دریائے سندھ پر جوا


اگرچہ یہ اس دیس کی فطرت ہے لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ تا دیر سویا پڑے رہنے کا متحمل نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقت پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔ مستقبل میں دور تک نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ پاکستانی عوام کے بارے یہ بات اہم نہیں ہے کہ وہ کون ہیں؟ یا کس مذہب کے پیروکار ہیں؟ بلکہ اہم یہ ہے کہ وہ جو بھی ہیں۔۔۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے پیروں تلے زمین کم پڑتی جا رہی ہے۔ 2010ء میں پاکستان کی آبادی کا اندازہ اٹھارہ سے بیس کروڑ لگایا تھا۔ اس طرح پاکستان، دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے۔ 1998ء میں آبادی تیرہ کروڑ کے لگ بھگ تھی جبکہ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق یہ صرف ساڑھے تین کروڑ تھی۔ یہ آزادی کے صرف چار سال بعد کی بات ہے۔ 1911ء میں اس خطے کی آبادی دو کروڑ تھی، یعنی آج سو سال بعد پاکستان کی آبادی میں دس گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح دو اعشاریہ دو فیصد سالانہ ہے۔ اگر ماضی کو دیکھا جائے تو سرکاری اندازے بودے ہیں۔
پاکستان اب تک آبادی میں اضافے کی شرح کو سرعت سے کم کرنے میں ناکام رہا ہے جو ریاست کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس کی دوسری وجوہات میں سماجی قدامت پسندی، تعلیم کی کمی (بالخصوص خواتین میں تعلیم کی کمی!) اور مذہبی حلقوں کی جدیدیت سے بدظنی شامل ہیں۔ ایوب خان کے دور کے بعد آج تک کسی پاکستانی حکومت نے سنجیدگی سے خاندانی منصوبہ بندی کی تشہیر کی جرات نہیں کی۔ اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اس کی وجہ وقت کے ساتھ سماجی و معاشی تبدیلیاں اور بڑے پیمانے پر شہر کاری ہے۔ اس میں ریاست کا کوئی قابل ذکر عمل دخل نہیں ہے۔
آج پاکستانی آبادی میں جوانوں کی بڑی تعداد بتاتی ہے کہ ملک کی آبادی اگلی کئی دہائیوں تک یوں ہی بے پایاں انداز میں بڑھتی رہے گی۔ 2008ء میں ملک کی 42 فیصد آبادی چودہ سال سے کم عمر تھی۔ اگر یہی طور جاری رہا تو اکیسویں صدی کے وسط میں، ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی بڑھ کر تینتیس کروڑ ہو جائے گی۔
یہ پاکستان میں دستیاب آبی وسائل کے مقابلے میں حد سے زیادہ آبادی ہے۔ ملک میں دستیاب وسائل کسی بھی طرح سے اتنی بڑی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں تا آنکہ پانی کے استعمال اور اس بارے لائحہ عمل کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر نہ کیا جائے۔ قدیم زمانے میں ہندوستانی معیشت کو 'مون سون پر جوا' کہا جاتا تھا، آج پاکستانی ریاست کو 'دریائے سندھ پر جوا' قرار دیا جا سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا رخ دیکھا جائے تو اگلی ایک صدی میں اگر پاکستان یہ جوا جیتنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ انہونی ہی ہو گی۔ اس خطے میں پانی سے متعلق یہ ہے کہ اس کی متلون مزاجی کا اندازہ یہاں پھیلے جا بجا قدیم شہروں کے کھنڈرات سے لگایا جا سکتا ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب، جو کہ تقریباً 5000 سال پرانی ہے وہ بھی اس لیے تباہ ہو گئی کہ دریاؤں نے اپنا رخ بدل لیا تھا۔ یہاں سیلابوں کی بہتات ہو گئی تھی۔ جیسے 2010ء میں کئی دیہات اور قصبے صفحہ ہستی سے مٹ گئے، ویسے ہی 4000 سال قبل یہاں صفایا ہو گیا تھا۔
پاکستان میں ہر سال اوسطاً 240 ملی میٹر بارش برستی ہے۔ یعنی، اس وقت پاکستان دنیا بھر میں آبادی کے لحاظ سے ان ممالک میں شامل ہے جن کا انحصار بڑے پیمانے پر بارش پر رہتا ہے، یعنی یہ خطہ مجموعی طور پر بارانی ہے۔ دریائے سندھ اور اس سے نکلنے والی نہروں کے بغیر یہ ملک (بالخصوص سندھ اور پنجاب!) صحرا میں بدل جائیں گے اور بیابانی پھیل جائے گی۔ اس خطے کا وہی حال ہو گا جو انگریزوں کے دور میں دنیا کے معروف ترین نہری نظام سے پہلےتھا۔ کبھی یہ علاقہ نیم ریگستان اور اجاڑ جنگل ہوا کرتا تھا۔
اگر پاکستان کو جہاز میں بیٹھ کر دیکھیں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ جب پنجاب کے پانچ عظیم دریا اور افغانستان سے بہہ کر آنے والا دریائے کابل، دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے تو جنوب پنجاب اور پورا سندھ سیراب ہوتا ہے۔ دریاؤں کے آس پاس اس علاقے سے نکلیں تو ساری دھرتی بھوری ہی بھوری ہے۔ بعض جگہوں پر قدرتی چشموں اور ٹیوب ویلوں سے سیراب ہونے والے چند نخلستان نظر آ جاتے ہیں۔ پاکستان کے کل رقبے کا صرف 24 فیصد ہی کاشت کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادہ تر وہ علاقہ ہے جو نہری نظام سے سیراب ہوتا ہے۔ باقی سارا ملک چراہ گاہیں یا اس میں کوئی کاشت نہیں ہوتی۔ یعنی ریگستان، نیم ریگستان اور پہاڑی علاقے ہیں۔
آبی وسائل کے مسلسل اور بے تحاشا استعمال کا مطلب یہ ہے کہ اول قدرتی نالے اور چشمے خشک ہونا شروع ہو گئے ہیں اور جلد ہی زیر زمین پانی کی سطح اتنی تیزی سے گرے گی کہ بہت سے علاقوں میں ٹیوب ویل بھی ختم ہو جائیں گے۔ یوں، پاکستان کے پاس صرف دریا، یعنی دریائے سندھ باقی بچ رہے گا۔ اس کے بارے بھی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ گلیشئیر جن سے اس دریا کو پانی میسر آتا ہے 2035ء تک ختم ہو جائیں گے۔ مگر، یہ دعویٰ مبالغہ آرائی ہی محسوس ہوتی ہے لیکن اکثر ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ گلیشئیر بہرحال پگھل رہے ہیں۔ آج نہیں تو کل، 2035ء میں نہ سہی۔۔۔ اگلی صدی یا اس سے بھی اگلی صدی میں یہ بالضرور ختم ہو جائیں گے۔ ہر دو صورت، پاکستان کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے اور اگر آبی وسائل کے تحفظ اور موثر استعمال بارے ابھی سے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس ملک کے لوگوں کو موت سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب، اگر 2010ء میں سیلاب اگلی کئی دہائیوں میں مون سون کی بارشوں میں اضافے کا پیش خیمہ سمجھا جائے تو یہ پاکستان کے لیے امکانی طور پر خاصے فائدے کی بات ہے۔ امکانی اس لیے کہ مون سون سے حاصل ہونے والے آبی وسائل کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے لیے بڑے پیمانے پر زخیرہ کرنے کی گنجائش بنانے، بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے اور پہاڑی علاقوں میں ٹنڈ منڈ کوہستانوں پر دوبارہ سے جنگلات اگانے کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت، مستقبل میں 2010ء جیسی مزید آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یعنی سیلابی پانی پہاڑوں پر مٹی کے تودوں اور ملبے کو ساتھ بہا کر پہلے وادیوں اور پھر میدانوں کو دلدلی دھنس علاقے میں بدل سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں موجود آبی وسائل سے متعلق جو بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے، اس کی وجہ سے 2010ء میں اس سے بھی بڑے پیمانے پر تباہی سے بچا لیا گیا ہے۔ دریائے سندھ اور اس کی ذیلی شاخوں پر واقع بیراج، ڈیم اور نہری نظام کی بدولت پاکستان کے کئی بڑے شہر زیر آب آ کر صفحہ ہستی سے مٹ جانے سے بچ گئے۔ اگر یہ نظام نہ ہوتا تو ہلاکتوں کی تعداد 1900 سے کہیں زیادہ، بہت ہی زیادہ ہوتی۔
جہاں یہ، وہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ صرف دریائے سندھ پر اور اس سے منسلک آبی نظام پر تکیہ کر لینا، پاکستان کے لیے کسی صورت بھی فائدہ مند نہیں ہے۔ طویل مدت میں یہ ملک کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا کھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ یوں کہ اگلی ایک صدی میں موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی شدید کمی، موجودہ آبی نظام میں انحطاط اور آبادی میں بے پناہ اضافے سے مل کر ایسی صورتحال جنم لے سکتی ہے جو پاکستانی ریاست اور معاشرے، دونوں کے خاتمے کا سبب بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ ملک میں طویل المعیاد ترقی کے سبھی امدادی منصوبوں کا رخ اس خطرے سے نبٹنے کی طرف موڑ دیا جائے۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری، آب پاشی کے نظام کی بحالی اور سب سے بڑھ کر آبی وسائل کی سمجھ بوجھ کے ساتھ باکفایت استعمال کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ انسانی نسلیں جمہوریت اور کسی حد تک تحفظ کی ضمانت کے بغیر تو صدیوں تک باقی رہ سکتی ہیں لیکن کوئی بھی آدمی پانی کے بغیر تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔
پانی کی کمی سے متعلق مسائل پر آگے چل کر سندھ اور بلوچستان کے ابواب میں مزید بحث ہو گی لیکن فی الوقت 2004ء میں شائع کی گئی ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ سے مندرجہ زیل حصہ ملاحظہ کریں جو اپنے آپ میں ایک انتہائی پریشان کن بات ہے۔ اس رپورٹ کو ترتیب دینے والے محققین لکھتے ہیں،
'حقائق انتہائی تلخ ہیں۔ پاکستان پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنھیں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو وقت کے ساتھ اور آبادی کے بے پناہ اضافے کی وجہ سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ملک میں ایسے منصوبوں کا بھی فقدان ہے جن کے تحت قومی سطح پر اس بارے عملی اقدامات کی طرف رجحان پیدا ہو سکے اور آبی وسائل کی بحالی اور انصرام کا موجب بنے۔
ملک میں آبی وسائل کے دستیاب ذخائر کے علاوہ دوسرا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ زرعی مقاصد کے لیے پانی کا استعمال بے تحاشہ ہے اور اس میں فوری طور پر کمی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف آبی وسائل کو محفوظ کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو زندہ رکھنے کے لیے بھی لازم ہے۔ یاد رہے، سندھ ڈیلٹا پہلے ہی سے سمندر کے ہاتھوں غیر طبعی موت مر رہا ہے۔ پاکستان کا صرف دریائے سندھ کے واحد آبی نظام پر انحصار، انتہائی خطرے کی علامت ہے۔
دوسری جانب، کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر کا بھی بے تحاشہ اور بلا روک ٹوک استعمال جاری ہے۔ وقت کے ساتھ اس کے معیار اور مقدار ، دونوں میں کمی آ رہی ہے۔ حکومتی مشینری، امدادی ادارے اور بین الاقوامی ادارے بشمول ورلڈ بینک اس ضمن میں عملی اور واقعی اقدامات اٹھانے سے قاصر رہے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس بارے مزید غفلت تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ عملی اقدامات اٹھانے میں جتنی دیر برتی جائے گی۔۔۔ زیر زمین پانی کی سطح اتنی ہی زیادہ تیزی سے کم ہو گی اور اس کا معیار گرتا چلا جائے گا۔'
2009ء میں ایک دوسری تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھنے کا تناسب یہی رہا تو 2025ء میں ملکی آبادی کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کی سالانہ آبی ضروریات بڑھ کر 338 ارب کیوبک میٹر تک بڑھ جائیں گی۔ اگر اس بارے ہنگامی بنیادوں پر کام نہ شروع کیا گیا تو اس وقت پاکستان کے آبی ذخائر کی صورتحال وہی ہو گی جو ابھی ہے۔ یعنی پاکستان کے پاس سالانہ 236 ارب کیوبک میٹر پانی دستیاب ہو گا۔ تقریباً 100 ارب کیوبک میٹر کے خسارے سے مراد یہ ہے کہ دریائے سندھ کے کل سالانہ بہاؤ کا 66 فیصد، ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہو گا۔
یہ بات یاد رہے کہ اوپر بیان کردہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں کے واقعی اثرات ظاہر ہونے کے سوا بتائے گئے ہیں۔ اکیسویں صدی کے اواخر تک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اس قدر واضح ہو جائیں گے کہ صورتحال تباہ کن ہو گی۔ اس سے قبل کہ پاکستان ان تباہ کن حالات سے دوچار ہے، امکان غالب یہی ہے کہ اس سے کہیں پہلے دریائے سندھ کے سکڑتے ہوئے آبی وسائل کی وجہ سے صوبوں کے بیچ تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ یہ تنازعات اس قدر شدید تر ہو سکتے ہیں کہ پاکستانی ریاست اور وفاق کا باقی بچ رہنا، شاید ممکن نہ رہے۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو درپیش اس صورتحال کا طویل مدت میں باقی دنیا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تو وہ یاد رکھے کہ آج سے سو سال بعد اگر پاکستان بحیثیت ملک اور ریاست باقی رہا تو یہاں ایٹمی ہتھیار ہیں، دنیا کی چند بڑی اور منظم افواج میں سے ایک ہے، دنیا کی چھٹی بڑی آبادی ہے اور بیرون ملک بالخصوص یورپ اور برطانیہ میں تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی اور شدت پسندی جو کہ اس خطے میں صدیوں سے موجود ہے، وہ بھی بدستور باقی ہو گی۔
ان حقائق کے علاوہ بھی یہ بات واضح ہے کہ دنیا بھر میں وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، ان میں پاکستان سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس کا معاملہ عام نہیں بلکہ بہت ہی خاص ہے۔ یہ اس خطے سے متعلق بھی ہے۔ جنوب ایشیاء پر، جہاں اس وقت پوری دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ آباد ہے، اس خطے پر پاکستانی مقدر کے دور رس اثرات پڑ سکتے ہیں۔ وہ بھارتی جنھیں پاکستان کی تباہی کے خواب و خیال سے ہی تسکین ملتی ہے، وہ یہ جان لیں کہ اگر پاکستان برباد ہوا تو وہ اپنے ساتھ بھارت اور اس خطے کے دوسرے ممالک کو بھی لے ڈوبے گا۔
اگرچہ اس وقت ملک میں بین الاقوامی ترقیاتی اداروں، ممالک اور بالخصوص ورلڈ بینک کے کئی اہم منصوبے زیر غور ہیں لیکن اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے اور بہت کچھ کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں اپنے پڑوسی ملک بھارت کی نسبت مون سون کے بارشی پانی کو جمع کرنے کی صلاحیت میں بے انتہاء کمی ہے۔ اسی طرح چین کے مقابلے میں بارشی پانی کو جمع کرنے کی پاکستانی صلاحیت سرے سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ آبی وسائل کو بڑحانے کا ایسا طریقہ ہے جس کے لیے مہنگی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ابتدائی کام شروع کرنے اور بہتر، طرز نو پر مبنی انتظامی صلاحیتیں درکار ہیں۔
اسی طرح طویل المعیاد ترقی کا سارا زور پاکستان کے آبی وسائل کی بہتری کی جانب موڑنے کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس کام کے لیے بے پناہ افرادی قوت درکار ہو گی، ملک میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان پڑھ مزدوروں سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ انجنئیروں تک، آبادی میں ہر طرح کے لوگوں کے لیے یکساں مواقع بن سکتے ہیں۔ یوں بین الاقوامی اداروں اور دوسرے ممالک، بالخصوص مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد اور قرضوں کا فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے پچھلی کئی دہائیوں میں دیکھا ہے کہ امریکی امداد، اگرچہ قومی سطح پر ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی رہی ہے لیکن پاکستانی عوام اس مدد کے نتیجے میں، نچلی سطح پر صحیح معنوں میں بہرہ مند نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک، بہتیری کوششوں کے باوجود پاکستانی عوام میں امریکہ سے متعلق اعتماد اور رائے مثبت معنوں میں بحال نہیں ہو سکی۔

 اگلی قسط میں پڑھیے: پاکستانی معیشت  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر