پاکستان کیسے چلتا ہے؟


اس کتاب کا اولین عنوان یہی تھا، 'پاکستان کیسے چلتا ہے؟' جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ پاکستان سے متعلق مغربی دنیا میں پائے جانے والے مفروضات، تمام تر نقائص اور بے ضابطگیوں کے باوجود یہ ملک اپنے مخصوص اور تفاعلی انداز میں چلتا آیا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا کے معاملات اور حالات حاضرہ بارے لکھنے سے متعلق ایک برائی یہ ہے کہ 'ناکام ریاست' جیسی اصطلاحات کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے۔ اصل میں یہ اصطلاح جنوب افریقی صحرائے اعظم کی واقعی  ناکام اور ناکام ہوتی ہوئی ریاستوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ تب سے دنیا بھر میں کئی باقی ممالک کے لیے بھی اس اصطلاح کا بے دریغ استعمال عام ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ لکھاریوں کی منشاء اور لکھی گئی کتابوں کی ضرورت تھی جو سنسنی خیز عنوانات کا شیوہ بن گئی ہے۔
اس لحاظ سے یہ یاد رکھا جائے اور سنجیدگی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان کا موازنہ صرف اور صرف جنوب ایشیاء کے باقی کے ممالک سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس خطے کی باقی تمام ریاستوں نے تاریخ کی گزشتہ پشت میں بغاوت اور سرکشی کا سامنا کیا ہے۔ ان بغاوتوں کے نتیجے میں اس خطے کے دو ممالک افغانستان اور نیپال میں تو ریاستی نظام الٹ کر رکھ دیا گیا۔ سری لنکا اور برما میں کئی برسوں تک یورش جاری رہی اور باغیوں نے بڑے علاقے پر قبضہ جمائے رکھا۔ ان دونوں ممالک میں پاکستان میں طالبان کی سرکشی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان اور اموات واقع ہوئیں۔
بھارت  اس خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہاں پڑوسیوں کی نسبت مستحکم جمہوریت پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کو بھی ملک کے کئی حصوں میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں سے کئی غدر تو ایسے ہیں جو پچھلی کئی نسلوں سے جاری ہیں۔ ان میں سے ایک ماؤ باغیوں کی سرکشی ہے جس کے سبب ملک کے کل اضلاع کا تیسرا حصہ متاثر ہے۔ ان اضلاع میں ماؤ باغی عملی طور پر مضافات کے ایک وسیع علاقے پر قابض ہیں، جہاں انہی کا سکہ اور رٹ چلتی ہے۔ اس تقابل کو علاقائی اثر و رسوخ کے معنوں میں یوں سمجھیں کہ بھارتی ماؤ قبائل کا کنٹرول، پاکستانی طالبان کے دائرہ اختیار سے کہیں بڑا ہے۔ ستمبر 2009ء میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھارتی جمہوریہ کو درپیش خطرات میں ماؤ قبائل کی سرکشی کو سرفہرست قرار دیا تھا۔ ان کی سرکاری رائے میں یہ نہ صرف ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے بلکہ اس جنگ میں ریاست ہار رہی ہے۔ ایک بھارتی صحافی کی تحریر کردہ حال ہی میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ بھارت میں اکثر ریاستوں کا دیہی حصہ عملی طور پر ریاستی رٹ کے پیمانوں پر 'بے روک اور سرکش' واقع ہوا ہے۔
خیال رہے کہ ان حقائق کو بیان کرنے کا ہر گز یہ مطلب اور ثابت کرنا مقصود نہیں ہے کہ بھارتی جمہوریہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے یا جلد ہی یہ مملکت منہدم ہو جائے گی۔ بجائے، یہ غور طلب امر ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ریاستوں نے عام طور پر کبھی بھی علاقائی سطح سے اوپر کسی وفاق یا ریاست کا مقامی خطے پر کنٹرول برداشت نہیں کیا۔ جیسا کہ پہلے پہل قرون وسطیٰ کے یورپ میں ہوا کرتا تھا۔۔۔ جنوب ایشیاء کی تقریباً تاریخ میں بھی یہی طور دیکھا گیا ہے کہ حکومت، بالواسطہ ہی رہی ہے۔ یعنی اس کی حیثیت ضمنی یا ذیلی ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہاں حکام نے ریاستی رٹ خود  اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ با اثر مقامی افراد جیسے جاگیرداروں، نوابوں یا ٹھاکروں، قبائلی سرداروں اور تاجر برادری کے ذریعے قائم کیے رکھی ہے۔ ان جاگیرداروں، نوابوں، ٹھاکروں اور سرداروں وغیرہ کو جب بھی ریاست کی جانب سے بدتر سلوک کا احساس ہوا ہے یا وہ اپنے علاقے میں سلطنت کی جانب سے مداخلت محسوس کرنے لگتے  ہیں تو تاریخ گواہ ہے یہ  اکثر  ہی شہنشاؤں، سلطانوں اور راجاؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے زمینداروں کی عادات و اطوار، رویے اور رہن سن وغیرہ، اسی سبب اور بوجوہ قرون وسطیٰ کے یورپی جاگیرداروں سے ملتے جلتے ہیں۔
انگریزوں نے برصغیر کے طول و عرض میں ایک جدید ریاستی نظام متعارف کروایا تھا لیکن برطانوی راج بھی زیادہ تر بالواسطہ ہی قائم رہا۔ برطانوی دور میں بھی بھارت کا تقریباً تیسرا حصہ خود مختار شہزادوں، نوابوں اور راجاؤں کے زیر اثر تھا، جس پر وہ اپنی مرضی اور خودمختاری کے ساتھ حکومت کیا کرتے تھے لیکن  ملکی سطح پر وفاداریاں برطانوی راج سے جڑی تھیں۔ وہ برطانوی شہنشاہ یا ملکہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے تھے۔ یوں، یہ کہنا مناسب ہے کہ وہ برطانوی سرپرستی اور تحفظ میں اپنی ریاستوں پر حاکم تھے۔ وہ علاقے جن پر برطانیہ کے شاہی تاج کی بلاواسطہ حکمرانی تھی، وہاں پر بھی انگریزوں کے لیے مقامی با اثر اشرافیہ، سرداروں اور عمائدین کی مدد کے بغیر تا دیر حکومت برقرار رکھنا کبھی ممکن نہیں رہا۔ ان مقامی با اثر افراد کو برطانوی مفادات کے تحفظ کی خاطر مقامی سطح پر اثر و رسوخ اور انگریز راج کے ساتھ  وفاداری کے بدلے میں کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔ یہ اپنی صنعتوں اور کاروبار وغیرہ میں مزدوروں اور مزارعین کے ساتھ جیسا چاہتے، سلوک کر سکتے تھے۔ پاکستان اور بھارت کے اکثر علاقوں میں آج بھی یہ مقامی با اثر افراد، وڈیرے، نوابزادے اور سردار اکثر ڈاکوؤں، کارداروں اور باغیوں کو پالتے ہیں جو ان کے مقامی سطح پر مفادات کا تحفظ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اگر پاکستان کا مقابلہ کینیڈا یا فرانس سے کیا جائے تو بلاشبہ یہ ملک ایک ناکام ریاست ہی کہلائے گی۔ لیکن اگر اس کا تقابل بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال اور سری لنکا وغیرہ سے کیا جائے تو  حالات اس قدر وگرگوں نہیں ہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں۔ در حقیقت پاکستان میں نظر آنے والے کئی نقوش برصغیر میں عمومی طور پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ جیسے سیاسی خاندان، پولیس کی سفاکی، حکام کی کرپشن، روزمرہ زندگی میں تندی، پرتشدد برتاؤ اور مضافاتی علاقوں میں مخفی بدنظمی ور نراج وغیرہ برصغیر کے باقی سب ممالک میں بھی عام پایا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان، بھارت کی مانند ہے یا کہیے بھارت، پاکستان کے جیسا ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں ممالک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر آج پاکستان بھی بھارت کا حصہ ہوتا تو ترقی کے اشاریے یہ بتاتے ہیں کہ یہ فی کس آمدن وغیرہ کے پیمانے پر بھارتی ریاستوں میں کہیں وسط پر ہوتا۔ یہ کرناٹک سے بہت ہی نیچے لیکن بہار سے خاصا اوپر ہوتا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے دوسرا زاویہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر بھارت صرف شمالی بھارت پر مشتمل ہوتا جہاں گائے کی پوجا ہوتی اور تقریباً آبادی ہندی بولتی ہے تو یہ ملک قطعاً اور کسی صورت بھی ایک جمہوریہ نہ ہوتا بلکہ یہاں معاشی ترقی کا دور دور تک نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ بجائے، اس خطے میں ہندو قوم پرستوں کی آمریت ہوتی اور مقامی سطح پر افراتفری اور شدید بدنظمی پائی جاتی۔
پاکستان کیسے چلتا ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس خطے میں بسنے والے انسانوں کی تاریخ اور حال پر توجہ دی جائے۔ پاکستان بارے کئی چیزیں ایسی ہیں جنھوں نے مغرب میں تجزیہ کاروں کو ہی نہیں بلکہ خود پاکستانیوں کو بھی اس حوالے سے سمجھ بوجھ میں حواس باختہ کر رکھا ہے۔ پاکستانی ریاست اور سیاسی نظام کے بارے بیان کرنے کے لیے جو الفاظ  اور اصطلاحات عام طور پر استعمال میں لائی جاتی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ہمارا خیال اور معنی بیان کرتے ہیں لیکن اکثر ہی معنی اور مطلب مختلف نکلتے ہیں۔
یہ خیال تقریباً ہر شعبے اور ہر ادارے کے بارے درست ہے۔ جمہوری ادارے، قوانین، عدالتی نظام، پولیس، انتخابات، سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق۔۔۔ الغرض جس کو پرکھیں، اس کا یہی حال نظر آئے گا۔  تاہم، افواج پاکستان بارے نوٹ کر لیں کہ یہ ملک کا واحد ادارہ ہے جو مستحکم، مضبوط قواعد کا حامل اور ضوابط موجود ہیں۔ یہی اس کے اندرونی استحکام کا ثبوت بھی ہے۔ اس ادارے کا کلچر انتہائی پیشہ ورانہ ہے کیونکہ دوسرے اداروں میں پائے جانے والے اندرون اور بیرون فرق کے برعکس، افواج پاکستان میں ظاہر اور باطنی دونوں لحاظ سے عمومی طور پر ایک ہی ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو پیشہ ورانہ لحاظ سے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام تو دیتا ہے لیکن اس نظم اور ضبط کا نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ کئی دفعہ یہ ادارہ ان کاموں میں بھی الجھ جاتا ہے جو اس کے کرنے کے ہر گز نہیں ہیں۔ یعنی، یہ ادارہ گاہے بگاہے اپنے ہم پلہ لیکن کمزور اور بے ترتیب اداروں سے اختیار بھی چھین لیتا ہے اور بجائے خود ان کے فرائض سرانجام دینے کی کوشش میں جت جاتا ہے۔ بسا اوقات، یہ ادارہ اسی مقصد کے لیے قومی اقتدار ہتھیانے سے بھی باز نہیں آتا۔
پاکستان کے کئی حصے ایسے ہیں جو کہ انسانی تواریخ، بالخصوص بشریات کے شعبے میں دنیا بھر میں خصوصی دلچسپی کا سامان رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آج کسی حد تک پشتون علاقوں اور پشتونوں کے سوا پاکستان کے کسی بھی دوسرے حصے اور آبادی کو  مغرب میں سیاسی اور سیکورٹی کے معاملات پر جاری سنجیدہ مکالموں میں جگہ نہیں مل سکی ہے بلکہ یہی نہیں مغربی میڈیا بھی پشتون علاقوں کے سوا کسی دوسری جگہ بارے کچھ زیادہ متجسس نہیں رہا۔ مثال کے طور پر محمد اعظم چوہدری اور سٹفین لوہن نے پنجاب بارے نہایت اہم علمی کام سرانجام دے رکھا ہے لیکن ان کی کاوشوں کی کچھ زیادہ پذیرائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ اوپر بیان کردہ وجہ ہی ہے کہ اس کتاب میں، 'پٹھانوں' کو ان کے علاقائی اور نسلی بنیادوں کی بجائے 'پشتون یا پختون' گردانا ہے۔ دنیا بھر میں، بالخصوص مغربی دنیا میں پشتونوں کو پٹھان کے طور پر ہی جانا جاتا ہے۔ پشتونوں کے لیے پٹھان کی اصطلاح برطانوی دور میں انگریزوں نے ہندوستانی تناظر میں پکی کی تھی۔ اس ضمن میں پشتونوں کی تاریخ اور بشریات بارے کئی  علمی کام موجود ہیں اور کافی مشہور بھی ہیں۔ ان میں اولف کاروے، فریڈرک بارتھ، اکبر ایس احمد اور دوسروں کا کام نامی گرامی ہے۔ پشتونوں کو پچھلی ڈیڑھ صدی سے انگریز اور ان کے سبھی دشمن، پٹھان ہی پکارتے اور لکھتے چلے آئے ہیں۔ اس نام،  یعنی 'پٹھان' کی علمی اور تاریخی روایت کی جڑیں پشتونوں کی انگریزوں کے خلاف زبردست عسکری اور غیر عسکری جارحیت اور مزاحمت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ تاریخی لحاظ سے گویا، یہ دونوں ہی طرح کی مزاحمت آج کے پٹھانوں یا پشتونوں کے رویے اور کار کوسمجھنے میں نہایت اہم ہے۔
آج پاکستانی معاشرے کے باقی حصوں پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ مغرب اور بالخصوص امریکہ میں اس بارے سماجی تحقیق کے میدان میں تجزیہ کار گویا اندھیرے میں تیر چلاتے رہتے ہیں۔ پاکستان بارے ان کے اخذ کردہ نتائج کا منبع واقعتاً افسانوی اور ان کے اپنے ذہنوں کی اختراع ہی ہوتا ہے۔ یہ بات سننے میں بہت عجیب لگتی ہے اور یہ واقعی افسوس کا مقام بھی ہے کہ گیارہ ستمبر  کو گزرے کئی سال بیت چکے ہیں لیکن امریکی انتظامیہ میں اس خطے کے بارے، بالخصوص پاکستان کے شمال مغربی حصے میں اسلامی شدت پسندی پر ماہرانہ رائے رکھنے کا شرف ایک نوجوان کو حاصل ہے اور وہی امریکی حکومت کو مشورے دیتا ہے۔ اس نوجوان، جوشوا وائٹ کے اس طرہ کی وجہ بھی صرف یہ ہے کہ اس نے صوبہ سرحد میں کچھ عرصہ بیتا رکھا ہے۔ یوں اس خطے بارے بنیادی علم نہ ہونے کی وجہ سے، مثال کے طور پر یہاں جاری شہر کاری اور ہجرت سے پیدا ہونے والے حالات کا سیاسی، ثقافتی اور مذہبی میدانوں پر پڑنے والے اثرات اور بسا اوقات جمود کسی کو نظر ہی نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست اور مغرب، دونوں ہی علم کے فقدان کے باعث روز پیدا ہونے والے نت نئے حالات سے بے بہرہ اور بدحواس نظر آتے ہیں۔
اسلامی دنیا میں وسیع پیمانے پر جاری شہروں کی جانب ہجرت اور نئی آباد کاریوں کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں تو بالخصوص، پچھلی چند نسلوں سے دیہی علاقوں سے بڑے پیمانے پر آبادی نے شہروں کا رخ کیا ہے۔ مثالی طور پر اس ہجرت کا نتیجہ یہ تو نکلتا کہ پاکستان میں سماجی لحاظ سے بنیادی اور بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آتیں، سیاست کے پرانے اطوار دم توڑ دیتے اور برادریوں کا تصور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا۔ یہی نہیں بلکہ اسلام کا روایتی رخ بدل رہتا اور اسی بنیاد پر متوازن معاشرہ تشکیل پاتا اور ہم جدید خطوط پر استوار، سیاسی تحاریک دیکھا کرتے لیکن بجائے ہوا کیا ہے؟ میرے خیال میں پاکستانی معاشرے بارے یہ خدوخال بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن کا اس کتاب میں مفصل ذکر کیا گیا ہے لیکن یاد رہے، یہ اس بارے یہ صرف خیالات اور نقوش ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی دو نسلوں کسی بھی طرح کی سنجیدہ اور علمی تحقیق دیکھنے میں نہیں آئی ہے جسے استعمال میں لایا جا سکے۔
آج اس خطے اور معاشرے کے بارے اسی تحقیق کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ عام طور پر مغربی دنیا میں پیش کیا جانے والا معاشرتی تجزیہ مقامی شہادتوں اور دلائل کی بجائے ان کے اپنے ہی وضع کردہ اصولوں پر مبنی ہوتا ہے تو صورتحال خاصی بدنما نظر آتی ہے۔ تبھی، مغرب ایک ہی جست میں اس جنوب ایشیائی، بالخصوص پاکستانی معاملے کو اچھی طرح پرکھنے کی بجائے اس کو گمراہی اور کجردی سمجھ کر علاج کرنے پر تل جاتا ہے۔ مغربی ممالک کا سارا زور یہاں پائے جانے والی کجیوں اور کوتاہیوں کو سدھارنے پر لگتا ہے اور اکثر مغربی اقتدار کے حلقوں میں یہ مشورے سننے کو ملتے ہیں کہ اس 'ناسور' کو نظام سے الگ کر، کاٹ پھینکا جائے اور قلع قمع وغیرہ ہو۔ پاکستان کی مقامی صورتحال اور زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کو 'ناسور' کہا جاتا ہے، وہ اس ملک کا نظام ہے۔ اگر اس 'ناسور' کا 'علاج' کرنا مقصود ہے تو واحد علاج، نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور انقلابی اقدام ہیں۔ اس کے سوا کوئی بھی حل، قابل قبول اور عمل نہ ہو گا۔
پاکستان میں اس وقت، اگر اس طرح کی اصلاحات اور انقلابی اقدامات کا کسی کے پاس کوئی وعدہ ہے تو وہ بنیاد پرست اسلامی دھڑے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کا پیش کردہ تصور اس بوسیدہ نظام کو 'علاج' کے دوران ہی 'ہلاکت' میں ڈال دے گا اور یہ عین ممکن بھی ہے۔ یہ دنیا بھر میں اور بالخصوص اس خطے میں تجربے کی بنیاد پر پہلے ہی ثابت ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر دوسرا راستہ یہ ہے کہ  پاکستان خود اپنے آپ اور اس خطے کو ساتھ ملا کر آگے بڑھانے کے لیے مغربی ماڈل کا سہارا لے۔ اگر ایسا کرنا پڑا تو اس عمل کو آرام اور تحمل سے۔۔۔ سست رفتاری، بے پناہ نفع بخشی اور سب سے بڑھ کر اساسی طریقے سے اپنانا لازم ہو گا۔ یہ عمل راتوں رات نہیں بلکہ دہائیوں میں مکمل ہو گا اور یاد رہے۔۔۔ یہ عمل مغربی فہم اور شعور نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے کے اپنے مزاج کے عین مطابق، درجہ بہ درجہ مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ جو مصالحت اس ریاست میں آج باقی ہے، وہ بھی جاتی رہے گی۔

 اگلی قسط میں پڑھیے: یہ مثالی نہیں، مصالحتی ریاست ہے  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر