جاگیردار اور وڈیرے

ہیرالڈ / ڈان گروپ، 2014

پاکستان کے دیہی اور اکثر شہری علاقوں میں  بھی سماج کی سربراہی تو افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے لیکن حقیقت میں طاقت کا اصل محور افراد نہیں ہوتے۔ اس طرح پاکستان کے دیہی علاقوں میں کئی بنیادی حقائق کی بنیاد پر زمینداروں کو 'جاگیردار' یا 'وڈیرے' کا نام دینا بھی کسی صورت درست نہیں ہے۔ ان زمینداروں کی حقیقت بس اتنی ہی ہے کہ عام طور ان کا تقابل قرون وسطیٰ میں 'یورپی جاگیرداروں' کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگر پاکستانی زمیندار اور یورپی جاگیردار ایک ہی زمرے میں شامل ہوتے تو جیسے یورپ، یہ بھی اب تک نچلی سطح پر سماجی دباؤ اور اوپر سے ریاست کی جانب سے اصلاحات کے نتیجے میں قصہ پارینہ بن چکے ہوتے لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہے۔
پاکستان میں انفرادی طور پر 'جاگیردار' کہلائے جانے والے 'زمیندار' روایتی یورپی جاگیرداری اصولوں کے تحت کچھ خاص بن نہیں پڑتے۔ پاکستان میں 500 ایکڑ زمین بھی بہت زیادہ ملکیت سمجھی جاتی ہے جو جاگیرداری کی تعریف میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں جاگیردار کہلائے جانے والے زمینداروں، جن میں اکثر خواتین بھی شامل ہیں۔۔۔ ان کی آمدن زیادہ تر زرعی زمینوں سے نہیں بلکہ شہر میں واقع کمرشل جائیدادوں سے حاصل ہوتی ہے۔ کم از کم پنجاب کی حد تک تو واقعی بڑے زمینداروں کی اراضی 1950ء کی دہائی میں ایوب خان کی زرعی اصلاحات جبکہ 1970ء کی دہائی میں بھٹو کی لائی تبدیلی میں ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
میرا ہمیشہ ہی یہ مدعا رہا ہے کہ پاکستان میں اب صحیح معنوں میں کوئی جاگیردار باقی نہیں ہے لیکن پھر مجھے سندھ کے ایک نامی گرامی زمیندار کے ساتھ جنگلی سور کا شکار یاد آ جاتا ہے۔ اس دن محسوس ہوا گویا کسی واقعی نواب کے یہاں مدعو تھا اور اس نواب کا طرز زندگی کسی بڑے جاگیردار سے کم نہیں تھا۔ اس روز کے تجربے کے بعد میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ پاکستانی لحاظ سے ملک میں ابھی بھی جاگیردار اور وڈیرے موجود ہیں لیکن تاریخی لحاظ سے یورپی جاگیرداری نظام کا ہم پلہ یہاں کوئی نہیں ہے۔
پاکستان کے ان جاگیردار خاندانوں کی اکثریت، بالخصوص شمالی پنجاب میں یہ ہمیشہ سے جاگیردار نہیں تھے بلکہ ان کا وجود اس خطے کی حالیہ تاریخ کا شاخسانہ ہے۔ ان کی دولت اور امارت کی بنیاد شہروں میں مہنگی کمرشل جائیدادیں اور ریاستی امور میں بے جا اور بے پناہ کرپشن ہے۔ ان کو قریب سے دیکھا جائے تو  انھوں نے رہن سہن اور سیاسی چال چلن پرانے زمانے کے جاگیردار خاندانوں جیسا ہی اپنا رکھا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ جاگیردار قرابت داری کو خوب شہ دیتے ہیں اور اپنی برادری کا خوب خیال رکھتے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ یہاں سیاسی اہمیت، امارت کے تحفظ اور عزت و منزلت حاصل کرنے کا یہی پرانا اور آزمودہ طریقہ ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان میں اب بھی باقی رہ جانے والے طاقتور جاگیرداروں کی طاقت کا محور زمین اور جائیداد نہیں ہے بلکہ ان کے اختیار کی ساری حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑے بڑے قبیلوں کے سربراہ ہیں۔ برادریوں میں سربراہی کی اہمیت دو چند ہوتی ہے اور یہ کردار صرف انھی تک محدود نہیں رہتا بلکہ برادری میں دوسرے زمیندار، حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے زمینداروں تک بھی پھیل جاتا ہے۔  یوں، ایک ہی ذات اور برادری کے کئی زمیندار مل کر ایک قبیلے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اٹک کے گجر، اس طرز کی عمدہ مثال ہیں۔ ان کا یہی طریق ہے جس نے اس برادری کو وقت کے ساتھ جلا بخشی ہے اور تحفظ بھی فراہم کیے رکھا ہے۔ گجر اٹک کے دیہی علاقوں کی سیاست کا محور بھی ہیں اور ان کا کردار قومی سیاست میں بھی نظر آتا رہتا ہے۔
اگر پاکستان میں برادریاں وقت کے ساتھ سیاسی طاقت کو تقسیم کرتی رہتیں تو آج ان کی قوت بٹ کر ختم ہو چکی ہوتی۔ ایسا نہیں ہوا کیونکہ برادریوں کے اوپر بیان کردہ اطوار کی اصل وجہ اجتماعی مفادات اور تحفظ کا حصول ہے۔  سندھ کے ایک وڈیرے نے مجھے یہ بات کچھ اس ڈھنگ میں سمجھائی کہ کئی دنوں تک اس کی باتیں کانوں میں گونجتی رہیں اور بالآخر اس کتاب کا عنوان بھی بن گئیں۔ اس نے کہا، 
'یہ ایک کٹھور اور سخت جان دیس ہے۔ آپ کو تحفظ اور امان کے لیے قبائلی اور خاندانی تعلقات درکار ہوتے ہیں۔ آپ کو ایسے لوگوں کی ضرورت رہتی ہے جو آپ کے ساتھ جڑے رہیں اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ بالخصوص ان مشکل حالات، جب آپ حکومت سے باہر ہوں تو اس ملک میں محفوظ رہنے کا صرف یہی واحد طریقہ ہے۔ قبائلی سربراہان بھی عام قبائلیوں کو طاقت، جلا اور تحفظ دیتے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کو ڈاکوؤں، پولیس اور عدالتوں سے بچاتے ہیں۔ جواباً وہ لوگ بھی آپ کو جیل سے باہر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ آپ کے لیے عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو بدلہ لینے سے بھی نہیں چوکتے!'
برطانوی دور سے ہی، بلوچ اور پشتون علاقوں کے سوا ایسا بہت ہی کم ہوا ہے کہ ایک قبیلہ کسی دوسرے قبیلے کے خلاف برسرپیکار رہا ہو۔ بلکہ ایک ایسے پرتشدد معاشرے میں، جہاں ریاست کی رٹ برائے نام اور ادارے بے بس رہتے ہوں، وہاں دوسری برادریوں کے خلاف، پولیس کو روکنے، عدالتوں کو چکمانے، سیاست لڑانے اور سیاسی و معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے اپنی برادری کے بھائی بندوں اور اقربا کے ساتھ بنائے رکھنا ہی عقلمندی ہے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دینا، پشت پناہی اور اعزہ و اقربا کا دھیان رکھنا ہی اصل طاقت ہے۔
پاکستانی ریاست کی کمزوری اور قرابت داریوں کی طاقت ہی وہ اصل وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر شہروں کی جانب ہجرت کے بعد بھی ملک کے سیاسی سانچ اور ڈھانچے پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ عام طور پر دنیا بھر میں شہرکاری ایسا کلیہ ہوتا ہے جو اقوام کی سیاسی بصیرت اور طور اطوار میں تبدیلی کا مظہر ثابت ہوا کرتا ہے۔ پاکستان میں بجائے یہ ہوا ہے کہ اب شہری علاقوں میں ایک نئی قسم کا طبقہ جنم لے رہا ہے جو عادات و اطوار میں تو ابھی تک دہقان ہے لیکن ان کا شمار شہریوں میں ہوتا ہے۔ ان کی ثقافت، چال ڈھال اور تربیت ابھی تک وہی پرانی اور دہقانی ہی ہے۔ یہ طبقہ بدستور برادریوں اور قرابت داریوں کے چکر میں پھنسا ہوا ہے اور ضرورت پڑنے پر آج بھی اپنے ناطے داروں، رشتہ داروں اور قرابت داروں کا محتاج رہتا ہے۔ یہ جیسے دیہی سماج میں تھے، شہری حلقوں میں شامل ہو کر بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ اس سارے قصے کی تہہ میں یہ حقیقت چھپی ہے کہ شہروں میں آباد تقریباً آبادیاں گزر بسر کے لیے نوکریوں پر انحصار کرتی ہے۔ یہ معیشت میں دوسرے مواقع پر توجہ نہیں دیتے۔ ان کے طور وہی پرانے ہیں تو جدید معاشی مواقع اور زرائع کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرابت داری ریاستی جبر کے خلاف کاری ہتھیار تو ہے لیکن وہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ برادری نظام ریاست کو جابر بنا دیتی ہے۔ کسی مخصوص برادری کے ہاتھ انتظام لگ جائے تو وہ ریاستی مشینری کو اپنی حریف برادریوں کو کچلنے میں جوت دیتی ہے اور اپنے مفادات جیسے طاقت، دولت اور حریفوں کو نیچا دکھانے کا کام لیتی ہے۔ پاکستان کے نظام قانون بارے ایک رائے، جو صائب بھی ہے یہ کہی گئی ہے:
'ہائی کورٹس سے نچلی عدالتیں کرپشن کا گڑھ ہیں۔ مقدمات کا نتیجہ کسی طور بھی حقائق اور قانون کے گرد نہیں گھومتا بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس کو جانتے ہیں؟ کون کتنا اثر و رسوخ رکھتا ہے؟ اور آپ اپنا پیسہ کہاں لگاتے ہیں؟'
یوں، پاکستانی برادریاں اور پاکستانی ریاست سالہاسال سے ایک ہی ساتھ، ایک ہی کورس میں الاپ لگاتی محو رقصاں ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے خائف ہیں لیکن ہر دھڑے، برادری اور ریاستی ادارے کے لیے یہ تعلق اور واسطہ، بقاء کے لیے ضروری بھی ہے۔
لیکن اس نظام کے ساتھ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک جانب تو برادریوں کی طاقت اور پشت پناہی اشرافیہ کو اپنی حد میں رکھتی ہے بلکہ صاف کہیے تو یہ عمومی طور پر سماجی استحکام اور پاکستان کی بقاء کا سبب بھی ہے لیکن دوسری جانب یہی  نظام ریاستی وسائل کا بے دریغ اور بہیمانہ استعمال کر کے موقع پرست سیاسی ٹٹ پونجیوں کو جلا بھی بخشتا ہے جو ملک کی ترقی کے لیے کسی بھی طور اچھی بات نہیں ہے۔
یہ بات نہایت غیر معمولی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں جن چند آبادیوں نے معاشی اور سماجی لحاظ سے واقعی ترقی کی ہے، انھیں ایک یا دوسری صورت اپنی برادریوں اور ثقافتی اطوار کو بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت کے نتیجے میں پیچھے چھوڑنا پڑ گیا تھا۔ کراچی کے مہاجر، جو 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے یا اس سے بھی کہیں زیادہ واضح طور پر یہاں ان پنجابیوں کی مثال دی جا سکتی ہے جو تقسیم ہند کے بعد مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے تھے۔ یہ وہ پنجابی ہیں جو آج پاکستانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے علاوہ ایک گروہ اور بھی ایسا ہے جو اگرچہ تعداد میں تو بہت کم ہیں لیکن ان کی مثال حیرت انگیز ہے۔ یہ بلوچستان کی ہزارہ برادری ہے جو انیسویں صدی کے وسط میں افغانستان سے تارک وطن ہو کر یہاں آباد ہو گئے تھے۔ ان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس بھی آس پاس پھیلے سماجی جمود میں عجب رنگ دکھاتی ہے۔ بہرطور، بیس کروڑ کی آبادی کے اس دیس میں ان دو چار مثالوں کے سوا باقی سب کے سب ایک گھن چکر میں پھنسے، روایت میں پس پس کر بسر کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

 اگلی قسط: پاکستان کیسے چلتا ہے؟ |  تاریخ اشاعت: 03.04.2019 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر