کارواں - تیرھویں قسط

پچھلی کئی صدیوں سے کابل اور بامیان کے بیچ ایک چکردار، گھیر کھاتی ہوئی شاہراہ گزرتی آئی ہے۔ بامیان نامی یہی وہ جگہ ہے جہاں محمدؐ کی پیدائش سے بھی کئی سو سال قبل بدھ مت کا مذہب پروان چڑھا، پھلا پھولا اور پھر یہیں ہی سے باقی دنیا اس طریق زندگی سے روشناس ہوئی تھی۔ پھر سکندر اعظم کے زمانے سے، اس کے نقش قدموں پر آج تک یہ جگہ گزرنے والے مسافروں کے لیے ایک پر پیچ شاہراہ اور اس پر واقع قدرت کے بے نظیر حسن کے دلفریب نظاروں کا سامان رہی ہے لیکن کوچی عظمت کی ہر شے کی طرح اس شاہراہ کو بھی ان تمام زمانوں میں اور آج بھی جوتے کی نوک پر رکھتے آئے ہیں۔ وہ کبھی اس راستے کا انتخاب نہیں کرتے جس پر دوسرے انسان گزرتے ہیں بلکہ بجائے وہ ایسی گزرگاہ استعمال کرتے ہیں جو انھیں گول گول گھمانے کی بجائے سیدھا کوہ بابا کے دامن میں پہنچا دیتی ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ کوچیوں کی رہگزر اس قدر دلکش ہے کہ اس کا کوئی میل نہیں ہے۔ ان کی راہوں پر چلتے ہوئے گہری کھائیاں، دشوار گزار گھاٹیاں اور اونچی چٹانیں اور پہاڑ ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں۔ یہ اس قدر عظیم راستہ ہے کہ اس پر صرف وہی چل سکتے ہیں جو قدیم زمانوں سے خانہ بدوش اور کاروانوں کے باشندے چلے آ رہے ہوں، باقی تو یہ کسی کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ میری معلومات کے مطابق کوچیوں کی اس شاہراہ کا تذکرہ کسی کتاب میں نہیں ملتا، ان کی بابت نقشے خالی ہیں اور اس بارے کبھی کچھ نہیں لکھا گیا کیونکہ یہ اس دنیا کے، جسے ہم نے بسا رکھی ہے۔۔۔ اس کے متوازی دنیا ہے۔
یہاں، ان راہگزاروں کے پہاڑی سلسلوں میں کم از کم پندرہ سے سولہ ہزار فٹ بلند چوٹیاں ہیں۔ اتنی بلندی اور دراز سلسلے کے سبب یہ پہاڑ اس پورے خطے میں دھس نما فصیل بنا دیتے ہیں کہ چوٹیوں کو سر کرنا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں رہتی۔ کہیں بھی چلے جائیں، سر کے اوپر کھڑے یہ پہاڑ کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے۔ جس دم، جہاں چلو۔۔۔ یہ سر پر تن کر کھڑے اور پیش منظر پر چھائے رہتے ہیں۔ انہیں دور سے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید ان کو پار کرنا ناممکن ہے اور کاروان کے اونٹوں کا تو یہاں سے گزر ہر لحاظ سے محال لگتا ہے۔مگر ذوالفقار جیسے تجربہ کار کوچی کی رہنمائی میں ہم ایک کے بعد دوسرے پہاڑ کی فصیل کو پار کرتے رہے اور ہر دفعہ ایسا لگتا کہ ہم بمشکل بچ نکلے ہوں۔ کبھی گھاٹی، پھر وادی اور ڈھلوان۔۔۔ کچھ دور چلو تو میدان اور پھر چڑھائی اور پھر گھاٹی۔۔۔ شمال تہہ در تہہ ہمارے سامنے کھلتا جا رہا تھا۔
اچھا، ان وادیوں میں ہمارے ریوڑ کے جانور بھی چر چر کر خوب موٹے تازے ہو گئے۔ گھاس وافر تھی اور کچھ دن مزید گزرے تو اونٹوں کی بڑبڑاہٹ اور روز روز کے گلے شکوے بھی ختم ہو گئے۔ میں گھنٹوں بیٹھا ریوڑ میں موٹی دم والے افغانی دنبوں کو دیکھتا رہتا۔ مجھے تو وہ سخت مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ ان پر دنبوں کی بجائے چھوٹے سروں والے موگری بھوتروں کا گماں ہوتا تھا جن کی لمبی ٹانگیں نکل آئی تھیں۔ افغانی دنبے دنیا کے باقی مینڈھوں اور بھیڑوں سے الگ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی دم یا کہو، 'دنب' ہوتی ہے اور اسی لیے انہیں دمبہ یا دنبہ کہا جاتا ہے۔ دم کم از کم دو فٹ چوڑی اور اچھی خاصی موٹی ہوتی ہے، ایسے لگتا ہے جیسے بڑی سی تھیلی میں چربی کا لینولن بھر کر اوپر اون لپیٹ دی ہو۔ جب دنبے چلتے تو یہ دم اوپر نیچے اچھلتی رہتی اور اس بے کار نظر آنے والی بھدی اور بے تکی سی چیز پر ہنسی آتی۔ لیکن پتہ کیا؟ اس کا بھی وہی مصرف ہے جو اونٹ کے کوہان کا ہوتا ہے۔ جب چارہ وافر ہو تو دمبڑی میں خوراک بھرتی رہتی ہے اور جب سخت وقت آئے تو یہی لینولن کی چربی استعمال ہو جاتی ہے۔ یہ چربی ایسی ہوتی ہے کہ عام چربی کی طرح سخت نہیں ہوتی بلکہ ہاتھوں کی تپش سے بھی گھل جاتی ہے، یعنی آسانی سے کھائی جا سکتی ہے اور اس سے شریانیں بند ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ افغان پلاؤ اور نمکین گوشت کے کھانوں میں اس کی بہتات اور ذائقے میں بھی مزیدار ہوتی ہے۔ اب جبکہ چراہ گاہیں ہری بھری تھیں، دنبوں نے دمبوں میں خوب لینولن بھر لی تھیں اور ان دنوں انھیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی سکول کا موٹا فربہ لڑکا پیٹھ پر بھاری بستہ اٹھائے ہوئے، ڈول رہا ہے۔ میں گھنٹوں بیٹھا ان دنبوں کو چرتے ہوئے دیکھتا رہتا اور ہمیشہ یہ سوچتا کہ آخر اس حالت میں یہ جماع کیسے کرتے ہوں گےَ؟ دراصل ان دنبوں سے میمنے پیدا کرنے کا موسم بھی آ چکا تھا۔ مجھے اس بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔
ہمارے دنبے اس وقت بہت ہی زیادہ مضحکہ خیز لگتے جب ہمارے کاروان کا سامنا پہاڑی دروں میں کسی دوسرے کاروان سے ہوتا جن کے پاس بھیڑوں کی ایک پہاڑی قسم کا پورا گلہ ہوتا۔ اس بھیڑ کو قرقل کہا جاتا ہے۔ یہ بھیڑوں کی ایک قدیم اور انتہائی خوبصورت نسل ہے۔ لمبی گردنیں، چوڑے منہ اور گہری تک سیاہ آنکھیں اور چھوٹے چھوٹے نرم اور نازک کان ہوتے ہیں۔ یہ افغانستان میں پائی جانے والی بھیڑوں کی سب سے اعلیٰ قسم ہے اور انتہائی بیش قیمت بھی ہوتی ہے۔ قرقل کی اون اور نرم چمڑی افغانستان کی گنی چنی برآمدات میں سے ایک تھی۔ دنیا بھر میں قرقل بھیڑوں کی اون سے بنی افغان شالوں کی دھوم ہوا کرتی تھی، میں نے امریکہ میں بھی لوگوں کو قرقل سے بنی شالوں پر دولت لٹاتے ہوئے دیکھ رکھا ہے۔ اگر افغانستان کے چیدہ لوگوں کے جاہ و جلال کا بغور جائزہ لیا جائے؛ مثال کے طور پر شاہ خان کی کابل میں امارت اور دھاک کو قریب سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے تقریباً مال و زر، تجارت اور امارت کے ڈانڈے قرقل بھیڑوں سے آ کر ملتے ہیں۔ یہ بھیڑیں اس لیے بھی بیش قیمت تھیں کیونکہ ذرا عمر بڑھ جاتی تو اس کی اون اور چمڑی سخت ہو کر قیمت کھو دیتی لیکن نومولود میمنوں کی چمڑی بہت نرم ہوتی اور اس پر ریشم کی طرح نرم، اچھی طرح الجھی ہوئی، مرغولی اون ہوتی۔ اسی اون کی دنیا بھر میں بہت مانگ تھی اور افغانستان میں اسی چمڑی اور اون سے قرقل ٹوپیاں بنتیں جو صرف صاحب لوگ پہنا کرتے تھے۔ میں جب قرقل بھیڑوں کے گلے اور گلے دیکھتا اور ان کا کوچیوں کی موٹی دموں والے دنبوں سے مقابلہ کرتا تو اول سخت کلفت ہوتی، دوم اپنے ریوڑ کی کم قیمتی کا بڑھ کر احساس ہوتا اور پھر سوم آخر میں یہ بھی خیال آتا کہ دیکھو۔۔۔ یہ ملک کیسے دو انتہاؤں میں بٹا ہوا ہے؟ ایک طرف نفیس قرقل بھیڑیں ہیں اور دوسری جانب سخت جان اور بے ڈول، افغانی دنبے ہی دنبے ہیں۔ میں نے ایک دن ذوالفقار سے پوچھا کہ آخر ہمارے کارواں کے ریوڑ میں قرقل بھیڑیں کیوں نہیں ہیں؟ اس پر جواب آیا کہ، 'مجھے بھی قرقل پالنے کا بہت شوق ہے لیکن یہ بھیڑیں صحرا کے سفر کی مار نہیں کھا سکتیں۔۔۔ یہ میدانوں میں مر کھپ جائیں گی!'
جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے، کوہ بابا کا پہاڑی سلسلہ سفر کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا۔ کاروان کے اونٹ پتھریلے علاقوں میں تو بہت شور مچاتے تھے لیکن ذوالفقار ان کی ایک نہ سنتا اور کاروان مختصر راستوں کی تلاش میں گھاٹیاں پار کرتا، چڑھائیاں چڑھتا رہتا۔ ایسے میں جب اسے کوئی چراہ گاہ بھا جاتی تو کاروان کو یہیں تین سے چار دن تک پڑاؤ کا حکم ملتا۔ یہی وہ وقت تھا جب اردگرد ہریالی ہی ہریالی میں، بہت سکون ہوتا۔ بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں، آس پاس برفیلی چوٹیاں اور نیچے چشمے بہتے تھے۔ ایسی جگہوں اور انہی دنوں میں ہماری عیش ہوا کرتی تھی۔ میں اور مترا خوب مزے کرتے رہتے۔ میں اپنا سفید گھوڑا خیموں کے آس پاس ہی، لڑکے بالوں کے حوالے کر آتا اور ہم نان پلاؤ ساتھ لے کر پورا پورا دن دور دور تک نکل جاتے، ہرے میدانوں میں گھومتے پھرتے، ٹھنڈی دھوپ میں نہاتے رہتے اور باتیں کرتے۔ ہم بوس و کنار کرتے، لبٹتے اور ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹے رہتے۔ محبت کیا کرتے!
مترا کے ساتھ میں عجب لطف تھا، جیسے کوئی قدیم اور ازل سے جڑی خوشی ہو۔ ہمارے بیچ قربت کا تو یہ علم ہو چلا تھا کہ اب کاروان کے معاملات پر بھی خوب بحث کرنے لگے، 'ہم اگلا پڑاؤ کہاں ڈالیں گے؟'، 'بھیڑوں کے پیٹوں کا کونسا مہینہ چل رہا ہے؟'، 'میمنے کب نکل آئیں گے؟'، 'کیا تم کسی ایسے گاؤں میں، جیسا کہ ہم نے کل دیکھا تھا۔۔۔ بسر کر لو گی؟' اس سوال پر تو مترا بھڑک جاتی۔ اس کا خیال تھا کہ گاؤں کی زندگی میں چھ ہفتے گزار لیے تو وہ برقعے کی ناٹ بنا کر خود کو کسی اونچے برگد کے ساتھ پھانسی دے کر مار ڈالے گی۔ اب تک میں اسے اتنا تو جان ہی گیا تھا یقین ہو چلا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ یوں ہی کر بھی گزرے گی!
مترا کی مثال پریوں جیسی تھی۔ اس کی عمر اتنی ہو چکی تھی کہ بیاہ دیتے لیکن ابھی وہ اونٹ اور بھیڑوں کے میمنوں پیچھے بھاگنے لائق بھی تو تھی۔ اس نے اب تک کسی بھی طرح سے، کسی خانہ بدوش مرد کو پسند نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ مجھے کسی مستقل حل کے طور پر، اس لائق دیکھ رہی تھی۔ کابل سے نکلے پانچ دن ہو چلے تو اس نے کہا، 'اگر تم ہمیشہ ہمارے ساتھ، کارواں کا حصہ بن جاؤ تو کیا ہی خوب ہو۔۔۔ تم ان دشوار گزار راستوں پر ہمراہ چلنے کے قابل ہو!'
اسی پر مجھے کوچیوں کی شادی کا خیال آیا۔ میں نے اس بابت پوچھا تو اس نے کہا، 'ہم اس کام کے لیے دیہاتیوں کی طرح ملاؤں کے پیچھے نہیں بھاگتے۔ جس آدمی نے بھی شادی کرنی ہو، وہ بڑے بوڑھے جیسے میرے باپ کے پاس جا کر سیدھا کہے گا، 'مجھے تمھاری بیٹی میرا چاہیے۔ اگر میں اس سے بیاہ کر لوں تو مجھے کتنی بھیڑیں ملیں گی؟' یا پھر وہ اونٹوں کا مطالبہ کرے گا۔ ظاہر ہے اگر شادی ہو گئی تو وہ قبیلے کے ساتھ ہی رہے گا اور جانور بھی یہیں رہیں گے۔ جانور اور نہ ہی بیٹی کو۔۔۔ کسی کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے، کوئی چونچلے نہیں ہیں!'
'جشن بھی ہوتا ہے؟' میں نے پوچھا کیونکہ مجھے کوچیوں کی شادی کے موقع پر دعوت کے بارے کچھ اندازہ نہیں تھا،
'بڑی دعوت ہوتی ہے۔ ڈھول، بانسریاں، سارنگے اور رباب۔۔۔ کھانے میں سالم دنبے بھونے جاتے ہیں۔ نان اور پلاؤ تو ہوتا ہی ہے۔۔۔ بچوں کو کھانے کے لیے رنگ برنگی ٹافیاں ملتی ہیں اور دلہن کو کپڑوں کے دو نئے جوڑے دیے جاتے ہیں۔ جب میری شادی ہوئی تو میں۔۔۔ سیاہ گھاگھرا بنواؤں گی!'
'ایلن بھی سیاہ گھاگھرا پہنتی ہے۔ کیا اس کا تمھارے باپ سے بیاہ ہو گیا ہے؟'
'ارے نہیں۔۔۔ ابا نے اسے سیاہ گھاگھرا نہیں دیا۔ وہ تو اسے رچا نے دیا تھا، بیچاری ایلن کے اپنے کپڑے پھٹ گئے تھے!'
'کیا وہ کنگن بھی اسے رچا نے دیے تھے؟' میں نے یونہی پوچھا، اس وقت ہم دونوں کھلے میدان میں کاہلی سے سبزے پر لیٹے تھے اور ہمارے سر اوپر نیلے آسمان پر سفید بادلوں کی روئیں آہستہ آہستہ پھیلتی ہی جا رہی تھیں۔ ایسے میں کوہ بابا کی اونچی برف پوش چوٹیاں شمال کی جانب سے ہمارے سروں کے اوپر کھڑی تھیں۔ مترا مجھے بتا رہی تھی کہ ایلن کو وہ کنگن ذوالفقار نے دلائے تھے لیکن میں اس کی پوری بات نہیں سن پایا کیونکہ میرا دھیان کہیں اور جما ہوا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کوچیوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مجھے آٹھ ہفتے ہو چلے ہیں لیکن اس دوران ہم پر بارش کی ایک بوند بھی نہیں برسی۔ ہم نے باران نہیں دیکھی۔ یہ بہت عجیب و غریب بات تھی۔ بارش تو دور کی بات، مجھے تو راستے میں اس سے پہلے آسمان پر بادل بھی نظر نہیں آئے۔ میں دیر تک یہی سوچتا رہا کہ آخر یہ کیسی دنیا ہے جو یونہی، سالہا سال سے یوں ہی چلی آ رہی ہے؟ کوچی پگھلتی ہوئی برف کا پیچھا کرتے ہیں اور بارش ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے لیکن کبھی یہ ایک دوسرے کو کہیں نہیں پکڑتے۔ تبھی مجھے ایک اور عجیب خیال نے گھیر لیا، میں سوچنے لگا کہ آخر اس میں لطف کیا ہے؟ ایسا موسم تو ایریزونا میں بھی عام مل جاتا ہے، ایسی ہی بھلی جگہ وہ بھی ہے۔ یہ یا وہ، یہ ایک ہی تو دنیا ہے۔ لیکن پھر مجھے یہ سوچ کر طمانیت ہوئی کہ ایریزونا اور ایریزونا کے موسم میں، مترا اور مترا کا ساتھ بھی تو نہیں ہے۔
میں دل ہی دل میں خود کلامی سے نکلا تو وہ مجھے کنگن بارے سب کچھ بتا چکی تھی۔ اب شوخی سے پوچھنے لگی، 'اچھا یہ بتاؤ۔۔۔ اگر کوئی تم سے پوچھے کہ۔۔۔ کوچیوں کے ہتھے کیسے چڑھ گئے تو تم کیا جواب دو گے؟'
'میں کہوں گا۔۔۔' میں نے کہا، 'سفر کے پہلے حصے میں تو یہ اس لیے ہوا کہ کیونکہ انہوں نے میری جیپ چرا لی تھی!'
'کیا تمھیں پتہ ہے کہ تمھاری جیپ کے پہیے میں نے خود اتارے تھے؟ جب موسیٰ دار میں پرزے بکے تو کچھ رقم مجھے بھی ملی تھی۔۔۔' اس نے چہک کر بتایا،
میں نے ان سنی کر کے کہا، 'سفر کے دوسرے حصے میں۔۔۔ میں کہوں گا کہ سمجھانا مشکل ہے۔ شاید میں کہوں گا۔۔۔ ایک خوبصورت کوچی لڑکی نے مجھے سفید گھوڑے کے عوض خرید لیا تھا!'
اس بات پر مترا خوشی سے جھوم اٹھی، اس نے بے اختیار میرے گالوں پر بوسہ ثبت کیا اور دوڑتی ہوئی چشمے سے ٹھنڈا پانی پینے چلی گئی۔ واپسی پر ہڈی کی قفلی سے بنے پیالے میں میرے لیے بھی پانی بھر لائی۔ میں نے غٹ گھونٹ بھر کر پوچھا، 'تم نے وہ گھوڑا کیسے حاصل کیا؟' یہ پوچھتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے محب خان کا جھنجھلایا ہوا چہرہ پھرنے لگا۔ علاوہ ازیں مجھے وہ رات بھی یاد آنے لگی جب ڈرامہ ختم ہوتے ہی اس نے میرے ہاتھوں سے سویڈش لڑکی انگریڈ کو اچک لیا تھا۔۔۔ مترا نے بھی اس کا گھوڑا کچھ ایسے ہی چرا لیا ہو گا۔
'جیپ کے پرزے بکنے سے جو رقم ملی تھی، میں نے اسی سے خریدا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کیا؟ تم نے جیپ کھو دی لیکن چونکہ اب کوچیوں کے ساتھ ہو تو تمھیں گھوڑا مل گیا۔۔۔ جیپ کے عوض گھوڑا!'
محب خان کا خیال آتے ہی ساتھ نظراللہ کی بھی یاد آ گئی۔ سو میں نے مترا سے پوچھا، 'کیا تم نے کبھی ایلن کے شوہر نظراللہ سے ملاقات کی ہے؟'
'میں نے اسے صرف دیکھا تھا۔۔۔ اس کی داڑھی ہے ناں؟'
'کیا ذوالفقار نے اس سے کبھی ملاقات کی؟'
'وہ اس سے کیوں ملنے لگا؟ میرے ابا نے تمھیں کاروان سرائے میں بتایا تھا کہ ہم نے قلعہ بست میں تین دن پڑاؤ ڈالا کیونکہ اس سے آگے صحرا تھا۔ تیسرے دن جب ہم رخصت ہونے لگے تو ایلن نے خود ذوالفقار کو اسے ساتھ لے جانے کی فرمائش کی تھی۔ اس وقت تک تو وہ ذوالفقار کو جانتی بھی نہیں تھی۔۔۔ ویسے بھی ذوالفقار کو اس کے نظراللہ کو چھوڑ کر بھاگنے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ایلن تو خود ہمارے پیچھے پیچھے آئی تھی۔۔۔ اسے تو کاروان اور کاروان کی زندگی کی چاہ تھی۔ اس کو اونٹ، دنبے اور ہمارے بچے بہت بھا گئے تھے۔ ذوالفقار نے اسے بہت بعد میں اپنے ساتھ خیمے میں بسر کرنے کی اجازت دی!'
'رچا کو غصہ نہیں آیا؟'
'وہ بھلا کیوں غصہ کھائے گی؟ ذوالفقار نے اسے تو باہر نہیں نکالا۔۔۔ وہ آج بھی رات کو اسی کے خیمے میں سوتی ہے!'
'کیا ایلن اور تمھارا باپ۔۔۔' مجھے اس بابت کوچیوں کی زبان میں بات سمجھانا مشکل ہو رہی تھی، 'کیا وہ اس کی عورت ہے؟'
'تو اور کیا؟' اس نے ہنس کر جواب دیا اور فٹ کوچیوں کا جسنی اخلاط کا فحش اشارہ بھی کر دیا، 'لیکن ان کے بیچ ہمارے جیسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ وہ ہماری طرح ستاروں کی چھاؤں تلے نہیں مل سکتے!'
'کیا ایلن تمھارے باپ سے محبت کرتی ہے؟'
'میرے باپ سے سبھی محبت کرتے ہیں۔۔۔' اس نے سادگی سے کہا، 'بعض قبیلے تو ایسے ہیں جن میں ہر وقت مار دھاڑ چلتی رہتی ہے، آدمی دوسرے آدمیوں کے دشمن ہوتے ہیں، خون کے پیاسے۔۔۔ لیکن ہمارے قبیلے میں ایسا نہیں ہوتا۔ ملر۔۔۔ تم یقین کرو، ایلن کبھی اسے اس طرح پیار نہیں کر سکتی جیسا میں تم سے کرتی ہوں!' اس بات کا ثبوت اس نے کچھ یوں دیا کہ میرے سینے پر چڑھ گئی اور ہم دونوں دور تک میدان میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے لڑھکتے چلے گئے۔ پھر میں نے اسے سینے سے لگا کر بانہوں میں بھر کر اٹھایا اور ایک چٹان کی اوٹ میں چلا گیا۔
یہ بات کہے بنا ہی طے تھی کہ مترا اور میں خیموں میں ایک ساتھ راتیں بیتا کر ذوالفقار کو کسی طور شرمندہ نہیں کر سکتے تھے، ویسے بھی اس نے اپنی بیٹی کے اس انمل جوڑ کے ساتھ سمجھوتہ کر ہی لیا تھا اور ہم دونوں کو نظرانداز کرتا آیا تھا۔ چنانچہ ہمیں اسی وجہ سے خیموں سے باہر نکلنا پڑتا۔ یوں معمول یہ بن گیا کہ شام ڈھلتے ہی مترا اپنے خیمے میں چلی جاتی اور دکھاوے کے لیے میں بھی اپنی جگہ پر آن کر لیٹ جاتا۔ جب رات گہری ہوتی تو وہ میرے خیمے پر کنکر مار کر اشارہ دیتی اور میں اپنا بستر لپیٹ کر ساتھ اٹھا لیتا اور ہم رات بیتانے کے لیے کاروان سے دور نکل جاتے اور پھر صبح منہ اندھیرے لوٹ بھی آتے۔
حیران کن بات یہ تھی کہ رات کی بجائے مترا مجھے دن کی روشنی میں کہیں زیادہ دلکش نظر آتی تھی۔ اسے دیکھ کر میرے اندر محبت کا سمندر موجزن ہو جاتا۔ مجھے یہ تو علم نہیں کہ ایسا کیوں تھا لیکن جب بھی میں اپنے سفید گھوڑے پر سوار، ذوالفقار کی ہی طرح کاروان سے آگے اور پیچھے چکر لگاتا تو اکثر نظر مترا کو تلاش کرتی رہتی۔ اکثر اسے اپنے آپ میں مگن پاتا اور پھر اگلے چند منٹ تک میں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا۔ اسے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچے پکے راستے پر، پیروں میں کھلی چپل پہنے، شانوں پر شال ڈھلکائے اور سر کی چوٹی کو کس کر باندھے، تپتی دھوپ میں پیدل جاتا دیکھ کر ہمیشہ یہی سوچتا کہ اس جیسی آزاد اور بے نیاز روح، شاید میں پھر کبھی نہ دیکھ پاؤں گا۔ صاف لگتا تھا کہ اسے کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، حسد اس کے خمیر میں نہیں تھا اور آزاد اس قدر کہ صرف اسی پر محبت لٹاتی تھی جس کو وہ چاہتی تھی۔ بے دھڑک اتنی کہ اسے کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو بغیر کسی کی اجازت مانگے، ہاتھ بڑھا کر حاصل کر لیتی اور ہمیشہ اپنے آپ میں گم رہتی۔ وہ صرف انہی مسائل پر توجہ دیا کرتی تھی جو اس کے منہ در منہ، آنکھوں کے سامنے درپیش ہوتے تھے۔ اسے ماضی اور نہ ہی مستقبل کا کوئی غم تھا۔ میں حیران رہ جاتا کہ جب دیکھو، وہ حال میں زندہ رہتی ہے۔ اس کی زندگی بھی خوب تھی۔ اس کا مسکن اونچے پہاڑوں کی مرتفعات میں، جہاں قدرت جوبن پر رہا کرتی تھی۔۔۔ یا پھر، صحرا کے وسیع ریتلے میدانوں میں جہاں قدرت چار سو امتحان لیتی ہے۔ یوں، ہر جا اس کا گھر تھا۔ میں انہی خیالوں میں گم اس کو دیکھتا رہتا اور پھر اچانک یوں ہوتا کہ اس کی نظر مجھ پر پڑ جاتی۔ وہ سر اٹھا کر سفید گھوڑے پر سوار اس مرد کو دیکھتی جو اس سے منسوب تھا، اسے یہ گھوڑا بھی اسی نے دلایا تھا۔ میں دیکھتا کہ مجھے تاڑتا ہوا دیکھ کر اس کی چال میں یکدم غرور اور برابری بھر جاتی اور اس کی یہی نظر تھی جس سے مجھے اپنا آپ بھی نہایت بڑا دکھائی دیتا، مجھے اپنا آپ پورے مرد کا محسوس ہوتا۔ میں نے جنگ میں حصہ لیا تھا اور ایک بہادر سپاہی کی طرح جنگ جیتی تھی مگر کاروان کے اس راستے پر، کوہ بابا کے دامن میں ایک سفید گھوڑے پر سوار، میں نے پہلی بار سمجھا کہ دراصل ایک مرد ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
ہم یوں ہی تقریباً پانچ سے سات دن پہاڑوں میں سفر کرتے رہے۔ ایسے میں میرا دھیان شواٹز سے ہٹا نہیں بلکہ میں نے نوٹ کیا کہ اس کی چال ڈھال بدلی ہوئی تھی۔ اس کی طبیعت میں جو اندیشے قندھار اور موسیٰ دار میں دیکھے تھے، جب وہ ہر وقت تمباکو اور بئیر کے بارے پریشان رہتا تھا، اب جا چکے تھے۔ یہی نہیں بلکہ کاروان سرائے میں اس پر جو سخت احساس جرم طاری تھا، وہ بھی جاتا رہا۔ اب اس کی طبیعت اور چال ڈھال میں تیزی آ چکی تھی۔ صحت بھی بہتر ہو گئی اور رفتار بھی پھرت ہو گئی۔ اب وہ پہلے کی طرح سر پر پگڑی یا قراقل بھی نہیں پہنتا تھا اور اس کے سخت بال اپنی جگہ پر جمے رہتے یا ہوا میں اڑنے کی ناکام کوشش کرتے۔ بعض اوقات تو میں دیکھتا کہ اس کی خوشی دوبالا ہے اور حس مزاح بھی خوب پھل پھول رہی ہے۔ اب وہ مجھے زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور دوستی کا وہ احساس جو کابل پہنچنے سے ایک رات قبل پیدا ہوا تھا، اب خاصا پھول چکا تھا۔
ایک دن وہ کاروان میں اونٹوں کو مفتون کے حوالے کر کے پیچھے رہ گیا تا کہ مجھ سے باتیں کر سکے۔ وہ جرمنوں کی طرح لحاظ اور رکھ رکھاؤ چھوڑ، مترا کو یکسر نظرانداز کر کے کہنے لگا، 'میں تو کہتا ہوں۔۔۔ آدمی پوری زندگی بس اسی سفر میں رہے!'
میں نے تجویز دی، 'شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تمھاری صحت کافی اچھی ہے۔۔۔ یہاں ہوا بھی تازہ ہے!'
'ارے نہیں، میں نے زندگی بھر کبھی ورزش کو معمول نہیں بنایا۔۔۔' اس نے مجھے یقین دلاتے ہوئے کہا، 'میں میونخ میں نہایت آرام دہ زندگی گزارنے کا عادی رہ چکا ہوں اور ان دنوں گھر سے دفتر تک ڈیڑھ دو میل پیدل چلنے میں کوئی حرج نہیں تھا!' میں نے دیکھا کہ وہ جنگ سے پہلے کے دنوں کی، بھلی یاد میں کھو گیا ہے لیکن پھر اس نے توقف کر کے سنجیدگی سے کہا، 'ملر۔۔۔ میرے خیال میں اصل وجہ یہ ہے کہ میری طبیعت کاروان سرائے میں اعتراف جرم کرنے کے بعد کافی سنبھل گئی ہے۔ ایک یہودی کے سامنے اپنی خطاؤں کا پٹولا کھول کر۔۔۔'
'تمھارا کیا خیال ہے، اس سے تم پاک صاف ہو گئے؟ تمھیں نجات مل گئی؟' میں نے سرد لہجے میں پوچھا،
'نہیں تو، ہر گز نہیں۔۔۔ دیکھو جب ہم نے بات کی، اس وقت تو مجھے علم بھی نہیں تھا کہ تم یہودی ہو۔ مجھ سے جو جرائم سرزد ہوئے، ان کی تو کوئی معافی ہی نہیں۔۔۔ اس سے کچھ چھٹکارا نہیں ہے لیکن اب یہ ہے کہ میں نے ماضی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ میں اس کے بھاری بھرکم بوجھ کو اٹھانے لائق ہو چکا ہوں اور آجکل میں یہی کر رہا ہوں۔۔۔'
'یہ تو تم بہت پہلے بھی کر سکتے تھے، اس سفر کا کیا خاصہ ہوا؟ جرائم تو تم نے برسوں پہلے کیے تھے؟'
'ہاں۔۔۔ بالکل درست!' وہ اتفاق کرتے ہوئے بولا، 'تمھاری بات سو فیصد درست ہے لیکن آج سے پہلے میں ہمیشہ اپنے آپ میں غرق رہا۔ ہر وقت مجھے اپنی جان کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ کیا میں جرمنی سے نکل پاؤں گا؟ کیا میں فارس میں داخل ہو سکتا ہوں؟ کیا افغان مجھے پھانسی پر لٹکا دیں گے؟ کیا میں پکڑا جاؤں گا؟' اسے جھرجھری آ گئی، 'میری حالت قابل رحم تھی۔۔۔ اپنے آپ کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا، مجھے ہر وقت اپنے تمباکو اور بئیر کی ہی فکر لگی رہتی تھی۔۔۔'
میں نے دلچسپی سے اس کی اس بات کو مزید کریدا اور پوچھا کہ آخر اس کو مکتی کس چیز سے ملی؟ وہ اپنے آپ سے باہر کیونکر نکل آیا؟ اس نے کہا، 'کاروان سرائے میں تمھارے ساتھ لڑائی میں ایسا ہو گیا۔ کئی برسوں تک صیم لیون بھوت بن کر میرے سر اور گلے پر سوار رہا، میں اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ لیکن سرائے میں تمھارے ساتھ دو بدو لڑائی ہوئی تو یہودیوں کے بھوت ایک دفعہ پھر حقیقت بن گئے۔۔۔ وہ بھوت پریت سے نکل کر جیتا جاگتا آدمی بن گئے جو مجھ سے بدلہ لینے پر مصر تھا۔ ملر۔۔۔ میں نے ایک شخص کو قتل کیا، جیتے جاگتے آدمی کو سخت تکلیف دی لیکن میں نے اس جرم کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ میرے خیال میں اب کافی ہو چکا۔۔۔ اب مجھے خود کو مزید اذیت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سفر میں مجھے پتہ چلا کہ کارواں کبھی رکا نہیں کرتے۔۔۔ کارواں چلتے رہتے ہیں اور دور، بہت دور نکل جاتے ہیں!'
اس پر میں نے چوڑے منہ سے جواب دیا کہ، 'شواٹز۔۔۔ مجھے یہ سوچ کر سخت افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے تمھیں تمھارے بھوتوں کے چنگل سے آزاد کر دیا!'
'تم نے واقعی مجھے آزاد کر دیا۔۔۔ اور میں تمھاری کیفیت کو خوب سمجھ سکتا ہوں لیکن تم بھی یاد رکھو کہ زندگی اسی کا نام ہے۔ کارواں چلتے رہتے ہیں، زندگی چلتی رہتی ہے اور اس کے ساتھ ہم بھی چلتے رہتے ہیں۔ انسان ہی نہیں بلکہ ملک بھی یوں ہی چلتے رہتے ہیں ۔ تم دیکھ لینا، اتنے جرائم کے بعد جرمنی بھی چلتا رہے گا اور کچھ سالوں بعد تم دیکھو گے کہ جیسے آج جرمنی کوشش کر رہا ہے، امریکہ بھی جرمنی کو دوست بنانے کے لیے منتیں کرتا پھرے گا۔۔۔ عجیب بات ہے، نہیں؟'
'تمھارے خیال میں اس سے ماضی کا سب کیا دھرا مٹ جائے گا؟ ایک یہودی کے ساتھ گتھم گتھا ہونے سے تم سمجھتے ہو کہ۔۔۔'
'ایک لحاظ سے۔۔۔ بالکل!' اس نے میری بات کاٹ دی، 'دہشت سے مغلوب رہنے کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب یہ حد پار ہو جائے تو پھر کچھ نہ کچھ اسباب بن ہی جاتا ہے۔۔۔ چاہے وہ کاروان سرائے میں جھگڑا ہو یا کوچیوں کے ساتھ سفر کا تجربہ ہو۔ ویسے بھی ملر۔۔۔ یہ 1946ء ہے اور 1943ء بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ کاروان سرائے میں بھی تو دیکھو۔۔۔ وہ ستون صدیوں سے اپنی جگہ پر مردوں کی ہڈیاں سموئے جم کر اپنی جگہ پر کھڑا ہے، وہ ماضی کی ایسی حقیقت ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا لیکن اس کے باوجود ستون کے اردگرد زندگی چلتی رہتی ہے۔ مسافر، کوچی اور یہاں تک کہ امریکی اور جرمن بھی اس سرائے میں آتے ہیں، آرام کرتے ہیں اور سایہ تلاشتے ہیں' اس نے میری جانب عجیب انداز میں دیکھا، اس کی آنکھوں میں ڈورے تھے۔۔۔ وہ تقریباً چلاتے ہوئے بولا، 'ملر۔۔۔ دہشت ہوا ہو جاتی ہے، اس کا گزر جانا طے ہے!'
پھر، مترا کی موجودگی کو بدستور نظرانداز کیے وہ راستے کے بیچ میں ہی رک گیا اور کہا، 'ملر۔۔۔ میں شرمسار ہوں۔ کیا میں صیم لیون کا ہاتھ چوم کر سچے دل سے معافی طلب کر سکتا ہوں؟'
اس بات پر میں گڑبڑا گیا لیکن جب میں نے دیکھا کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ مخاطب ہے تو میں نے اسے اجازت دے دی۔ ہم وہیں کھڑے رہے، راستے پر کئی جانور گزرتے گئے اور وہ گھٹنوں کے بل ریت کی موٹی بجری پر بیٹھ گیا اور میرا ہاتھ تھام کر چوم لیا۔ جب وہ اٹھا تو میں نے اس کو دونوں شانوں سے تھام کر کہا، 'تمھاری بات بالکل درست ہے ڈاکٹر شواٹز۔۔۔ دہشت آخر ہوا ہو جاتی ہے، ہم کچھ بدل نہیں سکتے لیکن کاروان، زندگی چلتی رہتی ہے۔ میں اب تمھیں کسی طرح سے بد نگاہ سے نہیں دیکھتا، میرا دل صاف ہے۔ میں اور تم۔۔۔ ہم دونوں ایک جیسے ہیں، انسان ہیں۔۔۔'
اس نے شکرگزاری کے عالم میں اثبات میں سر ہلایا اور واپس مفتون کے پاس، اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے چلا گیا۔ مترا اس دوران بالکل چپ چاپ رہی اور غالباً وہ صورت حالات کو اچھی طرح بھانپ رہی تھی، اس کے جاتے ہی بولی، 'یہ بہت ہی زیادہ بولتا ہے لیکن پتہ کیا؟ اس کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایلن سے محبت کرنے لگا ہے۔۔۔ تم دیکھ لینا، جلد ہی۔۔۔' اس نے یہ کہا اور ہاتھ سے کوچیوں کا فحش اشارہ بنا دیا،
میں نے پوچھا، 'اگر یہ ایسا کرتے ہیں تو پھر کیا ہو گا؟'
'تمھارا مطلب۔۔۔۔؟' اس نے پھر وہی اشارہ بنایا،
'ہاں!'
'ہو سکتا ہے میرا باپ اس کو قتل کر دے!' اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ پھر اس نے مجھے واقعہ سنایا کہ کیسے، مفتون کی بیوی راولپنڈی کے بازار میں ایک شخص کے ساتھ محبت کرنے لگی تھی اور ذوالفقار نے اس کے ساتھ بہت مار پیٹ کی تھی۔ اتنی بے دردی سے مارا تھا کہ وہ تقریباً رینگتی ہوئی واپس اس شخص کے پاس چلی گئی۔ لیکن مفتون نے پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑا اور اپنی بیوی کے آشنا کو بیچ بازار میں خنجر کے وار کر کے موقع پر قتل کر دیا تھا۔ 'اس کی بیوی وہ رہی، وہاں ہے۔۔۔' اس نے خاطر جمعی سے ایک جانب اشارہ کیا، میں نے اشارے کی طرف دیکھا تو وہی چار عورتیں اونٹوں کا گوبر جمع کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک رچا سے بھی زیادہ، پکی عمر کی تھی لیکن اچھی خاصی ہنس مکھ، جاذب نظر اور ناک میں سلائی کر کے نتھ پہن رکھی تھی۔ اس کو شک گزرا کہ شاید مترا اسی کے بارے مجھ سے کچھ کہہ رہی ہے، چنانچہ وہ دوڑی آئی اور اجڈ عورتوں کی طرح تن کر کھڑی ہو گئی،
'یہ تمھیں میرے متعلق کیا بتا رہی ہے؟' اس نے تنک کر پوچھا،
'یہی کہ۔۔۔ مفتون نے تمھارے لیے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا!'
'اس نے ایسا ہی کیا تھا۔۔۔' وہ ہنس کر بولی، 'اس نے تو میرا بھی ایک دانت توڑ دیا تھا!' اس نے ہمیں منہ کھول کر جبڑا دکھایا۔ 'میں شہر میں کبھی خوش نہ رہتی۔۔۔' پھر اس نے آںکھ ماری اور مجھے تنبیہ کر کے بولی، 'تم بھی مترا سے دور رہا کرو۔۔۔ یہ تمھیں قتل بھی کر سکتی ہے!'
جب وہ واپس چلی گئی تو مترا نے زور زور سے ہنستے ہوئے کہا، 'میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں۔ جب وقت آیا تو تم بے شک چلے جانا۔۔۔ وقت آیا تو میں بھی چلی جاؤں گی!'
اگلے دو دن میں شواٹز اور ایلن کی حرکات و سکنات کا بغور، قریب سے مشاہدہ کرتا رہا۔ میں نے اس دوران پوری احتیاط برتی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ مترا درست کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے اور ذوالفقار بھی یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ اب تک اس نے کچھ نہیں کہا تھا، صرف اتنا کیا تھا کہ جرمن کو اپنے خیمے کے قریب نہیں آنے دیا تھا اور ایلن کو بھی رات کے وقت خیمے سے نکلنے کی اس طرح اجازت نہیں تھی جیسے مترا کو رہی تھی۔ میں موقع تلاش کرنے لگا تا کہ ایلن کو منڈلاتے ہوئے خطرے سے آگاہ کر سکوں۔ اگرچہ ذوالفقار کا رویہ رضامندی پر جڑا ہوا تھا لیکن میں نے بھانپ لیا کہ اگر غیرت کی بات آئی تو وہ شواٹز کو قتل کرنے سے بھی ہر گز گریز نہیں کرے گا۔
لیکن بات یہ بھی تو تھی کہ میں نے ایلن کو اس سے قبل کبھی اس قدر چہکتا اور اس کے چہرے کو تمتماتا ہوا نہیں دیکھا۔ ہم اب سرد علاقے میں پہنچ چکے تھے اور یہ جگہ سطح سمندر سے قریباً دس ہزار فٹ بلند رہی ہو گی۔ برفیلی چوٹیاں اب بہت نزدیک آ چکی تھیں اور اکثر جب ہم دروں کے بیچ سے گزرتے تو یخ ہوا کانوں کو ٹھٹھراتی ہوئی گزرتی محسوس ہوتی۔ ایلن نہ جانے کہاں سے ایک لمبا چوغہ نما برنس نکال لائی تھی جو عام طور پر تاجک پہاڑیے پہنتے ہیں۔ یہ نمدا برنس خام اون سے بنا ہوا تھا اور اس کے ٹخنوں تک لمبا تھا۔ یہ سخت سردی میں خوب کارآمد شے تھی۔ رچا نے اس کے کندھے اور سر پر اوڑھنے کے ٹوپ پر سنہری اور چاندی کی تاروں سے کشیدہ کاری بھی کر رکھی تھی۔ اسے پہن کر بھی اس کے سنہری بال شانوں پر بکھرے رہتے اور اکثر جب میں مترا کے ساتھ ہی پیدل چل رہا ہوتا، وہ میرے سفید گھوڑے پر سوار یوں دکھائی دیتی جیسے کوئی حسین و جمیل، سنہری جلد اور بالوں والی دیوی اپنے آریائی کنبے کو کسی پہاڑی قلعے کی طرف لیے جا رہی ہے۔ میں اسے دیکھ کر اکثر سوچتا کہ شواٹز کا اس کی محبت میں گرفتار ہونا، انہونی بات نہیں تھی۔
یہ کابل سے رخصت ہوئے نویں دن کا واقعہ ہے، ابھی سویر کا اجالا نہیں پھیلا تھا۔ میں اپنا سونے کا بستر لپیٹ کر اونٹوں پر لادنے جا رہا تھا کہ میں نے دور صبح کاذب کی دھندلاہٹ میں ایلن کو کھڑے دیکھا۔ وہ غالباً میرا ہی انتظار کر رہی تھی، شاید مجھ سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی۔ میں اس کے پاس گیا اور پوچھا، 'تم ٹھیک تو ہو؟ تمھیں کچھ مدد درکار ہے؟'
'سامان لادنے میں تو نہیں۔۔۔' اس نے جواب دیا، 'لیکن کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟'
میں نے اپنا سامان مفتون کے حوالے کیا اور اس سے کہا، 'تم میرے گھوڑے پر سواری کر سکتے ہو!' یہ کہہ کر ایلن اور میں نے کاروان کے روانہ ہونے سے قبل ہی پیدل سفر کا آغاز کر دیا۔
یہ سویر پھوٹنے سے قبل وقت بہت عجیب تھا بلکہ خیالات کے اظہار اور لمبے مکالموں کے لیے اس وقت سے بہتر شاید کوئی دوسرا وقت نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی یہ وقت نرالا تھا، کیونکہ صبح کا اپنا ایک رنگ ہوتا ہے اور اس وقت ہم ایشیاء کی ایک انتہائی مقدس اور شاندار وادی میں قدم رکھنے والے تھے۔ یہ وادی بامیان تھی۔ چونکہ ہم اس وقت صبح کے منہ اندھیرے میں، مغرب کی جانب سے وادی میں داخل ہو رہے تھے، مراد یہ کہ جلد ہی ہمارے سامنے سورج طلوع ہو جائے گا۔ ایسے میں شمال کی جانب چاندی کے رنگ کی پتھریلی چٹانیں بھی دمکنے لگیں گی اور رات کا سایہ چھٹتے ہی ہماری سوچیں بھی منور ہو رہی ہوں گی۔ یوں، یہ وقت خیالات کے تبادلے کے لیے انتہائی موزوں معلوم ہوتا تھا۔ اصل میں اس وادی کا اپنا رنگ ہے، یہاں سبزہ اور ہریالی ہے جبکہ ایسے میں چاروں طرف عجیب سا سکون پھیلا ہوا تھا۔ وادی میں پانی کی بہتات تھی اور ہر شے سیراب نظر آتی تھی۔ یہ تاریخی لحاظ سے بھی روحانیت میں یوں مالا مال جگہ تھی کہ یہیں سے چین اور جاپان میں بدھ مت پھیلا۔ یہاں درختوں کے گھنے جھنڈ تھے، جنگل میں منگل تھا اور چراہ گاہیں پورا سال ہری رہا کرتی تھیں۔ یہاں چنار کے درخت قطار در قطار، دور دور تک پھیلے ہوئے نظر آتے جیسے کوئی اطالوی باغ ہو۔ صبح کی تاریکی میں بھی یہاں ہر قدم پر قدرت اپنے پورے حسن اور جاہ و جلال کے ساتھ پیش پیش، اس وادی کے چپے چپے میں پھیلی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ جوں جوں ہلکی روشنی پھیل رہی تھی، یہاں کا نظارہ دلفریب ہوتا جاتا تھا، صبح کا یہ ایسا منظر تھا جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔
ایسے میں، جب صبح ہی صبح، رات کا اندھیرا چھٹ رہا تھا، ایلن رونے لگی، 'ملر۔۔۔ مجھے محبت ہو گئی ہے!' میں نے اس کو رونے دیا، اس کی آواز میں درد تھا اور آنسو اس قدر پاکیزہ محسوس ہوئے کہ میں نے ادب کا قرینہ یہی سمجھا کہ اسے کھل کر رونے دوں۔
کچھ دیر تک وہ روتی رہی اور میں نے بھرپور توقف کے بعد کہا، 'مترا نے مجھے کچھ دن پہلے اس بارے بتایا تھا۔۔۔'
'ہم نے اس راز کو چھپائے رکھا۔۔۔ یہاں تک کہ خود سے بھی چھپاتے رہے!'
'مترا کہہ رہی تھی کہ تم ایسا کر کے شاید بہت ہی بڑا خطرہ مول لے رہی ہو!' میں نے اسے متنبہ کیا،
'خطرات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا!' اس نے نڈر ہو کر کہا، 'میں نے فلاڈلفیا اسی چیز کے لیے چھوڑا تھا۔ میں نے قلعہ بست بھی اسی وجہ سے چھوڑ دیا۔ اب جبکہ یہ مجھے مل گئی ہے تو۔۔۔'
ہم اندھیرے میں آگے بڑھتے گئے۔ اب آسمان پر روشنی کی ایک مہین سی لکیر نظر آنا شروع ہوئی، جیسے کوئی دھندلاہٹ ہو۔ اسی عالم میں، ایلن پھر روئی، 'ملر۔۔۔ میں کیا کروں گی؟'
اس کی آواز میں بھرے کرب سے میرا دل ہمدردی سے بھر گیا اور میں نے اس کے مددگار بننے کی پوری کوشش کی، 'میں تم سے تمھارا ہی سوال کچھ یوں پوچھتا ہوں۔۔۔' میں نے کہا، 'تم کر کیا رہی ہو؟ خانہ بدوشوں کے کاروان کے ساتھ، صبح کے چار بج کر پینتیس منٹ پر۔۔۔ وسط ایشیاء میں؟ ایلن یہ تم کیا کر رہی ہو؟'
اس پر وہ فوراً دفاعی انداز میں منہ بدل کر بولی، 'یہی سوال تو میں تم سے بھی پوچھ سکتی ہوں!'
'میرا معاملہ بہت سیدھا ہے۔۔۔ مجھے یہاں بھیجا گیا ہے۔ حکومت نے، تمھیں تلاشنے بھیجا ہے!'
اس پر وہ ہنس پڑی اور طنزیہ لہجے میں بولی، 'ارے نہیں۔۔۔ کیا بات کرتے ہو؟ حکومت نے تمھیں ہر گز یہاں نہیں بھیجا۔ حکومت نے تو تمھیں قلعہ بست بھیجا تھا، یہاں تو تم اپنی مرضی سے آئے ہو!' اس پر اس کے ساتھ ہمدردی اور نرم دلی کے جو بادل میرے دل میں گھرے تھے، فوراً ہی چھٹ گئے۔ اس نے درشت مزاجی سے بات جاری رکھی، 'تم یہاں اس لیے آئے ہو کیوں کہ تم اپنی بجھی ہوئی مایوس زندگی میں پہلی بار کسی حیرت انگیز لڑکی کے ساتھ معاشقہ لڑا رہے ہو۔ میں تمھیں اس کا ذرہ برابر دوش نہیں دیتی لیکن خدا کا نام لو۔۔۔ اس آنٹی ایلن کو یہ سبق مت پڑھاؤ کہ تمھیں حکومت امریکہ نے یہ کہہ کر یہاں بھجوایا ہے کہ جی، ملر صاحب۔۔۔ تم کوچیوں کے ساتھ جاؤ اور کوچیوں کی لڑکی کے ساتھ کھلے آسمان تلے رنگ رلیاں مناؤ۔۔۔ دھت تیری کی!'
'چلو۔۔۔ میری تو یہی بات ہے۔ تمھارے متعلق کیا؟' میں نے خشک لہجے میں کہا۔
اس پر اس کی نرمی لوٹ آئی اور مشرق میں روشنی بھی بڑھنے لگی۔ ایسے میں اس نے بتایا، 'میں تو جیسے یہاں تک دوڑا کر لائی گئی ہوں۔ نظراللہ بہت ہی خیال رکھنے والا شوہر تھا لیکن۔۔۔ ذوالفقار کا جذبہ پر شوق تھا، کوئی بھی لڑکی۔۔۔ ملر، میرے سفر کا محبت یا مردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں تو یہاں اس لیے دوڑی دوڑی آئی تھی کیونکہ دنیا میں اتنا کچھ ہو رہا تھا۔ ایسی چیزیں وقوع پذیر ہو رہی تھیں جن سے مقابلہ کرنا، اس کو ہضم کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی!'
میں نے اس کی بات پوری توجہ سے سنی اور سمجھنے کی کوشش کی لیکن مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔ ہم کچھ دور چپ چاپ چلتے رہے اور پھر میں نے کہا، 'ایلن۔۔۔ میں نے تمھارے رویے اور خیالات کو پرکھ کر سمجھنے کی پوری کوشش کی ہے لیکن مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی۔ جب ہم کابل میں تھے، میں نے تم سے متعلق اپنی مفصل رپورٹ جمع کروا دی تھی۔ اب ہمارے بیچ بات چیت، صرف ہمارے بیچ ہی ہے اور ہم دونوں سے متعلق ہے۔ کیا تم مجھے سادہ الفاظ میں اپنا مدعا سمجھا سکتی ہو؟'
'میرا نہیں خیال کہ تم سمجھ پاؤ گے!' اس نے ہوشمندی سے کام لیتے ہوئے مروت برتی، 'میں جو الفاظ استعمال کرتی ہوں۔۔۔ اس سے فوراً تمھاری دانش جوش مارنے لگتی ہے۔ تم ان الفاظ کے گھن چکر میں پھنس جاتے ہو، اکثر تو تمھارے پلے ہی کچھ نہیں پڑتا۔ جیسے تم مجھے، ویسے ہی میں بھی یہ سمجھ نہیں پاتی کہ ہمارے ملک امریکہ کے اقدامات کس طور چل پڑے ہیں؟ اکثر لگتا ہے کہ ہم بھیانک غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔۔ میں کیا بتاؤں کہ امریکہ کا بھی میرے پلے کچھ نہیں پڑتا!'
'میرے خیال میں امریکہ کوئی غلطی نہیں کر رہا بلکہ اب تک ہم نے بہت ہی زبردست طریقے سے دنیا کے معاملات کو نبٹایا ہے!'
'اگر تم واقعی ایسا سمجھتے ہو تو میں اس وقت ایک احمق سے بات کر رہی ہوں!' اس نے لحاظ ایک طرف رکھ کر آسمان میں جھانکتے ہوئے کہا، 'یا خدا! مجھے مدد درکار تھی اور تم نے اس بیوقوف کو بھجوا دیا؟'
'تم پھر کوشش کرو!' میں نے ہار مان کر کہا، 'لیکن۔۔۔ جس قدر ہو سکے، سادہ الفاظ میں کہو، کیا کہنا چاہتی ہو؟'
'میں کوشش کروں گی!' اس نے نرمی سے کہا، 'ملر۔۔۔ تمھیں نہیں لگتا کہ ہم نت نئے بم بناتے جا رہے ہیں، ایک سے بڑا بم۔۔۔ پھر اس سے بڑا بم؟ ایک دن ہم ایسا بم بنا لیں گے جو پوری دنیا کو تباہ کر دے گا؟'
'تمھاری بات کسی حد تک درست ہے لیکن مجھے اطمینان یہ ہے کہ ایسے بم صرف امریکہ بنا رہا ہے۔۔۔ اور امریکہ ایک ذمہ دار ملک ہے!'
'ملر۔۔۔' وہ تقریباً چلائی، 'تمھارا کیا خیال ہے، ایسے بم صرف امریکہ ہی بنا سکتا ہے؟'
'ایسے بم کون بنا سکتا ہے؟ روس؟ چین؟ ان کے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے!'
'ملر۔۔۔' وہ پھر چلائی، 'احمق مت بنو۔ ہم اس وقت صرف اپنی ہی بات کر رہے ہیں۔۔۔ ملکوں اور ملک پرستوں کو چھوڑو، تم انسانوں کی بات کرو۔ اپنے اور میرے جیسے انسانوں کا سوچو۔۔۔ کیا تم دیکھ نہیں سکتے کہ۔۔۔'
'تمھیں یہ سب باتیں پڑھاتا کون ہے؟ شواٹز؟'
'ہاں، اس کا کہنا ہے کہ۔۔۔'
'کیا اس نے تمھیں بتایا کہ وہ کافی عرصے تک نازی رہ چکا ہے، یہودیوں کو مارنے کا کام کرتا رہا ہے؟'
'ہاں!' اس کے لہجے میں نرمی لوٹ آئی، 'اور یہی وجہ ہے کہ میرے لیے اپنی باقی عمر اس کے ساتھ بیتانی ضروری ہے!'
یہ سن کر میں تقریباً ہتھے سے اکھڑ گیا۔ میں اس کی احمقانہ اور فضول منطق پر اس قدر جھلایا کہ میرا ہاتھ اٹھ گیا لیکن وہ یہ دیکھ کر فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ 'تم ہوش میں تو ہو؟' میں نے غرا کر کہا۔
اگرچہ ہم دونوں ایک دوسرے کی بات سمجھنے سے قاصر تھے لیکن سورج مشرق کی جانب سے نکل کر آسمان میں روشنی کی کرنیں بکھیر رہا تھا، فلک منور ہو چکا تھا لیکن ہم دونوں ابھی تک خواہ مخواہ کی ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔ ایلن خوش تھی کہ سیاہ رات گزر چکی ہے، اس نے جھٹک کر اپنے بال پیچھے اچھالے اور تازہ روشنی میں نہانے لگی۔ پھر اس نے مجھے گہری پریشانی سے دیکھا اور بولی، 'میں پورے ہوش و حواس میں ہوں۔ ملر۔۔۔ اگلے چند منٹ میں کچھ بھی کہوں۔۔۔ تم بھلے کتنے ہی اس منطق کو احمقانہ سمجھو، کیا تم وعدہ کر سکتے ہو کہ تسلی کے ساتھ میری پوری بات سنو گے اور سمجھنے کی کوشش کرو گے؟'
'ہاں ہاں۔۔۔ بولو۔ میں پہلے ہی تجسس سے مرا جا رہا ہوں!'
'اچھا تو پھر ایسا سمجھو کہ میں ایک نو عمر لڑکی ہوں جو ایک عام سے گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے معمولات عام تھے، گھر عام تھا، گھرانہ عام تھا، عام سے چرچ میں جاتی اور عام سے دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ لڑکے مجھے پسند کرتے تھے اور سکول میں سبھی مجھے پسند کرتے تھے۔ میں نے رقص سیکھا، موسیقی کو ہاتھ لگایا، پارٹیوں کی رونق بڑھائی اور کالج میں بھی اچھے خاصے گریڈ لے لیے۔ لیکن ایک دن، جب میری عمر پندرہ برس تھی۔۔۔ ابھی جنگ شروع بھی نہیں ہوئی تھی اور مجھے خیال آیا کہ یہ سب کس قدر بے معنی ہے۔ میرا گھر بار، دوست اور رشتہ دار۔۔۔ سبھی بے معنی دوڑ میں دوڑے جا رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو مات دینے میں لگے ہوئے ہیں، ایک ایسے کھیل میں مشغول ہیں جو ہمارے دماغوں کی اختراع ہے۔ سکول کے گریڈ، کمائی کے ہندسے اور مربع فٹ جائیدادیں۔۔۔ یہ کیسا گھن چکر ہے؟ کیا تمھیں کبھی ایسا خیال نہیں آیا؟'
'نہیں!' میں نے صاف کہا،
'مجھے یقین ہے کہ ایسا کوئی خیال تمھیں چھو کر بھی نہیں گزرا ہو گا' اس نے کسی تلخی کے بغیر کہا، 'خیر۔۔۔ جنگ عظیم شروع ہو گئی اور اس دوران مجھے فضول قسم کی دھواں دھار تقریریں سننے کا موقع ملا۔ ایسی تقریریں جو بے معنی تھیں اور عوام کو بھڑکانے کے لیے کافی تھیں۔ میں نے اپنا منہ بند رکھا کیونکہ ابا ان چیزوں کو سخت سنجیدگی سے لیتے تھے۔ کیوں نہ لیتے؟ وہ اپنے گھر میں محفوظ تھے اور عمر اتنی ہو چکی تھی کہ جنگ میں لڑائی لڑنے کے قابل نہ تھے۔ اسی لیے ہر وقت قومیت اور ہیرو گیری کی باتیں کرتے رہتے تھے۔ ڈرافٹ بورڈ کے چئیرمین کی حیثیت سے ایک دن انہوں نے اتنی جوشیلی تقریر کی کہ کئی جوان لڑکے فوراً ہی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ ملر۔۔۔ تم بھی وہ تقریر سنتے تو فوراً ہی دوڑ پڑتے۔ میرے ہم عمر کئی لڑکوں نے اس دن مجھے کہا، 'تمھارے ابا ایسی تقریر کرتے ہیں کہ بس۔۔۔ جی چاہتا ہے بندوق اٹھائیں اور نکل کھڑے ہوں۔ اپنی قومی ذمہ داری بھی پوری کریں اور ان کی بھی تشفی کروائیں۔ لیکن پتہ کیا؟ میرے سبھی کلاس فیلو اتنے بیوقوف نہیں تھے!'
'میرے بھی کئی کلاس فیلو بیوقوف نہیں تھے!' چونکہ میں بھی جنگ لڑنے کے لیے نکلا تھا، اسی لیے تنک کر کہا، 'مجھے فلسفے کی کلاس کا وہ لڑکا کراکویٹز اچھی طرح یاد ہے جو کہا کرتا تھا کہ خونی جنگ جیت جانے سے زیادہ بری چیز ایک ہی ہے اور وہ چیز جنگ ہار جانا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اگرچہ ہٹلر، مسولینی اور توجو سے جنگ لڑنا انتہائی مشکل کام تھا، شاید ہی ہم جیت پاتے لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ اگر ہم ان سے جنگ ہار جاتے تو جہنم کا سماں ہوتا۔ پتہ، کراکویٹز آئو جیما کے میدان میں مارا گیا تھا!'
'تمھاری بات میں وزن ہے!' اس نے سویر کی روشنی میں جھک کر میری دی ہوئی مثال کو سراہا، 'اچھا تو میں کہہ رہی تھی کہ کالج میں میرا واسطہ پالتو قسم کے پروفیسروں سے ہوا۔ معذرت لیکن میں انہیں پالتو نہ کہوں تو کیا کہوں؟ ان کی اخلاقی ذمہ داری یہی تھی کہ وہ دنیا کے انتظام کی چیر پھاڑ کیا کریں لیکن بجائے وہ اسی بوسیدہ نظام کے دفاع کی بھاری تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کے ذمے انتہائی اہم کام سونپا گیا تھا لیکن وہ کیا کر رہے ہیں؟ وہ خود یہی سب کچھ سیکھتے ہیں، اس سے کماتے ہیں، چرچ میں دعائیں بھی مانگتے ہیں، زندگی سکون سے گزارتے ہیں اور اپنے جیسے مزید ایسے کے تیسے پیدا کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس جرم میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کا ساتھ دینے کے لیے پورا ایک نظام ہے، یہ پروفیسر اس سامراج کے ہاتھوں بک چکے ہیں!'
'لیکن ان ہی پروفیسروں میں ایک ایسا بھی تھا جو واقعی اپنی ذمہ داری کو خوب سمجھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس دنیا کے نظام کو چیر پھاڑ کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ میری حالت کو بھی فوراً ہی سمجھ گیا۔ وہ کالج میں میوزک کا پروفیسر تھا اور اس نے بارہا میرے والدین کو لکھا کہ میں اس دنیا اور اس دنیا کے نظام کو رد کیے جا رہی ہوں۔ اس کا مشاہدہ حیران کن طور پر درست تھا۔ میرے ابا نے اس کی خوب دھلائی کی، ڈرافٹ بورڈ کے سرکاری انداز میں اسے سبق سکھایا اور باور کرایا کہ میں اپنے 'اصل' مضامین میں ٹھیک ٹھاک جا رہی ہوں۔ اس سے مجھے پلوٹو کا وہ قطعہ یاد آتا ہے جس میں کسی ملک کے شہری آئینے کو اتنی غور سے دیکھا کرتے تھے کہ انہیں شبیہ پر حقیقت کا گمان ہونے لگا۔ میرے ابا کو کبھی سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ میوزک کا پروفیسر ہماری دنیا کا اصل چہرہ دیکھنے کے قابل تھا جبکہ باقی پروفیسر تو ان پیمانوں پر میری قابلیت جانچ رہے تھے جن کا بعد میں کوئی مصرف بھی نہیں ہے۔ ملر۔۔۔ عزرائیل سور پھونک دے گا اور یہ چیزیں جو ہمیں پڑھائی جاتی ہیں، اس وقت بھی بے کار ہی رہیں گی!'
اس نے یہاں پہنچ کر توقف کیا جس سے مجھے اسے رد کرنے کا موقع مل سکتا تھا لیکن میں اس کے دھواں دھار تبصرے کو سن کر ذہنی طور پر اس قدر ماؤف ہو چکا تھا کہ مجھے سمجھ ہی نہ آئی۔ اس کے خیالات انتہائی پیچیدہ تھے، وہ مترا کی طرح، جیسے وہ اپنے کاروان کی زندگی کو قبول کیے بیٹھی تھی، خدا جانے ایلن اپنے معاشرے کو کیوں نہ قبول کر سکی؟ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ لندن اور ٹوکیو۔۔۔ دنیا کے سیاسی منظرنامے کے کیا خدوخال اور مسائل تھے۔ میں نے اس کی جرح میں حائل ہونے کی کوشش نہیں کی، میں نے اس سے سمجھانے کو کہا تھا، وہ اپنے تئیں کوشش کر رہی تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ میں یہ سب سمجھ بھی پا رہا تھا یا نہیں؟ خیر اس نے اپنی بات جاری رکھی، 'جب جنگ کی بدتر شکل نکل آئی تو میرے خیالات کی تصدیق ہو گئی۔ میں نہیں جانتی کہ آخر میں نظراللہ سے شادی کرنے پر کیوں مصر تھی؟ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک مجھے یہ علم نہیں تھا کہ نظراللہ بھی میرے ابا جیسا ہی ہے۔ نظراللہ کے افغانستان میں ڈیم بنانے اور سڑکیں نکالنے کے ارادوں سے میں ناواقف تھی۔ میرے خیال میں، میں اس کے پیچھے پیچھے یہاں اس لیے چلی آئی کیونکہ افغانستان، امریکی اقدار سے اتنا ہی دور ہے جتنا کہ میں دور چلی جانا چاہتی تھی' اس نے پھر روک لگائی اور متجسس ہو کر کہا، 'نظراللہ کی پہلے ہی ایک بیوی تھی، اس بات نے میرا کام آسان کر دیا۔ کیا تم سمجھ رہے ہو؟'
'مجھے تمھاری باتوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی!' میں نے اعتراف کیا،
'میرے کہنے کا مطلب یہ ہے ملر۔۔۔ میرے ابا ہر غیر معمولی شے کو احمقانہ قرار دے دیتے تھے اور میں اس بات سے سخت چڑتی ہوں کیونکہ وہ ہر چیز کو اپنی محدود عقل کے پیمانے پر تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں میرا انتہائی احمقانہ فعل کیا ہو سکتا تھا؟ یہی ناں کہ کسی افغان کے ساتھ بھاگ جاؤں جو پگڑی پہنتا ہے اور اس کی پہلے سے ہی ایک بیوی بھی ہے' وہ ہلکے سے ہنسی اور مزید کہا، 'کیا تم جانتے ہو کہ نظراللہ کی حقیقت مجھے کیسے پتہ چلی؟ پگڑی سے۔۔۔ وہ فلاڈلفیا میں تو پگڑی پہنتا تھا لیکن اس نے کبھی کابل میں پگڑی پہننے کا سوچا بھی نہیں ہو گا۔ یہ اس کا دوغلا پن ہے!'
'مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی!' میں نے بے بسی سے کہا،
'تمھیں سمجھ نہیں ہے لیکن امریکہ میں نئی نسل کو اس بات کا خوب علم ہے!' اس نے مجھے یقین دلایا، 'ہمارے نوجوان ہر اس معاشرے کو رد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کی بنیاد میرے ابا اور نظراللہ جیسے لوگوں نے رکھی ہے۔ ان معاشروں کی تہہ میں دوغلا پن ہے۔۔۔'
'پھر خدا ہی امریکہ پر رحم کرے!' میں نے تلخی سے کہا،
'یہ نوجوان نسل ہی ہے جو امریکہ کو بچائے گی۔۔۔' اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، 'وہ حالات و واقعات کو اچھی طرح سمجھتے ہوں گے، انہیں علم ہو گا۔۔۔ اسی لیے وہ تبدیلی کا باعث بنیں گے!'
میں دماغ میں اس کے الفاظ کے گھن چکر پر غور کرتے ہوئے سوچنے لگا کہ مجھے اس کے جوش و خروش کا قائل ہونا ہی پڑے گا۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی نیت نیک ہے اور مجھے اس کا ہر لحاظ سے پاس تھا لیکن میں اس کی منطق سے متفق نہیں ہوں۔ جب پیش منظر پر سورج طلوع ہوا تو وادی بامیان میں روشنی بھر گئی اور اس کی شمالی سرحد پر سفید چونے کی بلند قامت پتھریلی چٹانیں روشن ہو گئیں۔ یہ چٹانیں اس چپت وادی میں بہت اونچی محسوس ہوتی تھیں اور میں نے دیکھا کہ ان چٹانوں کی سطح پر کٹاؤ کے گہرے آثار بھی نظر آ رہے تھے جیسے کسی نے فریم میں ڈال کر اوپر سے رگڑائی کر دی ہو اور سطح ملائم ہو گئی ہے۔ نئے دن کے چڑھتے ہوئے سورج میں ان اونچی چٹانوں کے سایے بھی سرسبز میدان پر پھیلتے ہوئے آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ وادی میں دور دور تک چنار کے گھنے درخت تھے لیکن چناری جھنڈ چٹانوں کے آس پاس پہنچ کر ختم ہو جاتے ہیں اور ایک عجب سماں بن جاتا ہے۔ جوں جوں افق پر سورج اٹھتا گیا، وادی منور ہوتی گئی۔ میں ابھی پھیلتی ہوئی روشنی کے سحر میں گم تھا کہ اچانک ایلن زور سے چلائی، 'ملر۔۔۔ وہ دیکھو۔۔۔ اس طرف!'
پہلے تو مجھے کچھ بھی ایسا نظر نہیں آیا جسے دیکھ کر وہ پرجوش تھی کیونکہ میں آنکھوں کے سامنے کسی عام سی شے کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن پھر میرا دھیان اونچی چٹانوں میں سب سے بلند چٹان کی طرف گیا جہاں ایک طرف بہت ہی بلند اور نفاست سے فریمی کٹاؤ نظر آ رہا تھا۔ کسی نے چٹان کو لمبوتری مستطیل میں گہرا کاٹ کر اس کے اندر سینکڑوں فٹ اونچا، دیوہیکل انسانی شبیہ کا مجسمہ بنا دیا تھا۔ میں اس مجسمے کی اونچائی اور چٹان میں اس مہارت سے کبھو کر سازی دیکھ کر ہی دم بخود رہ گیا۔ یہ کسی عام آدمی کا مجسمہ بھی نہیں تھا بلکہ خدوخال سے غالباً کسی مذہبی کردار کو ظاہر کرتا، کسی سورما کا مجسمہ تھا لیکن اس کے اصل ہیبت کا مظہر تقدس نہیں بلکہ یہ بات تھی کہ کسی نے چہرے کو بیچ میں سے قلم کر دیا تھا۔ اب اس کی ٹھوڑی اور ہونٹ ہی باقی تھے، اور باقی بچا ہوا چہرہ بھی کم از کم کئی فٹ چوڑا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے یہ بھی لگا کہ دراصل چہرے مہرے سے بھی کہیں زیادہ اثر، چونے کے پتھر کی اس چٹان کی کشادگی کی وجہ سے پیدا ہو رہا تھا۔
اس کو دیکھ کر ہم دونوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے، تب تک باقی کاروان بھی آن پہنچا۔ ذوالفقار نے ہم دونوں کے پہلو میں گھوڑے پر سوار ہی اپنی بندوق سے اس بے چہرہ مجسمے کی طرف اشارہ کیا اور بلند آواز میں پرمغز انداز میں اعلان کیا، 'یہ بدھا ہے!'
کاروان ہمارے قریب سے گزر کر پڑاؤ اور خیمے لگانے کی مقررہ جگہ تک پہنچ گیا لیکن میں اور ایلن بدستور کھڑے معماری کے اس مسحور کن شاہ پارے کو دیکھتے رہے۔ میں نے ایلن کو دیو قامت مجسمے کے پیروں کے پاس کھڑے ہونے کو کہا تا کہ مجھے ان کی اصل پیمائش کا اندازہ ہو سکے۔ میں پیچھے ہٹ کر، سر آسمان پر ٹکائے دیر تک اس کی اونچائی کا اندازہ بھی لگاتا رہا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کم از کم بھی ڈیڑھ سو فٹ اونچا ہے۔ میں سوچتا رہا کہ آخر اس دیوہیکل مجسمے کی مورت ایک مسلمان ملک کے دل میں کس نے تراش کر کندہ کر دی؟ اس کا چہرہ کس نے مسخ کیا؟
ظاہر ہے، مجھے ان سوالوں کا تو جواب اس وقت نہیں مل پائے گا لیکن میں نے نوٹ کیا کہ مجسمے کی چٹان کے آس پاس دوسری چٹانوں میں غاروں کا جال بچھا ہوا تھا، جیسے شہد کا چھتہ ہوتا ہے۔ ان غاروں کو نہایت مہارت سے پتھر کے اندر گہرا بنایا گیا تھا اور موریوں کی شکل میں کاٹ کر کھڑکیاں بھی نکال رکھی تھیں۔ یہ موریاں چونے کے پتھر کی ہموار سطح پر بہت ہی مناسب، اب فٹ بیٹھ گئی تھیں۔'آخر یہ ہے کیا؟' میں نے متجسس ہو کر خود سے پوچھا تو ایلن نے اندازہ لگایا کہ غالباً یہ کسی زمانے میں اس مجسمے کے پہلو میں بدھ راہبوں کی خانقاہیں رہی ہوں گی۔ ہم نے اس جگہ کا تفصیل سے معائنہ کیا تو ایک راستہ بھی نظر آیا جو مجسمے سے گزر کر ان غاروں تک جاتا تھا۔ ایلن نے کہا چلو، اس جگہ کو چل کر اندر سے دیکھتے ہیں۔
ہم مجسمے کے پیروں میں سے ہوتے ہوئے ایک تاریک گزرگاہ کو پار کیے اوپر ایک سخت چٹان پر پہنچ گئے اور یہاں سے اوپر ہی اوپر اچھی خاصی چڑھائی چڑھ لی تو راستہ بہت تنگ ہوتا گیا۔ اب ہم سنبھل کر چٹانوں کی کناری پر چلتے ہوئے ایک چھوٹے سے لکڑی کے پل پر پہنچے، جس پر چلتے گئے تو ہم سیدھا بدھا کے سر اوپر کھڑے تھے۔ یہ نہایت بلند جگہ تھی اور یہاں سے گرتے تو یقیناً گردن ٹوٹ جاتی اور ہڈی پسلی کا کام تمام ہو جاتا۔ ہم دونوں احتیاط سے کام لیتے ہوئے مجسمے کے سر پر ٹانگیں پسار کر بیٹھ گئے اور یہاں سے قدموں تلے کھلی وادی کا نظارہ کرنے لگے۔ دور، سورج کی روشنی میں ہم نے دیکھا کہ کوچی میدان میں خیمے گاڑھنے میں مصروف تھے۔
ہم دونوں ٹانگیں لٹکا کر کچھ دیر یہیں بیٹھے رہے اور اس دوران ہمیں ایک دوسرا راستہ نظر آیا جو مشرق کی جانب وسیع غاروں کے ایک دوسرے جال سے جا کر ملتا تھا۔ دور سے دیکھنے میں ایسا نظر آ رہا تھا کہ شاید جوبن کے زمانے میں یہ لیکچر ہال رہے ہوں گے، جن میں سینکڑوں راہبوں کے بیٹھنے کا پورا انتظام موجود تھا۔ انہی کمرے نما غاروں میں ہم نے ایک ایسا ہال دیکھا جو دوسروں سے کافی جدا نظر آ رہا تھا۔ وہ یوں کہ اول تو یہ زمین سے کافی بلندی پر تھا اور پھر دوم یہ کہ اس کی موری نما کھڑکیوں میں سے کوہ بابا کا سلسلہ ایسے نظر آ رہا تھا جیسے کسی فریم میں فٹ کر دیا گیا ہو۔ اسی ہال میں ایلن آلتی پالتی مار کر پتھریلی زمین پر بیٹھ گئی، اس نے چوغہ پہن رکھا تھا اور وہ دیکھنے میں مثال، راہب نظر آ رہی تھی۔ اس نے اپنی بات جہاں سے چھوڑی تھی، دوبارہ علمی انداز میں شروع کی،
'جب ہم اس دنیا کو دیکھتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ یہ کتنی بے کار جگہ ہے۔۔۔ آخر، اس دنیا کا مصرف کیا ہے؟' اسی وقت میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو دل میں یہی خیال آیا کہ کیا یہ دنیا بے کار جگہ ہے؟ ہم اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ایشیاء کا ایک درخشاں نظارہ تھا، 'ہم جب بھی کوئی نئی چیز خریدتے، پہلے سے بڑی کار حاصل کر لیتے تو میری ماں شکر گزاری سے بچھی چلی جاتی، گھنٹوں ٹسوئے بہا کر خدا کا شکر ادا کرتی رہتی۔ کالج میں، میں نے دیکھا کہ انتظامیہ اور پروفیسر بجائے ہماری تربیت پر توجہ دیں، کمپاؤنڈ میں کسی نئی عمارت کے اضافے کو کامیابی سمجھتے۔ یہ کالج نہیں فیکٹری تھی جس کو ہر سال لاکھوں ڈالر فیس اور چندہ ملتا تو پرنسپل خوشی سے نہال ہو جاتا۔۔۔' میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ ایلن ایک ہی طرح کی بات کی مختلف مثالیں دیے جا رہی ہے، جیسے کسی موزی چکر میں پھنسی ہو۔ میری حالت کو سمجھتے ہوئے وہ بے آرامی سے ہنسی اور مزید بولی، 'ایسے میں کوئی کیا کرے؟ ظاہر ہے ہم کسی سادہ اور بنیادی حقیقت کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کریں گے؟ نہیں؟ میرا خیال تھا کہ نظراللہ اور اس کے خیالات ڈارسٹ اور ڈارسٹ کے لوگوں کی زندگی سے کہیں زیادہ سادہ ہیں۔ ذوالفقار، نظراللہ سے بھی سادہ تھا اور اب اوٹو شواٹز میں ان سب سے بڑھ کر سادگی ہے۔۔۔'
'تم ایسا کس بنیاد پر کہہ رہی ہو؟ اس نے ایک اچھی یونیورسٹی۔۔۔ تمھارے کالج اور ڈارسٹ سے کہیں زیادہ پیچیدہ جگہ سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، زندگی بیتا رکھی ہے!'
'شواٹز سادہ ہے کیونکہ وہ ہم جیسوں، باقی انسانوں کی طرح نہیں ہے۔ میونخ میں اس نے اپنے لیے جہنم کما لی تھا اور وہ اس برے وقت کی یاد ساتھ لیے آدھی دنیا پار کر گیا۔ اس نے دنیا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس دنیا کی کج رویوں کا بوجھ اٹھائے پھرتا رہا۔ وہ تھک ہار گیا تو اس نے اپنی انسانی شناخت، یہ بوجھ اتار پھینکا۔ ملر۔۔۔ یہیں سے تو نئی شروعات ہوتی ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ابھی ابھی جنا ہوا نومولود بچہ ہو!'
'کیا تم واقعی ان فضولیات میں یقین رکھتی ہو؟' میں نے دلیل بازی کی،
'ملر۔۔۔ ایک وقت تھا، میں بھی تمھاری ہی طرح تھی!' اس نے مزے سے کہا، 'تم تہہ دل سے اس بات پر یقین رکھتے ہو کہ اوپر آسمان میں کوئی ایسا ہے جو ہر وقت بیٹھا تمھاری پوری زندگی کی کارگزاری۔۔۔ سکور لکھ رہا ہے۔ اگر تم نے پندرہ نئے پرندوں کے نام سیکھ لیے تو تمھیں ٹرافی ملے گی۔ اگر تم کیلکولس پر عبور حاصل کر لو تو تمھیں اعزازی طور پر فرض منصبی سونپ دیا جائے گا۔ اگر تم نیوی میں اپنی ناک جتنی زیادہ صاف رکھو گے، بوڑھا کپتان تمھیں تعریفی سند عطا کرے گا۔ اگر تم سفیر کے فرمانبردار رہو گے تو وہ تمھیں سرٹیفیکیٹ دے گا جو آگے چل کر تمھارے کام آ سکتا ہے۔ تمھارے خیال میں، یہ ساری اسناد اور نیک نامی کسی بہت بڑی کتاب میں جمع ہو رہی ہیں اور تمھاری فائل بن رہی ہے۔ کوئی برتر ذات تمھاری زندگی کا پورا ریکارڈ جمع کر کے رکھتی جا رہی ہے۔ مجھ سے پوچھو تو یہ ذہنی تسکین کے لیے بہت ہی خوب تھیوری ہے، میرے ابا نے اسی تھیوری پر اپنی پوری عمر ہنسی خوشی گزار دی۔ ابا کولھو کے بیل کی طرح دن رات محنت کر کے پوائنٹ سکور کرتے رہے اور اس کے بدلے انھیں نئی اور بڑی کار مل گئی۔ چونکہ اب ان کے پاس بڑی کار تھی، گھر بھی اسی شان کا ہونا لازم تھا۔ انھیں گھر بھی مل گیا اور کنٹری کلب کی رکنیت بھی حاصل ہو گئی۔ چونکہ جاسپر صاحب کنٹری کلب کے رکن ہیں، ان کی بیٹی کو برائن مائر جیسے نامی گرامی کالج میں داخلہ بھی مل گیا اور اب وہ مارک ملر سے شادی کرنے کی اہل ہے۔ دوسری جانب، مارک ملر صاحب نے دن رات ایک کر کے، اسی طرح کی محنت کر پوائنٹس بنا کر ییل میں داخلہ لیا تھا۔ اب دیکھو کیا ہوتا ہے؟ مسٹر جاسپر کی بیٹی اور مارک ملر یہاں سے اپنے پوائنٹ خود بنانا شروع کر دیتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہمارے آباء کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔۔۔ وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔
نہیں مارک ملر۔۔۔ نہیں۔ تم ایک انتہائی غلط کھیل میں جوا کھیل رہے ہو۔ کوئی تمھاری زندگی کا ریکارڈ نہیں رکھتا۔۔۔ کوئی فائل نہیں بن رہی۔ نیوی میں تم اپنی ناک صاف رکھو یا نہیں۔۔۔ کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ جب تم بلخ پہنچ کر مترا کو چھوڑ دو گے تو تمھارا خیال ہے کہ تمھارا ریکارڈ رکھنے والی مقدس ذات کا ردعمل کیا ہو گا؟ تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمھیں اس کی سخت سزا دے گا اور تمھارا سکور زیرو ہو جائے گا کیونکہ تم ایک انتہائی برے آدمی ثابت ہوئے؟ دیکھو، ایسا کچھ نہیں ہے۔ پتہ کیوں؟ کیونکہ چلو مان بھی لیا کہ اگر کوئی تمھاری زندگی کا ریکارڈ رکھتا ہے۔۔۔ تو یقین کرو، وہ اپنے لنگوٹیے انسانوں کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہا ہو گا۔ وہ بھی کہتا ہو گا کہ اس ملر کو دیکھو۔۔۔ جب سے کاروان کے ساتھ شامل ہوا ہے، اس کی تو حالت ہی بدل گئی ہے۔ اس نے ایک دن آگے چل کر مترا کو چھوڑ دینا ہے۔۔۔ چلو، برا آدمی ثابت ہوا ہے لیکن ارے دیکھو، یہ تو سیانا بھی ہو گیا ہے۔ ملر۔۔۔ یہی اصل حاصل ہے اور صرف یہی حاصل ہے۔ بلخ پہنچ کر تم کاروان اور مترا کو چھوڑ دو گے۔ میں بھی کاروان کو پیچھے چھوڑ دوں گی لیکن فرق یہ ہے کہ تم صرف سیانا پن لے کر جاؤ گے اور میں اوٹو شواٹز کے ساتھ جا رہی ہوں!'
اس کی تقریر ختم ہوئی تو میں نے اپنے اردگرد اس ہال کو دیکھا جہاں اس وقت ہم بیٹھے تھے۔ میں سوچنے لگا کہ انھی بیابان جگہوں سے دنیا کو دانش اور علم ملا اور جب یہ جگہیں آباد ہوا کرتی تھیں۔۔۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ ہر سبق جو ان شہد کی مکھیوں کے چھتے نما غاروں میں پڑھایا جاتا تھا، دانش کا گوہر تھا۔ یہ گوہر یوں ہی حاصل نہیں ہوا بلکہ راہبوں نے دنیا تیاگ کر سالہا سال ٹھنڈے پتھریلے فرش پر جان اور دماغ کھپایا تھا۔۔۔ جبلت اور خواہشات کو مارا، تبھی تو ان کے ذہن کھل گئے اور نظر معاملہ فہم ہوئی۔ انھی اسباق پر عمل کرتے ہوئے انسانوں نے معاشرے تشکیل دیے، تہذیبیں بسائیں۔ لیکن ایلن؟ ایلن جو کہہ رہی تھی۔۔۔ اس کے مطابق تو ہر سبق، دانش کا سبھی گوہر باطل ہو جاتے تھے۔ دنیا میں جتنا بھی علم ہے، دانش اور سمجھ ہے۔۔۔ چاہے وہ بدھ مت، اسلام، عیسائیت یا یہودیت یا کسی بھی مذہب نے ہمیں سکھلائی ہے، سبھی نے ایک بہتر اور قابل قبول اختتام پر زور دیا ہے۔ سبھی مذاہب اور ہر دین نے معاشرے کو سنبھال کر، اس کی حفاظت کا پیغام دیا ہے۔ چاہے حالات کتنے ہی ابتر کیوں نہ ہو جائیں یا معاشرے تباہ و برباد کیوں نہ ہو جائیں۔۔۔ ظلم اور جبر کی انتہا بھی ہو جائے تب بھی معاشرے کے سدھار اور اس کی اقدار کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اب کوئی پوچھے، ایسا آخر کیونکر ممکن ہے؟ مجھ سے پوچھیں تو ایسا صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ انسانوں کا کوئی خدا ہوا کرے! کوئی برتر ذات ہونی چاہیے جو انسانوں کے افعال کا حساب، ریکارڈ رکھ سکے۔ بعض مذاہب، جیسے بدھ مت میں تو یہ برتر ذات خود انسان کا اپنا ضمیر، اپنی روح ہوتی ہے، اپنا آپ ہوتا ہے۔ اب کوئی خدا کی ذات ہو یا انسان کا اپنا آپ ہو۔۔۔ وہ نظر رکھے اور انصاف کرے۔ ویسے بھی، ہم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں اور ہماری نیت کو ہمارے سوا کون بہتر سمجھ سکتا ہے؟ بامیان کی وادی میں ان بیابان اور اجاڑ غاروں میں پڑھائے گئے اسباق پر مجھے پورا یقین تھا اور اگر ایلن جاسپر ان پر یقین نہیں رکھتی تو۔۔۔ مجھے اس سے ہمدردی تو تھی لیکن اس کی حالت پر ترس بھی آتا ہے۔
'کیا تم شواٹز کے ساتھ سوئی تھیں؟' میں نے فلسفہ ایک طرف رکھ کر سیدھا سیدھا پوچھا،
'نہیں، لیکن میرا ارادہ ہے کہ جب وہ چاہے گا، ہم۔۔۔'
'میرے خیال میں تم جانتی ہو کہ مترا کو یہ خوف ہے کہ ذوالفقار شواٹز کی جان بھی لے سکتا ہے۔۔۔ کیا پتہ وہ تمھیں بھی مار دے؟'
'اس سے ہم دونوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا!'
'تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن میرے لیے تمھاری حفاظت انتہائی اہم ہے۔۔۔' میں نے پھر سے اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا،
'واقعی؟ تم نے تو خود شواٹز کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی!'
'میں اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہوں۔۔۔!'
'ملر۔۔۔ میں تمھیں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میرے خیال میں، اس سفر کے دوران تم نے پہلی بار کوئی عقل کی بات کہی ہے۔ کیا تم سمجھ نہیں رہے کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟ میں یہی تو کہہ رہی ہوں کہ جیسے تم۔۔۔ ویسے ہی میں اور شواٹز بھی اپنی بدگمانیوں سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ ملر۔۔۔ یقین کرو، ایسا ہی ہے۔ ہمیں اس دنیا سے اب کوئی سروکار نہیں ہے اور اگر ذوالفقار ہم دونوں کو مار دے۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا!'
'تم دونوں کو بھلے کوئی سروکار نہ ہو۔۔۔ ذوالفقار کو تو ہو سکتا ہے کہ نہیں؟' میں نے پوچھا،
اس پر ایلن بجھ سی گئی اور بولی، 'یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اخلاقی طور پر مجھے نظراللہ کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہیے تھا لیکن پھر میں نے اپنے لیے اس کی بیوی اور بیٹی کا جواز تراش کر۔۔۔ وہ اس کا سہارا ہیں، میں نے جان چھڑا لی!'
'اب اس کا ایک بیٹا بھی ہے!'
'ہائیں؟ واقعی۔۔۔؟ کریمہ تو بہت ہی زیادہ خوش ہو گی!' وہ فرط سے بے اختیار رو پڑی، 'نظراللہ ہمیشہ بیٹے کی خواہش رکھتا تھا۔ اچھا سنو۔۔۔ مجھے یہ بھی اعتراف ہے کہ ذوالفقار کے ساتھ بھی میرا یہ سلوک روا نہیں ہے لیکن وہ مضبوط آدمی ہے، سہہ جائے گا۔ اس کا بھرا پرا خاندان اور قبیلہ ہے اور ایک کاروان ہے جو اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ لیکن پتہ، اوٹو شواٹز کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اس کی تو نوکری چھوڑو، جان بھی خطرے میں ہے۔ اگر ہم دونوں اپنی ساری حماقتوں اور کج رویوں کو پیچھے چھوڑ کر نیا جنم حاصل کر لیں تو بچت ہو سکتی ہے۔۔۔ مجھ سے پوچھو تو ملر۔۔۔ تمھارے، نظراللہ اور ذوالفقار جیسے لوگوں سے دنیا کو فائدہ اور نہ ہی نقصان ہے۔ تمھاری کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن مجھ اور شواٹز جیسے برباد اگر بگڑ گئے تو بہت نقصان ہو جائے گا لیکن اگر ہم سنبھل جائیں تو یقین کرو۔۔۔ دنیا جنت بن سکتی ہے!'
میں نے اس کے گھمنڈ پر توجہ نہیں دی اور پوچھا، 'تم جانتی ہو کہ شواٹز کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ کیا پتہ وہ اس کو پھانسی چڑھا دیں؟'
'ہاں مجھے پتہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کو اس وقت بھرپور ساتھ کی ضرورت ہے۔ تمھیں پتہ ہے کہ افغانستان کی سب سے اچھی بات کیا ہے؟ اس ملک میں بسر کرنے کا اصل فائدہ کیا ہے؟ یہاں ان لوگوں کو کوئی نہیں چھیڑتا جو اپنا آپ کھو چکے ہوں۔ یہاں مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ نہیں مارا جاتا۔۔۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے!'
'ہم بلخ پہنچے تو وہاں سے روس بہت نزدیک ہے۔۔۔ کیا پتہ روسی شواٹز کو اغوا کر لیں؟'
'مہذب قومیں ایسے کام نہیں کیا کرتیں۔۔۔' اس نے دلیل پیش کی جو انتہائی بودی تھی۔ میں نے سوچا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے تک وہ اپنی منشا کے فلسفے میں معاشرے کی ساخت اور تہذیب کے نظریے کو ہی رد کر رہی تھی اور اب دیکھو، اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے، اسی تہذیب کی چھایا چھتر میں پناہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ آخر یہ لڑکی کسی ایک طرف ٹکتی کیوں نہیں؟ یہ اس قدر غیر مستقل مزاج کیوں ہے؟
'تم بھول رہی ہو یا کیا اس نے تمھیں بتایا ہی نہیں؟ شواٹز نے اپنے سارے کاموں کا پورا ریکارڈ، تجربات کے نوٹس بنا کر رکھے تھے۔ وہ اپنے آپ کو سچا سائنسدان مانتا ہے جو ہر چیز کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ یقیناً انگریزوں کے پاس وہ سارا ریکارڈ پہنچ گیا ہو گا اور پتہ ہے۔۔۔ وہ نازیوں کے جنگی جرائم میں مطلوب بڑی مچھلی ہے!'
'ملر۔۔۔ تم نے میری ہی بات کی تصدیق کر دی ہے۔ وہ پہلے ہی اقبال جرم کر چکا ہے اور اس نے خود، اپنا آپ مار دیا ہے۔ میں نے بھی اپنی زندگی چھوڑ دی، پیاروں کو بھول چکی۔۔۔ میں بھی مر چکی ہوں۔ اب اگر میں زندہ رہنا چاہوں، مکتی پانے کی سعی کروں تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس باؤلی دنیا کے بگڑے ہوئے معاشروں کی تہہ میں رہوں۔ اس سڑی ہوئی جگہ میں جہاں چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی ہے لیکن اسی اندھیر نگری میں امید جنم لیتی ہے۔ کیا یہ اچھی بات نہیں ہے؟'
'نہیں!' میں نے فٹ کہا،
'یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ تم اس قدر کند ذہن واقع ہوئے ہو!' اس نے دکھ سے کہا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی، ہاتھوں سے دھول جھٹکی اور غار نما ہال کے دوسرے کونے میں جا کھڑی ہوئی، چوغا اپنے گرد یوں لپیٹا جیسے کوئی عالمہ ہو اور بولی، 'علم اور دانش کا دلدادہ، ہر وہ مخلص اور سیانا استاد جس نے کبھی اس جگہ قدم رکھا اور سبق پڑھایا، وہ اس وقت مجھے سنتا ہو گا اور گواہی دے گا کہ میری بات درست ہے بلکہ دیکھو۔۔۔ دیکھو وہ سب تالیاں بجا رہے ہیں۔ وہ سب جانتے ہیں کہ اگر معاشرہ گل سڑ جائے تو آدمی کے لیے آزاد رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ ایسے معاشرے کو رد کر دے۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی میں دوبارہ جنم لینے کے لیے بعض اوقات پیچھے مڑ کر اصلیت کی طرف لوٹنا پڑتا ہے، قدیم زمانوں کی گدلی دلدل میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ وہ استاد جو کبھی یہاں، اس جگہ کھڑے ہوئے۔۔۔' اس نے پیر سے پتھر کے فرش کو ٹھونک کر بات سمیٹی، '۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ میں درست کہہ رہی ہوں۔۔۔ صرف تم ہی میری بات سمجھنے سے قاصر ہو!'
یہ کہہ کر وہ مڑ کر جانے لگی تو بے اختیار ان غیر موئی اساتذہ اور عالمین کی جانب ہاتھ ہلایا جنھوں نے بدھ راہبوں کی کئی نسلوں کو اس پتھریلی چٹانوں میں بسی قدیم جامعہ میں زندگی اور تہذیب کا سبق پڑھایا تھا۔ وہ لوگ جو زمانے ہوئے، تہذیبیں بسا کر مر کر کھپ بھی گئے اور آج ان کو گزرے ہوئے کئی صدیاں بیت گئیں۔ وہ یورپ، امریکہ، ڈارسٹ، پنسلوانیا اور جدید دنیا کے وجود سے بہت زمانوں پہلے ہی چل بسے تھے۔ 'وہ میری بات ضرور سمجھیں گے!' اس نے سرگوشی میں کہا اور مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
۔کارواں (افغانستان کا ناول) - اگلی قسط 1 جولائی، 2017ء کو شائع کی جائے گی -

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر