹو نکالی اور کہا، 'اس فوٹوگراف میں کوئی انوکھی بات نہیں۔ جاسپر عام سا امریکی خاندان ہے۔۔۔ ان کے پاس ایک کولی کتا اور بیوک موٹر کار بھی ہے'۔
میں نے فوٹو دیکھا تو اس میں واقعی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ یہ امریکہ کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی اوسط درجے کا گھرانہ ہو سکتا تھا۔ یوں کہ ماں مناسب انداز میں بنی سنوری لیکن قدرے گول مٹول اور فربہ، باپ دیکھنے میں وقیع لیکن اونچا قد، بیٹا دبلا پتلا اور چست پتلون پہنے ہوئے، کولی کتا موٹا اور اچھا پلا ہوا جبکہ بیوک کار تازہ پالش سے چمچماتی ہوئی۔ جبکہ بیٹی۔۔۔'
'میں نے افغانوں سے بیاہ کرنے والی جتنی بھی لڑکیاں دیکھی ہیں، ایلن ان میں سب سے زیادہ خوش شکل ہے۔۔۔' نور محمد نے اپنا رد عمل پیش کیا۔ اس پر رچرڈسن نے پائپ لہراتے ہوئے کہا، 'میری اس کے ساتھ خوب نبھتی۔ ایلن واقعی بہت خوبصورت ہے'۔ مجھے اس پر حیرت ہوئی۔
اسی لیے میں نے پہلے رچرڈسن اور پھر ایلن کی تصویر کو دوبارہ ٖغور سے دیکھا۔ بیس سال کی عمر میں ایلن جاسپر کسی بھی اچھے امریکی کالج کی طالبہ ہو سکتی تھی۔ دبلی پتلی، بناؤ سنگھار، سنہرے بال اور واقعی خوش شکل تھی۔ شاید اسی وجہ سے نظراللہ کو بھی بھا گئی۔ اس کے چہرے مہرے سے لگتا تھا کہ وہ کسی بھی طرح کالج میں سب سے ہونہار طالب علم نہیں رہی تھی کیونکہ اس کے چہرے پر ذہانت سے زیادہ حسن جھلک رہا تھا۔ لیکن دوسری جانب کوئی شخص اس کو بہت ہی زیادہ تیکھا اور جازب نظر سمجھ کر پھانس بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ اس طرح کی چیزوں سے بڑھ کر ذہین تھی، صاف لگتا تھا کہ چالبازیاں سمجھ سکتی ہے۔ اصل میں وہ مجموعی طور پر جاذبیت میں کم قامت تھی، لیکن رکھ رکھاؤ اور بناؤ سنگھار میں بے میل نظر آتی تھی۔ اس فوٹو کو دیکھ کر یہی لگتا تھا۔
کیپٹن مورگن نے فوٹو اپنے پاس ہی رکھ لی اور پوچھا، 'کیا ہمیں اندازہ ہے کہ آخر یہ لڑکی ایک افغان سے شادی پر کیونکر مائل ہوئی؟'
شاید رچرڈسن نے فوٹو میں کچھ ایسی چیز دیکھ رکھی تھی جو ہم میں سے کوئی نہیں تاڑ پایا۔ وہ فوراً بولا، ' یہ مجھے ہر وقت شکایت کرنے والی، خود سر لڑکی لگتی ہے'۔ اس بات پر مورگن، جو خود ایک بیٹی کا باپ تھا۔۔۔ ہنس پڑا۔ رچرڈسن نے بات جاری رکھی، 'ہم سب ہی جانتے ہیں کہ عام طور پر بارہ سال کی نو عمر لڑکیاں والدین کی ہر وقت روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ سے سخت تنگ رہتی ہیں۔ لیکن شکر ہے، یہ مرحلہ گزر جاتا ہے۔ اس لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ مجھے لگتا ہے، بیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی یہ ویسی کی ویسی، کوفت میں مبتلا، ضدی ہی رہی۔۔۔ بچپنا نہیں گیا!'۔
میں نے فوٹو دوبارہ دیکھی تو مجھے پہلی بار یہی احساس ہوا۔ وہ ایسی ہی لگتی تھی۔
قائم مقام سفیر نے پوچھا، 'کیا تمھاری رپورٹوں میں اس مفروضے کی کوئی تصدیق ملتی ہے؟'
'جی ہاں!' رچرڈسن نے جواب دیا، 'ایلن جاسپر نے ڈورسٹ کے ہی ایک سکول میں تعلیم حاصل کی اور اچھی خاصی لائق تھی۔ لیکن اچانک ہر چیز سے اکتا گئی۔ اسے کوئی بھی شے نہ بھاتی، ہر وقت بے چین رہا کرتی تھی۔ اسی وجہ سے اس کے ماں باپ نے اسے مقامی سکول سے نکال کر فلاڈلفیا کے ایک مشہور پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیا، وہاں اس کی کارکردگی تسلی بخش تھی'۔
'کیا وہ ہر میدان میں آگے تھی؟' مورگن نے پوچھا کیونکہ عام طور پر امریکہ میں ایسی لڑکیاں جو ہر فن مولا ہوں، صرف وہی تسلی بخش کارکردگی دکھاتی تھیں۔
'بالکل!' رچرڈسن نے تصدیق کی، 'ہاکی، میوزک گروپ، تھیٹر۔۔۔ ہر میدان میں۔ وہ ایک سوشل کیمپ میں کونسلر کا کام بھی کرتی رہی۔ اچھی خاصی مقبول تھی'۔
'کیا اسے سفر کا بھی شوق تھا؟'
'یہ علم نہیں، ایسا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔ لیکن وہ قدرتی ماحول جیسے جنگل وغیرہ سے خاصی متاثر رہا کرتی تھی، ایک دفعہ تو اس نے تن تنہا پورا کیمپ خود چلایا تھا'۔
'سکول کے بعد کالج میں بھی اس کا یہی طور رہا؟' مورگن نے پوچھا، 'مطلب۔۔۔ ہر میدان میں آگے تھی؟ ہاکی؟ گائیکی؟ تھیٹر؟'
'کالج میں بھی ایسی ہی تھی' رچرڈسن نے کہا اور نیکسلر کی طرف دیکھا جو کافی دیر سے چپ بیٹھا تھا۔ اس نے بات جاری رکھی، 'یہی نہیں، اس نے تو کالج میں ایک پیشہ ور میوزک گروپ میں بھی شمولیت اختیار کر لی۔ کالج کا یہ گروپ اکثر فلاڈلفیا کے آرکسٹرا میں فن کا مظاہرہ کیا کرتا تھا'۔
مورگن اپنی آرام دہ نشست پر پیچھے کی طرف دراز ہو گیا۔ چھت پر نظریں گاڑھ کر سوچنے کے انداز میں پوچھا، 'تو پھر مسئلہ کہاں ہوا؟ آخر وہ ایسی شادی پر کیوں راضی ہو گی؟'
'ہم نے ان خطوط پر کافی غور کیا ہے، بلکہ تہہ تک پہنچنے کی پوری کوشش کی ہے!' رچرڈسن نے کہا، 'رپورٹوں میں اس بابت دو مختلف نشان ملے ہیں۔ پہلا تو اس کے پڑوسیوں میں سے ایک لڑکے کا انٹرویو ہے۔ وہ لڑکا آجکل نیوی میں ہے، اس نے تفتیش کار کو بتایا،
"جب ایلن ہاسٹل سے لوٹ کر آئی تو اس کی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ وہ میل جول میں بدستور اچھی تھی، ایسا نہیں کہ لوگوں سے کتراتی ہو۔۔۔ صرف یہ تھا کہ وہ عجیب و غریب باتیں کرتی رہتی تھی۔ جیسے، 'اس قصبے میں بیزاریت چھائی ہے' یا 'کیا تم اپنی پوری زندگی اسی بیزار جگہ میں، ایک ہی طرح کی روٹین میں بسر کرو گے؟ فضول۔۔۔' وغیرہ۔ وہ اکثر یہ باتیں کرتی۔ بلکہ اس کے پاس سوائے ان باتوں کے کچھ نہ تھا۔ میں نے اسی لیے اس سے ملنا ہی چھوڑ دیا۔۔۔"
رچرڈسن نے کاغذ میز پر دھر کر مسکراتے ہوئے کہا، 'یہ اس لڑکے کا بیان ہے۔ اصل میں اس لڑکے نے نہیں بلکہ ایلن نے اس سے ملنا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے علاوہ باقی سب لوگوں نے یہی بتایا ہے'۔
'کیا ڈورسٹ اس قدر بیزار کن جگہ ہے؟' قائم مقام سفیر نے سمجھنے کی کوشش کی۔
'میں نے اس بارے بھی رپورٹ مانگی تھی' رچرڈسن نے کہا، 'ڈورسٹ اچھا خاصا قصبہ ہے۔ شریف لوگ بستے ہیں، چرچ بھی عام ہیں اور سکول وغیرہ بھی معیاری ہیں۔ ظاہر ہے، سارے امریکی قصبے ایسے ہی ہوتے ہیں، کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ قصبے میں تھیٹر وغیرہ بھی ہیں، میرے خیال میں تو ڈورسٹ اوسط امریکی قصبوں سے بہتر ہی رہا ہو گا۔ اصل میں ایلن جاسپر کے خیالات اپنے شہر نہیں بلکہ کالج پہنچ کر بدل گئے۔ اس کی ایک دوست، جو اس کی روم میٹ بھی تھی۔۔۔ اور یہ نہایت اہم بات ہے۔ اس لڑکی کے علاوہ کسی نے بھی تفتیش کار کو یہ نہیں کہا کہ، 'مجھے اندازہ تھا کہ ایلن جلد ہی کوئی گل کھلائے گی'۔ یہ اس لڑکی کا بیان تو ہے لیکن اس کی یہ بات بھی قابل توجہ ہے۔ دوسرے لوگوں نے تو خواہ مخواہ باتیں گھڑی ہیں، ان کے بیانات سے لگتا ہے جیسے وہ چار سال بعد کی پیشن گوئی کر رہے ہوں، لیکن اس لڑکی نے جو کہا، وہ قابل غور ہے۔ اس کا بیان یوں درج ہے کہ،
"مس جاسپر کی روم میٹ نے ہمیں بتایا، 'ایلن جاسپر نہایت خوش اخلاق اور پیاری لڑکی تھی۔ ہمدرد اور قابل اعتماد اور برے وقت کی ساتھی دوست تھی۔ ہم نے تین برس تک اکٹھے، ایک ہی کمرے میں بسر رکھی۔ میں پورے وثوق سے کہہ رہی ہوں کہ اس نے جو کچھ بھی کیا ہے، سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اگر آپ کل واپس آ کر مجھ سے کہیں کہ ایلن جاسپر نے کسی کا خون کر دیا ہے تو میں یہی کہوں گی کہ وہ ایسا نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ اس کی خصلت نہیں ہے۔ وہ دل کی بہت اچھی تھی۔ لیکن یہ قدم؟ یہ اس کی خصلت میں شامل تھا اور میرے لیے اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے'
مس جاسپر کی دوسری روم میٹ نے قدرے مختلف بیان دیا، اس نے کہا، 'ایلن نے اپنا ذہن بنا رکھا تھا۔ اس نے ایک سوچ پال رکھی تھی جس کو وہ 'بے حقیقتی' قرار دیتی تھی۔ اسی سوچ کو لے کر وہ ہر شے سے نالاں رہا کرتی تھی۔ وہ ہر چیز سے اکتا چکی تھی۔ وہ گھر واپس لوٹ کر جانے اور شادی بیاہ کرنے سے بھی کتراتی رہی۔ میں اس کے ساتھ، کئی دفعہ اس کے گھر جا چکی ہوں۔ اچھی بھلی جگہ ہے، مناسب گھر اور لوگ۔۔۔ ان کے ساتھ اچھی نبھ سکتی تھی۔ میں اس کے بیر کو کبھی نہیں سمجھ پائی لیکن مجھ سے پوچھیں تو واقعی ایسا ہی تھا، وہ سخت متنفر ہو چکی تھی۔ ایک دفعہ تو اس نے کہا، 'ڈورسٹ میں وقت رکا ہوا ہے۔ اتنی بیزاریت ہے کہ بس۔۔۔' ایلن نے خود مجھ سے کہا تھا کہ وہ کبھی واپس لوٹ کر گھر نہیں جانا چاہتی لیکن میں نے ہمیشہ یہی پوچھا، 'تو پھر کہاں جاؤ گی؟ نیویارک اور شکاگو بھی بنیادی طور پر ڈورسٹ جیسی ہی جگہیں ہیں۔ صرف اول جلول ہیں اور پر ہجوم ہیں!' تو اس پر کہتی، 'تم ٹھیک کہتی ہو گی لیکن دنیا میں آخر کوئی تو ایسی جگہ ہو گی جو ان سب جگہوں سے مختلف ہو گی؟' میں اس کی تلخی کو کبھی نہیں سمجھ سکی"
'مجھے خوف آ رہا ہے' کیپٹن مورگن تقریباً چلایا، 'میری بیٹی۔۔۔ وہ بھی ایسا ہی سوچتی ہے' پھر اس نے ہمیں اپنی بیٹی کی تصویر دکھائی اور مذاقاً پوچھا، 'دیکھ لو۔۔۔ کیا تمہیں کوئی فرق نظر آ رہا ہے؟'
'فرق تو ضرور ہے!' رچرڈسن نے سنجیدگی سے جواب دیا، 'ایلن نے کالج میں لڑکوں سے دوستی کرنی چھوڑ دی تھی۔ اس نے اپنی روم میٹ سے کہا تھا، 'میں کسی ایسے آدمی سے شادی نہیں کروں گی جس کی زندگی کا خواب پنسلوانیا میں انشورنس بیچ کر ایک گھر بنانا ہو' ہمارے پاس اس بیان کی تصدیقی رپورٹ بھی ہے۔ ایک لڑکا تھا، جس کے ساتھ اس کی خوب نبھتی تھی۔ وہ کچھ عرصہ تک اکٹھے بھی رہے تھے۔ اس نے یہ بیان ریکارڈ کروایا،
"ایلن جاسپر بہت اچھی تھی بلکہ میرے لیے خاص تھی۔ ہم دونوں بہت قریب آ چکے تھے، ہماری آپس میں خوب بنتی تھی لیکن پتہ نہیں پھر کیا ہوا؟ کالج کے دوسرے سال شروع ہوتے ہی اس کی ساری عادتیں بدل گئیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم دونوں بہت دور تک ساتھ جاتے بلکہ میں پوری سنجیدگی سے اس کے ساتھ تا دیر نباہ کا سوچ رہا تھا۔اس کو کیا ہوا؟ مجھے نہیں معلوم۔ پہلے تو میں نے اپنے آپ کو دوش دیا لیکن اس کے بعد میں کئی ایسی لڑکیوں سے ملا جو اسی کی طرح عجیب و غریب باتیں کیا کرتی تھیں۔ یعنی، مسئلہ میرے ساتھ نہیں تھا، آپ سمجھ رہے ہیں ناں؟ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ میرا ایلن کے ساتھ جو تعلق تھا، اس کی بناء پر اس حالت کا آج بھی میں خود کو ہی ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ شاید میں ہی اس کے قابل نہ تھا، اسے سنبھال نہیں پایا۔۔۔ اگر میں کسی قابل ہوتا تو اس کے ساتھ یہ ہوتا؟ میں آج بھی خود کو قصور وار سمجھتا ہوں'۔
'ایسا لگتا ہے کہ ایلن کی نظراللہ سے انہی دنوں پہلی ملاقات ہوئی' مورگن نے اندازہ لگایا، 'یہ کیسے ہوا؟'
رچرڈسن اس صورتحال سے خاصا لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس کے پاس ہر سوال کا جواب تھا۔ اس نے ٹھہر کر پائپ دوبارہ سلگا لیا اور مزے لے کر پھر سے بتانا شروع کیا، "اس کی پہلی روم میٹ بتاتی ہے کہ،
"مارچ 1944ء میں، ہفتے کا دن تھا۔ وارٹن سکول میں ڈانس پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ وارٹن میں میرے ایک دوست نے ہم چاروں کو فلاڈلفیا کی اس پارٹی میں مدعو کیا۔ اصل میں اس نے مجھے ہی بلایا تھا لیکن میں نے اصرار کیا کہ اپنی دوستوں کو بھی ساتھ لاؤں گی۔ اگرچہ ایلن کا ان دنوں کسی سے تعلق نہیں تھا مگر میں نے اسے چھیڑ کر کہا، 'چلو، چلتے ہیں۔ کیا پتہ وہاں تمہیں وہاں کوئی فرانسیسی مل جائے؟' یہ بات اس کو بھا گئی اور وہ ساتھ چلنے پر فوراً راضی ہو گئی۔ ہم ٹرین پر سوار ہو کر فلاڈلفیا پہنچ گئے، جہاں میرا دوست ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ سانولی رنگت اور اونچے قد کا خوبرو لڑکا بھی تھا۔ اس کے پاس کیڈولک موٹر کار تھی اور پگڑی بھی پہن رکھی تھی۔ مجھے تو وہ بہت عجیب و غریب لگ رہا تھا لیکن ایلن اس کو دیکھ کر مبہوت رہ گئی۔ اس کے بعد تو وہ دونوں جیسے ایک دوسرے سے سل گئے، ان کے بیچ ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ان کا تعلق چل نکلا۔ پھر ایک دن واشنگٹن میں افغان سفارتخانے کا ایک افسر بھی آ گیا جو شاید اس کا دوست تھا۔ وہ دونوں ایلن کے ساتھ اس کے والدین سے ملنے ڈورسٹ چلے گئے۔ مجھے تفصیلات تو علم نہیں مگر یقیناً بہت ہی رسوائی ہوئی ہو گی کیونکہ ایلن اس ویک اینڈ کے بعد لوٹ کر واپس آئی تو سخت غصے میں تھی۔ بار بار یہی کہتی تھی کہ وہ مر جائے گی لیکن ڈورسٹ کے کسی نکمے آدمی سے شادی نہیں کرے گی۔ اس نے امتحانات سے قبل ہی کالج چھوڑ دیا اور اس کے بعد کافی دنوں تک اس کی کچھ خبر نہیں آئی۔ لیکن ایک دن، گرمیوں کے موسم کے آخر میں وہ میرے گھر، کنیٹیکٹ آئی۔ وہ خاصی پریشان تھی۔ نظراللہ اسے چھوڑ کر افغانستان چلا گیا تھا۔ ایلن کے پاس پاسپورٹ تھا اور صرف دو سو ڈالر تھے۔ اسے بارہ سو مزید ڈالروں کی ضرورت تھی، جو میں نے سوچے سمجھے بغیر اسے دے دیے۔ وہ دن اور آج کا دن۔۔۔ میں نے اسے دوبارہ نہیں دیکھا'۔
'اس دن کے بعد تو کسی نے بھی اسے نہیں دیکھا' کیپٹن مورگن کے لہجے میں درشتی تھی، 'ایلن کے باپ کا کیا کہنا تھا؟' رچرڈسن نے ایک دم یوں فائل سے کاغذ نکالا جیسے بوتل کا جن حکم بجا لاتا ہو،
"'میرا نام تھامس شالڈن جاسپر ہے۔ میں ڈورسٹ، پنسلوانیا میں جائیداد اور انشورنس کے کاروبار کا مالک ہوں۔ میرا خاندان پچھلی سات پیڑھیوں سے اسی شہر میں بستا چلا آ رہا ہے۔ میری بیوی ایستھر جانسن جاسپر ہے اور اس کا خاندان۔۔۔'
'کیا تم جاسپروں کا شجرہ نسب چھوڑ کر اصل بات پڑھ کر سنا سکتے ہو؟' قائم مقام سفیر نے تنگ ہو کر کہا۔ رچرڈسن نے کندھے اچکے اور وہ صفحہ نیچے رکھ دوسرا اٹھا لیا،
"میں اور میری بیوی سوچ سوچ کر پاگل ہو چکے ہیں۔ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی کہ آخر ایلن نے ایسا رویہ کیوں اختیار کیا؟ ہمیں کچھ سجھائی نہیں دیتا، ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ وہ اچھی لڑکی تھی، بچپن سے سکول اور کالج میں بھی اس نے کبھی پریشان نہیں کیا۔ خدا جانے اسے کیا ہوا، وہ اپنے شہر، خاندان، گھر بار، دوستوں یہاں تک کہ ماں باپ سے بھی اکتا گئی؟'
'جب وہ کالج کے پہلے سال میں تھی تو اس وقت تک ہمیں تسلی تھی۔ وہ ذمہ داری سے پڑھائی کرتی تھی، اس کی دو بہت اچھی لڑکیوں سے دوستی تھی، وہ اکٹھی ہی رہتی تھیں۔ اس عرصے کے دوران اس نے کئی نئے دوست بھی بنائے لیکن پھر پتہ نہیں کیا ہوا؟ اس نے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ کسی کی طرف مڑ کر دیکھتی ہی نہ تھی۔ ہر وقت اندر ہی گھسی رہتی اور جب بھی گھر آتی تو باہر نہ جاتی۔ وہ ہر چیز سے سخت متنفر ہو گئی تھی۔ اس کا رویہ احمقانہ تھا۔۔۔'
یہاں پہنچ کر رچرڈسن نے توقف کیا۔ پائپ کا کش لگایا اور کہنے لگا، 'میں یہ سارا بیان پڑھ کر نہیں سناؤں گا لیکن ہر دفعہ جب میں اسے پڑھتا ہوں تو ایک چیز عجیب محسوس ہوتی ہے۔ مسٹر جاسپر جب بھی کسی ناپسندیدہ، غیر معمولی یا نامعلوم شے کی طرف اشارہ کرتا ہے تو اسے احمق یا احمقانہ قرار دیتا ہے۔ پتہ نہیں۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ اور اس کی بیوی، دونوں ہی اپنی دنیا بسائے ہوئے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ان کی طبیعت سے مطابقت نہیں رکھتی، احمق یا احمقانہ کہلاتی ہے۔ خدا ان چیزوں پر رحم ہی کرے جو ان دونوں کی طبیعت سے میل نہیں کھاتیں۔۔۔'
'بھئی، میں تو تمہارے اس قدر گہرے اور عمیق مشاہدے کا قائل ہو گیا۔۔۔ بہت شکریہ!' کیپٹن مورگن نے طنزاً کہا۔ دنیا کے کسی دوسرے سفارتخانے میں سفیر کی جانب سے اس طرح کا طنز، کسی بھی اہلکار کی پیشہ ورانہ قابلیت اور کیرئیر پر کاری ضرب ہوتا مگر چونکہ ہم کابل جیسے غیر معمولی سفارتخانے کے اہلکار تھے، اس ملک میں حالات بھی عجیب و غریب تھے۔ اس طرح کی چھوٹی موٹی خرمستیوں کی چھوٹ تھی۔ مورگن کا طنز صرف رچرڈسن ہی نہیں بلکہ خود اپنے آپ پر بھی راس آتا تھا، اسی لیے وہ دونوں ہی ہنسنے لگے۔
'معاف کیجیے گا!' میں نے دخل اندازی کی، ' میرے خیال میں یہ نہایت اہم بات ہے۔ ایلن کے والدین کی اس عادت سے ہمیں بہت اہم اشارے مل سکتا ہے۔ چونکہ مسٹر جاسپر معمول سے ہٹ کر ہر چیز کو احمقانہ سمجھتا ہے، میرے خیال میں ایلن اسی کی بیٹی ہے۔ وہ پہلے ہی اکھڑی ہوئی تھی، آخر کار باغی ہو گئی اور ماں باپ کے ہاتھ سے نکل گئی۔ خود سوچیے، اپنے روایتی امریکی باپ کی نظر میں وہ حد سے بڑھ کر احمقانہ قدم کیا اٹھا سکتی تھی؟ یہی کہ ایک پگڑی پہنے ہوئے افغان جس کے پاس کیڈلک گاڑی بھی تھی، اس کے ساتھ پینگیں بڑھاتی اور باپ کو طیش دلاتی۔ نہیں؟'
'ملر!' کیپٹن مورگن نے آہستگی سے کہا، 'جب میں نے کہا کہ رچرڈسن کا مشاہدہ خوب ہے تو میرا مطلب واقعی یہی تھا۔ یہ بات میرے ذہن میں نہیں آئی، اب جبکہ تم نے اس بات کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے تو صرف اسی کا نہیں بلکہ تمھارا بھی شکریہ!'
رچرڈسن پہلی دفعہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا، 'کیوں نہ ہم مسٹر جاسپر کے بیان کو دیکھ لیں؟ ویسے، یہ شخص سخت بیزار معلوم ہوتا ہے۔ اس کی رپورٹ میں بھی سوائے بیزاریت کچھ نہیں ہے'۔
"فلاڈلفیا کے وارٹن سکول میں ایک دن، پارٹی کے دوران ایلن کی ملاقات افغانستان کے ایک نوجوان سے ہوئی۔ ہمیں اس ملاقات کا بھی بہت بعد میں پتہ چلا، ہمیں تو اس نے یہی بتایا کہ وہ اس نوجوان سے محبت کرتی ہے۔ ہم نے اس لڑکے کے پیچھے جاسوس لگائے اور ہمیں پتہ چلا کہ اس کے پاس تو کیڈلک گاڑی بھی ہے، اچھا خاصا لائق ہے اور وہ امریکہ آنے سے قبل جنگ کے ابتدائی زمانے میں جرمنی میں بھی تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ ہم نے اس بات کی اطلاع ایف بی آئی کو دی لیکن انہوں نے ہمارے مفروضے کو رد کر دیا۔ خط میں صاف لکھا ہوا تھا کہ وہ جاسوس نہیں ہے۔ امتحانات کے بعد یہ لڑکا۔۔۔۔'
رچرڈسن نے رک کر کہا، 'کیا آپ لوگوں نے نوٹ کیا کہ مسٹر جاسپر نظراللہ کا نام نہیں استعمال کر رہا بلکہ نوجوان، لڑکا، یہ اور وہ وغیرہ کہہ رہا ہے؟ غالباً اس کے خیال میں نظراللہ احمق اور اس کو خاندان کا حصہ بنانے کا خیال احمقانہ ٹھہرا ہے'۔
اس پر نور محمد نے کہا، 'یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مسٹر جاسپر کو اس کا کوئی نام ہی نہ سوجھتا ہو؟ نظراللہ کا نام صرف نظراللہ تھا۔ کوئی آخری نام تو ہے ہی نہیں، وہ کیسے پکارتا؟' کیپٹن مورگن نے نور کی جانب ستائشی نظروں سے دیکھا اور رچرڈسن نے بیان سنانا جاری رکھا،
'تم لوگوں کو باقی کا قصہ پہلے سے معلوم ہے۔ امتحان سے ایک ہفتہ پہلے ایلن کالج چھوڑ کر بھاگ نکلی۔ وہ کہاں گئی؟ کچھ پتہ نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ اس نوجوان کے ساتھ نہیں گئی کیونکہ ہمارے جاسوس اس کی پوری خبر رکھتے تھے، وہ اکیلا ہی افغانستان واپس چلا گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ایلن اپنی روم میٹ کے گھر پہنچ گئی ہے۔ اس لڑکی نے اسے بارہ سو ڈالر دیے، جو میں نے اسے ادا کر دیے تھے۔ اسی نے ہمیں بتایا کہ ایلن انگلستان جانا چاہتی تھی۔ وہ وہاں کیسے پہنچی؟ کچھ علم نہیں کیونکہ جنگ کے دوران عام لوگوں کا یورپ سفر کرنا، تقریباً ناممکن تھا۔ میرے خیال میں یہ دنیا احمقوں کی جنت ہے۔ خواہ مخواہ بیوقوفوں کا ساتھ دیتی ہے، بالخصوص اگر وہ احمق خوبصورت لڑکی ہو؟ ہمیں ایلن کے بارے میں فروری 1945ء کے بعد سے کچھ اتا پتہ نہیں ہے۔۔۔"
رچرڈسن یہ پڑھ کر سر پٹخنے لگا، 'اس بیان کو مزید پڑھ کر سنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس بیچارے کو کسی چیز کا سرے سے کچھ پتہ ہی نہیں ہے'۔
'اس کے کالج کی کوئی رپورٹ ہے؟' مورگن نے پوچھا،
'بالکل ہے' رچرڈسن چہک کر بولا اور فائل میں کاغذات الٹ پلٹنے لگا، 'کالج کے ڈین، پروفیسروں، اساتذہ۔۔۔ سب کا بیان ایک جیسا ہی ہے۔ ان کے مطابق ایلن جاسپر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں تھا'۔ تقریباً ہر سوال کا جواب دے چکنے کے بعد، رچرڈسن خاصا مطمئن تھا۔ ایک انٹیلی جینس افسر کے لیے یہ بڑی بات تھی، اس نے اپنی فائل سنبھالی اور پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا۔
ایف بی آئی کے سابقہ افسر کی رپورٹ کے دوران نیکسلر نے عادتاً خود کو دور اور حسب معمول منہ بند رکھا۔ وہ دفتر خارجہ کا اہلکار تھا، میں اس کی اس خوبی کا قائل ہو گیا۔ جب رچرڈسن اپنی رپورٹ مکمل کر چکا تو نیکسلر نے ہلکے سے گلا صاف کیا اور جیب سے ایک خط نکال کر احتیاط سے کھولا اور کہا، 'ایلن جاسپر کے معاملے میں یہ کہنا ہر گز درست نہیں ہو گا کہ کسی کو بھی اس کے اصل ارادوں کی خبر نہیں تھی۔ میں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں پتہ لگایا ہے، جہاں آج کل ایلن جاسپر کے کالج کا ایک پروفیسر تحقیق کے لیے رخصت پر موجود ہے۔ ہمارے لوگوں نے اس سے رابطہ کیا۔۔۔' پھر اس نے خوش خلقی سے رچرڈسن کی طرف دیکھ کر کہا، 'میں اس میٹنگ کے بعد یہ خط تمھارے حوالے کر دوں گا۔ یہ تمھاری فائل کے ریکارڈ کے لیے اہم اضافہ ثابت ہو سکتا ہے'۔
رچرڈسن یہ سن کر سیخ پا ہو گیا کیونکہ نیکسلر نے جان بوجھ کر اسے اس خط سے دور رکھا تھا۔ یہ واقعی غیر مناسب بات تھی۔ اس نے غصہ چھپانے کے لیے ایک دفعہ پھر پائپ سلگا لیا۔ 'میں تمھاری اس نئی دریافت بارے سننے کو بیتاب ہوں!' وہ مصنوعی ملنساری سے بولا۔
'شاید یہ تمھارے لیے غیر اہم ہو!' نیکسلر اس کے لہجے میں طنز کو بھانپ لیا۔ ناپسندیدگی سے کہا، 'یہ میوزک کے اس پروفیسر کا بیان ہے جس کو تمھارے لوگ سرے سے خاطر میں ہی نہیں لائے۔ چلو دیکھتے ہیں، وہ کیا کہتا ہے۔۔۔ اس نے لکھا ہے کہ،
"ایلن جاسپر کے اس رویے اور اس اقدام پر مجھے ذرہ برابر حیرت نہیں ہوئی۔ میں عالم کل نہیں ہوں مگر ضرور کہنا چاہوں گا کہ مجھے شروع سے اسی بات کا اندیشہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس کے والدین سے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا لیکن انہوں نے میری بات کو اہمیت ہی نہیں دی۔
"جب ایلن نے ہمارے میوزک گروپ میں شمولیت اختیار کی تو پہلے ہی دن اسے دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ اس لڑکی کا انجام کچھ اچھا نہیں ہو گا، یہ ضرور کسی المیے سے دوچار ہو گی۔ چونکہ اس وقت اور نہ ہی ابھی مجھے یقین تھا، لیکن کسی حادثے کا ہی ڈر لگا رہتا تھا۔ وہ ایسی لڑکی تھی جس کے ارادے تو نیک تھے مگر وہ اس معاشرے اور سماج سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔ میں ہمیشہ یہی سوچتا رہا کہ اے کاش، اس کو یہیں اسی معاشرے میں کوئی ایسی چیز یا آدمی ضرور مل جائے جو اس کو ادھر ہی ٹکا سکے۔
"ایلن جاسپر کے ساتھ میری پہلی ملاقات 1941ء میں کالج کے اولین دنوں میں ہوئی۔ وہ خود ہی بتانے لگی، 'میں ڈورسٹ اور پنسلوانیا سے بہت دور جانا چاہتی ہوں'۔ اس کے لہجے میں نفرت تھی۔ میں نے اس وقت تو دھیان نہیں دیا کیونکہ کالج میں نوارد نوجوانوں کا اکثر رویہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ عام طور پر وہ ہٹ دھرم، ضدی اور خود سر واقع ہوتے ہیں۔ لیکن ایلن نے قرون وسطوی موسیقی میں دلچسپی دکھائی تو میرا شک یقین میں بدلنے لگا کیونکہ وہ خواہ مخواہ موسیقی کے اس شعبے میں خود کو جھونک رہی تھی، اس کو صاف صاف اس دور کی موسیقی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے اس کے دوسرے پروفیسروں سے بھی بات چیت کی لیکن ان کے نزدیک ایلن کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں تھا اور باقی مضامین میں اس کی کارکردگی بھی ٹھیک ہی تھی۔ چنانچہ میں نے بھی اپنے شبے کو چوک سمجھ کر رد کر دیا۔
"لیکن ایلن کا رویہ کالج کے دوسرے برس بھی ویسے کا ویسا ہی رہا۔ اس کے خیال میں یہ دنیا بے معنی تھی۔ اسے کسی نئی چیز، جدیدیت وغیرہ میں بالکل دلچسپی نہیں تھی اور اس کی تلخی میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ تبھی میں نے اس کی طبیعت میں پائی جانے والی اس بے چینی کے بارے دوبارہ سے سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا۔ میں نے خود کچھ کرنے کی بجائے، اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اس سے بات کر کے دیکھے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے اسے ایک روز، رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ اس کے ساتھ اس کے کالج کا ہی ایک دوست بھی تھا جو ہمیں تو مناسب ہی لگا تھا۔ اس لڑکے کے بارے ایلن کے خیالات خاصے پریشان کن تھے۔ اس نے ہمیں بھی یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ در اصل اس لڑکے کی سوچ اور خواہشات، ایلن کے باپ کی ہی طرح معمولی ہیں۔
"اس رات ہم دونوں میاں بیوی قائل ہو گئے کہ ہو نہ ہو، ایک دن یہ لڑکی کسی مصیبت میں ضرور پھنس جائے گی۔ ہم اس قدر فکرمند ہوئے کہ اس کے والدین کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس خط پر ہم دونوں نے دستخط ثبت کیے کیونکہ اکثر یہ ہوا ہے کہ کسی پروفیسر کی طرف سے والدین کو خط لکھے جانے کا غلط مطلب لیا گیا ہے۔ کئی لوگ سمجھتے ہیں شاید پروفیسر صاحبان جوان لڑکیوں کو پھانسنے کے لیے یہ حربے استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک سچ بھی ہے کیونکہ اکثر پروفیسروں کے لچھن اچھے نہیں ہوتے۔ بہرحال، ہم نے خط میں لکھا کہ دونوں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایلن کسی نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے، اس کی ذہنی حالت اور طور، اطوار درست نہیں ہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس کی فی الفور مدد کی جائے تا کہ وہ دوبارہ اپنے خاندان اور اردگرد سماج کے ساتھ جڑ جائے۔ لیکن خط لکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے پڑھتے ہی ایلن کے والدین غصے سے آگ بگولہ ہو گئے اور الٹا ہم پر برس پڑے۔ انہوں نے خوب برا بھلا کہا اور باور کرایا کہ میں ایلن کے کسی فعل اور تعلیم کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ وہ اصل مضامین میں اچھی بھلی ہے اور میوزک کے اسسٹنٹ پروفیسر کا یہ انتہائی احمقانہ فعل ہے کہ وہ لوگوں کے اچھے بھلے بچوں بارے اس طرح کی قیاس آرائیاں کرتا پھرے، وغیرہ وغیرہ۔
"یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مجھے 'اصل مضامین' اور 'موسیقی' کے بیچ تفریق یاد کرائی گئی ہو۔ مجھے یہ بھی اعتراف ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، ان سے مجھے سخت چڑ ہوتی ہے۔ چنانچہ جب مسٹر جاسپر نے تیسری دفعہ میرے مشاہدے، مضمون اور خط کو احمقانہ قرار دیا تو میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ معذرت کر کے اپنا رستہ ناپ لوں۔ میں نے کھلے دل سے معذرت کی اور سارے معاملے کو بھول جانے کی درخواست کی۔ مسٹر جاسپر نے ایسا ہی کیا بلکہ اسی برس دسمبر کے مہینے میں مجھے کرسمس کا کارڈ اور پھول بھی بھیجے۔ اس واقعہ کے تین ماہ بعد، 1944ء کے اوائل دنوں میں ایلن کی ملاقات افغانستان سے سکالرشپ پر آئے ہوئے، اس نوجوان سے ہوئی۔
"میرے خیال میں، شاید میں واحد آدمی تھا جسے ایلن نے اپنے ارادے، یعنی اس افغان نوجوان سے شادی کرنے کی خواہش سے آگاہ کیا۔ میں یہ سنتے ہی فوراً اسے اپنی بیوی کے پاس لے گیا تا کہ وہ ایلن کو سمجھا سکے۔ ہم نے اس افغان کو بھی بلا لیا تا کہ پورے معاملے کی اچھی طرح چھان بین کر سکیں۔ اس نوجوان کی شخصیت نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ وہ ان چند گنے چنے غیر ملکی طالب علموں میں سے تھا، جس کی نفاست اور اخلاق کی گواہی دی جا سکتی ہے۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ایلن اس کی وجہ سے کسی مشکل میں گرفتار ہو سکتی ہے، وہ ایسا ہر گز نہ لگتا تھا۔ اس سے ملنے کے بعد میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے پہلے ہی بتا دیا تھا، بلکہ میں مجبور ہوں کہ اس کے الٹ کہوں گا۔ ہم نے ایلن کو صاف بتایا کہ، 'وہ نہایت عمدہ شخص ہے لیکن وہ تمھارے مسئلے کا حل نہیں ہے'۔ 'میرا مسئلہ کیا ہے؟' ایلن نے پوچھا تھا اور میں نے جواب دیا، 'تمھارا مسئلہ وہ بیماری ہے جو ہماری بنائی ہوئی اس دنیا سے متعلق ہے۔ تمھہیں ہمارے معاشرے کی بوسیدہ روایات اور پرانے قصے کہانیاں طمانیت اور سکون نہیں دے پا رہیں۔ جہاں یہ وہیں تمھارا مسئلہ بھی ہے کہ تم خود اپنے لیے نئی دنیا بسانے کے قابل بھی نہیں ہو'۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا تھا اور بولی، 'پروفیسر، آپ کی بات شاید درست ہو۔ لیکن کیا نظراللہ کے ساتھ جانے کا فیصلہ، درست سمت میں پہلا قدم نہیں ہو گا؟' میں نے اسے صاف بتا دیا تھا کہ اس طرح کسی صورت تمھارا مسئلہ حل نہیں ہوتا لیکن یہ بھی ہے کہ اس سے اس کے سوا کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ اس کے ساتھ آخری دفعہ میری یہی بات ہوئی۔
"مسٹر نیکسلر، میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب تم ایلن کو ڈھونڈ نکالو گے تو تمھیں پتہ چلے گا کہ نظراللہ نے ایلن کو کوئی دھوکہ نہیں دیا۔ اصل میں یہ ایلن ہو گی جس نے نظراللہ کے ساتھ بے انصافی کر رکھی ہو گی۔
"میں اس بے ضابطہ خط کا اختتام مشاہدے کو دہرا کر کروں گا کہ ایلن جاسپر بیمار ہے۔ اس کو لاحق بیماری معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اور ہماری نئی نسل تباہی کے دہانے پر ہے۔ اس نے ان رشتوں، روایات اور اعتقاد سے تعلق توڑ دیا ہے جو ماضی میں ہمارے سماج کو جوڑ کر ایک شکل دیے رکھنے میں خاصے کارگر ثابت چلے آئے ہیں۔ اصل مسئلہ ان روایات سے ناطہ توڑنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ متبادل کے طور پر ایلن کے پاس کوئی دوسرا سہارا بھی نہیں ہے۔ ایسے اصول اور اقدار نہیں ہیں جن کو تھام کر زندگی کی ڈگر پر چلنا کسی بھی انسان کے لیے بنیادی ضرورت ہوا کرتی ہے'۔
یہ پڑھ کر نیکسلر نے متانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ خط رچرڈسن کے حوالے کر دیا۔ اس نے بغیر کچھ کہے کاغذوں کا یہ پلندہ بھی فائل میں لگا دیا۔ کمرے میں چند لمحوں کی گہری خاموشی کے بعد مورگن سے رہا نہ گیا تو تڑک کر بولا، 'اگر میں بھی مسٹر جاسپر کی جگہ ہوتا تو اس شخص کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ میری بیٹی اصل مضامین میں اول درجات حاصل کر رہی ہو اور موسیقی کا پروفیسر مجھے وہ خط لکھے جو اس شخص نے لکھا تھا، میں مسٹر جاسپر کی ہی طرح ہتھے سے اکھڑ جاتا' یہ کہہ کر وہ ہونق بنا میری جانب دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پر کسی بھی قسم کے تاثرات نہیں تھے، سپاٹ لہجے میں تحکم سے پوچھا، 'ملر، اس خط کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے؟'
اس کے خیالات جان لینے کے بعد یہ مناسب نہیں تھا کہ میں اس سے اختلاف کر کے اس کے لیے شرمساری کا سامان کرتا۔ میں نے گول مول جواب دیا، 'جناب، یہ پوری تصویر نہ سہی مگر ایک رخ ضرور ہے'۔
'آہا۔۔۔ کیا خوب جواب دیا ہے!' وہ پھٹ پڑا، ' تمھیں مان گئے۔ ایک باپ کی حیثیت سے میرے جذبات بھی مسٹر جاسپر کی طرح ہی ہوتے لیکن واقعی، غیر جانبداری سے سوچا جائے تو اس پروفیسر کے خط میں انتہائی اہم اشارے ہیں۔ ساری بات نہ سہی لیکن کچھ نہ کچھ سمجھ میں ضرور آتی ہے' اس پر نیکسلر مطمئن ہو گیا۔
پھر مورگن نور محمد کی طرف مڑ کر بولا، 'نور، میں نے تمہیں آج کی میٹنگ میں اس لیے بلایا ہے کہ تم پرانے مسئلے پر تازہ روشنی ڈالو۔ تم نے ساری بات سن لی ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟'
نور ان چند گنے چنے افغانوں میں سے تھا جن کی کابل میں امریکی سفارتخانے کے علاوہ بھی دوسرے تقریباً سبھی سفارتخانوں میں رسائی تھی۔ اسے جس زبان کی ضرورت پیش آتی، وہ خود بخود ہی سیکھ لیتا تھا۔ انگریزی، جرمن، فرانسیسی یا ترک الغرض جتنے اس شہر میں سفارتخانے تھے، سبھی کی بولی اگر نہ بھی سہی، مدعا ضرور سمجھتا تھا۔ چونکہ پڑھا لکھا اور سمجھدار تھا، اس لیے جلد ہی ہر کسی کا اعتماد جیت لیتا۔ سادہ الفاظ میں، اس نے ہر جگہ اپنی اہمیت بنا کر رکھی ہوئی تھی۔ سفارتخانے تو چھوڑو، وہ افغان حکومت سے بھی تنخواہ وصول کرتا تھا اور انہیں خفیہ اطلاعات پہنچاتا تھا۔ یوں نور محمد ملک اور غیر ملک، سب کے لیے سہولت کا موجب تھا۔ وہ افغان حکومت کو وہی معلومات پہنچاتا تھا جو ہم اس کو فراہم کرتے۔ اسی طرح افغان بھی نور کے ذریعے ہی جو بین السطور بات چاہتے، ہم تک پہنچا دیتے۔ در اصل آج کی میٹنگ میں اسے اس لیے بلایا گیا تھا کہ ہم افغان حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے تھے۔ ہم انہیں باور کرا دینا چاہتے تھے کہ قندھار میں ہمیں مکمل تعاون درکار ہو گا اور مزید یہ کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
نور محمد اس بات سے بخوبی واقف تھا لیکن اس نے تاثر دیا کہ جیسے وہ کچھ نہیں جانتا۔ وہ تو اس قدر بھولا بن کر بیٹھا ہوا تھا جیسے ہم اس کی افغان حکومت کے ساتھ وابستگی بارے سرے سے واقف نہیں ہیں۔ وہ سب جانتا تھا اور ہم بھی، سب جانتے تھے۔ مورگن کے سوال پر وہ سنبھل کر بیٹھ گیا کیونکہ اب اصل بات شروع ہوا چاہتی تھی۔ اس نے پانی کا بھرا ہوا گلاس حلق میں غٹ غٹ انڈیلا اور محتاط انداز میں بولا، 'جناب عالی! میں بیان کردہ بنیادی حقائق کی رو سے یہ اخذ کرتا ہوں کہ مس جاسپر کو کابل میں نظربند نہیں کیا گیا ہے۔ نظراللہ نے اس کا قتل بھی نہیں کیا ہے مگر عین ممکن ہے کہ اسے قلعہ بست میں قید کر رکھا ہو مگر اس کے بھی امکانات کم ہیں۔ میں اپنی بات پر اب بھی قائم ہوں کہ فرنگی بیوی کو چھپا کر رکھنا صرف عورتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، مرد خود اسے کبھی تن تنہا اسیری پر مجبور نہیں کر سکتے۔ میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ وہ فرار ہو کر چمن پہنچنے کی کوشش میں راستے میں ہی کسی مشکل کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکی ہے'۔
'لیکن اس کی ہلاکت کی ابھی تک ہمیں کوئی اطلاع کیوں نہیں ملی؟' مورگن اس کے منہ سے قطعی انداز میں یہ بات دوبارہ سن کر بگڑ گیا۔ اس نے تاثر یہ دیا کہ شاید ایلن واقعی ہلاک ہو گئی ہے اور افغان حکومت نے یہ معلومات امریکیوں سے چھپا رکھی ہے۔
'اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ نظراللہ ابھی تک پرامید ہے کہ بالآخر وہ اس کو زندہ بچا لے گا یا وہ زندہ، صحیح سلامت اس کے پاس لوٹ آئے گی' وہ مورگن کے ذہن کو پڑھ کر بولا، 'جناب عالی! ایک بات یاد رکھیں، افغان حکومت اس معاملے میں آپ کے ساتھ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شاہ خان کچھ چھپا رہا ہے۔ وہ بھی آپ کی ہی طرح پریشان ہے'۔
'اگر ایسا ہی ہے تو پھر۔۔۔' مورگن نے نہلے پر دہلا مارا، 'تم ملر کا سفر کے دوران اور قندھار میں بھی پورا خیال رکھو گے۔ ہم مس جاسپر کے بعد کسی دوسرے امریکی کی گمشدگی برداشت نہیں کریں گے'۔
'آپ تسلی رکھیے، ملر صاحب میری ذمہ داری ہے' نور محمد نے اسے یقین دلایا۔ قائم مقام سفیر نے جس طرح کھلم کھلا انداز میں اپنا مقصد واضح کیا تھا، اس کے بعد نور محمد کا اس میٹنگ میں کام پورا ہو چکا تھا۔ چنانچہ اس نے رخصت لی اور اٹھ کر چلا گیا۔
نور محمد کے جاتے ہی مورگن نے مجھ سے کہا، 'چونکہ تم قندھار جا رہے ہو، ایلن کے سوا بھی ایک معاملہ ہے جس پر تمھاری توجہ درکار ہو گی۔ اصل میں کئی سفارتخانوں نے مل کر ایک ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر ہے، ہمیں کوئی یورپی ڈاکٹر ہی چاہیے ہو گا۔ اس لیے، وہاں ایک جرمن ڈاکٹر ہے۔ اس کی قندھار شہر میں ہی رہائش ہے۔ بھلا سا نام تھا۔۔۔'
رچرڈسن نے ذہن پر زور دیتے ہوئے اس کی مدد کی، 'اوٹو۔۔۔ شواٹز۔ اوٹو شواٹز!'
'ہاں، اوٹو شواٹز۔۔۔ جرمنی سے جلاوطن ہو کر یہاں آن بسا ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود نازی ہو اور برطانوی یا روسی عدالتوں میں جنگی جرائم کی سزا سے بچنے کے لیے یہاں چھپ کر بیٹھا ہو؟ جو بھی ہے، اطالوی سفیر کے خیال میں وہ بہترین ڈاکٹر ہے اور ہماری ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ تم اس کا پتہ لگاؤ، اگر ایسا ہے تو پھر ہم اس کے لیے یہاں جگہ بنا سکتے ہیں۔ تم اس سے خود ملنے کی کوشش کرو کیونکہ اس کام کے سوا یہ بھی ہو سکتا ہے وہ ایلن جاسپر کے بارے بھی کچھ نہ کچھ جانتا ہو؟'
میں نے ارد گرد دیکھا۔ اس بات کی تسلی کر لی کہ کمرے میں اچانک کوئی افغان داخل نہ ہو۔ میں نے کہا، 'جناب، میں ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں۔ کل شام جب میں شاہ خان سے ملاقات کے بعد رخصت ہو رہا تھا تو وہ مجھے علیحدگی میں لے گیا اور کہنے لگا کہ ایلن جاسپر بارے کوئی افواہ سننے میں آئی ہے۔ لیکن یہ افواہ اس قدر اوٹ پٹانگ ہے کہ اس بابت مزید کچھ نہیں بتایا۔ اصل میں وہ ہماری فائلوں میں اپنے نام کے ساتھ اس غیر مصدقہ اطلاع کو لف نہیں دیکھنا چاہتا۔ لیکن میں کل سے یہی سوچ رہا ہوں کہ آخر یہ ایسی کیا اطلاع ہے جو قندھار سے کابل تو پہنچ گئی مگر شاہ خان کے نزدیک انتہائی احمقانہ۔۔۔'
'لگتا ہے تم پر مسٹر جاسپر کا اثر ہو گیا ہے' مورگن نے میری بات کاٹ کر مذاقاً کہا، 'شاہ خان نے پہلے اس اطلاع کو اوٹ پٹانگ کہا۔۔۔ اب احمقانہ؟ پتہ نہیں، مجھے تو اوٹ پٹانگ اور احمقانہ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا'۔
'کیا کسی کو اس اطلاع میں بھی کوئی دلچسپی ہے؟' میں مورگن کی اس حرکت پر نالاں، خشکی سے بولا۔
'چونکہ تم کل سے اس بارے سوچ رہے ہو' مورگن نے اپنی حماقت کو چھپاتے ہوئے کہا، 'تم ہی بتاؤ!'۔
'یہ اطلاع کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایلن نے نظراللہ کو قتل کر دیا ہو؟ کیا خبر افغان حکومت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے؟'
رچرڈسن نے فوراً ہی یہ امکان رد کر دیا، 'شاہ خان ہی افغان حکومت ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو بھلا وہ تمہیں قندھار جانے کی اجازت کیوں دیتا؟'
مورگن ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا۔ پوچھنے لگا، 'کیا کسی امریکی نے نظراللہ کو زندہ دیکھا ہے؟'
'جی ہاں!' رچرڈسن نے اپنی ڈائری میں کچھ ڈھونڈ کر بتایا، 'کولاراڈو سے تعلق رکھنے والے آب پاشی کے ماہر پروفیسر پچرڈ نے اطلاع دی تھی کہ فارس کی سرحد سے لوٹتے ہوئے اس نے قلعہ بست میں نظراللہ سے ملاقات کی تھی۔ نظراللہ بھی آج کل آب پاشی کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے'۔
'یہ کیسے پتہ چلے کہ اس نے جس شخص سے ملاقات کی، وہ نظراللہ ہی تھا؟'
'پروفیسر کے خطوط میں ایک جوان آدمی کا حلیہ بتایا گیا ہے جس کی داڑھی ہے اور وہ وارٹن سکول کا ڈگری یافتہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے۔ وہ شخص نظراللہ ہی تھا'،
'کوئی اور اندازہ؟' قائم مقام سفیر نے مجھ سے پوچھا،
'کیا ایلن روسیوں کے ہتھے تو نہیں چڑھ گئی؟' میں نے بے یقینی سے پوچھا۔در اصل 1946ء میں زیادہ تر امریکیوں کے لیے اس طرح کا گمان حیرانی کا باعث ہوتا کیونکہ ریاست ہائے متحدہ نے ابھی تک روس کو اپنا دشمن قرار نہیں دیا تھا۔ لیکن افغانستان میں، روس کے بغل میں بسر کرتے ہوئے ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ مستقبل قریب میں روس ہی امریکہ کا اصل دشمن نکلے گا۔
'یہ بات میرے ذہن میں بھی گردش کرتی رہی ہے' مورگن نے میرے شبے کو شہ دی لیکن کابل کے امریکی سفارتخانے میں اس طرح کے شبہات کوئی نئی بات نہیں تھے۔ اس دور میں سفارتخانے کے مراسلات میں اکثر روسیوں سے متعلق یہ شبہات تواتر سے واشنگٹن کو پہنچائے جاتے تھے۔ اگر کوئی آج ان مراسلات کا جائزہ لے تو یقیناً اس زمانے میں امریکی سفارتخانے کے ہم چند معدودوں کو فوجی امور کا ماہر قرار دے گا۔ وہ اس لیے کہ رچرڈسن انٹیلی جینس سے تعلق رکھتا تھا اور روسیوں کے ارادوں کو خوب جان چکا تھا۔ کیپٹن مورگن بھلے سفارتکاری میں بودا ہو مگر فوجی امور کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتا تھا، وہ بھی روسیوں کے تیور دیکھ رہا تھا۔ رچرڈسن اور مورگن کی مہارت کا کیا، ویسے بھی یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں تھی۔ ہم سب ہی دو جمع دو چار تو کر ہی سکتے تھے۔
'ہم یہ جانتے ہیں کہ افغان کمیونزم کو سخت ناپسند کرتے ہیں' میں نے جرح کی، 'بالخصوص کمیونسٹوں کی مذہب بیزاری کی وجہ سے تو ایسا ہی ہے۔ وہ بات ایک طرف، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ افغانستان میں روسیوں کے خفیہ مشن موجود ہیں۔ اب ذرا سوچیں، ایک امریکی عورت جو امریکہ اور افغانستان دونوں ہی ملکوں سے سخت نالاں ہو چکی ہو، کیا روس کے خفیہ اہلکاروں نے اس سے رابطہ نہیں کیا ہو گا؟'
رچرڈسن نے ہینڈ بیگ سے برش نکال کر پائپ صاف کرتے ہوئے سرسری لہجے میں کہا، 'اگر انہی خطوط پر سوچنا ہے تو بہتر یہ ہو گا کہ ہم یہ فرض کریں کہ صرف روس ہی نہیں۔۔۔ عین ممکن ہے کہ ایلن چینیوں کے ہاتھ چڑھ گئی ہے۔ہم یہ بھول رہے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ صرف روس ہی نہیں بلکہ شمال میں چینی کمیونسٹوں کی سرحدیں بھی لگتی ہیں۔ کیا وہ اپنے مشن یہاں نہیں بھیجتے؟'
'میرے خیال میں ہم بہت دور کی کوڑی ڈھونڈ لائے ہیں' مورگن نے اس بحث کو روک لگائی جو پھیلتی ہی چلی جا رہی تھی، 'چلو، مان بھی لیا کہ وہ روسی یا چینی خفیہ مشن کے ہاتھ لگ گئی ہے یا اب تک ان کے ساتھ رل مل بھی چکی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یقیناً یہ دونوں ممالک اب تک اسے امریکہ کی دنیا بھر میں سبکی کے لیے استعمال کر چکے ہوتے۔ انہوں نے ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا!'
'لیکن جناب!' میں نے اپنی بات پر زور دیا، 'اس لڑکی کی شخصیت، اطوار اور امریکہ سے متعلق رویہ۔۔۔ ہر چیز یہی نشاندہی کر رہی ہے کہ ایسا شخص جلد یا بدیر غداری کا مرتکب ہو سکتا ہے'
قائم مقام سفیر نے میری بات کو یکسر نظرانداز کر کے بات کا رخ موڑ لیا، 'کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ یورپ میں ہو؟ ہم یہاں سر کھپا رہے ہیں اور وہ اس وقت وینس کی گلیوں میں جوتیاں چٹخاتی پھر رہی ہو!'
رچرڈسن مورگن کی اس بات پر سخت نالاں ہوا۔ اس نے حقارت سے جواب دیا، 'ایک امریکی لڑکی کا چھپ چھپا کر چمن سے سرحد پار کر کے ہندوستان پہنچ جانا، پھر وہاں سے کراچی اور بمبئی تک کسی اطلاع کے بغیر سفر کرنا؟ بمبئی سے وہ یقیناً کسی بحری جہاز کے ذریعے ہی یورپ گئی ہو گی، نہیں؟ جناب، کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ چھپ چھپا کر ایسا کرناممکن ہے؟ اگر ہماری بات پر اعتبار نہیں تو پھر برطانویوں سے ہی پوچھ کر تسلی کروا لیں'
'میں اپنی بات واپس لیتا ہوں!' مورگن اس کے تیور دیکھ کر دبک گیا۔ کمرے میں کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ مورگن نے توقف کے بعد مجھ سے کہا، 'ملر، تم سارے امکانات کی پوری کھوج لگاؤ!'
'میں اپنی پوری کوشش کروں گا!' میں نے تیزی دکھائی،
'تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ پوری کھوج لگاؤ!' مورگن گرجا، 'ورنہ تمھیں واپس نیوی میں بھجوا دوں گا' اس بات پر ہم سب ہنس پڑے۔ رچرڈسن اٹھ کر جانے لگا اور اس کے پیچھے نیکسلر نے بھی رخصت لی۔ جب کمرے میں ہم دونوں ہی رہ گئے تو مورگن نے بے تکلف انداز میں کہا، 'ملر اگر تم صاحب کے ہانگ کانگ سے لوٹ آنےسے پہلے ایلن جاسپر کا پتہ نکال لاؤ تو یہ ہم دونوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے'
'آپ تسلی رکھیں، میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا' وعدہ کیا،
'لیکن دھیان رکھو' اس نے خبردار کیا، 'زیادہ تیزی مت دکھانا۔ یہ تمھارا پہلا واقعی مشن ہے، اس لیے احتیاط برتنا۔ کھوج لگانے کی کوشش کرنا اور سوال پوچھتے رہنا۔ اپنے تئیں اندازے لگانے کی بجائے صورتحال کو، اس ملک کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔ اگر لوگ اس عمل کے دوران تمھیں کند ذہن اور بیوقوف سمجھیں تو چنداں پرواہ مت کرنا۔ میں تمھیں بتا رہا ہوں، ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ انہی کوہستانوں میں روسیوں سے جنگ لڑے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اس وقت تم واحد امریکی ہو گے جس نے اس علاقے کا چپہ چپہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہو گا۔ اس لیے آنکھیں کھلی رکھنا اور جس قدر ممکن ہو سکے، آنے والے برسوں کے دوران خود کو کار آمد بنانے کے لیے تیاری کرنے کی کوشش کرنا!'
'میں ضرور ایسا ہی کروں گا!'
کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر انتہائی جذباتی لہجے میں فرط سے بولا، 'بخدا! میں اب یہی سوچ رہا ہوں کہ کاش، تمھارے بجائے میں قندھار جا سکتا۔ تم خوش قسمت ہو!'
جب میں مورگن کے دفتر سے نکل آیا تو سوچ رہا تھا کہ نیکسلر پیرس جانے کے لیے مرا جا رہا ہے اور رچرڈسن کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح واپس واشنگٹن میں پوسٹنگ کروا لے۔ جبکہ میں اور مورگن افغانستان سے محبت کرتے ہیں۔ پیچشوں اور سخت تنہائی کی کسے پرواہ ہے؟ بلاشبہ افغانستان دنیا کا مشکل ترین ملک تھا۔ یہ ایسی جگہ تھی جو جلد یا بدیر ہر شخص کا امتحان لیتی تھی اور میرے لیے وہ وقت آن پہنچا تھا۔ مخول اور گپ شپ ختم ہو چکی اور اصل کھیل شروع ہو چکا تھا۔ میری مثال مداری کے اس ریچھ کی طرح تھی جو ناچنے کی دھن میں اس دنیا کے سب سے بڑے مگر سخت تپے ہوئے توے پر قدم رکھنے والا تھا۔

۔کارواں (افغانستان کا ناول) - پانچویں قسط یہاں کلک (لنک) کر کے ملاحظہ کریں -
-سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے سائیڈ بار میں رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر