پاکستان میں بسر


اگر چین اور مغربی طاقتیں پاکستان کی اب تک بیان کردہ حالت کو بدلنا چاہتے ہیں تو ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت اس ملک کی دگنی اور چگنی اہمیت نہ صرف عیاں ہو بلکہ دنیا اس کو تسلیم بھی کرے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ لائحہ عمل کی بنیاد زمینی حقائق پر مبنی ہو اور باقی دنیا کو اچھی سمجھ اور بوجھ بھی رہے۔ بھلے یہ پاکستان سے متعلق وسوسے یا امید افزائی پر مبنی لائحہ عمل ہی کیوں نہ ہو لیکن کسی بھی صورت یہ سراب خیال نہیں ہونا چاہیے۔ مراد یہ ہے کہ دنیا، پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرے اور زمینی حقائق کی بنیاد پر اس ملک کو وہ مقام دلائے جس کا یہ دیس اور اس کی عوام حق دار ہیں۔ یہ کتاب، ایسے ہی کسی لائحہ عمل کے تصور خیال کو پختہ کرنے اور پاکستان کو سمجھنے میں مدد دینے کی ایک سعی ہے۔ اس کتاب کے سبھی مندرجات پاکستان کے کئی سفروں پر مبنی ہیں جو 1980ء میں اس وقت کیے گئے جب میں 'دی ٹائمز (لندن)' کے لیے صحافتی رپورٹنگ کے دوران ایک تسلسل تھا۔ اس کے علاوہ تحقیق کی غرض سے 2007ء سے 2009ء کے بیچ پانچ مزید سفر کرنے کا موقع بھی ملا۔ اس دوران یہاں چھ ماہ بسر رکھی۔ ان دو برسوں میں پاکستان کے سبھی صوبوں، ریاستوں اور بڑے شہروں کو دیکھنے اور لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔
یہاں یہ بتانا لازم ہے کہ پاکستان میں بسر کے دوران چند مخصوص پشتون علاقوں کے علاوہ پورے پاکستان میں کہیں بھی، سوائے انتہائی بدلغت اور خطرناک ڈرائیونگ۔۔۔ جان کا خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ لیکن اگر خطرناک ڈرائیونگ کو واقعی جانی خطرات سے جوڑنے بیٹھیں تو غالباً آدھی دنیا ممنوع ہو جائے گی۔ دوسری جانب، وہ مخصوص پشتون علاقے جن کا میں ںے ذکر کیا ہے۔۔۔ وہ پورے ملک کے رقبے اور آبادی کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا سا علاقہ ہے۔ اس بات پر زور دینا انتہائی لازم ہے کیونکہ مغرب میں پاکستان سے متعلق عجب رنگ کی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً مغربی تجزیہ کار اور مبصر یہاں کا اول رخ ہی نہیں کرتے۔ لیکن اگر چلے بھی آئیں تو اسلام آباد سے باہر نکل کر سفر نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ برطانوی شہری بھی پاکستان میں سفر کرنے سے متعلق ہمیشہ تذبذب کا شکار رہتے ہیں حالانکہ برطانیہ یورپ کا وہ ملک ہے جہاں تارک وطن پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد، کافی عرصے سے بستی چلی آ رہی ہے اور برطانوی تجزیہ کار اور مبصرین ان سے بخوبی واقف بھی ہیں۔ پاکستان سے متعلق یہ طور اور عذر کسی بھی طرح سے جائز نہیں ہے بلکہ کہیے، انتہائی نامناسب ہے۔
یہ درست ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے بغیر سفر کرنا یا پشاور شہر میں مسلح تحفظ کے بغیر طویل عرصے تک قیام خطرے سے خالی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ان علاقوں کے سوا پاکستان کے بقایا تقریباً سبھی بڑے شہروں میں سکون سے بسر کی جا سکتی ہے۔ دیہی علاقوں اور قصبات کا تو یہ ہے کہ ان جگہوں پر خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ یہ سرے سے محسوس ہی نہیں ہوتا۔ کئی غیر ملکی محققین، تجزیہ کار اور حکام جو پاکستان میں بین الاقوامی امدادی منصوبوں اور اداروں سے منسلک ہیں، وہ گاہے بگاہے ان جگہوں کے دورے کرتے رہتے ہیں اور کئی ان شہروں اور چھوٹے قصبات میں اپنے کام کی غرض سے بسر بھی رکھتے ہیں اور اس کے بغیر ان کا گزارہ نہیں ہے۔
میری حالیہ تحقیق جو اس کتاب کی بنیاد بھی ہے، اس کے لیے مجھے پاکستان میں بسر رکھنے کا جتنا موقع ملا، میری خواہش تھی کہ یہ اس سے کہیں زیادہ ہوتا۔ چونکہ میں ایک یونیورسٹی سے منسلک ہوں اور اس کتاب کو مکمل کرنے کے لیے وقت بھی نسبتاً کم میسر تھا، میرے لیے یہاں چھ ماہ سے زیادہ عرصہ بسر رکھنا ممکن نہیں تھا۔ بہرحال مجھے اس چھ ماہ کے عرصے میں پاکستان کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں سے بات چیت کرنے اور ملاقات کا موقع ملا۔ ان میں اکثریت، اس سے قبل کبھی بھی اس طرح کی تحقیق کا حصہ نہیں رہی۔ یعنی آج تک کسی پاکستانی یا مغربی مشاہد، محقق یا ادارے نے ان کی رائے اور خیال سے استفادہ حاصل نہیں کیا۔ یوں، اس کتاب کا حسن اس 'بے زبان' اکثریت کے رائے خیال سے کئی گنا بڑھ گیا ہے اور میرے خیال میں یہی اس کتاب کی اصل روح ہے۔ میں نے اپنے طور پوری ایمانداری سے ان سبھی لوگوں کی رائے اور فہم کو پاکستانی زمینی حقائق کی روشنی میں مجتمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن، یہ آسان نہیں تھا۔ مجھے اس ضمن میں 2008ء کا وہ دن یاد آ رہا ہے جب میں پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک عمر رسیدہ رہنما کے ساتھ گفتگو میں مشغول تھا۔ ان صاحب کے گھر کے وسیع و عریض لان میں لمبی ٹانگوں والے دو انتہائی خوبصورت اور بانکے پرندے، جن کی کلغیاں بھی تھیں۔۔۔ بے نیاز ٹہل رہے تھے۔ میں نے ان پرندوں کے بارے جاننے کی غرض سے استفسار کیا تو جواب ملا، 'یہ فلیمینگو ہیں۔'
'ہمم۔۔۔ میرے خیال میں یہ فلیمینگو نہیں ہیں!' میں نے نفی کی تو بولے،
'آپ درست کہہ رہے ہیں۔۔۔ یہ فلیمینگو نہیں ہیں۔ یہ پرندوں کی وہ قسم ہے جو گرمیوں میں روس کا رخ کرتے ہیں۔۔۔۔ کافی ہوشیار ہیں۔ پھر یہ سردیوں میں لوٹ آتے ہیں اور یہاں انڈوں سے بچے پیدا کرتے ہیں۔ میں یہ جوڑا لایا تھا لیکن یہ دونوں ہی نر نکل آئے ہیں۔ اب یہ سارا دن ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں اور لان میں اودھم مچاتے ہیں!'
'غالباً ان کی عادت بھی پشتون سیاستدانوں کی طرح ہی ہے۔۔۔؟' میں نے اپنی بات آگے بڑھانے کے لیے مذاق کا سہارا لیا تو انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے،
'ہاں بلکل، بدقسمتی سے پشتون سیاستدانوں کی طرح ہی ہیں۔۔۔ انہیں انگریزی میں کیا کہا جاتا ہے؟ ہم تو انہیں کونج کہتے ہیں۔۔۔' پھر وہ اپنے عملے کی جانب مڑے اور پوچھا، 'کونج کو انگلش میں کیا کہتے ہیں؟' تس پر مطلق انداز میں، بغیر کسی شک و شبہ کے عملے میں سے ایک بولا، '!Swans'۔
میرا مدعا یہ ہے کہ اگر اس کتاب میں کسی مقام پر میں راج ہنس کو کونج اور کونج کو لال لم ڈھنگو یا پاکستانی سیاسی چال ڈھال میں کسی کونج کو بطخ کہہ بیٹھوں تو اس میں میری عقل کا عمل دخل بہت کم ہو گا۔ اس کی اصل وجہ پاکستانی معاشرے کی کسی بھی واقعے یا حقیقت کو توڑ مروڑ کر اس کے کئی رخ اور نسخے نکال لانے کی بھرپور صلاحیت کا کمال ہے۔ یہاں سازشی نظریوں کی بہتات نظر آتی ہے اور عام طور پر ہر بات اور بے بات، انہی سازشی نظریوں سے چھن کر گزری اور بیان ہوتی ہے۔ ان بیانات میں سے بالآخر منطق اور حقیقتوں کو ڈھونڈ لانا، آسان کام نہیں ہے۔
پاکستانی معاشرے کی کثرت سے حقیقت کے ساتھ اس متصادم تعلق کے باوجود میں ذاتی طور پر پاکستان سے انس محسوس کرتا ہوں۔ یہاں بیتایا وقت میری زندگی کا یادگار دور ہے۔ اس ملک کے لوگوں نے میرے ساتھ ہمیشہ ہی مہربانی اور مہمان نوازی کا سلوک روا رکھا ہے۔ پاکستان کی ایک خوبی جو مجھے بہت بھاتی ہے، وہ یہ ہے کہ بحیثیت ناول نگار، ماہر بشریات اور مصور۔۔۔ یہ دیس میرے من کے ہر تار کو چھیڑتا ہے۔ یہاں جا بجا کہانیاں بکھری ہیں۔ انسانی تاریخ کا سمندر ہے اور دلکش مناظر پائے جاتے ہیں۔ شاید، پاکستان سے شناسائی اور محبت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں پچھلے بیس برس اس ملک کے ساتھ، کسی نہ کسی طور جڑا رہا ہوں۔ پاکستانی اشرافیہ میں میرے کئی اچھے دوست ہیں لیکن ان کی کہی کئی باتوں کو ہضم کرنے کے لیے گویا، کڑوے گھونٹ بھرنے پڑتے ہیں اور اکثر مسالہ بہت تیز ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستانی اشرافیہ تقریباً ہمیشہ ہی مغربی لبرل نظریات کا دم بھرتی نظر آتی ہے اور ان کی زیادہ تر باتیں مغربی حکام اور صحافیوں کو خوش کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ یہاں پر تمام نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑیں اس سے بھی کہیں زیادہ گہری ہیں۔ ان کی پبتا مغربی طرز کی جمہوریت، پچھلی چند نسلوں سے دنیا بھر میں انسانی حقوق، ترقی، دولت اور استحکام سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ ایک طرح سے الف لیلویٰ داستان معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان یا پاکستان جیسے دوسرے ممالک میں بھی، جب یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ ملک کسی بھی طرح سے مغربی طرز کی الف لیلویٰ جمہوریت کو اپنے یہاں پال نہیں پایا یا اس کی نسل اس کا مستحکم روپ دیکھ نہیں پائی تو گویا یہ سبکی اور سماعتوں پر خراش ڈالنے والی کرختگی کا باعث بن جاتی ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ مباحثوں سے چاہے وہ مغربی ہوں یا پاکستانی شہری۔۔۔ جان بچاتے نظر آتے ہیں اور بجائے وہی باتیں دہراتے ہوئے نظر آتے ہیں جو سننے میں اچھی لگتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں، پاکستانی اشرافیہ۔۔۔ اکثر و بیشتر ہی مغربی طرز کے لبرل نظریات اور طرز جمہوریت کے گن گاتے ملتے ہیں۔ مغربی ممالک کے شہری اپنے تئیں اس بارے مقامی افراد کے ساتھ بات چیت سے اس لیے بھی کنی کنارہ اختیار کرتے ہیں کہ کجا یہ مقامی لوگوں کے لیے بے عزتی اور مربی کا باعث ہو۔ دوسری جانب پاکستانی بھی ایسے مباحثوں کو باعث ذلت اور خفت سمجھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہمیشہ ہی، مغربی ممالک کے شہری جیسے میری مثال اور پاکستانی دوست مل بیٹھتے ہیں تو بجائے پاکستان کے حقیقی سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی پہلوؤں پر بات کریں۔۔۔ ایسی باتوں میں گھر جاتے ہیں جس میں اندرونی اور بیرونی طاقتوں کی بدخواہی کا ذکر عام ہوتا ہے۔ یہاں بدخواہوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ یہ بدخواہ جرنیل، سیاستدان، جاگیردار، ملا، بھارتی اور امریکی۔۔۔ الغرض کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
اس خطے کی طویل تاریخ اور اس کے پس منظر کے تناظر میں دیکھیں تو معاملات بالکل مختلف ہیں۔ جدید جمہوریت کا تصور مغرب کی اختراع ہے۔ تاریخ کے تقریباً حصے میں یورپی معاشروں کی حالت تقریباً ویسی ہی رہی ہے جیسی کہ پاکستان کی آج ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں کہ جدید یورپ کی بنیاد اس سنگ دلی اور سخت سفاکی پر رکھی گئی ہے کہ شاید پاکستان کے اسلامی شدت پسند اور جنوب ایشیاء مجموعی طور پر ابھی اس بدتہذیبی سے کوسوں دور ہے۔ مستقبل کی بہرحال کسی کو خبر نہیں ہے، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ پاکستانیوں میں چند خصوصیات جیسے جرات، غیرتمندی اور مہمان نوازی ایسی ہیں جو اس معاشرے کو چلانے کا باعث ہیں۔ یہی اس دیس کا اصل اثاثہ ہے اور یہی اس دیس کو سختی سے اپنے پاؤں پر کھڑے رہنے کی قوت بھی بخشتی رہیں گی۔ پاکستانی معاشرہ، اتنی آسانی سے مار نہیں کھا سکتا۔
یہاں، اس تناظر میں سائنس فکشن ناول نگار جان ویندھم کی وہ بات یاد آتی ہے جو ان کے ایک ناول میں کسی پروفیسر کے منہ سے نکلی تھی اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات میں گھری دنیا سے متعلق تھی۔ اس دنیا اور اس کے باسیوں کے لیے پروفیسر کے پاس دو مشورے تھے۔ پہلا یہ کہ، 'اونچی جگہیں تلاش کر لو اور وہیں قلعہ بندی کرو!' اور دوسرا یہ کہ، 'اپنا شمار ان منظم لشکروں میں رکھو جو دنیا میں مشہور و معروف ہیں۔ وقت آنے پر تم ان کے نام اور اس تعلق کو استعمال کر سکتے ہو'۔ پاکستان میں یہ دونوں مشورے خوب استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں 'منظم لشکروں اور پلٹنوں' یعنی برادریوں اور قرابت داریوں کی بہتات ہے اور یہاں کے سردار، قائدین اور سپہ سالار صدیوں سے 'اونچی جگہوں پر قلعہ بند' ہونے کی خوب مشق رکھتے ہیں۔ اسی لیے۔۔۔ جب وقت آن پڑا تو یہ معاشرہ دنیا کے کئی دوسرے معاشروں اور بالخصوص کامیاب معاشروں کی نسبت مستبقل سے نبٹنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔

 پہلے باب کی اختتامی قسط میں پڑھیے: پاکستان میں برادری اور قرابت داری کے نظام پر نوٹ | 20.04.2019

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر