اسلام خطرے میں ہے


باب: 2 - اسلام کی جنوب ایشیائی جدوجہد

'اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تا کہ دیکھیں تم کیسا عمل کرتے ہو' (القران –یونس 10:14)

جب دکھ کی ندیا میں ہم نے
جیون کی ناؤ ڈالی تھی
تھا کتنا کس بل بانہوں میں
لوہو میں کتنی لالی تھی
یوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے
اور ناؤ پورم پار لگی
ایسا نہ ہوا، ہر دھارے میں
کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں
کچھ مانجھی تھے انجان بہت
کچھ بے پر کھی پتواریں تھیں
اب جو بھی چاہو چھان کرو
اب جتنے چاہو دوش دھرو
ندیا تو وہی ہے ناؤ وہی
اب تم ہی کہو، کیا کرنا ہے؟
اب کیسے پار اترنا ہے؟
(فیض احمد فیض)

اس باب کا مقصد ہر گز اس خطے کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہے جو اب پاکستان کہلاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تو کئی کتابیں بھی کم ہیں۔ بجائے، اس باب میں جنوب ایشیاء کی مقامی اور اس خطے میں اسلام کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان عناصر کو جمع کرنے کی کوشش کی جائے گی جن کے ملنے سے وہ مرکب بنا، جو آج پاکستان کی صورتحال کی ذمہ دار ہے۔ علاوہ ازیں مغرب کے خلاف اسلامی مزاحمت کی وقتاً فوقتاً لیکن متواتر تاریخ بھی زیر بحث رہے گی۔ اسی طرح شروع دن سے ہی پاکستان کو اساسی بنیادوں پر بدلنے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ان کوششوں کی ناکامی، چاہے وہ سول یا فوجی حکومتوں کی جانب سے لائی گئیں۔۔۔ اس کے نتائج کیا نکلے ہیں؟ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آج ریاست کمزور، برادریاں مورچہ بند، مذہبی حلقے عقیدت میں چپڑے اور مقامی قرابت داریوں پر مبنی قوتیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ آخر، اس کا پس منظر کیا ہے؟



"اسلام خطرے میں ہے"

پوری اسلامی دنیا اور بالخصوص جنوب ایشیاء میں مسلمانوں کی آگہی اور شعور ایک نکتے پر کھڑا ہے۔ یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یوں ہمیں اسلامی تاریخ کو عمومی اور جنوب ایشیاء میں خصوصی طور پر معاملات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ اس خطے میں سترہویں صدی تک اسلامی طاقت اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا رہا ہے اور پھر بعد اس کے، آج تک اس میں شدید کمی ہی آئی ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی صدیوں تک حکمرانی کی تابناک تاریخ اور تہذیبی کار نمایاں ہیں۔ اسی لیے 1947ء سے قبل، اس خطے کے مسلمانوں کے لیے یہ تصور کرنا ہی ناممکن تھا کہ مستقبل میں برصغیر ایک ہندو اکثریتی ریاست بن جائے گی جہاں مسلمانوں کی حیثیت ثانوی اور متوسل ہو سکتی تھی۔ اسی طرز سوچ کے تحت تقسیم ہند کے بعد اور غالباً آج بھی پاکستانیوں کی اکثریت کا طرز عمل یہی ہے کہ بھارت کے ساتھ ہمیشہ اور ہر معاملے پر تقابل رہے اور یہ برابری کی سطح پر برقرار رہے۔ سوچ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو گویا یہ غیرت کے منافی اور ایسا نہ کرنے والا گویا غداری کا مرتکب ہو گا۔
تاریخ کا یہ نکتہ اس حقیقت کو بھی عیاں کرتا ہے جو بقول اقبال اخوند،
'پاکستانی مسلمان اپنے آپ کو اسلامی سلطنتوں کا وارث اور جانشین خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ فاتحین اور حکمرانوں، سلاطین اور شہنشاہوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یوںِ پاکستان کی اجتماعی قومی خلق اور تمدن پر عسکریت اور جنگ پرستی کا ایک بڑا نشان نظر آتا ہے۔ اس وطیرے میں عوام اور خواص کی بھی کوئی تمیز نہیں ہے۔'
1682ء تک، جب سلطنت عثمانیہ کی افواج ویانا کی حدود تک پہنچ چکی تھیں۔۔۔ تب برصغیر میں مغلوں کی تقریباً جنوب ایشیاء پر بادشاہی تھی۔ مغل خاندان نے دہلی کے مسلمان سلاطین کو رخصت کر کے اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی اور تیرھویں صدی سے تقریباً شمالی ہندوستان پر حکمرانی کرتے چلے آ رہے تھے۔ اگرچہ اٹھارویں صدی کے اوائل میں مغل سلطنت واقعی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی لیکن اس کے باوجود اودھ، بنگال، بھوپال، حیدرآباد اور میسور کے مسلمان شاہی سلسلے اس سارے علاقے پر حکمرانی کرتے رہے۔ آج تقریباً بھارت، انہی علاقوں پر مشتمل ہے۔
مسلمان افواج انتہائی تیزی کے ساتھ ایک کے بعد دوسرا علاقہ فتح کرتے رہے لیکن تبلیغ کا کام، ان فتوحات کے مقابلے میں انتہائی سست رو تھا۔ برصغیر میں وہ علاقے جن پر آج پاکستان مشتمل ہے، اس سے باہر صرف بنگال واحد جگہ تھی جہاں پر آبادی کے بڑے حصے نے اسلام قبول کیا۔ جنوبی ایشیاء میں اسلامی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ برصغیر میں ہمیشہ ہی مسلمان حکمرانوں، شاہوں اور سلاطین کو با امر مجبوری اسلامی سلطنت کے اہم انتظامی اور تہذیبی مراکز ہمیشہ سے ہندو اکثریت علاقوں میں قائم کرنے پڑے اور ان مراکز سے مسلمان اکثریتی علاقے قدرے دور، بلکہ خاصے دور واقع رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی قوت میں بتدریج کمی اور 1947ء میں تقسیم ہند کا نتیجہ ہے کہ اس خطے میں تقریباً سبھی بڑے شہر، مراکز، یادگاریں اور ادارے گویا بھارت کے سمندر میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے جزائر بن کر رہ گئے۔ پاکستانی قوم اس بھارتی سمندر کے کناروں پر بیٹھی آج بھی حسرت سے ان دور دراز، بھولے بسرے ہوئے جزائر کو بس دیکھ ہی سکتی ہے۔
جنوبی ایشیاء میں قائم ہونے والی اسلامی سلطنتوں کی بنیاد ہندؤں پر جبر اور ظلم نہیں تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے لیے ایسا کرنا ممکن ہی نہیں تھا کیونکہ یہاں ہندوؤں کی اکثریتی آبادیاں تھیں اور خطے میں ہندو راجوں اور مہاراجوں کی اتنی بہتات تھی کہ اس کا ریکارڈ بھی مشکل ہے۔ عوامی سطح پر ہندو اور مسلمان صدیوں تک اکٹھے، مل جل کر بستے چلے آ رہے تھے۔ یہ ملاپ اس قدر گہرا تھا کہ ان کے رسم و رواج بھی آپس میں گھل مل گئے تھے۔ دنیا میں اسی طرح کی مثال یورپ میں بھی ملتی ہے جہاں صدیوں بعد عیسائیت اور پاگان ایسے ملے کہ رسم و رواج اور روایتیں بھی گڈ مڈ ہو گئیں۔ مغل سلطنت کے عروج، یعنی شہنشاہ اکبر نے اپنے زمانے میں اسی بناء پر ایک نئے طریق 'دین الہیٰ' کی بنیاد بھی رکھی تھی۔ یہ ایک اتحاد پسندانہ مسلک یا دھرم تھا جس میں اسلام، ہندو مت اور عیسائیت کے اجزاء باہم شامل تھے۔
تا ہم، یہ بات یاد رہے کہ ہندوستان کے طول و عرض میں۔۔۔ یہ ہمیشہ سے طے ہے کہ اسلامی سلاطین، شہنشاہوں اور ان کی بادشاہتوں کا رجحان ہمیشہ اسلام کی طرف ہی جھکا رہا۔ اس کا اندازہ قدیم سلاطین اور مغلوں کے بسائے سبھی شہروں میں بڑی بڑی مساجد اور خانقاہوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ان مساجد اور قلعوں کا مقصد بھی یہی تھا۔ دین الہیٰ اسی طرح، انتہائی برے طریقے سے ناکام ہوا جس طرح ہمیشہ سے اسلام کے فرقوں کے بیچ ہم آہنگی یا مطابقت کی کوششیں ناکام ہوتی آ رہی ہیں۔تاریخ میں جب بھی کبھی ایسی کوشش کی گئی، کٹر مسلم ملاؤں کی طرف سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ ردعمل اس قدر شدید ہو سکتا ہے کہ اس بات کا اندازہ یوں لگائیں، دین الہیٰ کے زمانے میں ملاؤں نے اکبر اور مغل سطلنت کے عروج میں شہنشاہ کے منصب اور اثر اقتدار کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مغلوں میں آخری عظیم بادشاہ سمجھا جانے والے شہنشاہ اورنگزیب کو سلطنت میں روز بروز بڑھتی ہوئی مشکلات کو روکنے کے لیے بالآخر سخت مذہبی تقلید پسندی کے نفاذ اور پیروکاری کا سہارا لینا پڑا تھا۔
جس طرح باقی اسلامی دنیا میں بھی ہوا، ویسے ہی برصغیر میں بھی اٹھارہویں صدی کے اوائل میں مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر مسلمانوں کی قوت اور اختیار کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ، قدرتی طور پر مسلمانوں کی اکثریت کا رجحان صرف اور صرف ایک ہی نکتے اور مقصد پر مرکوز ہو کر رہ گیا۔ اس طور کا مقصد یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح، ہر حال اور قیمت پر دشمنوں، چاہے وہ اندرون خانہ مخالف اسلامی فرقہ بند ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ ان کے سامنے اسلامی طاقت اور اختیار کا دفاع کیا جائے۔ اٹھارہویں صدی کے وسط تک پہنچتے ہوئے مسلمانوں کے سبھی خوف اور خدشات برطانوی سلطنت کی اٹھان میں مجتمع ہو کر رہ گئے۔ (1803ء میں سرکاری طور پر مغل شہنشاہ برطانوی وظیفہ خوار بن کر رہ گیا تھا)۔
یوں، یہ تب سے اب تک کا قصہ ہے کہ مغربی طاقتوں کے خلاف جنوب ایشیاء کے مسلمانوں میں ہمیشہ ہی مزاحمت کا عنصر دیکھا گیا ہے۔ اس میں کمی بیشی دیکھی گئی ہے لیکن یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ انیسویں صدی کے وسط میں اس مزاحمتی تصور میں 'مغربیت' کا ایک نیا جز بھی شامل ہو گیا۔ یہاں یہ یاد رکھنا انتہائی لازم ہے کہ آج تک جنوب ایشیائی مغرب پسندوں کی اکثریت اپنے مقاصد کو صرف عوامی فلاح، بہبود، قومی مفاد، استحکام اور ملک دشمنوں کے خلاف صف آرائی نامی جواز پر ہی آگے بڑھاتی آئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہیے، یہ مغرب پسند واقعی مغرب پسند نہیں ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر جاپان میں مغرب پسندوں کا کسی طور اور کسی پیمانے پر جنوب ایشیائی مغرب پسندوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مقاصد میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ یہ بات مغرب کو سمجھ لینی چاہیے اور یاد بھی رکھے کہ اگر کوئی مغربی ثقافت اور تصورات کو پسند کرتا ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب اور قطعاً لازم نہیں ہے کہ وہ مغربی خارجہ پالیسی سے بھی متفق ہو۔
مسلمانوں کے مذہبی حلقوں کا مغربی طاقتوں کے لیے رجحان، کٹر بنیاد پرست اور قدامت پسند رویوں کا مرکب ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اصلاح پسند واقع ہوئی ہے۔ (یاد رہے، یہ کسی بھی طور جدید اصلاح پسندی کا تصور نہیں ہے بلکہ یہاں روایتی اصلاح مراد ہے)۔ اسی طرح بنیاد پرستی کی بھی انتہا ہے۔ یعنی یہ اوائل دور کے طور طریقوں، حتیٰ کہ انتظام وغیرہ کے طریق پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کی مثال یورپ میں کٹر عیسائیوں یعنی 'رومی کیتھولک' یا 'پروٹیسٹنٹ' جیسی ہے۔ یہ مذہبی حلقے ہمیشہ ہی 'جہاد اکبر' یعنی روحانی طور پر انفرادی اور اجتماعی تزکیہ کے ساتھ ساتھ 'جہاد اصغر' یعنی اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ پر بھی یکساں طور پر زور دیتے آئے ہیں۔
مسلم اشرافیہ کا یہ ہے کہ انہوں نے معاملات پر ہمیشہ سیاسی اور عقلی بنیادوں کا سہارا لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سے عوام و الناس میں وسیع پیمانے پر 'اسلام کو خطرے' کا شبہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی شبے نے پہلے تو برصغیر کے مسلمانوں کو تحریک دی اور پھر وہ انتشار پھیلایا ہے کہ وقتاً فوقتاً ملکی اور مقامی دونوں ہی سطح پر کہیں نہ کہیں غیر مسلموں پر (کئی جگہوں پر دوسرے فرقوں بالخصوص اقلیتی مسالک پر) پرتشدد حملے اور شدید احتجاج وغیرہ دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ 1947ء سے قبل بھی مسلمانوں کے بیچ پائے جانے والے یہی شبہات تھے جس نے پاکستان قائم کرنے میں خاصا کردار ادا کیا۔
اسلام کو خطرات کا یہ احساس مقامی اور خطے کی سطح پر تو بھڑکتا ہی رہا ہے لیکن اس میں اسلامی دنیا (مثال کے طور پر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں سلطنت عثمانیہ کا عیسائی طاقتوں کے ہاتھ خاتمہ وغیرہ) کے معاملات بھی حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ جنوب ایشیائی مسلمانوں کے ذہن میں امہ کا کردار بالکل ویسا ہی بیٹھا چلا آ رہا ہے جیسا کہ قرون وسطیٰ میں یورپ میں عالم عیسائیت کا دھندلا اورمماثل ہوا کرتا تھا۔ مراد یہ ہے کہ امہ کا تصور یوں ہے کہ اس سے مقامی تنازعات کا خاتمہ یا آفاقی ریاست کا تصور نہیں نکلتا بلکہ اس سے ثقافتی، علمی، جذباتی، سیاسی اور بین الاقوامی اہمیت کے نتائج حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اب یہ نتائج جیسے کسی زمانے میں یورپی پاپاؤں کے ہاتھ صلیبی جنگوں کی صورت برآمد ہوئے تھے، آج اسلامی دنیا میں ملا بھی بالکل ویسی ہی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔
اسلامی دنیا پر برطانیہ اور فرانس کے تسلط کا خاتمہ ہوا تو اسلامی دنیا کے خوف کا سارا زور مغربی خطرات سے ہٹ کر قدرتی طور پر اسرائیل کی نوزائیدہ ریاست کی جانب مڑ گیا۔ (اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام پر قبضے کا وہ خوف جہاں پاکستانی میڈیا عوام کو مسلسل مساجد اور اس سے جڑی عقیدت کی یاد دلاتا رہتا ہے)۔ جہاں اسرائیل سے نفرت بڑھی، وہیں اسرائیل کے سب سے بڑے حامی امریکہ کے خلاف بھی جذبات امڈ آتے ہیں۔
پاکستان میں امریکہ سے عداوت ایک طویل عرصے تک ٹھنڈی پڑی رہی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کو علاقائی سطح پر اس سے کہیں بڑے خطرات کا سامنا تھا اور ان سے نبٹنے کے لیے امریکہ نے کسی حد تک تحفظ دلا رکھا تھا۔ یہ خطرات سوویت یونین اور بھارت تھے۔ چنانچہ 1980ء میں جب جنرل ضیاء نے ملک میں سخت اسلامی نظام متعارف کرانے کی کوشش کی تو اس پروگرام میں امریکہ مخالف عنصر سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ اس کی وجہ صاف تھی کہ امریکہ افغانستان میں سوویت قبضے کے خلاف سب سے اہم اتحادی تھا۔ یہی نہیں بلکہ امریکی مالی امداد پاکستان کا بڑا سہارا تھی اور سیاسی سطح پر امریکی تھپکی جنرل ضیائ کی حکومت کے لیے بھی ناگزیر تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے امریکہ مخالف جذبات کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس کے پیچھے پاکستان کو اسلامی دنیا کا لیڈر بنانا مقصود تھا ('اسلامی بم' نامی اصطلاح بھٹو کے انہی تصورات کا مظہر تھی)۔ لیکن، ہوا یہ کہ بھٹو کے ابھارے ہوئے امریکہ مخالف جذبات ان کے دور میں بائیں بازو کے حلقوں کی دلچسپی کا زیادہ سامان بنے۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اسلامی دنیا سے بائیں بازو کی قوم پرستی دم توڑتی چلی گئی اور لے دے کر آخر میں مسلمانوں کے بیچ اسلام پسند واحد دھڑا رہ گئے جن کے یہاں امریکہ اور سامراج مخالف جذبات کٹر معنوں میں باقی رہے۔
1989ء کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت انگیز جذبات کے لیے راہ صاف ہو گئی۔ سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ افغانستان سے سوویت یونین کے انخلا کے فوراً بعد سوویت یونین کے ٹوٹنے کے نتیجے میں امریکہ کے لیے پاکستان کی بحیثیت اتحادی اہمیت ختم ہو گئی۔ اس سے واشنگٹن میں ان حلقوں کو کھل کھیلنے کا پورا موقع مل گیا جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تحفظات رکھتے تھے اور طویل عرصے سے پابندیوں کا مطالبہ کرتے آ رہے تھے۔ اس ضمن میں اسرائیلی لابی اور اسرائیلی مفادات کی جانب جھکاؤ رکھنے والے سیاستدان جیسے کانگریس کے رکن سٹیفن سولاریز وغیرہ کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان کے اندر اسرائیل مخالف جذبات میں مزید اضافہ ہوتا گیا اور پوری قوم کی توجہ امریکی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کی جانب مبزول ہو گئی۔ امریکہ نے جس طور افغان جنگ کے بعد نتائج سے جان چھڑائی، اس کی وجہ سے بھی پاکستان میں غم و غصہ کئی درجے بڑھ گیا۔ افغان جنگ کے بعد پاکستان کو مغربی سرحد پر خانہ جنگی میں مبتلا افغانستان ملا اور لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو اکیلے ہی سنبھالنا پڑ گیا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ رفتہ رفتہ امریکہ کا جھکاؤ بھارت کی جانب بڑھتا گیا اور اب پاکستان میں امریکہ اور بھارت دشمنی کی اسی صف میں کھڑے ہو گئے جو اس سے قبل 1947ء سے 1991ء تک صرف بھارت کے لیے مخصوص تھی۔ پاکستان کے نکتہ نظر سے دیکھیں تو امریکی بے رخی کی شروعات واشنگٹن کا پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی خطے میں ایٹمی دوڑ پر سزا دینے کی غرض سے پابندیاں عائد کرنے کے ارادوں سے ہوئی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ 1974ء اور 1998ء، دونوں ہی مواقع پر ایٹمی تجربات میں پہل بھارت نے کی تھی۔ سفارتکاری کے میدان میں شاید اس بات کی اتنی اہمیت نہ ہوتی لیکن پاکستان، بھارت کے مقابلے میں کئی گنا چھوٹی معیشت ہے اور برآمدات میں مغرب پر انحصار کہیں زیادہ ہے۔ چنانچہ 1990ء کی دہائی میں امریکی پابندیوں نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو کہیں زیادہ نقصان پہنچایا اور ملک تقریباً ایک دہائی تک معاشی جمود کا شکار رہا۔
گیارہ ستمبر سے لے کر اب تک امریکہ نے بظاہر بھارت کے ساتھ اتحاد بنائے رکھا ہے۔ امریکہ کے اندر بھارت کو ممکنہ طور پر مستقبل میں چین اور اسلامی شدت پسندی کے خلاف اہم قوت تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ایٹمی پروگراموں کی بناء پر بھارت اور پاکستان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی پالیسی ترک کر دی ہے۔ امریکہ پچھلے چند برسوں میں بھارت کے ساتھ کئی ایٹمی معاہدے کر چکا ہے۔ حالانکہ ان معاہدوں میں سلامتی سے متعلق کئی جھول بھی ہیں۔ اس عرصے کے دوران امریکہ نے بھارت اور بھارتی کشمیر میں شدت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی پر پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور سخت رویہ اپنائے رکھا ہے لیکن دوسری جانب بھارت پر کسی طور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی غرض سے کسی قسم کا دباؤ ڈالنے سے گریز ہی کیا ہے۔اس کی تازہ مثال 2009ء کے اوائل میں بھارت اور امریکہ کے اندر بھارتی لابی کے دباؤ کے بعد اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے اس خطے کے لیے خصوصی سفیر رچرڈ ہالبروک کی ذمہ داریوں میں سے بھارت کو خارج کرنا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ واشنگٹن نے پچھلی چند دہائیوں میں آمریت کا ساتھ دیا ہے اور عوام کی چنی ہوئی حکومتوں کو گرانے والے آمروں کا ساتھ دیتا آیا ہے۔ اس نکتے کو یوں بھی تحریک ملتی ہے کہ ماضی میں فوجی حکمرانوں یعنی ایوب، ضیاء اور مشرف کے ادوار میں امریکی امداد پانی کی طرح بہائی گئی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں عام تاثر یہی ہے کہ امریکی اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے فوجی یا غیر فوجی کسی بھی حکومت کا ساتھ دے سکتے ہیں، چاہے وہ آصف علی زرداری ہی کیوں نہ ہو۔ اگر پاکستانی حکمران امریکی خواہشات کے مطابق چلتے رہیں تو حکومتیں برقرار رہتی ہیں ورنہ خود بخود گر جاتی ہیں۔
پاکستان میں یہ تاثر عام ہے اور اکثر اس بارے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ پاکستانی حکومتوں پر امریکی اثر و رسوخ بارے کئی باتیں جو زبان زد عام ہیں لیکن وہ درست نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات ہمیشہ سے ہی ایک دوسرے سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور بدگمانی کا شکار رہے ہیں۔ ایوب خان نے امریکی مرضی کے خلاف بھارت پر چڑھائی کی اور چین کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ ضیاء الحق نے امداد کا بے جا استعمال کیا اور امریکی مرضی کے خلاف افغان مجاہدین کو امداد فراہم کرتے رہے۔ واشنگٹن کی خواہشات کے برعکس اور بے پناہ دباؤ کے باوجود سبھی پاکستانی حکومتوں نے ایٹمی پروگرام نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا۔ اسی طرح گیارہ ستمبر کے بعد پاکستانی حکومتیں 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں امریکی توقعات پر کبھی پورا نہیں اتریں۔ بات یہ ہے کہ پاکستان میں حقائق کبھی بھی سازشی نظریات کی راہ میں حائل نہیں ہوتے۔ اوپر بیان کردہ حقائق، جو عام و خاص سبھی کے علم میں ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان میں عام تاثر یہی ہے کہ امریکی، پاکستان کو سامراجی شکل میں کسی کالونی کی طرح استعمال کرتا رہا ہے اور آج بھی کر رہا ہے۔
پاکستان میں امریکی حمایت کو آخری دھچکا اس وقت لگا جب اس نے افغانستان اور عراق میں جنگ چھیڑ دی۔ گیارہ ستمبر کے فوراً بعد 2001ء کے اواخر میں تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ پاکستان میں افغان جنگ بارے توقعات سے کہیں کم ردعمل دیکھنے میں آیا تھا اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس قضیے کا ذمہ دار القاعدہ کو ٹھہراتی تھی۔ لیکن جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور اس بارے بش انتظامیہ کی اوٹ پٹانگ توجیہات عام ہوئیں تو پاکستان سمیت سارے اسلامی ممالک میں یہ خوف عام ہو گیا کہ دراصل امریکہ اسلامی دنیا کو تباہ کر دینے کے راستے پر چل پڑا ہے۔
پاکستان میں عراق جنگ کے بعد امریکی انتظامیہ کے بیانیے میں جھول کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان جنگ کا جواز بھی پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے بے کار ہو گیا۔ سوچ میں اس تبدیلی کا مظہر میری ذاتی اور کئی دوسرے مغربی دوستوں کی وہ تحقیق ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام ہی نہیں بلکہ اشرافیہ کی ایک بڑی تعداد بھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملے القاعدہ نے نہیں بلکہ بش انتظامیہ اور اسرائیل نے مل کر خود کروائے تھے تا کہ انہیں افغانستان پر حملے کا جواز مل سکے۔ افغانستان اور عراق میں امریکی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ مغربی طاقتیں سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلامی دنیا کے قلب میں بیٹھ کر اسے قابو کرنے اور بالآخر حاکمیت جمانے کے در پے ہے۔
اگر کوئی معقول پاکستانی یا مغرب سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس بارے بحث کرے تو فوراً جواب یہ ملتا ہے کہ 'بش نے عراق بارے جھوٹ بولا تھا، تو آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے گیارہ ستمبر بارے بھی ایسا نہیں کیا ہو گا؟' امریکہ کا عراق پر حملہ، اسرائیل کی کھلی حمایت اور بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات۔۔۔ یہ سب عناصر مل کر پاکستانیوں میں بے معنی اور ادھورا ہی سہی لیکن خاصا اثر پذیر احساس پیدا کرتا ہے کہ 'اسلام، واقعی خطرے میں ہے!' اور اس کو یہ خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ امریکہ سے ہے۔
اس سب کا اثر یہ ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے سے گریزاں ہے تو اس کی وجہ سمجھ بھی آتی ہے اور ایسا چند برسوں میں ہوا ہے۔ 2001ء کے آس پاس پاکستان میں افغان طالبان کے لیے کسی نہ کسی سطح پر بد اندیشی پائی جاتی تھی لیکن 2009ء تک تقریباً وہ پاکستانی جن کے ساتھ میری بات چیت رہی، وہ اپنی رائے میں افغان طالبان سے متعلق واپس اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں جو 1980ء میں افغان مجاہدین کے لیے عام تھی۔ وہ رائے یہ تھی: یہ کوئی بہت اچھے لوگ نہیں ہیں یا کہیے، ایسے لوگ نہیں ہیں جو پاکستان پر حکمرانی کے قابل ہوں لیکن اس کے باوجود یہ وہ جری ہیں جو بہادری کے ساتھ مزاحمت کی جنگ لڑ رہے ہیں یا یہ کہ وہ غیر ملکی تسلط کے خلاف 'دفاعی جہاد' میں مشغول ہیں۔ اپنے ملک پر ناجائز قبضے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔



قدرتی طور پر پاکستان کے اندر پاکستانی عوام، پاکستانی افواج کی کسی بھی طرح سے ملک کے سرحدی علاقوں میں امریکی مطالبات کی رو سے، افغان طالبان کے خلاف کاروائی کی مخالفت کرتی ہے۔ ایک طویل عرصے تک یہ مخالفت، پاکستانی طالبان کے بھی حق میں باقی رہی ہے۔ پاکستانی طالبان کے بارے عوامی رائے یہی تھی کہ شاید یہ اپنے افغان بھائیوں کی جدوجہد میں ساتھ دے رہے ہیں۔ پاکستانی طالبان کے لیے یہ عوامی حمایت 2008ء سے 2010ء کے دوران دھندلانے لگی جب ان عناصر سے پاکستانی ریاست کو درپیش واقعی خطرات واضح ہونا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی میڈیا، پاکستانی طالبان کے خلاف ہو گیا اور ریاست نے پہلی دفعہ واقعی آہنی ہاتھوں کا استعمال کیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس سب کے باوجود پاکستانی طالبان کے خلاف کاروائی سے متعلق پاکستانی عوام کی رائے میں کھچاؤ پھر بھی باقی رہا اور قدم قدم پر کشیدگی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ عوام کے بیچ پائے جانے والے اس تناؤ نے پہلے جنرل مشرف اور پھر صدر زرداری کی حکومتوں کو انتظامی طور پر سخت نقصان پہنچایا تھا۔

سرورق: جامعہ مسجد دہلی میں جمعتہ الوداع کا اجتماع / روزنامہ ڈان / 2014ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر