کارواں - آٹھویں قسط


افغانستان میں جہاں اس وقت ہم سفر کر رہے تھے، دو بڑے دریا گزرتے ہیں۔ ایک تو دریائے ہلمند ہے جو کابل کے مغرب میں کوہ بابا سے نکلتا ہے اور دوسرا ارغنداب ہے جو قندھار کی بغل سے گزرتا ہے۔ قلعہ بست کے مقام پر یہ دونوں دریا مل جاتے ہیں اور اسی جگہ سے آگے لق دق صحرا میں اکٹھے نکل رہتے ہیں۔ دو دریاؤں کے سنگم پر قدیم زمانے میں ایک عظیم الشان تہذیب پنپتی رہی تھی اور اسی جگہ کو قلعہ بست کہتے ہیں۔ شاہ خان نے جس فرط کے ساتھ قلعہ بست کا ذکر چھیڑا تھا، میں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ اگر نظراللہ قندھار ہی میں مل گیا اور ایلن جاسپر کے سراغ کا کھرا وہاں بے شک نہ بھی پہنچا، پھر بھی قلعہ بست ضرور جاؤں گا۔
قلعہ بست کے آثار قندھار سے ستر میل مغرب میں واقع تھے۔ چونکہ یہ راستہ صحرائی تھا، اسی لیے نور نے مناسب سمجھا کہ ہم سویر تڑکے، سورج کے نکلنے سے پہلے ہی نکل لیں۔ ہم نے مغربی لباس قندھار میں ہی ترک کر دیا تھا اور اب ہم عام افغانوں کی طرح شلوار اور قمیص، اوپر واسکوٹ میں ملبوس تھے۔ اتنا فرق باقی رکھا کہ پگڑی کی بجائے قراقل ٹوپیاں پہنے رکھیں۔ مجھ سے پوچھیں تو قندھار سے نکلتے ہی سڑک نہایت خوب تھی، اس کے دونوں اطراف میں پھل کے باغات اور وسیع زرعی اراضیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر اراضیوں کے گرد دور دور تک گارے کی اونچی دیواریں تھیں اور نپے ہوئے فاصلے پر ڈبہ نما کمرے بنے ہوئے تھے۔
'یہ بکس نما جگہیں کیا ہیں؟' میں نے پوچھا،
نور ہنس کر بولا، 'یہ خربوز کے کھیت ہیں۔۔۔ اسی لیے!'
'ہاں لیکن، ان ڈبہ نما کمروں کا مقصد کیا ہے؟'
'وہ پہرے داروں کی چوکیاں ہیں' اس نے بتایا، 'افغانستان میں خربوز اگانا آسان کام نہیں ہے۔ جب فصل پکنے لگتی ہے تو پورا پورا مہینہ کسانوں کو کھیتوں کے گرد جگہ جگہ پہرہ دینا پڑتا ہے اور ضرورت پڑے تو چوروں کو گولی بھی مار دیتے ہیں'
مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، شک گزرا کہ شاید وہ میرے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا ہے۔ اسی لیے میں نے مڑ کر اس کو غور سے دیکھا تو وہ سمجھ گیا، تبھی کہنے لگا، 'آپ کو یقین نہیں آتا؟ میرے ابا کے خربوزوں کے کئی کھیت تھے اور نو سال کی عمر میں مجھے رات بھر شاٹ گن اٹھائے پہرہ دینا پڑتا تھا۔ اگر ایسا نہ کریں تو ایک ہی رات میں کھیتوں کے کھیت چوری ہو جائیں!'
'اس چوری کی گنجائش کیوں چھوڑ رکھی ہے؟ حکومت کچھ کیوں نہیں کرتی؟' میں نے پوچھا،
'ملر صاحب، ہم راہ زنوں اور لٹیروں کے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں' نور نے کہا، 'ہمارے بادشاہ کابل میں اس طرح حکومت نہیں کرتے جیسے واشنگٹن میں آپ کا صدر ملک چلاتا ہے۔ اس ملک میں، بادشاہوں کو بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔۔۔ ہم اپنے رہنماؤں کو عہدے سے ہٹاتے نہیں ہیں۔ یہاں تو شاہوں بادشاہوں کو بھی کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے'
اب ہم ایک قصبے میں پہنچ چکے تھے۔ اس جگہ کا نام گرشک تھا۔ یہاں سے آگے باغات اور خربوزے کے کھیتوں کا سلسلہ ختم ہو گیا اور جنوب کی طرف مڑے تو چاروں طرف لق و دق صحرا تھا۔ میرے لیے یہ یادگار لمحہ تھا کیونکہ ہم اس وقت دنیا کے سب سے بڑے اور وسیع صحرا میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ صحرا وسطی ہندوستان سے شروع ہو کر فارس اور عرب اور اس سے آگے مصر، صحارا اور مراکش تک پھیل جاتا ہے۔ مراکش میں پہنچ کر اس جناتی سلسلے کو بحر اوقیانوس ہی روک لگاتا ہے۔ میں نے اس سے قبل کبھی یہ صحرا نہیں دیکھا تھا اور اب جب کہ یہاں پہنچ گیا تھا، میں نے نوٹ کیا کہ سورج ابھی نکلا ہی تھا لیکن تیز ہواؤں کے زور سے ریت کے ٹیلے اڑے جا رہے تھا، یعنی شام ڈھلنے تک اس جگہ کا جغرافیہ ہی بدل چکا ہو گا۔ اس صحرا میں جا بجا پتھریلی چٹانیں بھی تھیں جو گرمی سے تپنا شروع ہو چکی تھیں۔ گرشک کے اس پار ہریالی اور دیکھتے ہی دیکھتے اب یہ، واقعی احساس ہوا کہ ہم ایک نئی دنیا میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ ایسی جگہ تھی جہاں ریت اڑتی پھرتی دور، بہت دور ہزاروں میل دور تک پہنچ جاتی تھی، یہاں تک کہ طوفان میں تو اکثر بحر اوقیانوس کو بھی پار کر لیتی تھی۔ یہاں اونٹوں کا راج تھا، راستے گم ہو جاتے تھے اور سفید رنگ کا کوئی تصور نہیں تھا، ہر شے میلی اور بھوری تھی۔ میں آج بھی جب اس لق و دق صحرا بارے سوچتا ہوں تو اس کی وسعت اور بڑائی کا سوچ کر ہی دنگ ہو جاتا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اپنے اردگرد جہاں تک نظر پہنچ سکتی تھی، پھیلا ہوا صحرا دیکھ کر کس قدر دم بخود رہ گیا تھا۔
صحرا کا وہ حصہ جس میں اس وقت ہم سفر کر رہے تھے، اس پورے خطے کا بہترین تعارف قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ حصہ عرب، مصر اور لیبیا کے صحراؤں سے عرض میں قدرے چھوٹا تھا، یعنی تقریباً صرف ڈیڑھ یا دو سو میل رہا ہو گا لیکن یہ ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بیابان اور جابر صفت تھا۔ اس حصے میں نخلستان، سبزہ اور اونچی چٹان نما پہاڑیوں کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ یہ بے رنگ، سنسان اور بنجر علاقہ تھا جس میں ہر وقت تیز ہوائیں چلتی رہتی تھیں۔ ریت اور پتھر کا راج تھا۔ اس صحرا میں گم ہو جانے کا مطلب موت تھا اور ہر برس کئی ہلاکتیں اس کا ثبوت تھا۔ اس کی یہی خاصیت تھی جس کے سبب افغان صحرا کا یہی وحشت ناک نام پڑ چکا تھا۔ مجھے تو یہ نام دہراتے ہوئے بھی خوف آتا تھا، یہ اسقدر خودنمایانہ تھا۔ لوگ اس کو 'دشت مارگو' کہتے تھے جس کا مطلب 'موت کا صحرا' تھا۔ یہ صحرا دیکھ کر مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ایلن جاسپر اگر ملاؤں کے ہاتھ سے بچ بھی جاتی، یہ صحرا اس کو کبھی بخشنے والا نہیں تھا، یہ سوچ کر ہی مجھے جھرجھری آ گئی۔
ہم تقریباً دو گھنٹے تک اس خطرناک صحرا میں آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ آنکھوں کے سامنے دور ایک منظر واضح ہونا شروع ہوا۔ اگرچہ میں جانتا تھا کہ ہم جلد ہی قلعہ بست پہنچ جائیں گے لیکن اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا۔ صحرا کے وسط میں، دریائے ہلمند کے کنارے قلعہ بست کی محراب نظر آ رہی تھی۔ یہ بھٹی میں پکائی ہوئی اینٹوں سے بنی کوئی تعمیر تھی جو دیکھنے میں ایسے لگتی جیسے آسمان کو چھو رہی ہے۔ غالباً آج سے ہزار برس قبل جب مسلمانوں نے یہ علاقہ فتح کیا تو اپنا نشان، یعنی ایک عظیم الشان مسجد بھی تعمیر کروائی تھی لیکن اب تو اس مسجد کی یاد بھی محو ہو چکی تھی۔ باقی سبھی یادوں کے سوا یہ محراب جو نہ جانے کب تعمیر کی گئی، جوں کی توں کھڑی تھی۔ یہ اس قدر اونچی تھی کہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ صحرائی لوگوں نے اسے تعمیر کیا ہو گا۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس قدر دیو ہیکل ڈھانچہ بغیر کسی سہارے کے مضبوطی سے اپنی جگہ پر کھڑا تھا۔ یہ انتہائی نفاست سے پکائی ہوئی اینٹوں کی اس قدر عظیم اور باوقار عمارت تھی کہ جب ہم وہیں گاڑی روک کر اس کو پیش منظر میں پورے قد کاٹھ میں دیکھنے کے لیے نیچے اترے تو میں نے نور سے بے ساختہ کہا، 'واہ نور! تمھارے اجداد میں کیا ہی عمدہ اور نفیس معمار گزرے ہیں'
'آپ تھوڑا صبر کریں، ذرا اس کے قریب تو پہنچ جائیں۔۔۔' نور نے ہنس کر کہا اور جب ہم اس کے نزدیک جانے لگے تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ سیدھی اوپر کو اٹھنے کی بجائے آگے کی طرف جھکی ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اب اس کے اردگرد کسی گم گشتہ لیکن اپنے زمانے کے عظیم الشان شہر کے آثار بھی واضح ہو رہے تھے۔ شہر کی بوسیدہ دیواریں دریا سے شروع ہو کر مضافات میں دور تک پھیل گئی تھیں۔ جا بجا پرشکوہ میناروں اور برجوں کے آثار تھے اور چھاؤنی کی فصیلیں تھی جس کے اندر یقیناً ہزاروں سپاہی بسر رکھتے ہوں گے۔
'اس شہر کی تاریخ کیا ہے؟'
'کسی کو بھی علم نہیں ہے'
'تمھارا مطلب، یہ شہر یہاں آباد تھا اور کسی کو علم نہیں کہ یہ کیا تھا؟'
'یہ تو افغانستان کے گمشدہ تاریخ کے حامل شہروں میں سے صرف ایک ہے اور نسبتاً چھوٹا شہر ہے' نور نے وثوق سے کہا۔ صحرا میں مغرب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'صحرا کے اس طرف جہاں دریائے ہلمند غائب ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ تو ایک شہر ایسا بھی ہے جو ستر میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بارے بھی کوئی نہیں جانتا کہ کیا تھا؟ کس نے تعمیر کروایا؟ اور اس کے ساتھ کیا ماجرا ہوا؟ وہ بھی بس ایسے ہی ہے!'
'میں سمجھا نہیں۔۔۔ تمھارا کیا مطلب ہے کہ دریا غائب ہو جاتا ہے؟'
'یہی دریا۔۔۔ دریائے ہلمند!' اس نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے متعلق کہا جو یہاں سے کچھ دور ہی سامنے تھا، 'جب یہ صحرا میں دور تک بہہ رہتا ہے تو غائب ہو جاتا ہے'
'ارے، کہاں غائب ہو جاتا ہے؟' میں نے پوچھا
'ہوا میں۔۔۔ دشت مارگو اس قدر خشک ہے کہ دریا ایک جھیل میں گرتا ہے جو ہر دم خشک ہوتی رہتی ہے' میں نے ایک دفعہ پھر اس کی جانب شک کی نگاہ سے دیکھا لیکن وہ واقعی مزاق نہیں کر رہا تھا۔ میں نے اس پر مزید بات نہیں کی لیکن میری آنکھوں کے سامنے یہ بے نام اور برباد شہر تھا، اسے تو میں کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔
'یہ شہر کس نے تعمیر کیا تھا؟'
'ملر صاحب، یہ ہمیشہ سے یہیں آباد تھا' نور میری حالت سے محظوظ ہو رہا تھا،
'اس کا کوئی نام بھی نہیں تھا کیا؟'
'نہیں۔ جدید دور کے لوگوں نے اس محراب کا نام قلعہ بست رکھ چھوڑا ہے'
'یہ تو شاہکار ہے۔ اگر امریکہ میں اس طرح کی کوئی جگہ ہوتی تو ہم اس کو نیشنل پارک بنا دیتے'
'میرے خیال میں اس طرح کی جگہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ کو ابھی بھی کم از کم ایک ہزار برس مزید درکار ہیں' نور نے ہنستے ہوئے کہا، 'لیکن اس جگہ کے بارے کچھ اندازے ضرور ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ شہر محمود غزنوی کا سرمائی دارالخلافہ تھا، اس کے پاس دولت اور معماروں کی کمی نہیں تھی، شاید اسی نے یہ سب بنوایا۔ لیکن میں ان ماہرین سے بھی متفق ہوں جو کہتے ہیں کہ یہ محمود غزنوی سے بھی پہلے کی تعمیرات ہیں'
'اور اس سب بارے بس یہی اندازے ہیں؟'
'ملر صاحب، آپ بھی وہی دیکھ رہے ہیں جو مجھے نظر آ رہا ہے' نور نے مدافعت سے کہا، 'آپ دیکھ تو رہے ہیں کہ صحرا کے بیچوں بیچ ایک عظیم شہر ہوا کرتا تھا، اب تو اس کی تاریخ بھی گم ہو چکی ہے'
مجھے یہ دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا، یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا ایسا بھی ممکن ہے؟ میرے دل میں فوراً ایک خواہش نے جنم لیا کہ کیوں نہ میں یہیں رک جاؤں، سفارتخانے کی نوکری چھوڑ کر اس شہر کی تاریخ ڈھونڈ نکال لوں۔ میں نور کو اس خواہش کے متعلق بتانا ہی چاہتا تھا کہ مجھے قریب ہی ایک مینارے پر پچیس یا تیس سال کا ایک جوان آدمی کھڑا نظر آیا۔ اس نے ہماری طرح صحرائی لباس اور سر پر پگڑی باندھ رکھی تھی۔ اس نے ہمیں دیکھ کر دونوں ہاتھ زور زور سے ہلائے اور نور اسے دیکھ کر بے یقینی سے چلایا، 'نظراللہ؟' تبھی میں نے دیکھا کہ نظراللہ کی مونچھ اور داڑھی بھی ہے۔ شہر کی فصیل پر کھڑے دور سے وہ چست اور مضبوط جسم کا مناسب آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس کے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہیولے کو دیکھ کر مجھے یہی خیال آیا کہ اگر ہزار برس پہلے کا زمانہ ہوتا تو یہ شخص بادشاہ کی فوج میں کسی چھاپہ مار فوجی ٹکڑی کا سپہ سالار ہوتا۔
'اے اے۔۔۔ نظراللہ!' نور نے چلاتے ہوئے اسے مخاطب کیا، 'میں ںور محمد ہوں۔ میرے ساتھ ایک امریکی بھی ہے۔۔۔ سفارتخانے سے آیا ہے' سفارتخانے کا سنتے ہی دیوار پر چڑھا نظراللہ بجھ سا گیا، اس بیابان میں دوستوں کو دیکھنے کی ساری خوشی کافور ہو گئی۔ لیکن پھر وہ مینار سے اتر کر دیوار اور پھر نیچے اتر کر تقریباً دوڑتا ہوا ہمارے پاس پہنچ گیا۔
'نور محمد!' وہ اسے دور سے دیکھتے ہی خوشی سے چلایا اور اس کو گلے لگا لیا۔ جس گرمجوشی سے وہ دونوں آپس میں ملے تھے، اسے دیکھ کر مجھے اطمینان ہوا کہ اجنبیوں کے سامنے خود کو میرا ڈرائیور کہلوانے والا شخص ہر گز کوئی عام افغان نہیں ہے' نظراللہ میری طرف مڑا اور خوشدلی سے مسکراتے ہوئے انگریزی میں بولا، 'جناب! ہمارے تین سو کمروں کے اس غریب خانے میں آپ کا خیر مقدم ہے!'
اس پر ہم تینوں ہی زور سے ہنس پڑے اور نور نے پشتو میں کہا، 'ملر صاحب پشتو بول سکتے ہیں اور یہ یہاں تمھاری مشکوک حرکات کی جاسوسی کرنے آئے ہیں!' اس پر ایک دفعہ پھر قہقہہ بلند ہوا اور مجھے لگا جیسے نور ہم دونوں کے بیچ فی الفور دوستی کا خواہاں تھا۔
نظراللہ نے ہاتھ بڑھ کر نہایت خوش اخلاقی سے کہا، 'ملر صاحب، مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے' پھر نور سے کہا، 'لمبا چکر کاٹںے کی ضرورت نہیں، ہم نے دیوار میں سے راستہ نکال لیا ہے، تم جیپ وہیں سے شہر کے اندر لے جا سکتے ہو' وہ ہمارے ساتھ ہی گاڑی میں سوار ہو کر راستہ دکھانے لگا۔
اس کا کیمپ شہر کی فصیلوں سے تقریباً ایک میل دور شہر کے اندر واقع تھا۔ میں راستے میں نظراللہ کی شخصیت اور اس کے غیر معمولی شہر کا بغور جائزہ لیتا رہا۔ وہ ایک جاذب نظر جوان تھا، قد قامت اس کی کاٹھی سے زیادہ نہیں تھا لیکن جسم چست اور مضبوط تھا۔ وہ طبیعتاً سیماب صفت اور زندہ دل واقع ہوا تھا۔ مجھے فوراً ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ حاضر جواب اور انتہائی طرار آدمی ہے۔ اس کے بال قدرے لمبے اور گھنے تھے، غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ قلعہ بست میں حجام ناپید رہے ہوں گے لیکن صفائی کا خاص خیال رکھتا تھا کیونکہ ان غیر معمولی حالات میں بھی اس کے کپڑے صاف ستھرے اور وہ خود پوری طرح ٹیپ ٹاپ کیے ہوئے تھے۔ دیکھنے میں وہ وقت اور نظم و ضبط کا پابند نظر آتا تھا اور اب اس سے خود ملاقات کے بعد مجھے سمجھ آ رہی تھی کہ آخر محب خان، نور محمد اور ڈاکٹر شواٹز اس کے دلدادہ کیوں تھے۔
جہاں نظراللہ وہیں یہ اجاڑ شہر بھی دل کو موہ لینے والی جگہ تھی۔ گارے کی کئی فٹ چوڑی دیواریں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ بعض جگہوں پر تو ان کی اونچائی بیس فٹ سے بھی بڑھ جاتی تھی اور دور تک، جیسے آٹھ یا نو میل تک یہ بل کھاتی ہوئی مسلسل پھیلتی جاتیں۔ ان کے بیچ اس قدر رقبہ سما گیا تھا کہ کسی زمانے میں یہاں وسیع و عریض باغات اور کھیت اگائے جاتے ہوں گے۔ جا بجا آب پاشی کے نظام اور مزدور طبقے کے گاؤں کے آثار باقی تھے۔ بھٹی میں پکی ہوئی اینٹوں سے تعمیر شدہ شہر بھی عجوبہ تھا جس میں کئی طرح کے محلات، مینارے، قلعے اور شہر کے شاہی مراکز اور بازار بھی تھے۔ اس جگہ کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ایک حصہ جب مکمل دیکھ لیا تو میرے دماغ میں یہی خیال آیا کہ یہ پورا ایک شہر ہے لیکن اصل میں وہ شہر کا صرف ایک حصہ تھا۔ فصیلوں اور میناروں، قلعوں کی مدد سے کم از کم بھی ایسے سات یا آٹھ حصے میلوں پر پھیلے ہوئے قلعہ بست کا گمشدہ شہر تھا۔
تقریباً ایک سے ڈیڑھ میل دور جا کر ہم ایک کھلیان کے بیچ پہنچ گئے جس کے گرد گاری کی قدیم دیواریں تھیں۔ نظراللہ نے اسی کھلی جگہ پر اپنا کیمپ لگا رکھا تھا۔ کئی خیمے تھے اور یہیں سے وہ اس پورے علاقے کا سروے کرتا تھا۔ پراجیکٹ یہ تھا کہ دریائے ہلمند کا پانی صحرا سے موڑ کر اس علاقے میں آب پاشی کا مربوط نظام قائم کیا جائے، جس سے زراعت کو ترقی ملے۔ باغات اور فصلیں اگائی جائیں اور ملک میں خوشحالی آئے۔ اس کی کمان میں دو جیپیں، تین انجنئیر اور چار خدمت گاروں کا عملہ تھا۔ یہاں کوئی عورت اور نہ ہی اس کے کوئی آثار نظر آ رہے تھے لیکن مجھے ایک خیمہ ایسا ضرور نظر آیا جو باقی خیموں سے کہیں نفیس اور قدرے انتظام میں بہتر تھا۔ شاید نو مہینے قبل جب ایلن جاسپر نظراللہ کے ساتھ یہاں آئی ہو گی تو اس عرصے کے دوران اسی خیمے میں بسر کرتی رہی ہو گی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس وقت بھی وہ خیمے کے اندر ہی ہو۔ میں نے نظریں چرا کر چوری چھپے اس خیمے کا جائزہ لینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا بلکہ نظراللہ نے خود ہی میری مشکل آسان کر دی، 'اس خیمے میں میری رہائش ہے، وہیں چلو اور سکون سے آرام کرو'
'ارے، کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ تمھیں تکلیف دینا مقصود نہیں ہے' میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا،
'آپ کابل سے آنے والے میرے کیمپ میں پہلے مہمان ہیں' اس نے کھل کر کہا، 'آپ میرے ساتھ، میرے خیمے میں رہیں گے' اس کی مہمان نوازی میں محب خان اور باقی افغانوں جیسا ہی تحکم تھا، مجھے مانتے ہی بنی۔ اس نے خیمے کی لٹکنیں اٹھا کر خیمے کے اوپر ڈال دیں اور ایک طرف ہو کر ہمیں راستہ دینے لگا۔ مجھے اس خیمے سے متعلق دو باتیں اب تک یاد ہیں، پہلی تو یہ کہ فرش پر ایک بیش قیمت فارسی قالین بچھا ہوا تھا اور دوسرا یہ کہ میز پر ایلن کی فریم شدہ تصویر رکھی ہوئی تھی۔ اس تصویر میں ایلن نے ڈھیلا ڈھالا کیتھولک عیسائیوں کا چوغہ پہن رکھا تھا اور غالباً فلاڈلفیا کے آرکسٹرا کے ہمراہ کسی مجلس میں فن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ اس نے مجھے ایلن کی تصویر کا بغور مشاہدہ کرتے ہوئے دیکھا لیکن اس کے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس نے خیمے میں ہمیں بستر دکھائے اور میسر سہولیات سے آگاہ کیا۔ پھر اس نے آواز دے کر نوکروں کو بلایا اور انہیں ہماری گاڑی سے سامان اتار کر لانے کو کہا اور اپنی نگرانی میں سامان کو کھول کر سلور کی پیٹیوں میں رکھوانے لگا۔ میں نے اس دوران دیکھا کہ ایک کونے میں چمڑے کا ایک بکس پڑا ہے جس پر ایلن جاسپر کے نام کا ٹیگ اور تالہ لگا ہوا تھا۔ میں یہ تو بتا نہیں سکتا تھا کہ یہ خالی ہے یا سامان سے بھرا ہوا ہے لیکن اس بات کا ضرور پتہ چل گیا کہ یہ کافی عرصے سے یہیں پڑا ہوا تھا اور اس کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔
جب سامان رکھا جا چکا اور ہم نے تھوڑی دیر کچھ آرام کر لیا تو نظراللہ ہمیں ساتھ لے کر اس جگہ سے ہٹ کر قدرے فاصلے پر ایک دوسرے خیمے میں لے گیا۔ یہ کیمپ کا باورچی خانہ تھا جس کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ بھی بنا رکھی تھی۔ دوپہر کے کھانے میں معمول کے مطابق نان اور پلاؤ تھا لیکن یہ ذائقے میں مختلف محسوس ہوا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ خیمے کے قریب ہی باورچی جس تندور میں نان پکا رہا تھا، وہ قریباً ہزار سال پرانا ضرور ہو گا۔ میں نے پہلی دفعہ تندور میں نان پکتے ہوئے دیکھا۔ یہ ایک مٹی کا ایک چھوٹا سا مخروطی پشتہ تھا جو اوپر سے دیکھیں تو شہد کی مکھیوں کے چھتے کی طرح لگتا تھا۔ اوپر سے کھلا اور نیچے تہہ میں کوئلہ سلگ رہا تھا۔ باورچی اوپر کھلی جگہ سے پیڑے کے نان بنا کر گول اطراف میں ڈھلان نما مٹی کی سطح پر زور سے تھونپ دیتا اور چند منٹوں میں اندر جمع کوئلوں کے انگاروں کی حرارت سے خستہ نان تیار ہو جاتا۔ مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ آخر نان کوئلوں پر گر کیوں نہیں جاتا اور مٹی کی سطح کے ساتھ چپکا کیونکر رہتا ہے؟ میں نے نظراللہ سے پوچھا تو اس نے کہا، 'سعی اور خطا کی طویل مشق کے بعد انسان نے آخر کار تین یا چار ہزار سال پہلے یہ تندور ایجاد کر لیا تھا۔ اصل میں پیڑے کا آٹا اس طرح گوندھا جاتا ہے کہ یہ مٹی کے ساتھ چپکا رہے اور انگاروں کی تپش اتنی ہی برقرار رکھی جاتی ہے کہ نان کا آٹا جلے نہیں بلکہ دھیمے دھیمے پک کر بھن جائے۔ تندور کی ساخت دیکھ کر گو یہ ناممکن لگتا ہے لیکن بہرحال یہ ایسا ہی تھا اور حیران کن تھا!' نان خستہ اور انتہائی لذیذ تھا۔
کھانا کھا چکے تو خادموں نے ہمارے ہاتھ دھلوائے اور ہم واپس نظراللہ کے خیمے میں چلے آئے۔ آرام سے گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھ گئے تو اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، 'ملر صاحب میری نجات کا راستہ یہی تھا کہ میں کسی صحرا میں آن کر بس جاؤں۔ جرمنی اور امریکہ میں بسر کرنے کے بعد یہی ایک طریقہ تھا جس سے مجھے اپنی افغان شناخت کا ادراک ہو سکتا تھا ورنہ میں گڑبڑا جاتا۔ یہاں مجھے واقعی احساس ہوتا ہے کہ در اصل افغانستان کیا شے ہے۔ کیا آپ میری بات سمجھ رہے ہیں؟' اس نے مجھ سے سوال کیا،
'میں پوری طرح سمجھ رہا ہوں۔ جب تک میں نے دشت مارگو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، میرا خیال بھی یہی تھا کہ افغانستان کے متعلق بہت کچھ جانتا ہوں۔ میرے خیال میں یہ صرف ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے، یہاں گھاٹیاں اور اونچے پہاڑ ہیں جن میں بسر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔۔۔ حالانکہ یہاں کے صحرا ہر شے پر حاوی ہیں!'
'بالکل ایسا ہی یہی خیال ہے لیکن ہمارے ملک کے تقریباً پانچ میں سے چار حصے تو ویسا ہی صحرا ہیں جیسا ان دیواروں کے باہر آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے لیکن صحراؤں کے بیچ دریا بہتے ہیں۔ اگر ہم ان دریاؤں کو صحرا میں موڑ دیں تو ہریالی ہو جائے گی اور ہزاروں گنا فائدہ ہو گا' اس نے ایک دفعہ پھر مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا، 'ملر صاحب، یہاں آنے سے قبل کیا آپ جانتے تھے کہ افغانستان میں آب پاشی کا ایسا نظام موجود ہے جس کی پوری دنیا میں کہیں دوسری مثال نہیں ملتی؟'
میں نے نفی میں سر ہلا دیا تو اس نے بات جاری رکھی، 'اصل میں اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ ہم پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں جانے دیتے۔ ہمارے دہقانوں کی مہارت اور دور اندیشی قابل داد ہے۔ وہ پہاڑوں سے نکلنے والی چھوٹی ندیوں کو اپنے کھیتوں کی طرف موڑ دیتے ہیں اور پھر اس سے سینکڑوں گز کے کھیت تر کر کے اضافی پانی کو ضائع کرنے کی بجائے واپس اسی راستے کی طرف موڑ دیتے ہیں جہاں سے نکال کر لائے تھے۔ یوں یہ ندی ہمیشہ جوان رہتی ہے اور ڈھلوان میں کئی ایکڑ کھیتوں کو سیراب کرتی جاتی ہے۔ بظاہر ایک بے کار ندی آب پاشی کے لیے دسیوں بار استعمال ہو جاتی ہے!'
'واقعی؟ میں نے کبھی ایسا کہیں نہیں دیکھا!' میں تعریف کیے بنا رہ نہیں پایا،
'اب میرا کام یہ ہے کہ دریائے ہلمند کے ساتھ وہی کروں جو دہقان چھوٹی موٹی ندی نالوں کے ساتھ صدیوں سے بخوبی کرتے آئے ہیں۔ ہم پہاڑوں میں ایک قوی ہیکل ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اس سارے پانی کو جمع کر کے رکھے گا جو عام طور پر ہر سال ضائع ہو جاتا ہے!'
اس خاکے نے اس کے تصور کو اس قدر جکڑ رکھا تھا کہ وہ فوراً ہمیں ساتھ لیے خیمے سے نکلا اور شہر کی جانب پیدل ہی روانہ ہو گیا۔ ہم شہر کی خاموش گلیوں میں گزر رہے تھے۔ ان گلیوں میں کبھی بلا کی رونق لگی رہتی ہو گی، بازار ہوں گے اور کھوے سے کھوا اچھلتا ہو گا۔ یہاں ہندوستان کا ساٹن اور روس کے فر سے بنی مصنوعات بکا کرتی ہوں گی۔ ہم ایک جگہ پہنچ کر سیڑھیاں چڑھنے لگے، یہاں سے گزر کر آگے ایک بہت بڑا چوراہا آتا تھا جس کے اردگرد غالباً رہائشی بیرکیں تھیں جن کی دیواروں پر جداری نقاشی کے نمونے ابھی تک باقی تھے۔ یہاں غالباً اس شہر کی حفاظت پر مامور افواج کا بسیرا رہا کرتا ہو گا۔ نظراللہ بہت تیز چل رہا تھا کیونکہ اس کے لیے یہ قدیم شہر اور گلیاں شناسا تھیں لیکن میں سست رفتار واقع ہوا تھا کیونکہ میں اس جگہ کی عظمت اور شان و شوکت کو پوری طرح جذب کرنا چاہتا تھا۔ میں یہ سوچ کر ہی دم بخود تھا کہ کسی زمانے میں اس شہر پر ان بادشاہوں کی حکومت رہا کرتی ہو گی جن کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے، ان کی سلطنتیں تو بہت دور، نام کی روشنائیاں بھی بھلائی جا چکی ہیں۔ میری حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا کہ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنا بڑا شہر جو کسی سلطنت کا مرکز ہوا کرتا تھا، یوں صفحہ ہستی سے مٹ جائے کہ اس کا کوئی ریکارڈ اور نہ ہی نشان باقی رہا۔ یہ شہر تو گم ہو گیا لیکن کیا اس شہر کے دوستوں اور بالخصوص دشمنوں نے بھی اس عظیم جگہ کو یاد نہ رکھا؟ میں انہی خیالوں میں گم نظراللہ کے پیچھے تقریباً دوڑتا ہوا اس کے ہمقدم ہوا تو وہ اوپر ایک مینارچے میں پہنچ چکا تھا جو غالباً پہرے داروں کی چوکی ہوا کرتی تھی۔ میں نے اس سے کہا، 'اس جگہ پر بسر کرتے ہوئے تمھیں پراسرار اور دہشت ناک خیالات تو گھیرتے ہی ہوں گے؟ اوباپرستی کا احساس نہیں ہوتا؟'
'کیوں نہیں ہوتا، بالکل ہوتا ہے۔ آپ بھلے تاریخ میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں یا لاتعلقی دکھائیں، یہ جگہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے'
'تم یقیناً سوچتے رہے ہو گے، آخر تم نے اس جگہ کے بارے کیا نتیجہ اخذ کیا؟'
'کچھ بھی نہیں۔۔۔ بات یہ ہے کہ میں ماضی میں جھانک کر دیکھنے سے قاصر ہوں!' یہ کہہ کر اس نے دریا کی طرف اشارہ کیا جو شہر کے اس حصے کی فصیل کے قدموں میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا بہہ رہا تھا، 'میرا کام تو صرف یہ ہے کہ اس پانی کو اس دریا سے نکال لوں'
'پانی نکال لیا تو پھر اس کا مصرف کیا ہو گا؟'
اس نے ستائشی نظروں سے میری جانب دیکھا اور فوراً دریا کی دوسری جانب اشارہ کیا جہاں لق و دق صحرا تھا۔ میں نے دیکھا کہ دور صحرا میں ہوا کے بگولے اڑ رہے تھے اور ریت ہی ریت تھی۔ میرا خیال تھا کہ وہ کہے گا کہ پانی کو نہروں کی مدد سے وہاں بہا کر ایک شاندار شہر تعمیر کیا جائے گا لیکن بجائے اس نے کہا، 'وہ جو ابھی صحرا نظر آ رہا ہے، یہ اصل میں نہایت زرخیز علاقہ ہے۔ اگر یہاں پانی پہنچا دیں تو ہم فصلیں اگا سکتے ہیں۔ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو یہ زمین سونا اگلے گی، جیسا کہ اس شہر کے جوبن میں ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کا انہی زرعی زمینوں پر دارومدار رہا کرتا تھا'
'کیا واقعی؟'
'میں درست کہہ رہا ہوں۔۔۔ اس طرف دیکھو!' اس کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ اس کا اشارہ دریا کی الٹی جانب تھا جہاں وہ مجھے قدیم زمانے کے پشتے دکھانا چا رہا تھا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ دریا کو اس سے قبل بھی آب پاشی کے مقصد کے لیے نہروں کی طرف موڑا گیا تھا۔ لیکن مجھے تو اس جانب اونچے ٹیلوں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا جو شہر سے ہٹ کر پیچھے کی طرف پہاڑیوں کی جانب نکل گئے تھے۔ یہ ٹیلے مشرق کی جانب کم از کم بیس میل تک پھیلے ہوئے تھے۔ ٹیلوں کے متعلق وثوق سے کہا جا سکتا تھا کہ وہ قدرتی نہیں تھے بلکہ انسانوں کی کاریگری تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹیلے ایک دوسرے سے مخصوص فاصلے پر، جیسے ناپ کر بنے ہوئے تھے۔ چونکہ ان میں سے ہر ایک ٹیلا کافی اونچا تھا مجھے جہاں تک دکھائی دیا، آٹھ یا دس ہی ٹیلے نظر آئے لیکن ان کی قطار کے نشان صاف تھے۔میں نے پھر سے غور کیا تو پتہ چلا کہ دراصل میں ایک بہت ہی بڑے، دیو ہیکل منصوبے کو دیکھ رہا ہوں لیکن یہ ہے کیا؟ اس کو دور سے دیکھنے پر کسی طور بھی پتہ نہ چلتا تھا۔
'تمھیں کچھ نظر آیا؟' نظراللہ نے پوچھا،
'مجھے تو ٹیلوں کی ایک طویل قطار نظر آ رہی ہے!' میں نے بے یقینی سے جواب دیا۔
نظراللہ نے کچھ سوچا اور پھر اپنے دائیں ہاتھ کا مکا بائیں ہتھیلی میں جوش سے مار کر تقریباً چلایا، 'ملر، تم واقعی اتنے ہوشیار ہو؟'
'مجھے سفیر نے روانہ ہونے سے قبل سفر کے دوران آنکھیں کھلی رکھنے کی تاکید کی تھی!' جھینپ کر کہا،
'میرے خیال میں تو تم واحد امریکی ہو جس نے ان ٹیلوں کو ایک دم تاڑ لیا' یہ کہہ کر وہ نور محمد کی طرف مڑا اور پوچھا، 'نور، کیا تم بھی ہمارے ساتھ کاریز دیکھنے چلو گے؟' میرے لیے یہ لفظ 'کاریز' بالکل اجنبی تھا، اس لیے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن میں نے دیکھا کہ نور یہ سن کر ایک دم پیچھے ہٹ گیا اور بولا، 'نہیں، ہر گز نہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اگر ملر صاحب واقعی ہوشیار ہیں تو ہر گز نہیں جائیں گے'
'مجھے پتہ ہے ملر انکار نہیں کرے گا بلکہ وہ تو تیار کھڑا ہے۔۔۔' نظراللہ ایک دفعہ پھر جوش سے چلایا، 'لیکن اگر ملر جائے اور تم نہ جاؤ تو یہ تمھارے لیے شرم کا مقام ہے!'
'میرے باپ دادا نے بھی کبھی یہ کام نہیں کیا، سو یہ شرمساری میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے' نور ہنس کر بولا، 'تم افغانستان کے جرات مند سپوت ہو، تم جاؤ۔۔۔ میں اپنی بزدلی میں ہی خوش ہوں' اس بات پر نظراللہ اور میں نے بھی قہقہے میں نور کا ساتھ دیا۔
ہم جلدی سے کیمپ کی طرف لوٹ آئے اور فٹ نظراللہ کی جیپ میں سوار ہو گئے۔ نظراللہ انتہائی مہارت سے گاڑی کو سنسان گلیوں میں بھگاتا ہوا شہر سے باہر صحرا میں لے گیا۔ جلد ہی ہم ایک ٹیلے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ گارے کی اینٹوں سے بنی ہوئی تعمیر تھی جس کی اونچائی کم از کم بھی پندرہ فٹ ضرور رہی ہو گی۔ اس کے اندر جانے کے لیے ٹیلے کے اوپر چڑھنا پڑتا تھا، جس کے لیے بوسیدہ لکڑی کی سیڑھی لگا رکھی تھی۔
ہم سیڑھی چڑھ کر اوپر پہنچے تو میں نے دیکھا کہ اوپر ایک ڈھکن نما جگہ کے اندر اترنے کے لیے دوسری سیڑھی تھی۔ یہ سیڑھی، پہلی سے کافی لمبی تھی جو ٹیلے کے اندر گھپ اندھیرے میں گم ہو جاتی تھی۔ نظراللہ نے اوپر سے ایک کنکر پھینکا جس کے گرنے سے اندھیرے میں پانی کے چھپاکے کی آواز آئی۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ در اصل ہم اس وقت مٹی کے ایک ٹیلے یا کسی مصنوعی سرنگ نما بنکر پر نہیں بلکہ زیر زمین نہر کے اوپر ایک ٹاپے پر کھڑے ہیں۔
'میرے پیچھے آؤ!' نظراللہ نے بچوں کی طرح مچل کر کہا اور فوراً سیڑھی سے نیچے اترنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر بے انتہا خوشی تھی اور اس کی داڑھی دھول سے اٹ رہی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ میں اس کے پیچھے سیڑھی اتر کر ٹیلے کی تہہ پر پہنچا تو خود کو ٹیلے کے بیچوں بیچ پانی کی ایک چھوٹی سی نہر کے کونے پر کھڑا پایا۔ اردگرد گھپ اندھیرا تھا اور صرف معمولی سی روشنی اوپر سے چھن چھن کر آ رہی تھی۔
'کیا سبھی ٹیلے اسی طرح ہیں؟' میں نے پوچھا تو آواز گونجتی ہوئی محسوس ہوئی،
'بالکل ایسے ہی!' نظراللہ نے جواب دیا۔ اس کا انگریزی زبان پر عبور قابل تعریف تھا، 'کاریز زیر زمین آب پاشی کا ایسا نظام ہے جس میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والا پانی جمع کر کے کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ کیا تم یہیں کاریز کے اندر سے اگلے ٹیلے تک جانا چاہو گے؟' غالباً وہ اندھیرے سے میری گھبراہٹ کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا، اسی لیے جیب سے ٹارچ نکال لی اور قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، 'ہم نے اس حصے میں مہمانوں کی سہولت کے لیے صفائی کروا رکھی ہے'
میں نے ٹارچ کی روشنی میں چند فٹ کے فاصلے پر سرنگ کی چھت نیچی دیکھی تو قدرے جھجک ہوئی لیکن میں نظراللہ کو انکار نہیں کر سکتا تھا۔ ٹیلے کے اندر تو کھڑا رہا جا سکتا تھا لیکن اس سے آگے جھک کر چلنا پڑتا۔ مجھے فاصلے کا اندازہ تھا اور نہ ہی کمر اور ٹانگوں کی سکت پر بھروسا تھا۔ نظراللہ نے مجھے تسلی دی، 'تمھیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔۔۔ اگلا ٹیلا زیادہ دور نہیں، دو ڈھائی سو میٹر کا فاصلہ ہو گا'
'چلو چلتے ہیں!' میں نے جوش سے کہا تو اپنی بہادری پر یقین نہ آیا۔ یہ کہہ کر میں جھک گیا اور ٹیلے سے نکل کر سرنگ میں نظراللہ کے پیچھے سرنگ میں گھس گیا۔
وہی ہوا، جس کا شاید نور کو بھی ڈر تھا۔ کچھ دور جاتے ہی میری ٹانگوں کے پٹھے سن ہونے لگے اور کمر جواب دے رہی تھی۔ لیکن نظراللہ لچیلا واقع ہوا تھا، جوش و خروش سے آگے بڑھتا جا رہا تھا جبکہ مجھے اس کے ساتھ قدم ملانے میں سخت مشکل پیش آ رہی تھی۔ آدھے راستے تک پہنچ کر ہمیں دوسری جانب ٹیلے سے چھن کر آتی روشنی کے ہلکے آثار نظر آنے لگے۔ میری ہمت اسی معمولی کرن کو دیکھ کر بندھ گئی لیکن کمر اور ٹانگوں میں کھنچاؤ سے درد بڑھ رہا تھا۔ چونکہ میں سست رفتار تھا اور روشنی بڑھ رہی تھی، مجھے اس کا فائدہ ضرور ہوا۔ وہ یوں کہ اپنے اردگرد سرنگ کی بناوٹ کو تسلی سے دیکھنے کا موقع مل گیا تھا۔ میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ سر کے اوپر سرنگ کی چھت میں کسی بھی قسم کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے بلکہ کچی مٹی سے ہی ہلکا سا لیپ کر دیا گیا ہے۔ میرا سر اوپر ٹکراتا تو مٹی گرنے لگتی اور نیچے پانی میں چھپاکے اٹھتے۔ یہ دیکھ کر تو مجھے ہول اٹھنے لگے کہ کچی چھت کسی بھی وقت سر کے اوپر گر سکتی ہے۔ اب ٹانگوں میں درد کے ساتھ حلق میں بھی کھنچاؤ محسوس ہونے لگا۔
خوش قسمتی سے ہم بخیر و عافیت دوسرے ٹیلے تک پہنچ ہی گئے۔ میں نے سیدھا کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن پٹھے بالکل سُن ہو چکے تھے۔ پاؤں مکمل طور پر بھیگ چکے تھے اور کمر کو سیدھا کرنے میں سخت مشکل ہو رہی تھی۔ چونکہ نیچے ہوا بھی بند تھی، مجھے سانس لینے میں بھی قدرے دشواری ہوئی۔ میں فوراً ہی سیڑھی چڑھ کر باہر روشنی اور کھلی ہوا میں نکل جانا چاہتا تھا لیکن میرا جسم ہلنے سے انکاری تھا۔
'اب تمھیں سمجھ آئی کہ نور محمد نے آنے سے انکار کیوں کیا تھا؟' نظراللہ میری حالت دیکھ کر ہنسنے لگا،
میں نے دونوں گھٹنوں کو ہاتھوں سے تھام کر جھکے رہتے ہوئے ہانپتے ہوئے پوچھا، 'نہیں۔۔۔ مجھے یہ تعمیر بھی تو دیکھنے کو ملی۔ آب پاشی کا یہ خیال کس کو آیا؟'
'غالباً فارسیوں کی ایجاد ہے، لیکن میرے خیال میں یہ افغانوں کا کام ہے۔ صحرا میں پانی کو ترسیل کرنے کا یہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اگر ہم زمین کی سطح پر نہریں کھود کر یہ کام کریں تو سخت گرمی میں پانی اڑ جاتا ہے'
'یہ سرنگ کتنی پرانی ہے؟'
'اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ کاریزیں کسی زمانے میں اس برباد شہر کے زیر استعمال رہی تھیں تو میرے خیال میں جس جگہ ہم کھڑے ہیں، تیرہ یا چودہ سو برس پرانی کھدائی ہے!' یہ سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔
'جلدی سے باہر نکلو' میں نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا،
'ظاہر ہے، کئی بار کھدائی کی گئی ہو گی۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ سرنگیں گر کر دب جاتی ہیں۔۔۔' اس نے اطمینان سے کہا،
'میں سرنگ کے بیچ میں سے لڑھتے ہوئے بھی یہی سوچ رہا تھا' میں نے جواب دیا۔
نظراللہ نے ایک ہاتھ کمر پر رکھا اور دوسرے سے سیڑھی تھام کر بولا، 'اصل میں کاریز نکالنا اور پھر اس کو برقرار رکھنا کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے، اس کی انسانی قیمت بہت ہی زیادہ ہے۔ کنویں کھودنے کے ماہر کاریگر پہاڑوں میں طویل مشقت کے بعد مناسب جگہ تلاشتے، پھر ستر سے سو فٹ گہرا کنواں کھود کر پانی نکالتے اور پھر دوبارہ اندازہ لگاتے کہ پانی کو زمین کی سطح کے متوازی زیر زمین سرنگ میں کیسے ترسیل کیا جا سکتا ہے؟ جب یہ ہوچکتا تو پھر وہ اس جگہ سے سرنگ کھودنا شروع کرتے۔ بیس سے تیس میل سرنگ تو معمولی بات تھی، پانی کی کشش ثقل کے ساتھ قدرتی بہاؤ اور آب پاشی کا یہ انتظام۔۔۔ یہ واقعی حیران کن ہے!'
'کھدائی کے دوران سرنگیں گر کر دبتی نہیں تھیں؟'
'اکثر گر کر دب جاتی تھیں۔ سرنگ کے جس حصے سے ہم گزر کر آئے ہیں، یہ کسی بھی لمحے زمین بوس ہو سکتی ہے' اس نے سپاٹ لہجے میں کہا، 'صحرا میں وہ لوگ جو کاریز کھودنے کا کام کرتے تھے، ان کی اپنی الگ ذات تھی۔ ان کے لیے علیحدہ قوانین ہوتے تھے، خاص خوراکیں کھاتے تھے اور کئی کئی شادیاں کر سکتے تھے۔ ملاؤں اور پولیس کے کارندوں کو ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ممانعت ہوا کرتی تھی کیونکہ ان کی عمریں بہت کم رہا کرتی تھیں۔ جب وہ مر جاتے۔۔۔ اور عام طور پر ان کاریگروں اور مزدوروں کی موت دم گھٹنے سے ہوا کرتی تھی، انہوں نے کبھی یہ کام ترک نہیں کیا۔ وہ اسے قسمت کا لکھا گردانتے تھے اور صبر کر کے کاریز کو چالو حالت میں رکھتے۔ مرنے والے کا مال، دولت، گھربار اور بیوی بچے دوسرے کسی کاریگر کے حوالے ہو جاتے'
مجھے اسے گھری ہوئی تنگ جگہ میں کلسٹروفوبیا کا دورہ پڑتا ہوا محسوس ہوا تو میں فوراً ہی سیڑھی چڑھ کر باہر نکلنے لگا۔ میری رفتار خاصی تیز تھی، میں نے محسوس کیا کہ پیروں تلے مٹی سیلن سے تر ہو رہی تھی اور وہ کسی بھی صورت کچی مٹی کے چھت کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھی۔ جب ہم باہر نکل کر کھلی فضا میں آ گئے تو میں نے گہری سانسیں لے کر تازہ ہوا اندر بھر لی۔ نظراللہ مسکرا رہا تھا، اس کی داڑھی دھول سے خاکستر ہو رہی تھی، 'شکر ہے، میں نے یہ باتیں تمھیں آدھے راستے میں نہیں بتائیں' اس کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا۔
'یہ سرنگ اگلے ایک مہینے تک ہر روز رات کو نیند میں میرے سر پر گر کر دبتی رہے گی' میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بولا،
'میرے خیال بھی یہی ہوتا ہے اور یہ قدرتی ہے۔ اس زمانے میں بھی جب سرنگیں زمین بوس ہوا کرتی تھیں تو اکثر مزدور خوف کی وجہ سے کھدائی کے کام پر واپس جانے سے انکار کر دیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اس کام پر تیار رکھنے کے لیے علیحدہ کارندے اور پہلوان ہوا کرتے تھے۔ وہ انہیں مارتے، پیٹتے اور کھدائی کے کام میں جتائے رکھتے۔ جب یہ نظام شروع ہوا تو بادشاہ وقت کے حکم کے مطابق کاریز میں کام کرنے والے لوگوں کے یہاں پیدا ہونے والے بچے بڑے ہو کر سوائے اس کام کے، کوئی دوسرا پیشہ اختیار نہیں کر سکتے تھے بلکہ ان کے چہرے پر مہر ثبت کی جاتی تھی اور جہاں چلے جاتے تو لوٹ کر یہیں آنا پڑتا اور یہی کام کرتے'
تپتی دھوپ میں میرے رونگٹے کھڑے ہوئے تو میں نے تبصرہ کیا، 'تمھارا دیس، سخت مشکلوں کا دیس ہے!'
نظراللہ مجھے ساتھ لیے ٹیلے سے نیچے اتر آیا۔ ہم دونوں اسی ٹیلے کے سائے تلے بیٹھ گئے تو اس نے اعتراف کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، 'یہ انتہائی بے رحم جگہ ہے۔ اسی کاریز کو دیکھو تو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ یہ کس قدر کٹھور جگہ رہی ہو گی۔۔۔یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے لیکن آج بھی تم اپنے اردگرد افغانستان کو دیکھو تو کئی ایسی چیزیں نظر آئیں گی کہ تم حیران پریشان رہ جاؤ گے!'
'میں کئی ایسی چیزیں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں' میں نے یقین دلایا،
'کیا دیکھا؟' اس نے شک کے انداز میں پوچھا،
'غزنی میں ایک عورت کو پتھر مار کر ہلاک کر دیا اور قندھار میں ایک جوان آدمی جس نے ایک رقاص لونڈے کی وجہ سے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تھا۔۔۔ اس کو سرعام ایک زنگ آلود سنگین سے ذبح ہوتے دیکھا!'
'یہ تو صرف شروعات ہے' نظراللہ نے کسی بے چینی کے بغیر جواب دیا۔ میں نے غور کیا کہ وہ عام طور پر پرسکون اور خود کو جوڑ کر رہا کرتا تھا لیکن جب اس کے اندر تناؤ بڑھ جاتا تو اس کے لیے اپنے آپ کو مضبوطی سے تھام کر رکھنا مشکل ہو جاتا۔ اس کی شخصیت میں ایک دم پریشانی تن جاتی جو اس کے چہرے مہرے اور بول چال سے نہیں بلکہ اشارت اور داڑھی کی غیر معمولی جنبش سے واضح ہوتی۔ اس نے جیسے میری سوچ کو بھانپ لیا۔ وہ داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا، 'میں کبھی کبھار خود کو گھسیٹ کر کاریز میں گھس جاتا ہوں تا کہ مجھے انسان کو لاحق اس درد اور دکھ کا صحیح معنوں میں احساس ہو سکے جو صدیوں سے یوں ہی چلا آ رہا ہے۔ یہ دکھ محسوس کرتا ہوں تو یاد دہانی رہتی ہے کہ ہم اسی صعوبت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم انسانوں کے اس دکھ درد کو پہلے ہی دیکھ چکے ہو تو میں تمھیں کبھی اس سرنگ میں نہ لاتا۔ لیکن تم سمجھ سکتے ہو کہ میں کسی فرنگی کو، جس نے ساری عمر سہولت اور سکون میں گزار رکھی ہو، یہ باتیں ایسے تجربات کے بغیر نہیں سمجھا سکتا!'
'اب مجھے ایسے تین تجربے ہو چکے ہیں اور میں تمھاری بات اچھی طرح سمجھ رہا ہوں' میں نے اسے تسلی دی اور کہا، 'چلو اب واپس چلیں' یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
'چلو، چلتے ہیں!' وہ بھی اٹھ گیا اور واپس جاتے ہوئے راستے میں کہا، 'میں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ مجھے لفاظی تو نہیں آتی لیکن پھر بھی جیسی تم نے کاریز دیکھنے کے لیے جو کوفت اٹھائی، ویسے ہی مجھے سننا بھی فائدہ مند ہو گا۔
میں بیس سال کی عمر میں جرمنی گیا۔ اس سے پہلے مجھے یہاں ایک پرائیویٹ ٹیوٹر نے پڑھایا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اس ٹیوٹر نے مجھے پڑھایا نہیں بلکہ اس نے صرف یہ کیا کہ مجھے ہر دم افغانستان میں پائی جانے والی اخلاقی تنزلی کا سبق رٹوایا اور خود بھی چونکہ مغرب سے خاصا متاثر تھا، میرے ذہن میں بھی یورپ کی لازوال عظمت کا تصور بھر دیا۔ اس سے یہ ہوا کہ جب میں جرمنی گیا تو میرے ذہن میں یہی باتیں بھر چکی تھیں۔ میں اپنے ملک کو گھٹیا جانتا تھا اور یورپ پر گویا عقیدہ پختہ کیے وہاں پہنچا تو اپنے ٹیوٹر کے ذہنی فتور کا غلام تھا۔ لیکن جب میں نے گوٹنگن پہنچ کر کچھ عرصہ بسر رکھی تو مجھے پتہ چلا کہ وحشی اور خدا ترسی سے عاری وہ لوگ نہیں ہیں جو آج تک قدیم روایت پر یقین رکھتے ہیں اور غزنی میں کسی عورت کو پتھر مار کر ہلاک کر دیتے ہیں بلکہ صحیح معنوں میں بے رحم تو جرمن ہیں۔ 1938ء سے 1941ء تک، چار سال کے عرصے میں، میں نے جرمنی میں ایک تہذیب کو بگڑتے ہوئے دیکھا۔ میں اس دوران یہی سوچتا رہا کہ کیا یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں میرا ٹیوٹر بلند بانگ دعویٰ کرتا رہتا تھا؟ یہ لوگ تو کسی بہروپیے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ ملر، تم یقین کرو۔۔۔ میں نے جرمنی میں اتنا کچھ دیکھ لیا کہ شاید میری سات نسلیں افغانستان میں نہ دیکھ پائیں گی۔
تم جانتے ہی ہو کہ میں جرمنی کے بعد امریکہ بھی گیا۔ امریکہ میں تو یہ حال تھا کہ وہاں بتائے سارے عرصے میں آدھے سے زیادہ لوگ مجھے سیاہ فام سمجھتے رہے۔ جو چیز میں جرمنی میں نہیں سیکھ سکا تھا، وہ امریکہ نے خوب سکھا دی۔ تمھارا کیا خیال ہے، میں نے داڑھی کیوں رکھ لی؟ میں نے داڑھی رکھنے سے قبل چھ ہفتے ایک تجربہ کیا۔ میں نے سیاہ فام بن کر جینے کا تہیہ کر لیا۔۔۔ ان چھ ہفتوں کے دوران میں سیاہ فاموں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، ان کے علاقے میں رہتا، انہی کے ہوٹلوں میں کھانا کھاتا، انہی کے اخبار پڑھتا اور سیاہ فام لڑکیوں کے ساتھ ڈیٹ پر جاتا۔ میں نے دیکھا کہ سیاہ فاموں کی امریکہ میں کیا حیثیت ہے؟ بھدی زندگی، برے حالات۔۔۔ ملر، تمھارے ملک میں سیاہ فام جانوروں سے پرے سمجھے جاتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ سیاہ فام امریکہ میں شاید جرمنی کے یہودیوں سے بہتر بسر کرتے ہوں گے لیکن بہرحال وہ غزنی میں بسر رکھنے والے کسی افغان سے کہیں بدتر زندگی گزارتے ہیں۔ فلاڈلفیا کو یقین دلانے کے لیے کہ میں سیاہ فام نہیں ہوں۔۔۔ داڑھی رکھ لی، شلوار قمیص پہن کر پھرتا رہتا اور پتہ ہے، میں نے پہلی بار وہاں پگڑی بھی پہنی۔ میں نے کابل میں رہتے ہوئے پگڑی نہیں پہنی لیکن وہاں باندھنی پڑی۔
افغان حکومت نے میری تعلیم پر جتنا خرچہ کیا، اس کا پورا فائدہ ہوا۔ گوٹنگن اور فلاڈلفیا میں چھ سال گزارنے کے بعد اپنے وطن کے لیے ترس گیا تھا۔ میں لوٹ کر آیا اور یہ کام اختیار کر لیا۔ ملر، میرے خیال میں۔۔۔ ہم یہاں بھی ویسا ہی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو جرمنوں اور امریکیوں نے اپنے لیے بنا رکھا ہےلیکن میرا خواب ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی سیاہ فام نہ ہو اور کسی یہودی کو تکلیف نہ پہنچے!'
میں نے اردگرد دیکھا تو مجھے صحرا کی دھول، مٹیالے دریا، بنجر پہاڑوں اور ایک بیابان شہر کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ چونکہ میں نے افغانستان کا کافی حصہ دیکھ رکھا تھا، میں یقین سے کہہ سکتا تھا کہ باقی ملک کا بھی یہی حال ہے۔ مجھے نظراللہ کے سوچنے کا انداز اور خواب گری بہت پسند آئی۔ وہ واقعی دلیر آدمی تھا، اس نے اپنے ذمے بہت بڑا کام لگا رکھا تھا۔
'دوسری بات جو میں کہنا چاہتا تھا، وہ یہ ہے کہ۔۔۔' اس نے توقف کیا اور رغبت سے کہا، 'میں نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ ایک افغان لڑکا جو اپنا دیس چھوڑ چھاڑ کر یورپ میں بس جانا چاہتا تھا، وہ لڑکا کہیں بہت پیچھے رہ گیا۔ اس لڑکے نے دنیا دیکھ لی تو اپنے آپ سے لڑ جھگڑ کر واپس یہیں لوٹ آیا۔ مجھے اب یہاں بہت سکون ملتا ہے۔ تم خود ہی سوچو، اٹھائیس سال کی عمر میں مجھے ایک ایسے پراجیکٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو ایشیاء کے ایک بڑے حصے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ اچھا یہ سنو۔۔۔ فلاڈلفیا میں ایک دن، کاک ٹیل پارٹی چل رہی تھی۔ وہاں ایک شخص نے مجھے اپنے جوتوں کے سٹور پر نوکری کی آفر کی۔ کہنے لگا، 'تم جوان ہو اور خاصے جوشیلے بھی ہو۔۔۔ لڑکیاں تو اسی داڑھی پر مر مٹیں گی' ملر، میں نے وہ نوکری قبول نہیں کی اور آج اس صحرا میں پڑا ہوں۔ معلوم ہے کیوں؟ اس لیے کہ میں یہی چاہتا تھا۔ میں اس دھرتی پر خوشحالی لانے کے لیے اپنی جان مار دینا چاہتا ہوں جیسے کسی زمانے میں کاریز کھودنے والے مزدوروں نے اپنی جان مار دی تھی۔ وہ بھی اپنے گھر بار چھوڑ، معاشرے سے کٹ کر زیر زمین اندھیری سرنگوں میں نہریں کھودا کرتے تھے اور مٹی کے تودوں تلے دب کر مر جاتے تھے۔ آج میرے سر پر بھی یہ چھت گر کر دب جائے تو مجھے اپنی موت کا ہرگز افسوس نہیں ہو گا!'
اس نے بات ختم کی تو ہم دونوں ہی خاموش ہو گئے، میرے پاس اس کی دونوں باتوں کا کوئی جواب اور نہ ہی تبصرہ کرنے کو تھا۔ کچھ دیر یہی حال رہا تو وہ ہنس کر بولا، 'چلو واپس چلتے ہیں۔۔۔' لیکن جب ہم نے جیپ میں سوار ہونا چاہا تو گاڑی کا لوہا اتنا گرم ہو چکا تھا کہ اسے چھونا بھی مشکل تھا۔ ہم صحرا کے بیچ کھڑے تھے اور اس تپش کو دیکھ کر مجھے واقعی احساس ہوا کہ اگر قدیم زمانے میں کاریز کھودنے والے مزدور اپنی جان جوکھوں میں نہ ڈالتے تو شاید پانی ان علاقوں میں کبھی نہ پہنچتا اور یہاں شہر کا کوئی تصور بھی نہ ہوتا۔ ان کی جفاکشی میں ندرت تھی، ان کا مقصد بڑا تھا۔ مجھے نظراللہ کے خواب میں بھی سچائی نظر آنے لگی۔
آنے والے دنوں میں نظراللہ کو جب موقع ملتا وہ افغانستان کی زندگی سے متعلق دل کھول کر باتیں کرتا لیکن میں جب بھی اس کی بیوی سے متعلق بات چھیڑتا تو وہ انتہائی مہارت سے جان چھڑا لیتا۔ یہ تو مجھے یقین ہو ہی گیا تھا کہ ایلن جاسپر قلعہ بست میں نہیں ہے۔ اگرچہ نظراللہ نے اس کے متعلق میری کسی بات کا جواب نہیں دیا لیکن اس نے یقیناً یہ ضرور کر ہی دیا تھا کہ مجھے اپنا آپ واضح کر کے دکھا دیا۔ میں نے دیکھ لیا کہ وہ کس طرح کا آدمی ہے۔ اس کا دوسرے لوگوں بالخصوص ماتحت انجنئیروں اور نوکروں کے ساتھ رویہ دیکھ کر جان گیا کہ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ سیانا اور گاگھ ہے۔
اس کی ایک خاصیت یہ تھی کہ وہ اپنے گرد لوگوں کو گرویدہ بنا لیتا تھا اور اس کی دوسروں کو بہترین سے بہتر کی جانب لے جانے کی قابلیت قابل رشک تھی۔ اب مجھے واقعی سمجھ آنے لگی کہ آخر فلاڈلفیا میں جوتے بنانے والی کمپنی کا مالک اسے کیوں نوکری دینے پر مصر تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے مجھے ایک خط دکھایا، جس میں ایک جرمن کمپنی نے اسے ایشیاء میں تعمیراتی کاموں کی دیکھ بھال کے عوض منہ مانگی تنخواہ لکھ بھیجی تھی لیکن وہ یہاں جان کھپا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ سجی رہتی تھی، حاضر جوابی کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور کشادہ دلی کا یہ حال تھا آدمی خود بخود اس کی طرف کھنچا چلا جاتا۔ میں اس کے ساتھ کئی دن گزار کر یہ بھی سمجھ چکا تھا کہ آخر ایک خوبرو امریکی لڑکی اس کی اتنی گرویدہ کیوں ہو گئی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پیچھے پیچھے یہاں تک چلی آئی؟ میرے خیال میں ایلن جاسپر کے پاس نظراللہ کی محبت میں گرفتار ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا لیکن جہاں یہ، وہیں یہ بات چھبتی تھی کہ چلو وہ تو چلی آئی، لیکن اگر اب تک واقعی زندہ تھی تو نظراللہ کی ہی وجہ سے غالباً اس وقت کسی سخت مشکل میں گرفتار ہے۔ نظراللہ کو اس بات کی چنداں پرواہ معلوم نہ ہوتی تھی، ایسا کیوں تھا؟ یہ بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
ایک لحاظ سے کہوں تو مجھے قندھار میں نظراللہ کی پہلی بیوی سے ملاقات کا اب افسوس ہو رہا تھا۔ اگر میں اس سے بات نہ کرتا تو وہ کبھی بھی مجھے اس بات پر قائل نہ کر سکتی تھی کہ دراصل وہ اور ایلن اچھی دوست بن چکی تھیں۔ یہ نہ ہوتا تو میں اس معاملے کو سادہ ہی رہنے دیتا اور نہایت آسانی سے مان لیتا کہ پہلی شادی کی وجہ سے ایلن بدظن ہو گئی ہو گی۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ اگر ان کے بیچ اتنے اچھے مراسم پیدا ہو چکے تھے، نظراللہ بھی اگر ویسا ہی تھا جیسا نظر آ رہا تھا تو پھر آخر کیا ماجرا ہوا کہ بات المیے کے نہج پر پہنچ گئی؟
میرے لیے نظراللہ اور نور محمد کے بیچ موازنہ بھی دلچسپ تھا۔ نظراللہ غیر ممالک اور معاشروں میں بسر رکھنے کے باعث اب ذہنی طور پر آزاد ہو چکا تھا جبکہ نور ابھی تک خود کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اصل میں وہ ہر دم خود کو روک لگائے رکھتا، مثل جزیرہ باش ہو چکا تھا اور سوچ کے پانی سے گھرے اس ٹاپو سے نکلنے کی تگ و دود کر رہا تھا۔ دوسری جانب نظراللہ وسیع نظری کے ساتھ مسائل کے سامنے منہ در منہ کھڑے ہونے کے قابل تھا اور ایک افغان کا اس قدر صاف گو ہونا، واقعی غیر معمولی بات تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ نظراللہ سچا اور کھرا آدمی تھا یا پھر دوسری صورت وہ تدبیر سے کام لینے کا اہل نہیں تھا۔ نور کے متعلق بجا طور پر یہ کہا جا سکتا تھا کہ وہ ہمیشہ چالاکی سے کام لیتا تھا اور ہر معاملے کو ساز باز سے برتنے کا طریقہ اچھی طرح جانتا تھا۔ ان دونوں میں جو واقعی فرق تھا، وہ ان دونوں کی سوچ کا تھا۔ دونوں ہی اپنے ملک کے خیر خواہ تھے، لیکن اس دیس کو درپیش مسائل کے حل کی تدبیر بارے مختلف رائے رکھتے تھے۔ وہ یوں کہ نور روایت پسند واقع ہوا تھا۔ اس کا ایک بھائی روشن خیال ملا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ دراصل افغانستان کی بقا اسی میں ہے کہ انفرادی اور اجتماعی، دونوں ہی سطح پر اسلام کی روح کو اصل معنوں میں زندہ کر دیا جائے۔ نظراللہ کا معاملہ دوسرا تھا۔ طویل مکالمے کے بعد میں نے یہ جانا کہ وہ اسلام اور اس کے احیاء کے بارے کوئی زیادہ فکرمند نہیں ہے بلکہ اس کو تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ چونکہ وہ اب تک کئی مذاہب کا بغور مطالعہ کر چکا تھا، اس نے قریب سے مشاہدہ بھی کر رہا تھا، تبھی اس کا بھی یہی ماننا تھا کہ تینوں بڑے صحرائی مذاہب یعنی اسلام، عیسائیت اور یہودیت ہی انسان کے لیے کارآمد ہیں لیکن افغانستان کے سماج اور روایت کے ساتھ اسلام زیادہ میل کھاتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ '۔۔۔یہ تو ہے لیکن دیکھو، اس قوم کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا سیکھ لے۔ اسلام کا اپنی اصل شکل میں احیاء؟ میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن جدید معاشی نظام، عوام کی نمائندہ حکومت، ڈیم، سڑکیں اور منافع بخش زراعت وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں اور ہم ان چیزوں کو خود بنا سکتے ہیں'
یہ کہہ کر اس نے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخیں تھیں اور جوش سے کہا تھا، 'ملر۔۔۔ اپنی بات سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ میں تمھیں ڈیم کی جگہ دکھانے لے چلوں۔ کہو، کس وقت چلیں؟'
اس پر نور ایک دفعہ پھر تلملایا کہ وہ جگہ قلعہ بست سے بہت دور تھی لیکن نظراللہ نے اس کی ایک نہیں سنی، 'آج نہیں تو کل۔۔۔ کسی دن تو تمھیں وہاں جانا ہی پڑے گا۔ چلو، جیپ تیار کرواؤ' اس کے احکامات سنتے ہی کیمپ میں افراتفری مچ گئی اور پندرہ منٹ کے اندر ہی ہم روانگی کے لیے تیار تھے۔ 'تم افغانستان کا مستقبل دیکھنے جا رہے ہو!' اس نے مجھے یقین دلایا۔
ہم شہر کی بیابان گلیوں سے گزرتے ہوئے فصیل سے باہر نکل آئے۔ ہم تین جیپوں کے قافلے میں سفر کر رہے تھے۔ اصل میں نظراللہ کا ماننا تھا کہ صحرا میں مشینوں کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ پورا دن سفر کرنے کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ہم گرشک کے قصبے میں پہنچے اور یہاں بیچ چوراہے میں بجائے قندھار جاتے، دوسری جانب کچے اور دشوار گزار راستے کی طرف مڑ گئے۔ آخر کار ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے آگے گاڑیوں کا جانا محال تھا اور پگڈنڈیاں نکلتی تھیں۔ ہم نے جیپوں پر پہرہ بٹھایا اور خود پہاڑی راستے پر اوپر چڑھنے لگے۔ جب اس پہاڑ پر کافی اونچائی پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ دوسری جانب بہت ہی نیچے گہری گھاٹی میں دریائے ہلمند جیسے بپھرا ہوا، شور سے آسمان سر پر اٹھائے ڈھلوان میں بہہ رہا ہے۔
'ایک بہت ہی بڑا، جیسا کہ جرمن اور امریکی ماہرین نے تجویز کیا ہے، ویسا ڈیم بنانے کے لیےدو چیزیں درکار ہیں۔ اول ایک تنگ گھاٹی اور دوم گھاٹی کے نزدیک اونچا پہاڑ۔۔۔ تم نیچے دیکھو تو گھاٹی ہے اور۔۔۔' اس نے چھڑی سے پیروں کی طرف اشارہ کیا، 'جہاں ہم کھڑے ہیں، یہ پہاڑ اس مقصد کے لیے موزوں ہے'
'ان دونوں چیزوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟' نور نے پوچھا،
'اس پہاڑ سے نیچے گھاٹی کی طرف ایک سڑک نکالیں گے۔ پھر گھاٹی کو پار کرنے کے لیے، خاصی اونچائی پر ایک عارضی لیکن مضبوط پل بھی بنانا پڑے گا۔ جب یہ ہو رہے تو اس پہاڑ میں بارود لگا کر بڑے پتھر پھاڑ اور روڑا نکال کر ٹرکوں میں لاد کر اس پل سے نیچے دریا میں گراتے رہیں گے۔ کم از کم تین سے چار سال تک، ہر روز دن اور رات مسلسل ٹرکوں میں لدا یہ ملبہ دریا کے راستے میں پھینکتے رہیں گے تو آخر کار ایک ڈیم بن جائے گا'
اس نے ہمیں سڑک کا نقشہ سمجھایا اور مجوزہ پل کے جگہ کی نشاندہی کی، جو واقعی کافی اونچی جگہ تھی۔ 'ہم ٹرکوں میں پتھر اور ملبہ بھر بھر کر اس پل سے نیچے گرائیں گے تو پہلے سات ماہ کچھ نہیں ہو گا۔ دریا اپنے راستے میں آنے والے کسی پتھر، پڑی اور ملبے کو خاطر میں نہیں لائے گا اور ساتھ بہا لے جائے گا جیسے یہ تنکے ہوں۔ لیکن ایک دن ایسا آئے گا کہ پتھروں کی بڑی پڑیاں دریا کی تہہ میں جم کر جگہ بنانا شروع کر دیں گی اور دریا پیچھے ہٹنا شروع ہو جائے گا۔ یہ پہلے زیادہ معلوم نہیں ہو گا لیکن رفتہ رفتہ اس کی بنیاد پڑ جائے گی۔ جس دن یہ ہوا تو مانو، ہم نے دریا کے منہ زور گھوڑے کو نکیل ڈال دی۔ اس کے بعد ہم اپنے منصوبے پر واقعی کام شروع کر سکیں گے'
اس نے ہینڈ بیگ میں سے ایک خاص قسم کی دوربین نکالی اور مجھے پہنا دی۔ میں نے دوربین سے پورے علاقے کا جائزہ لیا تو مجھے شمال کی جانب کچھ کٹی پھٹی چٹانیں نظر آئیں جو ڈیم کی اصل جگہ کی نشاندہی تھی۔ جنوب کی طرف، پانی کی حالیہ سطح سے کافی اونچائی پر نظراللہ نے کچھ مزید نشان دیکھنے میں میری مدد کی اور پوچھا، 'تمھارے خیال میں یہ کس چیز کی نشانی ہے؟' میں نے اپنی بے علمی کا اعتراف کیا تو اس نے بتایا، 'اس مقام پر سرنگ ہو گی۔ جب ہم پہاڑ میں بارود لگا کر پتھر نکالیں گے تو قدرتی طور پر ایک سرنگ بھی کھدتی چلی جائے گی۔ جب دریا کا راستہ رکے گا تو پانی کا لیول بڑھ کر اس جگہ تک پہنچ جائے گا اور راستہ بدل کر سرنگ میں بہنا شروع کر دے گا جو دوسری طرف نکلے گی جہاں سے ہم ابھی اوپر آئے ہیں۔ پھر ہم سینکڑوں ٹرکوں میں ہزاروں ٹن پتھر مزید بھر کر لائیں گے اور گھاٹی میں بھر دیں گے۔ جب یہ پتھر بھی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے تو اوپر کنکریٹ کی لپائی کر دیں گے، یوں افغانستان کا سب سے بڑا ڈیم بن جائے گا'
گرچہ نظراللہ نے نہایت سادہ الفاظ میں منصوبے کے خدوخال سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ اس قدر بڑا منصوبہ تھا کہ مجھے اپنے تخیل میں اس کو سمیٹنے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ نور نے چونکہ تفصیل کے ساتھ اس پورے علاقے کا سروے کر رکھا تھا، اس کے لیے اپنے دماغ میں یہ دیوہیکل تعمیر پہلے سے موجود تھی۔ دریا سے کئی سو فٹ اوپر ایک جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا، 'پانی کی سطح اس مقام تک اٹھ جائے گی۔ بہار کے موسم میں، جب پانی کی ضرورت نہیں ہوتی، ہم سیلابی پانی جھیل میں جمع کر لیں گے اور گرما کے موسم میں اس وقت استعمال کریں گے جب فصلوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مںصوبے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ایک طرف ضرورت کے عین مطابق آب پاشی ہو گی بلکہ دوسری طرف جب سرنگ میں یہ پانی پریشر کے ساتھ بہے گا تو ہم اس سے بجلی بھی پیدا کریں گے۔ یہ بجلی پہاڑوں میں تاریں بچھا کر قندھار کو بھی روشن کرے گی'
اس قدیم شہر کا جو حال میں نے دیکھ رکھا تھا، اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا، 'لیکن میرے اندازے کے مطابق قندھار میں بجلی کی کھپت اتنی زیادہ تو نہیں ہو سکتی'
'تمھارا اندازہ غلط ہے' نور نے جوش سے کہا، 'جرمنی میں ہم نے لگ بھگ پندرہ کے قریب قدیم سماجوں پر تحقیق کی تھی' مجھے اس کے منہ سے کسی معاشرے کے لیے قدیم کا لفظ سن کر عجیب محسوس ہوا کیونکہ ہمارے سفیر نے ہمیں یہ لفظ استعمال کرنے سے منع کر رکھا تھا، اس کے خیال میں یہ افغانوں کی توہین کے مترادف تھا، 'ہم نے اس تحقیق میں یہ جانا جب پہلے پہل، اولیٰ کے دنوں میں آب پاشی کے لیے ڈیم بنانے کا رواج بڑھا تو معیشت کے ماہرین ہمیشہ ہی اس بات پر نالاں رہا کرتے تھے کہ آخر بجلی بنانے کے لیے جنریٹر پر پیسہ ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کی دلیل یہ ہوتی تھی کہ یہ لوگ اس قدر پسماندہ ہیں کہ بجلی کا استعمال کہاں کریں گے؟ لیکن ہر جگہ ہوا یہ کہ پانچ سال بعد بجلی کی مانگ میں ہوشربا اضافہ ہوتا رہا۔ جس بجلی کو وہ فضول خرچی سمجھتے تھے، اس کا استعمال اتنا بڑھ گیا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے علیحدہ ڈیم بنانے کی ضرورت پیش آ گئی۔ اگر ہم قندھار میں بجلی پہنچا دیں تو لوگ خود بخود ہی اس کے استعمال کے طریقے ڈھونڈ لیں گے۔ ترقی کی اپنی راہ ہوتی ہے، اس کے آگے بڑھنے کے انوکھے محرکات ہوتے ہیں!'
یہ نظریہ میرے لیے اس قدر نیا تھا کہ میں نے سمجھنے کی غرض سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس ایسے کسی قدیمی معاشرے کی دنیا میں تازہ ترین مثال ہے جہاں ایسا ہمارے سامنے ہو چکا ہو؟ 'اس کی کلاسک مثال امریکہ میں ٹینیسی ویلی اتھارٹی ہے' اس نے فوراً ہی کہا۔
'میرا نہیں خیال کہ ٹینیسی میں کوئی قدیم معاشرہ ہے' میں نے رکھائی سے جرح کی،
'میرا خیال تم سے مختلف ہے' اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا، 'کم از کم پہاڑی علاقہ تو انتہائی قدیم ہے۔ میں نے اس علاقے پر جاری ایک تحقیق میں حصہ لیا تھا۔ تم اس کا مقابلہ دنیا سے کر رہے ہو، وہ نیویارک کے مقابلے میں قدیم ہی گردانی جائے گا۔ یہ ایسی ہی مثال ہے کہ گرشک کا قصبہ کابل کے مقابلے میں کہیں قدیم اور پرانا ہے۔ ٹینیسی ویلی اتھارٹی کو حال ہی میں یہ مسئلہ پیش آیا ہے کہ وہ مانگ کے مطابق بجلی پیدا کرنے میں سخت مشکلات سے دوچار رہی ہے'
اگرچہ میں اس کی اس بات سے متفق نہیں تھا کہ وہ میرے ملک کے ایک حصے کو 'قدیم' اور 'پسماندہ' گردانے، کیونکہ عام طور پر ہم امریکیوں نے اس طرح کی اصطلاحات دوسری قوموں کے لیے مختص کر رکھی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود میں اس کے جوش و خروش اور اپنے کام سے لگاؤ کو دیکھ کر کافی متاثر ہوا۔ یہی نہیں بلکہ وہ اپنے ملک کے لیے ترقی کے نشان بھی ڈھونڈ رہا تھا، خوشحالی کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اس کی اس بابت بصیرت بھی قابل تعریف تھی، وہ اکثر شاعرانہ رنگ بھر دیتا تھا۔ مثال کے طور پر اس نے نیچے گھاٹی میں بہتے ہوئے منہ زور دریا کی طرف دیکھا اور نرمی سے بولا، 'ملر۔۔۔ یہ کیا ہی عمدہ خیال ہے، نہیں؟ وہ دن کیسا دن ہو گا جب ہم اس متلاطم دریا میں پہلا پتھر پھینکیں گے؟ اسے تو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا ماجرا ہونے جا رہا ہے؟ لاکھوں سال سے اس میں مٹی اور پتھر سرک کر گرتے آئے ہیں لیکن یہ ہمیشہ ہی اس ملبے کو بہا کر راستے سے ہٹا دیتا تھا۔ لیکن یہ چٹانیں اور سلیں جو ہم پھینکیں گے، مختلف ہوں گی۔ یہ تو ایسی چیز کی شروعات ہے جسے یہ دریا بھی روک نہیں پائے گا۔ ہم اس کو نکیل ڈال کر رہیں گے۔۔۔ ہم نہیں رکیں گے' اس نے ہوا میں مکا لہرا کر جذبات کا اظہار کیا، ایسے جیسے خیال میں اس نے ابھی ابھی پتھروں سے بھرا کوئی ٹرک پل سے نیچے الٹا دیا ہو۔
وہ ہماری طرف مڑا تو میں نے دیکھا، اس کی آنکھوں میں چمک تھی، 'جیسے دریائے ہلمند، ویسے ہی ہمیں افغانستان کے انسانی دریا میں بھی ہر روز پتھروں سے بھرے ٹرک الٹنے کی ضرورت ہے۔ اس گھاٹی میں ترقی کا ڈیم بنانے کے لیے یہاں ایک سکول، وہاں سڑک، ادھر بجلی اور ادھر۔۔۔ کچھ بھی، کوئی بھی پتھر ہو۔ اس انسانی دریا کو ابھی تک احساس ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی اثر ہوتا دکھائی دیتا ہے لیکن ہمیں تھک ہار کر رکنے کی بجائے یہ پتھر پھینکتے رہنا ہو گا، یہاں تک کہ ہم اس کی ہئیت مکمل طور پر بدل کر رکھ دیں'
میں نے نیچے گھاٹی میں دیکھا تو دریا خود سری سے، چٹانوں کو روندتا اور آزادی سے شور مچاتا ہوا بہہ رہا تھا، مجھے ایسے لگا جیسے یہ افغانستان کی آزادی اور خود سری کی طرح ہی ہے۔ میں منہ ہی منہ میں بڑبڑایا کہ یہ دریا آزاد اور خود سر کتنا بھلا لگتا ہے؟ آخر اس کو روک لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
یہ سن کر نظراللہ نے مجھے بازو سے پکڑ کر تقریباً جھنجھوڑا اور سختی سے پوچھا، 'تم نے کیا کہا؟'
'میں نے کہا، اس بانکے دریا کو روک لگا کر ڈیم میں بدل دینا کس قدر تاسف کی بات ہو گی'
'یہ ناقابل یقین ہے۔۔۔' وہ بڑبڑایا۔ اس کے انداز میں تعجب اور نہ ہی غصہ تھا بلکہ میں اس کی کیفیت کو سمجھ نہیں پایا، 'ملر یہ واقعی ناقابل یقین بات ہے' اس نے انگلیاں چٹخائیں، اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرا اور مجھے یوں گھور کر دیکھا جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو، 'یہاں، اسی جگہ پر کھڑے کھڑے ایلن نے بھی ہو بہو یہی الفاظ کہے تھے!' پھر اس نے بے چینی سے ہاتھ ملے اور بے صبری سے کہا، 'تم امریکیوں کو خدا غارت کرے، خواہ مخواہ ہی جذباتی ہو جاتے ہو۔ تم نے اپنا دیس تو سدھار لیا لیکن اگر کوئی دوسرا یہی کام کرنا چاہے تو تم اس پر تنقید کرنے لگتے ہو؟'
'میرا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا، میں تو صرف ایک بات کہہ رہا ہوں۔۔۔' میں نے احتجاج کیا،
'ایلن بھی صرف ایک بات ہی کہہ رہی تھی' اس نے پلٹ کر کہا، 'اصل میں تم دونوں کا مطلب یہی تھا کہ ٹینیسی کو ہر گز قدیم نہ سمجھو اور جدید سے جدید تر بناؤ لیکن اچھا یہی ہے کہ افغانستان قدیم اور پسماندہ ہی رہے، جہاں امریکی اجڈ اور پسماندہ لوگوں کا تماشا کرنے آیا کریں۔ ملر۔۔۔ ایسا مزید نہیں چلے گا، ہم بالآخر اس صورتحال کو بدل دیں گے!'
'میں بھی دل سے یہی چاہتا ہوں۔ شاید ایلن کا بھی یہی خیال تھا کہ پرانے طریقے اور پرانا زمانہ بہتر ہے۔ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسی بات پر یقین رکھتی ہے لیکن میں نہیں۔۔۔'
'تم کس بات پر یقین رکھتے ہو؟' وہ تنک کر میری بات کاٹتے ہوئے بولا،
'میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ آزادی کھو جائے تو اس سے بڑے دکھ کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے تو کابل میں امریکی سفارتخانہ ہے، اس کی فوجیں نہیں۔۔۔ اس سفارتخانے کا کام افغانستان کی خود مختاری اور آزادی کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی مدد کرنا ہے!'
'وہ تو امریکیوں کو ایسے یا تیسے، مجبوراً کرنی ہی پڑے گی۔۔۔' اس کے لہجے میں تلخی تھی، 'کیونکہ اگر تم نے یہ مدد نہ کی تو روس کب سے تیار بیٹھا ہے!'
'وہ کس لیے؟' میں نے بھی درشتی سے پوچھا لیکن وہ کوئی جواب دیے بغیر ہی مڑا اور غصے میں جہاں سے ہم آئے تھے، اسی پگڈنڈی پر راہ لی۔ جب ہم اس کے پیچھے خاموشی سے وہاں پہنچے جہاں جیپیں کھڑی تھیں، وہ ایک جیپ میں بیٹھا اور گرشک کی جانب نکل گیا۔ میں اور نور اس کے ایک ماتحت انجنئیر کے ساتھ پیچھے ہی رہ گئے۔ ہم بھی اس کے پیچھے قلعہ بست کے لیے روانہ ہو گئے۔ راستے میں بارہا میں نے دیکھا کہ جب کبھی ہماری گاڑیاں صحرا میں ایک دوسرے سے آگے نکلتیں تو نظراللہ کسی گہری سوچ میں مبتلا، گاڑی کے دروازے پر کہنی اور سر مٹھی پر ٹکائے چپ چاپ دوسرے ہاتھ میں سٹئیرنگ تھامے، جیپ چلاتا ہوا نظر آ جاتا۔ میں نے دیکھا، اس کے چہرے پر گہرے تفکر کے سائے تھے۔
۔کارواں (افغانستان کا ناول) - اگلی، نویں قسط یہاں ملاحظہ کریں - لنک -

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر