وقت کی چڑیاں

ایک قضیہ ہے۔ وقت کی چڑیاں اڑتی جاتی ہیں اور سرے سے اس طور اور نہ ہی ان اطوار کا کچھ پتہ چلتا ہے۔ آپ ہی بتائیے، میں تو بھول بھی چکا ہوں کہ وقت کا اصل پیمانہ کیا ہے؟ مجھ سے کند ذہن کو سمجھنے کے لیے صرف یہ بتا دیں کہ آخر صبح کس وقت ہوتی ہے؟ کئی کئی پیمانے ہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو میرے لیے عام دنوں میں سویر سوا سات بجے الارم بج جاتا ہے۔ آنکھ کھل جائے تو صبح ہو گئی ورنہ نہ سہی، پونے آٹھ تو ضرور ہو ہی رہتی ہے۔ چھٹی کے دن صورت کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اکثر دن چڑھ کر دس بج جاتے ہیں لیکن صبح ہو کر نہیں رہتی اور اگر پہلے جاگ جاؤں تو پھر سمجھ نہیں آتی۔ یہ تو میرا قصہ ہے۔ آپ کی صبح کب ہوتی ہے؟ تو میرے خیال میں گھڑیوں کی ٹک ٹک اور الارم کی ٹیں ٹیں میں، یقیناً یوں ہی مجھ جیسی ہی ہوتی ہے۔ پرانے زمانے میں جب گھڑیال عام نہیں تھے، بدھ راہب مانتے تھے کہ صبح تب ہوتی ہے جب سویر کی لو میں ہاتھ کی ابھری ہوئی رگیں نظر آنے لگیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو قران میں تاکید کہ جب آسمان میں سیاہ اور سفید کے بیچ رنگ کی باریک پو پھوٹتے دیکھو تو سمجھ لو، صبح ہو گئی۔ صبح کے وقت کو تو چڑیوں کی چہچہاہٹ سے بھی جوڑا جاتا ہے اور کئی ایسے دیکھے جو چڑیوں کے چہچہانے سے قبل آنکھ کھولنے کو ایمان کا تول بنا کر بیٹھے ہیں۔ اچھا، اس کو چھوڑیں۔ وقت کا ایک دلچسپ پیمانہ یہ بھی ہے کہ اسے کام میں تولا جاتا ہے۔ مثلاً، 'کھانے میں مزید کتنی دیر ہے؟' جواب ملے گا، 'بس، پلاؤ دم پر ہے' مجھ سا پھوہڑ کیا سمجھے کہ پلاؤ کے دم کو کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟ حجام سے گلہ کریں، 'ارے بھائی، مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟' تو وہ فٹ کہے گا، 'سر، یہ آخری نمبر ہے۔ بس ان صاحب کی شیو بنانے کی دیر ہے!' آپ بتائیے، بھلے مانس آدمی کی اس گتھی کو کون سلجھائے؟
لیکن یہ بھی تو ہے کہ ایسی دنیا جہاں گھڑیوں کے الارم کی زبردستی نہ ہو، وہاں سارا کام وقت کی چڑیوں اور کام کو تول کر ہی تو لیا جاتا ہے۔ جہاں گھنٹوں اور منٹوں کی دوڑ نہیں ہوتی وہاں سورج اور چاند کی آنکھ مچولی، سمندری لہروں کی مدوجزر اور موسموں کا آںا جانا اور پلٹ کر لوٹ آنا ہی وقت کا اصل پیمانہ ہوا کرتا ہے۔ لوگ آسمان میں جھانک کر ٹھنڈے تارے سے موسم کا حساب لگاتے ہیں اور منزل کی سمت اور دوری کا پتہ قطبی ستارے سے ہی چلتا ہے۔ یہ اس دنیا کا قصہ ہے کہ جو ایک ہی وقت میں کئی طرح کے مداروں میں چکر کھاتی ہے جبکہ دن اور رات کا چرخ کاتا ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ گردش کا ایک چکر مسلسل ہے اور اس میں کوئی ردوبدل بھی نہیں ہے۔ یہاں انسان شمس اور قمر کے معمول میں اس قدر سختی سے جکڑا رہتا ہے کہ واقعی محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر کبھی یہ چکر ٹوٹ گیا تو سمجھ لیجیو، وہ دن بالضرور قیامت کا ہو گا۔
اصل بات یہ ہے کہ وقت اور انسان کا تعلق، چاہے اس کا پیمانہ کوئی بھی ہو۔ دراصل یہ نسبت نظم و ضبط اور کار دنیا کے تواتر کو ظاہر کرتی ہے لیکن وقت کی ہی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اس تعلق کو بھلائے بیٹھے ہیں۔ تہواروں کی بابت بات کر لیں۔ عیدین اور نو روز، ہولی اور کرسمس کا حال دیکھ لیں۔ ذرا سوچیں تو، عید اتنی پھیکی کیوں ہو گئی ہے؟صبح کو جاگے اور دو چار کے ساتھ عید مل کر سویاں کھائیں اور پھر سو گئے۔ جشن نو روز کا رنگ مدھم ہے۔ میلہ تو سجتا ہے لیکن نو روز مسلسل۔۔۔ اتنا وقت کون نکالے ہے؟ ہولی میں رنگ برنگ تو اڑتے ہیں لیکن اس کا اصل رنگ گم ہو گیا ہے اور یہ بس ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ کرسمس کا حال تو بد حال ہے۔ ہر برس شور پہلے سے بڑھ کر نظر آتا ہے لیکن سبھی جانتے ہیں کہ اس موقع کا سستی شاپنگ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہے۔ زمانے کی دھول میں ہوا یوں کہ وقت کے یہ سنگ میل بجھ چکے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ جب یہ تہوار انسانوں کے بیچ میل ملن، پیاروں کو دیکھنے کی خوشی کے گنے چنے مواقع ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہم کاروبار دنیا کو چھوڑ چھاڑ کر صرف انہی تہواروں پر، چاہے جیسے ممکن ہو، خصوصی طور پر بالخصوص ایک دوسرے کے لیے وقت نکال لیا کرتے تھے۔ ان تہواروں کی اصل روح یہی تھی کہ کچھ دن ہمارے اور صرف ہمارے پیاروں کے لیے ہیں۔ ہم ہر برس اعادہ کیا کرتے تھے کہ دیکھو، معاملات زندگی اور موسموں کے چکر میں کار دنیا اہم تو ہیں لیکن یاد رکھو، تعلق ناطے اور نباہ زیادہ اہم ہے۔ یہ بھولے بسرے زمانے کی باتیں ہیں جب سماج کا پورا ڈھانچہ ہی سرگزشت پر کھڑا رہتا تھا اور تب اہم واقعات، مواقع اور تہوار ہی وقت کا اصل پیمانہ ہوا کرتے تھے۔ مثلاً مجھ سے پوچھیں، ابا کو مرے آج بیس برس بیت گئے۔ بیس برسوں کو گھڑی کی سوئی پر تاڑوں تو ایسا لگتا ہے جیسے بھک سے اڑ گئے لیکن یہ میں اور میرا دل جانتا ہے کہ ان بیس برسوں کی اصل کارگزاری کیا ہے، زندگی کا کتنا بڑا حصہ بیتا لیا اور کیا کیا نہ دیکھ لیا؟ جب واقعات پیمانہ ہوں تو پھر وقت ٹھہرا، تھم تھم کر چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے ورنہ دوسری صورت، گھڑی پر تو جیسے بیس برس کا طویل عرصہ بھی ہوا کا ہوا لگتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے جینے کا وہ طریق چھوڑ کر گھڑیاں کیوں پہن لیں؟ آج ہم آسمان میں یا اپنے ہاتھ کی رگوں میں جھانک کر نہیں بلکہ گھڑی کے الارم بجے تو ہی آنکھ کھولتے ہیں۔ وہ جو ایمان کا پیمانہ ہوا کرتا تھا۔ بھئی، پرندوں کے چہچہانے سے پہلے جاگنے کی کس کو فکر ہے؟ آج سبھی کا ماننا ہے کہ بجلی، پریس اور نہ ہی ٹرین بلکہ میکانکی گھڑی اصل میں وہ ایجاد ہے جس نے اس دنیا کا رنگ بدل کر رکھ دیا ہے۔ باقی سبھی ایجادات نے تو صرف انسان کی طرز زندگی بدلی ہے، گھڑی نے انسان کو ہی بدل ڈالا۔ اس گھڑی نے ادوار کے نئے پیمانے بنا ڈالے اور اسی کی وجہ سے ایک نئی طرز کا نظام اور ضابطہ مقرر ہو گیا۔
پتہ کیا ہوا؟ گھڑی کی ٹک ٹک میں انسان کی سوچ یوں بدلی کہ ہر چیز بار آوری سے جڑ گئی۔ ہمارے لیے پیداروای صلاحیت ہی سب کچھ بن کر رہ گئی۔ یہ سب گھڑی کا کیا دھرا ہے۔ ہم ایک ایک منٹ کا حساب رکھنے لگے اور وقت بچانے کے لیے طرح طرح کے حیلے تلاش لیے۔ کام کرنے کا سارا طریقہ ہی بدل گیا۔ آج ہم ایسے جکڑے گئے ہیں کہ ہر شخص بیک وقت، جیسے پرانے زمانوں میں ہوا کرتا تھا۔۔۔ ایک دہقان جو صرف دن کی روشنی میں کام کیا کرتا تھا اور ایک گھریلو نوکر جس کے ذمے ہر وقت کوئی نہ کوئی کام لگا رہتا ہے، ان دونوں کا ملغوبہ بن چکا ہے۔ آخر کیوں؟ ہم نے کیوں طے کر لیا ہے کہ وقت قیمتی شے ہے؟ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ جتنا وقت لگاؤ، اتنی ہی پیداوار بڑھے گی، اتنا ہی زیادہ منافع ملے گا۔
آج ہفتے میں چالیس یا پچاس گھنٹے نوکری کا تصور ہے۔ یہ اسی جدید دور کی دین ہے ورنہ سنتے ہیں کہ پہلے پہل لوگ صرف وہی کام کیا کرتے تھے، جو وہ سمجھتے تھے کہ مکمل کرنا ضروری ہے۔ ایک ضروری کام نبٹاتے اور پھر دوسرے میں جت جاتے اور جب تک ایک کام ختم نہ ہوتا، دوسرے کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے یا اس کے لیے علیحدہ بندوبست کر لیا جاتا تھا۔ اب ہوا یوں کہ کام کی بجائے وقت پیمانہ بن گیا اور گھڑی سردار ہو گئی۔ آج لوگوں کو کام کی نہیں بلکہ وقت کی تنخواہ ملتی ہے۔ آپ کسی سے پوچھ لیں۔۔۔ بھئی تم نے کیا کیا؟ وہ جواب میں کہے گا، میں نے اتنے گھنٹے کام کیا یا کام کرتے ہوئے مہینہ پورا ہو گیا، اب مجھے تنخواہ ملے گی۔ ہاں، بعض لوگ کام کا معایدہ کرتے ہیں لیکن ادائیگی وقت کے حساب سے ہی کی جاتی ہے۔ تم یہ کام کرو لیکن ضروری ہے کہ اتنے دن میں مکمل کرو اور ہر دن کے تمھیں اتنے پیسے ملیں گے۔۔۔ چاروں طرف عجب ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ گھڑی نہ صرف یہ کہ وقت کا پیمانہ بن گئی بلکہ یہ روپے پیسے کا بیوپار بھی ہو گیا۔ یوں وقت بیش بہا قیمتی ہو گیا اور اس کی قدر دیکھیں، وقت کی قسمت میں سونے پر سہاگہ ہو گیا۔
کبھی ہیروں اور جواہرات کے محدود خزانے ہوا کرتے تھے، آج جس کو دیکھو وہی قیمتی وقت کی کمی کا رونا روتا ہے۔ ہم انسان کی وہ پیڑھی ہیں جس کے پاس سب کچھ ہے لیکن وقت نہیں ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر دم واقعات اور گھڑی کے پیمانوں کے بیچ چرے رہتے ہیں اور جیسے جیسے آگے بڑھ رہے ہیں، دونوں ہی پیمانوں پر ناکام ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ نوکری پیشہ خواتین کی حالت تو بالخصوص دیکھنے لائق ہے۔ وہ دن بھر دفتر میں سر کھپاتی ہیں اور گھر پہنچتے ہی دوسری شفٹ شروع ہو جاتی ہے۔ کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، دھلائی اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔ جو دفتروں کو نہیں جاتیں، وہ بھی روتی رہتی ہیں اور ان کا رونا بھی بجا ہے کہ ان کی تو دونوں شفٹیں گھر میں ہی لگتی ہیں۔ انہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ کسی پنجرے میں بند ہیں جہاں ان کو وقت کی آزادی میسر نہیں ہے۔ اچھا، ہم مرد بھی کونسا مزے میں ہیں؟ دفتر اور گھر میں بٹے رہتے ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ آج کے دن دفتر جائیں یا پچھلے برس مرے ہوئے چاچے کی خیرات کھائیں؟ دکان اور دفتر سے جان چھوٹے گی تو شام میں منے کی سالگرہ منائیں گے۔ ارے، اتوار تو آرام کا دن ہوتا ہے لیکن شادیوں نے ناک میں دم کیوں کر رکھا ہے؟ ہر شخص جلدی میں ہے اور جس کو دیکھو وہی پریشان ہے۔ میری رائے میں یہ اس دور کی اصل بیماری ہے۔ وقت کی کمی کا رونا عام ہو چکا ہے اور ہم میں سے تقریباً لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ آج چوبیس گھنٹوں کے دن میں وہ پچیسواں گھنٹہ ہی نہیں ہے کہ جس کی ہمیں ہر وقت اشد ضرورت رہتی ہے۔
ایسی حالت میں پھر کیا کریں؟ وقت ایسی چیز تو نہیں ہے کہ فیکٹری لگائی اور بہت سا وقت بنا لیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے ایسا ہی کیا ہے یا کہیے، اس کا کلیہ یہی ہے۔ ہم اپنے جانے مانے، ہر دور کے شہرہ آفاق طلب اور رسد کے فارمولے کو کام میں لائے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ جب وقت کی کمی کا سامنا ہوا تو ہم نے یہ وقت اپنے معمولات کو کھود کھود کر رات میں سے نکالنا شروع کر دیا۔ یوں، چوبیس گھنٹوں جاگنے والے پہلے شہروں نے ایسے ہی جنم لیا۔ شہر چھوڑو، آج تو قصبات بھی دن اور رات، ہر وقت جاگتے رہتے ہیں۔ ایسا آج ہی نہیں ہوا، پہلے بھی ہو چکا ہے۔ پرانے زمانے میں ہی ایک نجومی نے فرعون وقت سے کہا کہ تمھاری زندگی کا خاتمہ قریب ہے۔ تم زیادہ سے زیادہ مزید صرف چھ سال ہی جیو گے۔ یہ سنتے ہی فرعون نے حکم جاری کیا تھا کہ شام ہوتے ہی اس کے محل میں ہر طرف آگ جلا کر روشنی کر دی جائے۔ یوں، اس کے چھ سال بارہ ہو گئے۔
یوں جب وقت کمیاب ہو جائے تو رات اس کا زریعہ بن جاتی ہے۔ رات کے اندھیروں میں سے وقت نکالنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم وقت ایجاد کر رہے ہیں بلکہ ہم نے اس چوری چکاری کا بیانیہ یہ بنا دیا ہے کہ اصل میں وقت کی قدر کرتے ہیں۔ ہم خود کو یہ پڑھائے بیٹھے ہیں کہ اس طرح وقت کو کارآمد بنا رہے ہیں اور یوں یہ جو دن اور رات کا گھن چکر ہے، اس کی زنجیروں سے آزاد ہو رہے ہیں۔ ویسے سننے میں یہ اچھا خاصا، معقول بیانیہ ہے۔
لیکن چوبیس گھنٹوں جاگنے سے مراد صرف شاپنگ مال اور پلازوں کو ہر وقت کھول کر رکھنا ہی نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہے کہ رات بھر ٹریفک چلتی رہے اور سڑکوں پر چھن چھن روشنی گرتی رہے۔ یہ دراصل دنیوی نظام کو پوری طرح نئی شکل دینے کے مترادف ہے۔ ابھی تو صرف شروعات ہیں لیکن میرے خیال میں ایک وقت ایسا آئے گا جب ہمارے روزمرہ کے معمولات بھی بدل کر رہ جائیں گے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ہر وقت سر پر ٹنگی ہوئی ڈیڈلائنیں اور دفتری اوقات کی تلواریں بھی ہٹ جائیں۔ مثلاً، کچھ تو ابھی سے آس پاس ہو بھی رہا ہے۔ دفتر کی وجہ سے چیک کیش نہیں کروا پائے؟ ارے کوئی بات نہیں۔۔۔ اے ٹی ایم تو چوبیس گھنٹوں کھلا رہتا ہے اور انٹرنیٹ پر بینک؟ وہ تو انگلی کے اشارے پر ہے۔ مراد یہ ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اس طرح بہت سی سہولتیں پیدا کرتے جائیں گے اور کار دنیا جیسے اڑنے لگے گا اور وقت؟ وقت مزید کمیاب ہو جائے گا۔
وقت کو تولنا ہو تو کبھی واقعات کا پیمانہ ہوا کرتا تھے، پھر تول مہینوں اور ہفتوں تک آ گیا تھا۔ ایک لمبے عرصے تک دن اور رات کے گنے ہوئے پہروں کا تصور تھا لیکن آج شہروں میں ہماری زندگی چوبیس گھنٹے، وہ کیا خوب ہوتا ہے۔۔۔ 'ٹو فور سیون' جاگتی رہتی ہے۔ آگے آگے دیکھیے، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہم چوبیس گھنٹوں کے تصور سے بھی آگے بڑھ جائیں اور وقت کا پیمانہ پوری طرح بدل جائے۔ مثلاً ایک تجویز تو یہ بھی سنی کہ کیوں نہ ہم دن کو اٹھائیس گھنٹوں میں ڈھال دیں۔ اس طرح سوموار ختم ہو جائے گا۔ ویسے بھی سوموار کس کو پسند ہے؟ چار دن معمول کے مطابق ڈٹ کر دس گھنٹے دفتری کام کریں اور یوں لے دے کر آخر میں چھپن گھنٹے کا ویک اینڈ سالم ثبوت بچ جائے گا۔ اٹھائیس گھنٹے کے دن سے مسئلہ یہ ہو گا کہ جمعرات کو سارا دن اندھیرا چھایا رہے گا لیکن یہ تجویز پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ اس دن دفتر بند اور ہم صرف گھروں میں رہ کر مزے کیا کریں گے۔
یہ تجویز تو اچھی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حیاتیات ایسی نہیں ہے۔ کلائی پر بندھی گھڑی اور ہمارے جسم کی گھڑی میں فرق ہے۔ ہمارے جسم کی گھڑی زمین کی چوبیس گھنٹوں کی دن اور رات گردش کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس میں لے دے کر، زیادہ سے زیادہ انیس بیس یعنی چند منٹوں کا فرق آ سکتا ہے۔ ہم اپنی ساری زندگی مصنوعی روشنیوں میں بسر نہیں کر سکتے اور ہر وقت گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہمیں نیند کی ضرورت پڑتی ہے اور آپ دیکھ ہی سکتے ہیں، رات کو سکرینوں کی نیلی روشنی سے چھوٹتے ہی سوئیں تو کیسے کیسے مسئلے پیدا ہو گئے ہیں؟ صرف ہم ہی نہیں بلکہ سبھی جانداروں کا یہی طور ہے۔ ہم سب کرہ ارض کے شمسی چکر کے ساتھ جڑے ہیں۔ یہ چکر نہ صرف ہماری فزیالوجی بلکہ رویوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور ہم پہلے ہی چوبیس گھنٹوں کے چکر میں اچھی خاصی مشکل کا شکار ہیں۔ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا آپ فارمی مرغیوں جیسا بنا لیا۔ جیسے فارمی مرغیوں کو زیادہ سے زیادہ انڈے دینے کے لیے ٹیوب لائٹ کی سپید دودھ جیسی روشنی کا عادی بنایا جاتا ہے، ہم نے خود کو بھی آہستہ آہستہ ویسا ہی پا لیا ہے۔ یہ کیسا ظلم کیا ہے؟ خود کو تو برباد کر دیا، مرغیوں کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا۔
اچھا، گھڑی نے تو ہم انسانوں کا وہ حال کیا ہے لیکن یہ روشنی کا قصہ، اصل میں بجلی کی کارستانی ہے۔ وہ بھی سن لیجیے۔ جب سے بجلی ایجاد ہوئی ہے، ہم انسانوں کو روشنی کا دھوکہ کیا ملا، بس برے دن شروع ہو گئے۔ ہماری صحت برباد ہو گئی اور اعصابی نظام بھی آہستہ آہستہ جواب دیتا جا رہا ہے۔ میں نے ایک دفعہ عرض کیا تھا کہ کراچی سے مجھے خوف آتا ہے کیونکہ یہ شہر دن اور رات، ہر وقت جاگتا رہتا ہے۔ میں اسلام آباد میں بسر رکھتا ہوں۔۔۔ آپ بڑے شہروں کے رہنے والے، مجھ ایسوں پر ہنستے ہیں کہ اسے دیکھو، یہ پہاڑیا سر شام ہی سو جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ارے کہاں؟ بات صرف اتنی ہے کہ آپ رات بھر ویسے جاگ کر ہلکان رہتے ہیں لیکن میں اپنے تئیں ہر روز رات کو تہیہ کرتا ہوں اور ناکام رہتا ہوں کہ آج رات جلد اور خوب سو لوں تو کیا خبر، کل صبح میری آنکھ الارم کی زبردستی سے نہیں بلکہ وقت کی چڑیوں کی چہچاہٹ سے، بلکہ اس سے بھی پہلے کھل جائے؟ اسی کشمکش میں رات آدھی سے بھی زیادہ بیت جاتی ہے۔
اب تو جی اس حال کو پہنچ گیا ہے کہ اندھیرا گہرا ہوتے ہی سو جائیں یا پو پھوٹنے سے بھی قبل جاگ جائیں۔۔۔ اس کو ایسا کچھ یاد نہیں ہے۔ بس گھڑی کی سوئی ٹک ٹک کرتی رہتی ہے اور ایسے میں اردگرد چھوٹی بڑی سکرین، اور کئی روشنیاں ٹم ٹم کرتی رہتی ہیں۔ ایسے میں جانے کب آنکھ موندھ جاتی ہے اور پھر سویر گھڑی کی ہی ٹک ٹک کے ساتھ کھل بھی جاتی ہے۔ اس کے سوا اب میرے جی کو کچھ یاد نہیں ہے۔ دوا اور نہ ہی دعا۔۔۔ کچھ بھی تو یاد نہیں ہے۔ بس وقت کی چڑیاں ہیں، جو پھڑپھڑ کرتی، شور مچاتی ہوئی ہاتھوں سے اڑتی جاتی ہیں۔ یہی قضیہ ہے۔۔۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر