پاکستان کی نوزائیدہ ریاست


پاکستانی تاریخ کے بعد کے ادوار کی خشک مزاجی کے باوجود مغربی پاکستان میں تحریک پاکستان کی گہری تصوریت اورحقیقی کامیابیاں معمولی نہیں ہیں۔ غالباً، یہ وہ عوامل ہیں جن کے بغیر پاکستان کا باقی بچ رہنا ممکن ہی نہ تھا۔ تقسیم ہند کے بعد اوائل برسوں میں سیاسی افراتفری کے باوجود پاکستانیوں کی اکثریت نے زبردست سکت اور استعداد کے ساتھ ایسی یک جہتی اور یگانگت دکھائی جو اس کے بعد دوبارہ کبھی نظر نہیں آئی۔ پاکستانیوں کی یہ وہ خصوصیات تھیں جن کے بل بوتے پر تقسیم ہند کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال، عوامی مشکلات، تجارتی اور مواصلاتی کٹاؤ، لاکھوں مہاجرین کے بوجھ اور بھارت کے ساتھ کشیدہ حالات پر بخوبی قابو پا لیا گیا۔ آئن تالبوت نے لکھا تھا،
'تقریباً سبھی مہاجرین پاکستان کی جانب ہجرت کو صحیح معنوں میں اسلام کے اوائل دنوں کی جدوجہد سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایمان تازہ کرنےکا موقع قرار پایا ہے۔ وہ جو وقت کے ساتھ پاکستان میں بگڑے حالات پر نالاں نظر آتے ہیں، انہیں یہ جان کر زبردست حیرت ہو گی کہ سماجی سطح پر جس طرح کے اتحاد، یگانگت اور یقین محکم کی مثال تقسیم ہند کے وقت دیکھنے میں آئی تھی، شاید اس جیسی دوسری مثال صرف برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران پیدا ہوئی تھی۔ یہ اتحاد، یگانگت اور یقین محکم ہی دراصل پاکستانی ریاست کی اوائل دنوں کی سنہری یادگار ہیں'۔



اختر حمید خان (جن کا تعلق برٹش سول سروس سے تھا اور تقسیم کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوئے اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی بنیاد رکھی) نے 1989ء میں مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا، 'آج یہ سننے میں عجیب و غریب لگتا ہے لیکن تقسیم ہند کے بعد پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں کو پورا یقین تھا کہ پاکستان کو ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اسلامی روایات، انصاف اور عقیدہ مساوات پر قائم ہو گی اور اس میں مغربی سوشلسٹ طرز فکر بھی نمایاں ہوا کرے گی'۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقسیم ہند کے فوری بعد تحریک پاکستان سے جڑا رومان اور نوزائیدہ پاکستانی ریاست کے اسلامی فلاحی اور سوشلسٹ ہونے کا جس قدر بھی امکان تھا۔۔۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے مغربی پاکستان کے مقامی سیاسی حلقوں کی روش اور کلچر نے ڈکار لیا۔ یہ کلچر جاگیرداروں، برادریوں اور قدامت پسند مذہبی حلقوں پر مشتمل تھا۔ ایسا پہلی بار اوائل برسوں میں ہوا اور اس کے بعد بھی جب کبھی پاکستان میں اصلاحات کا منصوبہ بنا، یہی عناصر اس کی ناکامی کا سبب بنے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف۔۔۔ سب کے ساتھ یہی ہوا۔ انہوں نے اپنے اپنے طریقوں اور حربوں سے پاکستانی نظام میں بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش کی لیکن ہر بار انہیں ریاست کی کمزوری، مقامی برادریوں، جاگیرداروں، با اثر حلقوں اور ملاؤں کی مذہبی روایتوں کے ہاتھوں ہزیمت ہی اٹھانی پڑی ہے۔
علاوہ ازیں، آزادی کے بعد مسلم لیگ کا اصلاحی ایجنڈا اس وقت جلد ہی تہہ تیغ ہو گیا جب جناح صرف ایک برس بعد ہی چل بسے اور بعد ازاں جناح کے نامزد کردہ وزیراعظم لیاقت علی خان بھی قتل کر دیے گئے۔ ان دونوں رہنماؤں کے بغیر مسلم لیگ جلد ہی ٹوٹ پھوٹ گئی۔ یہ وہ وجوہات ہیں جو پاکستان کو بھارت سے جدا کرتی ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی مدد سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آخر برطانوی شہنشاہیت کے بعد ہندوستان تقسیم ہونے کے بعد ایک ہی خطے میں بھلا دو مختلف طرح کی سیاسی تواریخ کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟
بھارت میں کیا ہوا؟ تحریک آزادی کے کرشماتی لیڈر جواہر لعل نعرو 1964ء تک اقتدار میں جمے رہے اور انہوں نے اس سیاسی گھرانے اور سلسلے کی بنیاد رکھی جو آج بھی قائم ہے۔ یہ نہرو کا کارنامہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کی سیاسی جماعت کے طور شناخت اور اقتدار کے ایوانوں میں اس کی گونج اور اثر باقی رہا۔ اگرچہ بھارت ایک 'جمہوریہ' ہے لیکن یہاں 1960ء کی دہائی تک کئی لحاظ سے (جیسے جاپان میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پانچ دہائیوں تک) ایک ہی جماعت کی حکمرانی رہی۔ پاکستان میں ایسی کسی جماعت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
اگر جناح زندہ بھی رہتے تو شبہ یہی ہے کہ مسلم لیگ، کانگریس کی طرح تا دیر باقی رہ سکتی تھی۔ دراصل، مسلم لیگ کی اپنی جڑیں تھی۔ اس تحریک اور جماعت کا ایک قلب تھا جو اس کی حمایت یافتہ علاقوں میں پایا جاتا تھا لیکن وہ سارے علاقے اب ہندوستان میں شامل ہو چکے تھے۔ آزادی سے کچھ عرصہ قبل بھی دیکھیں تو پنجاب اور سندھ میں مقامی سیاسی جماعتوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی۔ یہاں مقامی وڈیرے ہوا کرتے تھے جو ہندو، سکھ ہم پلہ گروؤں اور پنجاب میں مکھیا جبکہ سندھ میں ہندو بنیے کے ساتھ مل کر حکومتیں چلایا کرتے تھے۔ اسی طرح شمال مغربی سرحدی صوبے میں پشتون قوم پرستوں کی جماعت تھی جو کانگریس کی اتحادی تھی جبکہ بلوچستان میں مقامی سردار، ملک اور نواب تھے۔ ان کی اکثریت پاکستان میں شمولیت کے خلاف تھی۔
چنانچہ، پاکستانی ریاست کی مرکزی قیادت اور افواج پاکستان ان علاقائی عناصر اور طاقتوں کی نوزائیدہ ریاست کے ساتھ وفاداری سے متعلق امور سے بخوبی واقف تھیں۔ اس زمانے کا یہی ریاستی ادراک پاکستان کو قومی سطح پر ایک 'دفاعی ریاست' بنانے کی وجہ ہے۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کا سارا کلیہ ہی دفاع پر مبنی ہے۔ یعنی، ریاست کو اپنی ہی عوام اور عوامی قیادت پر بھروسا نہیں ہے۔ یہ ملک انٹیلی جینس سروسز پر ضرورت سے کہیں زیادہ انحصار کرتا ہے اور ریاست کو اکٹھا رکھنے کے لیے افواج کو ہر دم اور ہر معاملے میں مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
برطانوی دور کے اواخر تک مسلم لیگ کسی حد تک تو مقامی سندھی، پنجابی اور پشتون جماعتوں کی جگہ لینے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن اس کی وجہ بھی دراصل وہی اسلام سے متعلق عوامی جوش و خروش اور ہندوؤں کی حاکمیت کا خوف تھا جس نے عام لوگوں کو ذہن بدلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس ملی جوش و خروش کے باوجود، حقیقت میں یہاں مسلم لیگ تب بھی صرف اور صرف مقامی جاگیرداروں اور اشرافیہ کے بل بوتے پر چلتی رہی۔ یہ پاکستانی تاریخ میں مقامی روایتی اشرافیہ اور اصلاح پسند سیاسی دھڑوں کے بیچ مفاہمت اور نظریہ ضرورت کے تحت سمجھوتے کی پہلی مثال تھی اور یہ آج بھی جوں کی توں چلی آ رہی ہے۔ اس روایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ لیگی قیادت کے اصلاح پسند ایجنڈے، بالخصوص زرعی اصلاحات کے پروگرام کو پاکستان کے اوائل دنوں میں ہی دفن کر دیا گیا۔
دوسری جانب، مسلم لیگ کی مرکزی قیادت اور ملک کی اولین بیوروکریسی میں ان لوگوں کی اکثریت تھی جن کا تعلق ان علاقوں سے تھا جو اب بھارت کا حصہ بن چکے تھے۔ اگر اس میں جناح اور لیاقت علی خان کا نام بھی شمار کر دیا جائے اور سول سروس کے چیدہ نام گنوائیں تو سبھی اسی طور کے تھے۔ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ جلد ہی ملک میں سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کا مقامی سوسائٹی سے فاصلہ بڑھنا شروع ہو گیا اور یہ کسی طور پر بھی قدرتی طور پر پائی جانے والا ریاستی ڈھانچہ اور قانونی سسٹم نہیں تھا۔ اس پر انگریزوں کے دور کے نظام کا گمان ہوتا تھا۔
یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی ریاست کی اولین بیس برسوں میں کامیابیاں کسی طور بھی مقامی نہیں بلکہ غیر پاکستانی تھیں۔ وہ یوں کہ یہ ایک ایسا ریاستی ڈھانچہ تھا جو انگریزوں نے بنا کر دیا تھا اور یہاں حکام وہ تھے جو ہندوستان کی پرانی مسلم ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ پاکستانی خطے کے لیے بالکل غیر تھے۔ اسی طرح، فوج بھی انگریزوں کی قائم کردہ اور انہی کی تربیت یافتہ تھی۔ صنعت کاروں کی اکثریت گجراتی تھی جو ہندوستان کے علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔ تب سے آج تک یہ طے ہے کہ پاکستانی ریاست میں عوام اور حکمران طبقے کے بیچ ہمیشہ میل اور مطابقت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اکثر ڈانواڈول ہی رہتی ہے۔
اس نوزائیدہ ریاست میں تو زبان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔ ریاست نے اس لحاظ سے بھی اپنے آپ کو مقامی آبادیوں سے بہت دور کر لیا۔ نئی سرکاری اور ریاستی زبان اردو طے پائی جو مغل اشرافیہ اور مغل افواج کی بولی ہوا کرتی تھی۔ یہ زبان مغلوں کے بعد شمالی ہندوستان کے اشرافیہ کے یہاں بہت عام تھی۔ یہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے کسی صوبے اور علاقے کے لوگوں کی زبان نہیں تھی۔
اس ریاستی حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی اکثریت کو اردو میڈیم سکولوں میں جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس سے سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں قوم پرستوں کے یہاں ریاست اور اردو کے خلاف جذبات پیدا ہوئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اردو عوام کی زبان تو ظاہر ہے، نہ تھی۔۔۔ وہیں یہ ملک کی اشرافیہ کے یہاں بھی پنپ نہیں سکی۔ اس ملک کی اشرافیہ جو انگریزوں کے چھتر چھایا میں پلی تھی، اس نے بھی اردو کی بجائے انگریزی کو ترجیح دی۔ پاکستان میں بولی جانے والی انگریزی زبان اپنی نوعیت کی انوکھی قسم ہے جو سرکاری سطح پر اونچی رینکوں میں عام ہے۔ ملک کی اوپری سوسائٹی یہی زبان بولتی ہے اور اعلیٰ تعلیم بھی انگریزی زبان میں ہی دلائی جاتی ہے۔ ملک کے قانونی اور انصاف کے نظام پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے، اس کا احاطہ اگلے باب میں کیا جائے گا۔ جہاں یہ، وہاں یہ بھی ہے کہ اردو زبان میں تعلیم بارے بھی سماجی طور پر کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔ پاکستانیوں کی اپر کلاس نوجوانوں کی اکثریت اردو زبان میں نظام تعلیم کو اپنی شان شایان کے خلاف سمجھتی ہے اور اکثر اوقات اردو میڈیم طلباء کے ساتھ اس اپر کلاس کا توہین آمیز رویہ اور حقارت دیکھ کر تو جی متلا جاتا ہے۔ یوں، اردو دنیا کی وہ بدقسمت زبان ہے جس کو اوپر اور نیچے۔۔۔ دونوں ہی اطراف سے ہمیشہ دباؤ کا سامنا رہا ہے۔



سرورق:  روزنامہ ڈان / 8 اکتوبر، 1958ء

 اگلا باب: تبدیلی، اوپر سے کوشش

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر