تمہید اور تعارف

 پاکستان: ایک سخت جان دیس 


 حصہ اول: دیس، عوام اور تاریخ 

باب - 1: ملک پاکستان کا تعارف اور ادراک
(نوٹ: یہ کتاب 2010ء میں شائع ہوئی تھی)
اس کتاب کی ترتیب کے دوران ان برسوں میں کئی مواقع ایسے آئے کہ لگا، اس کا عنوان 'پاکستان: ایک دیس کا نوحہ' ہی بہتر رہے گا۔   یہ وہ ترتیب وار برس تھے جب پاکستان پر اندرونی و بیرونی دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ اس کی نظیر خود پاکستان کی پریشان کن اور پراگندہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ غالباً، ایسا پہلی بار نہیں ہے بلکہ اس ملک میں تو ہر دور ہی پرآفت رہا ہے۔ مثلاً طارق علی نے 1983ء میں ایک کتاب لکھی تھی۔ اس کتاب کا عنوان تھا، 'کیا پاکستان باقی رہے گا: ایک ریاست کی موت'۔ یہ صرف تیس برس پہلے، پچھلی پیڑھی کی تو بات ہے۔ اگر طارق علی کی بات مان لی جائے تو یہی  کہا جا سکتا ہے کہ یہ حالیہ تاریخ میں کسی بھی لحاظ سے، ایک ریاست کا بستر مرگ پر نزع کے عالم میں  بیتایا ہوا طویل ترین عرصہ ہے۔
اس کتاب میں پاکستانی نظام بارے جو حالات بیان کیے گئے ہیں، عین ممکن ہے کہ 2010ء میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے اس کمزور اور بوسیدہ نظام کی بنیادی ہئیت کو مزید بدل کر رکھ دیا ہو۔ لیکن اس حقیقت کا ادراک ہونے میں طویل عرصہ درکار ہو گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ جنوب ایشیائی معاشروں میں قدرتی آفات کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی بے پناہ صلاحیت  پائی جاتی ہے۔ یہ خطہ تاریخ میں اس سے قبل بھی کئی بھیانک آفات کے نتائج کو بھگتا کر سرخرو ہو چکا ہے۔ عام طور پر تو ہوتا یوں ہے کہ جنوب ایشیاء میں ایسے حالات کا سامنا کرنے کے بعد مقامی انتظامی اور سیاسی ساکھ  میں کبھی کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔


جہاں یہ، وہیں ایک دوسرا نکتہ  ذہن نشین رہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں  سیلاب اور دوسری ماحولیاتی آفتیں پے در پے برپا ہوتی رہیں تو پاکستان بطور ریاست تا دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ اس ملک  کا سماج صحیح معنوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔ لیکن، یہ  بھی یاد رہے کہ ایسا صرف پاکستان کے ساتھ نہیں ہو گا بلکہ دنیا میں دوسرے کئی ممالک ایسے ہی مشکل حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کو درپیش موجودہ مسائل تب کے حالات کے سامنے پانی بھرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ تاہم، فی الوقت یہ قوی حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلابوں نے پاکستان کے قومی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے اور ملک کے پہلے ہی گونا گوں مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ وہ معاشی ترقی جو پہلے ہی سست روی کا شکار تھی، مزید پسماندگی کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔
اس کتاب کا مقصد جہاں پاکستان کو درپیش دائمی نظر آنے والے اندرونی مسائل کا جائزہ لینا ہے، وہیں اس ملک کی ان مسائل سے نبٹنے کی اندرونی خاصیت اور اس کے ماخذ  پر بھی نظر دوڑانا ہے۔ یوں، اس کتاب میں تفصیلاً پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں کا ذکر بھی موجود ہے، ان کو میسر حمایت کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش اور افغان جنگ میں کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا افغانستان اور بھارت کی نسبت پالیسیوں کا جائزہ بھی شامل ہے کیونکہ ان دو ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کا پاکستان کے اندرونی معاملات پر گہرا اثر ہے۔ یاد رہے، اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کتاب پاکستان کی بین الاقوامی برادری میں حیثیت کو جانچنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ درست ہے کہ اخذ کیے گئے نتائج میں جا بجا مغربی ممالک کی اس خطے کی جانب پالیسیوں بارے مشورہ بھی دیے گئے ہیں۔ 
پاکستان کا اندرونی ڈھانچہ، اس کی ساخت اور محرکات کو سمجھنا خاصا پیچیدہ اور دشوار گزار کام ہے۔ اسی بات اور اس کتاب کے مرکزی خیال کو سمجھنے کے لیے مثال دریا کو کوزے میں بند کرنے کو کہیے، پاکستان کا معاملہ دو رخی ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ایسا سمجھ لیں کہ پاکستانی ریاست اور حکومت کے وہ چیدہ  خدوخال جو ایک طرف اسلامی شدت پسندی کو اپنی حدوں میں محدود رکھنے کے لیے انتہائی موزوں ثابت ہوئے ہیں۔۔۔ بغور دیکھا جائے تو یہی خدوخال دوسری جانب اس ملک کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کی راہ میں حائل بھی ہیں۔ یوں، معاملہ دو رخی ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو صحیح معنوں میں منقسم ہے۔ یہاں بدانتظامی کا دور دورہ، معاشی طور پر پسماندگی اور بدعنوانی عام ہے۔ یہ ایک پرتشدد معاشرہ ہے جہاں نا انصافی وباء کی صورت پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں اقلیتوں اور بالخصوص عورتوں کے ساتھ جبر اور عدم مساوات روا رکھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان دنیا کے انتہائی نامی گرامی شدت پسندوں کا گھر اور دہشت گردی کا گڑھ بھی رہا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ ان سارے قضیوں کے باوجود، اس ملک کے بارے کہا جا سکتا ہے کہ ،'یہ پھر بھی چلتا رہتا ہے!' بلکہ اکثر  تو سخت حیرانگی ہوتی ہے کہ بحیثیت ریاست اور سماج، پاکستان تمام تر قضیوں کے باوجود نسبتاً ایک پائیدار اور مضبوط ملک ثابت ہوا ہے۔ یہ باہر سے جتنا کمزور اور کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے، دراصل ایسا نہیں ہے۔ 
آج پاکستان میں جدیدیت کی جا بجا  ، کامیاب مثالیں نظر آ جاتی ہیں۔ آپ کو اکثر جگہوں جیسے اسلام آباد اور دوسرے  بڑے شہروں کے چیدہ علاقوں میں انتظام کی بھرپور صورت نظر آتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے ایسی مثالیں اگرچہ گنی چنی ہیں لیکن بہرحال پورے ملک کو چلائے رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ کئی شہر ایسے ہیں جہاں انتہائی جدید طرز کی صنعت پنپ رہی ہے۔ اس خطے کی بہترین موٹروے پاکستان میں ہے۔ لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں چند اچھی یونیورسٹیاں بھی ہیں جو جنوب ایشیاء میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ایک انتہائی طاقتور، منظم اور مضبوط فوج بھی ہے جبکہ ہر دور میں ملک کو کئی اچھے بھلے، لائق فائق، ایماندار اور مخلص بیوروکریٹ بھی میسر آتے رہے ہیں۔  ملک کے پشتون علاقوں میں جہاں طالبان کی یورش جاری تھی، 2008ء کے آس پاس کئی فوجی اور پولیس افسران سے راولپنڈی اور پشاور میں ملاقات رہی۔ ان صاحبان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں رائج قابلیت اور حب الوطنی کے پیمانوں پر کسی طور بھی پیچھے نہیں ہیں بلکہ اس معاملے میں دنیا کے کئی نامی گرامی ممالک کے حکام سے کہیں بہتر واقع ہوئے ہیں۔ 
2010ء میں نیشل فنانس کمیشن ایوارڈز کے ذریعے ریاست کی ترسیلات اور ذرائعوں کا پسماندہ صوبوں کے حق میں دوبارہ سے تعین کیا گیا ہے جو کہ اگرچہ کافی دیر سے اٹھایا گیا لیکن درست سمت میں انتہائی مستحسن قدم ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست میں جمہوریت، سیاسی عمل اور وفاق پرستی میں ابھی جان باقی ہے۔ عوامی حلقوں اور نمائندہ گان کے طرز عمل میں لچک بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے اور وہ بلاشبہ مفاہمت اور سمجھوتے پر تیار ہیں۔ یوں، یہ تمام عوامل اگر ذہن میں رکھے جائیں تو پاکستان کے بارے کسی بھی صورت ایک ناکام ریاست کا تصور نہیں ابھرتا۔ دنیا میں ایسی کئی ریاستیں جیسے صومالیہ، افغانستان، عراق اور کانگو وغیرہ ہیں جن پر ایک ہی نظر میں ریاست کی ناکامی کا اندازہ ہو جاتا ہے، پاکستان کو اس زمرے میں کسی طور شامل نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان کوئی بہت ہی مثالی جگہ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ملک کے بوسیدہ نظام نامی کھوکھلے درخت کو جن غلطاں بیلوں نے ابھی تک تھام رکھا ہے، وہی بیلیں اس نظام کے لیے طفیلئیوں کا درجہ بھی رکھتی ہیں جو اس کا رس چوس رہی ہیں۔ بعض معاملات اور اوقات، ان طفیلی بیل نما اداروں کو دیکھ کر یہی گماں ہوتا ہے کہ شاید یہی اس ملک کی ہلاکت کا باعث بن جائیں گی۔ لیکن، دوسری جانب انھی اداروں کی بدولت یہ ملک سخت جان اور کٹھور بھی نظر آتا ہے۔ اگر امریکہ یا انڈیا۔۔۔ یا کہو، دونوں مل کر پاکستان پر حملہ کر دیں اور چیتھڑے اڑا دیں تو یہ یاد رکھا جائے کہ اس صورت بھی پاکستانی معاشرہ اور ریاست اس وار کو سہہ لے گی۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ پاکستانی ریاست بکھر بھی گئی تو اس کی وجہ شدت پسندی یا بیرونی حملہ آور نہیں ہوں گے بلکہ اس کی حتمی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہو گی۔ جنوبی ایشیاء میں اس وقت پاکستان سمیت سبھی ریاستوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش سخت خطرات کا سامنا ہے اور یہی اس خطے کی بربادی کا سبب بھی بنے گی۔
پاکستانی معاشرے میں شدت پسندوں اور دہشت گرد گرہوں کی حمایت عام مل جاتی ہے لیکن 2010ء تک اسلامی طرز نظام کی حمایت اور بغاوت کا عنصر صرف پشتون علاقوں میں بھی مخصوص جگہوں پر پایا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ پورے ملک کی چار فیصد آبادی سے بھی کم علاقوں کا قصہ ہے۔ یعنی، یہ عنصر کسی بھی طور پاکستانی سماج اور ریاست میں انقلاب کا باعث نہیں بن سکتا۔ اس کی مثال یوں کہ ہے کہ برطانوی دور میں بھی پشتون علاقوں میں اکثر سرکشی اور بغاوت کی تحریکیں سر اٹھاتی رہی ہیں اور انگریز ان سے نبٹتے رہے ہیں۔ برطانوی راج کو بھی اس مزاحمت کے باعث کبھی ہندوستان میں مجموعی طور پر کبھی کوئی سنجیدہ خطرہ محسوس نہیں ہوا۔
اگر پاکستان میں کبھی کوئی شخص یا نظریہ انقلاب لانے میں کامیاب ہو گیا تو اس کے پیچھے عوام کا سمندر تو ظاہر ہے، درکار ہو گا لیکن اس کے ساتھ جب تک دو بڑے شہر لاہور اور کراچی اس کے پیچھے کھڑے نہیں ہوں گے، اس کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے۔ مستقبل قریب میں ایسے کسی انقلاب کے دور دور تک کوئی آثار نہیں ہیں۔ یہاں بھی یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں نے واقعی زور پکڑ لیا تو پھر دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب ہجرت میں اضافہ ہو گا اور یوں ایک وقت ایسا آئے گا کہ شہروں میں غریب دہقانوں کی بہتات ہو جائے گی اور انقلاب کی راہ نظر آنا شروع ہو سکتی ہے۔
جب کوئی شدت پسند گروہ انڈیا پر حملہ کرتا ہے یا افغانستان میں مغربی افواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو پاکستان کی اکثریت عوام اس پر شادیانے بجاتی نظر آتی ہے۔ یوں ان عناصر کو پاکستان کی اکثریت کے دلوں میں نرم گوشہ مل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پاکستانی عوام شدت پسند واقع ہوئی ہے بلکہ پاکستانی قوم میں اسلامی قومیت پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ پاکستانی عوام میں مغرب اور امریکہ کے اسلامی دنیا اور بالخصوص پاکستان میں اثر و رسوخ اور کردار بارے سخت موقف پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندر خانہ جنگی اور انقلاب کی باتیں، جن کے تحت ملک کو ایک واقعی اسلامی ریاست میں ڈھالنے کا تصور ہے۔۔۔ یاد رکھیں، امریکہ اور بھارت کے خلاف جذبات اور اسلامی شدت پسندی سے یکسر ہٹ کر ہے۔ پاکستان میں خانہ جنگی سے مراد یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر پاکستانی، دوسرے پاکستانیوں کا قتل عام کریں گے جو ظاہر ہے، اس ملک کا کوئی شخص پسند نہیں کرے گا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ ملک کے اندر مخالفین کا صفایا کرنے کی بے وجہ چاہ ضرور موجود رہتی ہے جو یکسر الگ معاملہ ہے۔
یہاں یہ اہم ہے کہ 2010ء تک ناسور کی طرح ملک بھر میں پھیل جانے والی دہشت گردی سے ہم چوک نہ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی لحاظ سے پاکستانی طالبان کے شدت پسند رویے اور تخریب کاری، طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی نشانی ہے۔ وہ یوں کہ اگر آپ ایک ریاست پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک گیر تحریک چلائیں اور گلی کوچوں کی سطح پر ریاستی اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیں۔ ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں سے گوریلا جنگ شروع کریں اور ایک کے بعد دوسرے مضافاتی علاقوں پر قبضہ کرتے جائیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ افواج کی نچلی رینک کے فوجی بغاوت پر اتر آئیں۔ چوتھا طریقہ، پہلے تین طریقوں کا امتزاج ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی تحریک صرف دہشت گردی کے بل بوتے پر کسی بھی ریاست پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ جب پاکستانی طالبان نے فاٹا کے علاقہ غیر پر قبضہ کیا تو یہ قابل تشویش بات تھی۔ لیکن جب وہ سوات اور بونیر جیسے ضلعوں میں بھی پیر جمانا شروع ہوئے تو یہ وفاق اور ریاست کے لیے بلاشبہ ایک خطرناک اشارہ تھا۔ لیکن بات یہ ہے کہ جب ایسی تحاریک بازاروں اور مسجدوں میں، عام لوگوں کو بموں سے اڑائیں اور ان کے گلے کاٹنا شروع کر دیں تو ظاہر ہے، بدگمانی ہی پیدا ہو گی۔
یوں دیکھا جائے تو پاکستان، ایران کے 1970ء کے حالات اور روس کے 1917ء جیسے معاملات سے ابھی کوسوں دور ہے۔ علاوہ ازیں، ملک کی افواج متحد اور خاصی منظم ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو بلاشبہ افواج پاکستان کسی بھی بغاوت کو کچلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کی تازہ مثال، 2009ء میں افواج پاکستان کے ہاتھوں جنوبی وزیرستان اور سوات میں طالبان کی شکست ہے۔ افریقہ یا دنیا کے کسی دوسرے ملک کے برعکس، پاکستان میں جب بھی، اور کئی مواقع پر افواج نے اقتدارپر قبضہ کیا ہے تو پوری فوج ایک ساتھ کھڑی نظر آئی ہے۔ سپہ سالار جرنیلوں اور چیف آف آرمی سٹاف کا موقف اس بارے، ایسے مواقع پر ہر لحاظ سے ہم آہنگ رہا ہے۔ ملک میں کبھی بھی جونئیر رینک کے افسران نے ایسی کسی کوشش میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کتاب میں افواج پاکستان سے متعلق باب میں اس بارے تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جو افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ اس ادارے کے کلچر سے بھی متعلق ہیں۔
ہاں، صرف ایک چیز ایسی ہے جو افواج پاکستان کے مورال اور تنظیم کو توڑ سکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر پاکستانی فوج کے سپاہیوں کی ایک بہت بڑی تعداد جذباتی اور انفرادی طور پر ایسی صورتحال سے دوچار ہو جائے جہاں اخلاقیات کے پیمانوں سے بلاواسطہ سامنا کرنا مقصود ہو۔ اس قسم کا دباؤ بلاشبہ فوج کو اندر سے ہلا کر رکھ دے گا۔ پاکستانی افواج کے بارے یہ ہے کہ اس کو اندر سے ہلانے کے لیے ایسا بے انتہا دباؤ درکار ہو گا۔ درحقیقت اتنا زبردست دباؤ، مثال کے طور پر پاکستانی فوجیوں کو ایک طرف پاکستان کی سالمیت اور دوسری جانب بحیثیت مسلمان، دوسرے مسلمانوں پر حملہ کرنے جیسے معاملات کے بیچ چناؤ کرنا پڑ جائے اور اس سے فرار بھی کوئی نہ ہو؟ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں تو بلاشبہ دباؤ اتنا بڑھ جائے گا کہ نچلی رینک کے افسران اور جوان، جرنیلوں کا حکم ماننے سے انکار کر دیں گے۔
جہاں تک میرا خیال ہے، اوپر بیان کردہ مفروضے کا امکان انتہائی کم ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اگر افواج پاکستان کو کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جہاں صرف ملک کے ایک، پشتون علاقے میں نہیں بلکہ پورے ملک پر امریکی حملہ ہو اور پاکستانی افواج کی کمان ایسے کسی حملے کو روکنے کے لیے احکامات جاری کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہو۔۔۔جیسا کہ فاٹا کے علاقے میں اکثر ہوتا رہا ہے۔ تو، ایسی صورتحال میں جہاں ملک کی عوام میں چونکہ پہلے ہی یہ تاثر عام ہے کہ پاکستانی ریاست، امریکی مطالبات کے سامنے سرنگوں رہتی ہے۔۔۔ افواج پاکستان کے اندر بھی اس بارے غم و غصہ کافی بڑھ کر پایا جاتا ہے۔ پاکستانی افواج کے تقریباً جتنے فوجی افسران اور جوانوں سے میری بات ہوئی ہے، وہ سبھی مانتے ہیں کہ پیشہ ورانہ زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر ان کا سامنا سرحدی علاقوں میں امریکی جارحیت سے ہوتا رہا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیشہ پاکستانیوں کو ہی صبر سے کام لینا پڑا ہے، جس کی وجہ فوجی کمان کے صاف احکامات رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال یوں ہی جاری رہی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ افواج پاکستان کے اندر صرف اسی نکتے کو لے کر، بغاوت کا عنصر جنم لے سکتا ہے تا کہ پاکستانی افواج امریکی جارحیت کا جواب دے سکیں۔ چنانچہ اگر اس معاملے پر افواج پاکستان میں توڑ پھوڑ شروع ہو گئی اور اگر یہ منظم ادارہ اسی بناء پر بنیاد پرستی کی جانب بھی ڈھلک گیا تو ملک میں اسلامی انقلاب کی راہیں ہموار ہو جائیں گی اور ریاست منہدم ہو سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو یاد رکھا جائے، نتیجہ ایرانی انقلاب جیسا نہیں نکلے گا جہاں ایک قومی انقلاب کے بعد ریاست برقرار رہی تھی بلکہ یہاں بغاوت، خانہ جنگی میں بدل جائے گی۔


اس کتاب کے ذریعے امریکیوں کو یہ  پیغام دینے کی کوشش بھی ہے کہ حالات چاہے کوئی بھی رخ اختیار کر لیں اور پاکستانی ریاست بھلے جتنی بھی سرکش کیوں نہ ہو، امریکہ کو چاہیے کہ وہ کسی طور، کسی بھی صورت پاکستان کی تباہی میں حصہ دار نہ بنے۔ جہاں یہ، وہیں عالمی طاقتوں کو یہ بھی گوش گزار کرنا مقصود ہے کہ پاکستانی افواج، پاکستانی ریاست اور نہ ہی پاکستانی عوام۔۔۔ افغان طالبان کے خلاف امریکی مطالبات کو پوری روح کے ساتھ نافذ کرنے پر کبھی تیار نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت افغان طالبان کو القاعدہ اور پاکستانی طالبان کے طور طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر، پوری طرح ایک بالکل الگ نظریہ سمجھتی اور  مغربی طاقتوں کو سمجھاتی ہے۔ پاکستان، افغانستان نہیں ہے۔۔۔ بلکہ پاکستان کسی بھی طرح کوئی دوسرا ملک نہیں ہے۔ اس کی اپنی چال اور ڈھال ہے۔ اسی لیے، اس کتاب کا عنوان، بجائے 'پاکستان: ایک سخت جان دیس 'ہے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر