ضیاء الحق


بھٹو کو پھانسی پر چڑھا کر حکومت کی باگ دوڑ سنبھالنے والے جنرل ضیاء الحق کے لیے یہ نہایت آسان تھا کہ وہ اپنی حکمرانی کو بھٹو کے دور کا متضاد بنا کر پیش کرتے۔ یہ طے ہے کہ سوچ اور طرز عمل میں جنرل ضیاء، بھٹو کے متضاد ہی تھے۔ ضیاء الحق مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے حکمران تھے۔ ان کا تعلق مشرقی پنجاب سے تھا اور والد انگریز دور کی سول سروس کے جونئیر رینک سے تعلق رکھتے تھے۔ ضیاء الحق نے دوسری جنگ عظیم کے بالکل اواخر میں برٹش انڈین آرمی کی افسرانہ رینک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان پہنچے۔ اسی دور کی یاد جنرل ضیاء کی سوچ اور دنیاوی سمجھ کی عکاس ہے۔ بھٹو کے برعکس اور پاکستان کے آج تک سبھی فوجی حکمرانوں کے برعکس۔۔۔ جنرل ضیاء نہایت دین دار اور کٹر متقی مسلمان تھے۔
بھٹو، ایوب اور مشرف۔۔۔ ان تینوں کے برعکس جنرل ضیاء نے پاکستان کو اسلامی بنیادوں پر تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف ضیاء کی مذہب سے گہری نسبت کی عکاسی کے ساتھ مسلم قوم پرست سوچ (پاکستانی افواج اور سویلین اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی سیکولر عنصر بھی اکثر اسی سوچ کے حامی ہیں) کی فوقیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے خیال میں مذہب واحد طاقت ہے جو پاکستانیوں کی قوم پرستی اور شناخت کو قائم رکھ سکتی ہے۔ یہ مذہبی وابستگی ہی ہے جو پاکستان کو ٹوٹنے سے بچا سکتی ہے اور عوام کو قوم اور سماج کی ایمانداری سے فلاح اور خدمت کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔



تاہم، مشرف اور بھٹو کی طرح ضیاء الحق بھی اپنے تقریباً سارے قومی ارادوں میں ناکام رہے۔ حالانکہ، ان کے دور میں پاکستانی تاریخ کا کڑا اور سخت ترین آمریت پر مبنی استبدادنہ رویہ نظر آیا ہے۔ یوں، جنرل ضیاء الحق کے دور کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ایک دفعہ پھر، حتیٰ کہ پاکستانی معیار کے مطابق سخت آمریت میں بھی ریاست کی خفی اور دائمی کمزوریاں صاف عیاں ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی اور سماجی کلچر کی ہئیت خیر کسی بھی صورت اسلامی طرز پر نہ بدلی بلکہ ضیاء الحق کے اٹھائے اقدامات عمومی لحاظ سے انتہائی سطحی ثابت ہوئے۔ کئی معاملات، جیسے عورتوں کے بارے تو یہ سخت بھدے تھے۔ بعد ازاں، ان اقدامات میں سے اکثریت کو جنرل مشرف نے اپنے دور میں الٹ دیا تھا۔ 1988ء میں ضیاء الحق کی موت کے بعد لاہور میں ایک وکیل، شیریں مسعود نے مجھ سے کہا کہ اگرچہ وہ ضیاء الحق کے دور کی سخت نقاد رہی ہیں لیکن جس قدر مغربی میڈیا نے پرچار کیا اور پاکستان میں لبرل طبقہ شور مچاتا ہے۔۔۔ ضیاء الحق کے اقدامات کا پاکستانی معاشرے پر اثر اور داب خواہ مخواہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا،
'لوگ جس قدر شور مچاتے ہیں، اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو تبدیل کرنے میں ضیاء الحق کا کردار نہایت معمولی ہے۔ اگر عوام کی ہی بات کی جائے تو یہ ہمیشہ سے قدامت پسند معاشرہ ہے اور ضیاء الحق کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اکثر لوگ حقوق نسواں کے علمبردار حدود آرڈیننس بارے شکایت کرتے رہتے ہیں، جو بالکل درست ہے۔ لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ زیادہ تر پاکستانی اپنے گھروں، خاندانوں اور دیہاتوں میں ان سے قبل بھی یہ قوانین ہمیشہ سے لاگو کرتے آئے ہیں۔ جہاں تک اشرافیہ کی بات ہے، تو ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ جوں کے توں، پہلے کی طرح زندگی گذارتے آئے ہیں۔ وہ شراب نوشی بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں بے پردہ گھومتی ہیں۔ یہ ایران نہیں ہے۔ ضیاء ایک مذہبی شخص تھا اور اس کا تعلق بھی اشرافیہ سے نہیں تھا۔ اسی لیے غالباً وہ اس طرح کے اقدامات اٹھا کر تسکین محسوس کرتا رہا ہو لیکن بات یہ ہے کہ اس ملک میں ضیاء کو ہمیشہ لے دے، اقتدار پر سوار رہنے کے لیے اشرافیہ کو خوش رکھنا پڑا ہے۔ ہاں، صرف ایک جا ایسی ہے جہاں ضیاء نے واقعی تبدیلی لائی ہے۔ یہ ریاستی ٹی وی اور ریڈیو کے ادارے ہیں جو دن اور رات ہمارے سروں پر مذہب کو سوار کیے رکھتے ہیں۔ شاید، اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ پورے ملک میں صرف یہی دو ادارے ہیں جن پر ضیاء کا واقعی کنٹرول تھا'۔
حقیقت یہ ہے کہ ضیاء کے دور میں کسی بھی طرح سے مکمل طور پر مذہبی اور مخصوص اشرافیہ کا طبقہ پیدا نہیں ہوا۔ بجائے، ضیاءالحق کو دوسرے پاکستانی حکمرانوں کی طرح آخر میں اسی پرانی اشرافیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنی پڑی۔ پاکستانی قوم پرستی مضبوط اور نہ ہی ریاست مستحکم ہوئی۔
ضیاء دور میں آئی ایس آئی وہ فوجی ادارہ تھا جس نے مجاہدین کی ٹریننگ کی تھی، انھیں پیسہ اور ہتھیار فراہم کیے تھے۔ آئی ایس آئی کو اس کا بے تحاشا مالی اور اختیاری فائدہ ملا، ویسے ہی پاکستان کی اسلام پسند جماعتوں کو بھی اس پیسے کی صورت خوب فائدہ ہوا جو افغان جہاد کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ اس پیسے کا بڑا حصہ انہی جماعتوں اور گروہوں کے ذریعے استعمال میں لایا گیا تھا۔ اس ایک نکتے کے سوا، یہ گروہ اور جماعتیں عمومی طور پر ضیاء کے طرز حکومت سے نالاں تھیں۔ یہ جماعتیں اس سے قبل بھٹو کی سخت مخالف تھیں اور قدرتی طور پر ضیاء کے اسلامی ارادوں کے سبب اس نئی انتظامیہ کے اتحادی بن رہتیں لیکن اس ضمن میں ضیاء کی انتظامیہ اور اسلام پسند جماعتیں، دونوں ہی نہایت کمزور ثابت ہوئے۔ یہ ایک دوسرے سے بے انتہا مختلف تھے اور ان کے ایجںڈے یکسر جدا تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی خطوط پر پاکستانی ریاست کی تعمیر نو کا سارا ڈھانچہ فوراً ہی منہدم ہو گیا بلکہ ملک میں افراتفری پہلے سے بھی بڑھ گئی۔
جنرل ضیاء نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کا نام دیا۔ ایوب دور کے وہ سارے اقدامات ختم کر دیے جن کے تحت ریاست میں مذہب کے کردار کو ختم کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ضیاء نے ان اسلامی خطوط اور سخت اقدامات کو مزید واضح کر دیا بلکہ خوب بڑھاوا دیا جو بھٹو نے اپنے دور حکومت میں اسلام پسندوں کی حمایت (گرچہ ناکام رہے!) حاصل کرنے کے لیے وضح کیے تھے۔ تاہم، ضیاء بھی تبدیلی کی خواہش میں ہمیشہ ہی اپنے تئیں اسلامی نظام کو اوپر سے نیچے لاگو کرنے کے درپے رہے۔ یہ کہنے سے مراد ہے کہ ضیاء کا خیال یہ تھا کہ شرعی قوانین لاگو کر کے پورے ملک میں ریاستی کنٹرول کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ سبھی ریاستی اور عوامی معاملات میں ایمانداری، اخلاقی قدروں اور فرض منصبی کا مذہبی بنیادوں پر پرچار کر کے معاشرے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ضیاء دور میں دن اور رات سماجی انصاف، فلاح اور لوگوں کے بیچ مساوات اور اسلامی تعلیمات کا پرچار کیا جاتا رہا تا کہ اسلامی دنیا میں پاکستان وہ ملک ثابت ہو جہاں پہلی بار واقعی اور مثالی اسلامی نظام قائم کیا جا سکے جو باقی کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ تو ہو رہتا لیکن اس سارے عمل کے بعد، ضیاء کا اقتدار اور اختیار پر گرفت مضبوط ہو جانا بھی لازمی نتیجہ نکلتا۔ ضیاء کی اصل سوچ اور حکمت عملی یہی تھی۔
ضیاء کی اس سوچ اور حکمت عملی سے اسلام پسند جماعتیں متفق نہ تھیں۔ ان جماعتوں میں بالخصوص جماعت اسلامی کا حال یہ تھا کہ یہ جماعت ہمیشہ سے ہی کسی نہ کسی طور، پیچیدہ ہی سہی لیکن جمہوریت میں یقین رکھتی تھی۔ چنانچہ، وقت کے ساتھ جماعت اسلامی ضیاء کی آمریت سے نالاں ہوتی گئی۔ دوسری جانب ضیاء اگر ان اسلام پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ واقعی اتحاد قائم کرنا چاہتے تو لازم تھا کہ یہ جماعتیں مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ عوام میں مقبول پاکستانی معاشرے کو واقعی بدلنے کی اہل ہوا کرتیں۔ یہی نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے ملک میں ایک خوشحال اور پراعتماد مڈل کلاس کا ہونا بھی لازم تھا۔ ظاہر ہے، اس ضیاء کو اس ملک میں یہ سب دستیاب نہ تھا۔
اس امر پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ پاکستان کے طول و عرض میں اسلام کی طرح طرح اقسام اور طریق کی وجہ سے قومی سطح پر کسی بھی اسلامی تحریک کا کامیاب ہونا تقریباً ناممکن کیوں ہے؟ انہی ابواب میں ضیاء دور کے سرکاری سطح پر اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش کو بھی قریب سے دیکھا جائے گا کہ ان کا دور اسلام پسند دھڑوں اور مسالک میں اختلافات اور فرق کو دور نہیں کر پایا بلکہ یہ کدورتیں اور اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔ سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مختلف مسالک اور گروہوں میں ملکی سطح پر شرعی قوانین اور اصولوں پر سخت اور انتہائی ترش اختلاف پیدا ہو گیا۔ شیعہ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہیں یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ غالباً جنرل ضیاء پاکستان کو ایک سنی ریاست بنانے کے در پے ہیں۔ پوری اسلامی دنیا، بالخصوص پاکستان کی عرب حمایتی ریاستوں میں ایران کے شیعہ انقلاب سے متعلق خوف طاری تھا۔ اسی دور کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے کہ ضیاء کے ہاتھوں پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش نے وہ آگ بھڑکائی کہ آج تک بجھنے میں نہیں آتی۔ ملک میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ ہو گیا۔ شیعہ اور سنی مسلح گروہ نکل آئے جو ایک دوسرے کے خلاف پرتشدد کاروائیوں میں ملوث ہو گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عام اور خواص اس نفرت کی بھینٹ چڑھ گئے۔
یوں ایک نئی اسلامی ریاست کی بنیاد تو نہ پڑی بلکہ ضیاء بھی دوسرے پاکستانی حکمرانوں کی طرح پرانی ڈگر پر چلنے پر مجبور ہو گئے۔ یعنی، انھیں بھی ریاستی بیوروکریسی، فوج، پولیس، دیہی اور شہری علاقوں کی برادریوں اور اشرافیہ پر تکیہ کرنا پڑا۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ ان طبقات کو نواز کر حمایت حاصل کرنی پڑی۔ بھٹو دور کی تباہ کن معاشی پالیسیوں کے بعد ضیاء دور میں ملکی معیشت تو کسی حد تک سنبھل گئی لیکن یہ سنبھالا بھی مشرف دور کی طرح انتہائی اتھلا اور سطحی ثابت ہوا۔ ضیاء دور میں پاکستانی معیشت کو امریکی امداد سے کافی سہارا ملا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان سے عام لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مزدوری اور معاشی مقاصد کے لیے خلیجی ریاستوں کا رخ کیا جہاں تیل سے کمایا پیسہ زوروں پر تھا۔ ان پاکستانیوں نے وسیع مقدار میں زرح مبادلہ ملک میں جمع کیا جو معیشت کی ڈھارس تو بنا لیکن ملک کو اس کی بھاری سماجی قیمت ادا کرنی پڑی۔
ضیاء نے پاکستان میں واقعی ترکہ اور سیاسی ورثہ بھی چھوڑا۔ وہ یوں کہ جنرل ضیاء نے ایک نئی اور پائدار سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کے لیے قدیم لیکن تاباں، 'مسلم لیگ' کا نام چنا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نئی جماعت اور تحریک پاکستان کی مسلم لیگ میں سوائے پاکستانی قوم پرستی کے علاوہ کوئی شے مشترک نہیں تھی۔ اوائل میں تو یہ جماعت شہری سرمایہ دار اور دیہی جاگیرداروں کی برادریوں پر مبنی طبقے کے اتحاد کے سوا کچھ نہ تھی۔ یہ جماعت ضیاء کی سرپرستی میں فوج نے اپنے مقاصد کے لیے قائم کی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ اس جماعت نے ملک میں اپنی واقعی شناخت بنا لی اور تب سے آج تک، یہ جماعت قومی سیاست کے مرکز میں رہی ہے۔ ایوب خان کی کابینہ میں شمولیت اختیار کرنے والے بھٹو کی ہی طرح، اب کی بار ضیاء الحق نے نئی مسلم لیگ کی سربراہی کے لیے نواز شریف کا انتخاب کیا۔ لیکن بعد ازاں نواز شریف فوج سے دور ہوتے گئے اور راہیں جدا کر لیں۔
1980ء کی دہائی میں مسلم لیگ کے قیام کا عمل دراصل پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کی ایک سعی تھی۔ تب سے آج تک ملک میں دو جماعتی نظام چلا آ رہا ہے۔ حالانکہ ان دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی سوائے ایک دفعہ، کبھی بھی پارلیمان میں واقعی اکثریت حاصل نہیں کر سکی ہے۔ 2010ء تک یہ دو جماعتی نظام اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ مشرف نے 1999ء سے 2007ء کے بیچ اسے توڑنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کی طرح پاکستان میں دو جماعتی نظام کی مدد سے ملکی سیاست میں توازن کا عنصر واضح ہوتا ہے۔ اس سے سیاسی حلقوں کی ابھرنے کی قوت میں اضافہ تو دیکھنے کو ملتا ہی ہے، اس کے ساتھ پارلیمانی جمہوریت بھی پھلتی اور پھولتی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ دونوں سیاسی جماعتیں آج تک ملک کو بہتر حکومت اور عوامی فلاح کا ترجمان نہیں بنا سکیں۔ یہ دونوں جماعتیں کسی بھی طرح سے ملک میں بنیادی تبدیلی اور اصلاحات کا باعث نہیں بن پائیں۔ اس ضمن میں 1997ء میں مسلم لیگ کی دوسری حکومت کے دوران اٹھائے گئے نجکاری اور معاشی اقدامات کے سوا، 1990ء کی دہائی کا 'جمہوری' دور اصل میں طرز حکمرانی کے کسی بھی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی، دونوں ہی جماعتوں نے اپنے ادوار حکومت میں سیاسی مخالفین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا۔ یہاں تک کہ جنرل ضیاء کے دور میں بھڑکائی ہوئی فرقہ ورانہ تشدد کی آگ کا بھی بھرپور استعمال کیا اور اپنے مقاصد کے لیے تخریب کار عناصر کو مزید شہ دی۔
پیپلز پارٹی کے معاشی اور سماجی تبدیلی کے مقبول نعرے، صرف نعرے ہی رہے۔ یہ کبھی بھی گرج دار تقریروں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ 1988ء سے 1990ء تک کا پیپلز پارٹی کا دور تو اس لحاظ سے بھی اچھوتا ہے کہ یہ واحد پاکستانی حکومت تھی جس نے دو برسوں میں کسی نئے قانون کو بنانے پر کوئی کام نہیں کیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ کی اسلام پسند پالیسیاں بھی زیادہ تر علامتی ہی رہیں اور اس جماعت کی طرز حکمرانی میں سماجی انصاف، ترقی اور مساوات کا عنصر غائب رہا۔ عام طور پر اس طرح کے منشور پر مبنی طرز حکمرانی میں یہ پالیسیاں اور اقدامات عام ہوتے ہیں (مثال کے طور پر ترکی!)۔ مسلم لیگ کے ادوار حکومتوں میں اٹھائے گئے تقریباً اقدامات پر میاں نواز شریف کے شخصی اقتدار اور بالادستی کو فروغ دینے کا گماں ہوتا ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ، دونوں ہی جماعتوں کی حکومتیں بدعنوانی کا شکار رہیں کیونکہ اقتدار اور اختیار کو دوام بخشنے کے لیے بھائی بند اقربا، حمایتی برادریوں اور کارکنان کی وفاداریاں برقرار رکھنے کے لیے کھلی چھٹی دینے پر مجبور رہی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی 1993ء سے 1996ء تک حکومت کے دوران قومی اسمبلی کے سپیکر اور 2008ء میں وزیراعظم منتخب ہونے والے سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی سروسز میں 500 سے زائد پوسٹیں قائم کیں جن پر اپنے دیرینہ کارکنان کو بھرتی کیا۔ بینظیر بھٹو (اور ان کے شوہر آصف علی زرداری!) کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے تقریباً رہنماؤں نے تو برادریوں اور اقربا کو نوازنے سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کیا اور تقریباً ہر شعبے، وزارت اور محکمے میں بدعنوانی سے کام لیا۔



یہ بڑی سیاسی جماعتیں ہمیشہ ہی بلند بانگ دعوےٰ کرتی آئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی پاکستان کے سیاسی کلچر اور سماج کے کڑے زندان کی اسیر ہیں۔ جیسا کہ بعد کے ابواب میں جائزہ لیا جائے گا۔۔۔ اول تو یہ ہے کہ دونوں جماعتیں برادری نظام پر انحصار کرتی ہیں جس کے تحت مقامی با اثر حلقوں اور شخصیات کو نوازنا لازم ہے۔ دوم یہ ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں اگرچہ 'جمہوریت' کا پرچار کرتی اور اسی تار سے جڑنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن یہ دونوں ہی جماعتیں خاندانی سیاست اور سلسلہ شاہی پر گامزن ہیں۔ ان جماعتوں میں حقیقی معنوں میں اندرونی انتخابات منعقد نہیں کیے جاتے اور تمام اہم فیصلے اور تعیناتی سلسلہ شاہی اور خاندان کے سربراہ کے ہاتھ میں رہتا ہے جو اپنے قریبی رشتہ داروں اور چند گنے چنے مشیروں کے مشورے سے کام کرتے ہیں۔ یہ کتاب تحریر کرتے ہوئے، یعنی 2010ء تک ایسی کوئی نشانی موجود نہیں تھی کہ یہ جماعتیں پاکستانی مزاج کے عین مطابق، خاندانی سیاست اور سلسلہ شاہی سے نکل کر واقعی جمہوریت کے راستوں پر گامزن ہو سکیں گی۔
سرورق: روزنامہ ڈان / صفحہ اول / دسمبر، 1978ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر