یہ دیس، یہ سخت جان دیس


ہم نے اب تک دیکھا اور ایسا ہی نظر آتا ہے کہ پاکستان میں افغانستان جنگ کے تباہ کن اثرات کا راستہ یقینی طور پر روک دیا گیا ہے۔ چنانچہ اب غالب امکان یہ ہے کہ ریاست کی حیثیت سے یہ ملک باقی رہے گا۔ ویسے تو 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کو متحد پاکستان کی تباہی اور عام طور پر مستقبل میں  پاکستان کے انتشار کا اشاریہ بنایا جاتا ہے لیکن یہ  یکسر غلط پیمانہ ہے۔ یہ تو تقسیم ہند کے وقت ہی ظاہر تھا کہ ایک ایسی مملکت جو کہلوانے کی حد تک تو متحد ہے لیکن اس کے دونوں دھڑے لسانی اور ثقافتی لحاظ سے بالکل مختلف تھے۔ ان دونوں دھڑوں کے بیچ ہزار میل پر پھیلی ہندوستان جیسی  مخالف ریاست بھی واقع تھی۔۔۔ تو ایسے ملک کا تا دیر  قائم رہنا شروع سے ہی ممکن نہیں تھا۔ جغرافیائی فاصلوں، لسانی اور ثقافتی فرق کا تو کچھ نہ کچھ اسباب ہو سکتا تھا لیکن بھارتی جارحیت کا کوئی حل نہیں تھا۔ ہم نے دیکھا کہ وقت آنے پر اس امر کا کوئی تصفیہ بھی نہیں نکل پایا۔ متحد پاکستان کا المیہ یہ نہیں ہے کہ بطور ریاست یہ تجربہ ناکام ہوا ہے بلکہ دکھ کی اصل بات یہ ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانوں کا خون بے وجہ بہا دیا گیا۔
آج مغربی پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ اس کے سبھی دھڑے قدرتی طور پر ایک دوسرے سے خوب میل کھاتے ہیں۔ اس مغربی خطے کی تاریخ تقریباً ایک ہے۔ یہاں ثقافتی میل جول، برطانوی دور سے بھی بہت پہلے کا ایک دوسرے سے بل بٹا ہوا ہے۔ حالیہ پاکستان، بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد سے آج  تک قائم ہے۔ تقسیم ہند کے بعد متحدہ پاکستان چوبیس برس تک قائم رہا جبکہ آج کا  پاکستان، بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد بھی قائم دائم۔۔۔ 2010ء میں اب اسے تقریباً انچاس برس ہو چکے ہیں۔
یہ درست ہے کہ 'پاکستان' کا نام ایک مصنوعی مرکب تھا جو 1933ء میں ایک مسلمان طالب علم رحمت علی نے مستقبل میں خطہ ہندوستان میں شمال مغرب میں واقع ایک مسلمان ریاست کے طور پر پیش کیا تھا۔ لفظ پاکستان کے حروف۔۔۔ پنجاب، افغان یا پٹھان، کشمیر، سندھ اور 'تان' کا قافیہ بلوچستان کو ظاہر کرتا ہے۔  یوں، یہ ہجے مل کر لفظ پاکستان بناتے ہیں۔ اردو میں، لفظ پاکستان کے معنی 'پاک سرزمین' یا 'پاک لوگوں کے دیس' کے ہیں۔ 
ذرا غور کیجیے، تب اسلامی ریاست پاکستان کے تخیل میں مشرقی بنگال کو شامل کرنے کا خیال کسی کو نہیں آیا۔ یہ امر اس بات کا اشارہ ہے کہ 1947ء میں جب علیحدگی کا موقع آیا تو یقیناً سبھی کو اندازہ تھا کہ ایک دوسرے سے قریباً ہزار میل دور دو دھڑوں کو ایک ہی ریاست میں نتھی کر دینا کس قدر خلاف قیاس اور غیر عملی منصوبہ تھا۔ یہ بات طے ہے کہ پنجابیوں اور پٹھانوں کی اکثریت جو مغربی پاکستان پر غالب ہیں۔۔۔ انھوں نے کبھی بھی بنگالیوں کو اپنا ہم وطن نہیں سمجھا۔ بلکہ ان میں کئی دھڑے ایسے بھی ہیں جو بنگالیوں کو سچا مسلمان بھی نہیں جانتے۔ پنجابی اور پٹھان، جنوب ایشیاء میں انگریزوں کی پیدا کردہ نفرت کا پانی پیے بنگالیوں سے لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر منافرت کرتے رہے۔ یہی نہیں، بلکہ آگے چل کر پنجابیوں، پٹھانوں اور سندھیوں کے بیچ بھی انہی خطوط پر ایسی ہی منافرت دیکھنے میں آئی ہے۔
پاکستان کی قومی زبان اردو، یہاں کے کسی مقامی برادری کی مادری زبان نہیں ہے۔ اردو کا مطلب تورانی فارسی میں فوجی ٹکڑی کا ہے۔ یعنی، یہ زبان قرون وسطیٰ یعنی پندرھویں اور سولہویں صدی میں برصغیر ہند کی اسلامی افواج کا ایک لہجہ ہوا کرتی تھی جس میں ہندوستانی، فارسی اور ترک زبان کے الفاظ عام مل جاتے تھے۔ بنگالی مسلمان یہ زبان نہیں بولتے تھے بلکہ یہ تو آج کے پاکستان پر مشتمل علاقوں میں بھی کہیں نہیں بولی جاتی تھی۔ یہ مغل سلطنت کے مرکزی خطے یعنی دہلی، آگرہ، لکھنو، بھوپال اور حیدرآباد میں بولی جانے والی زبان تھی۔ یہ سبھی علاقے اب ہندوستان کا حصہ ہیں۔ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ سرکاری نظام تعلیم بھی اردو میں ہے۔ سبھی چیدہ قومی اخبارات بھی اردو میں چھپتے ہیں اور قومی سطح پر فلم انڈسٹری میں بھی اردو رائج ہے۔ پورے ملک میں اردو کو مادری زبان کے طور پر بولنے والے صرف مہاجر ہی ہیں جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان، یعنی مغربی پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ ان مہاجروں کی تعداد، پاکستان کی کل آبادی کا صرف 7 فیصد ہے۔
آج کا پاکستان، 1947ء سے 1971ء تک کے پاکستان کی طرح نہیں ہے۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ یہ کوئی مصنوعی ریاست نہیں ہے بلکہ اس دھڑے میں جغرافیائی لحاظ سے بلا کی مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس مطابقت کی جڑیں ہزاروں سال پرانی تاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ پورا خطہ دراصل دریائے سندھ کا طاس ہے اور پہاڑی سلسلے، صحرا اور دلدلی علاقے قدرتی طور پر میل کھاتے ہیں۔ نو آبادیاتی دور کے بعد بننے والی اکثر ریاستوں کے برعکس آج کے پاکستان میں جغرافیائی اور منطقی، الغرض ہر لحاظ سے گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں بسنے والی مختلف قومیں بھی ہزاروں سال سے ایک ساتھ، مل جل کر بستے چلی آ رہی ہیں۔ گزشتہ سینکڑوں برسوں سے اکثریتی آبادی مسلمان ہے اور ہر دور میں یہ خطہ تقریباً ایک ہی طرح کی اسلامی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔
پاکستان میں پائی جانے والی علاقائی شناخت دیکھنے میں تو بہت واضح نظر آتی ہے لیکن اس کی وجہ اساسی نہیں بلکہ سیاسی اہمیت ہے۔ 2008ء کے انتخابات میں دیکھا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں کم ووٹ ملا اور پنجاب کی اکثریتی جماعت مسلم لیگ کو دوسرے صوبوں میں ووٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پاکستانیوں کا حال یہ ہے کہ ہر چکر کے اندر ایک چکر چھپا ہے۔ شناخت کے اندر شناخت رچی بسی ہے جو آگے چل کر ایک تیسری شناخت میں ڈھل جاتی ہے۔ اس ملک کی تقریباً آبادی کا، سوائے اسلام پسندوں اور فوجیوں کے یہی حال ہے بلکہ۔۔۔ بنیادی طور پر سب کا یہی حال ہے۔ ناروے کی ایک کمپنی سے منسلک، لاہور سے تعلق رکھنے والے علی حسن ہیں۔ علی حسن نے اس معاملے کو نہایت خوبی کے ساتھ سمیٹتے ہوئے مجھ سے کہا، 
'اگر میں دنیا کے کسی بہترین نظریے کو اپنا کر، ایک چبوترے پر چڑھے یہاں انقلاب کا نعرہ لگاؤں تو ذرا بتائیں، کیا ہو گا؟ سب سے پہلے تو یہ ہو گا کہ دوسرے صوبوں کے لوگ کہیں گے کہ ہم علی حسن کا ساتھ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ پنجابی ہے۔ پنجابیوں کی اکثریت کہے گی، ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔۔۔ کیونکہ یہ جٹ ہے۔ جٹ کہیں گے، ہم اس کا ہر گز ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ یہ فلاں اور فلاں برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ میرے آبائی گاؤں میں، آدھے لوگ تو مجھ سے اس لیے نالاں ہوں گے کہ میرے دادا نے ان کے دادا کے ساتھ زمین کے تنازعے پر لڑائی کی تھی اور جواباً مقدمہ دھرا تھا۔ اگر آپ اسلامی انقلاب کا نعرہ بھی لگا دیں تو پاکستانیوں کی اکثریت آپ کا ساتھ نہیں دے گی کیونکہ ہر دھڑا اپنی مرضی کا اسلام مانتا ہے۔ ہر شخص کا اپنا امام، اپنا صوفی اور اپنا مولانا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ، ہم پاکستانی کسی صورت بھی انقلاب کے لیے اکٹھے نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم کسی بھی شے کے لیے اور کسی کے پیچھے بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے!'۔
پاکستان میں بالخصوص اور اس خطے بشمول مشرق وسطیٰ میں بالعموم یہی طور ہے کہ، 'یہاں بھائی، بھائی کا دشمن ہے۔ ہم بھائی اپنے چچا ذاد بھائیوں کے مخالف ہیں۔ ہمارا خاندان، باقی برادری کا منہ چڑاتا ہے اور ہماری برادری دوسری برادریوں سے برتر ہے!' یہ سلسلہ یوں ہی چلتا اور بڑھتا ہے اور آخر کار 'ہمارا ملک، باقی دنیا سے برتر ہے اور باقی اقوام ہماری قوم سے چڑتے ہیں!' پر جا پہنچتا ہے۔ 
تبھی تو، آج تک جب بھی کسی نے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو مذہبی، لسانی یا سیاسی مقصد کے لیے اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے تو اس کا نتیجہ متفکرات کی صورت ہی برآمد ہوا ہے۔ اس امر میں چنداں حیرانگی کی کوئی بات نہیں ہے کہ ان متفکرات کے تحت سیاسی وابستگیوں، برادریوں کے تسلسل اور سب سے بڑھ کر ریاستی سطح پر گٹھ جوڑ  اور پشت پناہی کا نتیجہ ہے کہ اس ملک میں بڑی سے بڑی تحریک بھی بالآخر اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔۔۔ مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ ذرا نظر دوڑائیے تو صاف نظر آئے گا کہ ملکی تاریخ کی ہر ہر تحریک اور اصلاحاتی نظریہ وقت کے ساتھ اپنی بنیاد سے دور ہوتا چلا گیا اور آخر کار پاکستان کے روایتی سیاسی نظام کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کا سیاسی نظام کلی طور پر معاونت پرستی اور پشت پناہی کے بل بوتے پر چلتا ہے۔ اس نظام کا یہ طور سول اور فوجی، دونوں ہی طرح کے ادوار میں یکساں اور ایک ہی جیسا دیکھنے میں آیا ہے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر