کمرہ

یہ ایک ہوٹل کا چوکور کمرہ ہے۔ اس کمرے کے دو دروازے ہیں۔ پچھواڑے کا دروازہ اندر کی جانب کپڑے ٹانگنے کی الماریوں، بیگ دھرنے کو شیلف، ایک سیف بکس اور غسل خانے کی جانب کھلتا ہے۔ دوسرا دروازہ داخلی ہے اور باہر کی جانب بالاخانے پر کھل جاتا ہے جہاں سے باغیچے کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ کمرے میں ایک کھڑکی ہے جو آدھی دیوار پر محیط ہے اور باہر کا نظارہ دکھاتی ہے۔ اس کھڑکی میں بہت دور سے چھن چھن کر آتی ہوئی شہر کی روشنیاں نظر آتی ہیں۔ سونے سے قبل میں پردے گرا دوں گا۔ سویر خواہ مخواہ روشنی سے پریشانی ہو گی۔
اس چوکور کمرے کی دیواریں چار ہیں اور چاروں بوجھل ہیں۔ سفید رنگ کی دیواریں جن پر کوئی پینٹنگ نہیں ہے۔ ایک وال کلاک ٹنگی تھی جو میں نے آتے ہی اتروا دی۔ ٹک ٹک سے سر پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ سر کے اوپر ایک چھت ہے جو پتہ نہیں کیوں مجھے تو لمبوتری ہی معلوم ہوتی ہے۔ اس چھت پر ایک ساکت پنکھا ٹنگا ہوا ہے اور فائر الارم کی سرخ بتی وقفے وقفے سے ٹمٹماتی ہے جو الگ سے کوفت ہے۔ بغل کی دیوار میں ایک اے سی ہے جو سردی میں ہیٹر کا کام بھی کرتا ہے۔ میں نے اسے بیس درجے پر چلا رکھا ہےلیکن میرا خیال ہے کہ اگر سولہ درجوں پر چلائے رکھوں تو ہی سردی کا احساس ہو گا اور پھر بستر کی گرمی کا بھی یوں ہی پتہ چلے گا ورنہ باہر کی نسبت تو اب بھی یہ بھانبڑ جیسا ہے۔ کمرے سے باہر خاصی سردی ہے، غالباً صفر سے نچلے درجوں میں ہو گی۔
کمرے کے سامان کی سنو۔ یہاں چار لیمپ ہیں جو پیلی روشنی میں جلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ زرد بلب جیسی روشنی نہیں ہے بلکہ چھنی ہوئی، ہلکی اور نرم لو ہے۔ جیسے موم بتیاں ہوتی ہیں۔ تین کرسیاں اور دو سنگل بیڈ ہیں۔ دو میزیں، ایک سنگھار میز اور ایک کافی ٹیبل ہے۔ کافی ٹیبل کو اردو میں کیا کہتے ہیں، مجھے علم نہیں ہے۔دو چھوٹی میزیں ہیں جن پر ایک پلیٹ میں دو کیلے اور ایک سنگترہ رکھا ہوا ہے۔ چائے کی خالی پیالی اور چینی کے چند چھوٹے پیکٹ ہیں۔ سامنے کی دیوار پر ایک ٹی وی ٹنگی ہوئی ہے۔ میں ٹی وی نہیں دیکھتا۔ یہ بے کار کا مشغلہ ہے۔ ٹی وی کے نیچے منی بار کی سنو۔۔۔ اس میں چاکلیٹ اور کوک بھری ہوئی ہے۔ ٹی وی کے ساتھ ساتھ اسے بھی آج تک کبھی کھول کر نہیں دیکھا۔ ایک سنگھار میز ہے جس پر پانی کی دو بوتلیں ہیں اور قبلہ نشان بھی بنا رکھا ہے۔ ٹی وی اور منی بار کی طرح کبھی قبلہ نشان کا استعمال نہیں کیا۔ سنگھار میز پر تازہ پھول دھرے ہیں لیکن ان میں خوشبو نہیں رہی۔ پھولوں کے گلدانوں کے ساتھ ہی نیوز ویک کا تازہ شمارہ پڑا ہے جسے شام کے وقت ہی گھول کر پی چکا ہوں۔ یہیں ریستوان کا مینو کارڈ بھی ہے اور چند پمفلٹ وغیرہ پڑے ہیں۔ فرش پر گہرے سرخ رنگ کی کارپٹ بچھی ہے جس پر نفیس کڑھائی جیسی سفید گل کاری کر رکھی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ایرانی قالین ہو لیکن اصل میں یہ مشینی کارپٹ ہے۔
یوں، کہو تو کمرے میں کسی گھر کو سمونے کی کوشش کر رکھی ہے لیکن اس کمرے میں گھر جیسی کوئی بات نہیں ہے۔
اچھا ٹھہرو یہ سنو۔۔۔ میں پردے گرانے اٹھا ہوں تو کئی گھنٹوں میں پہلی بار یہ انکشاف ہوا ہے۔ بیڈ کے سر کے جانب، بالکل اوپر یعنی پشت کی دیوار پر ایک پینٹنگ ہے۔ میں نے غور سے اس پینٹنگ کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ غالباً شفتال آڑؤں کے کسی باغ کی منظرکشی ہے جو وادی کی خاص سوغات ہیں۔ یہ ہر گز متاثر کن پینٹنگ نہیں ہے یا شاید میرا ہی دھیان بٹا ہوا رہتا ہے۔  سوچوں نے خواہ مخواہ گھیر رکھا ہے اور یہ کمرہ ایسا لگتا ہے جیسے سائیں سائیں کرتا ہو۔
مجھ سے پوچھو تو ہوٹل کا یہ کمرہ ہم انسانوں کے اندر جیسا ہے۔ یہ بھرا پرا اور سجا ہے لیکن پھر بھی خالی لگتا ہے۔ میں نے آج تک ہوٹل کے کمروں اور انسانی روح کے ویرانوں سے زیادہ افسردہ جگہ کوئی دوسری نہیں دیکھیں۔۔۔ اس کمرے میں بھی تو مثل حسن کی بناوٹ اور حقیقت کی بیگانگی ہے۔ اس کے سوا باقی کیا رکھا ہے۔۔۔؟

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر