پاکستان، افغانستان اور طالبان

تصویر: اندولو ایجینسی / اے اے

پاکستان اس خطے میں عالمی طاقتوں کے لیے افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ملک ہے۔ یہ جذباتی بیان نہیں بلکہ نپی تلی حقیقت ہے۔ پاکستان کی آبادی بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ یعنی افغانستان (اور عراق!) کی آبادی سے چھ گنا زیادہ ہے۔ پاکستان میں ایران کے مقابلے دگنے لوگ بستے ہیں اور اس ملک کی کل آبادی پوری عرب دنیاٰ کی آبادی کے تناسب سے دو بٹا تین ہے۔ پاکستانی بڑی تعداد میں برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں بھی آباد ہے۔ ان میں سے کچھ اسلامی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر برطانیہ میں کئی حملوں میں ملوث بھی رہے ہیں۔
ان حملوں کے بعد پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کے اندر ان شدت پسند تنظیموں کا سراغ لگانے میں بھرپور مدد بھی کی ہے۔ یوں۔۔۔ برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں ایسے مزید حملوں کا راستہ روکا ہے۔ اگرچہ 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں پاکستان کا کردار ہمیشہ ایک جزوی اتحادی کے طور پر دیکھا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس ریاست کی اہمیت چوگنی ہے۔ بلکہ دنیا کے پاس اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس سارے قضیے کا حل آخر کار یہی ہے کہ اسلامی ملکوں کی حکومتیں خود آگے بڑھیں اور اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر سے پاک کریں۔ جہاں ان ممالک اور ان کی حکومتوں کے لیے درست سمت کے تعین میں مغربی دباؤ اہم ہے، وہیں انھیں مغرب کی مدد بھی درکار رہے گی۔ یہ دباؤ اہم ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے کہ یہ اس قدر زیادہ نہ ہو کہ اسلامی ممالک کی حکومتیں اس بوجھ تلے دب کر رہ جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ریاستیں ٹوٹ جائیں اور ان ملکوں کے حکام اپنی اور اپنے عوام کی نظروں میں کھوٹی ہو جائیں۔


پھر یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں اور افواج پاکستان ایشیاء کی چند بڑی اور منظم افواج میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کا پاکستانی دھرتی پر حملہ کر کے افغان طالبان کا صفایا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت پینٹاگون اور پاکستانی افواج، دونوں کو ہی اچھی طرح ازبر ہے۔ یہ ایسی مجبوری ہے جو مغرب کے لیے سخت کوفت کا باعث ہے اور یوں امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور اثر انداز ہونے کا واحد طریقہ معاشی ترغیب دینا ہے یا اس سے ہاتھ کھینچ کر دھمکانا وغیرہ ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے معاملے میں معاشی پابندیوں کی دھمکی بھی کارگر صورت نہیں ہے کیونکہ اگر اس وجہ سے یہ ریاست ٹوٹی تو سیدھی طالبان اور القاعدہ کے ہاتھوں میں جا گرے گی اور یوں ان کا دنیا میں کھل کر کھیلنے کا بھرپور امکان پیدا ہو جائے گا۔ 
گیارہ ستمبر کے بعد بھی پاکستانی ریاست کے طرز عمل کا مرکزی نکتہ بھارت کے ساتھ جاری معاملات رہے ہیں۔ 1947ء  سے یہ ایسے ہی چلتے آ رہے ہیں۔ دراصل یہ بھارت کا خوف ہی تھا جس نے پاکستان کو بیک وقت افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دینے اور قدرے ہٹ کر پچھلے قدموں پر رہنے پر بھی مجبور کیے رکھا ہے۔ اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اکثر پاکستان کو درپیش بھارتی خوف کو خاصا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس میں سرے سے کوئی سچائی ہی نہ ہو۔ اسی خوف کے نتیجے میں پاکستان جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، وہ بھی غیر منطقی نہیں ہیں۔ تب، بھارت اور امریکہ کے ممکنہ اتحاد نے مشرف کو افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اسی نکتے پر پاکستانی فوج کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر راضی کیا گیا اور نیویارک حملوں کے بعد شروع دنوں میں عام پاکستانیوں کو بھی یہی حقیقت باور کرائی گئی تھی۔ لیکن، دوسری جانب یہ بھارت کا خوف ہی تھا جس کی بنیاد پر پاکستان مشرقی سرحد سے فوج کو نکال کر مغربی سرحد پر طالبان کے خلاف جنگ لڑنے سے انکار کرتا آیا ہے بلکہ کہیے، پاکستانی ریاست نے اپنے لیے اس معاملے میں سیدھا آگ میں کود جانے سے جان چھڑائی ہے۔ 
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ یہ امید رہی ہے کہ وہ طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کر کے، امریکہ کے ذریعے بھارت پر کشمیر کے معاملے میں دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ وقت کے ساتھ پاکستانیوں کی یہ امید بش اور اوباما، دونوں کے ہی پس و پیش اور اکثر نا اہلیت کی وجہ سے دم توڑتی چلی گئی ہے۔ اس معاملے میں ان امریکی صدور کے تامل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب واضح طور پر بھارت کی جانب امریکی جھکاؤ دیکھا جا سکتا ہے اور پاکستان کے اندر امریکہ کے خلاف جذبات مزید گہرے ہو چکے ہیں۔ پاکستانیوں کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ امریکی دغا باز ہیں۔
یہ حقیقت تو روز اول سے ہی عیاں تھی کہ مغربی طاقتوں کو افغان طالبان کے خلاف پاکستانی حمایت ملنا کافی جوکھوں کا کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے لیے طالبان اس کی حربی ضرورت اور حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ علاوہ ازیں،  پاکستان میں عوامی اور سیاسی سطح پر طالبان کے لیے نرم گوشہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ افغان طالبان کے لیے نرم گوشے سے متعلق یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت، یہاں تک کہ وہ علاقے بھی جہاں سے پاکستانی افواج میں سب سے زیادہ بھرتیاں کی جاتی ہیں۔۔۔ وہ بھی افغان طالبان کے متعلق نرم رائے رکھتے ہیں۔ عوام کی اکثریت طالبان کو بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ایک جائز اور برحق جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں افغان طالبان جہاد کی اصل روح کو زندہ کیے مجاہدین کا وہی روپ ہیں جنہوں نے 80ء کی دہائی میں سوویت یونین کو افغانستان میں دھول چٹا دی تھی۔ 
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی افغانستان سے متعلق حکمت عملی ہوس اقتدار اور خوف کی بنیاد پر قائم ہے۔ پاکستان کو اصل خوف یہ ہے کہ اگر افغانستان میں پشتونوں کے علاوہ کوئی دوسرا دھڑا برسر اقتدار رہا تو عین ممکن ہے کہ افغان ریاست بھارتی ٹٹو بن کر رہ جائے گی اور یوں بھارت کے لیے پاکستان کا گھیرا تنگ کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس خوف کو مزید فوقیت یوں بھی ملتی ہے کہ بھارت نے علیحدگی پسند بلوچ قوم پرستوں کو افغانستان کے راستے ہر لحاظ سے کھل کر مدد فراہم کی ہے۔ اس ضمن میں مزید سوچ یہ ہے کہ بلوچ ہی نہیں بلکہ بھارت تو تحریک طالبان پاکستان کو بھی شہ دیتا آیا ہے۔ 
یوں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں اکثریت یہی خیال کرتی ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات بنائے رکھنا انتہائی لازم ہے کیونکہ افغانستان میں ان کے سوا پاکستان کا کوئی دوسرا اتحادی نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں اس سوچ میں مزید پختگی اس لیے بھی آئی ہے کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر مغربی طاقتیں افغانستان میں ناکام ہو جائیں گی۔ اس ناکامی کی صورت میں وہ قدرتی طور پر اس خطے سے ہاتھ کھینچ لیں گی اور اپنے پیچھے خانہ جنگی چھوڑ جائیں گی۔ افغانستان میں ایک دفعہ پھر وہی صورتحال پیدا ہو کر رہے گی جو نوے کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔ اگر افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی چھڑ گئی تو اس خطے کی ہر ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی نہ کسی دھڑے سے اتحاد بنائے رکھے۔ پاکستان کے لیے افغانستان میں طالبان کی صورت ایک تگڑا اتحادی، باقی سب سے زیادہ ضروری اور انتہائی اہم ہو گا۔
یہاں واقعاتی طور پر یہ واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سیکولر عناصر بھی افغان طالبان کو طالبان کے ازلی دشمنوں، یعنی شمالی اتحاد کے لیڈروں کے مقابلے میں اخلاقی اعتبار سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ مغربی طاقتوں نے 2001ء میں افغان طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ نوے کی دہائی میں شمالی اتحاد کے لیڈروں اور سپاہیوں کی اخلاقی لحاظ سے گراوٹ اور مبینہ جنگی جرائم کی وجہ سے پشتونوں نے طالبان کا ساتھ دیا تھا۔ 2001ء میں جب طالبان کی حکومت گرائی گئی تو شمالی اتحاد نے ایک دفعہ پھر طالبان کی حمایت کرنے والوں پر جبر کیا، جنگی قیدیوں کا کھلے عام قتل عام کیا گیا اور مغربی امداد پر کھل کر ہاتھ صاف کیا۔ یہی نہیں بلکہ ملک میں ہیروئین کا کاروبار دوبارہ زور پکڑنے لگا بلکہ ایک موقع پر تو منشیات کی سمگلنگ کے معاملے میں افغان صدر کے سگے بھائی کا نام بھی گونجا اور باعث شرمندگی بنا۔ 2001ء سے لے کر آج کا دن ہے، مغربی طاقتیں اس جن کو بوتل میں بند کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ 
جہاں یہ، وہاں یہ بھی یاد رکھا جائے کہ پاکستانی اشرافیہ اور عوام کی اکثریت کا افغان طالبان کے لیے نرم گوشے کا مطلب کسی بھی طور ان کی نظریات کی کلی حمایت نہیں ہے۔ پاکستانی اشرافیہ اور نہ ہی عوام، پاکستان میں طالبان طرز کے انقلاب کی ہر گز چاہ نہیں رکھتے۔ یوں سمجھیں کہ جیسے 80ء کی دہائی میں پاکستانیوں کو جس قدر اور جس طرح سے افغان مجاہدین کے ساتھ ہمدردی رہا کرتی تھی، اب وہی جذبات افغان طالبان کے لیے بھی پائے جاتے ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے رویے میں افغان اور پاکستانی طالبان کے لیے الگ الگ پیمانے نظر آتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور فوج کسی صورت بھی پاکستانی طالبان کو پاکستان فتح کرنے نہ دیتے۔ ان کے ساتھ جنگ میں تاخیر صرف اس وجہ سے ہوئی کہ عام طور پر انھیں پاکستانی ریاست کے لیے خطرہ نہیں سمجھا گیا۔ پاکستانیوں کو یہی گمان رہا کہ یہ پشتون بغاوت کی معمولی اور عام شکل ہے جسے ہلکی پھلکی طاقت اور بات چیت کے مرکب سے حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی عوام، بشمول افواج انھیں ہمیشہ ہی اپنا بہکا ہوا بھائی بند تصور کرتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے بارے خیال یہی رہا ہے کہ یہ بھی افغان جہاد میں مدد کرنے والے قابل بھروسا اور ریاست کے حق میں معقول لوگ ہیں۔ اس سوچ کے پیچھے یہ عنصر بھی کارفرما رہا ہے کہ پاکستانی ریاست اور پشتون آبادی کو کسی بھی صورت ملک کے اندر خانہ جنگی میں امریکی مفادات کے لیے جھونک دینا عقلمندی نہیں ہے۔ مزید براں یہ کہ پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے جہادی دھڑوں کے ساتھ قریبی تعلقات۔۔۔ بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ جہادی دھڑوں کا کشمیر میں بھارت کے خلاف مزاحمت میں کلیدی کردار رہا ہے۔ جہادی دھڑے، جو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے ہیں۔۔۔ ان کا پاکستانی طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ 


جب اسٹیبلشمنٹ کو واضح ہو گیا کہ تحریک طالبان پاکستان تو دراصل ریاست کے درپے ہے تو 2009ء کے اوائل میں۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی تائید کے ساتھ سوات آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ پاکستانی افواج کی پاکستانی طالبان کے خلاف سوات اور جنوبی وزیرستان میں فتح نے ثابت کر دیا کہ یہ ملک طالبان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے اور کسی طور بھی شکست سے دوچار نہیں ہو گا۔ اس عمل نے ایک دفعہ پھر پاکستان پر امریکی حملے کی سوچ کو توڑ کر رکھ دیا اور بھارت کے ساتھ جنگ کے خطرے کو ٹال دیا۔ جہاں یہ، وہاں اس سوال کا جواب بھی بیچ میں ہی کہیں پیچھے رہ گیا۔۔۔ یہ بات ڈانواں ڈول ہو گئی کہ کیا پاکستان افغانستان میں مغربی فتح کے لیے افغان طالبان کے خلاف کبھی اسی طرح سختی سے پیش آنے پر راضی ہو گا؟

 اگلی قسط: یہ دیس، سخت جان دیس |  تاریخ اشاعت: 22.03.2019 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر