یہ مثالی نہیں، مصالحتی ریاست ہے

اے ایف پی / بی ڈی نیوز

پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں، اس ملک کو بنیادی اور نظریاتی طور پر بدلنے کی کئی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے چیدہ تین ہیں، جن میں سے ایک سول اور دو فوجی ادوار میں ہوئیں۔ جنرل ایوب اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں جدید ریاست کا تصور پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس کا منبع ترک رہنما مصطفی کمال اتاترک کے نظریات سے مستعار لیا گیا تھا۔ کمال اتاترک جدت پسند، سیکولر اور ترک قومیت کے نظریات کے بانی ہیں۔ دوسری جانب جنرل ضیاء الحق کا نام گونجتا ہے جنھوں نے اپنے دور میں پاکستان میں نسبتاً سخت اور کٹر اسلام کو پاکستانی قومیت کے ساتھ ملا کر ایک ریاستی تصور میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔ اس ضمن میں تیسرا نام ذوالفقار علی بھٹو کا ہے، جنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ملک کے وہ عوامی رہنما تھے جو پاکستانی عوام کو خواص کی حکمرانی سے نکل کر معاشی اور سماجی قوت بنانے کا نعرہ بلند کرتے تھے۔ ان کی اس کوشش میں پاکستانی قومیت پرستی کا تڑکا بھی لگا ہوا تھا۔
یہ سب کے سب، اپنی کوششوں میں ناکام ہوئے۔ یہ سبھی رہنما آخر کار اپنی صفوں کو اسی اشرافیہ سے بھرنے پر مجبور ہوئے جس کو وہ پیچھے چھوڑ، ماضی کا قصہ بنا دینا چاہتے تھے۔ یہ سب حکمران برادری کے اسی نظام اور قرابت داریوں پر مبنی پرانی سیاست کے نظام کی نئی شکل بن گئے جس کو یہ بدلنے نکلے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ایک ایسی واقعی جماعت پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جس میں پیشہ ور سیاستدان اور واقعی مخلص نظریاتی کارکن شامل ہوا کرتے۔ بجائے ان کا تکیہ پرانے مقامی 'جاگیرداروں' اور 'سرمایہ کاروں' اور ان کے پیروکاروں پر ہی ٹکا رہا۔ پاکستانی تاریخ میں بھٹو کے سوا بلاشبہ کوئی ایک بھی رہنما بھی ایسا نہیں گزرا جس کے دور میں اس بارے کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی ہوئی نظر آئی ہو۔لیکن ہوا یہ کہ قلیل مدت میں ہی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنے اوائل دور کے برسوں جیسی نظریاتی نہیں رہی بلکہ یہ اسی پرانی، گھسی پٹی برادری اور خاندانی سیاست کی روش پر چل پڑی تھی۔



فوجی سپہ سالاروں نے ہمیشہ سیاسی اشرافیہ کا صفایا اور کرپشن کا حساب کتاب کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ تو جیسے تیسے کر ہی لیا لیکن آخر کار خود کو بھی ہمیشہ ہی اسی سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں میں کھیل، مل جل کر حکومت کرتے ہوئے پایا۔ اس کی ایک، لیکن جزوی وجہ تو یہ ہے کہ عام طور پر ملک میں کوئی بھی فوجی حکومت خود اپنے بل بوتے پر کبھی اس قابل نہیں رہی کہ وہ پارلیمان کے بغیر اقتدار قائم رکھ سکتی اور پارلیمان میں اسی پرانی سیاسی اشرافیہ کا سکہ چلتا رہا ہے۔ پارلیمان میں یہ صورتحال، قدرتی طور پر اس پاکستانی معاشرے کی تصویر ہے جس کو یہ فوجی حکمران اصولی طور پر بدلنے چلے تھے۔ اس ضمن میں مغربی طاقتوں کے اپنے بین الاقوامی تقاضوں کے علاوہ یہ مطالبہ کہ فوجی حکومتیں عوامی راہ چھوڑ کر فی الفور 'جمہوریت' بحال کریں۔۔۔ یہ دباؤ بھی سماجی تبدیلی کی راہ میں آڑے آتا رہا ہے۔ یعنی، فوجی حکمران گر چلے بھی گئے، تو اس مقصد کے لیے بھی راستے میں ہی کہیں اسی سیاسی اشرافیہ کے ساتھ سمجھوتہ کر کے جانا پڑا۔
پاکستانی فوجی آمریتوں کے بارے یہ قابل ذکر بات ہے کہ وہ حالیہ تاریخ میں اس طرح کی جتنی بھی آمریتیں گزری ہیں۔۔۔ وہ اشرافیہ کی جانب سے شروع کی جانے والی تنقید اور اختلاف رائے کو دبانے کے حوالے سے بہت ہی زیادہ معتدل واقع ہوئی ہیں۔ پاکستانی تاریخ میں صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی واحد عوامی رہنما تھے۔۔۔ اور چند دوسرے سیاستدان بھی ہیں کہ جنھیں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یہ تعداد سیاستدانوں اور اشرافیہ کی آپس میں چقپلش کے نتیجے میں مرنے والے چیدہ لوگوں کی تعداد سے خاصی کم ہے۔ کئی اہم سیاسی رہنماؤں کو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اوپر بیان کردہ رویہ سیاسی رہنماؤں اور اشرافیہ سے متعلق ہے لیکن عام آدمی کا معاملہ اس بارے یکسر جدا ہے۔ یہ آمریت کی ہی بات نہیں ہے۔ پاکستان میں عام آدمی چاہے بھلا جس کے ہاتھ بھی طاقت اور اختیار رہا ہو۔۔۔ ہمیشہ پٹتا ہی آیا ہے۔ پاکستانی پولیس کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے گویا اس کا مقصد ہی عام آدمی کو پیٹنا وغیرہ ہے۔ غالباً پاکستانی سماج میں سب سے اہم تفریق یہی ہے کہ بقول گراہم گرین، یہ معاشرے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک حصہ قابل تعذیب یا جبر اور دوسرا حصہ ناقابل تعذیب یا جبر ہے۔ ایک کو بھلے جتنی چاہے، جس طرح چاہے اذیت پہنچائی جا سکتی ہے اور دوسرے کو ہاتھ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔ پاکستانی سماج میں پائی جانے والی اس تفریق کو ثابت کرنے کے لیے ایک نہایت دلچسپ حوالہ بھی موجود ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنی سوانح میں لکھا تھا، 'اس ملک میں چاہے کوئی بھی قانون ہو۔۔۔ سول یا فوجی، غریب آدمی کی قسمت میں ہمیشہ جبر کا نشانہ بننا لکھا ہے!'
پاکستانی ریاست کے شمال اور مغربی حصے میں بھی، آج تک اس حد کی بغاوت نہیں چھڑی کہ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا۔ یہ درست ہے کہ 2004ء میں سر اٹھانے والی پاکستانی تحریک طالبان کے نتیجے میں 2008ء اور 2009ئ تک خون خرابے کے امکانات خاصے بڑھ چکے تھے۔ لیکن اس خطے کا حوالہ قائم کیا جائے تو بھارت کو اپنی تاریخ میں اکثر اور آج بھی اس سے کہیں بڑی اور بدتر بغاوتوں کا سامنا رہا ہے اور بھارتی ریاست نے اس طرح کی سرکشی کو کچلنے کے لیے کہیں بڑے پیمانے پر، سخت اور انتہائی جبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
لیکن جیسے بھارت، ویسے ہی پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ذمہ دار ریاست نہیں ہے۔ یہ امر انسانی حقوق کے علمبردار گروپوں اور اداروں کے لیے ہضم کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ وہ اپنے تقریباً نظریات مغربی معاشروں کے تجربات سے اخذ کرتے ہیں جہاں ریاست کی مضبوطی ہی جبر کا باعث بن جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریاست کی قوت نہیں بلکہ کمزوری کے سبب جنم لیتی ہیں۔ یہ بات ریاستی اداروں اور حکام پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ایک پولیس اہلکار جب کسی بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ اکثر ایسا حکومتی احکامات کی بناء پر نہیں بلکہ اس ادارے میں صدیوں سے پائی جانے والی انفرادی یا گروہی سطح پر عوام پر جاری جبر کی اس شہو پر کرتا ہے جو اس ادارے کا ہمیشہ سے خاصا رہا ہے۔ اندرون سندھ میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے مجھ سے کہا، 'میں اپنے جوانوں کو عورتوں کی عزتیں لوٹنے اور لوگوں کو قتل کرنے سے روک کر رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں۔ اس کے علاوہ، حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں اپنا کام بخوبی سر انجام دینے کے لیے لوگوں کو دبا کر رکھنا پڑتا ہے اور اس کے لیے پیسہ بھی لوگوں سے ہی وصول کرنا پڑتا ہے ورنہ کار سرکار کیسے چلے گا؟'
اگر کوئی پولیس اہلکار کسی عورت کی عزت لوٹتا ہے یا حراست میں کسی مجرم کو حیوانی تشدد کا نشانہ بناتا ہے تو یہ خلاف قیاس ہے کہ ایسا دارصل وزیراعظم منموہن سنگھ کی ایماء پر یا صدر زرداری کی خواہش پر کیا جاتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ان پر ایسے اداراتی رویوں کے تدارک کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھانے کا الزام تو دھرا جا سکتا ہے لیکن یہ یاد رہے کہ ان کی حیثیت اور قابلیت، اس ضمن میں بہت محدود ہے۔ چنانچہ پاکستان اور یقیناً پورے جنوب ایشیاء اور لاطینی امریکہ میں بھی اکثر اسی وجہ سے مجموعی نظام میں جمہوریت نہایت غیر متعلق اور بے محل محسوس ہوتی ہے۔ یہ صرف ان علاقوں میں نہیں ہوتا جہاں واقعتاً جنگل کا قانون ہے بلکہ جہاں عام طور پر انسانی حقوق کا پرچار عام اور واضح نظر آتا ہے، وہاں بھی اکثر بے ربطی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔
پاکستان میں رپورٹ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اکثریت کے تانے بانے محکمہ پولیس سے جا کر ملتے ہیں۔ اس محکمہ کے اہلکاروں کا وحشیانہ پن اور ان کے ہاتھوں عوام کا استحصال عام ہے۔ یہ ایسا خود اپنے بل بوتے یا مقامی اشرافیہ کی ایماء پر کرتے ہیں۔ یہ مقامی زمینداروں، صنعت کاروں اور با اثر شخصیات کی کارستانیاں بھی کہلائی جا سکتی ہیں اور اکثر عوامی حلقے بھی اس ظلم میں اخلاقی قدروں کی خلاف ورزی اور دست اندازی کو بنیاد بنا کر پولیس اہلکاروں کو ظلم، جبر اور وحشیانہ پن کی کھلی چھٹی دے دیتے ہیں۔
عوامی سطح پر برادریوں کے اندر عورتوں کا غیرت کے نام پر قتل، بچیوں کی زبردستی شادی، تنازعات کے حل کے لیے لڑکیوں کا سودا، کاروکاری، ونی اور اجتماعی جنسی زیادتیوں جیسی سزائیں حالیہ برسوں میں بھی عام دیکھنے کو ملی ہیں۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں یہ کارستانیاں پاکستانی ریاست کی نہیں بلکہ اس علاقے کے سرادروں، خوانین، پنچائیتوں اور برادریوں کی ہیں۔ مقامی با اثر افراد، برادریوں اور پولیس کی سفاکی اور زیادتی کی ایسی مثالیں، پاکستان ہی نہیں بلکہ عام طور پر مشہور پڑوسی جمہوری ملک بھارت میں بھی عام ہیں۔ دونوں ہی ریاستوں میں پولیس بارے یہ انکشافات نئے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مفروضے پر قائم ہیں بلکہ 2009ء کی ہیومن رائٹس واچ (انسانی حقوق کی نگرانی) کی بین الاقوامی اشاعت میں بیان کیے گئے ہیں۔
اس خطے میں پولیس کے اس رویے کے تاریخی ڈانڈے بھی مل جاتے ہیں۔ راہزنی کے حوالے سے ایک قدیم ہندوستانی اصطلاح ہے جسے 'پد شاہی کم' کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب سامراجی تجارت ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عام عوام کے نزدیک ڈاکوؤں اور سپاہیوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا بلکہ اکثر ان کی جگہیں اور مقام بدلتا رہتا ہے۔ وہ سپاہی جن کا گزران مشکل ہوا کرتا تھا، وہ ڈاکو اور راہزن بن جاتے تھے جبکہ ڈاکے ڈال کر امیر و کبیر ہو جانے والے راہزن، فاتح افواج کے سپاہی بن کر جان بچاتے تھے۔ ایسے راہزن جو کسی فوج کے سپاہی بن جائیں، ان کے رہنماؤں کی قسمت میں یہاں بادشاہی اور حکمرانی ہوا کرتی تھی۔ آج بھی کسی نہ کسی طور، جنوب ایشیاء میں یہ قدیم اصطلاح آج بھی ویسی کی ویسی ہی بجا نظر آتی ہے۔
مغرب کے تجویز کردہ ماڈل اور پاکستانی آئین جو کہ مغربی معیار پر ہی استادہ ہے، دونوں کے مطابق اختیار اور اقتدار کا منبع عوام ہیں جو خود مختاری سے انتخاب کرتے ہیں۔ یہ اختیار درجہ بہ درجہ نیچے کی جانب اختیار کی منتقلی کی بات کرتا ہے جس میں افسرانہ احکامات اوپر سے صادر ہوتے ہیں۔ ایسا پارلیمان میں بنائے قوانین کی روشنی میں ہوتا ہے اور اس میں کسی شخص کے انفرادی سطح پر اختیار کا عمل دخل بہت کم ہوتا ہے۔
پاکستان میں ایسا صرف افواج پاکستان کے اندر ہوتا ہے اور اس ادارے کے بارے بھی صرف آخری بات، یعنی افسرانہ احکامات والا حصہ درست ہے۔ ریاست کے باقی حصوں جیسے مقننہ، عدلیہ اور پولیس وغیرہ میں اختیار اور احکامات، عجیب شخصی اور انفرادی معاملہ ہے جس میں گاہے بگاہے تشدد اور ظلم کا عنصر بھی مل جاتا ہے۔ یوں لے دے کر آخر میں یہ ادارے اور حصے اختیار پر مکالمے کے بعد وہ پتے بن جاتے ہیں جو بازی میں کسی ایک کے حق اور کسی دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستانی ریاست کے اس کارخانہ قدرت کو ایک ریٹائرڈ جرنیل جو نوے کی دہائی میں اندرون سندھ میں ڈاکؤں کے خلاف آپریشن کے کرتا دھرتا تھے، مزاحیہ انداز میں یوں بیان کرتے ہیں:
'ہمارے ایک فوجی افسر نے ڈاکوؤں کے گروہ کو بھاگنے پر مجبور کر دیا جس نے ایک رکن پارلیمنٹ کی جاگیر میں جا کر پناہ لے لی تھی۔ رکن پارلیمنٹ کا تعلق حکمران جماعت سے تھا۔ وہ فوجی افسر جاگیر کے اندر گھس کر ان ڈاکوؤں کو پکڑنا چاہتا تھا لیکن ڈر یہ تھا کہ اسلام آباد اور کراچی میں حکومتیں اس در اندازی پر احتجاج کرتیں اور گرفتار کیے ہوئے ڈاکوؤں کو رہا کرنا پڑتا۔ خیر، کمانڈر نے اس فوجی افسر کی تجویز کو رد کر کے بجائے اس رکن پارلیمنٹ، جس کی جاگیر میں ڈاکو چھپے ہوئے تھے، اس سے ملنے اس کے گھر پہنچ گیا۔ رکن پارلیمنٹ نے کمانڈر کی خوب آؤ بھگت کی اور پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا۔ آخر میں میزبان نے خود ہی کمانڈر کو ذاتی طور پر اعانت کی یقین دہانی کروائی۔ اگلے دن، چار ڈاکوؤں کو فوج کے حوالے کر دیا اور رکن پارلیمنٹ جو اس علاقے کا وڈیرہ بھی تھا، یہ پیغام بھجوایا کہ جنرل صاحب چاہیں تو ان میں سے دو آدمیوں کو بے شک گولی مار دیں لیکن دوسرے دو کو لازمی عدالت کے سامنے پیش کریں!'
'ان چاروں میں سے اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق چن کر دو کو گولی مار دیں؟' میں نے تقریباً بے ہوش ہوتے ہوئے پوچھا،
'نہیں۔۔۔ وڈیرے نے باقاعدہ نشاندہی کی تھی کہ چاروں میں سے کون سے دو کو گولی مار دی جائے۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دونوں نے اس کی کسی نہ کسی طور عزت گھٹائی ہو گی، وڈیرے کی ان سے کوئی چپقلش رہی ہو گی۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ وہ دونوں ڈاکو جن کو مارنے کی کھلی اجازت دی تھی، وڈیرے کی برادری سے نہیں تھے جبکہ دوسرے دو اسی کے قبیلے کے تھے۔ اپنے قبیلے کے دونوں ڈاکوؤں بارے وڈیرے کو یقین تھا کہ اس کا اتنا اثر و رسوخ ہے کہ عدالتیں ان دونوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں اور وہ دونوں چند ماہ کے اندر ہی چھوٹ جائیں گے۔ اس ملک میں پیشہ ور مجرموں اور تخریب کاروں جن کا کوئی نہ کوئی تعلق یا کسی سے واسطہ ہو تو ان سے نبٹنے کے لیے عدالتیں کسی کام کی نہیں ہیں۔ عدالتی حکام اور اہلکاروں کو رشوت دی جا سکتی ہے، سفارش کا سہارا لیا جا سکتا ہے یا پھر ڈرا دھمکا کر کسی نہ کسی صورت اپنا الو سیدھا کرنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس ملک میں کسی بد معاش اور لچے لفنگے سے واقعی نبٹنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ اسے موقع پر گولی مار دو۔ یہ انتظام اور انصرام کے لحاظ سے ایک انتہائی دشوار ملک ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے اور یہ ایسے ہی چل سکتا ہے!'
یہ ریاست کا مک مکا اور ضرورت کے لیے ناک موڑنے جیسا طرز جمہوریت کے معاملے میں بھی ایسا ہی نظر آتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت صرف لوگوں کی نمائندہ نہیں ہے بلکہ جمہور کے ساتھ یہ کئی طبقات، گروہوں اور اداروں کی نمائندہ بھی ہے۔ تبھی مقبول رائے عامہ اور قومی سطح پر منشاء اور مرضی منتشر رہتی ہے۔ کوئی بھی معاملہ ہو، اس بارے رائے عامہ ہموار کرنا ایک طویل جدوجہد معلوم ہوتا ہے اور آخر کار کسی نتیجہ پر پہنچیں تو وہ منتخب اداروں کی منشاء کی مسخ شدہ شکل بن کر ابھرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیں کہ پاکستان میں جمہوریت عام طور پر 'جمہور' یا 'عوام' یا 'رائے دہندگان' کی پرچھائیں نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر کسی بھی دوسرے معاشرے میں سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی طاقت اور اختیار کے بارے لازم ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کی فطرت اور حقیقی جمہوری پسند رویوں کی کمی کی وجوہات کا نتیجہ ہے کہ ہمیں ملک میں واقعی، جدید اور بڑی قومی سیاسی جماعتیں نظر نہیں آتیں۔ چونکہ ایسی سیاسی جماعتیں نہیں ہیں تو اسی پائے کا مستقل تنظیمی ڈھانچہ نظر نہیں آتا اور جماعتی کارکنوں کی واقعی وابستگی بھی خال خال ہے۔
اس نکتے پر غور کریں تو سمجھ آتی ہے کہ پاکستان بارے مغرب میں کیا جانے والا کوئی بھی تجزیہ اور تحقیق ناکام کیوں رہتی ہے؟ وہ اس لیے کہ مغربی تجزیہ کار اور محققین جب اداروں کے بارے سنتے ہیں۔۔۔ جیسے عدلیہ، پولیس اور مقننہ وغیرہ تو ان کے ذہن میں یہی آتا ہے کہ جیسے مغرب، ویسے ہی پاکستان میں ان اداروں کو کام کرنا چاہیے۔ انہیں قاعدے، اصول اور دستور کی پابندی کرنی چاہیے، نہ کہ یہ ضرورت کو پوری کرنے کے آلہ کار بن جائیں۔ اسی طرح، مغربی زبان میں 'کرپشن' کے جو مطلب نکلتے ہیں، ان کے تحت پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام میں سے اسے کاٹ کر پھینک دینا چاہیے لیکن واقعتاً ہوتا یوں ہے کہ یہاں پورے کا پورا سیاسی اور انتظامی نظام برادری اور قرابت داری پر چل رہا ہے۔ برادری کے نظام میں 'کرپشن' گندھی ہوئی ہوتی ہے اور اس نظام میں سے کرپشن کو کاٹ پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو مچھلی کی طرح کاٹ کر اس کی انتڑیاں اور گٹ نکال کر پھینک دیا جائے۔
اسلامی انقلاب پسندوں کو موقع ملے تو وہ دراصل یہی کر گزرنا چاہتے ہیں۔ جدید اسلامی سیاسی گروہوں کا منشور، برادریوں اور قرابت داری پر مبنی 'جاگیردارنہ' نظام سیاست کو ان کے اپنے طریق ریاست یعنی جدید عوامی سیاسی نظام میں بدلنا ہے۔ لیکن اس مقصد میں انھیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جزوی طور پر جماعت اسلامی کے سوا باقی سبھی اسلامی سیاسی جماعتیں بھی برادری نظام کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ جہاں تک پاکستانی طالبان (تحریک طالبان پاکستان) کا تعلق ہے، وہ گوریلا اور تخریب کاری کے ماقبل تاریخ قسم کے حربوں پر مبنی راستے پر گامزن ہے۔ بالفرض اگر وہ اس طریق پر چلتے ہوئے اپنا مقصد حاصل بھی کر لیں تو انھیں سیاسی نظام اور انتظام وضح کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ وہ کراچی اور لاہور تو دور کی بات، پشاور میں بھی اپنا نظام تا دیر قائم نہیں رکھ پائیں گے۔ یہ مالاکنڈ کے اضلاع اور وفاق کے زیر انتظام ایجنسیوں میں ثابت ہو چکا ہے۔
یقیناً، طالبان ملک میں پشت پناہی کا عنصر پاکستانی نظام میں جھول اور غیر مساوات سے کشید کرتے ہیں۔ بالخصوص عدل اور انصاف کی فراہمی سے متعلق نکتے پر تو لوگ جوق در جوق ان کی چھتری تلے جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہ درست ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ خواص ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی ملک میں انصاف کی فراہمی اور عدل کے بول بالا کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ جہاں وہ حقیقت، وہاں یہ بھی درست ہے کہ عام لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ انصاف کی فراہمی کا نظام کسی قابل نہیں ہے۔ ریاست کے نافذ کردہ قوانین بارے عام لوگوں کا یہی خیال ہے کہ دراصل یہ دستور اشرافیہ کی ناک اونچی رکھنے اور انھی کے مفاد کا تحفظ کرنے میں معاون ہے۔ یہ نظام انتہائی سست، کرپٹ اور لاحاصل ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس خطے اور مقامی آبادی کے لیے یہ قوانین بیگانے بھی ہیں۔ وہ یوں کہ یہ مقامی روایت سے نامانوس اور دین اسلام کے لیے بے میل جبکہ ان کا ماخذ انگریز دور کے عیسائی حکمران اور یہ سامراج کے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ یعنی، صرف اور صرف اشرافیہ کے مفاد میں ہیں۔
چنانچہ، جیسا کہ آگے چل کر اس کتاب میں یہی بیان کیا گیا ہے کہ جب پاکستانی عوام شریعت کے معاملے کو تعظیم بخشتے ہیں اور طالبان کے لیے اسی وجہ سے کہ وہ شریعت کے نفاذ کا وعدہ کرتے ہیں، نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے، اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستانی عوام طالبان کے باقی منصوبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ بجائے، یہ ایک مکسچر کی طرح ہے۔ یعنی، پاکستانی عوام شریعت کے حامی ہیں کیونکہ یہ خدا کا حکم ہے جو رسول پر نازل ہوا تھا۔ اس نظام میں عدل اور انصاف کے ایسے سخت لیکن مبہم نظام کی خواہش کی جاتی ہے جو کہ ریاستی نظام کی نسبت ڈھیلا ڈھالا ہے۔ لیکن اس نظام میں انصاف جلدی میسر آتا ہے، اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتا اور لوگوں کی آنکھوں کے سامنے، ان کی مقامی زبان میں لاگو کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے 'شرعی نظام انصاف' میں عام طور پر اشرافیہ کے خلاف نفرت چھپی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون قبائلی علاقوں میں جب طالبان مقامی 'ملک'، 'خوانین'، 'زمینداروں' یا 'سرداروں' پر حملے کرتے ہیں تو انھیں عام عوام اور قبائلیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے۔
پاکستانی سماج میں پشتون مساوات اور برابری پر سب سے زیادہ یقین رکھتے ہیں اور یہ ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔ ان کے سوا ملک کے کسی حصے اور دوسری آبادیوں میں اسلام پسندوں اور طالبان کو اس طرح پذیرائی نہیں ملی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستانی آبادی کی اکثریت اعتدال پسند واقع ہوئی ہے۔ مغربی تصور تو یہ ہے کہ اسلامی شدت پسندی کی وجہ پسماندگی ہے، لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے۔ اسلامی لام بندی کی اصل وجہ اس خطے کی جدیدیت میں صرف جزوی کامیابی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں غربت کے پیمانے کو ذہن میں رکھ کر جب ملکیت زمین یا زمینداری کا حساب لگایا جائے تو ملک کے وہ دیہی علاقے جو عام طور پر انتہائی پسماندہ سمجھے جاتے ہیں، وہاں بنیاد پرست اسلام پسندوں کی تحریک زور پکڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بنیاد پرست اسلام پسندوں نے آج تک پشتون علاقوں کے سوا جہاں بھی قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے، وہاں اس بابت فرقہ بندی (سنی اور شیعہ) اور قبائلی عنصر کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔ ایسا ہونے کی ایک وجہ، جو ذیلی ہے کہ یہاں بھی قبائلی اکٹھ پایا جاتا ہے لیکن اس کی اصل وجہ یہ کہ ان علاقوں میں بنیاد پرست اسلامی تحریک کی کامیابی کا کُل دارومدار مقامی ملاؤں پر ہے۔ یہ ملا اپنے تئیں کچھ نہیں کر سکتے بلکہ انھیں مقامی جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ مقامی جاگیردار اور با اثر لوگ کسی بھی صورت بنیاد پرست اسلام کی حمایت نہیں کرتے، بالخصوص جب اس معاملے کے ساتھ زرعی اصلاحات جڑی ہوں۔ چنانچہ، لے دے کر ان علاقوں میں فرقہ بندی کا عنصر استعمال میں لانا زیادہ آسان ہے۔
شہروں میں معاملات قدرے آزاد ہیں لیکن وہاں بھی انقلابی قدم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نچلی سطح پر اگر کسی سیاسی تحریک کا سامان پیدا بھی ہو جائے تو مقامی سیاسی رہنما اور ان کی برادریاں ایسی کسی بھی کوشش کا موقع پر گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی کامیابی کی وجہ سماجی سطح پر سیاسی شعور کی کمی اور مذہب کی بنیاد پر فرقہ بندیاں ہیں۔ سادہ الفاظ میں اس نکتے کو یوں سمجھیں کہ اگرچہ تقریباً پاکستانی آبادی میں معاشی اور سماجی لحاظ سے بے چینی پائی جاتی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ قوم اس بے چینی کے ہاتھوں اس بارے کچھ کر گزرنا بھی چاہتی ہے۔ 2009ء تک یہ صورتحال تھی کہ پاکستان کے تقریباً شہری علاقوں میں مستقل طور پر پائی جانے والی بے چینی کا اظہار کسی سیاسی تحریک یا شعور کی صورت نہیں بلکہ پرتشدد احتجاج، دنگوں اور املاک کی بربادی کی صورت نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ دیکھنے اور سننے میں عجیب لگتا ہے کہ احتجاج کے دوران پاکستانی عوام ان بسوں کو بھی سوچے سمجھے بغیر نظرآتش کر دیتی ہے جو روزانہ کی بنیادوں پر ان کے زیر استعمال رہنے والی املاک ہیں۔
اگر مغرب کا پیمانہ لاگو کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ فی الوقت دنیا میں صرف مغرب ہی جدیدیت کا واحد پیمانہ ہے۔ اس پیمانے کے تحت پاکستان میں مغربی جدیدیت کے تصور (جمہوریت، قانون اور انسانی حقوق کی پاسداری کا تصور وغیرہ) اور اسلامی قدامت پسندی کے تصور (اعتدال پسند شریعت اور اولین اسلامی دور کے مثالی بھائی چارے کا تصور وغیرہ) کے بیچ ایک کشمکش جاری ہے۔ اسی بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے بلکہ ایسا کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ملک پاکستان کئی قدامت پسند، متروک، جامد اور نیم خوابیدہ دھڑوں پر مشتمل ایک ایسا دیوہیکل معاشرہ ہے جسے اس وقت جدیدیت کے تصور پر قائل دو مختلف انتہاؤں پر بسنے والی قوتیں جگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔



ملک میں پہلی قوت یعنی مغربی جدیدیت پسند ہیں۔ ان کے پاس دنیا بھر، بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں نافذ جمہوریت کا مغربی ماڈل، برطانوی دور کے قوانین کا دستوری ورثہ اور جمہوریت پر دھندلے یقین جیسے ہتھیار ہیں۔ تاہم، یہ قوت پاکستانی معاشرے کی قدامت پرستی اور عمومی طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کے ہاتھوں پٹ رہی ہے۔
دوسری قوت اسلامی قدامت پسند ہیں جو مذہب کی بنیاد پر جدیدیت میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ اپنا مقصد قدیم زمانے اور روایت کی گہری جڑوں میں تلاش کرتے ہیں یعنی ان کے ہاتھ میں اسلام کا سرا ہے۔ یہ قوتیں بھی پاکستانی معاشرے کی قدامت پرستی، تقسیم در تقسیم، اسلامی دنیا میں جدید شرعی نظام کے کسی ماڈل کے فقدان کی وجہ سے پسپا ہے۔ ان کے پٹ جانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اشرافیہ کی اکثریت مقامی ثقافتی اور طبقاتی وجوہات کی بناء اور عملی بنیادوں پر اس ماڈل کے حق میں نہیں ہے۔ یہاں ایک نہایت دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ دونوں قوتیں، مغرب پسند اور جدید اسلامی نظام کے داعی۔۔۔ دونوں ہی اس جاری کشمکش اور جدوجہد کو گویا آسمان سے نازل کردہ الہامی اور مقدس جنگ کی صورت دیکھتے ہیں۔ ان دونوں قوتوں کے نزدیک یہ حق اور باطل کی جنگ ہے اور دونوں کے لیے یہ جنگ جیتنا انتہائی لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو ان دونوں سے ہی کوئی غرض نہیں ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ جب بھی وقت اور موقع آیا تو پاکستانی معاشرہ اس شور شرابے کی وجہ سے لمحے بھر کو جاگے گا اور پھر ان دونوں قوتوں کو ٹھینگا دکھا، شانے اچکا۔۔۔ نظرانداز کر کے ایک دفعہ پھر پرانی خوابیدہ اور متروک حالت میں جوں کا توں پڑا، سویا رہے گا۔

 اگلی قسط میں پڑھیے: دریائے سندھ پر جوا  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر