ایک بات

یہ کچھ دن قبل کی بات ہے۔ میں دفتر کی بالکونی پر کھڑے وقت کو کسی نہ کسی طور شام کی جانب دھکیل رہا تھا۔ بھئی، تو اور کیا کرتا؟ مہینے میں کئی بار ہر شے سے جی اس قدر اچاٹ ہو جاتا ہے کہ پورا دن گزار دیتا ہوں اور کام کا تنکا ادھر سے ادھر ہل ہی نہیں پاتا۔ لیکن پھر دو چار دن ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنوں طاری ہو جائے تو کئی ہفتوں کا دھر کر جمع کام تین گھنٹوں میں نبٹا کر پریشان ہوتا رہتا ہوں۔ ہم سب کے پیارے انور صاحب کے منہ سے نکلی بات کہ، 'سوچی پے آں، ہن کی کرئیے؟' عجیب مخمصہ ہے۔
خیر، میں کہہ رہا تھا کہ کچھ دن قبل کی بات ہے۔ ہمارے عزیز، ریاض شاہد صاحب نے اسی وقت فون پر آن لیا۔ چھوٹتے ہی پوچھنے لگے، 'ارے بھائی، کہاں ہو؟' مجھے شک گزرا کہ حضرت شہر اسلام آباد میں ہیں اور بالضرور ملنا چاہیں گے۔ میں فوراً ہی سوچنے لگا کہ بہانہ کیا کروں؟ خدانخواستہ ملاقات سے کنی کرنا مقصد نہیں تھا ۔ اصل بات یہ تھی کہ اس روز میں نے شام کا پہلے ہی کسی سے نباہ کر رکھا تھا۔ انھیں اور نہ ہی انھیں، ٹالنے کی صورت نہیں تھی۔ بہرحال بچت یوں ہوئی کہ پوچھنے پر ہی پتہ چلا کہ جناب بہاولپور میں ہیں اور انھیں بھولی بسری کوئی یاد آ گئی۔ سو فون ملائے بیٹھے ہیں۔ یقین جانیے، دل شرم سے گھڑوں پانی میں ڈوب گیا۔ میرے اندر کی بات تو یہ ہے کہ یاروں کی اس قدر دانی کا مول مجھ سا عامی کبھی سمجھ ہی نہیں پایا۔ بدیر ہی سہی لیکن جب سمجھ آئی تو منیر نیازی صاحب کی کہی کیا خوب ہے کہ، 'ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔۔۔'
خیر، بعد اس تسلی کے خوب گپ شپ رہی۔ انھوں نے دو چار جملے کسے، میں نے بھی جواباً بخشا نہیں۔ یعنی اچھی بیٹھک رہی۔ پھر لے دے کر وہی پرانا قصہ آن شروع ہوا۔ انھیں گلہ تھا کہ وہ جو کبھی لکھا کرتے تھے، اب ہم سب ہی، کچھ لکھتے ہی نہیں ہیں۔ میں نے بھی موقع تاڑ کر پھبتی کس دی۔ کہا کہ صاحب، وہ لکھنے والے ہوا اس لیے ہو گئے کیوں کہ انھیں سمجھ آ چکی ہے کہ یہ کام ہوائی ہے۔ کہو تو  یہ ایک لاحاصل شے ہے اور خواہ مخواہ کی چخ چخ ہے۔ جنگل میں مور نچانے کے مترادف، بھینسوں کو نہلانے کی بجائے ان کے آگے بین بجانے کی مثال ہے۔ ایسے میں ذکر علی حسان کا بھی بیچ میں آ گیا۔ پتہ چلا کہ موصوف آج کل بہاولپور کی جامعہ اسلامیہ میں بچوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں اور ریاض شاہد صاحب سے ملاقات بھی نہیں کرتے۔ علی، کبھی کبھار ان سے ملاقات کے لیے چلے جایا کرو۔ علی کی غیبت کچھ یوں باندھی کہ میں نے اسی کی مثال دے ڈالی۔ لاجواب کرنے کی کوشش کی، 'دیکھیں تو۔۔۔۔ وہ بھی اب لکھنے وغیرہ کی عیاشی نہیں کرتا۔ وجہ یہ ہے کہ اس کو اب واقعتاً کوئی مقصد کا کام کرنے کو مل چکا ہے۔ پہلے پڑھائی کیا کرتا تھا۔۔۔ یعنی فارغ ہی تھا تو ایک کتاب بھی چھاپ دی تھی۔ اب تو اس کے اندر کا شیطان بھی مر چکا ہے'
بھئی، اس قصے کو مزید رہنے دیں۔ علی کے سوا بھی کئی دوسرے یار غاروں کا ذکر ہوا۔ ان سب کے بارے بھی ہم دونوں نے مل کر خوب ہنسی مزاق کیا۔ بات خود سے چلی تو اسی کال میں، میں نے اپنے دل کی بات بھی کہہ دی۔ وہ کچھ یوں ہے اور احباب بھی سن لیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے سر پر ادب کا بھوت سوار رہا۔ کہانی لکھی، خاکے کھینچے، مضامین اور پتہ نہیں کیا الا بلا۔۔۔ دو چار کتابیں، جن میں ایک ناول بھی شامل تھا۔۔۔ ترجمہ کر ڈالیں اور پھر وہ ماخوذ کہانیاں بھی تو پلے میں ڈال دیں۔ اب بلاگ پر تحریروں کی بہتات ہے اور اس میں اپنا آپ ناک تک ڈوب چکا ہے۔ اس قدر کہ سانس بھی دشوار ہو چکی ہے۔ کئی برسوں کی اس کوفت کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ بہت اچھا کام کر ڈالا لیکن ہوا کیا؟ ہوا یہ ہے کہ لوگوں کو اچھی اچھی چیزیں پڑھنے کو مل گئیں لیکن میں نے اس سارے معاملے کو اپنے آپ کے لیے خواہ مخواہ ہی پیچیدہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ارے بھائی، کیا لکھتے ہو؟ کیوں لکھتے ہو؟ اپنے دل کا حال لکھنا تھا، یہ کس سمت چل پڑے ہیں؟
اصل بات یہ ہے کہ یہ لکھا تو اصل میں میری شبیہ ہے۔ کیا بتاوں؟ زندگی کا بھی یہی حال ہوا ہے۔ اب پیچھے مڑ کر چار چھ برسوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ کیسی اجاڑ کٹیا بنا رکھی ہے جس میں ہر وقت بسیرا رکھتا ہوں۔ بھئی، کون سا جھمیلا ہے جس میں خود کو نہیں گھسیٹ لیا؟ پچھلے چار برسوں میں گلابوں کی چاہ میں خود کو کانٹوں سے لیر لیر کر کے رکھ دیا۔ اپنا اندر خونم خون کر دیا۔ کیا تھے اور خود سے کیا بنا ڈالا؟ اتنی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں کہ اب تو بس خدا کی پناہ ہے۔ خدا کی بھی سن لیں۔ اس دوران خدا کو بھی نہیں بخشا۔ اس کے سادہ تصور کو بھی اپنے لیے اس قدر الجھا دیا ہے کہ دل اور دماغ کو اس عقل کی سخت خاردار تاروں کے دیے ناسوروں سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا۔ اب سوچتا ہوں کہ کسی روز خدا کے نام ایک خط میں یہ سارا احوال لکھ بھیجوں۔ ایسا خط جو سند رہے اور اگر کسی دن قیامت آ گئی تو تب، بوقت ضرورت، یہی کام آئے گا۔ لیکن کیا کیا جاوے، اس خدا کو تو راضی کر لوں، یہ زمینی خداؤں کو کہاں لے جاؤں؟ یہ تو مجھے چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
قصہ مختصر، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی شہ پارہ تخلیق کرنے کی ہر گز کوشش نہ کروں۔ گلابوں کی چاہ میں کانٹوں سے خود کو مزید، لہولہان نہ کروں۔ میرا جی ہے کہ ان پیچیدگیوں سے نکلا جائے اور اپنے واسطے کچھ آسانی پیدا کی جائے۔ صلہ عمر پر بس وہی، صرف عمر کا صلہ لکھ بھیجا کروں۔ ان لوگوں کا ذکر بھی کیا کروں جو بہت ہی پیارے ہیں اور وہ بھی تو ہیں جنھیں کبھی ہم پیارے رہ چکے ہیں۔ ان صفحوں پر 'تماز' کی تمازت بکھیرا کروں، اس کا لاڈ سنایا کروں۔ ان پھولوں کو شمار کیا کروں جو میری زندگی کو معطر کیے ہوئے ہیں۔ ان قدردانوں کا جی سے لگاؤ بتایا کروں جو کسی طور گرنے نہیں دیتے۔ پھر قریے قریے سفر کا احوال لکھا کروں، چھوٹے بڑے ان شہروں کا نام لیا کروں جہاں سے ہر روز گزر ہوتا ہے۔ دن اور رات یوں ہی تو نہیں بیتا کرتی، اس روز و شب کے چکر میں زندگی قید ہے۔ اس زندگی کو صفحے پر اتار کر آزاد کیا کروں۔ دل پر جو ہمیشہ سے بھاری بوجھ ہے، وہ ہی ہلکا دیا کروں۔ اس بے چینی کو، جس کے سہارے میں لکھا کرتا ہوں۔۔۔ اسے سہلایا کروں۔ وہ جو سینے پر ایک بہت ہی پرانی سل سی دھری ہوئی ہے۔۔۔ پہلے پہل میں سوچتا تھا کہ شاید لکھنے سے اٹھ جائے گی۔ اچھا نہ سہی، تھوڑی سرک تو جائے گی۔ کچھ تازہ ہوا کے جھونکوں کے لیے راستہ بنایا کروں تو ہی صاحبو، اندر کی سرانڈ نکلے گی اور پھر ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ آہستہ آہستہ، ہمارا اندر بھی دوبارہ مہکا کرےگا، جیسا کبھی رہا کرتا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ رومی کا کہنا بجا تھا کہ دیکھو تو، زندگی بانہیں کھولے کھڑی ہے۔ تم خواہ مخواہ کیوں خود کو اس پنجرے میں بند کیے بیٹھے ہو جس کا دروازہ بھی آنکھوں کے سامنے وا ہے؟
آج کا حرف آخر یہ ہے کہ بہت پہلے میں نے جعفر سے کہا تھا کہ مجھے لکھ کر خوشی ملتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اسے بتایا کہ لکھنا میری مجبوری بن چکی ہے۔ اب یہ خیال ہے کہ اس لکھے کا تعلق کسی دوسرے سے نہیں ہے بلکہ صرف مجھ سے ہے۔ آپ اس لکھے کو پڑھا کریں گے تو آپ کے لیے یہ کوئی اچھی اور نہ ہی بری بات ہے۔ یہ تو بس ایک بات ہے۔۔۔ اور میرے لیے یہی اصل بات ہے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر