مذہبی اور سیکولر، دو انتہاؤں کا بیانیہ


اسلامی دنیا میں مغرب کی جانب مزاحمت کی مذہبی صورتوں میں وقت کے ساتھ یقیناً تبدیلیاں آتی رہی ہیں لیکن یہ طے ہے کہ اس کا تسلسل کبھی نہیں ٹوٹا۔ اٹھارویں اور پھر تقریباً انیسویں صدی میں بھی اس مزاحمت کا اہم کردار صوفی سلسلے اور وہ مقامی مذہبی رہنما تھے جو ان سلسلوں کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر قفقاز یا کوہ قاف کے مسلمانوں پر روسی چڑھائی کے خلاف مزاحمت امام شامل کا کارنامہ تھا۔ اسی طرح الجیریا میں فرانسیسی فتح کے سامنے عبدالقادر کھڑے تھے۔ آج وہابیوں کے زیر اثر طالبان اور ان کی سوچ میں سوچ ملانے والے دوسرے گروہ انہی صوفیاء کے مزارات کو نشانہ بناتے ہیں جنھوں نے انگریزوں، روسیوں اور فرانسیسیوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ یہ خود کو ان صوفیاء کی سوچ سے بھلے مختلف جانتے ہوں لیکن جہاں تک مغرب کے خلاف مزاحمت کا تعلق ہے تو یہ گروہ بہرطور انہی صوفیاء کے جانشین کہلائے جا سکتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ اپنے زمانے، یعنی اٹھارہویں صدی کے نہایت اہم اور وقیع عالم گزرے ہیں۔ وہ اسلامی اصلاح پسند واقع ہوئے تھے جنھوں نے ہمیشہ ہی 'اجتہاد' کا سبق دیا۔ یعنی آزادی کے ساتھ حالات کی جانچ پرت کر کے استدلال کا پیغام دیا لیکن بہرحال اسلام کی اس صورت کی جانب واپس جانا مناسب سمجھا جس کا ذکر قران میں موجود ہے۔ یعنی مسلمانوں کو اکٹھا ہو کر ایک قوم کی شکل میں مسلح جہاد کی ترغیب دی تا کہ جنوب ایشیاء میں مسلمانوں کی گرتی ہوئی طاقت کو سنبھالا دیا جا سکے۔ اس صورت کے جہاد کو شاہ ولی اللہ، ان کے پیروکار اور آج بھی مزاحم گروہ 'دفاعی جہاد' کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف اس طرح کے جہاد کی تاریخی مثال جنوبی ہندوستان میں میسور کے مسلمان حکمران ٹیپو سلطان کی مزاحمت اور جنگ کی صورت حوالے کے طور پر موجود ہے۔



شاہ ولی اللہ کی تعلیمات نے دیوبندیوں پر تو اثر کیا ہی تھا لیکن آج کل پاکستان کی 'سیاسی اسلام پسندی' میں بھی ان کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اسی طرح اپنے زمانے میں سید احمد بریلوی نے پنجاب میں سکھوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ انھوں نے یہ جنگ اسی سوچ کے زیر اثر لڑی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سید احمد بریلوی اور ان کے چھ سو پیروکاروں نے بھی اسی طرح جیسا کہ حالیہ برسوں میں اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے کسی دوسری جگہ سے ہی پشتون علاقوں کا رخ کیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں ریاست وقت کا کنٹرول اور رٹ ڈھیلی تھی جنہیں ہم 'محفوظ پناہ گاہ' اور عرف عام میں 'علاقہ غیر' کہتے ہیں۔ تاریخ اور حال دونوں ہی زمانوں میں مزاحم گروہوں کی پشتون علاقوں کی جانب ہجرت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پشتون قبائل میں جنگ اور جدل اور لڑائی کی قدرتی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ پشتونوں کو جہاد کی غرض سے ابھارنا اور بھرتی کرنا نہایت آسان کام ہے۔
سید احمد بریلوی نے اپنے پیروکاروں کے ساتھ پشتونوں کی دھرتی کا رخ تو کر لیا لیکن انہیں یہاں پہنچتے ہی ادراک ہو گیا کہ یہ کام اتنا بھی آسان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پشتون قبائل کی اپنی روایات اور مفادات ہوتے ہیں۔ جب بریلوی نے پشتون روایات اور 'پشتون ولی' کو صرف اور صرف قرانی احکامات سے بدلنے کی کوشش کی تو ان کے زیادہ تر پشتون اتحادی ساتھ چھوڑ گئے۔ یوں سید احمد بریلوی اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اس علاقے میں آج بھی جہادی اسلام پسند گروہ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کو اپنی روایت اور شاندار تاریخ کا جد امجد مانتے ہیں لیکن اس گروہ کے خاتمے سے متعلق اصل حالات اور واقعات کو گول مول کر دیا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے بارے یہ ہے کہ ان کی شکست اور وفات کے بعد، ان کے پوتے محمد اسحاق نے بد دل ہو کر ہندوستان سے عرب کی جانب رخصت لے لی۔
سید احمد، ان کے ماننے والوں اور اس سوچ کے سبھی گروہوں کی اساسی بنیاد پرستی اور عربوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے انگریزوں نے انہیں 'وہابی' کا نام دیا جو آج بھی عرب و عجم میں گونجتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ وہابی کی اصطلاح سے مراد عرب میں محمد عبد الوہاب کی اٹھارہویں صدی میں کٹر اسلام، حد سے زیادہ سختی اور بے رحمی پر مبنی بنیاد پرست تحریک ہے۔ اس تحریک کو آل سعود نے اپنا شیوہ بنایا اور اسی پر گامزن ہو گئے۔ آج کے دور میں وہابیت اور طالبان کا جوڑ اور معنویت مکمل طور پر درست حوالہ نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ نے عرب میں علم حاصل کیا اور انہی اساتذہ کے زیر اثر رہے جنھوں نے محمد عبد الوہاب کو تعلیم دی۔ لیکن اگر بغور دیکھیں تو شاہ ولی اللہ اور ان کے شاگردوں کی تعلیمات اور وہابیت میں زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
وہابیوں نے اپنی روایت اور سوچ کے عین مطابق جب مکہ اور مدینہ پر قبضہ کیا تو وہاں بڑے پیمانے پر صفایا شروع کر دیا۔ اس مہم میں صحابہ اور اہل بیت کے مزارات، تاریخی مقامات اور یہاں تک کہ خود رسول خدا کے روضہ پر بھی 'بدعت' کا نام لے کر تباہی پھیلائی گئی۔ وہابیوں کے ان اقدامات کی وجہ سے 'وہابی' نام، ان کے حمایتیوں اور مخالفین۔۔۔ دونوں کے لیے قابل استعمال بن گیا۔ حمایتیوں نے 'وہابی' سے مراد مذہبی تپش اور بہادری لی جبکہ مخالفین نے اسے وہابیوں کے وحشیانہ پن، جہالت اور دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر سنگدلانہ حملوں سے تعبیر کیا۔ جنوبی ایشیاء اور سابقہ سوویت یونین کے علاقوں میں آج 'وہابی' سے مراد ایسا شخص یا گروہ لیا جاتا ہے جو جہاد کا حامی، کٹر اور بنیاد پرست اسلام کا نفاذ چاہتا ہے۔ طالبان اور القاعدہ اسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب وہ جو طالبان اور القاعدہ کے خلاف سپر آزما ہیں، وہ بھلے خود کو ایک نئی تحریک کا حصہ سمجھتے ہوں لیکن ان کی جڑیں بھی تاریخی لحاظ سے عرب اور جنوب ایشیاء میں دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ دونوں ہی طرح کے لوگ 'وہابیوں' کے حمایتی یا مخالف ہر دو صورت پشتون قبائل سے بھی تعلق جڑتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تعلق 180 سال پرانا ہے۔
انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں نازک مرحلہ 1857ء کی جنگ آزادی ہے۔ انگریز اسے 'غدر' کا نام دیتے ہیں۔ اس 'غدر' کی واقعی شروعات اس وقت ہوئی جب 1856ء میں انگریزوں نے اودھ کی ریاست کو لپیٹ لیا۔ یہ شمالی ہندوستان میں بچ رہنے والی آخری بڑی مسلمان ریاست تھی۔ لکھنو میں ریاست کی باغی افواج نے اودھ کے شاہی نظام کی دوبارہ بحالی کی قسم کھائی اور دہلی میں مسلمانوں نے ملاؤں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اپنا برائے نام سربراہ قرار دے کر شمالی ہندوستان کے تقریباً علاقے میں، بنیاد پرست مسلمان ملاؤں، رہنماؤں اور قبائلیوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔
اگرچہ اس 'غدر' میں ہندو برابر کے شریک تھے لیکن انگریزوں نے اس سرکشی کے پیچھے اصل قوت صرف مسلمانوں کو ہی قرار دیا اور غدر کے بعد سارا نزلہ بھی مسلمانوں اور ان کے اداروں پر گرایا گیا۔ شمالی ہندوستان کے دو عظیم شہروں دہلی اور لکھنو میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا اور ایسی تباہی پھیلی کہ اس سے قبل کم ہی دیکھی گئی تھی۔ ان دونوں شہروں میں چیدہ لوگوں کو چن چن کر سولی پر چڑھا دیا گیا۔ مغل سلطنت کا خاتمہ ہوا اور آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور خود شاہ کو رنگون میں قید کر لیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں پر شاہ برطانیہ کی سروس پر بھی راستے مسدود کر دیے گئے اور کئی مسلمانوں کو ان کی ملازمت اور معاونت سے برطرف کر دیا گیا۔
غدر کے بعد کئی دہائیوں تک مسلم اشرافیہ جو کہ ابھی تک ہندوستان پر راج کرتی آئی تھی، اسے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ میں برطانوی اصلاحات اور تبدیلیوں کے باعث ان کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ انگریزی نےسرکاری سطح پر فارسی کی چھٹی کرا دی اور روایتی مدرسوں اور اسلامی مراکز کی جگہ انگریزی یونیورسٹیوں نے لے لی۔
قصدًا یا بلا قصد، انگریزوں کا جھکاؤ ہندؤں کی اعلیٰ ذاتوں کی جانب بڑھ گیا۔ ہندوؤں کی اونچی ذاتوں نے مسلم اشرافیہ کی جگہ لے لی۔ ہندوؤں کو انگریزی تعلیمی اداروں میں نہایت آسانی سے داخلہ مل جاتا تھا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے سول سروس میں نچلی رینکوں پر ان کا غلبہ ہو گیا۔ کلکتہ، بمبئی، مدراس اور کراچی میں ہندو تاجر برادری کو خاصا فائدہ پہنچا اور یہ شہر دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرنے لگے۔ یہ بدظنی اور بگاڑ 1880ء کی دہائی میں اس وقت بالکل واضح ہو گئی جب ہندوستان میں قدم بقدم ریاستی اداروں میں نمائندگی کی بات چلی اور پتہ چلا کہ ہندوستان بھر میں مسلمان ہندوؤں کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ پسماندگی کا شکار تو ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہر شعبے میں بہت پیچھے بھی رہ گئے ہیں۔
آج پاکستانی ریاست اسی زمانے میں مسلمانوں کو پیش آنی والی مشکلات کے بیانیے پر قائم ہے۔ پاکستان میں عوامی سطح پر پائی جانے والی رائے، اسی بدظنی اور بگاڑ کا حوالہ دیتی ہے اور ردعمل میں انہی زیادتیوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سیکولر تعلیم، سماجی بدلاؤ اور مذہبی اصلاحات پر زور دیا جاتا ہے۔ تب سے ہر دور اور زمانے میں مختلف مسلمان تحاریک نے ہندوؤں کے ساتھ مقابلے پر زور دیا ہے یا پھر ہندوؤں کے ساتھ مل کر انگریزوں کو نکال باہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنوب ایشیاء میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جہاں تک بات ہے تو یہ برطانوی دور کے بالکل اواخر میں پیش آنے والا معاملہ ہے جو نہایت عجلت میں ترتیب دیا گیا اور توجہ سے جائزہ لیں تو انتہائی گول مول اور غیر یقینی سا محسوس ہوتا ہے۔ تاہم یہ یاد رہے کہ اس ضمن میں جو بھی حکمت عملی اختیار کی گئی۔۔۔ یہ طے ہے کہ اس تحریک کو جلا بخشنے والے مسلمانوں کی اکثریت سیاسی طور پر ہندوؤں سے علیحدہ رہ کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انڈین کانگریس کے اوائل دنوں میں کٹر ہندو رہنما اس تحریک میں مسلمانوں کی شمولیت پر زیادہ خوش نہیں تھے۔
اگر مجموعی سطح پر دیکھا جائے تو ہندوستان میں برطانوی سامراج کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد اور جواب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ شاہ ولی اللہ کی مذہبی اصلاحات اور مزاحمت سے جڑا ہے۔ دوسرا حصہ سرسید احمد خان کا پیش کردہ خلاصہ ہے جبکہ تیسرا حصے مسلمانوں کی عوامی سطح پر بشمول مقامی اشرافیہ کی جدوجہد ہے۔
آخری حصہ جو عوام اور مقامی اشرافیہ پر مشتمل تھا۔۔۔ اس سے ان کی زندگیوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا بلکہ جس قدر ممکن تھا، وہ انگریزوں سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ ان فائدوں میں سب سے قابل ذکر مسلمانوں کی شمالی پنجاب کی ملٹری سروس میں شمولیت اور نہری نظام کے گرد 'جاگیروں' کی الاٹمنٹ وغیرہ ہے۔ جہاں یہ، وہیں جب بھی کبھی مسلمانوں کی شناخت پر انگلی اٹھتی ہوئی دکھائی دی، گاہے بگاہے عوامی سطح پر مزاحمت کی لہریں دیکھی گئیں۔ یہاں تک کہ عوامی سطح پر بھی کئی مسلح تحاریک بھی دیکھنے میں آئیں۔ ان میں زیادہ تر مزاحمت پشتون علاقوں میں مسلسل دیکھی گئیں۔ علاوہ ازیں، قابل ذکر تحاریک میں جنوبی ہندوستان کی 1920ئ میں کرناٹک کے موپلاؤں کی جدوجہد اور 1940ء میں سندھ کے کچھ حصوں میں صوفی سلسلے پیر پگارو کے حروں کی مزاحمت بھی شامل ہے۔
سرسید احمد خان مغل دور کی اشرافیہ میں اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے 1857ء کی جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دیا لیکن گاہے بگاہے وہ برطانوی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہتے تھے۔ وہ خود تو انتہائی مذہبی آدمی تھے لیکن اس کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے انگریزوں کے ساتھ تعاون اور تعلق کے خواہاں تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کی سوچ کے مطابق مسلمانوں کو مغربی جدیدیت کو اپنا لینا چاہیے تا کہ مسلمان بحیثیت قوم ترقی کر سکیں اور ہندوؤں کی بلند مقامی کا مقابلہ ہو سکے۔ اس ضمن میں سرسید نے 'اسلامی کیمبرج' کے تصور پر علی گڑھ کے مقام پر 'محمڈن اینگلو-اورئینٹل کالج' کی بنیاد رکھی جو آج علی گڑھ یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ یہ مسلمانوں کے چند اہم اداروں میں سے ایک ہوا کرتا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد یہ ادارہ بھی بھارت میں ہی رہ گیا۔
1888ء میں سرسید احمد خان نے ان بنیادی اصولوں کی صورت وضح کی جن پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت، اگرچہ اس صورت میں علاقائی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا لیکن ایک دوسرا حوالہ ملتا تھا۔ سرسید نے کہا، 'ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں جو انگریزوں کے جانے کے بعد طاقت اور اختیار کے حصول میں جت جائیں گی' وہ مزید لکھتے ہیں،
'کیا یہ ممکن ہے کہ اس ماحول میں یہ دو قومیں یعنی محمدن اور ہندو، بیک وقت ایک ہی مسند پر بیٹھیں اور اختیار میں بھی برابر ہوں؟ غالب امکان یہی ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو پچھاڑ کر فتح حاصل کرے اور مفتوح کر لے۔ یہ امید رکھنا کہ ان میں برابری قائم کی جا سکتی ہے، یہ ناممکن اور ناقابل عمل تصور ہے۔'
پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور ان کے قریبی رفقاء اپنی تحریک میں سرسید کی تخلیق کردہ اسی روایت پر ڈٹ گئے۔ یہ ایسی روایت ہے جس کے تحت برصغیر کے مسلمانوں کو زبان (اردو) اور بجائے مذہب، مذہب کی بنیادوں پر استوار کلچر میں ڈھال کر ایک قوم کی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔ ہندوؤں کے خوف کو فوقیت دینے کی وجہ سے یہ روایت قدرتی طور پر ہندوؤں کی سرکردگی میں ہندوستان کی تحریک آزادی سے علیحدہ ہو گئی۔ یہی نہیں بلکہ کسی نہ کسی طور ہندوستان کے طول و عرض میں اس پر کانگریسی تحریک آزادی کے خلاف انگریزوں کی حمایت کی چھاپ بھی لگی۔
پاکستان بننے کے بعد ملک میں اسی، یعنی جدیدیت پر مبنی قوم پرستی کی روایت کو دو فوجی حکمرانوں ایوب خان اور پرویز مشرف جبکہ ایک عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے بھی دوبارہ سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ ایوب خان کے دور میں پاکستان کا قومی جھکاؤ برطانیہ کی بجائے امریکہ کی طرف ڈھلکا اور مشہور یہ ہوا کہ دراصل امریکہ ہی جنوب ایشیاء کے مسلمانوں کا ہندواتا پر قائم بھارت کے خلاف (اگرچہ بدقسمتی سے ہی لیکن!) اتحادی ہے۔
آج پاکستان کی سول سروس اور امراء پر مشتمل طبقات میں انتہائی مبہم انداز میں ہی سہی لیکن وسیع تر معنوں میں سرسید کا پیش کردہ مسلمانوں کا مغربی جدیدیت کی طرف رجحان کسی نہ کسی طور نظر آتا ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ طبقات اور سول سروس کے افسران اس جدید رجحان کو ملک میں عام کرنے میں خاصے کورے واقع ہوئے ہیں۔ اس جدیدیت کے حامیوں میں سے اکثر نے 1947ء میں بجائے پاکستان، بھارت میں رہنے کو ترجیح دی۔ مسلمانوں کی وہ پود آج بھارتی سیاست، انتظامیہ، جامعات اور بالخصوص فنون لطیفہ میں خاصی کامیاب ہے۔
برطانوی دور میں، شاہ ولی اللہ کی اسلام پسند روایت قدرتی طور پر انگریزوں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور سامراج کے خلاف مزاحمت پر مبنی تھی۔ چونکہ انگریزوں کی طاقت اور اثر و رسوخ خاصا زیادہ تھا تو اس لیے یہ مزاحمتی تحریک زیادہ تر پر امن اور عدم تشدد پر قائم رہی۔ اس کا خلاف قیاس اثر یہ ہوا کہ 'جہاد' کے سرگرم اور تند حامی، جیسے مولانا عبدالکلام آزاد بھی بالآخر ہندوستان کی سبھی قوموں کے یکجا ہو کر انگریزوں کے خلاف تحریک پر آمادہ ہو گئے۔ مولانا آزاد بعد ازاں انڈین نیشنل کانگریس کے چیدہ لیڈران میں شامل ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مقرر ہوئے۔ مولانا عبدالکلام آزاد اور ان کی طرح سوچ کے حامل دوسرے لیڈران اسی روایت کے تحت مسلمانوں کی علیحدہ ریاست یعنی پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ گروہ آفاقی مسلم امہ پر یقین رکھتا تھا اور قوم یا ملک کی بنیاد پر مزید تقسیم کا حامی نہیں تھا۔
چنانچہ، پاکستان کے قیام کے بعد یہ حقیقت ہر طرح سے منطقی معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعت اسلامی بھی امہ کے اتحاد کے نام پر پاکستان کے قیام کی مخالف رہی تھی۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جماعت پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں۔۔۔ ان کے مسائل پر آواز بلند کرتی ہوئی نظر آتی ہے؛ چاہے یہ فلسطین، چیچنیا اور کشمیر میں مسلح جہاد ہی کیوں نہ ہو۔ علاوہ ازیں، یہ جماعت امہ کے آفاقی تصور کا دفاع کرنے کی غرض سے صرف پاکستانی مفادات اور نظریات کے تحفظ کی بات نہیں کرتی۔ لیکن دوسری جانب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد، بالخصوص گیارہ ستمبر کے بعد کی تقریروں میں 'سب سے پہلے پاکستان!' کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یہ دو انتہائیں ہیں۔۔۔ یہ مملکت پاکستان میں سیکولر اور مذہبی، دو انتہاؤں کا آج یہی بیانیہ ہے۔




سرورق:  رائٹرز / محسن رضا

 اگلا باب: پاکستان کا خمیر  

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر