پاکستانی معیشت


اگر پاکستانی معیشت اور انتظامی صلاحیت بارے حالات اتنے ہی وگرگوں ہوتے جتنے کہ اکثر بیان کیے جاتے ہیں تو اس بارے بات کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔ حالات اس قدر خراب نہیں ہیں۔ پاکستان نے آج تک جیسا کہ یہ کہلاتے ہیں، 'ایشیائی ٹائیگرز' کے جدید ترقیاتی طریقہ کار کو اپنانے سے گریز ہی کیا ہے اور اس کا مستقبل میں کوئی امکان بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود 1947ء سے آج تک پاکستانی معیشت کی شرح نمو بھارت کے مقابلے میں بہت ہی بہتر رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان کی شرح نمو کئی لحاظ سے خاصی متاثر کن ہے لیکن ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے قومیانے کی پالیسی کا نتیجہ تھا کہ بڑھوتری کی شرح دب کر رہ گئی اور معیشت اٹھ کر کھڑی نہیں ہو پائی۔ اگر تب اداروں اور صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ نہ لیا جاتا تو یہ بات یقینی تھی کہ پاکستان ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کی فہرست میں شمار ہوتا۔
اسی طرح نوے کی دہائی میں ملکی معیشت سخت جمود کا شکار ہو گئی اور نہلے پر دہلا، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکی پابندیوں کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ گئے۔ 1999ء سے 2008ء تک مشرف دور میں شرح نمو ساڑھے چھ فیصد سے نو فیصد کے درمیان رہی لیکن عالمی کساد بازاری اور ملک میں دہشت گردی کی لہر کے نتیجے میں یہ بڑھوتری زیادہ دیر تک پنپ نہیں سکی۔



یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ غربت میں زندگی گزار رہا ہے لیکن وہیں تقریباً ہر طرح کے حالات میں متاثر کن معاشی شرح نمو، زکوۃ اور خیرات کے مثالی نظام اور برادریوں میں بھائی چارے اور امداد کی وجہ سے غربت اور افلاس کی وہ صورتحال نظر نہیں آتی جو کہ بھارتی شہروں اور دیہی علاقوں میں عام ہے۔ درحقیقت پاکستان اور بھارت دونوں ہی میں، انتہائی غریب اور مفلس لوگوں کی صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھارت میں 'اچھوت' کہلاتے ہیں اور پاکستان میں ان کا تعلق عام طور پر 'اقلیتی' برادریوں سے ہے۔ دونوں ہی جگہوں پر، اس کی جڑیں صدیوں پرانے ذات پات کے نظام میں گڑی ہیں۔ پاکستان میں، ان اقلیتی برادریوں کا تعلق ان برادریوں سے ہے جو کہ تقسیم ہند کے وقت نوزائیدہ بھارت میں اپنے لیے خاص مواقع نہیں دیکھ پائیں اور یہیں بس گئیں اور روایتی غربت اور غیر اہمیت کے حاشیے سے باہر نہیں نکل سکیں۔ ان میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسری اقلیتیں شامل ہیں۔ پاکستان میں ایسی آبادیوں کی تعداد بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
اس لحاظ سے اور کئی دوسرے اشاریوں کے حساب سے، پاکستان قرون وسطیٰ کا منظر پیش کرتا ہے۔ پاکستانی ریاست بنیادی لیکن جدید ضروریات زندگی جیسے صاف پانی، ادویات، عوامی ذرائع نقل و حمل اور معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بحیثیت ریاست، پاکستانی حکومتیں ایک طرف عوام سے ٹیکس کی وصولی میں بودی واقع ہوئی ہیں اور دوسری جانب سرکاری محکمہ جات میں بدعنوانی عام ہے اور اس بارے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ یہ ناخواندگی کا نتیجہ ہے کہ عام لوگ بھی منظم طریقے سے اپنے حقوق کے دفاع اور بنیادی سہولیات حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان میں کئی ایسی برادریاں اور آبادیاں ہیں جو قرابت داری اور خیراتی نظام سے باہر ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ دوسری جانب ریاستی انتظام اور عوامی فلاح کے منصوبے بھی ان آبادیوں کی بنیادی ضروریات، حتیٰ کہ خوراک کی فراہمی تک کو یقینی بنانے سے قاصر ہیں۔
قومی سطح پر اگر کوئی منصوبہ انتہائی اہم تصور کر لیا جائے تو اس کے لیے کئی راہیں، خود بخود کھل جاتی ہیں اور جزوی طور پر اسے باقی نظام سے علیحدہ رکھ کر لاگو کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایسے منصوبوں میں کرپشن کی شرح کسی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ ایسے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو عام طور پر ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس بارے، کئی مثالیں موجود ہیں۔ جیسے 50ء کی دہائی میں نہری نظام میں وسعت، نئے ڈیموں کی تعمیر، گوادر کی بندرگاہ اور موٹروے کے منصوبے وغیرہ شامل ہیں۔
2009ء میں پاکستان کی جی ڈی پی 167 ارب ڈالر تھی، یعنی پاکستان دنیا کی اڑتالیسویں بڑی معیشت ہے اور اگر قوت خرید کو بھی مدنظر رکھا جائے تو پاکستان دنیا کی ستائیسویں بڑی معیشت ہے۔ عام طور پر پاکستان کا شمار ایک دیہی ملک کے طور پر کیا جاتا ہے جہاں سیاسی، معاشی اور ثقافتی طرز فکر دیہی ہی گردانی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ملک کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ صرف 20 فیصد ہی ہے۔ 'سروسز سیکٹر' جس میں چھوٹے کاروبار اور ٹرانسپورٹ شامل ہے، ملکی جی ڈی پی میں 53 فیصد اور صنعتیں 26 فیصد حصہ دار ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی 60 فیصد آبادی بہرحال دیہاتوں اور قصبات میں بسر رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک پر دیہی اشرافیہ کا اثر رسوخ ابھی تک قائم دائم ہے۔ پاکستان کی تقریباً صنعت ٹیکسٹائل اور خوراک کی پروسیسنگ پر مشتمل ہے۔ 2007ء میں پاکستانی برآمدات کا حجم 18 ارب ڈالر تھا، اس میں زیادہ حصہ کپڑے کی صنعت کا تھا۔
پاکستان میں جا بجا ٹیکنالوجی سے متعلق خوشحالی کا پیمانہ بھی نظر آ جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ نیوکلئیر اور کیمیائی صنعتیں ہیں۔ ان صنعتوں کے تزویراتی پہلو اور خطے پر اثرات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ ان صنعتوں کو دیکھ کر امید یہ پیدا ہوتی ہے کہ پاکستانی ریاست اگر کسی مقام کو حاصل کرنے کی ٹھان لے تو وہ بہت کچھ حاصل کر سکتی ہے۔ اگر ارادہ باندھ لے تو نہ صرف یہ کہ کامیابی حاصل کر سکتی ہے بلکہ کئی پڑھے لکھے، ایماندار اور پیشہ ورانہ لحاظ سے مخلص لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے۔



لیکن یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان اور دوسرے جنوب ایشیائی ملک بھی معاشی لحاظ سے ابھی تک جدید ترقی کی جانب کوئی خاطر خواہ جست لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور مستقبل قریب میں بھی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ 2009ئ میں یہاں فی کس آمدن صرف 1250 ڈالر سالانہ تھی اور اگر اس میں قوت خرید اور دوسرے لوازمات کو بھی مدنظر رکھا جائے تو یہ اس سے کہیں کم ہو گی۔ 1960ء سے لے کر 2005ء تک پاکستان میں فی کس آمدن، امریکہ کے مقابلے میں تقریباً پونے دو گنا کم ہوئی ہے۔ ملک کی تقریباً 23 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے بسر کر رہی ہے۔ ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑا عنصر ناخواندگی کا ہے۔ ملک کی صرف 55 فیصد آبادی ہی خواندہ ہے اور خواتین کی تعلیم اور خواندگی سے متعلق تو یہ شرح بہت ہی کم ہے۔ دیہی علاقوں میں تو اکثر، سرے سے شرح اور ان کی تعلیم اور حقوق کسی کے لیے بھی فوقیت ہی نہیں ہے۔

 اگلی قسط میں پڑھیے: پاکستان میں بسر

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر