کمزور ریاست، مضبوط معاشرہ


اکثر پاکستانی اور مغربی تجزیہ کار سول اور فوجی حکومتوں کے بیچ جس فرق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔۔۔ وہ  حقیقت میں نہایت ہی معمولی ہے۔ پاکستان کے متعلق بنیادی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی باگ دوڑ کوئی بھی سنبھالے۔۔۔ یہ ریاست کمزور جبکہ معاشرہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے۔ یہ حقیقت ہر طرح کے حکمرانوں پر یکساں طور اثرانداز ہوتی ہے۔  پاکستانی معاشرے میں اگر کسی شخص یا گروہ کو سماجی سطح پر بھلے معمولی ہی کیوں نہیں۔۔۔ کچھ اختیار مل جائے تو وہ اس کو دوسرے کاموں کے ساتھ  ساتھ ریاست کو یرغمال بنانے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ حکومتی مشینری کو حمایت حاصل کرنے اور ریاست کے ہاتھوں بے جا پشت پناہی پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا شخص یا گروہ اپنا الو سیدھا کرنے میں جت جاتا ہے۔  ایسا شخص اور گروہ ہمیشہ قانون اور بیوروکریسی کو موم کی ناک سمجھ کر من چاہی طرف موڑتا رہتا ہے۔  اسی طور کا نتیجہ آج یہ ہے کہ ملک کی صرف ایک فیصد یا اس سے بھی کم آبادی انکم ٹیکس جمع کراتی ہے۔ امیر ترین سرمایہ دار اور جاگیردار تو سرے سے کوئی ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ پشاور میں ایک سرکاری آڈیٹر نے کھسیانی سی ہنسی ہنس کر مجھ سے کہا، 'اگر اس ملک میں لوگ ٹیکس کی ادائیگی کو سنجیدہ عمل سمجھتے تو غالباً میں اس وقت دنیا کے مصروف ترین عہدے پر فائز ہوتا۔۔۔ لیکن مجھے دیکھیے، میری نوکری تو دنیا کی سب سے آسان نوکری ہے'۔
ریاست کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صرف حکومتوں کا اختیار اور اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ملک گیر دھڑوں اور برادریوں کی پشت پناہی کا قصہ نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ اس سے بھی کہیں گہرا ہے۔ یہ اس قدر گہرا ہے کہ اکثر قارئین اس کو ہضم نہ کر سکیں گے۔ ہوتا یوں ہے کہ ریاست کی جانب سے مہیا کی جانے والی فلاح و بہبود کی سہولیات کے فقدان کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ریاست بحیثیت ریاست چاہے کتنی ہی آزاد اور با اختیار کیوں نہ ہو جائے۔۔۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ عام عوام کی زندگیوں میں بہتری لا سکتی ہے۔ بلکہ اس ضمن میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ریاست اس صورتحال میں عوام کے فلاح کا باعث بنتی ہے اور نہ ہی یہ انھیں تا دیر دبا کر رکھ سکتی ہے۔ پولیس، عدلیہ اور دوسرے اداروں کی موجودگی سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ ریاست موجود ہے لیکن ان حکام کا زیادہ تر وقت برسر اقتدار۔۔۔ بلکہ کہیے ملک کی طاقتور شخصیات کی ایماء پر کام کرنے اور بعض اوقات ماورائے عدالت قتال اور جرائم کی پیروی کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ یہ طاقتور، کوئی بھی اور کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ اس ملک میں طاقتور کے ہاتھ اختیار، اثر رسوخ اور پیسے کے ہتھیار ہوتے ہیں جو قانون کو اپنی مرضی سے توڑ اور مروڑ سکتے ہیں۔
انیسویں صدی میں، برطانوی سامراجی دور کے ایک افسر سر تھامس میٹاکالف نے شمالی ہندوستان کے روایتی قصبوں اور دیہی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے انھیں 'چھوٹی جمہوریوں' کا نام دیا تھا۔ ان جمہوریوں میں انصاف کے اپنے پیمانے ہوتے ہیں، یہ اپنے فیصلے خود ہی پنجائیت اور جرگوں میں کرتے ہیں اور 'ریاست' کو صرف وہی ادائیگیاں کرتے ہیں جو ان سے طاقت کے بل بوتے پر وصول کی جا سکیں۔ سالہا سال کے بعد اگرچہ ان جمہوریوں کی یہ آزادی وغیرہ تو ختم ہو گئی ہے لیکن مغربی معاشروں سے موازنہ کیا جائے تو ابھی تک صورتحال وہی پرانی ہے۔ یہ طور دیہی علاقوں اور قصبات سے نکل کر پورے معاشرے میں عام ہے۔ ریاست کے مقابلے میں معاشرہ اس لیے بھی مضبوط ہے کیونکہ ہر جگہ، ہر علاقے میں اور ہر دم بھائی بندی، تعلقات اور برادری کا سکہ چلتا ہے۔ یہی ان لوگوں کی وفاداری اور اطاعت کی بنیاد ہے۔
وہ قارئین جو اس بارے مزید پڑھنا چاہتے ہیں، بلکہ کہیے سر کھپانے کے متمنی ہوں تو  اس تعارفی حصے کے آخر میں پاکستان میں برادریوں کے اثر و رسوخ اور دھڑے بازیوں پر مزید بیان شامل کیا گیا ہے۔ (نوٹ: یہ بیان ایک الگ قسط کی صورت شائع کیا جائے گا) فی الوقت تو صرف یہ  دھیان میں رہے کہ برادری کا رجحان اس قدر پھیلا ہوا ہےکہ لوگ ایک دوسرے  سے بھلے قریبی تعلقات نہ رکھتے ہوں، وہ برادری کا پھر بھی حصہ ہوتے ہیں۔ اس دائرے میں پاکستانیوں کی اکثریت کا حال وہی ہے جس کی روایت باقی جنوب ایشیاء میں بھی عام مل جاتی ہے۔ پورے جنوب ایشیاء بشمول پاکستان میں چاہے لوگوں کے بیچ یہ تعلق داری لگن، چاہ اور میلان پر مبنی ہو۔۔۔ احساس ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہو، مشترکہ مفادات یا تحفظ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ برادری کا سانچہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اس کی عمدہ مثال بھارت میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ بھارت میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ برادری، جمہوریت اور طبقاتی نظام ایک ساتھ چلتے ہیں اور ان میں ہم آہنگی برابر اور بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس معاملے کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ بھارت کی شمالی اور شمال مغربی ریاستوں میں چاہے کوئی معمولی آدمی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ مثال کلرک یا بس کنڈکٹر یا عام دکاندار، اگر وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے یا نقصان دینے کی پوزیشن میں ہو تو وہ ہر آدمی کا 'بھائی صاحب' بن جاتا ہے۔
جہاں پاکستانی ریاست کی اصل کمزوری قرابت داری اور برادری ازم ہے، وہیں یہی اس کی مضبوطی کا باعث بھی ہے۔ یہ پاکستان کے طبقاتی نظام کے ریشوں کو جوڑ کر رکھنے کا سبب ہے اور عمومی تعلقات اور مفادات کی بنیاد بھی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ، بالخصوص دیہی علاقوں میں وہ صرف دولت اور اختیار کے بل بوتے پر نہیں بلکہ قبیلوں اور برادریوں کی سربراہی اور قرابت داری پر اپنی حاکمیت برقرار رکھتے ہیں۔ قرابت داریاں پاکستان کے دیہی علاقوں میں جاگیرداروں اور شہری علاقوں میں سرمایہ داروں کے تسلط کی کنجی ہیں۔
اسی لیے کسی نہ کسی صورت اور ہر ہر معاملے میں اشرافیہ پر ان کے حامیوں اور پیروکاروں کے رویوں اور معاملات کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اشرافیہ کی حاکمیت میں، یہ پیروکار اسی قرابت داری کی چھتر چھایا میں بسر رکھتے ہیں اور یہ تعلق نچلے طبقے تک بھی پہنچتا ہے۔ یوں، قرابت داری بھلے کمزوری ہی سہی لیکن اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اسی کی بدولت طبقاتی فرق مٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ قرابت داری اور برادری کے نظام کی دین ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت عدم مساوات کے پیمانوں پر پاکستان کی ایک بہتر تصویر نظر آتی ہے۔ جہاں یہ، وہیں اس بابت بجا طور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ قرابت داری اور برادری کا نظام ہی ہے جس نے پاکستان میں چاہے سماجی اشتراکیت ہو یا اسلامی، ہر طرح کے انقلاب کی راہیں روک رکھی ہیں۔ اس بابت مزید تفصیل سے اگلے ابواب میں روشنی ڈالی جائے گی۔
پاکستان میں قرابت داری کی اہمیت اس احساس سے جڑی ہے ( اور یہ احساس طاقتور اور کمزور، ہر طبقے میں عام ہے!) کہ اس کی بدولت مفادات کا حصول اور تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اسی بنا پر معاشرے کے ان گنت دھڑوں میں یک جہتی قائم رہتی ہے۔ لوگوں کی دلچسپی کا مرکز مفادات کا تحفظ اور فائدے کا حصول تو ہے، اس کے ساتھ ساتھ عزت اور غیرت کا معاملہ بھی برادریوں کا طرہ ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ پاکستانی معاشرے میں وہ طبقہ یا برادری جو کسی بھی وجہ سے عوام میں رد کر دی جائے یا اس کا وجود باعث شرم ہو، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور ان کے مفادات کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں رہتی۔ برادریوں میں عزت اور غیرت کے احساس کی بدولت جہاں عورتوں کو دبا کر رکھا جاتا ہے، انھیں کھل کر کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔۔۔ وہیں یہ معاملہ سیاسی اور معاشی معاملات کو چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عزت اور غیرت ہی ہے جو برادریوں کی معاشرے میں اہمیت اور طاقت کا پیمانہ مقرر کرتی ہے۔
یہ عزت اور غیرت سے جڑا ایسا مضبوط کلچر ہے جو ایک باپ کو لاڈوں سے پالی اپنی سگی بیٹی کو کسی ناجائز تعلق نہیں بلکہ صرف اور صرف برادری سے باہر شادی کرنے اور اس ضمن میں پورے خاندان کی منظوری حاصل نہ کرنے پر بھی قتل کر دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس کلچر کی سخت گیری کی اس سے بے لوچ  مثال کوئی دوسری نہیں ہو سکتی اور اس سے آگے کسی معاشرے کی اکڑن کی کوئی منزل نہیں ہے۔ جیسا کہ ایلسن شا اور دوسروں نے بھی مشاہدہ کر رکھا ہے۔۔۔ پاکستان (اور بھارت میں بھی!) قرابت داری اور برادریوں کا نظام  اس قدر مضبوط اور بے لچک ہے  کہ اس خطے سے تعلق رکھنے والے دنیا کے دوسرے سرے پر پہنچ کر، پچاس برس پہلے ہجرت اور دوری اختیار کر کے آج بھی اس سے آزاد نہیں ہو سکے۔ وہاں، تیسری پیڑھی میں آج بھی یہی روایات بعینہ چلی آ رہی ہیں۔ دنیا کا یہ دوسرا برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک ہیں۔ یورپ کے یہ ممالک جنوب ایشیائی لوگوں کے لیے دیار غیر اور اجنبی۔۔۔ بالکل مختلف کلچر ہیں، لیکن وہاں بھی اس نظام نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ ایلسن شا نے اس بارے لکھا ہے کہ،
'آکسفورڈ میں آباد خاندان، بلاشبہ پاکستانی خاندانوں کی بستی معلوم ہوتی ہے۔ یہ خاندان دہائیاں پہلے یہاں مزدوری کے سلسلے میں ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے۔ برطانیہ میں ان کی وجہ سے ایک نیا طور جنم لے رہا ہے جس کے تحت قرابت داری اور برادریاں پھل پھول رہی ہیں۔ یہ ایسے ہی جیسے ہزاروں سال قبل برصغیر ہند میں ہجرت کر کے آنے والے، آخر کار برادریوں میں بٹ کر آباد ہو گئے تھے'۔
پاکستانی معاشرے میں عزت اور غیرت کا دفاع اور مفادات کا تحفظ سیاسی جماعتوں سے وابستگی، ریاست سے وفاداری، پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ یہ طور عوام ہی نہیں بلکہ تقریباً سیاستدانوں اور حکام میں بھی عام دیکھا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی وجہ لوگوں میں اقدار کی کمی نہیں (جیسا کہ مغربی ممالک میں عام سمجھا جاتا ہے!) بلکہ خاندان اور برادری سے بے انتہا کی وفاداری ہے۔ خاندانی نظام پاکستانی معاشرے کی کئی دوسری اقدار میں سے ایک ہے۔
چونکہ قرابت داری پاکستانی معاشرے کی بنیاد ہے تو اس کی طاقت کا مظہر سیاسی نظام میں بھی نظر آتا ہے۔ جنوب ایشیاء کے باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سیاسی جماعتوں کی اکثریت بھی خاندان شاہی سے متعلق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا روح رواں بھٹو خاندان ہے، مسلم لیگ (نواز) شریف خاندان کی جماعت ہے اور پشتون علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے خاندان اور نام پر چلتی ہے۔
مقامی سطح پر سیاسی دھڑے جو ان قومی جماعتوں کو تشکیل دیتے ہیں، وہ بھی برادریوں اور خاندانوں کا ایکا ہیں۔ یوں اس کے نتیجے میں یہ بھی ہوتا ہے کہ بینظیر بھٹو ایک عورت ہونے کے باوجود مردوں کے معاشرے پر مشتمل پاکستان کے سیاسی نظام کی سربراہی تک پہنچ جاتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کو یہ اعزاز وراثت کی وجہ سے ملا تھا اور اس امر کا جدید پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے حقوق اور فیصلہ سازی میں شمولیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے برطانیہ میں ملکہ الزبتھ اپنے والد سے ملنے والی وراثت کے نتیجے میں ملکہ بن جاتی ہیں۔
پاکستان کا واحد ادارہ جو کسی حد تک ریاستی معاملات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اظہار میں برادری نظام اور قرابت داری سے خود کو محفوظ رکھ پایا ہے، وہ افواج پاکستان ہیں۔ لیکن اس ادارے نے بھی یہ صرف اسی صورت کر کے دکھایا ہے جب افواج پاکستان بذات خود ایک بہت بڑے قبیلے یا برادری کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اب ہوتا یوں ہے کہ اس ادارے سے منسلک سپاہیوں سے لے کر جرنیلوں اور سویلین ملازمین تک کے اجتماعی مفادات کو ریاست اور معاشرے کے خرچے پر پورا کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ افواج پاکستان کے اندر بھی شمال مغربی پنجابیوں اور پشتونوں کی پرانی قربت اور برادرانہ روش عام ہے۔
اگر پاکستانیوں کا برادری نظام برطانیہ میں چل سکتا ہے تو اس میں چنداں حیرت کی بات نہیں ہے کہ پاکستانی شہروں میں بھی یہ کلچر عام ہے اور شہروں کی جانب ہجرت کرنے والے دیہی لوگ بھی اس نظام کو اپنے ساتھ پلے سے باندھ کر لائے ہیں۔ دونوں ہی صورتوں، یعنی برطانیہ میں پاکستانیوں کی سکونت اور پاکستانی شہروں کی جانب دیہی آبادیوں کی ہجرت میں برادری نظام نہ صرف جاری رہا بلکہ یہ تو خوب  پنپ بھی رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی صورتوں میں ہجرت کبھی ترک نہیں ہوئی۔ برادری ازم کی اہمیت میں چنداں فرق نہیں آیا اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر شہرکاری کے باوجود شہروں کے سیاسی و سماجی کلچر میں، کراچی کے سوا کہیں بھی بنیادی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔
یہ برادری نظام سے پاکستانیوں کی نسبت ہی ہے کہ جس کی بناء پر پاکستانی معاشرہ ابھی تک کسی بھی طرح کے انقلاب، بالخصوص سخت گیر اسلامی انقلاب بھی یہاں ناکام ہوتا آیا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے اچھی بات ہے لیکن سکے کا دوسرا رخ بالکل بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ وہ یوں کہ اسی برادری نظام کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ مسلسل ایک مایوسی اور محرومی کا شکار رہتا ہے اور کسی بھی طور آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ اصلاحات اور ترقی کی راہ میں یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔  اس رکاوٹ کے کلیدی عوامل میں دیہی علاقوں میں جاگیرداروں پر مشتمل اشرافیہ اور شہری علاقوں میں گھل مل کر رہنے والے سرمایہ دار، سیاستدان اور بڑے جرائم پیشہ آقا شامل ہیں۔ یہ سب مل کر سالہا سال سے ایک دوسرے کے تعلق داروں اور خاندانوں میں شادیاں رچاتے چلے آ رہے ہیں۔ 
ایک ہی برادری یا قرابت داری میں شادیاں رچانے کا مقصد بیرونی دباؤ سے بچاؤ کے لیے پشت پناہی، اتحاد اور اعتماد برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ایلسن شا نے آکسفورڈ میں مقیم پاکستانیوں کے بارے 2000ء میں لکھا تھا کہ ان کی برطانیہ میں آمد کو قریباً پچاس برس ہو چکے ہیں لیکن برادری سے باہر شادی کا رواج ابھی تک نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزید لکھا ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں ان آبادیوں کے 59 فیصد خاندان قریبی رشتہ داروں جیسے چچا زاد اور ماموں زادوں سے شادیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ برطانیہ میں بریڈفورڈ  اور مانچسٹر جیسے شہروں میں، جہاں پاکستانی اکثریت میں ہیں، یہ شرح بڑھ کر ہے:
'پاکستانیوں کے لیے انفرادی طور پر دولت اور امارت کا حصول سماجی رتبے کا ضامن نہیں ہے، اگرچہ یہ ایک موقع ضرور ہوتا ہے۔ انھیں پاکستان میں اپنی برادری اور اڑوس پڑوس میں واقعی کوئی سماجی رتبہ حاصل کرنا مقصود ہو تو ایسا صرف دولت اور امارت جیسے جائیداد اور کاروبار وغیرہ جما دینے سے ممکن نہیں ہے بلکہ انھیں اپنی برادری میں عزت اور رتبہ بھی کمانا پڑتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں کسی بھی شخص کے لیے عزت اور رتبے کا ایک اشاریہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے خاندان، برادری اور قبیلے کے حق میں کس قدر مخلص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان کے اندر شادیاں، بالخصوص ہمزادوں کے ساتھ بیاہ اس فرض کا بھرپور اظہار بن جاتا ہے۔ آکسفورڈ کے مشرقی حصے میں آباد تقریباً خاندانوں نے اسی طرح نہ صرف سماجی رتبہ اور عزت حاصل کی ہے بلکہ آپس میں رشتوں کی صورت مل بل کر برادریوں کی صورت بہت سی دولت اور امارت بھی جمع کر لی ہے۔ ان خاندانوں کے پاس قابل ذکر تعداد جائیدادوں اور کاروباروں کی ملکیت بھی ہے۔ ان کے نزدیک، ان کے بچوں کی پاکستان میں مقیم ان کے بھائی بندوں کے بچوں سے شادیاں عزت، غیرت اور حمیت کی اعلیٰ ترین نشانی ہے۔ اس طرح یہ خاندان یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ ان کا خاندان اور برادری براعظموں میں منقسم ہے لیکن اس کے باوجود وہ فرض کی ادائیگی میں کسی صورت چوکتے نہیں ہیں'۔
یہ برادری کا نظام اور قرابت داری ہی ہے جس کے بل بوتے پر سالہا سال سے پاکستانی سیاست میں اتار اور چڑھاؤ کے باوجود ملک کی سیاسی زندگی قدرے مستحکم رہی ہے۔ سول حکومتیں آتی اور جاتی رہیں۔۔۔ چاہے ان کی جگہ فوجی حکومتوں نے لی ہو یا سیاسی وفاداریاں تبدیل ہوتی رہی ہوں، اس بات سے بنیادی نظام پر کبھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چونکہ ان سیاسی جماعتوں کو ایک یا دوسرے، گن چن کر یہی لوگ چلاتے آئے ہیں۔ بلکہ مقامی سطح پر بھی یہی طور نظر آتا ہے۔ ہمیشہ سے یہی جماعتیں ہیں، یہی دھڑے ہیں اور یہی لوگ ہیں۔ یہ معاملہ فوجی حکومتوں کے دوران بھی ویسے کا ویسا ہی نظر آتا ہے۔  حکومتوں اور آمریتوں میں آئے دن نت نئی تبدیلیاں بھی برادری نظام اور قرابت داری پر مبنی پاکستانی سیاست کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا نہیں سکیں کیونکہ اس نظام کی جڑیں ان دھڑوں اور اتحادوں میں پھیلی ہوئی ہیں جس میں اندر سے تبدیلی کا سفر، گویا گھونگے کی چال ہے۔


 اگلی قسط : جاگیردار اور وڈیرے 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر