پاکستان کا خمیر

برصغیر میں برطانوی دور کے خاتمے تک انگریزوں کو دو مسلمان سیاسی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں پہلی تو مسلم لیگ اور دوسری تحریک خلافت تھی۔ مسلم لیگ کی بنیاد 1906ء میں سرسید احمد خان کی طرز فکر رکھی گئی تھی۔ یہ اشرافیہ پر مشتمل وہ تحریک تھی جس کا اولین مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ، انگریزوں سے رعایت کا حصول اور انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ مل کر یا علیحدہ ہر دو صورت سیاسی اور عوامی جوڑ توڑ میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری رکھنا تھا۔ یہ یاد رہے کہ مسلم لیگ کی 'تحریک پاکستان' بالآخر عوامی تحریک توضرور بنی لیکن یہ انگریزوں کے برصغیر میں آخری چند برسوں کے دوران پیش آنے والا معاملہ ہے۔
اگرچہ مسلم لیگ کی بنیاد تو ڈھاکہ میں رکھی گئی تھی لیکن اس کو اصل حمایت ان علاقوں میں بڑھ چڑھ کر ملی جہاں اردو بولنے والے مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یہ دہلی اور الہٰ آباد کے بیچ متحدہ صوبوں پر مشتمل وہ علاقہ تھا جو آج بھارتی ریاست اترپردیش کا حصہ ہے۔ مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے میں اہم تاریخی نقطہ 1900ء میں اس وقت آیا جب انگریزوں نے 'ہندی' (ہندوستانی کا دیوانگری رسم الخط) اور 'اردو' (ہندوستانی کا 'مسلم' عربی رسم الخط) کو ایک ہی سطح پر برابر رکھتے ہوئے، سرکاری زبانیں قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ دیکھنے میں تو دونوں زبانوں کے لیے متوازن اور برابری کا موقع نظر آتا ہے لیکن اس کے مضمرات نہایت عجیب نکلنا طے تھے۔ وہ اس طرح کہ اس دور میں سرکاری معاملات میں بالخصوص اور عمومی سطح پر بھی برصغیر میں ہندو اکثریت تھی۔ برصغیر کے کار سرکار پر انگریزوں کی بدولت پہلے ہی ہندؤں کا غلبہ ہو چکا تھا۔۔۔ تو غالب امکان یہی تھا کہ وقت کے ساتھ اردوسرکار اور کار سرکار سے پھسل کر نکل جاتی۔



برصغیر کی تاریخ میں دوسری بڑی مسلم تحریک شاہ ولی اللہ کی تعلیمات پر مبنی تھی۔ یہ واضح طور پر مذہبی اور اساسی بنیادوں پر قائم کی گئی تھی۔ اس کو 'تحریک خلافت' کہا جاتا ہے جو 1919ء سے 1924ء تک جاری رہی۔ اس تحریک کے رہنماؤں میں مولانا عبدالکلام آزاد بھی شامل تھے، جن کا پہلے ہی ذکر ہو چکا ہے۔ اس تحریک کا انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ اتحاد تھا۔ یہ وہ دور تھا جب کانگریس کی باگ دوڑ موہن داس کرم چند گاندھی کے ہاتھ آ گئی تھی۔ اس تحریک کا اصل محور پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی تھی۔ جیسا کہ تحریک کے نام سے ظاہر ہے، اس کو چلائے رکھنے کے محرکات خالصتاً مسلم تھے۔ اگرچہ ان محرکات کا کسی بھی جنوب ایشیائی معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن بہرحال اس تحریک کا تصور امت مسلمہ کے آفاقی تصور سے جڑا ہوا تھا۔
جنوبی ایشیاء کے مسلمان اس تحریک میں شامل ہو کر خلافت کے قریب الوقوع خاتمے اور عثمانیہ سلاطین کی شکل میں اسلامی دنیا کی برائے نام قیادت کا دعویٰ ختم ہونے پر سراپا احتجاج تھے۔ خلافت کے خاتمے کا معاملہ دنیا بھر میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے خلاف احتجاج کا نعرہ بن چکا تھا ۔انگریزوں اور فرانسیسیوں نے مشرق وسطیٰ پر تسلط قائم کر لیا تھا اور آخری اسلامی طاقت کے خاتمے کا باعث بنے تھے۔ اسی طرح یہ نعرہ ہندوستان میں بھی برطانوی سامراج کے خلاف آواز بن گیا اور اسی کے ساتھ ساتھ یہاں دہائیوں پر محیط مسلمانوں پر زیادتیوں کا بھی تذکرہ ہونے لگا۔ آج پاکستان میں جماعت اسلامی اور دوسرے اسلام پسند گروہ جس طرح سے امریکہ کے خلاف سراپا احتجاج رہتے ہیں۔۔۔ یہ اسی زمانے میں جاری ہونے والی روایت ہے جب تحریک خلافت کے عروج میں برطانوی سامراج کو کوسنے دیے جاتے تھے۔ آج بھی یہی وجہ ہے کہ اسلام پسند اپنی جدوجہد کو' سامراج' کے خلاف جنگ سے موسوم کرتے رہتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے 1922ء میں لکھا تھا،
'ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے (انگریزوں کے خلاف) جدوجہد میں اس لیے شمولیت اختیار کی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ مذہبی معاملہ ہے۔ عوام نے بڑی تعداد میں اس تحریک کا حصہ بننا پسند کیا ہے کیونکہ وہ 'خلافت' اور 'گائے ماتا' کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی مسلمان کی خلافت کو بچانے کی امید کو مار دو تو وہ کانگریس کا بھٹہ بٹھا دے گا۔ اسی طرح اگر کسی ہندو کو یہ بتا دیا جائے کہ کانگریس کا حصہ رہ کر وہ گائے کی حفاظت نہیں کر سکتا تو وہ اسی وقت۔۔۔ کھڑے کھڑے کانگریس کو چھوڑ دے گا'۔
تحریک خلافت کے روح رواں دو مولانا برادران تھے۔ ان دونوں بھائیوں، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے جنوب ایشیاء کے مسلمانوں میں مذہبی جوش و خروش کی لہر دوڑا دی تھی۔ اسی وجہ سے محمد علی جناح ان دونوں اور اس تحریک کو ناپسند کرتے تھے۔ جناح، سرسید احمد خان کی طرز فکر کے حامی تھے جس کے تحت انگریزوں کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل پر چلتے ہوئے تعاون تلاشنا تھا۔ جناح کے نزدیک مذہبی جنون کو بڑھاوا دینا سخت کجی اور متنفر کام تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں مذہبی جوش اور جنون اس قدر بڑھ گیا کہ 1920ء میں قریباً بیس ہزار ہندوستانی مسلمانوں نے افغانستان ہجرت کرنے کی کوشش کی۔ تب افغانستان اس پورے خطے میں آخری بچ جانے والی آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست ہوا کرتی تھی۔ تاہم، افغان حکام نے ہندوستان کے ان تارکین وطن مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا اور ان کا ذاتی سامان بھی لوٹ لیا۔ یہ جنوب ایشیائی اسلام پسندوں کی افغانستان میں اسلامی سربلندی کی پہلی اور نہ ہی آخری کوشش تھی اور نہ ہی ایسا ہوا کہ جنوب ایشیائی مسلمانوں کی افغانوں کے ان اقدامات کے سبب پہلی اور آخری بار امید ٹوٹی ہو۔
تحریک خلافت کے بیانیے پر 'جہادی' نکتہ نظر کا غلبہ تھا۔ تشدد پر آمادگی کی وجہ سے ہی بالآخر اس تحریک کا گاندھی اور کانگریس کے ساتھ چلنا دو بھر ہو گیا اور روز بروز تناو بڑھتا گیا۔ خیر، آخر میں ہوا یہ کہ ہندوستان میں یہ تحریک برطانوی جبر کے سامنے دم توڑ گئی اور اس کی دوسری بڑی وجہ یہ حقیقت بھی تھی کہ ترکی میں خلافت کا اصل خاتمہ سامراجی قوتوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ کمال اتاترک نے کیا تھا جو نوزائیدہ ترک سیکولر جمہوریہ کے مقبول لیڈر تھے۔
برصغیر کے مسلمانوں میں تحریک خلافت نے جس عوامی مذہبی جوش و خروش کو بڑھاوا دیا تھا، مسلم لیگ نے اس کو ایک جدا طرز کی حکمت عملی کے تحت استعمال میں لایا۔ 1920ء کے اوائل سے ہی اس بارے قیادت سر محمد اقبال نے کی اور پھر 1936ء سے آگے جناح سرکردہ رہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ کی حکمت عملی یہ تھی کہ مسلمانوں کے جوش و خروش کو عوامی تحریک میں بدل کر جزوی اشتراک میں ایک طرف تو کانگریس کے ساتھ مل کر انگریزوں پر دباؤ جاری رکھا جائے تا کہ قانون سازی میں آواز برقرار رہے، یہی نہیں بلکہ ہندوستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں میں مسلمانوں کی جگہ بھی بنی رہے۔ دوسری جانب انھوں نے انگریزوں کےساتھ تعاون جاری رکھا تا کہ کانگریس پر بھی دباؤ برقرار رہے اور ریاستی مکالمے اور حکومتوں میں مسلمانوں کو ان کی مرضی کا حصہ ملتا رہے۔
جنوبی ایشیاء میں ایک علیحدہ مسلمان ریاست کے قیام کا تصورتو بہت ہی بعد، بلکہ انگریزوں کے اواخر دور کا ہے۔ یہ تصور پہلی بار 1930ء میں اقبال نے پیش کیا تھا لیکن اس میں بھی یہی سوچ غالب تھی کہ یہ مسلم ریاست وسیع تر ہندوستانی وفاق کا حصہ ہونی چاہیے۔ اس تصور کے منظر عام پر آنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد اس نئی مسلم ریاست کے لیے 'پاکستان' کا نام بھی سامنے آ گیا۔ تاہم، یہ یاد رہے کہ نامی گرامی لیکن بہرحال نام نہاد 'دو قومی نظریہ' مسلم لیگ کی اساس میں پہلے دن سے ہی مضمر رہا ہے۔ اس نظریے کے تحت برصغیر میں ہندو اور مسلمان ہمیشہ سے ہی الگ خصوصیات کی حامل، ثقافتی اور نسلی لحاظ سے دو علیحدہ قومیں تھیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ دنیا میں اسی طرز کی کئی جیسے۔۔۔ لبنان ، شمالی آئرلینڈ اور دوسرے خطوں کی مثالیں بھی ہیں جہاں بالکل مختلف قومیں مل جل کر ایک ہی ملک میں کسی نہ کسی طور ہم بودی اور ہم عہدی میں بسر رکھتے چلے آ رہے ہیں، لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس بنیاد پر علاقائی تقسیم کا تقاضا کیا جائے یا اس کو بالضرور ہی عمل میں لایا جائے۔
مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا فیصلہ کن موڑ 'گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء' اور اسی کی بنیاد پر 1937ء کے انتخابات کے موقع پر آیا۔ انتخابات سے قبل کانگریس نے مسلم لیگ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ دونوں جماعتیں مل کر صوبائی سطح پر حکومتیں تشکیل دیں گی اور مسلمان اقلیتوں کو حقیقی اور ٹھوس نمائندگی دی جائے گی۔ لیکن کانگریس کی کو اس قدر بھاری جیت اور اکثریت ملی کہ کانگریسی قیادت نے انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینا مناسب نہیں سمجھا۔ کانگریس اپنے وعدے سے پھر گئی۔
کانگریس کے اسی دغا بازی نے جناح اور مسلم لیگ کی تقریباً قیادت کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مسلم قیادت قائل ہو گئی کہ آگے چل کر آزاد ہندوستان میں مسلمان جماعتوں کا چن چن کر صفایا کیا جائے گا اور انہیں اقتدار اور اختیار میں کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ یوں ہندوستان میں مسلمان ایک پسماندہ اور پسے ہوئے اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ اس سوچ کی پختگی میں بار بار منظر عام پر آنے والے چھوٹے پیمانے پر 'عوامی دنگے' بھی شامل حال تھے جو اکثر مقامی سطح کے مسائل اور مذہبی منافرت پر مبنی ہوتے تھے۔ ہندو اور مسلمان دونوں ہی ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے تھے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا رہتا تھا۔
آخر کار 1940ء میں محمد علی جناح کی ایماء پر قرارداد لاہور پیش کی گئی ۔ اس قرارداد کی بنیاد پر مسلم لیگ ایک علیحدہ اور آزاد مسلم ریاست کے قیام پر تل گئی۔ ان معاملات کے پیش آنے کے باوجود بھی جناح ابھی تک مکمل طور پر علیحدگی کی بات نہیں کرتے تھے بلکہ ہندوستان کو خود مختار وفاق میں مجتمع رکھ کر قومی ریاستوں کی شکل میں تقسیم کرنے کے حامی تھے۔ جنوب ایشیائی تاریخ کی ماہر عائشہ جلال نے اپنے مقالات میں اطمینان بخش طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ علیحدہ مسلم ریاست کا مطالبہ کسی طرح بھی وہ نہیں تھا جو بعد میں عملی شکل میں نظر آیا۔ 1939ء کے اواخر تک جناح یہ کہتے رہے کہ اگرچہ ہندو اور مسلمان علیحدہ قومیں ہیں لیکن 'انہیں مل جل کر اپنی دھرتی کا انتظام اور بندوبست سنبھالنا چاہیے'۔
یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو جناح اس کڑ کھائی اور گھسی پٹی ریاست سے ہر گز خوش نہ تھے جو طویل ریاضت کے بعد ہاتھ آئی تھی۔ اس ریاست کا حلیہ یہ تھا کہ نہ صرف ہندوستان کے تقریباً سبھی تاریخی مسلم مراکز اور یادگاریں بلکہ شمالی ہندوستان کے وہ سبھی علاقے بھی بھارت کا حصہ بن چکے تھے جہاں مسلم لیگ کی حمایت اور پاکستان کا مطالبہ زوروں پر تھا ۔ لیکن آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے یہ کسی طور بھی ممکن نہ تھا کہ خود مختار اور آزاد پاکستان میں ان مراکز، یادگاروں اور علاقوں کو شامل کیا جا سکتا۔ مزید براں یہ کہ اس زمانے کے تمام تر واقعات اور شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ تقسیم کے وقت جناح اور لیگی قیادت کسی بھی طرح سے ہندوستان سے مکمل علیحدگی کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار نہیں تھے۔ اسی لیے پاکستان کے قیام سے ہی اس نوزائیدہ ریاست میں تیاری نہ ہونے کے سبب دور رس اور نہایت ہی الم گیر نتائج برآمد ہوئے۔
غالب امکان یہ ہے کہ جناح پاکستان کے نعرے کو دو مقاصد کے حصول لیے استعمال کر رہے تھے۔ پہلا یہ کہ مسلم لیگ پر اپنا ہاتھ مضبوط رکھتے اور دوسرا یہ کہ کانگریس پر دباؤ برقرار رکھنا تھاتا کہ وہ حاصل کیا جا سکے جو ان کی اور برصغیر کے تقریباً مسلمانوں کی خواہش تھی۔ مسلمانوں کی ازلی خواہش اس اساس پر مبنی تھی کہ آزاد اور متحدہ ہندوستان ہو جس میں مسلمانوں کو اختیار اور اقتدار میں برابر حصہ ملے اور نتیجتاً ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ اگر اس خواہش کا جائزہ لیا جائے تو صورت یہ نظر آتی ہے کہ ایک ہاتھ پر وفاق ہندوستان سیاسی طور پر لامرکزیت پر استوار ہوتا، جس میں صوبوں (بشمول مسلم اکثریتی صوبے) کو واقعی اور مکمل اختیار حاصل ہوتا۔ یہ وفاق کا وہ تصور ہے جس پر سبھی مسلمان اور پنجاب و سندھ کی ہندو اشرافیہ بھی کلی طور پر متفق تھی۔ دوسرے ہاتھ پر، اس تصور میں مسلمانوں کو آئینی طور پر مرکزی حکومت میں یقینی پچاس فیصد نمائندگی حاصل ہوتی۔۔۔ یعنی یہ کہ مرکزی مقننہ یا مجلس قانون ساز میں اتنی قوت ہر دم میسر رہتی کہ اگر مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کوئی بھی کوشش ہوتی تو اس کو ناکام بنایا جا سکتا تھا۔
آج 2010ء کے جدید زمانے میں اس طرح کا تصور معقولیت اور اعتدال میں تجاوز نہیں سمجھا جائے گا۔ شمالی آئرلینڈ، بوسنیا، لبنان اور اکثر افریقی ممالک کے معاملے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حالیہ دہائیوں میں ایسی آئینی صورتیں پیدا ہوئی ہیں کہ ان کے تحت مختلف اقوام، نسلیں اور مذہبی گروہ 'اقتدار اور اختیار' بانٹنے پر راضی نظر آ جاتے ہیں۔ ان ممالک میں بھی ہمیں اکثریتی بنیادوں پر پلنے والی جمہوریت کا بول بالا نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آزاد ہندوستان میں کانگریس کو اس طرح کا تصور ہرگز منظور نہیں تھا۔ یہ تصور کانگریسی اختیار اور دسترس کو چیلنج کرتا تھا، جو ہندوؤں کے ذرائع آمدن پر ضرب ہوتا۔ یہ وہ تصور تھا جو کانگریسی لیڈر جواہر لعل نہرو کے ریاستی سطح پر معاشی ترقی کے منصوبے کو ناکام بنا دیتا، جس کے لیے وفاقی سطح پر ایک مضبوط اور با اختیار مرکزی حکومت درکار تھی۔ علاوہ ازیں کانگریس کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اس تصور کے تحت قائم ہونے والی لا مرکزی ریاست جلد ہی ٹوٹ پھوٹ کر منہدم ہو جاتی اور برصغیر خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔ آخر کار کانگریس، اگرچہ بے رغبتی سے ہی سہی لیکن ایک علیحدہ اور نسبتاً چھوٹی مگر اپنی حاکمیت میں بھارت بنانے پر راضی ہو گئی۔ کانگریس نے 'بھارتی جمہوریہ 'کو 'متحدہ وفاقی ہندوستان' پر ترجیح دی جو اکٹھ پر مبنی ایک بہت بڑا ملک تو ضرور ہوتا لیکن اس کا وفاق خاصا کمزور، لا مرکزیہ اور ہر دم خطرات میں گھرا ہوا رہتا۔
1947ء میں جب برطانوی راج کا غلبہ ٹوٹ رہا تھا اور ہندو-مسلمان آئے دن تشدد اور دنگے فساد میں جتے ہوئے تھے، انگریزوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی اور تقسیم پر رضامندی ظاہر کر دی۔ پاکستان برصغیر کی دو حدوں پر بکھرا ہوا، دو ٹکڑوں پر مشتمل ملک تھا جس کے بیچ ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ تھا۔ یہ ملک مشرق میں مسلمانوں کی اکثریتی ریاست بنگال جبکہ مغرب میں پنجاب اور سندھ کے مسلم اکثریتی علاقے، شمال مغربی سرحدی صوبے، بلوچستان اور ملحق قبائلی اور نوابی علاقہ جات پر مشتمل تھا۔
تقسیم ہند کے وقت ایسا لگ رہا تھا کہ تحریک پاکستان کا دو قومی نظریے پر مبنی بیانیہ کسی نہ کسی حد تک جناح کے ہاتھوں اور تصور سے دور نکل چکا ہے۔ 11 اگست، 1947ء کو پاکستان میں پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں جناح کی باتوں سے کم از کم یہی لگتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ تھے:
'اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں، اپنی مساجد میں جانے کے لیے اور عبادت کے دیگر مقامات پر جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کسی بھی دین، مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، کار ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے'۔
ان الفاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جناح، پاکستان کو مسلم اکثریتی ملک تو بنانا چاہتے تھے لیکن اس کی خاصیت ایک سیکولرریاست جیسی ہوتی جہاں لوگ، بالخصوص مسلمان 'جمہور' تو ہوتے لیکن وہیں ہندو، سکھ اور دوسری اقلیتوں کو بھی حقوق اور اقتدار و اختیار میں برابری کی سطح پر حصہ ملتا۔ یوں، پاکستان تقسیم ہند کے باوجود وسیع تر جنوب ایشیائی ثقافتی، سماجی اور معاشی لحاظ سے اتحاد اور وفاقی ایکے کا حصہ اور تصور بن کر رہتا، جو جناح اور مسلم لیگ کا مجموعی طور پر متحدہ ہندوستان کا وفاقی تصور تھا۔ پاکستانی ریاست کے اس طور اور تصور کو زندہ رکھنے سے یہ بھی عین ممکن تھا کہ اگر 1947ء میں نہ سہی لیکن آگے چل کر اوپر بیان کردہ جنوب ایشیائی وفاق کا تصور دوبارہ سے زندہ کیا جا سکتا تھا جس میں سبھی فریق برابری کی سطح پر مرکزی اور ریاستی سطح پر ساجھا اور شراکت داری قائم کر سکتے تھے۔
تاہم، عددی لحاظ سے مسلمان خاصے کمزور تھے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ جناح اور مسلم لیگ کسی صورت بھی کانگریس کا راستہ جمہوری اور آئینی طریقوں سے روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اسی لیے، ان کا سارا دارومدار گلی گوچوں میں عوامی طاقت پر دھرا ہوا تھا۔ عوامی سطح پر مسلمانوں میں یہ جوش و خروش اسلام کے نام اور قومی سطح پر لاحق خوف کے بیانیے کے بغیر اجاگر کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ لیکن اس ضمن میں بڑی مشکل یہ درپیش تھی کہ تحریک خلافت کے زمانے میں بھڑکائے ہوئے اسلام پسندی اور آفاقی امہ کے جوش و خروش میں جہادی عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اسی لیے جب وقت آیا تو مسلمانوں کی عوامی طاقت بالآخر ہندوؤں اور بالخصوص سکھوں کے ساتھ بھڑ گئی، جو اپنے تئیں پہلے ہی اپنی قوم سے متعلق خوف اور اسی طرح کے تصورات کا شکار تھے۔
جناح ہمیشہ، بلکہ آخر تک ایک سیکولر پاکستان کی بات کرتے رہے لیکن گلی کوچوں میں صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی ۔ مسلمانوں کا قول و اقرار دین اور دھرم سے جڑا رہا۔ ان دنوں عوام میں یہ نعرہ خاصا مشہور ہوا: پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!
آج بھی جب کبھی پاکستان کی شناخت سے متعلق کوئی معاملہ اٹھتا ہے تو یہ نعرہ ملک کی اسلامی سیاسی جماعتوں کا پسندیدہ نعرہ بن جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اواخر برسوں میں مذہب کی بنیاد پر عوامی جوش و خروش کی لہر اتنی اونچی تھی کہ مسلم لیگ کا تکیہ صرف یہی نعرہ بن کر رہ گیا بلکہ کہیے، لیگ کے باقی سب تصورات اور نظریات اس نعرے میں بہہ گئے۔ پیٹر ہارڈی نے اسی سبب تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کو 'سیاسی' کی بجائے 'الفیت 'اور 'مطابقت' پر مبنی تحریک قرار دیا تھا۔ تحریک پاکستان بارے اس بحث کو سمیٹیں تو حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی قیادت سیکولر ذہن کی مالک تھی جو سرسید احمد خان کے نظریات پر گامزن تھی لیکن عوامی طاقت وہ میسر آئی جو 'اسلام کو لاحق خطرات' کے نعرے پر اکسائی ہوئی تھی۔ یعنی، ان کا مثالی اسلامی معاشرے کے قیام کا خواب مبہم اور دھندلایا ہوا تھا۔
مسلمانوں کا عوامی مذہبی جوش و خروش پر مبنی علیحدہ ملک کا مطالبہ اور جناح کا اصل پلان (متحدہ ہندوستانی وفاق میں ہندوؤں کے ساتھ برابری کی سطح پر وجود) یکجا ہوئے تو نتیجہ یہ نکلا کہ نوزائیدہ پاکستانی ریاست عجیب و غریب شکل میں ظاہر ہوئی، جو تباہ کن صورتحال ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ ہوا یوں کہ مغربی پاکستان (آج کا پاکستان) ایک اور مشرقی پاکستان (بنگال) اس ریاست کا دوسرا ٹکڑا تھا۔ یہ جغرافیائی، تاریخی، معاشی اور حربی۔۔۔ الغرض ہر طرح سے عجوبہ تھا اور کسی صورت میل نہیں کھاتا تھا۔ اس ریاست کا جلد یا بدیر ٹوٹ کر بکھر جانا قدرتی امر تھا۔ باقی تو چلو، کسی نہ کسی صورت یہ ریاست چل ہی جاتی لیکن مشرقی پاکستان کا ممکنہ بھارتی حملوں کے سامنے ٹک جانا ناممکن تھا۔ بعد ازاں 1971ء میں یہ ثابت بھی ہو گیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مغربی اور مشرقی، دو ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ایسے ملک کا خیال کیونکر تعبیر ہوا؟ یہ جوڑ کسی طور بھی میل نہیں کھاتا تھا لیکن اس کا بیانیہ جناح کے اس تصور سے جڑا تھا جس کے تحت ان بلاکوں کی مدد سے ہندوستان کے مسلمانوں کو جس قدر تعداد میں ہو سکے، ہندوؤں کے خلاف یکجا رکھا جا سکے اور بعد ازاں جب 'متحدہ ہندوستان کے وفاق' کا تصور حقیقت کا روپ دھارے تو مسلمانوں کے پاس اپنے اکثریتی علاقے اور سیاسی اثر و رسوخ پہلے سے موجود ہو۔لیکن بعد ازاں ہوا کیا؟ ہوا یہ کہ آزاد اور خود مختار پاکستانی ریاست کا وہ تصور جو جنوب ایشیاء کے مسلمانوں کا گھر ہوتا، وہاں انہیں تحفظ اور خوشحالی نصیب ہوتی۔۔۔ بالکل ہی الٹے قدموں پر چل پڑا۔ ایسی ریاست کے تصور کو برقرار رکھنے کے لیے بے پناہ سیاسی اور ملی جذبے پر مبنی سرمایہ دہائیوں تک پاکستان میں بے بہا صرف کر دیا گیا۔ ریاستی طور پر دیکھا جائے تو یہ بالکل بے جا اور منطق سے خالی کوشش تھی۔ اس کے برعکس اول دن سے ایک ملک کی بجائے اس خطے میں مسلمانوں کی دو دوست ریاستیں زیادہ معنی اور نتیجہ خیز ثابت ہوتیں۔
1950ء اور 1960ء کی دونوں دہائیاں مشرقی اور مغربی پاکستان میں توازن قائم کرنے، ایک دوسرے کو راضی رکھنے اور مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کو دبا کر زیر کرنے میں صرف ہو گئیں، جس سے پاکستان کی ترقی پر نہایت برا اثرپڑا۔ مشرقی پاکستان میں پہلی دفعہ باقاعدہ احتجاج بنگالی زبان کے دفاع میں اس وقت بلند ہوا جب اردو کو سرکاری اور ریاستی زبان کے طور پر لاگو کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد تو جیسے پنڈورہ باکس کھل گیا۔جلد ہی خودمختاری کی باتیں ہونے لگیں اور پھر بات اتنی بڑھی کہ کہ آخر میں ایک تلخ علیحدگی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
مشرقی پاکستان کی حیثیت اس حقیقت سے جڑی تھی کہ جغرافیائی اور معاشی لحاظ سے یہ خطہ تو چھوٹا تھا لیکن یہاں پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بسر رکھتا تھا۔ اس لحاظ سے پاکستان میں جمہوریت کا باقی رہنا تقریباً ناممکن تھا۔ اگر جمہوریت کو پھل پھولنے کا موقع دیا جاتا تو اس کا مطلب دراصل بنگالیوں کا غلبہ تھا جو مغربی پاکستان کو کسی صورت بھی قبول نہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد 1950ء کی دہائی میں ملکی سطح پر جمہوریت کو پنپنے کا نہ صرف موقع نہیں ملا بلکہ 1956ء میں سکندر مرزا اور پھر 1958ء میں ایوب خان نے عوامی حکومتیں الٹیں تو اس کی ایک بڑی وجہ ممکنہ طور پر جمہوری طرز حکومت کے سبب بنگالی غلبے کا راستہ روکنا بھی مقصود تھا۔
ایوب خان نے اس ضمن میں کئی اقدامات اٹھائے اور بنگالیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مغربی پاکستان کے صوبوں کا خاتمہ کر کے 'ون یونٹ' بنا دیا۔ 'دوسرا یونٹ' مشرقی پاکستان تھا۔ ون یونٹ کے قیام سے مغربی پاکستان کے طول و عرض میں مقامی سطح پر بے چینی پیدا ہو گئی، جو اگلے کئی برسوں تک باقی رہی۔
ایوب خان کے بعد اقتدار جنرل یحییٰ نے سنبھالا۔ جنرل یحییٰ نے مغربی پاکستان میں تناؤ کم کرنے کے لیے 'ون یونٹ' کا خاتمہ کر کے صوبوں کو توبحال کر دیا لیکن مشرقی پاکستان کے مطالبات کا تصفیہ کرنے میں یکسر ناکام رہے۔ مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ (جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے) نہ تو مشرقی پاکستان کے ساتھ ایک ڈھیلی ڈھالی وفاقیت پر راضی تھی اور نہ ہی متحدہ پاکستان میں جمہوریت کی رو سے بنگالیوں کی فرماں روائی انہیں قبول تھی۔
ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان بنگالی قوم پرست مسلمانوں کے رہنما کے طور پر ابھرے۔ مجیب کا چھ نکاتی ایجنڈا، برطانوی دور میں مسلم لیگ کے ایجنڈے کے طرز پر تھا جس میں مشرقی پاکستان کو خودمختاری حاصل ہونی تھی اور پاکستان کا تصور، متحدہ پاکستان کے وفاق کا تھا۔ بنگالیوں کی بڑھتی ہوئی بنیاد اور قوم پرستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئے دن مشرقی پاکستان میں پرتشدد احتجاج ہونے لگے۔ احتجاجیوں اور فوجیوں میں روز جھڑپیں ہوتیں اور نومبر 1970ء تک صورتحال یہ ہو گئی کہ قریباً دس لاکھ لوگ جان سے ہاتھ دھو چکے تھے اور مرکزی حکومت پر اس ضمن میں عملی اقدامات نہ اٹھانے کا الزام سر تھا۔
دسمبر 1970ء میں قومی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، یہی نہیں بلکہ قومی پارلیمنٹ میں بھی اکثریت مل گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی 138 نشستوں میں سےصرف 81 پر ہی کامیابی حاصل کر سکی۔ اس لحاظ سے مجیب نے آئینی حق کی بنیاد پر قومی حکومت تشکیل دینے کا جائز مطالبہ کیا، جس کے تحت وفاقیت کو فروغ ملتا۔ یہ جنرل یحییٰ، افواج پاکستان، پنجابی اشرافیہ اور بھٹو کو کسی صورت قبول نہیں تھا۔ بھٹو اپنے تئیں، مغربی پاکستان میں اکثریت ہونے کی بنیاد پر قومی حکومت میں برابر حصہ کے مطالبے پر مصر تھے۔ بھٹو نے اسی سبب جنرل یحییٰ کی حکومت میں سخت گیر فوجی عناصر کے ساتھ ایکا کر لیا تا کہ بنگالی مطالبات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
1970ء کے انتخابات کے بعد، اگلے چند ماہ میں چند عملی اور جوابی اقدامات کے ساتھ مشرقی پاکستان میں پرتشدد احتجاج بڑھتے ہی گئے۔ افواج پاکستان اور مشرقی پاکستان کی عوام آمنے سامنے آ گئی۔ روز جھڑپیں ہونے لگیں۔ 25 مارچ، 1971ء کو رات گئے مشرقی پاکستان میں حالات کو قابو میں لانے کے لیے ملٹری آپریشن شروع کر دیا گیا جس کا نام 'آپریشن سرچ لائٹ' رکھا گیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں طالب علم، مختلف شعبہ ہائے زندگی اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے چیدہ لوگ، عوامی لیگ کے رہنما، کارکن اور مشرقی پاکستان کے سینکڑوں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر دہشت ناک ظلم، جبر اور ریپ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
مشرقی پاکستان میں یہ گھناؤنی مہم، پاکستانی فوج کی تاریخ میں اس ادارے کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ اس ہولناک اور مہیبانہ فعل کے پیچھے پنجابی اور پشتونوں کی بنگالیوں کے خلاف پرانی نسلی رقابت اور نفرت کا ہاتھ تھا۔ مغربی پاکستان کے پنجابی اور پشتون، بنگالیوں کو اصل مسلمان نہیں سمجھتے تھے بلکہ ہمیشہ سے ہندوؤں کی مخفی شکل سمجھتے چلے آ رہے تھے۔ یہ قابل ذکر ہے کہ فوجی جبر کی اس طور مثال مغربی پاکستان میں کہیں نہیں ملتی۔ یہاں عوام اور فوج کے بیچ نسلی بنیادوں پر فرق اور تعصب کا وہ درجہ نظر نہیں آتا جو بنگالیوں کے لیے مخصوص تھی۔ مشرقی پاکستان میں فوج کے رویہ کا نتیجہ اور مغربی پاکستان میں فرق اور تعصب کے نہ ہونے کا ہی ایک نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستانی افواج اپنی عوام پر گولی چلانے سے حتی المکان گریز کرتی ہیں اور سپاہیوں سے لے کر جرنیلوں تک طالبان کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے سے ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔
مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں قتل عام کی یاد آج پاکستان میں دبا دی جاتی ہے۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ افواج پاکستان، سیاسی جماعتیں (بشمول پیپلز پارٹی، بھٹو کی موت کے بعد جس کی قیادت میں کچھ عرصہ تک جنرل ٹکا خان بھی شامل رہے، جنہوں نے مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے قتل عام کی مہم شروع کی تھی) اور نہ ہی اخبارات (جنہوں نے بنگالیوں کے قتل عام کے جواز تراشے اور اس پر صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیریں) ان واقعات کا ذکر عام چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کی خواہش رکھتے ہیں۔ یاد ماضی، عذاب ہے یا رب۔۔۔
اس فوجی مہم کا بنگال میں نتیجہ یہ نکلا کہ مشرقی پاکستان کی فوجی ٹکڑی (بنگال رجمنٹ) اور دیہی علاقوں میں عوام افواج پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں۔ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے بھارت جا پہنچے اور وہاں افواج پاکستان کے ظلم اور جبر کی داستانیں بیان کرنا شروع کر دیں۔ آٹھ مہینے بعدبین الاقوامی نکتہ نظر کے مطابق جو پاکستان مخالف ہے، بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھارتی افواج کو مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور دو ہفتوں کے اندر ہی 96000 پاکستانی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے مغربی پاکستان کی جانب سے بھارت پر حملے کی کوشش کی گئی لیکن یہاں بھی اس مہم کو نہایت آسانی سے ناکام بنا دیا گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست بنگلہ دیش بن گیا اور بین الاقوامی برادری نے فوراً ہی اسے تسلیم بھی کر لیا۔
پاکستان کا تصور ایک متحد مسلم ملک کا ہو یا مثالی اسلامی ریاست، بنگلہ دیش بن چکا تو مغربی پاکستان میں اس بارے خاصا واویلا ہوا۔ پاکستانیوں کی اکثریت اس واقعہ کو اتحاد اور یگانگت کی تباہی کی صورت دیکھتی چلی آ رہی ہے اور تب سے گاہے بگاہے 'دو قومی نظریے' پر بھی سوال اٹھتے رہتے ہیں، جس کے تحت جنوبی ایشیاء میں مسلمان، ہندوؤں کے برابر کھڑے ایک متحد قوم مشہور تھے۔ یہی نہیں بلکہ دو قومی نظریے پر اٹھنے والے سوالات سے خود پاکستان کے معنی اور مطلب پر کہرا چھا جاتا ہے۔
حقائق کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سقوط ڈھاکہ اور متحد پاکستان کے خاتمے کی اصل وجہ وہ بدتر اور غیر قدرتی حالات اور تاریخی شواہد تھے جن سے یہ ملک شروع دن سے ہی نبردآزما چلا آ رہا تھا۔ بنگلہ دیش کی جلد یا بدیر علیحدگی قدرتی امر تھا۔ مغربی پاکستان کا یہ ہے کہ یہ حصہ جغرافیائی طور پر ایک چسپیدہ اور جمی ہوئی ریاست کی شکل رکھتا ہے اور یہاں کی عوام گہرے روابط، ثقافتی اور تاریخی پس منظر میں جڑے ہوئے ہیں۔ 1971ء کے بعد بھی پاکستان کے مزید ٹوٹ پھوٹ جانے اور بطور ریاست دھڑم تختہ ہونے کی کئی پیشن گوئیاں ہوئیں لیکن یہ ملک بہرحال باقی رہا۔ کئی دفعہ مقامی سطح پر بغاوت اور بلوے کا شور سنائی دیا لیکن حالیہ برسوں میں تحریک طالبان کے سوا ایسا کوئی موقع نہیں آیا جب بنگالی قومیت پرستوں کے طرز کی شورش پیدا ہو سکی ہو۔



سرورق:  پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے قائد اعظم، محمد علی جناح کا خطاب: 11 اگست، 1947ء / نیشنل آرکائیو، اسلام آباد

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر