کارواں - پیش لفظ

جیمز میچنر نے پچاس سالہ کیرئیر میں پچاس سے زائد کتب لکھیں۔ اسی ادبی ورثے کی بناء پر وہ امریکہ کے نامی گرامی ناول اور مضمون نگار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ میچنر کی تخلیقات، چاہے فکشن یا نان فکشن ہر دو صورت شاندار گردانی جاتی ہیں اور غیر معمولی تحقیق سے مزین ہونے کی وجہ سے خاصی شہرت کی حامل ہیں۔ ان کے لکھے ناول آج بھی مغرب میں جامعات کے ادبی محققین اور طالب علموں کے لیے حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلا ناول ہی براڈ وے پر ڈرامے کی صورت پیش کیا گیا اور بعد ازاں اس کو فلم میں بھی ڈھالا گیا۔اپنے زمانے میں وہ نہایت تیزی سے امریکہ کے ادبی منظر نامے پر چھا گئے۔
یہ ناول، 'کارواں' جنگ عظیم دوم کے فوراً بعد درپیش حالات کا احاطہ کرتا ہے۔ ایک جواں سال امریکی لڑکی جس نے والدین کی مرضی کے خلاف شادی رچائی اور افغانستان میں آن بسی۔ پھر وہ اچانک، پراسرار طریقے سے غائب ہو جاتی ہے۔ میچنر اس ناول میں تاریخی حقائق کو انتہائی جذباتی اور دلچسپ انداز میں رومان، خطرات اور ساز باز میں لپیٹ کر امریکی نیوی کے ایک فوجی جوان کے گرد بھی مجتمع کر دیتے ہیں ۔ فوجی جوان جو جنگ کے بعد اب امریکی سفارت خانے کا اہلکار ہے، اس کے ذمے اس امریکی لڑکی کو ڈھونڈ کر واپس اپنے گھر، والدین کے پاس بخیر و عافیت پہچانے کا مشن سونپا گیا ہے۔
اردو ادب کے قارئین کے لیے دلچسپی کا سامان یہ ہے کہ یہ ناول 1963ء میں تحریر کیا گیا تھا اور اس کا پلاٹ جنگ عظیم دوم کے فوراً بعد حالات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ناول خوب ہے کہ یہ افغانستان کی سوویت جنگ سے بھی پہلے لکھی گئی داستان ہے، جس سے اس زمانے کے احوال کا پتہ چلتا ہے ۔ پھر یہ ناول 'سرد جنگ' کے دور میں لکھا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ پلاٹ امریکہ اور روس کے جنگ عظیم کے بعد کے زمانے کی تیاری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جہاں یہ، وہیں 'کارواں' جدید دور میں دنیا کے نقشے پر اکیسویں صدی کے افغانستان کا نوحہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص، گیارہ ستمبر کو نیویارک میں پیش آنے والے واقعات کے بعد افغان جنگ کے تناظر میں یہ ناول اس ملک کے رجھا دینے والے ماضی اور ناقابل مفر مستقبل کی منہ زور روداد بھی ہے۔ یہ زمانے کے 'کارواں' کی داستان ہے جو آج بھی ویسا ہی رواں دواں ہے۔ صلہ عمر پر اس ناول کو قسط وار 'ماخوذ داستان' کی صورت پیش کیا جا رہا ہے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر