پاکستان میں تبدیلی، اوپر سے کوشش۔۔۔


جب 1950ء کی دہائی کے اوائل میں مسلم لیگ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی تو تب سے آج تک ملک میں بنیادی تبدیلی اور کایا پلٹ کی کل چار کوششیں ہوئی ہیں۔ ان میں سے تین سرسید احمد خان کے سیکولر نظریات کے تحت اور ایک اسلام پسندی پر مبنی شاہ ولی اللہ کے نظریات کی آئینہ دار تھی۔ ان میں سے تین فوجی ادوار جبکہ ایک سول حکمران کے زیر سایہ کی گئیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی تاریخ میں ادوار کو 'جمہوریت' اور 'آمریت' میں صاف صاف تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کا جمہوری دور جنرل ایوب اور پرویز مشرف کے مقابلے میں کئی لحاظ اور کہیں زیادہ آمریت پر مبنی تھا۔ اسی طرح جیسے مشرف کا 'آمریت' پر مبنی دور، نواز شریف کے 1999ء میں 'جمہوری' دور سے کئی درجہ معتدل اور عوامی رہا ہے۔
پاکستان کی دونوں بڑی 'جمہوری' سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہتے ہوئے مخالفین کے خلاف غیر قانونی اور آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کرتی آئی ہیں۔ یہ بعض اوقات نسلی اور فرقہ ورانہ تشدد کو دبانے کے لیے بھی یہ حربے استعمال کرتی رہی ہیں اور بعض اوقات سیاسی مخالفین، علیحدگی پسندوں اور فوج کے خلاف بھی ایسے ہی طریقے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ ایک پاکستانی صنعت کار نے مایوسی سے بتایا:
'پاکستان کو درپیش مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے یہاں جمہوریت پسند، آمروں کی سی عادت رکھتے ہیں اور آمروں نے خود کو جمہوریت پرست ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چنانچہ جمہوری حکومتوں نے اپنے ادوار میں کبھی جمہوریت کو کھل کر پھلنے اور پھولنے نہیں دیا جبکہ آمروں کے دور میں ملک ترقی نہیں کر سکا۔ اس لیے ظاہر ہے، یہاں آمرانہ طریق کار ہی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔'



سویلین یا فوجی، آمریت یا جمہوریت۔۔۔ پاکستانی حکومتیں ملک میں بنیادی طور پر اصلاحات کی ہر کوشش میں ناکام رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 1960ء کی دہائی میں پاکستان، جنوبی کوریا سے ترقی میں کہیں آگے تھا۔۔۔ آج بہت ہی پیچھے رہ گیا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستانی اس معاملے میں یکسر ناکام نہیں ہوئے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے جس دور میں حکومت کی، ملک میں معاشی ترقی کی رفتار تیز دکھائی دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی میں، اگرچہ ملک معاشی طور پر تباہی کا شکار ہوا لیکن پاکستانیوں کی کثیر تعداد کو دیہی اشرافیہ اور جاگیرداروں کے سامنے جھک کر رہنے اور اعانت سے چھٹکارا مل گیا۔ بھٹو نے لوگوں کو سر اٹھا کر جینے اور آزادی سے بسر کرنے کا سلیقہ دیا لیکن تب سے آج تک، عوام دوبارہ اسی چنگل میں دوبارہ پھنستی چلی گئی ہے۔ انہی کامیابیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اگرچہ پاکستان جنوبی کوریا نہیں ہے لیکن یاد رہے، پاکستان کانگو بھی نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ حالات اتنے بدتر بھی نہیں ہیں۔
پاکستان کی دو فوجی حکومتوں نے ملک میں سرسید احمد خان کے مغربی طرز فکر کی بنیادوں پر تبدیلی اور ترقی کی کوشش کی۔ اسی وجہ سے اس کتاب میں جنرل ایوب خان اور جنرل پرویز مشرف کے دور کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔ ایوب خان کا پس منظر جس قدر دلچسپ ہے، یہ پاکستان میں اتنا ہی نسلی بنیاد پر پیچیدگیوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایوب خان شمال مغربی سرحدی صوبے میں ہزارہ کے ایک قصبے میں ہندکو بولنے والے پشتون زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق تو پشتون قبیلے سے تھا لیکن حقیقت میں یہ سارا خاندانی پس منظر فضول ہے۔ ایوب خان کی اصل اور واحد شناخت یہ تھی کہ وہ ایک فوجی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد برٹش انڈین آرمی میں رسالدار میجر ہوا کرتے تھے۔ جنرل ایوب نے اپنی زندگی کا تقریباً حصہ برطانوی دور میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارا اور پھر پاکستانی فوج میں شامل ہو گئے۔ پرویز مشرف کی کہانی بھی لگ بھگ ایسی ہی ہے اور افواج پاکستان کے تقریباً افسران کا یہی احوال ہے۔ ان سبھی کی ذاتی شناخت فوج کے ساتھ جڑی ہے اور پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی فوجی کی حیثیت سے ہی تعارف رکھتے ہیں۔
ایوب خان کا خاندان برٹش ملٹری سروس میں رہا جبکہ مشرف کے آباء برطانوی دور میں سول انتظامیہ کا حصہ تھے۔ مشرف کے والد کی طرح ایوب خان نے بھی علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد سر سید احمد خان نے رکھی تھی۔ یہ دونوں اشخاص اسی وجہ سے اسلام پسندی اور سیاسی طور پر اسلام کے نام کو استعمال کرنا ناپسند کرتے تھے۔ علاوہ ازیں، یہ دونوں ہی اپنے فوجی پس منظر کی وجہ سے عمومی طور پر سیاستدانوں سے خاصے شاکی رہے۔ لیکن، جب دونوں نے اقتدار سنبھالا تو پہلی ہی فرصت میں سمجھ آ گئی کہ اقتدار پر گرفت قائم رکھنے کے لیے انہیں سیاسی اور پارلیمانی صورتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے ان دونوں نے پورے ملک سے چن چن کر مفاد پرست سیاستدانوں کو جمع کر کے سیاسی اتحاد بنائے اور انہیں خوب استعمال کیا۔ پاکستان کے دوسرے فوجی اور سویلین حکمرانوں کے برعکس یہ دونوں جرنیل ذاتی طور پر انتہائی شفیق، روادار اور بردبار مشہور تھے۔ اس کے باوجود، دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی نے جوں جوں آگے بڑھے، وقت کے ساتھ جبر کا سہارا لیا اور دباؤ کے ذریعے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی۔
پاکستان کے تقریباً سیاستدانوں کے برعکس جبکہ خاندانی سیاست کی روایت جنوب ایشیاء میں عام ہے۔۔۔ ان دونوں اور نہ ہی جنرل ضیاء الحق نے سیاسی خاندان شاہی کی بنیاد رکھی اور نہ ہی خود سے کوئی کوشش کی۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بیٹوں نے ان کے بعد سیاسی میدان میں ہاتھ مارا لیکن اس امر میں ان جرنیلوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ان جرنیلوں کے لیے خود ایسا کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے اپنے ادوار میں حکومت کو ذاتی آمریت ہی سمجھ کر چلایا۔ یہ جرنیل کسی بھی طرح سے فاتحین نہیں تھے۔ ان کی مثال کسی 'سلطان' ایسی نہیں تھی اور نہ ہی یہ جرنیل اس ادارے کو، جس نے انہیں حکومت دلائی تھی۔۔۔ ذاتی طور پر کنٹرول کرتے تھے۔
بجائے، ان کی مثال یوں ہے کہ یہ تینوں جرنیل کسی 'میریٹو کریٹک کارپوریشن' یعنی افواج پاکستانمیں میرٹ کی بنیاد پر ترقی کر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے اقتدار میں آئے۔ کسی بھی کارپوریشن کی طرح۔۔۔ اس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، یعنی باقی سینئیر جرنیلوں کا بھی انتظامی امور میں اچھا خاصا عمل دخل تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس ضمن میں افواج پاکستان کے انتظام میں سیاسی جماعتوں کی نسبت 'جدیدیت' ظاہر ہوتی ہے۔ ایوب خان اور پرویز مشرف، دونوں کے ساتھ یہی ہوا کہ جب باقی جرنیلوں نے ان کے جانے کا فیصلہ کر لیا تو انہیں جانا ہی پڑا۔ جہاں تک ضیاء الحق کی بات ہے، آج بھی کوئی نہیں جانتا کہ ان کے قتل کے پیچھے اصل میں کس کا ہاتھ تھا؟
ایوب خان اور مشرف، دونوں ہی پوری وابستگی کے ساتھ سیکولر اصلاح پسند واقع ہوئے تھے۔ ایوب خان تو اسلام پسندوں سے متعلق بالخصوص ترش رویہ رکھتے تھے۔ جنرل ایوب نے اپنے دور میں جمہوریہ پاکستان کے سرکاری نام سے لفظ 'اسلامی' بھی حذف کروایا جو بعد میں دوبارہ شامل کر دیا گیا۔ انہوں نے عورتوں کی تعلیم اور حقوق کا پرچار کیا اور ایوب خان پاکستان کے واحد حکمران تھے جس نے سنجیدگی کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے پیدائش میں وقفے پر توجہ دی اور منصوبہ بندی بھی کروائی۔ اس ضمن میں ایوب خان کے اندازے بالکل درست تھے کہ آبادی میں بے پناہ اور بے لگام اضافہ طویل مدتی بنیادوں پر ملکی ترقی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ جیسا کہ بعد کے انہی کی طرح کے حکمرانوں کے ساتھ ہوا، ایوب خان کو بھی اپنے اصلاح پسند ایجنڈے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کی وجہ اسلام پسندوں کی عوام کو مذہب کی بنیاد پر متحرک کرنے کی بے پناہ قابلیت تھی۔ پاکستانی عوام قدیم روایات اور اقدار کو چھیڑنے پر یک دم بھڑک جاتی ہے۔ دوسری جانب مقامی جاگیردار اشرافیہ تھی جو اپنی حاکمیت کو خطرے میں دیکھتے ہی یکدم متحرک ہو جاتی ہے اور بھلے ایوب خان جیسی اقتدار پر گرفت رکھنے والا حکمران ہی کیوں نہ ہو، اسے بالآخر گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔
مشرف اور بھٹو کی طرح، ایوب خان بھی ترک جمہوریہ کے بانی کمال اتاترک کی سیکولر اصلاح پسند پالیسیوں سے خاصے متاثر تھے۔ لیکن یہ تینوں حکمران اتاترک کی طرح سیکولر ایجنڈے کو پاکستان میں لاگو کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جو ساری کی ساری وہ ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان، خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترک جمہوریہ سے الگ اور مختلف سماج کہلاتا ہے۔
ترکی کے باقی معاملات اپنی جگہ، سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اتاترک اور ان کا سیکولر ایجنڈا یونانی، آرمینی اور فرانسیسیوں کے خلاف پہلی جنگ عظیم کے بعد ایشیاء اصغر پر حملے کے بعد عسکری فتح کے کندھے پر بیٹھ کر عام ہوا تھا۔ ایوب خان، 1965ء میں بھارت کے خلاف جنگ حتمی معنوں میں جیتنے میں نہ صرف بری طرح ناکام رہے بلکہ بعد اس جنگ کے امن پر مفاہمت کرنے پر عوام کا وہ قومی جوش و خروش جو انہوں نے خود ہی ابھارا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے غم و غصہ میں بدل گیا۔ بعد ازاں یہ غم و غصہ ایوب خان کے زوال کی کئی دوسری وجوہات میں سے ایک بنا۔ اسی دوران ایوب خان کو امریکہ کے ساتھ اتحاد میں بڑی طاقتوں کی مجبوریوں اور تحدید کا بھی بخوبی اندازہ ہو گیا، حالانکہ ایوب خان نے اپنی ساری انتظامیہ امریکی اتحاد اور مفادات میں جھونک دی تھی۔ مشرف کا تجربہ تو اس ضمن میں ایوب خان سے بھی کہیں کڑا رہا۔
ایوب اور مشرف، دونوں نے ہی آزاد تجارتی اور معاشی پالیسیوں کی پیروی کی۔ لیکن مشرف کے مقابلے میں ایوب خان کی حکومت نے صنعت اور ملکی ڈھانچہ بنانے میں کہیں بڑھ کر کام کیا۔ ایک لحاظ سے تو ایوب خان، مشرف ہی نہیں بلکہ بھٹو کے سوا باقی سبھی حکومتوں سے ایک قدم آگے رہے۔ 1959ء میں ایوب خان کی حکومت نے زرعی اصلاحات متعارف کروائیں۔ اگرچہ یہ اصلاحات بھارت کے مقابلے میں کہیں کم تھیں لیکن بہرحال ملک کے بڑے بڑے جاگیرداروں کو ہلا دینے کے لیے کافی تھیں۔ ان اصلاحات سے بڑی جاگیریں ٹوٹ گئیں اور شمالی پنجاب میں 'کمرشل جائیدادوں' کا رواج بڑھا۔
ایوب کی متعارف کردہ اصلاحات سے ان علاقوں میں 'سبز انقلاب' آ گیا۔ تا ہم زراعت کو کمرشلائز کرنے اور اس شعبے میں بڑے پیمانے پر مشینری کا استعمال شروع ہوا تو کسانوں میں بے روزگاری بڑھنے لگی۔ بڑے زمینداروں نے اپنی زرعی جائیدادوں سے کسانوں کی بے دخلی شروع کر دی۔ ان بے روزگار دہقانوں اور زرعی مزدوروں نے شہروں کا رخ کیا اور بعد ازاں ایوب خان کے خلاف تحریک میں ایک بڑی قوت بنے۔
1962ء میں ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ نامی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی تھی۔ اس جماعت کا مقصد سیاسی سطح پر اس مخالفت اور روز بروز بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا تھا جس کو وہ اب تک جبر سے دبانے میں ناکام رہے تھے۔ اس کی وجہ ایوب خان کا اپنا مزاج، پاکستانی ریاست کی کمزوری اور یہ حقیقت تھی کہ اپوزیشن جماعتوں نے خان کے مقابلے میں صدارت کے لیے تحریک پاکستان کی ممتاز رکن اور محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کر دیا تھا۔ ایوب خان کی 'سیاسی جماعت' کئی مقامی با اثر شخصیات اور بڑے بڑے ناموں پر مشتمل تھی اور یہ کسی طور بھی جدید سیاسی جماعت کا منظر پیش نہیں کرتی تھی جس میں کارکن، پارٹی عہدے داران اور عوامی مشینری ہوتی ہے۔
کنونشن مسلم لیگ ان جانے پہچانے خطوط پر استوار تھی جو عام طور پر کسی بھی جگہ پر اصلاح پسند حکمرانوں کے لیے روایتی اور اکثر اصلاحات کے مخالف قوتوں پر اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس کے لیے عام طور پر اصلاحات کی مخالف قوتوں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے اور ان کی بدعنوانی پر آنکھ بند کر دی جاتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہیں راضی رکھنے کے لیے گاہے بگاہے کسی نہ کسی صورت حمایت کا یقین دلایا جاتا ہے جس کا خمیازہ حکومت وقت اور ریاست کے بجٹ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پرویز مشرف نے اپنے دور میں پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) نامی ایسی ہی جماعت تشکیل دی تھی جس نے 2002ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور مشرف کی حکومت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ جماعت بھی انہی خطوط پر استوار تھی جن پر کبھی کنونشن لیگ بنائی گئی تھی۔ یہ 'سیاسی جماعت' گنے چنے لیکن چیدہ مقامی اور نامی گرامی مفاد پرست جاگیرداروں، صنعت کاروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے سیاسی لیڈروں پر مشتمل شاہی ٹولے سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ مشرف بھی، ایوب خان کی ہی طرح پرانی بوتل میں نئی شراب بھرنے پر مجبور تھے۔
یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اولین برسوں میں مشرف نے ملک میں بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف مہم اور محصولات جمع کرنے کی جو مہم شروع کی تھی وہ خاصی کامیاب رہی تھی۔ مشرف کی اس حکمت عملی کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے خاصا سراہا گیا تھا۔ لیکن پھر ہوا یوں کہ 2002ء کے انتخابات سے قبل کرپشن کے کئی مقدمات کی پیروی چھوڑ دی گئی، قرضے معاف کیے گئے اور ان سیاستدانوں کے خلاف ٹیکس چوری کے معاملات کو قالین کے نیچے دبا دیا گیا جن کی مشرف کو اس وقت ضرورت تھی اور وہ جنرل صاحب کی حمایت کے لیے بھی تیار تھے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیکس وصولی، جو 2001ء میں جی ڈی پی کا گیارہ اعشاریہ چار فیصد تھا۔۔۔ ایک دم گر کر تاریخی دس اشاریہ پانچ فیصد پر پہنچ گیا جو دنیا میں کسی انتہائی ترقی پذیر ملک کے معیار سے بھی کم تھا۔ مشرف کو اپنے اقتدار کو جائز قرار دینے کے لیے عدالتوں کی ضرورت پڑی اور ایک مصنوعی پارلیمان بھی کھڑی کرنی پڑی تو اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مشرف کو واقعی ایک 'آمر' قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس لحاظ سے تو پرویز مشرف دنیا کی تاریخ میں سب سے کمزور آمر ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔
مشرف نے ایوب خان کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے مقامی اداروں یعنی میونسپل اور یونین کونسل کی سطح پر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے۔ اس بارے یہ ہے کہ یہ حکمت عملی بیک وقت مفاد پرستی اور جمہور کی بالادستی کے ارادوں کو ظاہر کرتی ہے۔ مفاد پرستی یہ تھی کہ اس طرح سیاسی مخالفین کے صوبائی اور قومی سطح پر زور کو توڑا جا سکتا تھا اور جمہور کی بالادستی کا عنصر یہ تھا کہ اس طرح مقامی سطح پر برادریوں اور قرابت داریوں کو توڑا جا سکتا ہے۔
لیکن اس حکمت عملی اور سارے عمل میں ایک خرابی تھی جو پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی عام ہے۔ ان دونوں ممالک میں مقامی منتخب ادارے عام طور پر نہایت کمزور واقع ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر اصل اختیار اور طاقت سول سروس کے ان عہدے داروں کے ہاتھ میں رہتی ہے جسے برطانوی دور میں انگریزوں نے متعارف کروایا تھا۔ ان غیر منتخب سول عہدے داروں کا دائرہ اختیار بہت وسیع ہے اور عام طور پر مغربی ممالک کے مقابلے میں کسی طور بھی منصفانہ نہیں ہے۔ مغربی ترقی یافتہ ممالک میں اصل اختیار منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے لیکن یہاں تو عوامی اختیارات کے ساتھ ساتھ اکثر عہدے داروں کو عدالتی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ جہاں تک دونوں ممالک میں 'جمہوریت' کا تعلق ہے۔۔۔ مقامی یا قومی سطح، ہر دو صورت یہ جمہوریت سے زیادہ 'منتخب استبدادیت' یا غیر سماجی جمہوری رویہ ہوتا ہے جس میں روایت پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ مقامی حکومتوں کی کمزوری کا شہروں پر بہت ہی برا اثر ہوتا ہے جہاں ترقی اور اصلاحات کا ایجنڈا شہری سیاست کی نظر ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب، یہ بھی یاد رہے کہ انگریزوں کے دور میں سول سروس کے عہدے داران عام طور پر سیاست سے الگ ہی رہتے تھے اور انہیں اس گھن چکر میں گھسیٹنے کی سختی سے ممانعت تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس طریق سے انتظامی امور کسی نہ کسی حد تک خود مختاری اور منصفانہ بنیادوں پر چلائے جا سکتے تھے۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ یہ حکام ہر لمحے قومی اور صوبائی حکومتوں ہی نہیں بلکہ مقامی سطح کے لیڈران کے ہاتھوں بھی مجبور رہتے ہیں۔ قومی اور صوبائی سطح کے منتخب سیاستدان تو انہیں اس قدر دباؤ میں رکھتے ہیں کہ حکام کو اپنا کار سرکار سرانجام دینے میں بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سول سروس کے حکام پر یہ اثر و رسوخ جہاں سیاستدانوں اور ان کی جماعتوں کو بے پناہ اختیار بخش دیتا ہے جو اقربا پروری اور مخالفین کے تیا پانچہ کرنے میں استعمال ہو سکتا ہے، وہیں یہ اثر و رسوخ ایمانداری اور معقول انتظامی امور چلانے کے لیے بھی نہایت نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن حکام کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں اور ان عہدے داروں میں سے شاذ و نادر ہی کوئی ہو گا جسے اپنے ضلع میں علاقے اور کام کو قریب سے دیکھنے اور انتظامی و حکومتی امور کو بخوبی چلانے کا موقع ملتا ہو گا۔
ایوب خان کی 'بنیادی جمہوریت' کی سکیم ہو یا مشرف کا 'نچلی سطح پر اختیارت کی منتقلی' کا پلان، دونوں کا مقصد اوپر بیان کردہ حقیقی مسائل کو حل کرنے کی کوشش تھی۔ ان دونوں طریقوں سے اصل اختیار منتخب نمائندوں کو منتقل کرنا مقصود تھا۔ مشرف کے پلان سے متعلق تو یہ ہے کہ اس عمل میں خواتین کو بھی شامل کر کے تینتیس فیصد نشتیں مخصوص کی گئی تھیں۔ تاہم، مشرف اور ایوب دونوں کے ان منصوبوں کا حال یہ ہوا کہ اقتدار چھوٹتے ہی قومی اور صوبائی سطح پر پارلیمان کی نمائندہ عوامی حکومتوں نے ان اصلاحات پر جھاڑو پھیر دیا اور اس ضمن میں اچھے اور برے دونوں پہلوؤں کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا تا کہ وہ اپنی طاقت اور اختیار بحال کر سکیں۔
مشرف کے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے منصوبے پر تو بہت ہی زیادہ تنقید کی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس منصوبے کے تحت پولیس کے ادارے کو نہایت کمزور کر دیا گیا تھا۔ اس کے اثرات بعد میں طالبان کے حملوں کے سامنے پولیس کی نااہلی اور ناقابلیت کی صورت بھی برآمد ہوئے۔ مشرف نے پولیس کا اختیار ڈپٹی کمشنر سے لے کر منتخب ناظمین کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ڈپٹی کمشنر کے اس عہدے کو، جو انگریزوں کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔۔۔ دائرہ اختیار کو کم کر کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفیسر میں بدل دیا اور منتخب کونسلوں کے سامنے جوابدہ بنا دیا۔
ان اقدامات کا مقصد پاکستان (یہ مسئلہ بھارت میں بھی عام ہے!) کو درپیش ایک دوسرے مسئلے کا حل تلاش کرنا تھا۔ پاکستان اور بھارت، دونوں ہی ممالک میں پولیس کے انتظام اور دائرہ اختیار کا کسی کھاتے میں شمار ہی نہیں ہوتا بلکہ کہیے، یہ کھلے سانڈ کی طرح ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ جہاں یہ، وہیں بنیادی مسئلہ یہ بھی تھا کہ مقامی منتخب کونسلیں اور نمائندے کسی صورت بھی پولیس کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس مزید ہتھے سے نکل گئی اور ضلعی سطح پر کوئی بھی اس ادارے کو جوابدہ بنانے کے قابل نہ رہا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے انتظامی لحاظ سے نمائندے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور پولیس مزید کھل گئی۔ اس کی وجہ یہ بھی نہیں تھی کہ عوامی نمائندے پولیس کی جانب آنکھ بند کیے ہوئے تھے۔ یہ دراصل نمائندوں کا وہ خوف تھا جو کسی بھی بدانتظامی اور بدلحاظی کی صورت میں ذمہ داریوں اور نتائج سے مبرا ہونے کی کوشش تھی۔ یعنی نمائندوں نے راہ فرار اختیار کی۔ صرف پولیس ہی نہیں بلکہ دوسرے انتظامی شعبوں میں بھی یہ نئے منتخب ہونے والے سیاسی نمائندوں کی پود کسی بھی طور قابل نہیں تھی اور کسی صورت بھی اپنے اختیارات کو درست استعمال میں لانے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ یہ ضرور ہے کہ اگر اس نظام کو مزید وقت دیا جاتا تو یہ نمائندے انتظامی گر سیکھ ہی لیتے۔
یوں مشرف کے نچلی سطح پر اختیارات کے مںصوبے کو بنانے اور پھر اس کے خاتمے کے ساتھ بیک وقت عجیب معاملہ ہے اور یہ المیہ بھی ہے۔ یہ عجیب اس لیے ہے کہ ایک 'فوجی آمر' نے ریاستی جبر اور زبردستی کے آلات کو کمزور کیا اور المیہ یہ ہے کہ منتخب 'جمہوری' حکومتوں نے بعد ازاں مقامی سطح پر اس منصوبوں کو ختم کر کے جمہوری رویوں کے برخلاف کام کیا۔ سب سے بڑھ کر، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک ایسی اصلاح جس کے کئی مثبت جمہوری اور جدید پہلو نکل سکتے تھے اور جو جنوبی ایشیاء میں مثالی نظام کی ابتداء ہو سکتی تھی، بیچ چوراہے میں سڑنے کو چھوڑ دی گئی۔ مقامی حکومتوں کا منصوبہ مشرف کے 'روشن خیالی اور اعتدال پسندی' کے تصور کا حصہ تھا۔ روشن خیالی کا یہ تصور کسی باقاعدہ اصول اور نظام کے تحت بنایا اور نہ ہی نافذ نہیں کیا گیا لیکن یہ بالضرور ہی سرسید احمد خان کی طرز فکر کا علمبردار تھا۔ مشرف نے اپنے دور میں ضیاء دور کے کئی قدامت پسند اقدامات کا خاتمہ کیا اور ان میں سب سے بڑا قدم عورتوں کے حقوق کا پرچار اور ان کی سیاسی کردار کے راستہ صاف کرنا تھا۔
گیارہ ستمبر تک مشرف کشمیر میں اسلامی شدت پسند جہادیوں کی حمایت کرتے رہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ سنی شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت اقدامات بھی اٹھائے۔ یہ سنی شدت پسند گروہ ماضی میں بڑے پیمانے پر شیعہ کے خلاف فرقہ ورانہ تشدد کی کاروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ 2008ء اور 2009ء میں ان سنی شدت پسند گروہوں نے پاکستانی طالبان کے ساتھ اتحاد کر لیا اور یوں شیعہ کے خلاف فرقہ ورانہ تشدد کا دائرہ کار بڑھ کر اسماعیلیوں، بریلوی سنی اور صوفی سلسلوں تک پھیل گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ گروہ اور پاکستانی طالبان مل کر ریاستی اداروں کو بھی نشانہ بنانے لگے۔
مشرف کی حکومت ایوب خان کی حکومت سے دو طرح مختلف تھی۔ ان میں سے ایک کا اچھا اور دوسرے کا برا پہلو ہے۔ اچھا پہلو یہ تھا کہ ملک میں ایک فوجی آمر یعنی مشرف نے میڈیا کو آزادی دی۔ جب 2007ء میں مشرف کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو الیکٹرانک میڈیا بھی اس میں پیش پیش تھا اور مشرف کو میڈیا سے متعلق اپنے لبرل اقدامات کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ اس سے ایک حقیقت کا ادراک ہوتا ہے اور مشرف کے انتہائی قریبی کئی نامی گرامی پاکستانی بھی یہی بتاتے ہیں کہ مشرف کی جب تک اقتدار پر گرفت مضبوط رہی۔۔۔ وہ ایک آزاد خیال اور معتدل شخصیت کے مالک تھے۔ روشن خیالی اور اعتدال میں مشرف، نواز شریف اور بینظیر دونوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھے اور ملک میں صحیح معنوں میں آزاد خیالی اور اعتدال کو فروغ دینے کے خواہشمند تھے۔
مشرف کا ایوب دور سے مختلف ہونے کا دوسرا اور برا پہلو معیشت سے متعلق تھا۔ اس میں کسی نہ کسی طور مغربی اثر و رسوخ کا بھی ہاتھ تھا لیکن زیادہ تر یہ مشرف کی اپنی معاشی اور مالی معاملات کو دیکھنے والے ماہرین کا قصور تھا۔ ایوب کے دور میں مغربی ترقی کی سوچ بارے یہ بات طے تھی کہ دراصل یہ ملک میں صنعتی انقلاب سے متعلق ہے اور اس بارے ایوب خان نے نہایت بھلا صنعتی پلان بھی بنایا اور نافذ کروایا۔ لیکن مشرف کے دور تک پہنچتے پہنچتے، دنیا میں واشنگٹن کے ساتھ ساتھ سارے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کا نکتہ نظر بدل چکا تھا۔ چونکہ یہ بعد از کمیونزم کا دور ہے جس میں مغرب کا معاشی ترقی سے متعلق سارا زور آزاد تجارت اور بڑے پیمانے پر اشیاء کے اصراف پر رہتا ہے۔ چنانچہ مشرف دور میں پاکستان پر بھی یہی کلیہ لاگو کرنے کی کوشش کی گئی۔ آزاد تجارتی پالیسیوں کی پشت پناہی کی گئی اور اصراف پر زور دیا گیا۔ اس کا نتائج معیشت میں بڑھوتری اور ریاستی محصولات میں اضافے کی صورت تو برآمد ہوئے لیکن یہ دوررس اور تادیر قائم رہنے والے اثرات نہیں تھے۔ ویسے بھی، مشرف دور میں معاشی ترقی ایوب خان کے دور کے مقابلے میں کئی درجے کم اور اتھلی تھی اور اس کا ملک کی معاشی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
شوکت عزیز مشرف دور کے وزیر خزانہ جو 2004ء سے آخر تک وزیر اعظم بھی رہے؛ انہوں نے کئی برسوں تک ملک میں بظاہر انتہائی کامیاب معاشی پالیسی جاری رکھی۔ مشرف نے اقتدار سنبھالا تو جی ڈی پی میں سالانہ اضافے کی شرح تین اعشاریہ نو فیصد تھی لیکن 2003ء سے 2009ء کے بیچ یہ شرح چھ اعشاریہ چھ اور نو فیصد کے درمیان رہی۔ شوکت عزیز کی حکمت عملی بظاہر تو انتہائی کامیاب تھی لیکن یہ پاکستان کے خفی اور اصل معاشی مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ 2008ء میں جب عالمی کساد بازاری پھیلی تو پاکستانی معیشت میں بھی یکدم گراوٹ آئی اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں توانائی کا بحران باقی ماندہ بڑھوتری کو نگل گیا۔ توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بھی یکسر ناکام دکھائی دی اور سارا نزلہ عوامی حکومت پر گرا دیا گیا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ مشرف نے اپنے نو سالہ دور اقتدار میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو کسی طرح بھی خاطر میں نہیں لایا اور اس بارے کسی بھی طرح کے فوری اور عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
مشرف کی ایمانداری، نیک نیتی (بمقابلہ ان کے پیشرو!)، ترقی پسند سوچ اور اختیار کو نظر میں رکھا جائے تو یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ ان کی حکومت نے نو سال اقتدار میں رہنے کے باوجود پاکستان کو تبدیل کرنے میں کوئی خاطر خواہ کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔ لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ مشرف دور جن نو برسوں پر محیط ہے، وہ پاکستانی تاریخ کا اس قدر کٹھن وقت تھا کہ اس دوران ملک باوجود مشکلات اور بین الاقوامی منظرنامے پر بڑی تبدیلیوں اور بے پناہ دباؤ کے باوجود چلتا رہا ہے تو یہ اپنے آپ میں مشرف کی بڑی کامیابی سمجھی جانی چاہیے۔



سرورق:  ٹرک آرٹ / ڈان، 2018ء

 اگلا باب: ذوالفقار علی بھٹو  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر