تین کہانیاں

پہلی کہانی: خدا کے بارے
یہ کہانی سنیں۔ یہ بیٹھے بیٹھے دماغ میں جھماکے کی صورت وارد ہوئی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ میں کسی روز اس کہانی کو کام میں لا سکوں یا شاید ایسا نہ ہو؟ بلکہ اس کے مصرف کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ جب آپ یہ کہانی سنیں گے تو آپ بھی مجھ سے اتفاق کریں گے۔ امید ہے، آپ سمجھ پائیں گے کہ آخر اس کہانی کا کوئی مصرف کیوں نہیں ہے؟ میں تو ہر وقت نت نئی کہانیاں سوچتا رہتا ہوں لیکن انھیں کبھی لکھتا نہیں ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی سبھی کہانیاں عجیب و غریب معلوم ہوتی ہیں۔
یہ کہانی ایک چھوٹی سی فیملی کے بارے ہے جو موٹر کار میں سوار کسی ملک میں، کہو۔۔۔ یوگوسلاویہ کے شہری علاقوں سے دور دیہی علاقے کی جانب سفر کر رہی ہے۔ آپ اپنی سہولت کے لیے اس فیملی کو جس طرف چاہیں، روانہ سمجھ لیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ یوگوسلاویہ سے یورستے کا سفر کر رہے ہیں۔ یورستے آسٹریا کی سرحد کی جانب ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ فیملی آبیلا کی جانب جانے والی ایک چھوٹی سڑک پر محو سفر ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ یہ دونوں علاقے ایک جیسے ہی ہیں اور اس کہانی میں فیملی کے سفری ارادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
آپ اصل کہانی سنیں۔ اصل کہانی یہ ہے کہ سفر کے دوران پوری فیملی نے ایک ساتھ اچانک اور ایک ہی طرح کی چیز نوٹ کی ہے۔ معاملہ یہ کہ سڑک کے دونوں اطراف میں دوڑتے ہوئے ہرے بھرے کھیتوں میں خرگوشوں کی ایک بہت بڑی تعداد ، ہزاروں کے اعداد میں نظر آ رہی تھی۔ محسوس یہ ہوتا تھا کہ ارد گرد، جہاں تک نظر دوڑائی جائے۔۔۔ خرگوش ہی خرگوش نظر آ رہے تھے۔ گویا، ساری دھرتی خرگوشوں سے بھری ہوئی تھی۔ حیرانگی کے اسی عالم میں سفر جاری رہتا ہے۔ اول ہزاروں خرگوش تھے لیکن پھر اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہوئی کہ جوں جوں موٹر گاڑی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ خرگوشوں کی تعداد بھی گھٹتی جا رہی تھی لیکن ان کا حجم اور وزن بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ نسبتاً بڑے خرگوش بھی پہلے نظر آنے والے عام خرگوشوں جیسے ہی تھے۔ نرم مزاج اور شرمیلے وغیرہ لیکن جیسے جیسے موٹر کار آگے بڑھتی گئی، خرگوشوں کی تعداد میں کمی آتی چلی گئی جبکہ حجم اور وزن بڑھتا گیا۔ موٹر کار میں بیٹھے ہر شخص کے لیے اب چند میل قبل تک نظر آنے والی خرگوشوں کی تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی تھی بلکہ ان سب کے لیے خرگوشوں کے وزن اور حجم سے متعلق، یہ واحد لیکن انتہائی پریشان کن بات تھی۔ تبھی، موٹر کار میں بیٹھی فیملی میں سے صرف ایک شخص نے اس معاملے پر واضح اور جامع تبصرہ کیا جو حالات کو واضح کر رہا تھا۔ اس نے ایک بات کہی جو پہلے ہی سب کو معلوم تھی لیکن اس سے پہلے کسی نے اپنے کانوں سے سنی نہیں تھی۔ یہی بات اس کہانی کا اصل اور مرکزی نکتہ ہے۔ اس شخص نے کہا، ' کیا تم نے دیکھا کہ خرگوشوں کا حجم اور وزن بے تحاشہ انداز میں، جیسے ایزادی ہو۔۔۔ بڑھتا ہی جا رہا ہے؟ دیکھو، جوں جوں خرگوش قد کاٹھ میں بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔ ان کی تعداد گھٹتی ہی چلی جا رہی ہے'
مختصراً کہو تو اس شخص نے موقع کی مناسبت سے انتہائی منطقی اور معقول بات تھی اور یہ حالت صاف ظاہر بھی تھی لیکن سوائے ایک، کسی دوسرے کو یہ بات کہنے کا خیال نہیں آیا۔
چند کلومیٹر مزید چلے تو کیا ہوا؟ اب خرگوشوں کی تعداد ہزاروں سے گھٹ کر سینکڑوں تک پہنچ گئی تھی۔ اس سے بھی مزید آگے بڑھے تو دیکھا، اب خرگوش درجنوں کی تعداد میں تھے اور جسامت گائیوں جتنی بڑی ہو چکی تھی۔ کچھ اور دور جا کر تو ہر خرگوش کا سائز ہاتھی جتنا نظر آنے لگا لیکن شمار اب ہاتھوں کی انگلیوں پر ہو رہا تھا۔ وہ جگہ جہاں پہلے سمجھو، سو خرگوش سماتے تھے اب اکا دکا ہی پوری جگہ گھیرے ہوئے تھے۔ یہ کہانی اسی طرح کلومیٹر در کلومیٹر آگے بڑھائی جا سکتی ہے لیکن بات یہ ہے کہ ہر کہانی کی طرح اس کہانی کا اختتام بھی ناگزیر ہے۔
چنانچہ، موٹر گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی ایسی جگہ جا پہنچی جہاں سڑک ختم ہو گئی تھی۔ اب اس چھوٹی سی فیملی کی آنکھوں کے سامنے کھلا اور وسیع لیکن انتہائی ہرا بھرا، بہت ہی خوبصورت میدان تھا۔ اس میدان کے وسط میں ایک اور صرف ایک۔۔ بہت بڑا، بہت ہی بڑا بلکہ سب سے بڑا خرگوش تھا جس کے کان سفید بادلوں سے بھی اونچے، گویا نیلے آسمان میں پیوست نظر آ رہے تھے۔ اس خرگوش کو موٹرکار، سڑک اور بہت سے باقی خرگوشوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ اپنی ہی مستی میں مست تھا۔
ایک بات تو طے ہے۔ میں یہ کہانی کبھی نہیں لکھوں گا۔ اصل میں، میں یہ نہیں جانتا کہ اس کہانی کا مطلب کیا ہے؟ شاید اس کا تعلق ان چیزوں اور لوگوں، اس فانی دنیا میں بنائے ان اوتاروں سے ہے جن کو ہم خدا کی موجودگی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان چھوٹے چھوٹے خرگوشوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ماضی میں یہاں بڑے بڑے خرگوش ہوا کرتے تھے۔ حقیقت میں وہ موٹر کار سڑک پر نہیں بلکہ وقت میں سفر کر رہی تھی۔ یہ کہانی در اصل، اس جہان کی ہر شے اور خود خدا کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا تصور یہ ہے کہ اگر خدا یا اس کے نام سے جنے ہوئے یہ اعلیٰ
اور ارفع اوتار واقعی موجود ہیں۔ جو جہان کی ترقی نما روش ہے اور اگر یہی ساری حقیقت ہے تو پھر، یقین جانیے۔۔۔ یہ سخت خوفزدہ کر دینے والی بات ہے۔ اس بات پر خود خدا بھی دہشت زدہ ہے۔

دوسری کہانی: اوکرو
آج اوکرو کو ہم سے بچھڑے دس برس ہو گئے۔ دس سال قبل، اس نے ہمارے ساتھ قریباً بیس ماہ بسر رکھی۔ اس وقت میں ایک لڑکا ہوا کرتا تھا۔ اس بات کو برسوں بیت چکے ہیں لیکن ان چند مہینوں کی یاداشت آج بھی میرے دماغ میں یوں تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ہمارے خاندان کے سبھی لوگ اوکرو کے فوراً ہی گرویدہ ہو گئے تھے، حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی کوئی بات سمجھ نہیں سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کی بولی ہم سے جدا تھی۔ اصل میں ہماری حقیقتیں اور ہماری زندگیوں کے مشغولات، اس کی سمجھ سے ذرہ برابر بھی میل نہیں کھاتی تھیں۔ صرف ارمیدا ہی اوکرو کو سمجھ سکتی تھی۔ ارمیدا میری چچا ذاد کونستانزا کی بیٹی تھی۔ شاید اسی وجہ سے جب اوکرو نے ہمیں چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کیا تو وہ ارمیدا کو بھی ساتھ لے گیا۔ وہ ارمیدا کی جگہ کسی دوسری بچی کو ہمارے یہاں چھوڑ گیا۔ یہ بچی بالکل ہماری ارمیدا کی طرح ذہین اور معصوم تھی لیکن ہم سبھی جانتے تھے کہ یہ ہماری ارمیدا نہیں ہے۔ اصل ارمیدا تو اوکرو کے ساتھ ہی کہیں گم ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے، ہم نے یہ بات کبھی کسی کو ظاہر نہیں ہونے دی۔ اس کے دادا اور دادی بھی اس بات سے نابلد تھے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ یہ وہی ارمیدا ہے۔ صرف وہی، جو ارمیدا کے بہت قریب تھے۔۔۔ وہ اس کی حالت کے بدلاؤ کو سمجھ پائے تھے۔ میرے خیال میں کسی بھی بچے کے دادا اور دادی کو یوں دھوکے میں رکھنا نہایت نامناسب بات ہے لیکن آپ ہی بتائیے، ہم کیا کرتے؟ وہ اس سچائی کو جھیل نہیں سکتے تھے۔
اوکرو کا رنگ ربر کی طرح تھا اور قد دیو قامت تھا۔ ہم نے اسے منو انکل کے کمرے میں جگہ دی۔ وہ کمرہ خالی تھا۔ ہوا یوں کہ چند برس قبل منو انکل ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ آشنائی لگا کر برازیل بھاگ گیا تھا۔ منو انکل کا کمرہ تو خاصا بڑا تھا لیکن اوکرو کے لیے یہ جگہ تنگ تھی۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے، وہ کھڑکی سے باہر پھیل گیا اور باغیچے پر چھتر چھایا کرتے، وسط میں پانی کے جوہڑ تک پہنچ گیا۔ وہ ہر دم جوہڑ میں سر دے کر پڑا رہتا۔ اوکرو کی اس مشغولیت کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اسے ہر وقت پانی پینے کی حاجت رہتی تھی بلکہ یہ طور اس لیے تھا کہ وہ ہماری دنیا کی چیزوں کو مختلف زاویے سے، پانی کے عکس میں دیکھنا پسند کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا اور یہ بات ہمیں ارمیدا نے سمجھائی کہ اس دنیا میں ہوا ناپید ہو چکی ہے۔ اس کی مراد یہ تھی کہ ہوا میں جان نہیں رہی تھی۔ بس یہی وجہ تھی کہ اوکرو بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر ہم انسان اب تک زندہ کیسے ہیں؟ یا کہو جیسے ہم زندہ تھے، آخر زندہ کیسے ہیں؟ اس کا خیال یہ تھا کہ ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ہم آتے جاتے، گرتے پڑتے رہتے تھے۔ یہاں اور وہاں ٹھوکریں کھاتے پھرتے اور ہمیں سہولت کے نام پر سیڑھیاں بنانی پڑتی تھیں اور ان سیڑھیوں سے گرنے سے بچاؤ کے لیے مزید سہارے اور ریلنگ بنا کر جینا پڑتا تھا؟ سونے پر سہاگہ یہ کہ اس دنیا میں ہوا اس قدر پتلی تھی کہ اس ہوا میں کسی ذی روح کا گزارہ ممکن نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہم نے ارمیدا کو بہتیرا سمجھایا کہ جس طرح کی ہوا اور رہنے کی جگہ کا تصور اوکرو کے دماغ میں ہے۔۔۔ وہ کسی دوسری جا کا ہے۔ اس کا تصور پانی کا خیال ہے۔ اوکرو کے زمینی ہوا کے بارے خیالات اور زمین پر انتظامات کا تخریبی تصور۔۔۔ کسی مچھلی کا خیال معلوم ہوتے تھے۔ مچھلیوں کو ایسی جگہوں پر رہنے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ بھاری بھرکم پانی کے سمندروں میں بسر رکھتی ہیں۔ جہاں اوپر اور نیچے جہاں چاہو۔۔۔ تیر سکتی تھیں۔ پانی میں ایک طرح سے کشش ثقل کا تصور ہی نہیں ہوتا اور راہ میں کوئی رکاوٹ بھی حائل نہیں ہوتی تھی۔ یوں، پانی میں جینے والی مخلوق کو خاصی آزادی حاصل ہوتی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو خود اوکرو بھی مچھلی تو نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم نے اس کا موازنہ مچھلی سے کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ شاید جہاں سے وہ آیا ہے، اس کی دنیا پانی میں قائم ہے تو اسے یہ بات ہر گز پسند نہیں آئی تھی۔
ویسے بھی، وہ مچھلی کی طرح دکھتا تھا اور نہ ہی اس کی کوئی بات مچھلیوں کی طرح تھی۔ مثلاً مچھلیوں کی طرح پپوٹوں کے بغیر آنکھیں، پپراکے، کھپرے اور نہ ہی گلپھڑے تھے۔ زیادہ سے زیادہ اس کی شکل کسی بہت ہی قدیم درخت کی جڑ کی طرح معلوم ہوتی تھی۔ ہمارے گھر آنے والے زیادہ تر مہمان یہی سمجھتے تھے کہ شاید وہ بھدی سی کوئی جڑ ہے یا پھر کھڑکی کے باہر اگے ہوئے کسی مخبوط درخت کا تنا ہے جو کھڑکی میں سے اندر اور باہر ہوتا ہوا، باغیچے میں پھیل کر دور پانی کے جوہڑ میں گرا ہوا ہے۔ اگر وہ واقعی درختوں ایسا تھا تو پھر اس کو دیکھ کر قطعی پتہ نہ چلتا تھا کہ درخت کا ایک سرا کہاں ہے اور دوسرا سر کدھر گیا؟ یا پھر، اس کا تنا اور جڑیں کہاں ہیں؟ اگر وہ تنا ہے تو پھر اس کے پتے کونسے ہیں اور اگر یہ جڑیں ہیں تو پھر تنا کہاں ہے؟ اس کی ڈالیں تھیں بھی یا نہیں؟ اگر یہ ڈالیں اور شاخیں ہیں تو پھر۔۔۔ الغرض، اوکرو کو دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔
اسی لیے ہم بھی مہمانوں کو منہ کھولے، دیر تک اوکرو کا اوپر اور نیچے سے جائزہ لیتا ہوا ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیتے تھے۔ بعض اوقات، جب کسی سنکی آدمی سے واسطہ پڑ جاتا تو ہم اسے ٹالنے کے لیے کہہ دیتے کہ دراصل یہ انجیر کی ایک قسم ہے یا کسی بیماری کا مارا، بگڑا ہوا کیوپک ہے۔ زیادہ تر لوگ اسی بات پر تسلی کر لیتے کہ یہ بیوباب کی افریقی قسم ہے جو منو انکل وہاں سے لائے تھے۔ انہیں کسی طور سمجھ نہ آتی کہ آخر ہم اس درخت کو کاٹ کر پھینک کیوں نہیں دیتے، اس کی لکڑی کا اچھا مول بھی مل جاتا۔ وہ چھونے کی کوشش کرتے تو اوکرو سمٹ کر اکڑ جاتا اور چھونے والا یہی سمجھتا کہ شاید یہ لکڑی ہی ہے۔ لیکن وہ لکڑی کا شہتیر بھی نہیں تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب اوکرو نے پہلی بار زبان کھولی تھی۔ اسے ہمارے گھر وارد ہوئے چار یا پانچ روز ہی ہوئے تھے اور ہم میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اوکرو بول بھی سکتا ہے۔
'میرا اندر کپکپا رہا ہے۔۔۔' وہ آہستگی کے ساتھ لیکن انتہائی گہری آواز میں بولا۔ 'میرا اندر لرز رہا ہے۔ مجھے معاف کر دینا، او میرے لعل۔۔۔ میں قدیم پھولوں اور ستاروں کی چاہ ہوں۔ میرا اندر ارغوانی ہے لیکن نیلے رنگ سے مجھے سخت مایوسی ہوتی ہے'
جب اوکرو نے پہلی بار بات کی تو ہم سب دوڑے دوڑے باہر باغیچے میں جا پہنچے۔ یہ گرمیوں کی ایک رات تھی اور آسمان پر ستاروں کی بارات اتری ہوئی تھی۔ روزا، کونسیلو، کانستانزا، سبھی کزن، کانستانزا کا شوہر گیدو، میرے ابا رومیلو، میری ماں ایواندرہ، میں خود، ارمیدا اور اس کی دونوں بہنیں۔۔۔ ہم سب باہر نکل آئے۔ پہلے تو ہمیں سمجھ ہی نہ آئے کہ آخر آواز کہاں سے آتی ہے لیکن جب پتہ چلا کہ یہ اوکرو ہے تو ہم سب خوشی سے نہال ہو گئے۔
'اوکرو کہہ رہا ہے کہ وہ تنہائی محسوس کرتا ہے!' ارمیدا نے نہایت اعتماد سے، آنکھ جھپکے بغیر اوکرو کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا۔
'تمھیں کیسے پتہ؟' ارمیدا کی ماں نے پوچھا،
'میں جانتی ہوں!' اس کی آواز میں بلا کا اعتماد تھا۔
'خود کو معاف کر دو۔۔۔ او، جلا وطن کیے ہوئے۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔ او، ستاروں کی دھول۔۔۔ مجھے معاف کر دو!' اوکرو جیسے کراہ کر بولتا ہو، 'میں کوئی جنگجو نہیں ہوں لیکن میں راہب بھی تو نہیں ہوں!'
'وہ کہہ رہا ہے کہ اسے بھوک لگ رہی ہے!' ارمیدا نے پھر کہا، 'وہ کچھ کھانا چاہتا ہے!'
'وہ کیا کھاتا ہے؟' ارمیدا کی چھوٹی بہن روزا نے بے چینی سے پوچھا،
'وہ کنواریوں کو کھا جاتا ہے!' ارمیدا نے منہ دبا کر کہا تو تس پر روزا اور کانسیلو، دونوں کی تقریباً چیخیں نکل گئیں۔ چونکہ لوسیا اور ماریا کو پتہ نہیں تھا کہ کنواری کا مطلب کیا ہوتا ہے، اس لیے وہ دونوں چپ رہیں۔ ان کا خیال تھا کہ شاید کنواری سے مراد مریم کی شبیہ تھی یا پھر لکڑی سے بنی کوئی مجسم نما کوئی شے ہوتی ہو گی۔ ارمیدا کو بھی کنواری کا صحیح مطلب پتہ نہیں تھا لیکن اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ پوچھ ہی لیا۔
'کنواری سے مراد وہ عورت ہے جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی' اس کی ماں نے بتایا، 'لیکن کیا اوکرو نے واقعی ایسا کہا ہے؟'
'نہیں!' ارمیدا نے جواب دیا، 'اس نے کہا ہے کہ وہ دکھ اور نفس کشی، تپسیا پر پلتا ہے!'
'دکھ اور نفس کشی پر؟' میرے ابا نے یوں پوچھا گویا وہ صحیح سمجھ نہیں پائے۔ ابا نے اپنے ابا اور دادا سے بہرہ پن وراثت میں پایا تھا لیکن میں ٹھیک ٹھاک تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی میری عمر ابا کی عمر سے بہت کم ہے۔
یہ بات بالکل درست تھی۔ اوکرو انسانی دکھ اور ان تمام چیزوں پر پلتا تھا جو ہم انسانوں کے لیے اذیت اور کرب کا باعث تھیں۔ دکھی خیالات، حسد، خوف اور پچھتاوے وغیرہ۔ اوکرو کے قرب میں جا کر دس منٹ بھی گزار لیے جاتے تو جیسے جادو کی چھڑی پھر جاتی اور سبھی دکھ اور الم غائب ہو جاتے۔ اوکرو کی مثال پودوں کی سی تھی۔۔۔ وہ انھی کا ماں جایا تھا۔ پودے اور درخت بھی تو ان گیسوں پر پلتے ہیں جو ہمارے لیے زہریلے ہوتے ہیں یا پھر ان مادوں پر جو ہمارے لیے مضر اور غیر ضروری ہیں۔ جیسے ڈیٹرس اور گوبر وغیرہ؟ جیسے ہی میں نے یہ سب سوچ کر کہا تو اوکرو نے گویا کروٹ لی۔ اس کو اپنا آپ درخت کی مانند محسوس ہوا۔
'اوکرو کہتا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہم انسان ہر وقت حرکت کیوں کرتے رہتے ہیں؟' ارمیدا نے ترجمانی کرتے ہوئے کہا، 'وہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر ہم بھی اس کی طرح ایک ہی جگہ ٹک کیوں نہیں جاتے؟'
'لوگ ایک ہی جگہ ٹک کر نہیں رہ سکتے!' ہم نے سمجھانے کی کوشش کی، 'اگر انسان ایک جگہ ٹک جائے تو وہ مر جائے گا'
وہ اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔
'تم انسانوں کو ٹک جانے کے لیے درست جگہ کی ضرورت ہوتی ہے!' اوکرو نے عالمانہ انداز میں ارمیدا کی زبان میں کہا، 'میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم کس چیز کی تلاش میں ہو۔ یہ بات درست ہے کہ درست جگہ شاید بہت دور ہو۔۔۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب تم مناسب جگہ پر پہنچ جاؤ تو پھر بھی تم کیوں مارے مارے پھرتے رہتے ہو؟' یہ جو تمھارا گھر ہے، جس میں تم رہتے ہو۔۔۔ مجھے تو یہ اچھی خاصی مناسب جگہ لگتی ہے۔ یہاں بھی، تم ہر وقت یہاں آنا جانا کیوں لگائے رکھتے ہو؟'
اب بلاشبہ وہ ایک درخت کی طرح سوچ رہا تھا یا پھر اس کی مثال ایک پتھر کی سی تھی۔ شاید وہ ایک پھول کی طرح سوچ رہا تھا۔
ہم نے اوکرو سے اس کی دنیا کے بارے پوچھا۔ ہم نے یہ پوچھا کہ آخر اوکرے کتنا عرصہ جیتے ہیں تو اس سوال کی اسے سمجھ ہی نہیں آئی۔ اس نے ہمیں بتایا کہ اوکرے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
'آ ہاں۔۔۔' ہم نے چہک کر کہا، 'یعنی اوکرے انمٹ اور لازوال ہوتے ہیں؟'
'ارے نہیں، ہم بھی مرتے ہیں۔ تمھارے درختوں کی طرح ہم بھی مر جاتے ہیں لیکن جو مرتا ہے، اس کی جگہ نیا اوکرو جنم لے لیتا ہے'
'لیکن اگر نیا اوکرو جنم لیتا ہے تو اس کا مطلب۔۔۔ وہ نیا اوکرو ہے' ہم نے اس سے کہا، 'جو اوکرو مر گیا، وہ ہمیشہ کے لیے مر گیا۔ نیا اوکرو تو مختلف درخت ہوتا ہے اور اس کا پرانے سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ وہ تو اس سے جدا ہے!'
'یہ درست نہیں ہے' اوکرو نے کہا، 'تمام اوکرے، ایک ہی ہیں۔ جب ایک جگہ پر کوئی اوکرو مر جاتا ہے اور کسی دوسری جگہ پر نیا اوکرو اس کی جگہ جنم لیتا ہے۔ تمام اوکرے ایک ہیں اور سبھی اوکروں کی یاداشت بھی ایک ہی ہے۔ تمھاری بھی یہی طور ہے۔۔۔ تم سمجھتے نہیں ہو، تم سب ایک ہی ہو!'
سچ کہوں تو اوکرو کا ہمیں چھوڑ کر چلے جانے کا فیصلہ مجھے سمجھ نہیں آیا اور ویسے بھی یہ نہایت شرمناک بات تھی۔ اس نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ ہمارا گرویدہ ہو چکا ہے۔ ہم اس کا ہر لحاظ سے پورا پورا خیال رکھتے تھے اور وہ اچھا خاصا پھل پھول رہا تھا۔ لیکن ظاہر ہے، اسے بالآخر اپنی دنیا کو لوٹ جانا ہی تھا۔ اس نے اپنے گھر کے بارے کبھی نہیں بتایا۔۔۔ ہم سب کا خیال یہ تھا کہ وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہے۔ اس کی بسر ستاروں پر رہی ہو گی۔ ہم بھی اس کے ساتھ بہت خوش تھے۔ جس دن سے وہ ہمارے یہاں آیا تھا، ہم سبھی اندر سے مطمئن رہنے لگے تھے اور ہمارے شب و روز ہنستے بستے، ایک دوسرے کا خیال رکھتے گزرتے تھے۔
عام طور پر ہم اپنی خوشی اور اطمینان کو چھپا کر رکھتے تھے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے پڑوسی متوجہ ہوں اور وہ ہماری طمانیت بارے جان پائیں۔ وہ نہایت کھڑوس اور حاسد لوگ تھے۔ ہمارے یہاں اب کوئی بیمار نہیں پڑتا تھا۔ اگر کسی کو ٹھنڈ لگ کر زکام اور بخار وغیرہ ہو جاتا تو وہ اوکرو کے پاس جا کر چند منٹ گزارتا اور بہتر ہو جاتا۔ ایک دفعہ میرے ابا کو برسات کے دوران نمونیا ہو گیا۔ وہ بجائے پینسلین استعمال کرتے، اوکرو کے نیچے ایک رات بسر کی اور چنگے بھلے ہو گئے۔ اوکرو کی آمد سے قبل ارمیدا کو دمے کی تکلیف رہتی تھی لیکن جس دن سے اوکرو آیا اور اس نے اس سے بات کرنی شروع کی۔۔۔ ارمیدا کی سانس پھولنا بند ہو گئی اور تھکاوٹ جاتی رہی۔ اگرچہ اب ہمارے گھر کی بنیادیں اوکرو کے وزن سے ہل چکی تھیں لیکن اس کے باوجود اس کی موجودگی ہمارے لیے باعث اطمینان تھی۔ وہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑا ہو گیا کہ منو انکل کے کمرے کی دیواریں پھٹنے لگی تھیں۔ بالکونی اور چھت بھی پُر ہو چکی تھی۔ اس کا پھیلاؤ اتنا بڑھ گیا کہ ہمیں مجبوراً باغیچے میں ایک اضافی کمرہ تعمیر کرنا پڑا، جو گھر سے جڑا ہوا تھا۔ وہ تمام پودے اور پھول جو اوکرو کی چھتر میں تھے، خوب پھل پھول رہے تھے۔ ہم نے اوکرو کی شاخ نماؤں تلے ٹماٹر اور گلاب اگا لیے تھے۔ گلاب بڑے بڑے اور اس قدر خوشبودار تھے کہ پورا گھر ہر وقت معطر رہنے لگا۔ اوکرو سے متعلق ہر شے اس قدر خوب تھی کہ کسی کہانی میں بھی بیان نہ ہو سکے۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ اوکرو کیسے آیا اور جب وہ چلا گیا تو بھی کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ ہم ایک دن صبح جاگے تو دیکھا وہ موجود نہیں تھا۔ ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا۔ پڑوس کے سبھی گھروں اور باغیچوں میں دیکھ لیا۔ چونکہ اسے پانی سے خاص انس تھا، ہم نے دریا تک کا سارا علاقہ چھان مارا لیکن اس کے بعد ہمیں کبھی اس کا شائبہ تک نہیں ملا۔

تیسری کہانی: دنیا کی ابتداء
اگر ہم دنیا کی ابتداء کی جانب واپس لوٹ جائیں تو ہم مثال کے طور پر یہ دیکھیں گے کہ گلی کوچے سکڑتے جائیں گے اور شہر در شہر غائب ہو جائیں گے۔ درختوں کی تعداد اور اقسام بڑھتی جائیں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے دیہی علاقے کثرت سے دکھائی دینے لگیں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ بڑے بڑے شہروں میں اونچی اونچی عمارتیں غائب ہوتی جائیں گی۔ بسیں، ٹراموں میں بدل جائیں گی۔ ٹرام کی جگہ تانگے لے لیں گے اور ریڑھے ہی ریڑھے نظر آئیں گے۔ اگر ہم دنیا کی ابتداء کی جانب جائیں تو ہم کسی پرانے سرائے میں سر جوڑے مسافروں کو دیکھیں گے۔ ہم بچوں کو قلقاریاں مارتے دیکھیں گے، کئی بچوں کو شمالی افریقہ میں دربدر دیکھیں گے۔ ہم قدیم زمانے کے بحری جہازوں کو سمندر میں ڈوبتا دیکھیں گے۔ ہمیں طرح طرح کی وہ چیزیں نظر آئیں گی جن سے ہماری دسیوں ہزار سالہ تاریخ بھری پڑی ہے۔ ان ساری چیزوں کے کچھ نتائج ہیں جن کی کچھ وجوہات ہیں۔ وہ وجوہات ہمیں گھسیٹ کر ماضی میں لے جاتی ہیں۔ ماضی، کسی لامتناہی سلسلے کی طرح پیچھے ہی پیچھے سمٹتا چلا جاتا ہے۔ اس تماشے میں ہم تہذیبوں کو ابھرتا اور ڈوبتا دیکھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے رائفل مشینیں، توڑے دار بندوقوں میں بدل گئی ہیں۔ بندوقوں کی جگہ تیر کمانوں نے لے لی اور تیر کمان، تلواروں میں بدل گئے۔ تلواریں جو ہیں، وہ نیزے، بھالے اور کلہاڑیاں ہوا کرتے تھے۔ ہاں، لیکن یہ جو ہم انسانوں کی آج کی دنیا ہے۔۔۔ اس کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی؟
دنیا کی ابتداء یوں ہوئی تھی کہ ایک بھلی لیکن بادلوں سے گھری افریقہ میں کسی دریا کے کنارے ایک صبح کا واقعہ ہے۔ وہاں، دریا کے مٹیلے کنارے پر۔۔۔ ایک درخت کے نیچے ایک بندر نما کوئی بیٹھا ہے جس کے جسم پر خاکستری رنگ کی فر ہے۔ یہ بندر نما قد و قامت میں اونچا نہیں ہے۔ یوں کہو، آج کل کے دس سالہ بچے جتنا قد کاٹھ ہو گا۔ یہ دیکھنے میں ہر گز انسان نہیں ہے۔ یہ ایک جانور ہے جو اگلی ٹانگیں اٹھا کر چل سکتا ہے اور اس کے جسم کا سارا بوجھ ریڑھ کی ہڈی پر پڑنے لگتا ہے۔ اس کی اگلی ٹانگیں ابھی بھی، نسبتاً خاصی لمبی ہیں۔ یہ بندر نما ایک دریا کے کنارے کھڑا ہے اور دریا کے پانی پر پھیلی ہوئی دھند کا نظارہ کر رہا ہے۔ یہ بندر نما، اچانک ایک چیخ مارتا ہے۔ یہ اپنی پوری قوت سے ایک نہایت بھیانک اور تیز، کانوں کو چیر دینے والی سیٹی کی مانند چیخ مارتا ہے۔ اس چیخ میں بلا کا درد، زمانے کی تنہائی اور سخت الم بھرا ہے۔ اس بندر نما کی وہ چیخ، وہ پہلی چیخ۔۔۔ دراصل اس دنیا اور مافیہا کی شروعات ہے۔ یہی ہماری آج کی دنیا کی ابتداء ہے۔

(ماخوذ: ایندریاس ایبانوز، مئی 2018)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر