کارواں - نویں قسط


ہم قلعہ بست کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن محراب ابھی نظروں سے اوجھل تھی۔ میں نے دیکھا کہ دور سے ایک جیپ تیز رفتاری سے ہماری جانب ہی بڑھ رہی ہے۔ جیپ کی پشت پر رفتار کے باعث دھول کے طوفان سے ڈرائیور کی بے چینی اور معاملے کی سنگینی کا مجھے دھڑکا لگ گیا۔ ہم اس کے نزدیک پہنچے تو دیکھا کہ دراصل یہ ایک فوجی جیپ ہے جس میں ڈاکٹر شواٹز اور ایک افغان سپاہی سوار ہے۔ وہ دونوں ہمیں کیمپ میں نہ پا کر تلاش میں نکلے ہوئے تھے،
'نظراللہ کہاں ہے؟' شواٹز نے مجھے دیکھتے ہی چلا کر پوچھا،
'وہ آ رہا ہے۔۔۔' میں بھی جواباً چلایا،
بالآخر تینوں جیپیں صحرا کے بیچ ایک ہی جگہ پر پہنچ کر رک گئیں تو شواٹز نے جرمن زبان میں کہا، 'میرے پاس ایک بری خبر ہے!'
یہ کہا اور پھر وہ اور نظراللہ جرمن زبان میں باتیں کرتے رہے۔ میرے پلے پوری بات تو نہیں پڑی لیکن اندازہ ہو گیا کہ یہ امریکی انجنئیر پچرڈ سے متعلق کوئی اطلاع ہےجو چند ماہ قبل دشت مارگو پار کر کے، بہار کے موسم میں دریائے ہلمند کے پانی سے متعلق بہاؤ کا اندازہ لگانے نکلا تھا۔ وہ دونوں آپس میں ہی بات چیت کیے جا رہے تھے۔ شاید کوئی بہت ہی اہم بات تھی، میں بہرحال بے صبری سے وہیں کھڑا انتظار کرتا رہا۔ چند منٹ بعد جب ان کو میری بے چینی کا خیال آیا تو شواٹز نے کہا، 'ملر، میرا یہاں آنے کا مقصد تم تک پہنچنا تھا!'
'ارے، کچھ بتاؤ تو سہی۔۔۔ آخر ہوا کیا ہے؟' میں نے جھلا کر کہا،
'تمھارے لیے سفارتخانے سے ایک سرکاری پیغام آیا ہے!' نظراللہ نے جواب دیا اور اس نے افغان سپاہی سے پشتو میں کچھ دریافت کیا۔ اس نے ایک کاغذ نکال کر تھما دیا جس پر امریکی سفارتخانے کی جانب سے موصول ہونے والی ہدایات درج تھیں۔ سفارتخانے نے قندھار میں فوجی ہیڈ کوارٹر سے آج صبح ہی رابطہ کیا تھا۔ ہدایات کچھ یوں تھیں،
'مسٹر مارک ملر، تم فی الفور چہار کے قریب اس قصبے میں پہنچو جہاں تین ہفتے قبل ایک حادثے میں پچرڈ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ تم ڈاکٹر شواٹز کو اس سفر کے دوران سفارتخانے کے کھاتے میں مناسب اجرت کے عوض اپنے ساتھ رکھو اور تمھارے لیے لازمی ہے کہ کم از کم دو جیپوں میں سفر کرو کیونکہ افغان حکومت کی جانب سے روانہ کی جانے والی ایک جیپ میں سوار افراد کی جانب سے ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔ یاد رہے، یہ سفر اختیار کرنے سے قبل اس علاقے سے متعلق جہاں تک ممکن ہو سکے، پوری معلومات حاصل کرو اور اچھی طرح چھان بین بھی کرو!'
یہ پیغام مورگن کی جانب سے ارسال کیا گیا تھا۔ میں خط کے مضطرب مندرجات پڑھتے ہی فوراً اس کی پریشانی کو بھانپ گیا اور کام پر جت گیا۔ سو چھوٹتے ہی شواٹز سے پوچھا، 'کیا تم نے یہ پیغام دیکھ لیا ہے؟'
'ظاہر ہے۔۔۔' اس نے جواب دیا،
'کیا تم جانا چاہتے ہو؟'
'میں تیار ہوں!'
'کتنی اجرت لو گے؟' اس سے پہلے کہ وہ اس بات کا جواب دیتا، میں اسے ساتھ لیے دوسروں سے الگ لے گیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر اس کام کی اجرت کتنی ہو؟ مجھے یقین تھا کہ اس نے میرے بارے اب تک اندازہ لگا لیا تھا کہ دراصل میں قندھار میں اس کی ٹوہ کیوں لگا رہا تھا۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ میں اس کے متعلق سفارتخانوں کو مثبت رپورٹ دوں تا کہ وہ فی الفور قندھار سے کابل جا سکے۔ اسی وجہ سے وہ جس قدر ممکن تھا، میری خوشنودی کے لیے کم سے کم اجرت پر بھی راضی ہونے کے لیے تیار تھا جو ایک لحاظ سے مناسب بات معلوم نہیں ہوتی تھی۔ دوسری جانب وہ ایک ماہر ڈاکٹر تھا اور اسے اپنی جرمن ڈگری پر خاصا رچاؤ بھی تھا۔ یہی نہیں بلکہ قندھار میں اس کی بئیر کا خرچہ بھی کافی زیادہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ضرور چاہتا ہو گا کہ اسے جس قدر ممکن ہو، زیادہ سے زیادہ اجرت ملے۔ اس صورتحال میں زیادہ اجرت کا مطالبہ بھی کسی صورت مناسب نہیں تھا۔ قصہ مختصر، یہ اس کے لیے نازک معاملہ تھا اور وہ دو دلی کا شکار تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ وہ اس بابت اپنے منہ سے کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے۔ پھر مجھے اس کی حالت دیکھ کر اپنے آپ پر شرم بھی آئی کہ میں نے نا سمجھی میں اس سے یہ سوال ہی کیوں کیا؟ ہم دونوں بہت اچھے دوست بن چکے تھے لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ شرمندگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حالات نے کیسا پلٹا کھایا کہ ایک جرمن، کسی یہودی کے سامنے مجبور کھڑا تھا۔
'شواٹز میں معذرت خواہ ہوں!' میں نے کھلے دل کے ساتھ بات شروع کی، 'میرے خیال ہے کہ تم سے پوچھنے کی بجائے، مجھے ہی پہل کرنی چاہیے تھی۔ ہم تمھیں دو سو ڈالر دیں گے اور اگر پانچ دن سے زیادہ سفر ہوا تو اس کے بعد ہر دن کے بیس ڈالر علیحدہ ملیں گے۔ کہو، کیا کہتے ہو؟'
شواٹز نے یہ سنتے ہی سکھ کا گہرا سانس لیا اور میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے کہیں کم اجرت کی توقع کر رہا تھا۔ وہ فوراً ہی بولا، 'مجھے منظور ہے!' وہ اب بار بار میرا شکریہ ادا کر تقریباً شرمندہ کرنے لگا۔ اس نے کہا، 'ملر، تمھیں اندازہ نہیں ہے کہ یہ افغان میری کمزوری کا کس قدر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جرمن بئیر کے عوض مجھے لوٹتے رہتے ہیں!'
'میں جانتا ہوں!' میں نے اس کو تسلی دی اور افغان سپاہی سے پوچھا، 'کیا تم ہمیں صحرا پار کرواؤ گے؟'
'وہ نہیں جائے گا!' نظراللہ نے تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا، 'میں خود تمھارے ساتھ جاؤں گا' پھر اس نے میری منظوری کے بغیر ہی اپنے ماتحت پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی، 'آج چاند کی کتنی تاریخ ہے؟'، 'کونسی جیپ سب سے بہتر حالت میں ہے؟' 'ملر، کیا تم اپنے ہنگامی راشن کے ڈبے استعمال میں لاؤ گے؟' 'پانی کتنا درکار ہو گا؟' 'گاڑیوں کا تیل پانی کتنی دیر میں چیک ہو گا؟' 'ٹول بکس کہاں ہیں؟' 'رسے اور چین کپیاں کتنی ہیں؟' وغیرہ وغیرہ۔ جب اس کو سارے سوالوں کے جواب مل گئے تو اس نے ہاتھ پر باندھی گھڑی دیکھی اور اعلان کرتے ہوئے کہا، 'ہم چالیس منٹ میں روانہ ہو جائیں گے۔ ہم ملر اور میری جیپ میں جائیں گے۔ ایک جیپ نور محمد اور دوسری میں خود چلاؤں گا۔ ہمارے ساتھ صرف شواٹز اور ملر جائیں گے۔ سب کام پر لگ جاؤ اور تیس منٹ کے اندر اندر جانے کی تیاری مکمل کر کے میرے خیمے کے سامنے پہنچ جاؤ!'
یہ کہہ کر وہ اپنی گاڑی میں سوار ہوا اور اسے قلعہ بست کی جانب دوڑاتا ہوا نکل گیا۔ ہم بھی اس کے پیچھے گاڑیوں میں سوار ٹوٹی ہوئی فصیل پار کر کے کیمپ میں پہنچ گئے۔ وہاں پہنچتے ہی وہ چلایا، 'نور محمد تم میرے ساتھ آؤ' اگلے چند منٹ کے اندر میں نے دیکھا کہ دو افغان نوکر نظراللہ کے احکامات کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے لگے، سامان لدا جانے لگا اور چونکہ یہ اس قدر نازک معاملہ تھا کہ تھوڑی سی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی، نور محمد نے اپنی نگرانی میں یہ کام مکمل کروایا اور سامان کی پوری جانچ کر لی۔ نظراللہ باقی انتظامات دیکھتا رہا اور ذاتی ضرورت کا سارا سامان تیار کروا لیا۔ 'فرنگی کے لیے پگڑی لاؤ!' اس نے چلا کر حکم دیا تو اس کے ماتحت انجنئیر نے دو نوکروں کے سروں سے پگڑی اتار کر حوالے کر دی اور یہ مسئلہ کھڑے کھڑے نبٹا دیا۔ 'تمھیں راستے میں اس پگڑی کی سخت ضرورت پڑے گی!' نور نے مجھ سے کہا اور ایک پگڑی اچھال دی۔ میں بھی جلدی سے اپنا ذاتی سامان باندھنے لگا۔
ہم روانگی کے لیے تیار ہو گئے تو رات کا اندھیرا پھیلنے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے۔ نظراللہ نے اپنے سٹاف اور افغان سپاہی کے ساتھ آخری دفعہ صلاح کی۔ نقشہ نکال لیا اور قلعہ بست کے نقطے سے صحرا کے بیچوں بیچ ایک دوسرے نقطے تک ایک لکیر کھینچی۔ اس نقطے پر 'خار' یعنی 'شہر' لکھا ہوا تھا۔ وہاں سے ایک دوسری لکیر جنوب کی جانب چہار کے دور دراز قصبے تک نکال لی۔ 'ہم اس راستے سے، پہلے شہر اور پھر چہار جائیں گے' اس نے احکامات جاری کیے، 'اگر خدانخواستہ کچھ ہو گیا اور تلاش ضروری ٹھہرے تو یاد رکھو، ہم اسی راستے پر، کہیں آس پاس ہی ملیں گے' نور محمد اور افغان سپاہی نے اپنے پاس موجود نقشوں پر بھی راستے کی نشاندہی نوٹ کر لی۔
'اب۔۔۔' نظراللہ نے زور دار آواز میں پوچھا، 'یہ بتاؤ کہ راستہ بھٹک جانے والے افغان سپاہی ہمیں کہاں مل سکتے ہیں؟'
اس نے اپنے سٹاف، نور اور سپاہی کی جانب دیکھا۔ سپاہی نے کہا، 'دس دن پہلے ہم نے ایک جیپ میں دو آدمیوں کو۔۔۔'
'ایک جیپ میں؟' نظراللہ نے داڑھی کھجاتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا،
'جی ہاں۔ ایک ہی جیپ میں۔۔۔'
'یا خدا۔۔۔' وہ بھڑک گیا، 'ایک ہی جیپ میں؟' پھر اس نے نقشے پر زور سے پنسل مار کر کہا، 'اس صحرا کو پار کرنے کے لیے۔۔۔ ایک ہی جیپ میں؟'
افغان سپاہی نے پرسکون انداز میں بات جاری رکھی، 'دس دن پہلے وہ قندھار سے روانہ ہوئے، گرشک پہنچے اور صحرا کے بیچوں بیچ یہ راستہ اختیار کیا' نظراللہ کے نقشے پر اس نے ایک لکیر کھینچی جو ہمارے مجوزہ راستے کے ساتھ صحرا کے درمیان میں جا کر مل گئی۔
نظراللہ نے کچھ سوچ کر کہا، 'اگر وہ واقعی اسی راستے سے گئے ہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ ہمیں سفر کے بیچ میں، اس دوسرے حصے کے دوران کہیں نہ کہیں نظر آ ہی جائیں گے'
میں نے لقمہ دیا، 'اگر ان کی گاڑی خراب ہو گئی ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے جھنڈا وغیرہ بھی لہرا رکھا ہو؟ تا کہ انہیں آسانی سے تلاش کیا جا سکے؟'
نظراللہ نے مجھے گہری نظر سے یوں دیکھا جیسے میں کوئی ناسمجھ بچہ ہوں اور افغان سپاہی سے پوچھا، 'کیا انہیں صحرا کی جانکاری تھی؟'
'وہ صحرا کے بارے پوری معلومات رکھتے ہیں!'
'کیا وہ احکامات کو سختی سے بجا آور لانے والے تھے؟'
'وہ احکامات کے بھی پورے پابند تھے!'
نظراللہ نے مزید کچھ منٹ نقشے کا بغور جائزہ لیا اور کہا، 'میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نقشے پر ہمارے راستے میں معمولی ردوبدل کر دو۔ ہم سیدھا جنوب کی طرف جانے کی بجائے، یہاں سے گھوم کر گزریں گے!' اس نے نقشے پر شمال کی جانب پینسل سے حلال کی شکل کا ایک ٹہوکا لگایا اور کہا، 'ہم اس روٹ سے ہر گز نہیں ہٹیں گے۔ دھیان رکھنا، سلام لیکم!' یہ کہا اور وہ جا شواٹز کو ساتھ تقریباً بھگاتے ہوئے لے گیا، گاڑی میں بیٹھ موڑ کاٹا اور کیمپ سے باہر نکلنے لگا۔ میں اور نور بھی اپنی گاڑی میں سوار ہو کر اس کے پیچھے نکل کھڑے ہوئے اور چند منٹوں کے اندر ہی ہم دوبارہ صحرا میں داخل ہو گئے۔ ہم اس وقت مغرب میں ڈوبتے ہوئے سورج کی طرف بڑھ رہے تھے۔ آگے پیچھے دو جیپوں کا یہ قافلہ جن کی پشت پر لوہے کے اونچے ڈنڈوں پر سفید کپڑوں کے چوکور جھنڈے نما ٹکڑے لہرا رہے تھے۔
افغان صحرا جسے دشت مارگو کہا جاتا ہے، کوئی روایتی صحرا نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ جا بجا ریتلے حصے ضرور ہیں جیسے صحراؤں میں عام ہوتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی اس کا بڑا حصہ پرت دار چورے پر مشتمل ہے۔ سائنسی زبان میں اس بے کار نامیاتی ملبے کے چورے کو ڈیٹرس کہا جاتا ہے جو پتھریلے پہاڑوں میں لاکھوں سال جاری رہنے والے کٹاؤ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ چورا طوفانوں میں کوہستانوں سے سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر صحرائی میدانوں میں جمع ہوتا رہتا ہے جیسے اس کا ایک دریا بہہ رہا ہو۔ دشت مارگو میں پہاڑوں کی تباہی کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اس فاضل مادے کی کئی پٹیاں عام مل جاتی ہیں جو عموماً ایک یا دو میل چوڑی ہوتی ہیں لیکن صحرا کے سینے پر لکیر کاٹتی ہوئی دور تک نکل جاتی ہیں۔ ان پٹیوں کے دونوں اطراف میں ریت کے وہی ٹیلے دور سے نظر آتے ہیں جو عام طور پر کسی بھی صحرا کی مانوس شکل ہے اور عام طور پر انہی پٹیوں پر گاڑیاں زیادہ سے زیادہ چالیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہیں۔
اس صحرا کی ایک دوسری چیز بھی قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ جوں جوں صحرا میں دور نکل جائیں، سبزہ نام کی تو خیر کوئی چیز ہی نہیں ہے۔۔۔ کہو، کوئی کام کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ انسانوں کی موجودگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چٹانیں ہیں لیکن بالکل چپت، جن پر کائی تک نہیں اگ سکتی۔ ان چٹانوں کی درزیں بھی خشک ہوتی ہیں، نمی اور سبزہ ناپید ہوتا ہے۔ یہاں جھاڑ، پرندے اور صحرائی چھپکلیاں تو دور کی بات، سانپ بھی نہیں بستے۔ گھاٹیاں تو ہیں لیکن ان میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملتا۔ مجھے یہ بات بہت عجیب محسوس ہوئی کہ دور دور تک کسی گم گشتہ بستی کا کوئی نشان بھی نظر نہیں آیا، کوئی نشانی بھی نہیں بچتی۔ میں نے یہاں صرف اور صرف تپتی ہوئی گرمی ہی دیکھی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم ریت کے ٹیلوں کے درمیان میں سے گزر رہے تھے، میں نے سوچا کہ شمالی اور جنوبی قطب جمے رہتے ہیں۔ وہاں بھی برف کے نیچے پانی پگھل جاتا ہے اور اگر زیادہ کچھ نہیں، حشرات تو مل ہی جاتے ہیں۔ دشت مارگو میں تو گرمی اور موت کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ انتہائی حیران کن بات تھی۔
'اس وقت درجہ حرارت کیا ہو گا؟' میں نے نور سے پوچھا،
'کم از کم چون ڈگری تو ہو گا لیکن اصل میں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے!' اس نے گاڑی کے ایکسلیٹر پر پیر دبائے رکھا اور اردگرد منظر کو تاڑتے ہوئے کہا، 'اصل مسئلہ تو یہ ہوائیں ہیں۔۔۔' اس نے گاڑی کی رفتار بالکل دھیمی کر کے ہوا میں ہاتھ لہرا کر اڑتی ہوئی ریت ہتھیلی پر محسوس کی اور بولا، 'اس وقت ہوا کی رفتار کم از کم تیس میل فی گھنٹہ ہو گی۔ اگر یہ ہوا پچاس میل یا اس سے زیادہ کی رفتار سے چلنے لگی تو سمجھو، موت ہے!'
اب مجھے سمجھ میں آیا کہ نظراللہ ایک جیپ روانہ کرنے پر افغان سپاہی کو لتاڑ کیوں رہا تھا اور اس نے دو گاڑیاں اور دونوں گاڑیوں کے پیچھے لوہے کے لمبے ڈنڈے باندھ کر کپڑے کے چوکور جھنڈے نما سفید ٹکڑے کیوں لہرائے تھے؟ معاملہ یہ تھا کہ صحرا کا میدان معمولی نہیں ہوتا، ہماری گاڑیاں گاہے بگاہے ٹیلوں میں ایک دوسرے سے دور نکل کر بچھڑ جاتیں۔ اصل میں دونوں جیپوں کے ڈرائیوروں کو راستے کا پتہ ہی نہ چلتا تھا، جس کو وہ سڑک سمجھتے آگے نکل کر صحرا کی ریت ہوتی۔ کوئی ایک ڈرائیور ضرور ہی درست سمت میں، سڑک پر رہ جاتا جبکہ دوسرا بھٹک کر گہری ریت میں پہنچ جاتا۔ جب یہ ہو رہتا تو پھر بھٹکنے والا ڈرائیور وہیں سے گاڑی موڑتا اور واپس سڑک پر آن کر ٹکتا جہاں کھڑے ہو کر وہ دوسری گاڑی کا جھنڈا تلاش کرتا اور اس کے پیچھے، اسی کی سمت میں گاڑی دوڑا کر نزدیک پہنچنے کی کوشش کرتا۔ اس دوران وہ ایک دوسرے کا انتظار نہیں کرتے تھے اور چلتے ہی رہتے لیکن یہ ضرور تھا کہ دونوں ڈرائیور چوکس رہتے اور یقینی بناتے کہ وہ ایک دوسرے سے زیادہ دیر بچھڑے نہ رہیں اور نہ ان کے بیچ فاصلہ بہت زیادہ بڑھ جائے۔ اس مقصد کے لیے بھی جھنڈے ہی کام آتے تھے۔
'کیا یہ ممکن ہے کہ تم صحرا کی ریت میں گم ہو جاؤ؟'
'اسی بات کا تو ہر وقت خطرہ رہتا ہے، شاید لاپتہ ہونے والی جیپ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اسی وجہ سے تو دوسری گاڑی، دوسرا جھنڈا لازم ہوتا ہے!'
ہمیں صحرا میں سفر کرتے ہوئے تقریباً سوا گھنٹہ گزر چکا تھا۔نظراللہ کی جیپ ہم سے آگے تھے، اس نے یکدم بریک لگائی اور میں نے دور سے دیکھا کہ جھنڈا ایک ہی جگہ ٹک گیا ہے۔ میں اور نور دونوں ہی گھبرا گئے کہ کیا آفت آن پڑی ہے؟ ہم گاڑی دوڑاتے ہوئے قریب پہنچے تو اس نے دور سے ہمیں رک کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر اس نے ایک جانب توجہ دلائی جہاں غزال ہرنوں کا ایک چھوٹا سا جھنڈ سورج کی مدھم ہوتی زرد روشنی میں جانے کہاں سے اس بیابان میں نکل آیا تھا۔اس صحرا کے بارے پہلے میرا اندازہ تھا کہ چرند پرند تو دور کی بات حشرات بھی نہیں پائے جاتے تو پھر غزال؟ یہاں سبزہ تو دور، پانی کی ایک بوند بھی میسر نہ تھی لیکن یہ غزال ہرن اس صحرا کے ان گوشوں سے شناسا تھے جن تک ہم انسانوں کی نظر اور نہ ہی عقل کسی صورت پہنچ سکتی تھی۔
پہلے تو سمجھ نہ آئی کہ آخر تپتے ہوئے صحرا میں غزالوں کا یہ جھنڈ دیکھ کر مجھے عجیب سی خوشی کیوں ہوئی؟ میں مسحور ہو کر رہ گیا تھا۔ جہاں تھا، وہیں مبہوت زمین پر بیٹھ گیا اور ٹکٹکی باندھے ان چھوٹے چھوٹے نازک جانوروں کو دیکھتا رہا جو صحرا کی گرم ریت پر بانکپن سے ایک ہی جگہ تھم کر کھڑے تھے۔ میں سوچنے لگا کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی یہاں موجودگی، آخر اس حال کے معنی کیا ہیں؟ افغانستان کی لوک کہانیوں میں جا بجا ایسی وادیوں کا ذکر ملتا ہے جہاں گڈریے اپنے ریوڑوں کو نہیں بلکہ جانور انسانوں کو گھاس اور پانی تک لے جاتے ہیں۔ یہ غزال ہرن یہاں کیا کر رہے تھے؟ میں انہیں دیکھ کر اس قدر دم بخود کیوں ہو گیا تھا؟ کچھ سمجھ نہ آئی۔
غزالوں کے جھنڈ میں دو چار ہرن ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کا کام اردگرد نظر رکھنا ہوتا ہے۔ انہی میں سے کسی ایک نے غالباً ہمیں جھنڈ کے اس قدر قریب دیکھ لیا تھا، تبھی ان میں یکدم کھلبلی مچ گئی۔ ہائے کیا نظارہ تھا۔۔۔ جیسے مادیت ختم ہو گئی، کشش ثقل ہوا ہو گئی اور میں نے دیکھ کہ ایک ساتھ کئی ہرن پھدکے اور یہاں، وہاں پھلانگنے لگے اور پیچھے پیچھے پورا جھنڈ پاگل ہو گیا۔ایسے لگا جیسے سورج کی زرد روشنی میں کوئی شرلی پھوٹ رہی ہے، آگے پیچھے، خم کھاتے اور پھر پیچھے مڑ کر آگے کی جانب کودتے ہوئے، جیسے پریت ہوں، ہرن صحرا میں بھاگنے لگے۔ میں نے اس سے قبل کبھی کسی جاندار کو اتنی خوبصورتی سے حرکت کرتے نہیں دیکھا تھا۔ جوں جوں یہ پناہ گاہ تلاشتے، مدھم پڑتی موسیقی کی لے کی مانند ہم سے دور ہونے لگے تو اچانک ایک غزال ہرنی، جس کا قد چھوٹا اور سینگ بھی نہیں تھے کودی اور سیدھی ہماری جانب دوڑی آئی۔ اس کا لچکاتا جی اور پھولی سانس میں دھڑکتا ہوا جسم دیکھ کر ایسا لگا جیسے طرح دار شاعری کی کوئی گرہ ہوتی ہے۔ وہ جیپیں دیکھ کر گھبرائی اور ہوا میں اچھل کر پلٹی، پھر ریت پر اپنے اگلے دونوں کھر مار کے، جہاں سے آئی تھی اسی سمت میں واپس دوڑ گئی۔ ہرنی کی یہ ادا دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا، میں خوشی سے پاگل ہو گیا۔ میری آنکھیں بھر آئیں۔ پھر سمجھ میں آیا کہ اس فرط کی وجہ یہ تھی کہ دراصل ہرنی کا نچلا دھڑ خاکستری رنگ کا تھا۔ خاکستری۔۔۔ وہی رنگ، جس رنگ کا برقعہ شاہ خان کی نواسی نے کابل کے بازار میں اوڑھ رکھا تھا۔ صدیقہ کے بانکپن اور اس غزال ہرنی کی چال میں مجھے چنداں فرق محسوس نہ ہوا۔ وہ جانور تو نہیں تھی، صدیقہ غزال ہرنی بھی نہیں تھی۔۔۔ اصل میں وہ میرے اندر کی اشتہا اور پیاس کا مجسم تھی۔ اس دیس میں، جہاں ہر چیز بھدی محسوس ہوتی تھی۔ جہاں چاروں طرف صرف مرد ہی مرد نظر آتے تھے، اس غزال ہرنی نے بھی مجھے اس بیابان صحرا میں نسوانیت کی ہری بھری، شوخ یاد دلا دی تھی۔ ہرنی کی چال چلتی، ہرنی سا رقص اور اس دنیا کی اصل رنگ برنگی۔۔۔ میرا خیال وجود زن کے رنگوں سے بھر گیا۔ میں اس ہرنی کو حسرت سے دور جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا۔ نظریں اس کے راستے کا طواف کرتی رہیں، وہ میری آنکھوں کے سامنے ایک ٹیلے کے پیچھے گم ہو گئی اور پیچھے نازک قدموں کے نشان ہی رہ گئے تو میں انہیں ہی ٹکر ٹکر دیکھتا رہا۔ میری آنکھیں بھیگ چکی تھیں اور غزال ہرنی کے چلے جانے کا دکھ اس قدر گہرا ہو گیا کہ مجھے لگا جیسے میں یہ دکھ کبھی نہیں سہہ سکوں گا۔ میرا دل پھٹ رہا تھا اور اس دوران اچانک مجھے اپنے اردگرد پھیلے صحرا میں تنہائی کا واقعی احساس ہوا۔ میں ایشیاء کے اس دشت میں کھو چکا تھا۔ ایسا لگا کہ جیسے اکیلا رہ گیا تھا، متروک کر دیا گیا تھا۔میں تیاگی ہو گیا تھا یا کیا ہوا؟ کوئی میرا ساتھ چھوڑ گیا تھا؟ مجھے کس نے برباد کر دیا؟ ایسا محسوس ہوا کہ اس غزال ہرنی کا سامنا، کسی آفت کی پیش آگاہی تھی۔ میرے اندر طوفان برپا ہو گیا، مجھے ادراک ہوا کہ میرا من تو کب کا کھو چکا ہے، مجھے تو کب کا بے ثبات تنہائی نے گھیر رکھا ہے اور اب اتنی دیر بعد مجھے اس کا شدت سے احساس ہوا تھا۔
مجھ پر یہ عالم پوری طاقت کے ساتھ اگلے چند منٹ یوں ہی طاری رہا اور پھر دھیرے دھیرے جی شانت ہو گیا۔ میرے کانوں میں نظراللہ کی ڈوبی ہوئی آواز دور سے آتی ہوئی پہنچی۔ وہ کہہ رہا تھا۔۔'یہ جھنڈ یقیناً کاروان سرائے کے آس پاس سے نکل کر آیا ہے' نقشہ، پنسل، پیمانہ اور قطب نما نکال لیا گیا اور وہیں ریت پر بیٹھے پیمائش کی تو پتہ چلا کہ ہم اس ٹہوکے کے بہت قریب تھے جو نظراللہ نے نکلنے سے قبل نقشے پر پنسل کی مدد سے ٹھونگے کی طرح اصل راستے سے ہٹ کر لگا دیا تھا، 'یہ ممکن ہے کہ لاپتہ ہونے والے دو سپاہی بھی کاروان سرائے پہنچ گئے ہوں؟' یہاں سے ہم نے گاڑیوں کا رخ شمال کی جانب موڑ دیا۔
سورج تقریباً غروب ہو چکا تھا، ہم ایک اونچے ٹیلے کے اوپر پہنچے تو وہاں سے نیچے ہم نے وہ نظارہ دیکھا جو ایشیاء کے اس دشت میں کسی بھی مسافر کی چاہ ہو سکتی تھی۔ یعنی تپتے ہوئے صحرا میں، شام کی تاریکی گہری ہونے سے قبل ہی ایک کاروان سرائے تک پہنچ پانا، بلاشبہ یہ سکھ کا سانس لینے کی گھڑی تھی۔ یہ ایک چوکور کمپاؤنڈ تھا جو دور سے نظارہ کرنے پر ہی بوسیدگی کا پتہ دے رہا تھا لیکن مجھے اس بھدے، مٹی اور گارے کے جھونپڑے کو دیکھ کر وہ خوشی محسوس ہوئی جو بیان کرنا مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ میں آج تک اس جگہ کو بھول نہیں پایا۔ اس کے اردگرد کھلا احاطہ تھا جس میں سرائے کے جانور باندھنے کی جگہ بنا دی گئی تھی۔ ایک دیوار کے ساتھ کافی بلند مینار نما قلعہ بھی تھا جس کا مقصد اوپر چڑھ کر صحرا میں دور تک نظر دوڑانا اور ضرورت پڑتی تو دفاع کا انتظام بھی کیا جا سکتا تھا۔ سرائے میں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ تھا جو تعمیر سے ہٹ کر ایک طرف دیوار میں کٹا ہوا کھڑا تھا۔ یہ دراصل ایک محراب تھی جو قدیم عرب طرز کی تھی، اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ یقیناً یہ سرائے سینکڑوں برس پرانی تعمیر ہے۔ غالباً یہ اس دور کی یادگار ہے جب محمد کا زمانہ چل رہا تھا یا مسلمانوں نے اس علاقے پر بادشاہت قائم کر لی تھی۔ یہ سرائے صدیوں سے مسلسل مسافروں کی جائے پناہ رہا تھا، جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم صحرا کے بیچ راستہ چھوڑ کر شمال کی جانب مڑے تھے تو اب صحرا کے کنارے پر پہنچ آئے تھے۔ سرائے سے کچھ دور ایک گھاٹی نظر آ رہی تھی جس میں معمولی ہی سہی لیکن سبزے کے آثار نظر آ رہے تھے جبکہ ایک جوہڑ بھی تھا جو اس بیابان صحرا میں کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ جیسے ہم، ویسے ہی صدیوں سے ہزاروں کارواں اس سرائے میں پڑاؤ ڈالتے رہے ہیں، رات پڑتے ہی سایہ تلاش کرتے آئے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے صحراؤں میں ایک اصول ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے جس کے تحت وہ مسافر جو رات ہونے سے قبل ہی سرائے میں پہنچ جائے، اسے امان حاصل ہو جاتی تھی۔ چاہے اس سرائے میں رات وہ اور اس کا دشمن اکٹھے ہی کیوں نہ بسر رکھتے ہوں، ان دونوں پر ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی ممانعت تھی۔ میں یقین سے کہہ سکتا تھا کہ تاریخ ایسے ہزاروں قصوں سے بھری پڑی ہے جن میں اس طرح کے کاروان سرائے کے اندر ایک دوسرے کے خونی دشمنوں نے اکٹھے کھانا کھایا اور سکون کی نیند میں راتیں بتائیں۔
جب ہم محراب کے قریب پہنچے تو نظراللہ نے دونوں گاڑیاں قدرے فاصلے پر رکوا دیں۔ وہ اور نور اتر کر اردگرد حالات کا جائزہ لینے لگے۔ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھے ریت میں دونوں ہاتھوں سے کچھ ٹٹولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے وہ باہر اور پھر سرائے کے اندر چلے گئے اور کافی دیر تک کچھ تلاشتے رہے۔ جب بالآخر لوٹ آئے تو کہا، 'لاپتہ ہونے والے سپاہی یہاں نہیں آئے!'
میں نے دل ہی دل میں سوچا اور یہ خواہش پیدا ہوئی کہ شاید اب ہم یہاں رکنے کی بجائے سفر جاری رکھیں گے۔ دراصل قلعہ بست پہنچ کر مجھے طمانیت کا احساس ہوا تھا، وہ ایک ویران شہر تھا لیکن بہرحال بے حد بارعب جگہ تھی۔ یہ کاروان سرائے بھی سنسان تھا لیکن یہاں ایک سکوت کا عالم طاری تھا جو مجھے خوفزدہ کیے جا رہا تھا۔ عین ممکن تھا کہ میں ابھی تک غزال ہرنی کو جاتا دیکھ کر پیدا ہونے والی تنہائی کی کیفیت کے زیر اثر تھا، اسی لیے صحرا میں پھیلی تنہائی میرا پیچھا کر رہی تھی۔ اس کاروان سرائے کو دیکھ کر مجھے کچھ دیر خوشی ضرور محسوس ہوئی تھی لیکن اب وہ بھی ہوا ہو گئی اور میں اس تاریک اور ملول جگہ پر ایک لمحہ بھی مزید رکنے کا روادار نہیں تھا۔
'کیا ہم روانہ ہو رہے ہیں؟' میں نے پرامید ہو کر پوچھا،
'ہم یہاں رک کر کھانا کھائیں گے!' نظراللہ نے جواب دیا اور میری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ وہ ہمیں سرائے کے اندر لے گیا جہاں شواٹز نے اس کے ساتھ مل کر فرش پر قالین اور بستر بچھا دیے۔ نور نے دو لالٹین روشن کر دیے جن کی روشنی سے کاروان سرائے کا بڑا حصہ چھت تک روشن ہو گیا۔ میں پہلے ہی افسردہ تھا، لالٹین کی پیلی روشنی اس میں گھل کر کچھ سماں پیدا کرنے لگی۔ وجہ یہ تھی کہ تیل میں جلتی ہوئی روشن باتی کے ٹمٹمانے سے گارے کی دیواروں پر دیوسا سائے پڑتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ میں نے سوچا، کیا ہو کہ اگر ابھی اس وقت، سامنے دروازے سے چنگیز خان طمطراق سے اندر داخل ہو اور میرے ساتھ یہاں قالین پر آ کر شاہانہ انداز میں براجمان ہو جائے؟ مجھے چنداں حیرت نہیں ہو گی۔
یہ سرائے ایک کھلے ہال پر مشتمل تھا جس کے درمیان میں ایک بارہ فٹ چوڑا گول ستون نصب تھا جو اس عمارت کی چھت کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے غور کیا تو یہ لکڑی اور نہ ہی پکی ہوئی مٹی کی اینٹوں سے بلکہ پلاسٹر کا بنا ہوا تھا۔ لالٹین کی زرد روشنی اس کی کھردری سطح پر پڑتی تو عجیب و غریب نمونے بنا دیتی، 'یہ ایک خوبصورت ستون ہے!' میں نے تبصرہ کیا، 'لیکن یہ ضرورت سے کہیں زیادہ چوڑا ہے، آخر اس کا مقصد کیا ہے؟'
'یہ خوبصورت ہی نہیں، یہ غیر معمولی اور بہت مشہور بھی ہے!' نظراللہ نے ستون کی جانب دیکھے بغیر کہا،
'مشہور ہے؟ کس وجہ سے؟' میں نے اشتیاق سے پوچھا،
'اپنی طرز تعمیر کی وجہ سے!' اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا،
'لیکن اس میں غیر معمولی بات کیا ہے؟ پلاسٹر؟' میں نے بات آگے بڑھائی،
'نہیں۔۔۔ اس کے اندر جو بھر رکھا ہے!'
اس سے پہلے کہ میں مزید پوچھتا، شواٹز نے بے صبری سے مداخلت کی، 'اندر کیا بھرا ہے؟' آج کئی برس بعد جب میں اس رات کے بارے سوچتا ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ شواٹز نے جس طرح بے صبری دکھائی تھی، یقیناً وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس ستون کے اندر کیا بھرا ہوا ہے۔
'یہ کوئی اتنی خوشگوار بات نہیں ہے۔۔۔' نظراللہ نے محتاط ہو کر جواب دیا، 'کیا تم واقعی جاننا چاہتے ہو؟' جب میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے بات جاری رکھی، '1220ء کے آس پاس، چنگیز خان۔۔۔'
'میں ابھی تھوڑی دیر قبل چنگیز خان کے بارے ہی سوچ رہا تھا' میں نے چلا کر کہا،
'کیوں بھلا؟' نور نے پوچھا،
'میں چھت پر ان سایوں کو دیکھ رہا تھا تو اس کی فوجوں اور دہشت کا خیال گزرا اور میں نے سوچا کہ اگر چنگیز خان اس سرائے میں داخل ہو جائے تو مجھے چنداں حیرت نہ ہو گی!'
'وہ یہاں، اس سرائے میں قیام کر چکا ہے!' نظراللہ نے ہنس کر کہا،
'ستون کا کیا ماجرا ہے؟' شواٹز نے بے چینی سے پوچھا،
'چنگیز خان نے افغانستان کو تاراج کر کے چھوڑ دیا۔ 'شہر' پر حملے میں اس نے تقریباً دس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا تھا اور یقین مانو، یہ انتہائی سنگ دلی کا مظاہرہ تھا۔ یہ کوئی اندازہ یا قصہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ قندھار میں تو اس نے کہیں زیادہ ظلم ڈھائے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں سے کچھ لوگ جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور وہ فرار ہو کر یہاں، اسی کاروان سرائے میں پناہ لینے کے لیے پہنچ گئے۔ انہیں یقین تھا کہ منگول انھیں ڈھونڈ نہیں پائیں گے لیکن بہرحال وہ ان کو تلاشنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔' یہاں پہنچ کر اس کے لہجے میں سپاٹ پن لوٹ آیا۔
'لیکن یہ ستون؟ اس کا اس سے کیا تعلق ہے؟' شواٹز سے پھر رہا نہ گیا۔
'ہوا یوں کہ چنگیز خان نے پہلے چھت تک ایک ستون نصب کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس کے فوجیوں نے سارے قیدیوں کو اس ستون کے ساتھ لٹا کر ہاتھ اور پیروں سے باندھ دیا۔ لوگوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی، اسی لیے آگے پیچھے، ایک دوسرے کے اوپر نیچے اور ساتھ جوڑ کر باندھنا پڑا۔ اسی لیے تو اس ستون کی چوڑائی بارہ فٹ ہو گئی ہے!'
'پھر کیا ہوا؟' شواٹز کی پیشانی پر پسینہ نظر آ رہا تھا،
'وہ قیدیوں کو ایک دوسرے سے کس کر باندھتے رہے، اوپر نیچے لوگوں کو اتنا ٹھونسا کہ سر چھت کو جا لگے۔ انہوں نے کسی شخص کو ہاتھ یا ہتھیار سے قتل نہیں کیا بلکہ چنگیز خان نے اپنے سپاہیوں کے ہاتھ میں لٹھ دے کر پہرے پر لگا دیا۔ قیدیوں میں سے اگر کوئی نکلنے کی کوشش کرتا تو یہ اس کو پیٹ کر اپنی جگہ پر ٹکا دیتے، اگر کوئی بولنے، کراہنے کی جرات کرتا تو اس کی زبان کھینچ کر اس کے ہاتھ میں تھما دیتے، یوں زبانوں کا ڈھیر لگ گیا۔ کئی لوگ تو اسی رات دم گھٹنے سے مر گئے لیکن قیدیوں کی بڑی تعداد ابھی تک زندہ تھی۔ اسی لیے اگلی صبح معماروں کو بلا لیا گیا۔ ان معماروں نے پلاسٹر گھول کر اوپر سے نیچے بھرائی کر دی، یوں بارہ فٹ چوڑے اس ستون کے اندر بہت بڑی تعداد چن لی گئی۔ اگر تم اس ستون کی سطح کو کھرچو تو یقیناً اندر سے کھوپڑیاں اور ہڈیاں برآمد ہوں گی لیکن حکومت نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ یہ ستون اور کاروان سرائے اب قومی یادگار کے طور پر محفوظ ہے، چنگیز خان نے قیدیوں کو اس ستون میں چنوانے سے قبل اس کی زبانیں کھنچوا دی تھیں، اسی لیے یہ جگہ 'ژب سرائے' کہلاتی ہے!' ژب، پشتو میں زبان کو کہتے ہیں۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کھانا تیار تھا لیکن شاید بھوک مر گئی تھی۔ نظراللہ نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا، 'میں نے یہ واقعات اس لیے بیان کیے ہیں تا کہ ہم سمجھنے کی کوشش کریں کہ افغانستان نے تاریخ میں کس طرح کا بوجھ اٹھایا ہے۔ ہمارے بڑے بڑے شہر روند دیے گئے، ایک نہیں بلکہ کئی بار تباہ ہوئے۔ کیا تمھیں پتہ ہے کہ میں مستقبل میں کیا ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں؟'
میں نے دریافت کیا تو اس نے کہا، 'جب مجھ جیسے ہزار، دو ہزار لوگ محنت اور مشقت کر کے کابل کو اتنا ہی عظیم بنا دیں گے جیسا کبھی قدیم 'شہر' رہا کرتا تھا، روسی یا پھر امریکی اس کو بڑے بڑے جہازوں سے بم گرا کر تباہ و برباد کر دیں گے!'
'یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔۔۔' میں نے احتجاج کیا،
'میں امریکیوں کے یا روسیوں کی مخالفت میں یہ بات نہیں کہہ رہا اور نہ ہی میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ تم ہمیں اس لیے برباد نہیں کرو گے کہ تمھیں کسی قسم کا غصہ ہو گا۔ دیکھو۔۔۔ چنگیز خان نے کسی عداوت میں 'شہر' کو برباد نہیں کیا تھا۔ تیمور، نادر شاہ یا بابر۔۔۔ کسی نے دشمنی نہیں نکالی۔ یہ تو ہم افغانوں کی قسمت ہے جو پٹکی ہوئی ہے، ہماری قسمت میں برباد ہونا لکھا ہے۔۔۔ ہم ہمیشہ برباد ہوتے آئے ہیں!' یہ کہہ کر اس نے شانے اچکائے اور بولا، 'یہ ہو کر رہے گا، کہو تو۔۔۔ یہ اٹل ہے۔ جب تک کوئی اور طاقت آ کر ہمیں تاراج نہیں کر دیتی، ہم ان کے لیے کچھ تو بنا رکھیں۔۔۔ یہاں کچھ تو ہو جس کو وہ برباد کر سکیں!'
یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا اور راشن کا ایک ٹن اٹھا کر بولا، 'مجھے یہ امریکی راشن بہت بھاتا ہے لیکن دھیان رکھیو۔۔۔ مجھے اور نور کو خنزیر کے گوشت سے دور رکھنا!'
'آج رات۔۔۔' میں نے قدرے شرمندگی سے کہا، 'ہم سب خنزیر کا گوشت اور لوبیا ہی کھائیں گے'
'اوہ۔۔۔ یہ تو برا ہوا!' نور نے کچھ سوچ کر کہا، 'اگر ایسا ہے تو پھر میں اور نور اپنے حصے کے ڈبوں میں سے اس گوشت کا ایک ٹکڑا تمھاری تھالی میں ڈالنے کی رسم ادا کریں گے اور کہیں گے، ملر صاحب۔۔۔ چونکہ ہم دونوں مسلمان ہیں، اس لیے یہ خنزیر تم لے لو لیکن گوشت ہم خود کھائیں گے!' مجھے اس کی بات پلے نہیں پڑی تو وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔ اس نے سمجھایا، 'خنزیر کا گوشت حرام ہے لیکن کیا کیا جائے، مجھے پسند بھی بہت ہے' ہم چاروں نے جن میں دو مسلمان، ایک مرتد عیسائی اور ایک یہودی تھا۔۔۔ مل کر کھانا کھایا جس سے مجھ پر طاری تنہائی کا خیال دل سے جاتا رہا۔ کھانا کھا چکے تو برتن سنبھالتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر شواٹز بدستور زمین پر بیٹھا ستون کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے، اس نے کافی دیر سے کوئی بات نہیں کی تھی اور کھانا بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا تھا۔
یہ کام ہو چکا تو مجھے واقعی علم ہوا کہ ہم رات اس سرائے میں بسر نہیں کرنے والے تھے اور بجائے رات کی ٹھنڈی ہوا میں صحرا کے بیچ مزید سفر جاری رکھیں گے۔ جب ہم باہر نکلنے لگے تو میں نے کہا، 'اس سرائے اور ستون بارے کم از کم ایک بات تو اچھی ہے۔ افغانستان میں یہ پہلی تاریخی عمارت ہے جس پر اصل تاریخ درج ہے!' میں نے ستون کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا، 'وہاں تحریر ہے کہ یہ 1220ء میں تعمیر کیا گیا۔۔۔'
'شاید یہ بھی اس لیے درج ہے کیونکہ افغان حکومت اس کو یادگار کا درجہ دیتی ہے اور یہ اس ستون کی کئی بار بحالی کا کام بھی ہوا ہے!' نظراللہ نے مزید کچھ تبصرہ کیے بغیر کہا۔
ہم باہر نکلے تو رات کی تاریکی پھیل چکی تھی اور زندگی میں پہلی دفعہ میں نے ستاروں کو اتنا قریب اور صاف دیکھا۔ اصل میں صحرا کی فضا میں نمی نہیں تھی، اس وقت دھول بھی نہیں تھی اور کسی قسم کی رکاوٹ بھی نہیں تھی۔ غالباً یہ ہوا کی خالص ترین شکل تھی جس میں ستاروں کا نظارہ کہیں اور اس طرح ممکن نہیں تھا۔ قلعہ بست میں بھی نہیں جہاں پاس ہی دریا بہتا تھا اور ہوا خالص ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ ستارے تابناک تھے لیکن جس چیز نے مجھے واقعی حیرت میں مبتلا کیا، وہ ان کا آنکھوں کے سامنے منظر پر حاوی ہونا تھا۔ صحرا میں ستارے دیکھنے کے لیے سر کے اوپر آسمان کو تاکنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ نگاہ اٹھائی اور پیش منظر پر ٹم ٹم کرتے دیے نظر آنے لگتے۔ مشرق کی جانب ستارے ریت کے ٹیلوں سے تانکا جھانکی کر رہے تھے جبکہ مغرب میں پرت دار سلیٹی پتھروں کی چٹانوں تلے دبے ہوئے تھے۔
جب میں قدرت کے اس کرشمے کا مظاہرہ دیکھ رہا تھا، نظراللہ ایک لالٹین اٹھا لایا۔ اس نے ایک کاغذ کا ٹکڑا لیا اور اس پر فارسی، پشتو اور انگریزی زبانوں میں یہ عبارت تحریر کر دی،
'11 اپریل 1946ء کی شام، ہم یہاں لاپتہ ہونے والے دو افغان سپاہیوں کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے لیکن ہمیں کامیابی نہیں ملی!'
پھر اس نے ایک نوکیلا پتھر اٹھایا اور یہی پیغام سرائے کے دروازے پر کند کر دیا۔ یہ ہو چکا تو ہم ایک دفعہ پھر اس گھاٹی نما جگہ سے نکل کر صحرا میں سفر پر روانہ ہو گئے۔
جوں جوں آگے بڑھتے گئے، صحرا میں ستاروں کی روشنی مدھم ہوتی گئی۔ اب سمجھ میں آیا کہ نظراللہ ہمارے کاروان کو سرائے میں روکنے پر کیوں مصر تھا۔ ہم سرائے میں بیٹھے ستون کی کہانی سن رہے تھے، ایسے میں صحرا کی لو ٹھنڈی پڑ گئی جبکہ چاند بھی نکل آیا۔ یہ چودھویں کی رات تھی۔ شام ڈھل کر رات میں بدل گئی اور ہم اس گھاٹی سے نکل کر صحرا میں آئے تو چاند بھی ہمارے سروں کے اوپر کھڑا تھا۔ اس کی چاندنی اس قدر تیز تھی کہ ہمیں صحرا میں سفر کرتے ہوئے ذرہ برابر مشکل پیش نہیں آ رہی تھی۔ اگرچہ جیپوں کی ہیڈلائٹوں کی وجہ سے ہمیں اب سفید جھنڈوں کی ضرورت پیش نہیں آ رہی تھی لیکن اردگرد صحرا کی ریت چاندنی میں دھلی ہوئی دمک رہی تھی۔ اس کیفیت کا لفظوں میں بیان مشکل ہے۔ چاند کی چاندنی چھن چھن کرتی دھرتی کو منور کر رہی تھی، صحرا کی ریت یوں سپیدی میں دمک رہی تھی جیسے مصری کی ڈلیاں پیس رکھی ہوں اور پھر ٹھنڈی پڑی ریت اور ٹھنڈی ہی صحرائی ہوا۔۔۔ اس کیفیت کو کیسے بیان کروں؟ میں نے غور کیا کہ ہماری رفتار قریباً پچیس کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھی کم ہو چکی تھی، حالانکہ شام کے دھندلکے میں بھی ہم چالیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے رہے تھے۔ اس کی وجہ دریافت کی تو نور نے کہا، 'اصل میں رات کے وقت گاچی کی کھائی دیکھ پانا مشکل ہوتا ہے!'
'کیا؟ کیا دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے؟'
'گاچی! یہ گہرا سفید عنصر ہوتا ہے جس کی بڑی بڑی سلیں بنی ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں امریکی اس کو جپسم کہتے ہیں!'
'جپسم تو بہت ہی مہنگی چیز ہوتی ہے۔ کیا یہاں اس کے پورے پورے تودے ہوتے ہیں؟'
'واقعی؟ صحرا میں تو اس کی بہتات ہے۔ جا بے جا اس کی بڑی بڑی سلیٹیں پڑی مل جاتی ہیں۔ چنگیز خان نے ستون کی بھرائی کے لیے بھی گاچی کا پلاسٹر استعمال کیا تھا۔۔۔'
'یعنی جپسم پلاسٹر بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے؟' میں نے استغراق سے کہا،
'اگر پانی میں حل کرو تو ہی فائدہ مند ہے!' نور نے تاکید کرتے ہوئے سمجھایا، 'اگر اس کی خشک سلیٹ پر ضرب لگاؤ تو اوزار بھی ٹوٹ جاتے ہیں!'
ابھی ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ کچھ دور ہمیں زور زور سے ہارن کی آواز سنائی دی۔ میں نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر نظراللہ کی گاڑی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ تھوڑی ہی دور مجھے ہیڈ لائٹوں کی تیز روشنی اور اس کا سفید جھنڈا نظر آ گیا۔ اس کی گاڑی ایک وادی نما جگہ پر ساکن کھڑی تھی اور وہ ہمیں دور سے پیچھے نہ آنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ 'وہ گاچی میں پھنس گیا ہے!' نور نے کہا، 'اتنی کم روشنی میں اسے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔۔۔'
'کیا ہم پہلے بھی اس طرح کی سطح سے گزرے ہیں؟' میں نے پوچھا،
'ایکڑوں کے حساب سے۔۔۔' نور نے کہا، 'لیکن اس وقت کوئی مشکل نہیں تھی!'
ہم نے اپنی جیپ اس کے قریب ہی چند گز کے فاصلے پر ایک محفوظ جگہ پر روک دی۔ 'کوئی خاص مشکل نہیں ہے۔۔۔' اس نے کہا، 'بچت ہوئی کہ صرف پہیے ہی گرم ہو گئے ہیں'
میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر گاچی کو محسوس کرنا چاہا تو دیکھا کہ دراصل یہ کوئی ٹھوس پتھر وغیرہ نہیں بلکہ پرتوں کی صورت میں پاؤڈر نما کوئی چیز تھی۔ ہاتھوں میں پھسل رہا تھا، اسی وجہ سے پہیوں کو بھی گھومنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ نظراللہ نے گاڑی نکالنے کی کوشش کی تھی جس سے پہیے آگے کو نکلنے کی بجائے ایک ہی جگہ پر پھسلتے رہے، جس سے گرم ہو گئے۔ 'یہ رسا پکڑو۔۔۔' نظراللہ نے کہا، 'گاڑی کو باندھ کر کھینچنا ہو گا!'
ہم نے پوری احتیاط کے ساتھ اپنی گاڑی کچھ مزید آگے بڑھائی اور رسے کو اپنی اور نظراللہ کی گاڑی کے ساتھ باندھ دیا۔ ایک ہی جھٹکے میں نظراللہ کی گاڑی اس جگہ سے نکل آئی۔ اس نے جان چھوٹتے ہی ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا، 'تم بھی احتیاط سے کام لو۔ اگر گاچی کی سلوں پر چڑھتے ہوئے گاڑی کی رفتار پچیس میل سے زیادہ ہوئی تو گاڑی جھٹکا کھا سکتی ہے، تمھاری ناک ٹوٹ جائے گی!'
'اگر گاڑی ٹکرائے۔۔۔' نور نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی، 'تو اپنے چہرے کی حفاظت کرنا، کیونکہ یکدم بہت زور سے بریک لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے!'
اب آگے نکلنے کی باری ہماری تھی۔ ہم اس خطرناک سفر میں ناخدا تھے۔ کہتے ہیں کہ حسن، خطرناک ہی ہوتا ہے۔ یہ سفر بھی حسین تھا لیکن قدم قدم پر خطرہ تھا۔ صحرا کے بیچوں بیچ، رات میں جب چاروں طرف چاندنی پھیلی ہو۔ ایسا گمان ہوتا کہ جیسے اس جناتی دھرتی پر چاندنی کا راج ہے اور آسمان پر ستارے ٹمٹماتے ہوئے بے شمار دیے معلوم ہوتے ہیں۔ اسرار کی حد یہ ہے کہ صرف یہی بات سننے میں عجیب معلوم ہوتی ہے کہ چودھویں کے چاند میں آسمان پر ستارے نظر آنا محال ہوتا ہے لیکن یہ صحرا کی فضا میں پھیلی شفافیت کا کمال تھا۔ ہم ریت کے نشیب و فراز پر یوں گامزن تھے جیسے ریت کی لہروں پر تیرتے ہوں۔ نیچے اتر کر اوپر چڑھتے تو سامنے صحرا کی وسعت عجب رنگ جما دیتی، ریت کے ٹیلوں کی طرح دار تہیں ایسے معلوم ہوتیں جیسے زمین چاندی کی لاتعداد ڈھیریاں ہو۔ اس سماں میں سب سے دلکش خاموشی تھی۔ اتنی خاموشی کہ رات بھی ٹھہری ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ جھینگروں کی چرچراہٹ اور نہ ہی رات کے پرندوں کی چہچہاہٹ تھی، ہوا کا شور بھی نہیں تھا اور نہ ہی دور کہیں آسمان گرجتا ہوا سنائی دیتا تھا، کچھ بھی نہیں تھا بلکہ گہری خاموشی تھی۔ صرف ہماری جیپ کے انجن کا شور تھا۔ جب ہم کسی جگہ رک کر راستے کا اندازہ لگاتے تو جیپ کا انجن بند کر دیتے، ایسے میں ہمیں دور کسی ریتلے ٹیلے کے پیچھے نظراللہ کی گاڑی کے انجن کی گھاؤں گھاؤں صاف سنائی دیتی لیکن اندازہ نہ ہو پاتا کہ یہ آواز کس سمت سے آ رہی ہے بلکہ چاروں اطراف میں گونجتی ہوئی محسوس ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ ہم اونچے ٹیلوں کے بیچ سے گزرتے تو گاڑی کا شور ریت کی بند گلی نما دروں میں بھی دیر تک گونجتا رہتا۔ ہمیں راستہ بند ملتا اور واپس پلٹ کر دوسری طرف سے نکلنا پڑتا۔ ہم ریت کے اوپر تیرتے ہوئے رواں دواں تھے لیکن اکثر ہم راستہ بھٹک کر کہیں اور نکل جاتے اور پھر رک کر نظراللہ کی جیپ پر جھنڈا تلاش، اس کی ہیڈلائٹوں کی روشنی کا پیچھا کرتے سیدھے راستے پر چڑھ جاتے۔ نظراللہ واقعی اس صحرا کے اونچ نیچ سے واقف تھا، مجھے اطمینان تھا کہ افغان سپاہی کی بجائے وہ ہماری رہنمائی کر رہا تھا۔
اسی طرح چلتے چلتے ہم صحرا کے اندر ہی اندر چالیس میل دور تک نکل گئے۔ اکتالیسویں میل میں مجھے ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں نے شمال کی جانب ٹیلوں کے اس پار کوئی غیر معمولی چیز دیکھ لی ہے۔ میں نے اسی سمت میں کچھ منٹ مزید نظر دوڑائی لیکن کچھ ڈھونڈ نکالنے میں کامیابی نہ ہوئی۔ مجھے لگا کہ شاید وہ سلیٹی پتھر کی پرتیں تھیں۔ حفظ ما تقدم کے طور پر میں نے بہرحال نور محمد کی توجہ اسی جانب مبزول کروائی لیکن وہ گاڑی چلانے اور راستے میں گاچی کی طرف دھیان دینے میں اس قدر مگن تھا کہ اسے اردگرد منظر کو دیکھنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ اس نے گاڑی کی رفتار بہت آہستہ کر دی اور میری بتائی سمت میں کچھ دیر نظروں سے ٹٹولا اور اچانک چلایا، 'ارے۔۔۔ یہ تو جیپ ہے!' میں نے بھی دوبارہ غور کیا تو اس کا اندازہ بالکل درست تھا۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم نظراللہ کو اطلاع کیسے کریں؟ وہ ہم سے کافی آگے نکل چکا تھا۔ ہم تیز رفتاری دکھا کر اسے جا لیتے لیکن اس جگہ کی نشانی کھو جاتی اور ویسے بھی ہم گاچی میں پھنس جانے کا نقصان مول نہیں لے سکتے تھے۔ ہم زور زور سے ہارن بجاتے، لیکن اس کو سنائی دیتا؟ میں نے تجویز دی، 'میں یہیں اتر کر اس جگہ کی نشانی سنبھالتا ہوں، تم جاؤ اور نظراللہ کو اطلاع کرو۔ دونوں لوٹ کر آؤ تو ہم مل کر جہاں میں کھڑا ہوں، اسی نشانی سے جیپ تک پہنچ جائیں گے؟'
یہ سنتے ہی نور نے میری جانب خوفزدہ ہو کر پوچھا، 'ملر صاحب، آپ اس صحرا میں اتر کر نشانی بنیں گے؟' مجھے اس کے ڈرنے کی قطعی سمجھ نہیں آئی، ویسے بھی یہ افغان ہر چیز کو الٹی ہی نگاہ سے دیکھنے کے عادی تھے۔
اس نے میری تجویز رد کر دی اور گاڑی کی ہیڈلائٹس کو تیز اور مدھم کرنے لگا۔ خوش قسمتی سے نظراللہ کو یہ نشانی نظر آ گئی کیونکہ اس کا دھیان ہم سے ہٹا ہوا نہیں تھا۔ اس نے فوراً اپنی جیپ واپس موڑ دی اور چند منٹوں کے اندر ہمارے پاس پہنچ گیا۔ اس نے دھمکتے ہی پریشانی سے پوچھا، 'کیا ہوا؟'
'ملر نے جیپ تلاش کر لی!' نور نے جواب دیا اور شکایتی لہجے میں کہا، 'یہ تو گاڑی سے اتر کر اس جگہ کی نشانی لگا رہا تھا، تا کہ میں اکیلا جاؤں اور تمھیں واپس بلا لاؤں!'
نظراللہ نے میری طرف کینہ توز نظروں سے دیکھا اور بھڑک کر بولا، 'یا میرے خدا! تمھاری عقل کام کرتی ہے؟ اس صحرا کے ٹیلوں میں ہم تمھیں کہاں تلاش کرتے؟' مجھے اپنی حماقت پر شرمندگی ہوئی۔ اس نے مزید کچھ نہیں کہا اور دور جیپ کی طرف دیکھ کر بولا، 'میں اس طرف نہیں جانا چاہتا۔۔۔ لیکن ظاہر ہے، جانا ضروری ہے'
ہم دونوں جیپوں کو آگے پیچھے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے، انتہائی کم رفتار سے شمال کی جانب بڑھنے لگے۔ جلد ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ ہم گاچی کی ایک بہت ہی طویل پٹی پر چڑھ گئے ہیں۔ نظراللہ نے چلا کر روکا اور حکم دیا، 'ریورس میں گاڑی واپس لے جاؤ اور جہاں سے یہ پٹی شروع ہوتی ہے۔۔۔ ریت میں جھنڈا گاڑ کر آؤ' ہم نے ایسا ہی کیا اور دوبارہ اس کے پاس پہنچ گئے۔ اس کے بعد مزید احتیاط سے آگے بڑھنے لگے۔
ہم لاپتہ ہونے والی جیپ سے قدرے فاصلے پر ہی تھے لیکن ہم نے وہ دیکھ لیا جو ہم نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ جیپ میں دو آدمی آرام سے اپنی نشستوں پر ٹک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی گاڑی گاچی میں پھنس گئی تھی۔ انہوں نے اسے نکالنے کی بہتیری کوشش کی، ٹائروں کے نیچے پتھر رکھ کر نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن اس سعی میں گاڑی کا کلچ اور اس کی تار جل گئی۔ گاڑی گاچی میں گہری دھنستی گئی۔
ہم نے اپنی گاڑیاں کچھ فاصلے پر روک دیں اور گاچی میں پیدل ہی چلتے ہوئے لاپتہ جیپ کے پاس پہنچ گئے۔ قریب دیکھا تو دو افغان فوجی، صحرائی لباس پہنے اپنی جیپ میں سیٹوں پر براجمان تھے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں لیکن ان میں زندگی کی ایک رمق بھی باقی نہیں تھی۔ یہ بالکل خشک ہو چکی تھیں اور ہونٹوں پر پیپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ وہ غالباً آٹھ یا دس روز قبل مر گئے تھے لیکن ان کے جسم ابھی تک صحیح سلامت تھے۔ صحرا میں نمی نہ ہونے، دن کے وقت ہر وقت تیز رفتار خشک ہواؤں اور تقریباً پچاس سے پچپن ڈگری درجہ حرارت کی وجہ سے دونوں لاشیں ممی بن چکی تھیں۔
'ہم فی الوقت انہیں یہیں چھوڑ کر جائیں گے۔۔۔' نظراللہ نے حتمی لہجے میں کہا، 'یہاں ان کی لاشیں محفوظ ہیں، نہیں سڑیں گی!'
میں نے دونوں لاشوں کو ٹٹول کر کسی نشانی کی کھوج لگانی چاہی لیکن ناکامی ہوئی۔ جیپ میں کھانے پینے کی خشک چیزوں کی بہتات تھی، ٹنکی میں پٹرول بھی تھا لیکن پانی کی ایک بوند نہیں ملی۔ نظراللہ نے کہا، 'اس کی لاش کو اٹھاؤ، میں دیکھتا ہوں کہ اگر کلچ صحیح سلامت ہے؟' میں نےڈرائیور کی جھولتی ہوئی لاش کو بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اوپر اٹھایا اور ایک طرف سرکا دیا، وہ وزن میں بالکل ہلکا تھا۔ نظراللہ نے اس کی نشست سنبھالی اور گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی۔ انجن گڑگڑایا، کچھ دیر پھنس کر غراتا رہا اور پھر تیسری کوشش پر گھاؤں گھاؤں سٹارٹ ہو گیا۔ نظراللہ نے گئیر بدلنا چاہا لیکن گاڑی کا کلچ جواب دے چکا تھا۔ 'وہی۔۔۔ جس کا شک تھا، بیچارے!' اس نے افسوس کا اظہار کیا اور گاڑی بند کر کے نیچے اتر آیا، 'اس کو واپس نشست پر ٹکا دو۔۔۔' اس نے حکم دیا۔
جب ہم اپنی گاڑیوں کے پاس پہنچ گئے تو نظراللہ نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا، 'میرے خیال میں یہاں پھنس جانے کے بعد دو دن تک زندہ رہے۔ ملر۔۔۔ اگر تم اپنی جیپ چھوڑ کر بیس گز بھی دور رہ گئے تو سمجھو، گم ہو گئے۔ دن کی گرمی میں تو بیس منٹ بھی زندہ نہ رہو گے، اس لیے۔۔۔' میں اس کی بات سمجھ گیا۔
تبھی نور نے پشتو میں پوچھا، 'میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ ان دونوں میں سے کس نے کس پر اس غلطی کا الزام دھرا ہو گا؟'
نور محمد کی یہ بات اس قدر غیر متوقع تھی کہ ہم تینوں نے مڑ کر بری نظروں سے گھورا لیکن اس کی بات میں وزن تھا۔ اسی لیے ہم نے بے ساختہ لاشوں کی طرف دیکھا اور افسردگی گہری ہو گئی۔ ان دونوں کے بیچ جس طرح کی بھی نوک جھونک اور الٹی الزام تراشی رہی ہو گی، اب باقی نہیں رہی تھی۔
وقوعے سے واپسی پر ہم جب اپنا جھنڈا اٹھانے کے لیے رکے تو نظراللہ نے سنجیدگی سے کہا، 'یہ انتہا کی بے وقوفی تھی۔ آخر کون بیوقوف تھا جس نے انہیں صحرا میں اکیلا، ایک ہی جیپ میں روانہ کیا تھا؟ کیا انھیں خود بھی عقل نہیں تھی؟ ملر تم میرے ساتھ آ جاؤ۔۔۔'
جب ہم نے سفر دوبارہ شروع کر دیا اور ہماری گاڑی راستے پر چڑھ گئی تو میں نے پوچھا، 'کیا تم ان مرنے والے سپاہیوں کو جانتے تھے؟'
'شکر ہے کہ نہیں جانتا تھا۔۔۔ ورنہ مجھے یہ سوچ کر ہی سخت برا محسوس ہوتا کہ میرے دوست اس قدر بیوقوف ہو سکتے ہیں؟' ہم کچھ دور پہنچ گئے تو نظراللہ نے ہنس کر کہا، 'تم تو نہایت بیزار واقع ہوئے ہو۔ شواٹز کے ساتھ سفر مزیدار تھا، وہ صحیح معنوں میں جرمن ہے!'
'کیا یہ درست ہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ یا وہ مزاق کر رہا تھا؟'
'اس میں مزاق کی کیا بات ہے؟ ویسے بھی، اس نے تو اسلام قبول کرنا ہی تھا کیونکہ باقی ماندہ عمر یہیں گزارنی ہے'
'تم اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو؟' میں نے پوچھا،
'وہ ہماری سرحد پار کر کے تو دیکھے، انگریز اسے فوراً گرفتار کر لیں گے۔ انگریزوں سے بچ گیا تو روسی ہر گز نہیں چھوڑیں گے'
'نازی جرائم کی وجہ سے؟'
'ظاہر ہے!'
'کیا وہ جرائم کا مرتکب ہوا ہے یا اس پر الزام ہے؟'
'ہم نے اس کاغذات دیکھ رکھے ہیں، ہماری حکومت کے پاس ہیں' اس نے محتاط لہجے میں کہا، 'میں صرف یہی بتا سکتا ہوں کہ اس پر لگائے الزامات فرضی نہیں ہیں'
میں نے اس بات پر اگلے چند منٹ غور کیا اور دل میں سوچا کہ اگر افغان حکومت کے پاس خفیہ رپورٹوں کا ڈوزئیر ہے تو انہوں نے ابھی تک یہ معلومات سفیر امریکہ کے حوالے کیوں نہیں کیں؟ مورگن تو اپنے تئیں شواٹز کو سفارتخانوں میں بھرتی کروانے کا ارادہ کر رہا ہے۔ میں نظراللہ سے اس بابت بلاواسطہ بات نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن فوراً ہی میرے ذہن میں اسی سوال کو گھما کر پوچھنے کا خیال آیا، 'برطانویوں کو تو اس کے متعلق علم ہو گا، کیا انھوں نے اسے گرفتار کرنے کا عندیہ دیا ہے؟'
'انہیں علم ہے' نظراللہ نے ہنس کر کہا جیسے وہ میرے سوال کا مطلب خوب سمجھ رہا ہو۔ پھر اس نے خود ہی بات صاف کرتے ہوئے کہا، 'سرکاری سطح پر وہ اس کے ریکارڈ سے واقف ہیں اور اگر شواٹز انہیں ہندوستان میں مل گیا تو وہ اسے فوراً گرفتار کر لیں گے۔ لیکن اگر اسے کابل جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ مل جائے گی، سفارتخانے کے لوگ اس کو ایک قابل ڈاکٹر سمجھ کر اس سے علاج کروایا کریں گے' اس کے لہجے میں خشکی تھی، 'مجھے یہ بھی یقین ہے کہ برطانوی ہی نہیں، امریکہ کا سفیر بھی یہی کرے گا۔ نیویارک میں اسے گرفتار کروائے گا لیکن کابل میں اس کی قابلیت سے پورا فائدہ اٹھائے گا!'
'شاید تم درست کہہ رہے ہو۔۔۔' میں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا،
ہم نے یہ معاملہ یہیں چھوڑ دیا لیکن کچھ دیر بعد نظراللہ نے کہا، 'تم شواٹز کے قبولیت اسلام پر اس قدر حیران کیوں ہو؟ مجھے دیکھو، اگر میں ایلن کے ساتھ پنسلوانیا میں مستقل رہائش اختیار کر لیتا تو یقیناً عیسائیت قبول کرتا'
نظراللہ کو یوں اپنی مرضی سے ایلن بارے بات کرتے دیکھ کر مجھے خاصی حیرت ہوئی لیکن اس سے کہیں زیادہ حیران کن بات اس کا یوں سرسری انداز میں اسلام ترک کرنے کا انداز تھا۔ ان دنوں میں یہ سمجھتا تھا کہ شاید مسلمان، عیسائی اور یہودی اپنے عقائد سے ہٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہ یوں ایک سے دوسرے مذہب میں پھلانگ نہیں سکتے، اسی لیے جرح کی، 'کیا تم واقعی عیسائیت اختیار کر لیتے؟'
'امریکہ اور جرمنی میں گزارے چھ برسوں کے دوران، میں عیسائی نہیں تو پھر کیا تھا؟ باضابطہ دین اختیار نہیں کیا ورنہ میں عیسائی ہی تو تھا۔ بالفرض، تم افغانستان میں مستقل رہائش اختیار کر لو، کیا تم مسلمانوں کے طور طریقے نہیں اپناؤ گے؟'
میں نے دل میں سوچا کہ اس کو پتہ ہی نہیں کہ وہ کس شخص سے یہ سوال پوچھ رہا ہے۔ مجھے خودپسندی اور غرور کا احساس ہوا۔ اسی احساس کے زیر اثر میں نے اس سے بے ساختہ پوچھا، 'اگر ایسی بات ہے تو پھر یہ بتاؤ، اگر تمھیں فلسطین میں برطانویوں کے ساتھ مستقل بسر کرنے بھیج دیا جائے، کیا تم یہودیت اختیار کر لو گے؟'
'کیوں نہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہماری افغان تہذیب کا بڑا حصہ یہودیت سے میل کھاتا ہے۔ سینکڑوں سال تک ہم اس بات پر فخر کرتے رہے کہ افغان بنی اسرائیل کا گمشدہ قبیلہ ہیں۔ پھر ہٹلر نے ہمیں آریائی کہلوانے پر راضی کیا۔۔۔ اس کے اپنے فوائد ہیں!' اس نے آنکھ ماری۔
'ہاں۔۔۔ لیکن اس بابت تمھاری ذاتی رائے کیا ہے؟' میں نے دو ٹوک انداز میں پوچھا،
'میرے خیال میں ہم کھچڑی کا ملغوبہ ہیں۔ کیا تم نے ہمارے یہاں مشہور الف لیلویٰ داستانیں نہیں سنی؟ کابل کی وادیوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے۔ تمھیں پتہ ہے ہم ان کے بارے کیا سمجھتے ہیں؟ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں منگولوں نے افغانستان میں قدم رکھا، انہوں نے انہی وادیوں میں مستقل بسر رکھی اور کبھی اپنے قبیلے سے باہر بیاہ نہیں کیا۔ ہمارے نزدیک ہزارہ سینکڑوں سال کی نسلی خالصیت کی نشانی ہیں، جو ظاہر ہے درست نہیں ہے۔ اگر اصل حقائق معلوم ہو جائیں تو میں شاید انہی کی ناجائز اولاد ہوں گا جنہوں نے سرائے کے ستون میں ہزاروں لوگوں کو زندہ چنوا دیا تھا!'
'یعنی، تم یہودیت اختیار کر سکتے ہو؟' میں نے سنجیدگی سے پوچھا،
'شاید میں پہلے سے ہی ایک یہودی ہوں۔۔۔' اس نے اصرار جاری رکھا، 'مسلمان تو میں ہوں لیکن اس کے علاوہ میں صرف یہودی ہی نہیں۔۔۔ منگول، ہندو اور تاجک بھی ہوں۔ یہ سب تو ہوں لیکن آریا تو بالضرور ہوں، سو فیصد ہوں کیونکہ اس کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس گوٹنگن یونیورسٹی کا تصدیقی سرٹیفیکیٹ بھی ہے اور جینیات سے بھی یہی ثابت ہے!'
ہم دونوں کے بیچ ایک دفعہ پھر گہری خاموشی چھا گئی جس میں صحرا کا سکوت بھی شامل ہو گیا۔ اسی عالم میں، میں نے محسوس کیا کہ ہم دونوں نسبتاً ایک دوسرے کی حالت کو اچھی طرح سمجھنے لگے تھے اور ہمارے درمیان دوستی اور کا رشتہ جنم لے رہا تھا۔ تبھی میں نے نظراللہ سے وہ سوال پوچھا جس کی اسے توقع تھی اور اسی وجہ سے اس نے مجھے اپنے ساتھ جیپ میں سفر کرنے کی تجویز دی تھی، 'ایلن کہاں ہے؟'
'وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔ بھاگ گئی!' اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا،
'کچھ علم ہے کہ کہاں؟' میں نے کریدا،
'مجھے علم نہیں ہے' اس نے صاف گوئی سے جواب دیا،
'کیا وہ زندہ ہے؟'
'میں جانتا ہوں کہ وہ زندہ ہے!' اس نے کہا اور میں نے دیکھا کہ سٹئیرنگ پر اس کے ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے۔ اس نے دوبارہ کہا، 'مجھے یقین ہے کہ وہ زندہ ہے' اس کی حرکات و سکنات اور ایلن کے بارے بات کرنے کے انداز سے میں سمجھ گیا کہ وہ ابھی تک اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے، وہ اس کو بے انتہا چاہتا ہے۔ لیکن وہیں مجھے یہ بات مجھے چوبھ لگا رہی تھی کہ ایک ایسا شخص، بھلے میں اس کو پسند کرتا ہوں یا اس کے خیالات کی عزت بھی کرتا ہوں۔۔۔ ایسے شخص کے بارے شک میں مبتلا ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنی دوسری بیوی کے بارے تو خاصا پریشان تھا لیکن اپنی پہلی بیوی اور بچوں کی اسے چنداں پرواہ نہیں تھی جو قندھار میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی؟ میرے خیال میں مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہی طور رہا ہے لیکن اس وقت میری عمر ہی کیا تھی؟ میں جس معاشرے میں پلا بڑھا تھا، وہاں یہ سمجھ پانا ہی محال تھا کہ ایک اوسط امریکی جو اپنی بیویوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے لیکن وہ اپنی داشتاؤں کے بارے زیادہ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ میں اس عمر میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اگر ان کی دوسری محبوباؤں کو کچھ ہو جاتا تو وہ کبھی اس طرح اذیت میں مبتلا کیسے ہو سکتے ہیں؟ مجھے اس بہروپ کی، یوں بٹ کر بسر کرنے کا خیال ذہن میں سماتا ہی نہیں تھا۔ لیکن پھر وہی بات، اس وقت یہ سب سمجھ پانے کے لیے میری عمر ہی کیا تھی؟
'اس نے اپنے والدین کو پچھلے تیرہ ماہ سے اپنے بارے کوئی اطلاع نہیں دی۔۔۔' میں نے کہا،
اس کے انداز میں مزاح لیکن سخت الجھاؤ تھا۔ پوچھا، 'کیا تم نے کبھی اس کے والدین سے ملاقات کی ہے؟'
'نہیں، لیکن میں نے ان کے بارے تفصیلی رپورٹیں ضرور پڑھ رکھی ہیں'
'پھر تم انہیں اچھی طرح جانتے ہو!' وہ مسٹر اور مسز جاسپر کے بارے سوچ کر مسکرایا اور کہا، 'ملر، ان کی مثال کچھ یوں ہے کہ اگر وہ کاروان سرائے میں اس ستون کو دیکھ لیں تو چلا اٹھیں۔۔۔' اس نے مسز جاسپر کا انداز اپنا کر کہا، 'یا میرے خدا! یہ کس قدر ہولناک بات ہے۔ کوئی اس بارے کچھ کرتا کیوں نہیں؟' لیکن انہیں کون سمجھائے اور وہ بھی خود کبھی اس بات کو سمجھ نہیں سکیں گے کہ، 'چنگیز خان کے بارے اب ہم کچھ نہیں کر سکتے!' اس کی آواز میں مزاح اب درد میں ڈھل گیا۔ جبھی کہا، 'اسی طرح وہ اس بات کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ ہم سب ایلن کے بارے کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کی قسمت میں ایلن کو کھو دینا لکھا تھا۔ میری قسمت میں ایلن کو کھو دینا لکھا تھا اور اس بارے میں، مسٹر جاسپر یا اس کی بیوی کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ایسا ہونا اٹل تھا!'
میں ںے کچھ دیر توقف کیا تا کہ اس کی تلخی زائل ہو جائے اور پھر پوچھا، 'کیا وہ افغانستان میں ہے؟'
مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب میں نے یہ سوال پوچھا تو نظراللہ نے جواب دینے سے پہلے آسمان پر پہلے مغرب اور پھر مشرق میں ستاروں سے بھرے آسمان کو دور تک دیکھا اور دھیمے انداز میں کہا تھا، 'مجھے یقین ہے کہ وہ یہیں ہے۔ وہ افغانستان میں ہی ہے!'
میں اس معاملے پر مزید بات کرنا چاہتا تھا لیکن نظراللہ نے میرا دھیان مغرب کی جانب مبذول کروایا۔ ایلن کے وقوع بارے سوچتے جب وہ آسمان میں جھانک رہا تھا تو اسے ایک ستارہ باقی سب سے زیادہ روشن اور بڑا نظر آیا تھا، 'وہ رہا۔۔۔' اس نے صرف اتنا کہا اور جیپ روک دی۔ میں نے پوچھا، 'وہ؟' تو اس نے مختصراً کہا، 'شہر!' اور ہم وہیں رک گئے اور دوسری جیپ کے پہنچنے کا انتظار کرنے لگے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔
میں نے دوبارہ ستارے کو غور سے دیکھا لیکن نظراللہ کے سوا کسی کو علم نہیں تھا کہ مغرب کی جانب دور ٹمٹماتی ہوئی باریک روشنی کوئی ستارہ نہیں بلکہ 'شہر' تھا۔ 'یہ –شہر- کی روشنیاں ہیں' نظراللہ نے کہا اور حکم دیا، 'ہم رات یہیں بسر کریں گے!'
'اگر شہر اس قدر قریب ہے تو ہم سفر جاری کیوں نہیں رکھتے؟' میں نے پوچھا،
'شہر یہاں سے ساٹھ میل دور ہے' نظراللہ نے کہا،
'یہ ناممکن ہے' میں نے جھلا کر کہا لیکن نور نے اپنے دوست کی حمایت کی،
'جب پہلی بار کوئی غیر معمولی شے نظر آئے تو آنکھوں کو یقین نہیں آتا۔ یہ روشنی واقعی لگ بھگ ساٹھ میل دور ضرور ہو گی۔۔۔'
'یہ ساٹھ میل کے لگ بھگ ہی ہے' نظراللہ نے ہمیں یقین دلایا، 'چلو سونے کے لیے بستر نکال لیں'
میرا خیال تھا کہ ہمیں نیچی، گھاٹی نما جگہ پر پڑاؤ ڈالنا چاہیے تھا جہاں ٹیلوں کی اوٹ ہوتی کیونکہ ہوا تیز ہوتی جا رہی تھی لیکن بجائے نظراللہ ہمیں ایک چھوٹی سی پتھریلی پہاڑی کی چوٹی پر لے گیا اور جب ہم نے کھلے آسمان تلے بستر لگا لیے تو اس نے سمجھایا، 'آج ہم نے دو آدمیوں کو اس صحرا میں قدرت کی بے رحم مرضی کے بھینٹ چڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ تپتی گرمی اور جلتے ہوئے سورج نے انہیں مار دیا۔ اس طرح تو صرف اکا دکا اموات ہوتی ہیں، اصل تباہی۔۔۔ سینکڑوں لوگ تو سیلاب کی طغیانی میں مر جاتے ہیں!'
یہ سن کر میں اور شواٹز بے یقینی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے لیکن نظراللہ نے اپنی بات جاری رکھی، 'تین یا چار سال کے وقفے سے اس صحرا میں تیز بارش برستی ہے، ایسی بارش جو تم نے کبھی زندگی میں کہیں نہ دیکھی ہو گی، موٹی بوندیں جو ہر چیز کو پاش پاش کر دیں۔ اتنی بارش ہوتی ہے کہ پانی کی لہروں کی بیس، تیس فٹ اونچا ریلا راستے میں آنے والی ہر چیز کو روند کر رکھ دیتا ہے۔ یہ جو تمھیں ٹیلے نظر آ رہے ہیں، اس سیلاب میں بہہ کر ایک جگہ سے میلوں دور پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے میں نچلی سطح، گھاٹیوں میں کوئی بھی چیز بدقسمتی سے مل جائے، دب کر ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتی ہے۔۔۔'
ہم دونوں نے ان گھاٹیوں کو ایک نئے لیکن نہایت احترام کے انداز سے دیکھا اور نظراللہ نے اپنی بات پوری کی، 'غالباً یہاں۔۔۔ ان گھاٹیوں میں پچھے پانچ سو برس کے دوران پانی نہیں چڑھا لیکن یہاں سے جنوب کی طرف، بالکل جنوب میں ایسا ہو چکا ہے۔ بلکہ تاریخ میں اس کے ثبوت بھی مل جاتے ہیں کہ سکندر اعظم کے ساتھ بھی یہی سانحہ پیش آیا تھا، وہ اپنی افواج کے ہمراہ ہندوستان کی مہم کے بعد واپس بابی لونیا جا رہا تھا۔ انہوں نے صحرا میں پڑاؤ ڈالا اور رات کے تیسرے پہر، چار منٹ کے اندر سیلاب کا اتنا بڑا ریلا سر پر آن پہنچا کہ اس کی فوج میں دو تہائی سپاہی موقع پر ریت کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے۔ ملر، یہ ایک پیچیدہ ملک ہے۔ گھاٹیوں میں رات بسر کرنے سے جہاں تک ممکن ہو، گریز کرو!'
اگلی سویر، تڑکے کے ساتھ ہی مغرب کی جانب سفر کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔ دن کی روشنی میں جب میں نے پہلی بار ساٹھ میل کے اس قطعہ زمین کا بغور جائزہ لیا تو میں نظراللہ کے کل سہ پہر ہی قلعہ بست سے روانگی کے فیصلے کو سراہے بنا نہیں رہ سکا۔ اس وقت اس کا فیصلہ مجھے عجیب معلوم ہوا تھا لیکن اب سمجھ میں آئی کہ اگر ہم بروقت روانہ نہ ہوتے تو رات کی تاریکی میں کبھی وہ دشوار گزار راہ پار کرنے کے قابل نہ ہوتے جس کا ہمیں سفر کی مشکلات کی شکل میں سامنا تھا۔ اگر ہمیں سورج کی تپش میں صحرا میں سفر کرنا پڑتا تو حرارت ناقابل برداشت ہوتی۔ ساٹھ میل کے اس حصے میں ریت کے ٹیلے غائب ہو چکے تھے، ہم پتھریلی چٹانوں کے علاقے میں گزر رہے تھے، جو تانبے کی طرح تپ کر ساری حرارت ہم پر منعکس کر رہی تھیں۔ ہوا میں نمی نہ ہونے کے برابر تھی اور تیز ہوا کی لو کی وجہ سے ہمارے اجسام نمی سے خالی ہو رہے تھے۔ نور محمد نے مجھے انتباہ کیا، 'ملر صاحب، سنبھل کر بیٹھے رہیں۔ اپنی ناک کو گرمی میں سوکھنے نہ دیں کیونکہ میوکس خشک ہو کر سوئیاں بن جاتا ہے، جس سے ناک کے اندر گہرا زخم آ سکتا ہے، نکسیر پھوٹ سکتی ہے اور یہ بہت برا انفیکشن ہوتا ہے' یہ سن کر میں فوراً سنبھل گیا اور نہایت احتیاط کے ساتھ اپنی ناک کو چھو کر اندازہ لگایا تو پتہ چلا، نور کی بات درست تھی۔ خشک اور پیاسی ہوا نے نتھنوں سے ساری نمی اڑا لے گئی تھی اور ناک میں سوئیاں نکل آئی تھیں۔
ایک جگہ پہنچ کر تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اگر پانی نہ پیا تو بے ہوش ہو کر گر جاؤں گا لیکن نظراللہ نے بالخصوص گاڑی روک کر ہمیں متنبہ کیا، 'ہمارے پاس پانی اور پھلوں کے رس کی کافی مقدار موجود ہے لیکن ہم ان کو اس وقت تک ہاتھ نہیں لگائیں گے جب تک ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ ہم 'شہر' تک آج ہی پہنچ سکتے ہیں!' اس نے یقیناً میرے چہرے پر مایوسی دیکھ لی ہو گی۔ اسی لیے کہا، 'ملر، تمھیں اپنے آپ کو ضبط میں رکھنا ہو گا۔۔۔ صحرا کے نظم کا خیال رکھو!'
یوں ہم اسی عالم میں آگے بڑھتے رہے اور جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے، گرمی ہمیں تپتپا کر سینکتی رہی، حلق سوکھ کر کانٹا ہوتا جا رہا تھا۔ امریکہ کے کسی حصے میں آج تک میں نے ایسی بے رحم گرمی دیکھی اور نہ ہی سنی۔۔۔ اتنی سفاک کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ میرے جسم کے ہر خلیے کے ساتھ نمی کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔ میں اپنی جلد کی پوروں سے پانی کو بخارات بن کر ہوا میں غائب ہوتا ہوا محسوس کر سکتا تھا اور مجھے رہ رہ کر ان دو افغان سپاہیوں کا خیال آ رہا تھا جن کی لاشیں اس وقت تپتے ہوئے صحرا کے بیچ میں بے یارو مددگار پڑی ہوئی تھیں۔ اس گرم لو نے ان دونوں کے جسم کو سینک کر محفوظ تو کر دیا تھا لیکن اب تک نمی کا آخرہ قطرہ بھی کھینچ لیا ہو گا۔
رفتہ رفتہ میں صحرا کے اس نظم و ضبط، جس کا تذکرہ نظراللہ نے کیا تھا، خود کو اس پر قائم رکھنے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ میں نے مختلف حربے آزمانے شروع کر دیے۔ پہلے تو اپنی موجودہ حالت کا تفصیلی جائزہ لیا تو سب سے پہلے خود کو یقین دلایا کہ دراصل پیاس اس قدر شدید نہیں تھی جتنی میں محسوس کر رہا تھا، ویسے ہی جس موت کا مجھے خوف تھا، وہ ابھی کوسوں دور تھی۔ میں اس وقت ایک دشوار گزار مشن پر نکلا ہوا تھا، اگر میں نے اس صحرا کو ایک موقع بھی دے دیا تو یہ مجھے منٹوں میں مار ڈالے گا۔ مجھے ہمت بندھائے رکھنی ہو گی اور اس مشکل سے نبٹنے کے کئی طریقے تھے، جن میں سے ایک طریقہ نظراللہ نے کافی دور جا کر کچھ یوں سکھلایا،
'اپنے سر کو پگڑی سے ڈھانپ لو۔۔۔' اس نے کہا۔ جب یہ کر چکا تو اس نے دریا کے پانی کا ایک کنستر نکالا۔ یہ پینے کا پانی نہیں تھا، اس نے میرے سر کے اوپر پگڑی میں پانی گرایا جو اسے تر کرنے کے بعد میرے چہرے سے نیچے، گلے میں گر کر سینے پر نیچے بہنے لگا۔ یوں کچھ دیر کو ڈھارس بندھی اور ہم نے سفر جاری رکھا۔
افغان پگڑی کپڑے کی آٹھ گز چادر ہوتی ہے جس کو لمبائی میں مروڑ کر سر کے گھیرے میں گول گھماتے ہوئے جمع کر دیا جاتا ہے۔ اس میں پانی کی کافی مقدار جمع ہو سکتی تھی اور گھیروں کی وجہ سے اتنی جلدی واگزار نہیں ہو سکتا تھا۔ یوں، سر کے اوپر تپتے ہوئے سورج کی گرمی کی شدت کم ہو جاتی اور پانی سوکھتا رہتا۔ میں نے سوچا کہ اس گرمی سے نبٹنے کا صرف یہی ایک طریقہ کارگر ہو سکتا ہے لیکن میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی کیونکہ بارہ منٹ کے اندر ہی ہوا کی گرم لو نے پگڑی کے گھیروں کی سبھی تہوں کے اندر سے بھی پانی سکھا دیا تھا۔ چنانچہ، ہمیں دوبارہ رکنا پڑا اور ایک دفعہ پھر کنستر سے پگڑی کو تر کیا اور آگے بڑھتے گئے، یوں ہر بارہ سے پندرہ منٹ بعد یہی مشق جاری رہی۔
آخر کار ہم ایک تنگ درہ نما گھاٹی میں پہنچ گئےجو بڑی چٹانوں سے دوسری جانب نکلتی تھی۔ ہم اس پرپیچ راستے پر تقریباً ایک میل دور نکل گئے تو ہم ایک نشیبی میدان میں پہنچ گئے جہاں سامنے درختوں کا جھنڈ اور گاؤں نظر آ رہا تھا۔ زندگی کے آثار دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی، اس گاؤں کے پار قدیم 'شہر' واقع تھا اور پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی نظر آ رہا تھا۔ ہم ہارن بجاتے، شور مچاتے آگے بڑھتے گئے کیونکہ صحرا کا یہ حصہ عبور ہو چکا تھا۔
چند افغان مختلف سمتوں سے ہمارے شور کی وجہ سے باہر نکلے لیکن ہم وہاں نہیں رکے۔ 'شریف کو بتا دو۔۔۔ میں لوٹ کر آتا ہوں!' نظراللہ نے چلا کر ایک شخص کو کہا اور ہم جیپیں دوڑاتے سیدھا جھیل کنارے پہنچ گئے۔ کپڑے اتار پانی میں جا بیٹھے تا کہ وہ نمی واپس جسم میں جذب کر سکیں جو صحرا میں ضائع ہو گئی تھی۔
'اس کو دیکھو!' شواٹز نے کچھ دیر بعد مجھ سے کہا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو نظراللہ جھیل کے کنارے سے بہت دور تک نکل چکا تھا لیکن پانی اس کے گھٹنوں تک ہی پہنچ رہا تھا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے، قریب پہنچ گیا تو اس نے مجھے دیکھ کر کہا، 'اگر چاہو تو ہم چلتے ہوئے جھیل کے دوسرے کنارے تک پہنچ سکتے ہیں۔۔۔' جس پر مجھے حیرانگی ہوئی کیونکہ یہ دیکھنے میں گہری جھیل نظر آتی تھی لیکن اس کا حال جوہڑ جیسا تھا۔ یہ بالکل بھی، کسی صورت روایتی جھیلوں جیسی نہیں تھی۔
اصل میں یہ وہی وسیع لیکن اتھلی جھیل تھی جس میں دریائے ہلمند آن کر گرتا ہے لیکن صحرا کی گرمی اور گرم لو سے پانی اتنی تیزی سے بھاپ بن کر اڑ جاتا کہ پہاڑوں پر اسی رفتار سے برف نہیں پگھلتی۔یوں ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریائے ہلمند صحرا میں پہنچ کر اس جھیل میں مر جاتا تھا۔ جب نور نے مجھے اس جھیل کے متعلق بتایا تھا تو مجھے بالکل یقین نہیں آیا تھا لیکن اب یہ میری آنکھوں کے سامنے تھا، ایک دریا مر رہا تھا۔ نظراللہ نے بتایا کہ جوں جوں گرمی بڑھتی جائے گی، گرما کے اواخر تک یہ جھیل بھی غائب ہو جائے گی۔
جب ہم جھیل سے نکل آئے تو شریف بھی آن پہنچا۔ یہ اس شخص کا نام نہیں بلکہ خطاب تھا جو اصل میں شریف نہیں بلکہ شاہ ریف تھا، یعنی وہ اس قصبے اور مضافات کا شاہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ خربوز اور دوسرے پھل بھی لایا تھا جو دیکھنے میں بہت لذیز نظر آ رہے تھے، میرے منہ میں پانی آ گیا۔ نظراللہ نے اسے لاپتہ جیپ کا محل وقوع سمجھانا شروع کیا، جس کو وہ نہایت توجہ سے سنتا رہا، آخر میں اس نے اپنے آدمیوں کو روانہ کرنے کی حامی بھر لی۔ میں نے غور کیا کہ حاضرین میں سے کوئی بھی ان اموات کی وجہ سے مضطرب دکھائی نہیں دیتا تھا، شاید اس کی وجہ یہ تھی لوگ صحرا پار کرنے کی کوشش میں لگے ہی رہتے تھے، ان میں سے کچھ مر جاتے تھے اور بعض پار کر جاتے تھے۔ یہ معمول کی بات معلوم ہوتی تھی۔
جب یہ معاملہ نبٹ چکا تو امریکی انجنئیر پچرڈ کے متعلق بات چیت شروع ہو گئی۔ ہم سب ہی اس گفتگو کا حصہ بن گئے۔ شریف نے بتایا کہ بائیس دن پہلے امریکی انجنئیر جو اس جگہ سے ستر میل جنوب کی جانب چہار کے مقام پر پانی کی سطح کا ماپ لیتے ہوئے اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا تھا۔ شریف کا خیال تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اسے سٹریچر پر لاد کر واپس اپنے گاؤں لے آتا لیکن اول تو دیہاتیوں کے لیے ایک مریض کے ساتھ صحرا پار کرنا آسان کام نہیں تھا، پھر دوم چہار کے شریف نے سوچا کہ اس کے یہاں حکیم علاج کر سکتے تھے۔ یوں یہ ارادہ ترک کر دیا گیا لیکن ایک ہفتہ قبل خبر آئی کہ پچرڈ کا زخم بگڑ گیا ہے اور انفیکشن کی وجہ سے حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔
'کیا ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے فریکچر سے گہرا زخم آیا ہے؟' ڈاکٹر شواٹز نے پوچھا،
'ہمیں یہی بتایا گیا ہے' شریف نے جواب دیا،
'کیا اس کے باوجود انہوں نے اس کا علاج کرنا مناسب سمجھا؟'
'یہ حکیم پچھلے تین ہزار سال سے علاج کرتے آ رہے ہیں' شریف نے بدمزگی سے جواب دیا۔ اس نے ایک شخص کو بلوا بھجوایا جو اچھا بھلا چل پھر رہا تھا لیکن اس کی ٹانگ تین ہفتے قبل ٹوٹ چکی تھی، 'ہم نے اس کا علاج کیا، یہ تو بالکل چنگا بھلا ہو گیا۔ اب قسمت کا لکھا۔۔۔'
ڈاکٹر شواٹز نے اس شخص کی ٹانگ کا معائنہ کیا اور پشتو میں کہا، 'اس سے بہتر علاج ممکن نہیں تھا، میں بھی اس کو ایسا ہی چنگا بھلا کر دیتا۔۔۔'
نظراللہ نے پوچھا، 'کیا تم ہمارے ساتھ کسی گائیڈ کو بھیج سکتے ہو؟'
'بالکل۔۔۔' شریف نے تعاون کا یقین دلایا اور اپنے خادمین کو حکم دیا کہ ہماری گاڑیوں کا تیل پانی چیک کر لیں اور خالی کنستر بھی بھر دیں۔ پھر بولا، 'لیکن اس گرمی میں سفر کرنا مناسب نہیں ہے'
'ہمیں جانا ہی پڑے گا' نظراللہ نے جواب دیا اور ہم رخصت ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی تذکرہ کیا تھا، جب ہم اس گاؤں میں پہنچے تھے تو دور سے ہمیں ایک 'شہر' جھیل کے کنارے نظر آیا تھا۔ افغان اس جگہ کو 'شہر' ہی کہتے ہیں اور اس کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں لیکن اصل میں یہ جگہ ایشیاء کے عجوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ قدیم ہخامنشی سلطنت کے ایک بہت بڑے شہر کی طویل رقبے پر پھیلی ہوئی باقیات ہیں جس کے ایک حصے سے ہم گزر رہے تھے۔ جھیل کے کنارے تقریباً ستر میل تک پھیلا ہوا یہ ریاست کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا اور یہ فارس اور افغانستان کی مغربی سرحد پر دلدلی علاقے میں واقع سستان کا علاقہ ہے۔ یہ اوائل تاریخ میں، عیسیٰ کے ظہور سے بھی چھ سو برس قبل دریافت شدہ دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک عظیم ترین شہر ہوا کرتا تھا ۔سکندر اعظم کے دور میں تو اس کو سارے خطے، بلکہ دنیا کے مرکز کا رتبہ حاصل رہا اور یہ شہر اس مرکز کا دل تھا۔ سکندر نے اس شہر میں بھی بسر رکھی اور اس کے بازاروں میں کئی بار پڑاؤ ڈالا۔ سکندر کے گزر جانے کے بعد اس شہر کا زوال شروع ہوا۔ ہوا یوں کہ یہ شہر اس قدر خوشحال تھا کہ بدلتی دنیا اور دوڑتے زمانے کی نظروں میں آ گیا۔ حالات نے پلٹا کھایا اور اگلے ہزاروں سال تک حملہ آوروں نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہزار برس تک یہ مسلسل منگولوں کے پے در پے حملوں کا نشانہ بنا رہا اور پھر تیمور اور دوسرے حملہ آور اپنے اپنے زمانوں میں اس کے خزانے اور خوشحالی کو جی بھر کر لوٹتے رہے، یہاں تک کہ اس کا اپنا نام اور شناخت بھی باقی نہیں رہی۔ آج یہ 'شہر' میل در میل، تقریباً ستر میل تک خاموش کھڑا انسانی حرص اور طمع کا منہ چڑا رہا ہے۔
میں نے سوچا کہ اس جگہ کو 'شہر' کا نام دے کر دراصل ہم غلطی پر ہیں۔ یہ ایک شہر کی بجائے طویل شاہراہ پر واقع کئی آبادیاں رہی ہوں گی اور اہم چوراہوں کے گرد قصبے واقع ہوں گے۔ ان میں سے بعض تو بے حد مشہور اور گنجان آباد ہوں گے۔ ان قصبات کے بین شہر راستے بھی آباد رہے ہوں گے۔ یعنی شہر میں قصبے اور قصبات میں گاؤں ہوا کرتے ہوں گے، جو ایک شاہراہ کی وجہ سے آپس میں جڑ کر ایک میٹروپولس بن گیا ہو گا۔ یہ شاہراہ بھی کیا تھی؟ صحرا میں دریائے ہلمند کے کنارے ہرا بھرا علاقہ ہی دراصل وہ شاہراہ تھی جس کے گرد میلوں تک یہ شہر آباد تھا۔ اسی لیے ہم دریا کے کنارے آگے بڑھتے ہوئے ایک ہی بہت بڑے اور قدیم 'شہر' کے کھنڈرات ہی نظر آ رہے تھے۔
یہ درست ہے کہ کسی زمانے میں میلوں پر پھیلی متاثر کن اونچی فصیلیں بھی رہی ہوں گی، جو جا بجا عظیم الشان دروازوں سے مزین بھی ہوں گی۔ بڑے مندر بھی ہوں گے جن میں طاقچے اور دیوہیکل مجسمے بھی رکھے جاتے ہوں گے لیکن مسلمانوں کی آمد کے بعد انسانی شبیہات اور بت پرستی کی ممانعت ہو گئی ہو گی لیکن اس کے باوجود اس شہر کے سورماؤں کے قصے پھر بھی باقی رہے ہوں گے۔ ایک جگہ کچھ تعمیرات ایسی نظر آئیں جو نہ تو آبادی کے گھر اور نہ ہی مندر یا مسجد کے آثار تھے بلکہ یہ غالباً اس زمانے کی میونسپل اور حاکم شہر کی جا تھی۔ یہیں سے حکام شہر امور چلاتے ہوں گے اور یہیں سے یرودیس اول کے زمانے سے بھی ہزار سال قبل کے یروشلم میں سفارتی وفود روانہ کیے جاتے ہوں گے اور ہندوستان سے قاصدوں اور تجار کی آمد رہتی ہو گی۔ میں نے دیکھا کہ یہاں ہر چیز کا رنگ کملاتا جا رہا تھا، آثار کی سطح تڑک کر ٹوٹتی جا رہی تھی، غالباً ہر سو برس میں ان باقیات کی سطح ایک یا دو انچ ہوا برد ہو رہا تھا۔
یہاں کئی سنگلاخ قلعے بھی نظر آئے جو یقیناً مسلمانوں کی ایجاد تھے۔ یہ حفاظتی قلعے فارس کے چرواہوں کو روکنے کے لیے تو نہایت مضبوط رہے ہوں گے لیکن چنگیز خان کی تربیت یافتہ افواج کے سامنے یہ زیادہ سے زیادہ ایک یا دو دن ہی ٹک پائے تھے۔ ان قلعوں پر غالب ہو کر چنگیز نے اس شہر میں خون کا بازار گرم کر دیا ہو گا، اس نے تو جو سامنے آیا کاٹ پھینک دیا۔
ہم 'شہر' کے ساتھ ساتھ طول میں سفر کرتے رہے اور مجھے نہیں یاد کہ کسی قدم پر یادگار نہ دیکھی ہو۔ طرز تعمیر نہایت شاندار اور ٹھوس تھا جو اس بیابان قطعہ زمین کی ضرورت کے عین مطابق تھا۔ ان تعمیرات کو دیکھ کر عظمت اور تنظیم کا احساس ہوتا تھا۔ دشت مارگو کی مشرقی حد پر واقع قلعہ بست کو دیکھ کر جاہ و جلال اور ٹھاٹ باٹ نظر آتا تھا لیکن دشت کے مغربی حصے میں واقع یہ 'شہر' اس طرح کے کسی بھی اثر سے خالی تھا۔ یہ اس قدر وسیع اور عظیم تھا کہ مجھ جیسے عام آدمی کی عقل و سمجھ میں اس کی بڑائی کا سما پانا ممکن نہیں تھا۔ جہاں اس کی یہ عظمت، وہیں میں نے غور کیا کہ یہ جگہ نہایت شناسا بھی معلوم ہوتی ہے۔ یہ عام لوگوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ میں اپنے جیسے ان عام لوگوں کو اس شہر کی گلیوں میں گھومتا پھرتا، عدالتوں میں مقدمات نبٹاتا، ٹیکس دفتروں کے چکر لگاتا اور روز و شب کے معمولات کو صاف صاف محسوس کر سکتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے مجھ پر قلعہ بست کے برعکس اس شہر میں ہیبت کا اثر نہیں ہوا، بلکہ اس جگہ کو دیکھ کر میرے اندر کوئی ردعمل پیدا نہیں ہوا۔ مجھے رہ رہ کر صرف یہ خیال آ رہا تھا کہ امریکہ کے بڑے شہر جیسے نیویارک کا بھی شاید آج سے ہزاروں سال بعد یہی حال ہو گا، اس زمانے کے انسان بھی نیویارک کی باقیات میں سے گزرتے ہوئے سوچا کریں گے کہ یا خدا، یہ کس طرح کا شہر تھا؟ اس کے لوگ کیسے تھے؟ اور ہائے وائے، یہ برباد کیوں ہو گیا؟ یہ شہر، پرانے زمانوں کا نیویارک تھا۔
صحرا میں صبح کے وقت سفر کرتے ہوئے جس گرمی کا سامنا تھا، وہ یقیناً سخت تھی اور سانس لینا بھی دو بھر ہو گیا تھا لیکن دوپہر کے بعد جو حال تھا، وہ ناقابل برداشت ہو رہا تھا۔ اس بارے میں صرف یہ کہوں گا کہ جب بھی ہم کسی تالاب کے قریب پہنچتے یا دریا کی کوئی شاخ نکلتی ہوئی نظر آ جاتی۔۔۔ ہم دوڑے دوڑے اس کے کنارے پہنچتے، جیبوں سے سامان نکال پوٹلی باندھ کر سر پر رکھتے اور پانی میں گھس جاتے تا کہ مسام پانی سے بھر جائیں، جسم نمی جذب کر لے۔ کچھ دیر سکون ملتا تو ہم مٹیالے پانی کے کنستر بھر لیتے اور پانی کے آثار نظر آنے تک پگڑی کی تہوں کو بھگوتے رہتے۔ جیسے صبح حال تھا، ویسے ہی اس وقت بھی یہ عارضی حل تھا کیونکہ چند منٹوں کے اندر ہی پگڑیاں خشک ہو جاتیں۔ اگر ہمیں راستے میں پانی کے آثار نہ ملتے تو یہ سفر ممکن نہ ہوتا۔ ہم کسی سایے میں دبکے رہتے اور رات کا انتظار کرتے، لیکن شکر ہوا کہ آسانی ہو گئی۔
ایسی ہی ایک جگہ رکے تو نظراللہ نے ایک دفعہ پھر مجھے اپنے ساتھ جیپ میں سفر کی پیشکش کی۔ اب کی بار اس کا ارادہ اپنی دوسری شادی بارے نہیں بلکہ 'شہر' بارے، قدیم زمانوں کی نسبت گفتگو کرنا تھا۔ جب یہ 'شہر' اپنی جوبن پر ہوا کرتا تھا۔ 'غالباً اس شہر کے دور دراز علاقوں جیسے ماسکو، پیکنگ، دہلی اور عرب کے ساتھ تجارتی مراسم رہا کرتے تھے۔ یہ بلخ جیسا شہر تو کبھی نہیں رہا لیکن یہ بالضرور اس کے پائے کی آبادی رہا ہی ہو گا۔ تمھارے خیال میں اس شہر کی بربادی کی وجہ کیا تھی؟'
'چنگیز خان!' میں نے پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیا، 'میں نے پہلی بار سکول میں چنگیز خان بارے پڑھا۔ کارنامے تو چھوڑو، اس کا نام بھی مجھے خاصا وحشیانہ محسوس ہوا تھا۔ وہ اور اس کا کردار مجھے کبھی پسند نہیں رہا، وہ تباہ کن طاقت محسوس ہوتا تھا۔ غالباً وہ ایک دن اپنی فوج کے ساتھ تمھارے اس شہر کے باہر آن کھڑا ہوا ہو گا اور اعلان کیا ہو گا، 'میں چنگیز خان، تمھاری موت تمھارے سر پر کھڑا ہوں!' اور پھر اس نے ہلا بول دیا ہو گا'
'ارے نہیں!' نظراللہ ہنسا، 'تم چنگیز خان کو خواہ مخواہ ہی بدنام کرتے ہو، یہ اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ اب دیکھو، بلخ اس خطے کا سب سے بہترین شہر تھا، وہ اس نے ضرور برباد کیا لیکن اس شہر کو نہیں۔۔۔ ہیرات بھی اس نے تباہ نہیں کیا۔ لوگوں کا قتل عام ضرور کیا لیکن لوگوں کا کیا۔۔۔ وہ تو پھر بس جاتے ہیں۔ نئے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں، اسی وجہ سے ہیرات ابھی تک قائم ہے۔ چنگیز خان نے اس شہر کو برباد نہیں کیا، اس کی وجہ کچھ اور تھی۔۔۔'
'طاعون؟' میں نے مشتبہ انداز میں کہا کیونکہ وسط ایشیاء سے متعلق میرے تقریباً خیالات اب تک چکنا چور ہی ہوئے تھے۔
'اس بارے تین مختلف طرح کی آراء پائی جاتی ہیں لیکن وہ تینوں ہی قیاس ہیں' اس نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔ اس طرح کی گفتگو میں اسے لطف آتا تھا، وہ جرمنی میں وقت گزار چکا تھا، اسی لیے ٹھوس انداز میں بات چیت کرتا تھا۔ پڑھے لکھے سبھی افغان اس طرز گفتگو کو پسند کرتے تھے۔
میں نے اس کی بات میں مدخل ہو کر ہنستے ہوئے کہا، 'نظراللہ۔۔۔ میں نے ایک بات نوٹ کی ہے' اس نے استفسار کیا تو میں نے کہا، 'تم، نور محمد اور محب خان۔۔۔ تینوں کے ساتھ میرا کافی وقت گزر گیا ہے۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ تم تینوں ہی دوسرے افغانوں کی طرح کبھی ان معاملات کو 'پیغمبر کی پھٹکار'، 'کافروں کا انجام' یا 'خدا کا عذاب' قرار نہیں دیتے۔ میرے خیال میں تو تمھارا ایمان ڈانوا ڈول ہے!'
'مجھے بھی تم سے یہی شکایت ہے!' اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، ' تم اور نہ ہی دوسرے سفارتکار 'یسوع مسیح کی قسم' وغیرہ نہیں استعمال کرتے۔ ہم ایک مسخ شدہ دور میں بسر رکھتے ہیں'
'اچھا تم کچھ کہہ رہے تھے۔۔۔' میں نے اس سے اتفاق کیا اور پھر ان پڑھ افغانوں کی طرح چھیڑ کر کہا، 'تمھیں میرے سر کی۔۔۔ نبی جی کی قسم، کہو کیا کہنا چاہتے تھے؟'
'اس بات سے مجھے کچھ یاد آ گیا۔۔۔' اس نے ہنستے ہوئے جواباً کہا، 'میں جب امریکہ میں تھا تو پنسلوانیا کے مضافات کی ایک دیہاتی لڑکی کے ساتھ کچھ دن عشق لڑاتا رہا۔۔۔ اس کا ایشیاء سے متعلق ساری معلومات کا سرا ایک ہی چیز پر ختم ہوتا تھا، اس کا خیال تھا کہ ہر دور میں ایک 'عبدل عبدالبل امیر' ضرور ہوا کرتا تھا جو پچھلے 'عبدل عبدالبل امیر' کا سر کاٹ کر 'عبدل عبدالبل امیر' بن گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اصولی طور پر تو یہ بات بالکل درست تھی لیکن تقریباً امریکیوں کا علم ہمارے بارے اسی طرح محدود تھا!'
'اس شہر کو کس چیز نے برباد کیا؟' میں نے سنجیدگی سے پوچھا،
'پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جگہ دنیا کے ممتاز ترین آب پاشی کے نظاموں کی بہترین مثال تھی۔ میرے خیال میں سکندر اعظم نے بھی اس کا تذکرہ کر رکھا ہے جو تاریخ میں مل جاتا ہے۔ تم اردگرد نظر دوڑاؤ، اس نظام کے آثار اب بھی ہر جگہ عام ہیں۔ اس طرف دیکھو۔۔۔۔ وہاں!' اس نے اشارہ کیا، 'غالباً وہاں پانی کا ذخیرہ رہا کرتا تھا لیکن یہاں کے لوگ وقت کے ساتھ کاہل ہو گئے۔ ان کی دلچسپی اس نظام کی بجائے تعیش پر مرکوز ہو گئی۔ انہوں نے سوچا ہو گا کہ اگر یہ نظام پچھلے سو برس ٹھیک ٹھاک چلتا رہا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اگلے سو برس بھی ایسے ہی چلتا رہے گا۔ انہوں نے بھل صفائی ترک کر دی اور نئے ڈیم بنانا بھی چھوڑ دیا۔ ان کا اندازہ درست تھا، اگلے ایک سو برس تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا لیکن انہوں نے یہ سوچ پال کر اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے تھے۔ چنگیز خان کو ان لوگوں کی کاہلی اور سستی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
یہ تو پہلا مفروضہ تھا لیکن دوسرا اس سے بھی کہیں اہم ہے۔ میں اس بات پر زیادہ قائل ہوں کہ اس جگہ کی تباہی کی وجہ نمک تھا۔ یہ ثابت ہے کہ اگر زمین کے کسی ٹکڑے کو ایک عرصے تک سیراب کرتے رہو تو پانی کے مسلسل بہاؤ کی وجہ سے اس جگہ پر نمکیات کی بہتات ہو جاتی ہے۔ ایسی زمین کو کلر مار دیتا ہے۔ ہر موسم میں نئی فصل اگانے سے مٹی کی ہیئیت برباد ہوتی رہتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مزید کاشتکاری ممکن نہیں رہتی۔ یوں، میں چنگیز خان اور نہ ہی اس زمانے کے کاہل لوگوں کو مکمل طور پر اس تباہی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ شاید، یہ نمکیات کے جمع ہو جانے کا مسئلہ اس قدر گھمبیر رہا ہو کہ اس کا حل تلاشنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اگلی ایک یا دو صدیوں میں، شاید امریکہ میں کولاراڈو اور یوٹاہ کی ریاستیں بھی اسی طرح بنجر ہو جائیں جیسے آج یہ علاقہ ہے کیونکہ پچھلی ایک صدی میں وہاں دہقانوں نے خوب محنت کر کے فصلیں اگائی ہیں اور خوب منافع کمایا ہے۔ ملر، ان ریاستوں میں نمکیات کا مسئلہ بہت تیزی سے سر اٹھا رہا ہے۔ ان جگہوں کی قسمت میں بھی یہی لکھا ہے۔۔۔ تمھارا مستقبل کے کولاراڈو اور یوٹاہ میں خیر مقدم ہے!' اس نے کھنڈرات کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ لہرایا۔
'تیسری وجہ بہت عام سی ہے لیکن پہلی دونوں وجوہات سے زیادہ تباہ کن تھی۔ اس خطے کی تباہی کا سبب بکریاں ہیں!' اس نے پراسرار انداز میں کہا اور میں تقریباً ہنس پڑا، 'تمھیں یقین نہیں آئے گا لیکن بکریاں ایشیاء پر نازل ہونے والی سب سے بڑی آفت ہیں۔ خدا نے ہم انسانوں کو زرخیز زمینیں دیں، اونچے پہاڑ عطا کیے جن پر گھنے جنگل تھے اور اتنی زیادہ نعمتیں اور وسائل عطا کیے کہ انسان کی آنے والے زمانوں کی رہتی نسلیں ان پر پل سکتی تھیں۔ لیکن جہاں انسان کو یہ سب دیا۔۔۔ وہیں شیطان کے ہاتھ میں صرف ایک چیز تھما دی۔ یہ چیز بکری تھی، بکریوں نے جنگل چٹ کر دیے، بوٹے نکلتے بھی نہیں تھے کہ یہ انہیں برباد کرنے پہنچ جاتیں۔ اسی طرح چراہ گاہیں اور کھیت۔۔۔ بکریوں نے کچھ نہیں چھوڑا۔ سبز نام کی ہر چیز کھاتی رہیں اور یوں آہستہ آہستہ یہ پورا علاقہ بنجر ہو کر صحرا بن گیا۔ میری رائے میں بکری جیسا تباہ کن جانور کوئی دوسرا نہیں ہو گا، یہ کوبرا سانپ سے بھی زیادہ خطرناک ہے'
'چلو مان لیا لیکن بکریوں نے شہر کو کیونکر برباد کیا؟' میں نے پوچھا،
'جب یہ شہر ایک بہت بڑا میٹروپولس تھا' نظراللہ نے تفصیلات بتائیں، 'یہ جو آس پاس بنجر پہاڑیاں نظر آ رہی ہیں، ان پر کبھی گھنے جنگل رہے ہوں گے اور تم جانتے ہی ہو، ایسی جگہوں پر عمارتی لکڑی اور کوئلے کا کاروبار زوروں پر رہتا ہے۔ انسانوں کی حرص، یعنی بے روک ٹوک کٹائی نے آدھا جنگل تباہ کر دیا جبکہ بکریوں نے باقی بچ جانے والے کا صفایا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تمھارا کیا خیال ہے، ہم مٹی اور گارے کے ان ڈھاروں میں شوق سے بسر رکھتے ہیں؟ ان میں بسر رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن ہم کیا کریں، اس ملک میں لکڑی نایاب ہے۔ جب میں امریکہ میں تھا تو ہمیشہ سوچا کرتا کہ، 'امریکہ کی بکری کون ہے؟' مجھے پتہ چلا کہ تمھارے ملک کی بکری ٹمبر مافیا ہے جو دھڑا دھڑ جنگل کاٹ کر بیچ رہے ہیں' اس نے کچھ لمحے توقف کیا اور پھر بولا، 'امریکہ نے اس جنگ میں تو جرمنی کو شکست دے دی ہے لیکن مستقبل میں اگر کوئی جنگ ہوئی تو جرمنی کی جیت ہو گی کیونکہ جرمن جنگلوں کو آباد رکھتے ہیں!'
میں نے گفتگو کا رخ واپس ایلن جاسپر کی طرف موڑنا چاہا لیکن گاڑی کی پشت پر اضافی ٹائروں میں پھنس کر بیٹھے گائیڈ نے گاڑی کی رفتار کم کرنے کو کہا، اس نے بتایا کہ ہم چہار پہنچنے والے تھے جہاں پچرڈ زخمی پڑا تھا۔ ہم نے پانی کا تالاب ڈھونڈا اور تازہ دم ہو گئے، ہم نے اس دفعہ کپڑے بھی اچھی طرح دھو لیے اور وہیں سکھا کر پہن بھی لیے۔ پگڑیاں بھی خشک ہو گئیں تو انہیں سنبھال کر رکھ دیا اور قراقل ٹوپیاں پہن لیں۔ الغرض جس قدر ممکن تھا، خود کو مناسب حد تک سدھار لیا۔ جب ہم ایسا کر رہے تھے، میں نے پوچھا، 'اس دکھاوے کی کیا ضرورت ہے؟'
نظراللہ نے جواب دیا، 'افغانستان کے اس حصے میں شریف کو متاثر کرو گے تو ہی کام نکلے گا، ورنہ نہیں۔۔۔' ہم چہار گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے تو اس نے کہا، 'ہم کابل سے اتنے دور ہیں کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں اسی جیسے رہزنوں کی حکومت ہے، وہ جیسا چاہتے ہیں انتظام چلاتے ہیں۔۔۔' اس کا اشارہ شریف کی جانب تھا، 'تم ہی بتاؤ، کون اس صحرا کو پار کر کے اس شخص کا قبلہ درست کرے گا؟ اسے ریاست کی رٹ پر کون قائم رکھے گا؟'
یہ ایک خوبصورت گاؤں تھا جس میں ضرورت سے کہیں بڑا حجرہ تعمیر کیا گیا تھا۔ احاطے میں انار کے کئی درخت تھے، جن پر پھول کھلے ہوئے تھے اور اس کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ شریف ہمیں خوش آمدید کہنے خود باہر نکل آیا۔ وہ ایک سرو قد لیکن خاصا بھاری بھرکم، پکی عمر کا شخص تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کی مانند یہاں بھی لوگ زیادہ تر اونچے قد کے آدمیوں کو راج کرنے کا اہل سمجھتے ہیں۔
شریف کا یہاں واقعی راج تھا، جو اس کی چال ڈھال اور تحکم سے واضح تھا۔ وہ ایک چھوٹی لیکن واقعی سلطنت کا مطلق فرمانروا تھا، زمین کے اس ٹکڑے پر صرف اس کا اختیار چلتا تھا۔ اس کی اپنی فوج، قاضی اور خزانہ بھی تھا۔ چونکہ اس کی سلطنت کابل سے نہایت دور اور فارس کی بغل میں واقع تھی، اس کی بادشاہت میں فارسی سکے اور مہریں چلتی تھیں۔ 'اس طرح کی درجنوں فرمانروائیاں ہیں جو افغانستان کے طول و عرض میں ابھی تک باقی ہیں' نظراللہ نے بتایا تو ہی سمجھ میں آیا کہ چہار میں سے ایک زخمی امریکی کو نکالنا کیوں دشوار تھا۔ اس کی راہ میں صرف صحرا ہی نہیں بلکہ ایک فرمانروا بھی حائل تھا، صحرا کی قدرت کا احترام کافی نہیں تھا بلکہ شریف کو راضی کرنا بھی لازم تھا۔ اگر کوئی یہاں بیمار پڑ جاتا تو حکیم اس کا علاج کرتے تھے۔ بیمار بچ جاتا تھا یا پھر مر جاتا تھا لیکن یہاں سے اپنی مرضی سے نکلنا اتنا آسان نہیں تھا۔
شریف ہمیں ساتھ لیے ایک نیچی چھت والی کوٹھڑی میں لے گیا جہاں دم گھٹ رہا تھا۔ یہ حجرے سے قدرے فاصلے پر واقع تھی۔ کچے فرش پر صحرائی گھاس کی چٹائی ڈال رکھی تھی جس پر پتلی تلائی بچھا کر بستر بنا دیا تھا۔ اس بستر پر میں نے دیکھا کہ کمزوری سے لاغر ہو چکا انجنئیر پچرڈ لیٹا ہوا تھا۔ اس کے چہرے سے رنگ اڑ چکا تھا لیکن وہ جب تندرست رہا ہو گا، یقیناً چالیس کے پیٹے میں تار کی طرح سخت اور چست رہا ہو گا۔ نظراللہ نے ہاتھ بڑھا کر اس سے مصافحہ کیا اور کہا، 'ہیلو، پروفیسر! امریکی سفارتخانے نے تمھیں یہاں سے نکال کر لے جانے کے لیے ایک آدمی بھیجا ہے!' پچرڈ نے کمزوری کے سبب نظراللہ کو نہیں پہچانا۔
'میں اس جگہ سے فی الفور نکل جانا چاہتا ہوں!' پروفیسر کی آواز نحیف اور وہ سخت کمزور ہو چکا تھا۔ شریف کے خادموں نے اس کا خوب خیال رکھا تھا، صفائی کا انتظام تھا، اچھا کھاتے پلاتے تھے اور شیو بھی بنا رکھی تھی لیکن اس کی جسمانی حالت ابتر ہو رہی تھی۔ میں اسے دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ وہ مر رہا ہے کیونکہ اس کی بائیں ٹانگ میں دو فریکچر تھے جن سے کافی گہرے زخم آئے تھے۔ ان زخموں میں پیپ تو نہیں تھی لیکن خشک ہوا اور گرمی سے بگڑ کر ناسور سے سڑ رہے تھے۔ جلد سخت ہو گئی تھی اور رنگت سبز مائل تھی۔
ڈاکٹر شواٹز نے چند منٹ تک اس کی ٹانگ کا معائنہ کیا، زخموں کو ٹٹولا اور سبز مادہ انگلیوں پر لگا کر سونگھا۔ پھر اس نے پچرڈ کے جانگھوں اور بغلوں میں کچھ علامات دیکھیں اور جب یہ ہو چکا تو اس نے پچرڈ کے کندھے پر داہنا ہاتھ رکھا اور آہستگی سے کہا، 'پروفیسر پچرڈ، یہ ٹانگ کاٹنی پڑے گی۔۔۔' یہ سن کر انجنئیر کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہو گئے اور اس کا رنگ مکمل طور پر فق ہو گیا۔
شواٹز نے بات آگے بڑھائی اور ہم سب کو قائل کرنے لگا، 'میری رائے میں اس ٹانگ کو کٹنے سے بچانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ میں ہی نہیں، کسی بھی ڈاکٹر سے پوچھ لو، اس کا بھی یہی خیال ہو گا۔ پروفیسر مجھے افسوس ہے لیکن تمھارے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے' پچرڈ نے کوئی جواب نہیں دیا، غالباً اس کو پہلے سے ہی اس بات کا اندازہ تھا۔
ڈاکٹر نے جذبات سے عاری لیکن انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کہا، 'ہمارے سامنے ایک مشکل فیصلہ ہے، اس کے لیے ہم سب کو ذمہ داری قبول کرنی ہو گی۔ پچرڈ، نظراللہ، اور ملر۔۔۔ تم تینوں فیصلہ کر لو۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ میں ٹانگ کا یہیں آپریشن کر دوں لیکن جراحی کے بعد دیکھ بھال کا یہاں کچھ خاص انتظام نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں تمھاری ٹانگ کا علاج کروں، ناسور کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کروں اور اس دوران تمھیں قندھار پہنچا دیا جائے۔ قندھار ہی میں تمھارا آپریشن ہو، وہاں جراحی کے بعد دیکھ بھال کا خاطر خواہ انتظام کیا جا سکتا ہے۔ لیکن، سوال یہ ہے کہ کیا تم صحرا پار کرنے کا خطرہ مول سکتے ہو؟'
ہم میں سے ہر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگا، یہ واقعی انتہائی مشکل فیصلہ تھا۔ آخر کار پچرڈ خود ہی بول پڑا۔ اس کے لہجے میں مضبوطی تھی، 'اگر میں یہیں رہا تو یقیناً مر جاؤں گا۔۔۔'
شواٹز نے پوچھا، 'یعنی تم قندھار جانا چاہتے ہو؟'
'ہاں۔۔۔ ' اس نے تقریباً روتے ہوئے کہا، 'ہاں!'
'نظراللہ صاحب، آپ کا کیا خیال ہے؟' شواٹز نے بات جاری رکھی،
'میں پروفیسر سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں' نظراللہ نے الٹا کہا، 'پروفیسر صاحب، آپ صحرا سے بخوبی واقف ہیں۔ کیا آپ خود کو اسے پار کرنے کے قابل سمجھتے ہیں؟'
'ہاں۔۔۔' پچرڈ نے رندھی ہوئی آواز میں وہی رٹ دہرائی، 'اگر میں یہاں رہا تو مر جاؤں گا۔۔۔'
'ہم تمھیں قندھار لے جائیں گے۔۔۔' نظراللہ نے مضبوطی سے کہا اور جب فیصلہ کر لیا تو وہ ایک دفعہ پھر پوری توجہ سے پلان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس نے ہاتھ پر باندھی گھڑی پر وقت دیکھا اور کہا، 'ہمیں اندھیرا پھیلنے سے پہلے 'شہر' پہنچنا ہو گا۔ ہم رات وہیں بسر کریں گے۔ کل صبح سویرے صحرا میں سفر شروع کریں گے۔ کیا تم سب تیار ہو؟' نور اور شواٹز نے اس سے اتفاق کیا۔ پھر وہ پچرڈ کی طرف مڑا اور پوچھا، 'یہ آخری موقع ہے۔ پروفیسر، کیا تمھیں یقین ہے کہ تم صحرا پار کر سکتے ہو؟'
'میں ابھی کے ابھی جانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔' انجنئیر نے لہجہ مضبوط کر کے جواب دیا،
'تو پھر طے ہو گیا۔ ہم فوراً نکلیں گے!' نظراللہ نے اعلان کیا۔
لیکن میں اس پلان سے متفق نہیں تھا، اصل میں جس طرح جلدی میں فیصلہ کیا گیا اور جس قدر تیزی سے ہم فوراً ہی سفر پر روانگی کے لیے تیار ہو گئے تھے، مجھے یہ بات کھٹک رہی تھی۔ 'ایک منٹ۔۔۔ صبر تو کرو!' میں نے احتجاجاً کہا، 'ڈاکٹر شواٹز، تم بتاؤ۔۔۔ کیا پروفیسر پچرڈ اس طرح کا فیصلہ کرنے کا اہل ہے؟ کیا وہ سفر کرنے کے قابل ہے؟'
'میں تیار ہوں۔۔۔' بچرڈ نے مخل ہو کر کہا، 'میں نے بہت انتظار کر لیا۔ اگر میں یہاں ایک رات بھی مزید رکا تو مر جاؤں گا۔۔۔' اس کی حالت قابل رحم تھی۔
'کیا تم نے اس صحرا کی مشکلات سے آگاہ ہو؟' میں نے بوکھلائے ہوئے انداز میں احمقانہ سوال پوچھا،
'میں تمھارے سامنے تو ہوں۔۔۔ وہ صحرا میں نے بھی پار کیا ہے، یہاں پہنچا تو ہوں!' پچرڈ کے لہجے میں حقارت تھی،
'کیا تمھیں وہ گرمی یاد ہے؟'
'دیکھو ملر۔۔۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔ میرے خیال میں ہمیں فی الفور روانہ ہو جانا چاہیے۔۔۔'
'گرمی!' میں چلایا، 'کیا تم نے دن کے وقت صحرا پار کیا ہے؟'
'ہاں۔۔۔ کیا ہے!' پروفیسر نے جواباً چلا کر کہا، 'تم سمجھتے کیوں نہیں؟ میں یہ مزید برداشت نہیں کر سکتا'
میں نے بے بسی سے شواٹز کی طرف دیکھ کر کہا، 'ڈاکٹر تم اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔ صحرا کی گرمی، راستے کی مشکلات اور گاڑی میں ہچکولوں سے اس کی حالت مزید بگڑ جائے گی' جرمن نے کوئی جواب نہیں دیا تو میں گلا پھاڑ کر چلایا، 'کیا تم نہیں جانتے؟'
'میں جانتا ہوں' شواٹز نے بے دلی کے ساتھ مجھ سے اتفاق کیا، 'اگر اس کی ٹانگ کا جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ بڑھتا جائے گا'
'مجھے بھی یہی ڈر ہے' میں نے نحیف آواز میں کہا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں رو پڑوں گا، اسی لیے میں نے آہستگی سے کہا، 'ہم اس کا یہیں آپریشن کریں گے، ابھی کے ابھی۔۔۔'
شواٹز نے نہایت سنجیدگی سے کہا، 'لیکن ملر۔۔۔ اس کی جان کو یہاں بھی اتنا ہی خطرہ درپیش ہے، جتنا۔۔۔'
'خدا کا واسطہ ہے، تم کسی ایک جانب تو ٹکو!' میں نے تقریباً روتے ہوئے کہا، 'مجھے ایک جواب دو۔۔۔ ہاں یا نہیں؟'
'اس کا ہاں یا نہیں۔۔۔ بلکہ کوئی جواب نہیں ہے!' شواٹز نے بھی سختی دکھائی، 'خطرہ ہے۔ یہاں بھی خطرہ ہے اور وہاں بھی خطرہ ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔۔۔' پھر وہ پچرڈ کی طرف مڑا اور نرمی سے پوچھا، 'پروفیسر، آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جانتے ہیں کیا؟'
'تین دن پہلے مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں مر گیا ہوں۔۔۔' پچرڈ نے کمزوری سے کہا، 'مجھے اب کسی قسم کا ڈر نہیں ہے۔ ڈاکٹر، تمھارے حساب میں، میرے لیے زیادہ بہتر کیا ہے؟'
'اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے' شواٹز اپنی ہی بات پر اڑا رہا، 'تم اور تمھارا یہ امریکی مشیر ہی اس بات کا فیصلہ کر لو!'
پروفیسر نے میری جانب اس قدر کسمپرس نظروں سے دیکھا کہ مجھے نظریں پھیرنی پڑیں۔ میں نے کسی کی آنکھوں میں پہلی دفعہ موت اس قدر قریب سے دیکھی تھی۔ 'ملر۔۔۔' اس نے آہستگی سے کہا، 'میرے خیال میں، میرے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم فی الفور قندھار کے لیے روانہ ہو جائیں!'
مجھے یقین تھا کہ اسے صحرا میں لے جانا، موت کا پروانہ ثابت ہو گا۔ اس کی ٹانگ کا ناسور، جسم میں زہر پھیلاتا رہے گا۔ اسی لیے مجھے اس کا یہ جواب، نظراللہ کی رضامندی اور شواٹز کی غیر جانبداری۔۔۔ تینوں ہی چیزیں منظور نہیں تھیں۔ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ درست فیصلہ یہی ہے کہ اس کی ٹانگ کا فی الفور آپریشن کر کے الگ کر دی جائے۔ میں سخت ذہنی تکلیف سے دوچار تھا، اسی عالم میں نظراللہ کی جانب دیکھا اور کہا، 'کیا ہم باہر نکل کر بات کر سکتے ہیں؟'
'تم وقت ضائع کر رہے ہو' نظراللہ نے مجھے متنبہ کیا،
'مجھے تمھاری صلاح درکار ہے'
'تم میری صلاح جانتے ہو۔۔۔ قندھار!' اس نے مضبوطی سے کہا،
'ایک دفعہ میری بات تو سن لو!' میں نے منت کی،
وہ اپنی مرضی کے خلاف میرے ساتھ باہر نکل آیا۔ جب ہم دونوں باغ میں انار کے درختوں تلے سائے میں پہنچ گئے تو مجھے نظراللہ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملا، اس کی اعصابی مضبوطی کا اندازہ ہوا۔ وہ چھوٹتے ہی بولا، 'تم امریکی ہو اور اپنے امریکی ہم وطن کے معاملے میں اس وقت انچارج ہو' اس نے درشتی سے کہا، 'پندرہ منٹ کے اندر اندر۔۔۔ جو بھی ہے، فیصلہ کر لو!'
'لیکن نظراللہ۔۔۔ تم ایک سائنسدان ہو۔ تم جانتے ہو کہ اس کی ٹانگ کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ سفر کر سکے۔ اس کے جسم میں زہر پھیلتا جا رہا ہے۔ وہ قندھار نہیں پہنچ پائے گا'
'ڈاکٹر کا خیال ہے کہ وہ پہنچ سکتا ہے، میرے خیال میں بھی یہ ممکن ہے۔ ہمیں روانہ ہو جانا چاہیے'
'لیکن اگر اس کا یہیں آپریشن کر دیں، کیا تم انتظامات کر دو گے؟'
'ملر، میں اسی مقصد کے لیے آیا ہوں۔ اگر مجھے یہاں پورا مہینہ بھی رکنا پڑا تو میں تمھارے ساتھ رہوں گا۔ تم جو فیصلہ کرو گے، میں اس کا پابند ہوں لیکن خدارا۔۔۔ کوئی فیصلہ تو کرو!'
'فیصلہ کرنے میں میری مدد کرو!' میں نے درخواست کی، 'یہ ایک شخص کی زندگی کا سوال ہے'
'میں تمھارے لیے تمھارا کام نہیں کر سکتا، یہ فیصلہ تمھارا ہے' اس نے سردمہری سے کہا،
'کیا میں ڈاکٹر سے بات کر لوں؟ صرف ایک منٹ!'
'شواٹز سے؟ وہ اس طرح کا فیصلہ کرنے کا اہل نہیں ہے۔ اس نے خود ہی تو کہا ہے کہ یہ حقائق ہیں، ان کی روشنی میں تم خود ہی فیصلہ کر لو۔۔۔ مزید کیا بات کرنی ہے؟'
'حقائق کیا ہیں؟' میرے پسینے چھوٹ رہے تھے، 'میں فیصلہ کرنے سے پہلے ایک دفعہ پھر سننا چاہتا ہوں'
'ملر۔۔۔ تم اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش ترک کرو اور فیصلہ کر لو!' نظراللہ جھلا گیا تھا،
'مجھے اس کے بتائے حقائق کی پوری طرح سمجھ نہیں آئی۔ مجھے بتاؤ۔۔۔'
'اس نے کہا ہے۔۔۔' نظراللہ نے بے صبری سے دہرایا، 'یہاں آپریشن کرو یا اسے واپس قندھار لے جاؤ۔۔۔ غالباً پچرڈ جانبر نہیں ہو پائے گا'
'اس نے ایسا تو نہیں کہا!' میں اب پوری طرح بوکھلا گیا تھا،
'اس کا مطلب یہی تھا اور وہ اسے اس بات کا یقین ہے۔ اگر اس کا اندازہ درست ہے، مجھے یقین ہے کہ درست ہے۔۔۔ یہ مسئلہ طے کرنا نہایت آسان ہے۔ پچرڈ نہیں بلکہ یہ سوچو کہ تمھارے اور میرے لیے بہتر کیا ہے؟'
'یہ ایک شخص کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، تم عجیب بات کر رہے ہو!'
'ملر۔۔۔ یہ صرف اس کی موت کا مسئلہ ہے۔ تم یہ فیصلہ کرو کہ تمھارے اور میرے لیے کیا بہتر ہے؟ بولو ورنہ ہم مزید انتظار نہیں کریں گے'
'ایک منٹ۔۔۔ مجھے سوچنے دو!' میں نے پھر منت کی، 'نظراللہ، ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ اس جگہ سے نکل جانا چاہتا ہے۔ اگر اسی بات کو بنیاد بنا لوں تو اس کا کتنا وزن ہے؟'
'ملر۔۔۔ یہی ساری بات کا نچوڑ ہے۔ اگر وہ یہاں رکا رہا تو وہ جانتا ہے کہ بالآخر یہیں مر جائے گا!'
میں کچھ لمحوں تک ہچکچایا لیکن پھر مضبوطی سے کہا، 'ٹھیک ہے۔۔۔ ہم اسے قندھار لے جائیں گے'
'کیا یہی تمھارا فیصلہ ہے؟'
'ہاں۔۔ چلو، تیاری پوری کر لیں۔ ہم فی الفور روانہ ہو جائیں گے'
'اس بات کو تحریر میں لاؤ!'
'تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟' میں ایک دفعہ پھر بوکھلا گیا،
'اس طرح کے معاملات کے نتائج عام طور پر خوشگوار نہیں ہوتے' نظراللہ نے محتاط لہجے میں کہا، 'امریکی ہمیشہ ہی افغانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ خواہ مخواہ سبکی ہوتی ہے۔۔۔ اگر کوئی احمقانہ فیصلہ کرنا ہے تو تم خود ہی کرو اور اس کی ذمہ داری اٹھاؤ۔ تم اس کو تحریر میں لاؤ!'
'مجھے کوئی ڈر نہیں ہے' میں نے بہادری سے جواب دیا، اپنا آپ چھبیس برس کی عمر سے کہیں بڑا محسوس ہوا، 'اگر یہ فیصلہ میری صوابدید پر ہے تو میں ایک دفعہ شواٹز اور پچرڈ سے بات کرنا چاہوں گا'
'تمھارے پاس دس منٹ ہیں' نظراللہ نے کہا، 'اس کے بعد ہم کئی ہفتوں تک یہیں رہیں گے'
ہم دوبارہ کمرے میں چلے آئے۔ میں شواٹز کو ساتھ لیے واپس باہر آ گیا۔ اس نے احتجاج کیا لیکن نظراللہ نے اسے جرمن زبان میں ٹوک کر بات کرنے کو کہا،
'مجھے پوری دیانت داری سے بتاؤ۔ شواٹز، تم جان نہیں چھڑا سکتے۔۔۔ مجھے پوری ایمانداری سے بتاؤ کہ پچرڈ کے لیے کیا بہتر ہے؟'
'یہ فیصلہ میں نہیں کر سکتا' شواٹز کی وہی رٹ تھی،
'تم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے؟ ایک ڈاکٹر ہی یہ فیصلہ کرنے کا اہل ہوتا ہے۔۔۔' میں نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا،
'یہ ضروری نہیں ہے بلکہ حالات و واقعات پر منحصر ہے' اس کا انداز دفاعی تھا،
'کن حالات و واقعات میں؟' میں نے چلا کر پوچھا۔ میرے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹتا جا رہا تھا۔
'پچرڈ جانبر نہیں ہو سکتا۔ وہ دونوں صورتوں میں مر جائے گا' اس نے دوٹوک انداز میں کہا،
'میں یہی کہہ رہا ہوں کہ اگر ہم اس کی ٹانگ کا یہیں آپریشن کر دیں تو اس کے بچنے کی امید پیدا ہو سکتی ہے'
'تم درست کہہ رہے ہو!'
'دوسری جانب اگر تم اسے صحرا میں سفر پر لے گئے تو وہ یقیناً مر جائے گا'
'یہ بھی درست ہے!'
'تو تم اپنی عقل کی کہی کیوں نہیں مانتے؟ اس کا یہیں آپریشن کرنا بہتر نہیں ہے؟'
'ملر۔۔۔ میں تم سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ فیصلہ کرنا میرا اختیار نہیں ہے۔ پچرڈ کو یقین ہے کہ اگر اگر وہ یہیں رہا تو یقیناً مر جائے گا۔ اس کی روح تھک کر تار تار ہو چکی ہے۔ کیا تم روح کے تار تار ہونے کی کیفیت سے واقف ہو؟ وہ اپنی حالت سے خوب واقف ہے، اسی لیے وہ قندھار جانے پر مصر ہے۔ اس کے لیے امید قائم رکھنے کا یہی ڈھنگ بچا ہے'
'اس بات کا فیصلہ کون کرے؟'
'پچرڈ!'
میں کمرے میں لوٹ آیا اور نظراللہ سے کہا، 'میں پانچ منٹ کے بعد اپنا تحریری فیصلہ تمھارے حوالے کر دوں گا'
'ہم سب کے لیے یہی بہتر رہے گا' اس نے جواب دیا۔
میں پچرڈ کے سرہانے گیا۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے بات کرتا، میں نے اس سرائے کی بھدی دیواروں کو دیکھا اور محسوس کیا کہ کمرے میں دبی ہوئی بدبو ہے اور ہوا بند ہے۔ اگر میں بھی اس کی جگہ ہوتا تو کبھی یہاں نہ رکتا بلکہ صحت مندی میں بھی یہاں زیادہ دیر بسر نہ رکھتا۔ میں پچرڈ کی حالت کو سمجھ رہا تھا، اگر مجھے شدید گرمی کے موسم میں اس کمرے میں تین ہفتے تک صرف بستر تک محدود ہو کر رہنا پڑتا، میری ٹانگ ٹوٹ چکی ہوتی اور میں سوائے اس کہ، حکیموں کو زخم بگاڑتے اور ٹانگ کو برباد ہوتے دیکھنے کے سوا کچھ نہ کر سکتا اور اگر کوئی مجھ سے کہتا کہ اگلے چھ ہفتے بھی اسی جگہ پر یوں ہی بسر کرنے ہیں تو میری بھی روح کچلی جاتی۔
میں پچرڈ کے بستر پر، اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور کہا، 'ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ میرے اور آپ کے ہاتھ میں ہے، یہیں رہنا ہے یا قندھار؟'
'مجھے پتہ ہے کہ میری حالت ٹھیک نہیں ہے لیکن اگر میں یہاں رہا تو۔۔۔ تم نے اپنا نام کیا بتایا تھا؟' اس کی آواز میں کمزوری تھی،
'مارک ملر۔ میں سفارتخانے سے آیا ہوں' پھر مجھے ایک خیال سوجھا، 'پروفیسر پچرڈ، کیا آپ جانتے ہیں کہ صاحب نے مجھے خود یہاں بھیجا ہے۔ وہ آپ کی بابت سخت پریشان ہیں'
'میرا خیال تھا کہ شاید کسی کو پرواہ نہیں ہے' اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، وہ دوسری طرف مڑ گیا، 'یا خدا۔۔۔ ملر، مجھے لگتا ہے کہ دنیا ختم ہونے والی ہے'
'میں سمجھ سکتا ہوں' تسلی دی،
'یہ میرے ساتھ کیا ماجرا ہو گیا؟' وہ بڑبڑایا، 'میں تو ایک ایسی قوم کے لیے پانی کی تحقیق کر رہا تھا جسے خود اپنی پرواہ ہی نہیں ہے'
'ایسی بات نہیں ہے۔ آپ نے خود ہی تو ہمیں خط لکھ کر نظراللہ کے بارے بتایا تھا، وہ ایک بہترین انجنئیر ہے'
'وہ داڑھی والا؟'
'جرمنی سے پڑھ کر آیا ہے' میں نے تصدیق کی،
'جرمنی سے پڑھ کر آنے والے زیادہ تر بہترین ہی ہوتے ہیں' اس نے پورے وثوق سے کہا۔ وہ یقیناً بہترین سے بہتر پر یقین رکھتا تھا اور اسے سچے اور کھوٹے کی خوب پہچان تھی۔
'کیا آپ قندھار جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں؟'
'ملر، میں یہاں رہا تو مر جاؤں گا۔۔۔'
'آپ کو قندھار لے جانے میں زیادہ خطرات ہیں'
یہ سن کر اس کی روح تڑک گئی۔ وہ کہنی کے بل اوپر اٹھنے کی کوشش کرنے لگا اور چلایا، 'اگر تم ہمت نہیں کر سکتے تو پنسل اور کاغذ لاؤ۔۔۔ میں خود ہی لکھ کر دیتا ہوں۔ میں اس جگہ سے نکل جانا چاہتا ہوں'
'میں لکھ دوں گا۔ آپ آرام کریں!' میں نے مضبوطی سے کہا لیکن میرے اندر ایک بھونچال اٹھ رہا تھا۔ میں اس کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے جا رہا تھا۔ میں نے نور محمد کو آواز دے کر اپنا بریف کیس منگوایا اور سفارتخانے کے لیٹر پیڈ پر لکھا،
چہار، افغانستان
12 اپریل، 1946ء
آج کے دن، میں نے امریکی انجنئیر جان پچرڈ کو قندھار میں علاج معالجے کی غرض سے لے جانے کے احکامات جاری کیے۔ چہار میں میڈیکل سہولیات کافی نہ ہونے کے باعث یہاں اس کی بری طرح عفونت زدہ زخمی، بائیں ٹانگ کا علاج ممکن نہیں تھا۔
مارک ملر
سفارتخانہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ
کابل، افغانستان
میں نے بے دلی کے ساتھ یہ سرکاری نوٹ نظراللہ کے حوالے کر دیا۔ اس نے کم از کم دو دفعہ پوری عبارت کو غور سے پڑھ کر شواٹز اور نور محمد کو بھی دکھائی۔ پھر اسے تہہ کر کے سنبھالتے ہوئے بولا، 'ہم دس منٹ کے اندر روانہ ہوں گے۔ رات صحرا کی حد پر بسر کریں گے اور وہیں اگلے مرحلے کی بابت طے کریں گے'
نظراللہ نے فیصلہ تو سنا دیا لیکن شاید اس کو ادراک نہیں رہا۔۔۔ پچرڈ نے اپنے کام کا ریکارڈ موصول ہونے تک یہاں سے جانے سے انکار کر رکھا تھا۔ 'میں اسی کام کے لیے تو یہاں آیا تھا۔۔۔ وہ مکمل کیے بغیر نہیں جاؤں گا' اس نے کہا، 'اگر افغان ڈیم بنانا چاہتے ہیں تو انہیں میری تحقیق کے ریکارڈ کی ضرورت پڑے گی' مجھے اس پر حیرت ہوئی لیکن ڈاکٹر شواٹز نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی،
'ایک سائنسدان کے لیے تحقیق اور اس کا ریکارڈ انتہائی اہم ہوتی ہے، اس کا ریکارڈ ہمیشہ ساتھ رکھنا چاہیے' جرمن نے کہا۔
چنانچہ میں ایک گائیڈ کے ساتھ اس جگہ سے تقریباً دو میل دور ہلمند کے کنارے پہنچ گیا جہاں جان پچرڈ زخمی ہونے سے قبل پانی کے بہاؤ پر تحقیق کر رہا تھا۔ وہ اس مقام پر ڈیٹا اکٹھا کر رہا تھا، یہی ڈیٹا ڈیم بنانے میں نظراللہ کے کام آئے گا۔ پچرڈ کا تحقیقی کام ڈیم بنانے کے لیے ہی نہیں بلکہ اس لیے بھی زیادہ اہم تھا کیونکہ اسی کی بنیاد پر افغانستان اور فارس کے بیچ دریائے ہلمند کے حقوق پر معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی کیونکہ سننے میں آ رہا تھا کہ اس قضیے کو لے کر سرحدی علاقوں میں سخت تناؤ کی کیفیت جنم لے رہی تھی۔ ان دنوں یہ خطرہ بھی منڈلا رہا تھا کہ شاید فارس انہی معاملات کے سبب افغانستان کے ساتھ جنگ پر اتر آنے سے گریز نہیں کرے گا۔ مجھے اس جگہ سے چھپریل کا شیڈ، تین مختلف قسم کے آبی پیمانے، دو بوائلر اور ریکارڈ کے کاغذوں کا ایک بے بدل پلندہ پڑا ہوا ملا۔ گائیڈ نے مجھے اس جگہ سے خبردار کیا جہاں سے پچرڈ پھسل کر ٹانگ تڑوا بیٹھا تھا۔ یہ سائبان کی طرف جانے والی پتھریلا راستہ تھا جس پر کائی جمی ہوئی تھی۔ میں اس نشیبی سائبان میں جا کر کھڑا ہوا، اس وقت درجہ حرارت قریباً باون ڈگری تھا۔ مجھے رہ رہ کر امریکی کانگریس میں ان بے کار تقریروں کا خیال آ رہا تھا جو سوٹ بوٹ میں ملبوس سینیٹر دن بھر جھاڑتے رہتے تھے۔ میں اس بیابان جگہ پر کھڑا دفتر خارجہ کے نخریلے سٹاف اور شام کی ٹی پارٹیوں بارے سوچتا رہا کہ وہ سب کس قدر بے سود ہے۔ میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اے کاش، واشنگٹن کے گھمنڈی لاف زن عہدیدار اس جگہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے، پچرڈ کی امریکہ اور افغانستان کے لیے خدمات کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے۔
'تم نے پچرڈ کو کیسا آدمی پایا؟' میں نے اپنی دلی خواہش کے زیر اثر گائیڈ سے پوچھا۔ شاید اس کے لیے میرا سوال غیر متوقع تھا، اس سے قبل کبھی کسی نے اس سے اس طرح کی بات نہیں پوچھی تھی۔ اسی لیے وہ گڑبڑا گیا۔ کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر اچانک چہک کر بولا، 'وہ ٹھیک ہی ہے، ضرورت پڑی تو بندوق چلا سکتا ہے!'
نظراللہ نے مجھے اپنے ساتھ جیپ میں سفر کرنے کو کہا جبکہ نور اور شواٹز نے پچرڈ کو اپنی گاڑی کی پشت میں جگہ بنا کر لٹانے کی نگرانی کی۔ جب پچرڈ کو گاڑی میں سوار کرایا جا رہا تھا، شواٹز نے گرم جوشی سے کہا، 'اگر میں نے آج تک کسی شخص کو صحرا پار کرنے کے لیے اعصابی طور پر پوری طرح تیار دیکھا ہے تو یقین کرو۔۔۔ وہ پچرڈ ہے'
'ہم ضرور کامیاب ہوں گے!' انجنئیر کی آنکھوں میں واقعی چمک تھی۔ اسے دیکھ کر میرا حوصلہ بھی بڑھ گیا اور راستے بھر جہاں ہم کسی تالاب کے کنارے تازہ دم ہونے کے لیے رکتے، میں نے پورے اہتمام سے اپنے ساتھ اس کی تیمارداری کو بھی اپنے ذمے لے لیا۔ ہم راستے میں معمول سے کہیں زیادہ دفعہ رکے اور پانی کا بندوبست کرتے رہے تا کہ اس کا تاپ قابو میں رہے۔ کچھ دور پہنچ گئے تو پچرڈ جو پہلے خاصا پرجوش تھا، اس کی حالت ہذیانی ہو گئی۔ اس نے مجھے کہا کہ میں اس کے سرہانے بیٹھا رہوں کیونکہ وہ میرے ساتھ امریکہ کی، اپنے دیس کی باتیں کرنا چاہتا تھا۔
یوں میں اس کے سرہانے، نور کی گاڑی میں چپک کر بیٹھا رہا۔ اس کا سر میرے گھٹنے پر دھرا تھا اور ہم 'شہر' کی سنسان عمارتوں، گلی اور کوچوں کے قریب سے گزرتے رہے۔ سہ پہر ڈھل گئی تو ہوا بھی قدرے ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی اور اس کا بخار بھی اتر گیا۔ ہم باتیں کرنے لگے۔ اس کا تعلق کولاراڈو کے علاقے فورٹ کولن سے تھا جہاں خزاں کے موسم میں شکار عام مل جاتا تھا۔ وہ شکار کے قصے سناتا رہا۔ مجھے پتہ چلا کہ وہ ایک بہت اچھا رائفل شوٹر ہے اور موس ہرن، ریچھ اور کئی پہاڑی بکروں کا شکار کر چکا ہے۔ بکروں کے بارے اس کی رائے بھی نظراللہ سے مختلف نہیں تھی، وہ بھی انہیں مضر سمجھتا تھا۔ یہ سن کر مجھے یہی خیال آیا کہ پڑھے لکھے لوگ، بھلے وہ دنیا کے دو کونوں اور دونوں انتہاؤں سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں۔۔۔ ذہنی طور پر خاصے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی دلچسپ بات تھی۔ پچرڈ ایک چیز کو لے کر خاصا پر امید تھا، اس نے بتایا کہ وہ ایک ایسے شخص کو جانتا ہے جو لنگڑا ہونے کے باوجود شکار کرنے کے قابل ہے۔
'میں ان لوگوں میں سے ہوں۔۔۔' اس نے رک رک کر کہا، 'جو کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ میں اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا جب تک لکڑی کی ٹانگ پر چلنا سیکھ نہیں لیتا' اس کی ہمت کو داد تھی، وہ چنگا بھلا لگ رہا تھا۔ مجھے چہار سے نکل آنے کے فیصلے پر قدرے اطمینان بھی ہو رہا تھا کیونکہ اس کی حالت کافی سنبھل چکی تھی لیکن جب ہم سروں پر پانی انڈیلنے کے لیے رکے تو ڈاکٹر شواٹز نے اس کا معائنہ کر کے فیصلہ کیا کہ اسے نیند کی گولی دے کر سلا دینا چاہیے۔ انجنئیر نے بہتیرا احتجاج کیا لیکن ڈاکٹر نے اس کی ایک نہیں سنی۔ کچھ ہی دیر میں وہ میرے زانوں پر سر رکھے سو گیا۔
۔کارواں (افغانستان کا ناول) - دسویں قسط یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر