کارواں - پانچویں قسط

افغانستان کا ناول

اگلے دن صبح، منہ اندھیرے ہی میں اور نور محمد سفر کے لیے تیار تھے۔ اس نے جیپ میں سامان لاد کر فٹ کرنے میں میری مدد کی۔ ضرورت کے ذاتی سامان کے علاوہ موٹر آئل کے کئی ٹن، آدھ درجن سپارک پلگ، ایک مضبوط رسہ، اضافی جیک، سونے کے دو بستر اور ضروری ادویات بھی شامل تھیں۔ نور محمد سفارتخانے کے مال خانے سے کل شام ہی ہنگامی راشن کی چار پیٹیاں، دو اضافی ٹائر اور ابلا ہوا پانی سٹور کرنے کے بڑے کنستر بھی نکلوا لیے تھے۔ اس خنک صبح، اتنی تیاری دیکھ کر عجیب محسوس ہوتا تھا کہ ہم ایک خود مختار ملک کے دارالخلافہ سے کسی بڑے شہر کے سفر پر روانہ ہو رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم جنگ پر نکل رہے ہیں یا شاید مہم جو ہیں جو جان جوکھوں میں ڈال کر پہاڑ سر کرنا چاہتے ہیں۔
ہم روانہ ہو گئے۔ شہر کے اس حصے میں جہاں بھیڑیوں نے شب خون مارتے ہوئے بوڑھے شخص کو دبوچ لیا تھا، وہاں پہنچ کر میں نے نور سے کہا کہ کیا وہ ایک دفعہ مجھے نظراللہ کا آبائی گھر دکھا سکتا ہے؟ جس پر وہ راضی ہو گیا۔ اس کا گھر شہر کے جنوبی حصے میں، قندھار جانے والی سڑک پر ہی واقع تھا۔ اونچی دیواریں اور بھاری بھرکم لکڑی کا دروازہ۔۔۔ یہ بھی گھر کی بجائے ایک قلعے کا منظر تھا۔ مٹی اور گارے سے تعمیر کردہ کئی فٹ اونچی چہار دیواری ہمارا منہ چڑا رہی تھی، کچھ بھی دیکھ پانا ممکن نہیں تھا۔ افغانستان میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو ان قلعوں میں گھسنے کی جرات کرتی، شاید پوری طرح مسلح فوج کو بھی اچھی خاصی تگ و دود کرنی پڑتی۔ اس چہار دیواری کے اندر ایک عورت کو چھپا کر رکھنا کوئی مشکل کام نہیں تھا، بلکہ سالہا سال تک چنداں پراوہ نہ ہوتی۔
نظراللہ کے آبائی گھر کے سامنے ہی ہم جیپ میں بیٹھے، اس کے اردگرد کا جائزہ لے رہے تھے۔ داخلی دروازہ سختی سے بند تھا لیکن کچھ دیر بعد ہمیں احساس ہوا کہ اس پار کچھ حرکت ہوئی ہے۔ لکڑی کے بھاری بھرکم دروازے کی درزوں میں لالٹین کی روشنی حرکت کرتی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی۔ پھر وہ روشنی ایک ہی جگہ ٹک گئی، دوسری جانب کوئی شخص خاموشی سے ہمیں تاڑ رہا تھا۔ اس نے ہمیں چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔
کئی منٹ اسی عالم میں گزر گئے تو میں نے سرگوشی میں پوچھا، 'نور، تمھارا کیا خیال ہے؟ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں؟'
'وہ جانتے ہیں!' نور نے کہا، 'وہ جیپ دیکھ کر ہی پہچان گئے ہوں گے۔ کابل میں صرف فرنگی ہی جیپیں استعمال کرتے ہیں'۔
'کیا ہم ان سے ایلن کے بارے دریافت کر سکتے ہیں؟' میں نے تجویز دی۔ مجھے یقین تھا کہ نور محمد اس احمقانہ تجویز کو رد کر دے گا لیکن حیرت انگیز طور پر اس نے شانے اچکائے اور جیپ سے کود کر اتر گیا۔ وہ سیدھا دروازے پر پہنچ گیا۔ اگرچہ دروازے کے پار شخص نے اس کو اپنی جانب آتا دیکھ لیا ہو گا مگر اس نے پھر بھی کوئی حرکت نہیں کی۔ نور محمد نے بے دلی سے گھنٹی کی رسی زور سے کھینچ لی۔
دیوار کے اس پار گھنٹی زور سے جھنجھنائی۔ کچھ دیر توقف کے بعد بڑے دروازے میں سے نکلنے والا چھوٹا کیواڑ کھلا اور ایک دبلا پتلا شخص باہر نکلا۔ اس شخص نے پگڑی پہن رکھی تھی۔ نور محمد اس سے پشتو میں گویا تھا جبکہ وہ بے صبری سے کھڑا اس کی بات سنتا رہا۔ میں نے دیکھا کہ نور کے سوال پر اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ شخص فٹ مڑ کر اندر داخل ہوا تو اس کے پیچھے کیواڑ چرمرا کر بند ہو گیا۔ لالٹین کی روشنی بجھ گئی اور وہ شخص کہیں اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
'وہ اس کے بارے کچھ نہیں جانتے'، نور نے بتایا۔ پھر گاڑی سٹارٹ کی اور رخصت ہوتے، میں نے ہیڈ لائٹس کی تیز روشنی میں ان دیواروں پر آخری نظر ڈالی۔ وہ ساکت تھیں، ان پر مزید حرکت نظر نہیں آئی۔
کابل سے قندھار کا فاصلہ قریباً تین سو میل ہے اور یہ سڑک جس پر ہم رواں تھے، تقریباً تین ہزار سال سے یہاں موجود تھی۔ 1946ء میں اس سڑک کی حالت زار دیکھ کر گماں ہوا کہ غالباً آخری دفعہ اس کی مرمت آٹھ سو برس پہلے کی گئی کیونکہ ہر میل ہی امتحان تھا۔ اس کو پار کرنا جوکھوں کا کام تھا۔
سڑک پر گڑھے اس قدر گہرے تھے کہ ہم کسی بھی صورت بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ تیز سفر نہیں کر سکتے تھے۔ کئی جگہوں پر، جہاں بارش کے سیلابی پانی نے کٹاؤ بھی کر رکھا تھا، سڑک غائب ہو چکی تھی۔ ان حصوں میں تو راستے کا کوئی نشان ہی نہیں ملتا تھا اور مجبوراً گاڑی اجاڑ کھیتوں کے بیچوں بیچ گزارتے ہوئے، تا آنکہ سڑک دوبارہ نمودار ہو جائے، سیٹ پر اچھلنا پڑتا تھا۔ اردگرد ابھی تک اندھیرا پھیلا ہوا تھا، راستے میں ہم نے سڑک کے کنارے کئی دوسری گاڑیاں بھی کھڑی دیکھیں جن میں مسافر بے خبر سو رہے تھے۔ یہ راستے میں خراب ہو جانے والی گاڑیاں تھیں۔ جب تک کابل سے نئے پرزے یا دوسری صورت مرمت ہو کر پیادہ نہیں لائے جاتے، مسافروں کا یہیں پڑاؤ رہے گا۔
چونکہ بہار کی آمد تھی، اس لیے چھ بجتے ہی مشرق کی جانب پہاڑوں کی اوٹ سے سورج نکلنے کے آثار نظر آنے لگے۔ تازہ، ہلکی پیلی روشنی وسطی افغانستان کے چٹیل میدانوں کو چھن چھن کر روشن کرنے لگی۔ سڑک کے مغرب میں کوہ بابا کا سلسلہ اب شہر سے باہر نکلنے کی وجہ سے سر تا پا صاف نظر آ رہا تھا۔ اس کی چوٹیاں برف سے لدی تھیں اور گھاٹیوں میں سیاہی پھیلی ہوئی تھی۔ جا بجا کئی مٹی کے گھروندے نظر آ جاتے، جن کی دیواریں بوسیدہ اور یقیناً چھتیں گھاس پھونس سے ٹپکتی اور منڈیروں پر ٹین کے چھجے تھے۔ حفاظت کی غرض سے دیواروں پر کانچ کے ٹکڑے پیوست کیے گئے تھے تا کہ کوئی پھلانگ نہ سکے۔ وسیع میدان میں دور دور تک اجاڑ کھیت تھے، جن میں شاذ و نادر ہی کچھ اگتا ہو گا کیونکہ عام طور پر بارشیں صرف پہاڑوں تک محدود رہتی تھیں۔
اس منظر میں نمایاں دلچسپی کا سامان صرف دو ہی رنگ تھے۔ وہ جگہیں جو سفید برف سے اٹی نہیں تھی، بھوری مٹی نظر آتیں۔ پہاڑ، گھروندے اور بنجر میدان۔۔۔ سفید یا بھورا رنگ ہی نظر آ رہا تھا۔ اگر راستے میں کوئی اکا دکا گندمی رنگت کے لوگ بھی کابل کی طرف پیدل گامزن نظر آ جاتے، وہ بھی بھوری مٹی کی دھول میں اٹے سفید رنگ کے ہی کپڑوں میں ملبوس تھے۔ ان کی قمیصیں یقیناً کسی وقت میں نئی نکور، نکھرے رنگ کی رہی ہوں گی مگر اب ان میں بھی بھورا پن در آیا تھا۔ یہاں تک کہ اس منظر میں سڑک کنارے سستاتے ہوئے زیادہ تر کتے بھی بھورے ہی تھے۔
ہم راستے میں ایک جگہ پر کچھ دیر کے لیے رکے۔ یہ اکا دکا گھر نہیں بلکہ چھوٹی سی آبادی تھی جہاں سویر تڑکے ہی کئی لوگ جمع تھے اور شور و غل برپا تھا۔ نور نے بتایا کہ یہاں کتوں کی لڑائی شروع ہوا چاہتی ہے۔ چونکہ کتوں کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے، وہ اجنبیوں کو دیکھ کر زور زور سے بھونکنے لگے۔ جب کافی دیر بعد بھی وہ چپ نہ ہوئے تو یہ دیکھ کر ایک شخص نے نشانہ باندھ کر ایک کتے کو گھما کر پتھر دے مارا، تبھی باقی بھی چپ ہوئے۔ 'اس نے تو کتے کو زخمی کر دیا ہو گا'، میں نے کہا تو نور محمد نے بتایا کہ پتھر نشانے پر تو ضرور ہے لیکن اس میں زور نہیں تھا۔
'یہ لوگ اپنے تازی کتوں سے بہت لگاؤ رکھتے ہیں' اس نے کہا، 'یہ ان سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ اگر بھولے سے بھی کسی افغان کے کتے کو مار دیا تو وہ شخص ہندوکش تک پیچھا نہیں چھوڑے گا اور بدلہ لے کر رہے گا۔۔۔'
بہار کے اوائل دنوں میں، جب دن اور رات برابر ہوتی ہے۔ ایسے میں کابل سے قندھار کا سفر دلبری کا شیوہ ہے۔ ہم نے اکیس مارچ کی صبح سفر شروع کیا، یہ سرما کے موسم کا آخری جبکہ بہار کا پہلا روز تھا۔ اونچے ایشیائی پہاڑوں کے سلسلوں سے میدانوں کی جانب سفر میں، موسم اور دھرتی دونوں ہی دھیرے دھیرے گرم ہوتے جاتے ہیں۔ آگے بڑھتے جائیں تو ایسے لگتا ہے جیسے سفید برف آہستہ آہستہ رنگ برنگے پھولوں میں ڈھلتی جا رہی ہے۔ بہار کی پہلی صبح پوری آب تاب سے طلوع ہوئی تو دیکھا کہ جا بجا، دور نظر کی حد تک اجاڑ میدانوں میں زندگی کی رمق نظر آنے لگی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف میں اودے، نیلے اور پیلے پھول تھے۔ اسی طرح رنگ برنگی چڑیاں بھی نکل آئی تھیں جو یہاں وہاں، پُھر پُھر کرتی، دور نکل جاتیں اور کبھی قریب آ رہتیں۔ بے رنگ میدان جن میں دور دور تک جا بجا سائے کی جگہوں میں برف ابھی تک جمی تھی، یکدم ہی دلفریب منظر پیش کرنے لگے۔ ایک جیپ پر مشتمل ہمارے مختصر کاروان کا سفر جاری و ساری رہا۔
ہمارا پہلا پڑاؤ افغانستان کے قدیم مرکز میں طے تھا۔ یہ تاریخ میں شہرہ آفاق، غزنی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مجھے افغانستان میں تعیناتی کا سرکاری پتر ملا تو میں نے اس ملک سے متعلق ہر طرح کی معلومات جمع کرنا شروع کیں۔ کئی کتابیں کھنگال لیں اور ہر طرح کا مواد دیکھ لیا۔ میں پڑھتا گیا اور جو پہلا تذکرہ سامنے آیا، وہ غزنی کا تھا۔ غزنی کی تاریخ نے جیسے سوچ کو جکڑ لیا۔ میرے خیال میں اس جیسا کوئی دوسرا شہر نہ ہو گا۔ دنیا کے قدیم ترین شہر بھی اس کی کہانی کے آگے پانی بھرتے ہوئے نظر آئے۔ اس شہر کی تابناکی کا یہ ہزار برس پہلے کا قصہ ہے۔ غزنی کے گرد اونچی فصیل ہوا کرتی تھی جس میں ناپ کر مناسب فاصلے پر حفاظتی قلعے اور چوکیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ ایسی جگہ تھی جس کو فتح کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ اس وقت یہ شہر ایک انتہائی سخت دل شخص، محمود غزنوی کی بادشاہت ہوا کرتا تھا۔ محمود غزنوی کو کچھ لوگ بربری اور جانگلو جب کہ دوسرے ہیرو شمار کرتے ہیں۔ یوں اس کا کردار آج بھی تاریخ میں انہی دو لازوال انتہاؤں میں بسر رکھتا ہے۔ اس کی طاقت اور اسرار کی کوئی حد نہیں تھی۔ کہانی میں یہ تقریباً پچیس برس تک مسلسل، ہر سال طاقت ور فوج کی کمان سنبھالے غزنی سے نکلتا اور درہ خیبر پار کر کے ہندوستان کے ہرے بھرے میدانوں میں حملے کرتا۔ کہا جاتا ہے، اسے ان حملوں میں کبھی شکست نہیں ہوئی۔ کسی راجے، مہاراجے میں اس کا سامنا کرنے کی جرات ہی نہیں تھی۔
قصہ یوں ہے کہ ہندو گائے کو مقدس سمجھ کر پالتے تھے لیکن محمود نے ہندوستان کے شہروں کو ہی اپنی موٹی تازی، پلی پلائی ہوئی گاؤ بنا کر رکھا ہوا تھا۔ وہ ہر سال جب کوہستانی علاقوں میں برف پگھل جاتی تو ہندوستان کی گائے کو دوھنے کے لیے پہنچ جاتا اور جنوبی سرحدوں تک جایا کرتا۔ سومنات اس کی حد ہوا کرتی تھی۔ اس کی فوج نے قریباً دو درجن حملوں میں ہزاروں قتل کیے، برصغیر کے امیر ترین شہروں کو لوٹا اور اسی دولت کے بل بوتے پر غزنی جیسی بھدی جگہ کو علم، خوشحالی اور طاقت کا گہوارہ بنا دیا۔
محمود غزنوی ایشیاء میں ایک تاباں اور درخشاں نام ہے، معروف شخص تھا۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب پہلی دفعہ میرا اس نام سے سامنا ہوا تھا۔ میں اس کی شخصیت اور حکمت عملی بارے پڑھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے بھرتی دفتر میں ٹریننگ جاری تھی۔ مجھ سمیت بیس کے قریب نئے بھرتی ہونے والے اہلکار جمع تھے۔ میں نے سب سے پوچھا کہ کیا انہوں نے محمود غزنوی کا نام سن رکھا ہے؟ حیران کن طور پر کوئی بھی اس نام سے واقف نہیں تھا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ افغانستان باقی دنیا سے کس قدر کٹی ہوئی جگہ ہے۔ یہ عجیب و غریب صورتحال تھی۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے امریکی افغانستان کے محل وقوع سے بالکل نابلد تھے۔ بعض تو اسے ایتھیوپیا کا متبادل نام سمجھ کر بیٹھے تھے، ان کا خیال تھا کہ شاید میری تعیناتی افریقہ میں کی گئی ہے۔
مجھے محمود اور اس کے شہر غزنی کے احوال نے بہت متاثر کیا۔ آج میں نور محمد کے ہمراہ اس عظیم و الشان شہر کو دیکھنے جا رہا تھا۔ لیکن غزنی شہر کو دور سے دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی۔ عجب مٹیالی، بے رنگ اور بے کیف جگہ تھی جو پہلی نظر میں ویران اور اجاڑ لگ رہی تھی۔ شہر کیا تھا؟ مریل، مٹی اور گارے کی کئی عمارتیں تھیں جن کے گرد ایک خستہ حال موٹی دیوار کھنچی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے یہ تعمیرات جانوروں کے باڑے ہیں۔ سبزہ دکھائی دیتا تھا اور نہ ہی کوئی درخت تھا۔ چاروں طرف سوکھا پھیلا ہوا تھا، پانی کا دریا تو دور کی بات، کوئی نہر بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ آخر یہ مٹی کا ڈھیر کسی زمانے میں افغانستان ہی نہیں بلکہ اس وقت کی دریافت شدہ دنیا کا بھی مرکز رہا تھا، آخر کیسے؟ یہ کیونکر ہو سکتا تھا؟ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا، بلکہ محسوس ہوا کہ شاید تاریخ دانوں سے کوئی بہت بڑی چوک ہو گئی ہے۔ دور سے تو یہ شہر دھول کی خاک ہی نظر آ رہا تھا۔
لیکن ہوا کیا؟ جب ہم قریب پہنچے تو آنکھیں دنگ رہ گئیں۔ جس فصیل کو میں مٹی کا ڈھیر سمجھ رہا تھا، اس کی ہیبت دیکھنے لائق تھی۔ شہر کے جنوبی دروازے سے داخل ہوتے تو تخیل لرز کر رہ گیا۔ صحیح معنوں میں دماغ سن ہو گیا۔ اس کا رعب اتنا تھا کہ محسوس ہوا جیسے آج بھی اس شہر پر محمود غزنوی کی حکومت ہے۔ شہر کا یہ داخلی دروازہ بہت ہی اونچا اور محرابیں پرشکوہ تھیں، یہ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ گل کاری کا بیان مشکل ہے اور دونوں اطراف میں بلند مینارے جو تعمیر کی بجائے ارض کا ٹھوس حصہ معلوم ہوتے تھے۔ یہ حفاظت کی غرض سے تعمیر کیے گئے تھے، جن میں ہر وقت پہرے داروں کا مسکن رہتا۔ ان میناروں کی دیواروں میں چھوٹی درزیں بھی تھیں۔ محمود کے زمانے میں ان درزوں میں تیر انداز ہر وقت چوکس بیٹھے رہتے لیکن پچھلی ایک صدی سے رائفل بردار، بندوق کی نالیاں سیدھی کیے شرپسندوں سے نبٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ آج بھی اس دروازے سے داخل ہونے سے قبل حکام شہر سے اجازت طلب کرنی پڑتی تھی۔ میں چوکی کے پاس ہی کھڑا انتظار کرتا رہا جبکہ نور محمد اندراج کروا رہا تھا۔ اس دوران وہیں کھڑے میں تاریخ کے خیالی دھارے میں بہہ گیا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ در اصل محمود غزنوی کی اصل طاقت اس شہر کی یہ مضبوط فصیلیں اور ٹھوس مینارے، ہر دم پہرے تلے رہنے والے داخلی دروازے تھے۔ وہ اسی مضبوط فصیل اور پہرے کے بھروسے ہر سال شہر کی حفاظت پر مامور فوج کو لیے ہندوستان کے میدانوں میں مہم جوئی کر لیتا تھا۔ اگر غزنی کے گرد یہ فصیل اور انتظام نہ ہوتا تو شاید وہ کبھی غزنی سے باہر قدم بھی نہ رکھتا۔ لیکن یہ ساری بپتا گھوم کر پھر اس کی حکمت عملی کے گرد گھومنے لگتی ہے، اس نے اپنا راج بنانے کے لیے سب سے پہلا کام اس فصیل کی مضبوطی کا سرانجام دیا ہو گا۔
جب جیپ آہستہ آہستہ ہجوم میں سے گرزتی ہوئی کر تنگ گلیوں میں داخل ہو گئی تو پہلی بار احساس ہوا کہ اب ہم کابل میں نہیں بلکہ واقعی افغانستان میں ہیں۔ کابل میں تو سفارتخانوں کے فرنگیوں نے اپنی ہی دنیا بسا رکھی تھی۔ وہاں کے مقامی رنگ میں طرح طرح کی کھوٹ شامل تھی، ہر لحاظ سے بناوٹ تھی۔ جرمن انجنئیروں نے اس شہر میں دریا کو قابو کرنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی اور مقامی لوگوں نے بازاروں کو ہر طرح کی مصنوعات اور شہر کو جدید طرز تعمیر سے پراگندہ کر دیا تھا۔ غزنی شہر کو ابھی تک کسی جرمن انجنئیر کے ہاتھ نہیں لگے تھے اور یہاں قراقل پہننے والے بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہم اس وقت ایشیاء کے سب سے قدیم حصے میں موجود تھے، یہ جگہ اپنی اصلی حالت میں ہمارے سامنے تھی۔
ہم شہر کے بیچوں بیچ ہوتے ایک ایسے چوک میں پہنچ گئے جہاں چاروں طرف کچی گلیاں نکلتی تھیں اور پرانی دکانوں پر دھول اٹ رہی تھی۔ یہیں ایک سخت گندا ریستوان تھا۔ ہر شخص میلی کچیلی شلوار قمیص، اس کے اوپر واسکٹ اور خستہ اوورکوٹ پہنے ہوئے تھا۔ سبھی کے سروں پر ضخیم پگڑیاں اور پیروں میں سائی دار چپلیں تھیں۔ غزنی میں کہیں کوئی شخص قراقلی پہنے نظر نہ آتا بلکہ یہاں تو مجھے کابل کے برعکس کوئی عورت اور اس کا سایہ بھی نظر نہیں آیا۔ قدیم بازاروں میں کھوے سے کھوا اچھل رہا تھا، دکانوں کے علاوہ چھابڑیوں اور ریڑھیوں کی بھی بہتات تھی۔ کابل میں تو بازار میں رنگ برنگی چیزیں مل جاتی تھیں لیکن غزنی میں صرف مقامی مصنوعات جیسے چمڑی اور فر کی بنی چیزیں، دودھ، دہی، گوشت، جنوب کے انگور اور خربوز، کوئلہ وغیرہ، الغرض انتہائی ضرورت کا سامان ہی بکتا تھا۔ یہ بازار اور اس میں بکنے والی اجناس غزنی کے لازوال ہونے کی مزید گواہی تھے۔ یہاں صدیوں سے یہی کچھ بکتا آیا تھا اور زمانے نے قیامت کی دوڑ چل کر بھی اس جگہ کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ نور نے مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی روک دی اور مجھے سختی سے اس پر لدے سامان کا خیال رکھنے کی تاکید کر کے رات بسر کرنے کا انتظام کرنے چلا گیا۔ در اصل کابل اور قندھار کے بیچ سڑک کی حالت اس قدر خراب ہے کہ ہم کسی بھی صورت ایک ہی دن میں قندھار نہیں پہنچ سکتے تھے۔ غزنی میں رات بسر کیے بغیر قندھار پہنچنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
میں دس منٹ تک وہیں کھڑا اپنے آس پاس کا جائزہ لیتا رہا۔ اس دوران کئی افغان میرے گرد جمع ہو گئے۔ وہ ایک فرنگی کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کر رہے تھے۔ جب میں نے ان سے پشتو میں بات کرنے کی کوشش کی تو سب کے سب کی حیرت کے ساتھ خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ بلاتکلف غزنی کے حالات بتانے لگے۔ سخت سردی اور خوراک کی کمی وغیرہ کی شکایت کرنے لگے۔ اسی اثناء میں نور محمد لوٹ آیا لیکن اسے دیکھ کر میرے گرد جمع ہجوم بکھر گیا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ نور محمد اور اس کی قراقلی سے کترا گئے تھے لیکن در اصل ان کے پیچھے ہٹنے کی وجہ دو ملا تھے، جو نور محمد کے آجوں باجوں چلے آ رہے تھے۔ ان ملاؤں نے ڈانٹ ڈپٹ کر سب کو مجھ سے دور کر دیا۔ یہ دونوں، ان کی گھنی اور لمبی داڑھیاں تھیں، اونچے قد، سیاہ کپڑے پہن رکھے تھے اور آنکھوں میں غصہ بھرا ہوا تھا۔ ملا شہر میں ایک فرنگی اور جیپ کی افتاد دیکھ کر سخت نالاں نظر آتے تھے۔
پہلے تو ان کا رویہ عجیب تھا لیکن جب میں نے پشتو میں بات چیت شروع کی تو ان دونوں کا گھمنڈ اور غصہ یکدم دھیما پڑ گیا۔ میں نے انہیں اپنا دوست بنا لیا۔ جب ان کی تسلی ہو گئی اور اجنبیت ہوا ہوئی تو گپ شپ شروع ہو گئی۔ وہ ہٹ کر مجھ سے سفر کے حالات دریافت کرنے لگے۔ میرے خیال میں وہ دونوں نہایت عمدہ لوگ تھے، مناسب انداز میں گفتگو کر رہے تھے اور چونکہ نور محمد نے ان کو اچھی طرح قائل کر لیا تھا، اب باقاعدہ ہمارے ساتھ مل کر گپ شپ اور قہقہے لگانے لگے۔ یہ دیکھ کر عام افغانوں کا ہجوم ایک دفعہ پھر جمع ہو گیا۔ نور محمد نے ملاؤں کو یقین دلایا کہ فرنگی غزنی کی کسی عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور نہ ہی شراب نوشی کرے گا۔ انہوں نے اچھی طرح تسلی کی اور ہم سے رخصت لی۔ نور محمد نے سرگوشی میں کہا، 'اگر ہمارے پاس وقت ہوتا تو میں ان ملاؤں سے اچھی طرح نبٹ لیتا۔ مجھے افسوس ہے لیکن نوبت یہاں تک نہ پہنچتی'۔ میں نے بہرحال برا نہیں منایا تھا بلکہ ان دونوں ملاؤں کے ساتھ مل کر مجھے خوشی ہوئی تھی۔
میری ڈھارس بندھوا کر نور نےدور سے آواز دے کر ایک مخنی سے لڑکے کو پاس بلا لیا جو قدرے فاصلے پر نور کے اشارے کا ہی انتظار کر رہا تھا۔ لڑکا جیپ کی پشت پر سوار ہو گیا اور ہوٹل تک لے گیا، جہاں عمارت کی پشت پر گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ تھی۔ افغانستان میں، میرا کسی ہوٹل میں رات بسر کرنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اسی لیے میں اس حوالے سے خاصا پرجوش تھا لیکن کمرے میں پہنچ کر سخت مایوسی ہوئی کیونکہ یہاں کھڑکیوں میں شیشہ نہیں بلکہ لکڑی ٹھونکی ہوئی تھی۔ دروازے پر تالہ، پانی، انگیٹھی، خوراک، چارپائی اور نہ ہی میز یا کوئی کرسی تھی، فرش بھی کچا تھا۔ الغرض کچھ سہولت نہیں بلکہ صرف ایک چیز تھی جس کی وجہ سے یہ جگہ یادگار تھی۔ کمرے کے کچے فرش پر اوپر نیچے پانچ ایرانی قالینیں اور چند تکیے تہہ کر کے اہتمام سے رکھے ہوئے تھے۔ میں نے یہ قالینیں کھول کر بچھا دیں اور گاؤ تکیہ لگا لیا۔ یقیناً یہ قالین وسط ایشیاء میں سمرقند کے شہر میں کھڈی پر گوتھ کر تیار کیے گئے تھے اور غالباً پھیری لگانے والے تاجروں نے پہاڑوں میں سے سمگل کر کے یہاں تک پہنچا کر بیچ دیے تھے۔ میں نے آج تک اس قدر عمدہ اور نفیس قالین نہیں دیکھے، گویا دھاگے سے شاعری کر رکھی تھی۔ تین میں سرخی نیلا رنگ بھرا ہوا تھا جبکہ دو قالینوں میں مبہوت کر دینے والی سفید اور سنہری دھاگوں سے پھول کاریاں بنی ہوئی تھیں۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ قالین اس ہوٹل میں پچھلے برسوں سے استعمال چلے آ رہے تھے۔ چونکہ غزنی میں نمی نہیں ہوتی، اسی لیے اب تک سڑنے سے بچ گئے تھے۔ اگرچہ ان کا اصل رنگ اڑ چکا تھا لیکن شان اور خوبصورتی جوں کی توں برقرار تھی، بلکہ دلکشی بڑھ چکی تھی کیونکہ ان پر گزرے زمانوں کے بیش قیمت عتیق کا گماں ہوتا تھا۔ انہی قالینوں کے سبب ہوٹل میں تھوڑا بہت، جس قدر بھی ممکن تھا رنگ بھرا ہوا تھا اور یہ جگہ رہنے کے قابل محسوس ہوتی تھی۔ جب نور محمد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سارا سامان، بشمول دھول سے اٹے اضافی ٹائر اور گریس سے لتھڑے اوزار بھی ان قالینوں پر ڈھیر کر دیے تو مجھے سخت برا لگا۔
'ارے، یہ کیا کر رہے ہو؟ ان چیزوں کو قالین پر مت پھینکو!' میں نے احتجاج کیا،
'تو پھر کہاں رکھوں؟' اس نے پوچھا،
'جیپ میں رہنے دیتے!' میں نے مشورہ دیا،
'جیپ میں؟' نور محمد نے ٹھنڈی سانس بھر کے کہا، '۔۔۔تا کہ سب چوری ہو جائے؟'
'لیکن تم نے سامان کی حفاظت کے لیے دو چوکیدار بھی تو بلا رکھے ہیں؟' میں نے جرح کی، 'ان کے پاس تو شاٹ گنیں بھی ہیں'،
'وہ تو صرف اس کام کے لیے ہیں کہ کوئی گاڑی کے پاس نہ پھٹکے ورنہ گاڑی کے ٹائر چوری ہو جائیں گے' نور محمد نے سمجھایا، 'ملر صاحب، اگر ہم یہ سامان اور اضافی ٹائر گاڑی میں چھوڑ دیں تو وہ چوکیدار دس منٹ کے اندر یہ سب نکال کر بیچ دیں گے'،
میں اس بات پر سخت اکراہ گیا اور کہا، 'مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ چلو، باہر چلتے ہیں۔ کچھ کھا پی لیتے ہیں'
'ہم دونوں اکٹھے نہیں جا سکتے' نور محمد نے جواب دیا،
'کیوں نہیں؟ وہ دونوں ملا پہلے سے جانتے ہیں کہ ہم دونوں ساتھ ہیں!' مجھے اس کے ساتھ کابل میں مکالمہ یاد آ گیا،
'ارے نہیں، میرا مطلب اس کمرے سے ہے۔ ہم اس سامان کو بلا حفاظت نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم دونوں میں سے ایک کو یہیں پہرہ دینا ہو گا'۔
میں نے پچھلی دیوار پر کھڑکی تھوڑی سی کھول کر دیکھا۔ نیچے احاطے میں دو چوکیدار کاہلوں کی طرح گاڑی میں کاہلی سے پڑے تھے، 'ان دونوں میں سے کسی ایک کو اوپر بلا لاؤ اور اس کے ذمے سامان کی حفاظت لگا دو!'،
'ان دونوں کو؟' نور محمد پھٹ پڑا، 'وہ سامان چوری کر سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب ہم لوٹ کر آئیں، وہ ہمیں بھی گولی مار دیں'،
'تو پھر ہم انہیں اجرت کاہے کی دے رہے ہیں؟' میں نے دریافت کرنا چاہا،
'ان کا کام تو صرف جیپ اور اس کے ٹائروں کی حفاظت ہے' نور محمد نے دہرایا،
یہ عجیب و غریب منطق میری سمجھ سے باہر تھی۔ مجھے نور پر یقین نہیں آیا چنانچہ اس نے مجھے دروازے کی بغل میں کھڑکی کی جانب بلایا۔ چھوٹی سی درز میں سے ہوٹل کے سامنے احاطے کی طرف اشارہ کیا جہاں چالیس کے لگ بھگ قبائلی بھوکی نظروں سے ہمارے کمرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ 'ملر صاحب' نور محمد نے سرگوشی میں کہا، 'یہ ہمارا باہر نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کمرے میں سامان کو اکیلا چھوڑ کر باہر نکلیں اور یہ لوٹ لیں'۔
مجھے اس کی بات سے اختلاف تھا لیکن بہرحال فیصلہ کیا کہ میں پہلے باہر جاؤں گا۔ اس وقت سہ پہر کے تین بج رہے تھے، ہوٹل سے نکل کر چوک میں پہنچ گیا اور کھانے پینے کی مناسب جگہ ڈھونڈنے لگا۔ میری نظر میں وہی ریستوان تھا جو یہاں دستیاب ایسی واحد جگہ تھی۔ ریستوان بھی میں نے حفظ ما تقدم کہہ دیا ہے ورنہ یہ اصل میں سڑک کنارے ایک ڈھابہ تھا۔ چند بوسیدہ میزیں اور کرسیاں پڑی تھیں۔ میزوں پر پانی کی پرانی بوتلیں دھری تھیں جو میل کچیل سے سیاہ ہو چکی تھیں۔ یہاں ایک مخصوص بو تھی جو میں نے اس سے قبل کابل کے چھوٹے ریستوانوں میں بھی سونگھ چکا تھا چنانچہ اس کی اب عادت ہو چکی تھی۔ بیرہ ایک پکی عمر کا شخص تھا، اس نے پھٹا پرانا کوٹ پہن رکھا تھا۔ میں نے ایک کرسی پر نشست سنبھال لی تو وہ سب سے پہلے نان لے آیا۔ مجھ سے پوچھیں تو افغانستان میں پکنے والے نان کا دنیا بھر کی روٹی، ڈبل روٹیوں کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے۔ اول تو یہ بہت بڑے ہوتے ہیں، دوم خستہ ہوتے ہیں۔ یہ تندور میں کوئلے کے انگاروں کی ہلکی تپش پر پکائے جاتے ہیں جس سے آٹا پھول کر بھن جاتا ہے اور دیسی گندم کی تازگی اور ذائقہ بدستور برقرار رہتا ہے۔ تندور سے تازہ نان لے آیا تو پھر ایک تھال میں افغانی پلاؤ اٹھائے پھر نمودار ہوا۔ یہ گرمام گرم پلاؤ تھا جس میں طرح طرح کی چیزیں جیسے جو، گندم، پیاز، کشمش، مونگ پھلی، نارنجی کا خشک چھلکا اور دنبے کے گوشت کی بڑی بوٹیاں پکی ہوئی تھیں۔ نان اور افغان پلاؤ، یہ دو کھانے کی ایسی چیزیں تھیں جو میں ہر روز، بغیر کسی تردد کے کسی بھی جگہ بیٹھ کر کھا سکتا تھا۔ ویسے بھی سفر کے دوران مجھے انہی دو چیزوں پر انحصار کرنا تھا کیونکہ افغانستان میں اس کے سوا ریستوانوں پر کچھ نہیں پکتا تھا۔
کھانا کھاتے، میرے اردگرد پھر سے کئی لوگ جمع ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر وہی تھے جو تھوڑی دیر قبل خوش گپیاں لگا رہے تھے۔ دو تو میرے سامنے ہی بے تکلفی سے کرسیاں کھینچ کر بیٹھ گئے جبکہ کئی میری پشت پر کھڑے تھے۔ ایسا عالم دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھا کہ لوگ ریستوان میں کسی اجنبی کی میز پر یوں پھیل کر بیٹھ جائیں، لیکن مجھے برا محسوس نہیں ہوا بلکہ اس بے ساختہ پن پر خوشی ہوئی۔ کھانا کھاتے ہم باتیں کرتے جاتے اور بیچ ہی بیچ، میں انہیں بھی نوالہ لگانے کی دعوت دیتا جسے وہ بخوشی قبول کرتے، نان کا پارچہ توڑ پلاؤ سے بھر کر کھا لیتے۔ کچھ ہی دیر میں کم از کم آٹھ لوگ میرے کھانے میں ہاتھ مار چکے تھے۔ مجھے اس بے تکلفی اور دوستانہ پن پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ یہ افغان زندگی کی روایت تھی اور میری پسندیدہ تھی۔ جب میں کھانا کھا چکا تو کاؤنٹر پر پیسے ادا کرنے اٹھا، میرے نئے دوست بھی رخصت لینے لگے۔ تبھی سڑک پر شور بلند ہوا۔ میں نے دیکھا کہ گلیوں میں کئی لوگ چوک سے نکل کر شہر سے باہر جانے والے راستے پر دوڑ لگا رہے ہیں۔ کچھ سمجھ نہ آئی، ویسے بھی میں فوراً ہوٹل لوٹ جانا چاہتا تھا تا کہ میں پہرہ دوں اور نور محمد کھانا کھا سکے لیکن میرے اردگرد جمع لوگ بھی پرجوش ہو گئے۔ ان میں سے دو ایک نے قمیص سے پکڑ کر اپنے پیچھے آنے کی دعوت دی۔ میں واپس جانا چاہتا تھا لیکن نہ جانے کیوں، نہ چاہتے ہوئے میں بھی باہر نکل کر باقی لوگوں کے ساتھ سڑک پر دوڑنے لگا۔ جلد ہی میں ایک ہجوم میں گھرا ہوا تھا جو شہر کے جنوبی دروازے سے باہر وسیع میدان میں جمع ہو رہا تھا۔ اس میدان کے درمیان کھلی جگہ پر زمین میں لکڑی کے پھٹے ٹھونک کر ایک چوب دار قد آدم کھونٹی بنا رکھی تھی۔
اس کھونٹی سے کچھ دور زمین کی سطح سے قدرے اونچا چبوترہ بھی بنایا گیا تھا جس پر چار ملا چڑھے، تن کر کھڑے تھے۔ ان میں سے دو وہی تھے جن سے کچھ دیر قبل بازار میں ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے چہرے پر سوگ کی کیفیت اور دہشت کے سائے تھے اور اس وقت وہ باقی سب لوگوں سے کٹ کر ممتاز نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مجھے تو دور سے ایسا لگتا تھا جیسے گھنی داڑھی اور پگڑیوں میں وہ کسی بہت ہی قدیم قبیلے کے سردار ہوں اور لوگ بابل کے باسی ہوں۔ اس سارے منظر میں مجھے اپنا آپ غیر محسوس ہوا، جیسے میں وقت کے دھارے میں بہہ کر انجیل کے زمانے میں پہنچ گیا ہوں۔ ایسا دور جسے متروک ہوئے بھی پچیس صدیاں گزر چکی تھیں۔ بیت کی چھڑیوں سے ٹیک لگا کر کھڑے یہ ملا عبرانیوں کے آباؤں جیسے نظر آ رہے تھے، جو جدید دور کو ہر گز خاطر میں نہ لاتے ہوئے عہد نامہ قدیم کو ایک دفعہ پھر زندہ کیے بدستور جم کر کھڑے ہوں۔ اس جگہ کے گرد وسیع میدانوں میں کئی اونٹ بھی چرتے پھر رہے تھے، ان کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آوازیں دور زمانوں میں بجتی سنائی دے رہی تھیں۔ پگڑیاں پہنے مردوں کا ہجوم، ان کی سامی ناکیں، سورج میں جلی ہوئی جلد، صحرا کی دھول سے اٹی ہوئی داڑھیاں۔۔۔ ایسا لگا جیسے نینوا یا بابل میں کسی مقدس مذہبی رسم کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔
میں نے گھبرا کر اردگرد دیکھا تو ایسے میں اس جگہ مجھے صرف ایک ہی ایسی نشانی نظر آئی جو بیسویں صدی کا پتہ دے رہی تھی۔ غزنی شہر کے باہر فصیل کے ساتھ ساتھ، فوجی چوکیوں کے سائے میں قطار میں نصب اکا دکا کھمبے اور کچھ تاریں نظر آئے۔ یہ دراصل ٹیلی گراف کے کھمبے تھے جو غزنی سے کابل تک تار کی صورت مراسلات بھجوانے کے کام آتے تھے۔ اگر ہم چاہتے تو منٹوں کے اندر غزنی کے اس اجتماع کا احوال پوری دنیا تک پہنچا سکتے تھے لیکن شاید اس شہر میں عین ممکن ہے، نور محمد کے سوا کسی افغان کو باہری دنیا سے رابطے اور اطلاع پہنچانے کی پرواہ نہ ہوتی۔ نور محمد تو اس وقت ہوٹل میں بھوکا پیاسا بیٹھا میری جان کو رو رہا ہو گا۔
ملاؤں نے ہجوم کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا اور پھر چبوترے پر مودب کھڑے ہو کر عربی زبان میں دعا اور مناجاتیں پڑھنے لگے۔ اس وقت تک سورج ڈھلنے کو پر تول رہا تھا۔ٹھنڈی پڑتی ہوئی دھوپ ان ملاؤں کے چہروں پر پڑتی ہوئی زردی میں ڈھل کر عجب معلوم ہوتی تھی۔ کچھ دیر یہی جاری رہا اور پھر اچانک عربی بیان ختم کر دیا گیا۔ میں مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ شہر کے دروازے سے چار سپاہی برآمد ہوئے جنھوں نے ہاتھوں میں قاربین بندوقیں اٹھا رکھی ہیں اور کمر سے کارتوس کی پیٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔
ان سپاہیوں نے ایک شرمیلے ہیولے کو حصار میں لے رکھا ہے جو سفید برقعہ اوڑھے ننگے پیر اسی جانب بڑھ رہا ہے۔ کابل شہر میں، میں نے برقعوں کے کئی طرح کے فیشن دیکھ رکھے تھے۔ وہاں عورتیں زیادہ تر بیش قیمت، ریشمی اور اکثر کڑھائی کڑھے برقعے استعمال کیا کرتی تھیں لیکن یہاں اس عورت نے لٹھے کے گھٹیا کپڑے سے سلا ہوا معمولی سا برقع پہن رکھا ہے۔ یہ برقع میلا کچیلا ہو رہا تھا اور دوسرے برقعوں کے برعکس آنکھوں کی جالی بھی تنگ تھی، جیسے مچھر دانی ہو۔
مجھے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اس پردے کے پیچھے کون چھپا ہوا تھا مگر یقیناً کوئی عورت ہی ہو گی۔ عورتیں ہی برقع اوڑھتی تھیں، یہ عورتوں کے لیے ہی لازم تھا۔ مرد کبھی پردہ نہیں کرتے۔ لیکن یہ جو کوئی بھی تھی، یقیناً مچھر دانی جیسی جالی میں اپنے اردگرد نفرت انگیز نظروں کو صاف دیکھ سکتی تھی، لعن طعن اور غلیظ گالیاں سن سکتی تھی۔ بعض نے تو اس پر تھوکنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
جب سپاہی اس عورت کو حفاظت کے ساتھ کھونٹی کے قریب پہنچا لیے تو انہوں نے انتہائی مہارت سے کھونٹی کے نوکدار کونوں میں بڑی بڑی کیلیں ٹھونک دیں اور قیدی کے ہاتھ رسی سے ان کیلوں کے ساتھ باندھ دیے۔ پھر انہوں نے اس کے ٹخنے بھی کیلوں کے ساتھ سختی سے باندھ دیے۔ جب وہ پیچھے ہٹے تو ایک سپاہی نے کھینچ کر برقعہ اتار پھینکا، جو اس کے ننگے پیروں میں ڈھیر ہو گیا۔ قیدی نے چہرے پر نقاب ڈھانپ رکھا تھا مگر وہ اپنے اردگرد، ہجوم کی نفرت انگیزی کو دیکھنے میں آزاد تھی۔
اب ایک دفعہ پھر، چاروں ملاؤں نے مل کر طویل ورد شروع کیا اور ہجوم نے اس میں ان کا ساتھ دیا۔ میدان گونجنے لگا لیکن مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کیونکہ یہ عربی میں کچھ مناجاتیں معلوم ہوتی تھیں۔ کچھ دیر یہی کچھ ہوتا رہا اور پھر ایک ملا آگے بڑھا، ہجوم کو خاموش کرایا اور پشتو میں خطاب شروع کر دیا۔ یہ مجھے صاف سنائی دے رہا تھا اور پوری طرح سمجھ بھی آ رہی تھی۔ وہ غمناک آواز میں اعلان کرتے ہوئے چلایا، 'یہ عورت حرام کاری کے جرم میں پکڑی گئی ہے۔ یہ غزنی کی فاحشہ ہے۔ یہ خدا سے ڈرنے والے سبھی لوگوں کے لیے ہتک اور تذلیل کا باعث ہے' یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹا تو میں نے کن اکھیوں سے قیدی پر ایک نظر ڈالی جس پر جرم کی صحت کا کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ تو اس مقدمے کا فیصلہ سننے کو بے چین تھی، اس قدر گھناؤنا الزام سن کر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
پھر وہ ملا پیچھے ہٹ گیا اور دوسرا آگے بڑھ کر چلایا، 'ہم نے اس معاملے کی پوری چھان بین کی ہے۔ کتب سے رجوع کیا ہے اور اس عورت کو حرام کاری کا مرتکب پایا ہے۔ ہم متفقہ طور پر اس فاحشہ کو غزنی کے لوگوں کے حوالے کرتے ہیں۔ وہی اس کے جرم کی سزا کا تعین کریں' اس صلاح پر باقی تین ملا بھی رضامند نظر آئے۔ اس کے بعد وہ چاروں چبوترے سے اتر آئے اور فیصلہ سنانے والے ملا کے پیچھے پیچھے ہجوم کو چیر کر شہر کے دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ وہ موقع سے چلے گئے۔
چونکہ میں پیچھے مڑ کر ملاؤں کو جاتا ہوا دیکھ رہا تھا اس لیے مجھے پتہ نہیں چلا کہ دوسری جانب کیا ہوا لیکن میں نے دھب سے کسی چیز کے گرنے کی آواز ضرور سنی اور اس کے ساتھ ہی فضا میں ایک دبی ہوئی کراہ ابھری۔ میں نے تیزی سے سامنے مڑ کر دیکھا تو پتہ چلا ہجوم میں کسی نے پتھر قیدی عورت کو دے مارا تھا، وہ درد سے کراہ رہی تھی اور ایک نوکیلا لیکن قدرے برابر سا پتھر اس کے پاؤں میں پڑا ہوا تھا۔
میرے دائیں جانب، وہ اشخاص جو کچھ دیر قبل تک میرے ساتھ ریستوان میں بیٹھے خوش گپیاں لڑا رہے تھے اور ہم مل کر نان اور پلاؤ اڑا رہے تھے، وہی مجھے کھینچ کر یہاں لے آئے تھے، انہیں دیکھا تو وہ میدان میں پیروں کے پل بیٹھے پتھر جمع کر رہے ہیں۔ وہ چن چن کر مناسب وزن اور مقدار میں پتھر اٹھا رہے تھے، چھوٹی کنکریاں ان کے کسی کام کی نہ تھیں جنہیں وہ اٹھا کر اچھال دیتے۔ ہجوم میں ہر شخص کا یہی حال تھا۔ چند منٹوں کے اندر ہی ہر ایک کے ہاتھ اور جھولی میں کئی پتھر جمع ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے قیدی عورت پر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہو گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ ان میں سے ہر شخص پتھر کا نشانہ لگانے میں تاک تھا۔ آج صبح کابل سے نکلتے ہی راستے میں کتوں کو پیچھے ہٹانے کی غرض سے جس طرح ایک شخص نے نشانہ باندھ کر پوری مہارت سے پتھر پھینکا تھا، میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا تھا۔ کہو، اس ہجوم میں اس جیسا ہر شخص اسی آدمی جیسا تاک تھا۔ مجھے تو اس شخص اور اس ہجوم کی مہارت میں کچھ فرق نظر نہ آیا۔ ہاں یہ ضرورت تھا کہ کتے کو پتھر مارنے والے شخص نے زور نہیں لگایا تھا، یوں کہا جا سکتا تھا کہ کتوں کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔ جبکہ یہاں کھونٹی پر بندھی عورت پر پتھروں کی بوچھاڑ تھی اور ہجوم میں کسی شخص کو اس سانس لیتے بت کا کوئی لحاظ اور نہ ہی خیال تھا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے جھرجھری آ گئی اور رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے اس سے پہلے اس بارے سن رکھا تھا مگر اب اچھی طرح سمجھ گیا کہ افغانستان میں بدکاری کی سزا بہت سخت ہے۔
میں نے غور کیا تو دیکھا کہ قیدی عورت چیخ چلا کر، خود کو رونے سے روکے ہوئے تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس نے نقاب کے پیچھے اپنے ہونٹ سختی سے دانتوں تلے دبا کر سیل رکھے تھے۔ پھر ایک انتہائی اونچے قد کے طاقتور شخص نے دوڑ کر ایک بھاری پتھر اٹھا لیا اور پوری قوت سے نشانہ باندھ کر قیدی کی پنڈلیوں میں دے مارا۔ یہ پتھر اتنی زور سے لگا کہ عورت سے رہا نہ گیا اور بے ساختہ منہ سے دلخراش چیخ نکل گئی۔ اس کے کپڑوں پر پہلی بار خون کے تیزی سے پھیلتے ہوئے دھبے نظر آئے۔ مجمع یہ دیکھ کر جنون سے پاگل ہو گیا۔ چاروں طرف سیٹیاں بجنے لگیں اور نعرے لگائے گئے، صحیح معنوں میں ہلڑ بازی شروع ہو گئی۔ اس کے بعد کیا تھا، لوگ خون دیکھ کر ہتھے سے اکھڑ گئے۔ اب پھینکے جانے والے پتھروں کا وزن اور رفتار پہلے سے تیز ہو گئی جیسے کوئی بند ٹوٹ گیا ہو۔ ایک پتھر عورت کے کندھے پر لگا، ایسی آواز آئی جیسے کوئی ہڈی چٹخی ہو۔ جہاں پتھر لگا تھا وہاں سے خون بہنے لگا اور ہجوم ایک دفعہ پھر بے قابو ہونے لگا۔ یہ سب دیکھ کر میرا دل خراب ہو رہا، حلق میں گھگھی بندھ گئی اور میں سوچ رہا تھا کہ اے کاش، کوئی تو آگے بڑھ کر اس وحشت کو روکے!
کچھ دیر بعد مجھے اپنا اردگرد گھومتا ہوا محسوس ہوا، میں چکر کھا کر گرنے ہی والا تھا کہ قریب کھڑے ایک شخص نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا۔ چکراتے ہوئے سر کو آرام آیا تو دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے ہی ایک بھاری بھرکم آدمی نے، کہیں سے دوسروں سے کافی بڑا اور نوکدار پتھر اٹھا لایا۔ اس نے چلا کر اردگرد لوگوں کو پیچھے ہٹایا، دوڑ لگائی اور چند گز کے فاصلے پر پہنچ، اچھی طرح نشانہ باندھ کر پتھر سیدھا عورت کے پستانوں پر مارا، سینے سے خون کا فوارہ ابل پڑا۔ قیدی کے منہ سے دل چیرنے والی چیخ بلند ہوئی، وہ اب کسی بھی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پورے زور سے چلا رہی تھی۔ میرے کانوں میں اس کی تیز کراہتی ہوئی آواز پردے چیر کر اندر دماغ تک گھس کر ٹکرانے لگی۔ میں اس جگہ سے نکل کر بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ میں جنونیوں کے بیچ دب کر پھنسا ہوا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے خود کو بھاگ نکلنے سے روکا کیونکہ رہ رہ کر مجھے ان ہدایات کا خیال آ رہا تھا جو سفارتخانے کے ہر اہلکار کو ازبر تھیں۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی غیر ملکی شخص کی ذرہ برابر حماقت جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ میں دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہا تھا کہ یہ لوگ بس کر دیں، کسی طرح رک جائیں لیکن سب بے سود تھا۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اے کاش یہ سپاہی ہی آگے بڑھ کر اس جنونیت کو روک دیں مگر وہ تو ایک طرف اطمینان سے کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجھے اب سمجھ آئی کہ انہوں نے عورت کو کھونٹی کی کیلوں سے کیوں باندھ دیا تھا، اس کے بھاگ نکلنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ سنگساری سے جب وہ بے حال ہو جائے تو زمین پر گرنے کی بجائے اسی کھونٹی سے ٹکی رہے۔
کچھ دیر کے بعد میرا خیال تھا کہ شاید اب قیدی عورت کی جان خلاصی ہو جائے گی لیکن میرا اندازہ غلط نکلا۔ ہجوم ٹھہر کر پتھر اکٹھے کرتے، پھر پورا زور لگا کر جسم کے اس حصے کو نشانہ بناتے جہاں سے خون کی سرخی دکھائی نہ دیتی تھی۔
اب تک قیدی کی کمر ناتوانی سے خم ہو چکی تھی اور ہلڑ بازی کے اگلے ریلے میں اسے آٹھ سے دس کاری ضربیں لگیں۔ لیکن اب اس کو درد محسوس نہیں ہو رہا تھا کیونکہ وہ جان ہار چکی تھی۔ پھر ایک شخص اٹھا، اس کے ہاتھ میں کافی بڑا پتھر تھا۔ اس نے پوری طرح تیار ہو کر ہجوم کو راستہ خالی کرنے کا حکم دیا۔ سبھی لوگ اس کی اطاعت میں پیچھے ہٹ گئے۔ وہ دور سے دوڑتا ہوا آیا اور کھونٹی سے ٹنگی لاش سے دس فٹ کے فاصلے سے گھما کر، پوری قوت سے پتھر دے مارا۔ پتھر سیدھا نشانے پر لگا اور عورت کے ادھ کھلے نقاب میں چہرے کو چیرتا ہوا دوسری طرف نکل گیا۔ سر سے مغز اور خون ہی خون نکل آیا اور مجمع ہیجان میں چیخنے لگا۔
یہ ضرب اتنی زور دار تھی کہ کیلیں بھی اکھڑ گئیں اور عورت کا جسم دھڑام سے زمین پر آن گرا۔ یہ دیکھتے ہی ہجوم واقعی ہتھے سے اکھڑ گیا اور ہاتھ میں پتھر اٹھائے بیسیوں لوگ دوڑے لاش کے سر پر پہنچ گئے۔ جس کا جتنا بس چلتا تھا، اتنی ہی زور سے پتھر مارتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے لاش کو کچل کر رکھ دیا۔ عورت کی لاش پتھروں میں دب گئی۔ پتھروں کا ڈھیر ایک قبر کا منظر پیش کرنے لگا، دھول اڑ رہی تھی اور میں نے دیکھا کہ مٹی کے میدان میں ایک پتھریلے ٹیلے کا نشان ابھر آیا تھا۔
تماشا ختم ہو گیا۔ میری حالت سخت خراب تھی۔ میں کسی کو پکڑتا، دوسرے کا سہارا لیتا، دیواروں سے ٹیک لگاتا ہکا بکا شہر کا دروازہ پار کر کے لوٹ آیا۔ راستے میں لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے، ریستوان کے پاس پہنچا تو وہی رونق اور خوش گپیاں دیکھیں۔ باقی لوگ بھی لوٹ آئے تھے اور کاروبار زندگی معمول کے ساتھ جاری تھا۔ جگہ جگہ پر کئی لوگ ٹولیاں بنائے سنگساری کے اس واقعے پر بات چیت کر رہے تھے، شہر سے برائی کے خاتمے پر نازاں نظر آتے تھے۔ میں ہوٹل پہنچا تو نور محمد قالین پر بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ اس نے ہوٹل کے لڑکے کے ہاتھ نان اور پلاؤ منگوا کر کمرے میں ہی کھا پی لیا تھا۔ جب میں کمرے میں داخل ہوا تو وہ سخت پریشانی کے عالم میں یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا،
'ملر صاحب! کیا ہوا؟ آپ کا رنگ تو خشک ہو کر سفید ہو رہا ہے'
'ادھر ایک عورت کو لوگوں نے پتھر مار کر جان سے مار دیا' میں نے خوفزدہ لہجے میں کہا،
'پتھروں سے؟ حرام کاری کے جرم میں؟' نور محمد کے انداز میں بے پروائی تھی،
'ہاں!' میں نے زور دے کر کہا،
نور محمد قالین کو پیٹنے لگا اور پھر دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر بولا، 'ہائے، میرا ملک اور میرے دیس کے لوگ!'
'بہت خوفناک منظر تھا' میں نے کمزوری سے کہا، 'انہیں اس کی اجازت کس نے دی؟'
وہ قالین پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ دیوار سے ٹیک لگا کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور بولا، 'آپ کا کیا خیال ہے، ہمیں اس چیز کا ادراک نہیں ہے؟' وہ سنجیدہ تھا، 'محب خان، شاہ خان اور باقی سب۔۔۔ اگر انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے یہ سب۔۔۔'
'اگر وہ سب جانتے ہیں تو پھر اس کو روکتے کیوں نہیں ہیں؟' میری آواز لرز رہی تھی،
'اگر انہوں نے اسے روکنے کی کوشش کی تو وہ لوگ جو آج آپ نے دیکھے، وہ اور ان کے کوہستانی بھائی بند مل کر کابل پر دھاوا بول دیں گے۔ وہ آپ، مجھے، محب خان، شاہ خان اور ہم جیسے ہر آدمی کو بھون کر رکھ دیں گے'
'یہ ناممکن ہے'، میں تقریباً رونے لگا،
'یہ عین ممکن ہے۔ وہ پہلے بھی ایسا کئی بار کر چکے ہیں' نور محمد نے اصرار کیا، 'کابل میں زیادہ سے زیادہ دو ہزار افغان ایسے ہوں گے جو پڑھے لکھے ہیں اور مانتے ہیں کہ اب اس طرح کی چیزیں ختم ہو جانی چاہیے۔ قندھار میں ایسا سوچنے والے، شاید پانچ سو کے لگ بھگ لوگ ہوں گے؟ لیکن غزنی میں ایسا کوئی بھی نہیں ہے۔ ہم ایک کروڑ بیس لاکھ کے مقابلے میں دو ڈھائی ہزار لوگ ہیں یا زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ہوں گے؟ ملر صاحب، مجھے کوئی افسوس نہیں کہ آپ نے وہ منظر دیکھا بلکہ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے وہ سب دیکھ لیا۔ اب آپ کے لیے میرے ملک کو سمجھنا آسان ہو گا'۔
'تو کیا؟ کیا یہ ہمیشہ یوں ہی چلتا رہے گا؟' میں نے پوچھا،
'نہیں!' نور نے پختگی سے کہا، 'آمو دریا کے اس پار بھی کچھ عرصہ قبل تک ایسے ہی حالات رہا کرتے تھے، بلکہ وہ تو ہم سے بھی پرے تھے۔ ادھر لوگوں کو کھلے عام سزائیں دینے کا رواج عام تھا۔ ہجوم ملزم کو گھیر کر اپنے ہاتھوں سے مار دیا کرتے تھے، آئے دن ویسا ہی بلوہ ہوتا تھا جیسا آپ نے آج دیکھ بھی لیا۔ یہ ملاؤں کی سرپرستی میں ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ سمرقند جیسی مہذب جگہ میں بھی یہی طور عام تھا۔ ہاں بہت پہلے، کسی زمانے میں خیال یہ تھا کہ شاید اس طرح عام لوگوں کے دل میں سزا کا خوف بیٹھ جائے گا تو وہ جرم سے باز رہیں گے، لیکن ہوا کیا؟ یہ ترکیب جنون میں ڈھل گئی۔ زمانے کے ساتھ انسانوں میں ہیجان اتنا بڑھ گیا کہ یہ مواقع لوگوں کے اندر چھپے وحشی جانور کی تسکین کا سامان بن گئے۔ یہی وجہ تھی کہ ماسکو اور کیف کے کمیونسٹوں نے جب کچھ نہ بن پڑا تو مکمل پابندی لگا دی۔ اس طرح کے کاموں کو زبردستی بند کرا دیا۔ انہوں نے پردے پر بھی پابندی لگا دی اور برقعہ ممنوع کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ عورتوں کو مکمل آزادی دے دی گئی۔ ملر صاحب، ہم افغانوں کے پاس ان چیزوں پر روک لگانے کے لیے، بس کچھ ہی برس مزید باقی ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ اطوار ہمیں سالم نگل لیں، یہ سب جنون بن جائے۔۔۔ اگلے دس سال میں اس کو کسی نہ کسی طرح روکنا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو لکھ رکھیں، روسی خود آ کر یہی کام کریں گے جو انہوں نے آمو دریا کے پار کیا تھا'
'کیا افغان حکومت کو اس بات کا ادراک ہے؟' میں نے پوچھا،
'کیوں نہیں ہے، بالکل ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ شاہ خان جیسے لوگ بیوقوف ہیں؟ شاہ خان جیسے لوگ اور حکومت کے باقی لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کے دماغ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں' نور اٹھ کھڑا ہوا اور بے چینی سے زمین پر پاؤں پٹخنے لگا، جیسے اس کی ٹانگ کی نسیں جام ہو گئی ہوں۔ وہ کمرے میں چکر لگاتے ہوئے بولا، 'کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مجھ جیسے لوگوں کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے؟ مجھے بتائیے، آپ نے آج اس شہر غزنی میں جو کچھ بھی دیکھا، کیا آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین آیا؟ غزنی، کابل سے کچھ گھنٹوں کی دوری پر واقع ہے اور آج رات اس عورت پر پتھر برسانے والا ہر شخص پرسکون سوئے گا، انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہو گی۔ ان کے لیے تو یہ معمول کی بات ہے اور ملاؤں کی بھی غلطی نہیں، کتابوں میں یہی احکامات درج ہیں۔ اگر آج رات ہم یہ اعلان کر دیں کہ ان چیزوں پر فی الفور پابندی لگا دی گئی ہے تو آپ کے خیال میں ان لوگوں کا ردعمل کیا ہو گا؟ کیا وہ ہمیں زندہ چھوڑیں گے؟ وہ کابل کو بخش دیں گے؟'
یہ سنتے ہی میرے ذہن میں ایک خیال کوندا، جس سے میں دہل کر رہ گیا۔ میں گاڑی کے اضافی ٹائروں پر بیٹھا ہوا تھا لیکن اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ نور محمد کو بازو سے پکڑ لیا اور ہکلاتے ہوئے پوچھا، 'کہیں۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایلن جاسپر کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ واقعہ پیش آ چکا ہے؟'
نور ایک لمحے کو میری حالت کو دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا لیکن سوال سنتے ہی زور سے ہنس پڑا، 'نہیں ملر صاحب! اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہمیں کابل میں اطلاع پہنچ جاتی'۔
'میرے دل پر سخت بوجھ ہے، چلو باہر چلتے ہیں۔ کھلی ہوا میں۔۔۔'
'میں سامان چھوڑ کر نہیں جا سکتا' اس نے احتجاجاً کہا،
'ان دو چوکیداروں میں سے ایک کو بلا لاؤ' میں نے اصرار کیا، 'میں اس جگہ سے جلد از جلد نکلنا چاہتا ہوں'
'ملر صاحب، آپ باہر سے ہو آئیں۔ میں یہیں، سامان کی حفاظت کرتا ہوں'
'لیکن، اب مجھے اکیلے باہر نکلنے سے خوف آ رہا ہے' میں نے پوری دیانت سے کہا،
'آپ عقلمند آدمی ہیں' نور نے میری حقیقت پسندی کو سراہا۔ پھر اس نے اپنی ہی بات پر اڑے رہنے کی بجائے آواز دے کر چوکیدار کو بلانے سے پہلے مجھ سے پوچھا، 'آپ اس اقدام کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟' میں نے حامی بھر لی تو تبھی اس نے آواز لگائی۔
چوکیدار کمرے میں آ گیا تو نور نے اس کو انتباہی انداز میں درشتی سے کہا، 'اگر اس سامان میں سے کوئی ایک شے بھی کم ہوئی تو میں تمھیں گولی مار دوں گا۔ سمجھ گئے؟' چوکیدار نے تند خوئی سے سر ہلا دیا۔ ہم باہر نکلے تو وہ سامان اٹھا کر یوں ایک طرف جمع کرنے لگا، گویا لڑائی کے لیے مورچہ باندھ رہا ہو۔
ہم ہوٹل سے نکل کر چوک میں نکل آئے۔ سہ پہر کو میرے ساتھ کھانا کھا کر بعد میں سنگساری کرنے والے کئی لوگ ابھی تک یہیں بیٹھے تھے، مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ دور سے ہی ہاتھ ہلا کر پرجوش انداز میں چلانے لگے۔ میں نے بھی مسکرا کر جواباً ہاتھ ہلا دیا۔ ہم پیدل چلتے ہوئے شہر کے جنوبی دروازے سے باہر نکل گئے، دور میدان میں پتھروں کی وہی ڈھیری نظر آ رہی تھی، جس میں سے بدشگونی کی باس اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ اس ڈھیرے کے گرد کئی کتے جمع ہو کر پتھروں میں خون کی بو سونگھ رہے ہیں۔
'اس کی لاش کب تک یہاں پڑی رہے گی؟' میں نے دلبرداشتہ آواز میں پوچھا،
'وہ آج رات اس کو اٹھا لیں گے' نور نے مجھے تسلی دلائی اور پھر پرجوش انداز میں بولا، 'ملر صاحب، ایک انتہائی اہم بات سن لیں اور اچھی طرح سمجھ لیں۔ میں مانتا ہوں کہ اس طرح کسی جرم کی سزا پر عمل درآمد پر بلوے اور دنگے کا گمان ہوتا ہے لیکن یہ فتنہ یا فساد نہیں تھا۔ یہ جو ملا ہیں، عام طور پر یوں ہی فیصلہ نہیں کرتے۔ اچھی طرح سوچ سمجھ کر، پوری تفتیش کرتے ہیں۔ فقہ کی کتابوں سے رجوع کرتے ہیں اور پورا دھیان رکھتے ہیں۔ اس عورت کو دی جانے والی سزا سوجھ بوجھ کے ساتھ، سارے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی دی گئی ہے۔ اس علاقے کے قانون کے مطابق یہ انصاف کی بہترین مثال قرار دی جا سکتی ہے لیکن ظاہر ہے۔۔۔ دہشت ناک معلوم ہوتی ہے'۔
ہم پتھروں کی اس ڈھیری سے کنی کترا کے الٹی سمت میں چل نکلے۔ جنوب میں قدیم شاہراہ پر پیدل چلتے گئے، یہاں تک کہ غزنی بہت پیچھے رہ گیا۔ شہر سے چار میل دور مشرق کی جانب دور ایک بہت ہی عجیب و غریب نظارہ دیکھا۔ شام کے دھندلکے میں دور، ایسا لگا جیسے میدان میں چند کالے سیاہ اور بہت ہی بڑے پرندے دم سادھے بیٹھے ہیں۔ گماں ہوا کہ اگر مزید نزدیک گئے تو یہ پرندے پر پھڑپھڑا کر اڑنے لگیں گے۔ لیکن جوں جوں قریب آئے تو دیکھا کہ یہ اصل میں خانہ بدوشوں کی ایک بستی تھی جو افغانستان کے طول و عرض میں موسم کے ساتھ سفر کرتے رہتے تھے۔
'پاوندے!' نور ان خیموں کو دیکھ کر جوش سے چلایا اور آگے دوڑنے لگا۔ دوڑتے ہوئے میری طرف پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر چلایا، 'ارے ان عورتوں کو تو دیکھو!'
میں نے فاصلے سے چند عورتوں کو دیکھا جو سیاہ لباس میں ملبوس، چمچماتی چاندی کے زیور پہنے ہوئے تھیں۔ ان کی چال میں عجب غرور تھا، وہ غضب ڈھا رہی تھیں۔ میں ان عورتوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ انہوں نے کسی قسم کا کوئی برقعہ نہیں اوڑھ رکھا تھا۔ وہ خانہ بدوشوں کی آزاد عورتیں تھیں۔ یہ خانہ بدوش ایشیاء کے مرتفع میدانوں میں سفر کیا کرتے تھے، ان کے کاروان قدیم شاہراؤں پر ہی بسر رکھتے تھے۔ سورج غروب ہو رہا تھا، اس کی سرخی مائل روشنی میں ان کی جلد کی گہری رنگت تمتما رہی تھی۔ اس دھندلکے میں ان عورتوں کے چہروں اور مزاج میں ایسی شان تھی کہ بیان مشکل ہے۔ وہ اپنی ہی دھن میں مگن، گویا اپنی ہی دنیا میں مشغول تھیں۔ انہیں اردگرد جہان کی چنداں پرواہ نہیں تھی۔ قریباً تین ہزار برس تک، ان خانہ بدوش عورتوں کے آباؤ اجداد ایشیاء کے طول و عرض میں دھول سے اٹی انہی شاہراؤں پر کارواں کی شکل میں سال کے بارہ مہینے یوں ہی گامزن رہے اور کوئی شاہ، شہنشاہ یا ملا آج تک انہیں روک لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
وہ صدی در صدی، سالہا سال سے یہی کرتے آئے تھے۔ وہ افغانستان کے طول و عرض میں ہر وقت حالت سفر میں رہتے اور موسموں کے ساتھ اپنا پڑاؤ بدلتے رہتے۔ میں نے سوچا کہ دیکھو یہ گنوار اور جاہل پاوندے جو مہذب دنیا سے کٹ کر بسر کرتے ہیں۔ یہ پاوندے جب افغانستان میں اپنے علاوہ سبھوں کو شہروں اور قصبوں، گاؤں اور بستیوں میں ٹک کر بسر کرتے اور اپنی عورتوں کو پابند کر کے رکھتے، ان کے ساتھ ڈھور اور ڈنگر جیسا سلوک دیکھتے ہوں گے تو یقیناً انہیں مہذب دنیا سے نفرت ہو جاتی ہو گی۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ان کی عورتیں تو آزاد تھیں مگر شہروں میں بسر رکھنے والے تہذیب یافتہ انسان اپنی انا کے قیدی تھے اور عورتیں ان کی اسی انا کی بھینٹ چڑھ رہی تھیں۔
'یہ پاوندے تمھارے نظام کے منہ پر طمانچہ ہیں' میں نے نور سے کہا،
'آپ درست کہہ رہے ہیں' اس نے اتفاق کیا، 'لیکن وہ اس آزادی کی جو قیمت ادا کرتے ہیں، بہت بھیانک ہے'،
'کونسی قیمت؟ مجھے تو یہ پاوندے اچھے خاصے، خوش باش نظر آ رہے ہیں'
'یہ باقی پوری دنیا سے، انسانوں سے کٹے ہوئے ہیں، جیسے انہیں دیس نکالا دے دیا گیا ہے۔ یہ ہمارے ملک میں بسر رکھتے ہیں، راہوں میں کارواں چلاتے ہیں لیکن مکمل طور پر الگ رہتے ہیں'
'اگر وہ الگ تھلگ ہیں تو پھر تم انہیں دیکھ کر اتنے پرجوش کیوں ہو گئے؟'
نور ہنسنے لگا، 'افغان مرد ان سیاہ خیموں کو دیکھ کر ایسے جھپٹتے ہیں جیسے مکھیاں شہد پر بل پڑتی ہیں۔ میرے کئی دوستوں نے وہاں، ان کے ساتھ رات بسر کرنے کی کوشش بھی کر رکھی ہے' اس نے ان خیموں کی طرف اشارہ کیا جہاں عورتیں جمع تھیں، 'لیکن پاوندے بہت چالاک ہیں۔ وہ ہم پر نظر رکھتے ہیں۔۔۔وہ ہمیں ان کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے'
ہم وہیں بیٹھ کر نظارہ کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد ایک خانہ بدوش گھوڑے پر سوار ہماری جانب آیا۔ اس کا اونچا قد اور رنگ گہرا تھا۔ اس کی گھنی مونچھیں تھیں اور سر پر کلغے جیسی اونچی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ پگڑی کا سرا ہوا میں لہراتا تھا۔ اس کے سینے پر دو بندوقیں سجی تھیں اور کمر کے ساتھ کارتوسوں کی پیٹیاں لٹک رہی تھیں۔ اس نے گھوڑے پر سوار، ایک بندوق نکالی اور ہماری جانب سیدھی موڑ کر پشتو میں متنبہ کیا، 'ہمارے خیموں سے دور رہو!'۔ نور محمد نے اس کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کی، جس پر اس کا لہجہ بدل گیا۔ وہ اب انتہائی تواضع سے جواب دینے لگا لیکن واپس جاتے ہوئے پھر کیا، 'ہم سے دور رہنا!' یہ کہہ کر وہ گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا جہاں سے آیا تھا، واپس خیموں کی طرف لوٹ گیا۔
'وہ ہمیں سرکاری اہلکار سمجھ کر شک کر رہا تھا' نور محمد نے سمجھانے کے انداز میں بتایا،
'یہ پاوندے اب یہاں سے کہاں جائیں گے؟' میں نے پوچھا،
'پاوندے پگھلتی ہوئی برف کا پیچھا کرتے ہیں'، نور محمد نے کہا اور بات ختم کر دی۔
ہم واپس لوٹ کر جانے ہی والے تھے کہ میری نظر دور ایک سرخ رنگ کی کسی شے پر پڑی جو تیزی سے ایک خیمے سے نکلی اور دوسرے میں گھس کر غائب ہو گئی۔ جیسے کوئی چہکارتا ہوا کوئی چھوٹا سا پرندہ ہو، جو بہار میں درختوں کی ڈالیوں پر یہاں اور کبھی وہاں پھدک رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہ ایک لڑکی تھی جو سرخ رنگ کا جوڑا پہنے اور بانہوں میں بہت سی چوڑیاں کھنکھاتی ایک بکری کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں اسے نظر بھر کر دیکھتا، وہ پھر غائب ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ یہ لڑکی تو بالکل صدیقہ جیسی ہے۔ شاہ خان کی نواسی صدیقہ کی طرح اس لڑکی کی چال میں غرور اور آن بان، یہ بھی اسی کی طرح دلکش تھی۔ مجھے اپنا آپ اس کی طرف کھنچتا ہوا محسوس ہوا۔
میری کیفیات نور محمد کی نظروں سے بچ نہ سکیں۔ اس کا مشاہدہ بہت تیز تھا، اسی لیے تو افغان حکومت نے اسے امریکی حکومت کے یہاں نوکری پر چھوڑ رکھا تھا۔ میری جانب دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑا اور پوچھنے لگا، 'وہ دلکش ہے، نہیں؟'
'اس نے سرخ رنگ کیوں پہن رکھا ہے؟'
'کیونکہ وہ کنواری ہے۔۔۔'
'وہ دیکھو!' میں چلایا۔ اصل میں ہم سے نزدیک ترین خیمے کے پیچھے سے اچانک ایک بکری کا بچہ نکل کر بھاگا اور سیدھا ہماری جانب چلا آیا۔ اس کے پیچھے وہی لڑکی بھی نکل آئی اور ہرنی کی طرح اچھلتی کودتی، لپک کر بکری کے بچے کا پیچھا کرنے لگی۔ جہاں ہم کھڑے تھے، اس سے قریباً چالیس گز کے فاصلے پر پہنچ کر اس نے میمنے کو آن لیا اور مٹی میں رول کر دبوچ لیا۔میری نظریں اس کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ گہری سانولی رنگت، چمکتی ہوئی آنکھیں اور سر پر بالوں کی چوٹی تھی جس کا گُت سورج کی انتہائی مدھم روشنی میں جھولتا ہوا محسوس ہوا۔ میں اس کے بدن کی لچک دیکھ کر سمجھ گیا کہ آخر افغان مرد ان پاوندہ عورتوں کے کیوں گرویدہ ہیں۔ اس کی چال ڈھال میں غضب کی بے نیازی تھی۔ میمنے کو قابو کیا اور اسے اٹھائے نہایت اطمینان سے جہاں سے آئی تھی، واپس اسی خیمے میں جا کر غائب ہو گئی۔
'مجھے ان پاوندوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے، یہ نہایت اطمینان بخش بات ہے کہ اس طرح کے لوگ بھی افغانستان کا حصہ ہیں' میں نے مشاہدہ پیش کیا اور ہم واپس مڑ گئے۔
'پاوندے ہم میں سے نہیں ہیں' نور نے تصیح کی، 'سردیوں کے موسم میں یہ ہندوستان چلے جاتے ہیں اور گرما میں شمال کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کو صرف ایک راہداری کے طور پر استعمال کرتے ہیں'
'تو پھر ان کا اپنا ملک کونسا ہے؟' میں نے پوچھا،
'میں نے اس بات پر کبھی غور نہیں کیا' نور نے جواب دیا، 'قانونی طور پر، میرے خیال میں یہ ہندوستانی ہیں'۔
جب ہم واپس غزنی کے داخلی دروازے پر پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی اور رات کی سیاہی پھیل رہی تھی۔ داخلی راستے کے دفاعی مورچوں میں لالٹین کی روشنیاں ٹمٹما رہی تھیں۔ یہ انتہائی شانت گھڑی تھی۔ شہر کی اونچی دیواریں، غزنی کا پرہیبت گیٹ، ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں، رات کی سیاہی اور اردگرد پھیلی ہوئی خاموشی بہت دلفریب تھی۔ ہم خود بخود، مبہوت ہو کر اس نظارے میں کھو گئے۔ میں نے دیکھا کہ دروازے کی نکڑ میں ایک طرف چند مسافر بیٹھے ہیں، انہوں نے آگ جلا رکھی ہے اور سالم دنبہ بھونا جا رہا ہے۔ کئی برس بعد جب بھی کبھی مجھے افغانستان کا خیال آیا تو اس کے شہر غزنی اور اس شام کے منظر نے ہمیشہ ہی میرے خیال کو جکڑ لیا۔ اس لمحے کی یاد، جب غزنی شہر تاریکی میں ڈوب رہا تھا۔۔۔ میں آج تک بھلا نہیں پایا۔
جب ہم سنگساری کی جگہ کے قریب سے گزرے تو نور محمد نے میری منت کی، 'خدارا، اس جانب مت دیکھیں' ہم ٹہلتے ہوئے چوک میں آن پہنچے جہاں مدھم روشنی میں ابھی تک زندگی کی رمق دوڑ رہی تھی۔ ہم نے اسی ریستوان میں کرسیاں سنبھال لیں اور وہاں موجود کئی لوگ ہمارے گرد جمع ہو گئے۔ وہ دن بھر کے واقعات پر سیر حاصل تبصرے کرنے لگے۔ مجھے نہ جانے کیا ہوا، میں ایک دفعہ پھر ان ششدر کر دینے والے، وحشی صفت مردوں کے ساتھ گھل مل گیا۔ یہ عجیب الجھن کا شکار مرد تھے جو ایک طرف تو جدید دنیا سے نبردآزما تھے، یعنی اپنے ہم عصر زمانے کو دھول چٹا کر ہمیشہ ماضی میں بسر رکھنا چاہتے تھے لیکن اس کے باوجود دوسری جانب امریکہ اور جدید مغربی معاشروں کے بارے میں بہت کچھ جاننے کو بے تاب تھے۔ وہ بھوکوں کی طرح مجھ سے معلومات حاصل کر رہے تھے۔ اسی دوران ہم نے نان اور پلاؤ بھی منگوا لیا، جو انہوں نے ہمارے ساتھ مل کر کھایا۔ انہوں نے ہمیں غزنی کی مشکلات سے آگاہ کیا۔ یہاں خوراک کی کمی تھی، فصلوں اور تجارت پر لگان بہت زیادہ تھی اور گھوڑوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ جب ہم سیر ہو کر کھا پی چکے تو یہ لوگ ہمارے ساتھ ہی ہوٹل چلے آئے۔ وہ ہمارے کمرے میں گھنٹوں ایرانی قالینوں پر آلتی پالتی مار، بعض ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھے، لیٹے اور پڑے رہے۔ تاریک رات آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی، یہ مزید گہری ہوتی رہی۔ محفل میں بات سے بات نکلتی رہی، قہوے کے کئی دور چلے اور آخرکار جب انہوں نے ہم سے رخصت لی تو وہ سب ایک دفعہ پھر ہمارے بہت اچھے دوست بن چکے تھے۔

۔کارواں (افغانستان کا ناول) - چھٹی قسط (لنک) یہاں ملاحظہ کریں -
-سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے سائیڈ بار میں رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر