ذوالفقار علی بھٹو


1971ء سے 1977ئ تک بھٹو کا دور، پاکستان میں اب تک واحد عوامی اور منتخب انتظامیہ ہے جس نے تبدیلی کی واقعی اور سنجیدہ کوشش کی تھی۔ بھٹو کا سب سے ممتاز کارنامہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنا تھا۔ یہ جنوب ایشیاء کی ان چند بڑی لیکن خاندانی سیاسی جماعتوں میں سے ایک رہی ہے جو بیک وقت مقبولیت اور حاکمیت کی خصوصیات رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ جماعت پاکستانی ریاست میں پہلی بار عوام کی واقعی نمائندگی کا مظہر بنی لیکن یاد رہے، بھٹو کے اصلاحی ایجنڈے کا بھی وہی حال ہوا جو اس سے پہلے اور بعد میں فوجی حکمرانوں کا ہوتا آیا ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ فوجی حکمران اپنے اصلاحاتی پروگرام میں ناکام ہوئے تو انہیں صرف اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔۔۔ بھٹو کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں اس ناکامی کا خمیازہ اقتدار کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی گنوانے کی صورت بھی ادا کرنا پڑا۔
بھٹو کی طبیعت اور شخصیت میں جاگیردارانہ اور خاندانی غرور تو تھا، لیکن اس کے ساتھ پاکستان کی اپر کلاس کے خلاف انتقامی نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بھٹو کے اس وصف کی وجہ ان کی والدہ تھیں۔ سر شاہ نواز کی دوسری بیوی گرچہ ہندو تھیں لیکن اسلام قبول کر رکھا تھا۔ غالباً، اسلام با امر مجبوری قبول کیا تھا۔ سر شاہ نواز کے مخالفین یہ بھی اچھالتے رہے ہیں کہ بھٹو کی ماں ایک ناچنے والی تھی۔ یوں، اس تحقیر اور معاشرتی ماحول میں ہندوؤں سے نفرت کے سبب ایک کم عمر بچے کے ذہن پر جو اثر ہو رہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ بھٹو جب منظر عام پر آئے اور مقبول ہوئے تو بھٹو مخالف اخبارات اور دھڑوں نے جس طور گھٹیا، فحش زبان اور جھوٹی بدطینتی کا مظاہرہ کیا، اس سے لازماً بھٹو کے دل میں اپنے مخالفین اور نقادوں کے لیے نفرت اور سفاکیت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ تاریخ سے ثابت بھی ہے۔



تا ہم، یہ بھی عیاں ہے کہ بھٹو کی مثال اپنے دور کے اس بچے کی طرح تھی جس کے گرد بائیں بازو کے قوم پرست نظریات 'تیسری دنیا' کے طول و عرض میں مقبول اور عام تھے۔ جب بھٹو نے 1966ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو اس وقت مصر میں صدر ناصر کی حکومت تھی، انڈونیشیا میں احمد سکارنو، گھانا میں کوامے انکرومہ اور ماؤ کے نظریات تو دنیا بھر میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشوران میں مقبول عام تھے۔ پڑوسی ملک بھارت میں مسز گاندھی اپنے والد کی جماعت پر پرانے کانگریسی رہنماؤں کی گرفت ختم کرنے کی تیاری کر رہی تھیں اور اس ضمن میں جو مہم چلائی جانی تھی، اس کا عوامی نعرہ بھٹو کے ایجنڈے سے ملتا جلتا تھا۔ بھٹو کے نعرے، 'روٹی، کپڑا اور مکان!' اور مسز گاندھی کے نعرے 'غریبی ہٹاؤ!' میں رتی بھر فرق نہیں تھا۔ چنانچہ بھٹو خود کو تیسری دنیا کے باقی رہنماؤں کے ساتھ مستقبل کی ترقی پسند لہر کی بات کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ حالانکہ بھٹو کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی گھانا میں انکرومہ کو ملک بدر اور مصر میں صدر ناصر کو اسرائیل کے ہاتھوں شکست ہو چکی تھی۔
بھٹو کی حکمت عملی کی حرکیات بہت سادہ تھیں اور دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک کی عام سمجھ بوجھ میں مقبول بھی تھیں۔ ارادہ کچھ یوں تھا کہ پاکستان میں اوپر سے سماجی اور معاشی انقلاب برپا کیا جائے۔ ملک کی معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے صنعتی اور پیداواری اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی عوامی حمایت کو پیپلز پارٹی کی مقبولیت کے ساتھ جوڑ دیا تو پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں ایک مستقل جگہ بنا لے گی اور بھٹو تا حیات ایک والہانہ قومی لیڈر بن جائیں گے۔ بعد اس کے، پھر یہ طاقت وقت آنے پر اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی رہے گی۔ اگر دیکھا جائے تو اس لحاظ سے پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے برعکس بھٹو کو 'سلطانی آمر' کہنا بالکل بجا ہو گا جو اداروں کی بجائے شخصی حکمرانی کا ایجنڈا پال رہے تھے۔ بھٹو کے لیے مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ وہ سیاست کے میدان میں اشرافیہ پر گرفت مضبوط کریں، ملکی معیشت اور بیوروکریسی کو توڑ کر از سر نو تشکیل دیں اور جہاں ضروری ہو، طاقت اور زبردستی بھی استعمال کرنے سے گریز نہ کریں۔
یہ طے ہے کہ بھٹو کے اس ایجنڈے کے تحت پاکستان کا ترقی کر پانا انتہائی مشکل، بلکہ ناممکن تھا۔ یہ صرف پاکستان کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس ایجنڈے کے تحت بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر میں کئی ممالک میں ناکامی کی جیتی جاگتی مثالیں موجود ہیں۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی ایسی مثالوں سے یہ واضح ہے کہ اگر بھٹو طاقت اور عوام میں مقبولیت کو اپنی سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوشش نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ وہ صرف چھ برسوں کی بجائے اگلی ایک نسل تک ملک پر حکمرانی کر سکتے تھے۔
پاکستان اور باقی دنیا میں آمریت پسند قوم پرستی کی کئی کامیاب مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ایسی بامراد حکومتوں نے ہمیشہ حقیقی اختیار حاصل کیا اور طاقت پر قابو پانے کے بعد ملک کی واحد سیاسی جماعت کو پرانی، دقیانوسی اشرافیہ نہیں بلکہ نئی نسل کے حوالے کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ایسی کامیاب مثالی حکومتوں نے ہمیشہ ملکی افواج پر دھاک بٹھائے رکھی اور انہیں قابو میں رکھا ہے۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے، مثال کے طور پر ارجنٹینیا کے پیرون اور ایسے دوسرے کئی رہنما خود بھی فوج سے تعلق رکھتے تھے۔ بھٹو کا تعلق فوج سے نہیں تھا اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ افواج پاکستان اپنی صفوں میں کبھی کسی جرنیل یا افسر کو شخصی آمریت قائم کرنے کا موقع نہیں دیتی۔ پاکستانی افواج کا کوئی جرنیل یا افسر کبھی بھی سلسلہشاہی قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔جہاں یہ، وہیں یہ بھی طے ہے کہ پاکستانی عوام کسی صورت بھی مقبول اور واحد سیاسی جماعت کو تشکیل دینے اور اس پر قائم رہنے کے قابل نہیں ہے۔ پاکستانی معاشرہ قرابت داریوں، برادریوں اور مقامی اشرافیہ کے بغیر نہیں چل سکتا۔
بہرحال، اپنے ایجنڈے کے حصول کے لیے بھٹو نے سماجی اور معاشی تبدیلی لانے کی غرض سے نہایت تیزی کے ساتھکئی بڑے اور اساسی اقدامات اٹھائے۔ 1972ء میں ملک کے سبھی بڑی صنعتیں اور بینک قومی تحویل میں لے لیے گئے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کا سرمایہ دار طبقہ پاکستان پیپلز پارٹی کے در پے ہو گیا اور تب سے آج تک ان کی یہ خفت مٹتی ہی نہیں ہے۔۔۔ حالانکہ پیپلز پارٹی اپنے تئیں بائیں بازو کے معاشی ایجنڈے کو طویل عرصہ قبل ترک بھی کر چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حریف جماعت پاکستان مسلم لیگ میں بڑی تعداد میں سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی شمولیت اور ایکا، اسی دور کی خفت اور بدگمانی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ بھٹو کی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کے پالیسی معیشت کے لیے بربادی کا پیغام بنی۔ اس قدم سے سرمایہ دار اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے گئے اور نجی سرمایہ کاری میں یکدم تیزی سے اتنی گراوٹ آئی کہ ریاست کے پاس معیشت کو سنبھالنے کے لیے درکار وسائل کافی ہی نہ تھے۔ 1960ء سے 1965ء کے دوران ملکی صنعتوں میں نجی سرمایہ کاری 992 ملین روپے تھی لیکن 1971ء سے 1976ء کے پانچ سالہ دور میں یہ کم ہو کر صرف 682 ملین روپے رہ گئی۔ دوسری جانب حکومتی سرمایہ کاری جو کہ 1960ء کے پانچ سالہ دور میں 57 ملین روپے تھی، 1976ء میں یہ صرف اور صرف 115 ملین روپے تک بڑھ سکی۔ 1974ء سے 1977ء تک ملک کی سالانہ معاشی ترقی کی شرح گر کر صرف دو اعشاریہ سات فیصد رہ گئی، جو اسی عرصے کے دوران آبادی میں اضافے کی شرح سے بھی کہیں کم تھی۔یاد رہے، اس سے قبل ایوب خان کے دور، 1959ء سے 1969ء تک ملک کی سالانہ معاشی ترقی کی شرح اوسطاً چھ اعشاریہ آٹھ فیصد رہی تھی۔ مجموعی طور پر بھٹو کی عوام میں مقبول معاشی حکمت عملی ملک کی ترقی کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی اور پاکستان کو بحیثیت ملک معاشی طور پر اس بربادی سے دوبارہ اٹھانے میں ایک نسل کی عمریں کھائی گئیں۔
اس کی ایک جزوی وجہ تو یہ تھی کہ بڑے پیمانے پر تجارت اور ملکی معیشت کو ریاستی کنٹرول میں لینے کی وجہ سے سیاسی بنیادوں پر بے پناہ اقربا پروری دیکھی گئی جو طویل عرصے تک جاری رہی اور بھٹو کے بعد بھی حکومتیں اس پر قابو کرنے میں ناکام رہیں۔ وہ ادارے، صنعتیں اور کمپنیاں جو ریاست نے قومی تحویل میں لے لی تھیں۔۔۔ یہاں پیپلز پارٹی کے کارکنان اور حامیوں کی بڑی تعداد میں بھرتیاں کی گئیں۔ یہ نئے بھرتی کیے گئے افراد اداروں کو منافع بخش انداز میں چلانے کے لیے ہر گز اہل نہ تھے اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے مرتکب ہوئے۔ قومیانے کے اس عمل میں ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اداروں میں مزدوروں اور کارندوں کو بھی آواز اور اختیار دے دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے 'ورکرز کمیٹیاں' بنائی گئیں۔ ان کمیٹیوں کا مقصد قومیائے گئے اداروں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا۔ لیکن عملی طور پر اس بارے کوئی واقعی قدم نہیں اٹھایا گیا اور یہ قانون صرف کاغذوں پر ہی باقی رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی چند دہائیوں میں وقت کے ساتھ پیپلز پارٹی ٹریڈ یونینز کی طاقت، مزدوروں کی حمایت اور کارکنوں کی وابستگی سے ہاتھ دھوتی چلی گئی۔ 2009ء میں صورتحال یہ تھی کہ ملک کے کسی بھی صںعتی اور غیر صنعتی شعبے سے پیپلز پارٹی کو حاصل نامی گرامی عام آدمی اور کارکنوں کی حمایت، عرف عام میں جیالوں کی ہمدردیاں خال خال ہی نظر آتی تھی۔
ملک کے پیداواری اور غیر پیداواری شعبوں میں بھٹو کے تباہ کن لیکن واقعی دیدہ دلیری سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات اگرچہ اپنی مثال آپ تھے لیکن یہ پیپلز پارٹی کے اندر بائیں بازو کے کٹر حامیوں کے لیے پھر بھی کافی ثابت نہیں ہوئے۔ بھٹو کی کابینہ میں شامل سوشلسٹ نظریات کے حامی وزیر خزانہ مبشر حسن چاہتے تھے کہ صنعتوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کی جائیدادوں کو بھی قومی تحویل میں لیا جائے۔ اسی طرح زرعی شعبے کو بھی بجائے انفرادی، اجتماعی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایسی تجویز تھی جو پاکستان جیسے زرعی ملک میں انقلاب برپا کر دیتی اور بلاشبہ ملک خانہ جنگی کی نظر ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ اکتوبر 1974ء میں جب بھٹو نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا تو ڈاکٹر حسن اور ان جیسے دوسرے بائیں بازو کے نظریات کے حامی وزیر کابینہ سے نکال دیے گئے۔ ان کی جگہ 'جاگیروں' کے مالک زمینداروں نے لے لی جو پیپلز پارٹی میں صرف اس لیے شامل ہوئے تھے کہ وہ بھٹو کے ساتھ قرابت داری قائم کر کے اپنی جاگیریں بچائیں اور قومیائی گئی صنعتوں میں سے اپنا حصہ بٹور سکیں۔
اگرچہ صنعتوں کے مقابلے میں زرعی شعبے میں اصلاحات کے معاملے میںبھٹو نے قدرے نرمی دکھائی لیکن بہرحال پیپلز پارٹی کے اقدامات ایوب خان کے سوا کسی بھی دوسری پاکستانی حکومت کے مقابلے میں کافی متاثر کن تھے۔ 1972ء میں ایک قانون نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے تحت نہری زمین کی زیادہ سے زیادہ ملکیت کو گھٹا کر 150 ایکڑ جبکہ بارانی زمین کی حد 300 ایکڑ کر دی گئی۔ اس سے پہلے ایوب خان کے دور میں یہ حد نہری زمین کے لیے 500 ایکڑ اور بارانی زمین کے لیے 1000 ایکڑ مقرر کی گئی تھی۔ پاکستانی معیار کے مطابق یہ اب حد اب بھی کافی زیادہ تھی لیکن ماضی میں پاکستانی جاگیروں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھی جبکہ برطانوی اور امریکی معیار کے مطابق تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
زرعی شعبے میں ان اصلاحاتی اقدامات کا مثبت نتیجہ شمالی پنجاب میں دیکھا گیا۔ یہاں درمیانے درجے کی کمرشل زرعی فارمنگ عام ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ پنجاب اور سرحد میں آج بڑے سیاسی اور جاگیردار خاندان کی آمدن اور دولت کا ذریعہ زراعت نہیں ہے بلکہ شہری علاقوں میں جائیدادیں ہیں۔ ان خاندانوں کی پرانے شہری علاقوں کے مضافات میں زرعی زمینوں کے کچھ ٹکڑے ضرور ہیں جہاں کوٹھیاں اور باغات وغیرہ ہیں لیکن انہوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زرعی منافع کو استعمال میں لاتے ہوئے شہری علاقوں میں جائیدادیں بنا لیں۔ شہر میں دس ایکڑ پر مشتمل کمرشل جائیداد سے با آسانی اتنی آمدن حاصل ہو جاتی ہے جو زرعی اراضی سے ملنے والی کمائی سے سو گنا بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
تاہم ملک کے باقی اور تقریباً علاقوں میں، بعد ازاں بھٹو کی زرعی اصلاحات کو کسی نہ طور الٹا دیا گیا۔ ہوا یوں کہ ملک کے بڑے جاگیرداروں نے کاغذات میں زرعی اراضیوں کو رشتہ داروں اور قرابت داروں میں بانٹ دیا لیکن عملی طور پر قبضہ اپنے پاس ہی رکھا۔ بالخصوص سندھ اور جنوبی پنجاب میں تو برادری کا نظام ایک دفعہ پھر پورے زور و شور سے متحرک ہوا اور اب کی بار صرف چند افراد نہیں بلکہ پوری کی پوری برادریوں نے 'جاگیردار' کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ یہ بھی ہوا کہ بھٹو کی متعارف کردہ زرعی اصلاحات ان کے اپنے خاندان اور حمایتی جاگیرداروں کا بھی سرے سے کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔ اس کتاب میں بھٹو کے کزن (جو سندھ کے گورنر اور وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں)، سردار ممتاز علی بھٹو کا احوال آٹھویں باب میں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ ممتاز علی بھٹو ایک دلچسپ اور گراں قدر شخصیت ہیں جو اپنے طبقے اور برادری کی خوب نمائندگی کرتے ہیں۔
بھٹو کی حکومت کے خاتمے تک ان کی زرعی اصلاحات نہایت کمزور ہو چکی تھیں۔ جوں جوں بھٹو کی طاقت میں کمی آتی گئی، پیپلز پارٹی میں بھی دراڑیں پڑنے لگیں اور بھٹو کا اقتدار اور اختیار میں رہنے کے لیے جاگیردار طبقے پر انحصار بڑھتا چلا گیا۔ اس سے قبل بھی اس نکتے پر خوب بحث ہو چکی ہے۔ اقتدار پر گرفت قائم رکھنے کا یہی انداز اور نقش ایوب، ضیاء الحق اور مشرف کے دور حکومت میں بھی دیکھنے میں آیا۔ بھٹو کا اپنے دور کے اواخر تک جاگیرداروں اور دیہی اشرافیہ پر بڑھا ہوا انحصار ان کی ایک منظم، عوامی سیاسی جماعت بنانے اور اس کے ذریعے ریاست پر گرفت قائم کرنے کی کوشش میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ریاست کا دھارا کیا بدلتا، بھٹو کے زیر حکومت ضبط اور دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی طور پر انفرادی اور خاندانی مخالفین کے دل میں بھٹو کا خوف بیٹھ گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے ان سے متنفر ہو گئے۔ یہ ایسی شے تھی جس نے بھٹو کے مخالفین ہی نہیں بلکہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ اور دوسری سیاسی جماعتوں کے یہاں بھی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف طیش اور تعصب میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھٹو اور ان کی جماعت، اسٹیبلشمنٹ اور باقی سیاسی جماعتوں کی طاقت اور اثر و رسوخ کو توڑنے میں یکسر ناکام رہے تھے۔
بھٹو ملک میں ایک منظم اور مستقل جمعیت اور باقاعدہ ڈھانچے پر کھڑی سیاسی جماعت کی ضرورت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھٹو نے ایسی ہی جماعت قائم کرنے کا مشورہ ایوب خان کو بھی دیا تھا، جب وہ صدر ایوب کی کابینہ کا حصہ تھے۔ بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو ڈھانچے اور لائحہ عمل میں کسی حد اور بڑی تصویر میں ایوب خان کے بنیادی جمہوریت سے متعلق تصور کی گونج سنائی دیتی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی سیاسی جماعت کھڑی کرنے کے لیے مقامی سطح پر پائے جانے والے سیاسی دھڑوں اور گروہوں کو ان کے اپنے حق کی صورت، سیاسی طور پر کھل کھیلنے کا موقع اور اختیار دیا جاتا۔ اس وفاقی جماعت کا مقامی سطح کی سیاست، سماجی، معاشی ڈھانچے سے الگ تھلگ رہ کر قومی سطح پر خود مختار ٹھہرنا لازم تھا۔ اب ایسا سیاسی طور، پاکستان میں ہمیشہ سے ناممکن رہا ہے کیونکہ وفاقی سطح پر ریاست انتہائی کمزور ہے جبکہ رہنما، برادریاں اور مذہبی دھڑے مقامی سطح پر زبردست حد تک مضبوط ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت کبھی بھی نظریاتی طور پر اتنا جوش و خروش پیدا نہیں کر سکی کہ مقامی سیاسی دھڑے اور گروہ اس میں ضم ہو سکیں یا منظم طریقے سے کسی نظریے اور سیاسی ایجنڈے کے تحت وفاداریاں نبھا سکیں۔
یہاں جماعت اسلامی اور مہاجر قومی موومنٹ کو اس ضمن میں استثنیٰ حاصل ہے۔ اس بارے آگے چل کر، تفصیلاً بحث کی جائے گی لیکن فی الوقت یہ جاننا اہم ہے کہ ان دونوں جماعتوں کا زور بھی صرف مقامی سطح پر ہی موثر ہے۔ بھٹو کی وفاقی سطح پر منظم اور باقاعدہ جماعت بنانے میں ناکامی کا مطلب یہ بھی تھا کہ پیپلز پارٹی کے علاقائی اور مقامی رہنماؤں نے ریاستی رٹ اور اختیار کو مزید کمزور کرتے ہوئے مقامی سطح پر مسلح گروہ اور جاگیریں تشکیل دینا شروع کر دیں۔ یہ مسلح گروہ اور جاگیریں آپس میں گتھم گتھا رہیں اور ضرورت پڑنے پر پیپلز پارٹی کے مخالفین کا بھی صفایا کرنے لگیں۔
ایک عوامی سیاسی جماعت کا خواب پورا نہ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ بھٹو کو پاکستانی سماج پر حقیقی معنوں میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے روایتی انداز، یعنی ریاستی کنٹرول کا سہارا لینا پڑا۔ اس مقصد کے لیے بھٹو نے اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق بیوروکریسی اور عدلیہ کو خم دینا شروع کر دیا، جس سے ان دونوں حلقوں میں بھی بھٹو کے خلاف نفرت بڑھتی گئی۔ یہ نفرت بعد ازاں بھٹو کی موت میں ایک بڑا عنصر ثابت ہو گی۔ پولیس کا معاملہ دوسرا تھا۔ بھٹو کے علاوہ، یعنی ان کے بعد حکمرانوں کو بھی بخوبی اندازہ ہو گیا تھا اور بالخصوص طالبان کے خلاف کاروائیوں سے تو بالخصوص واضح ہوا کہ پاکستانی پولیس اگرچہ عام آدمی کے لیے انفرادی سطح پر تو سخت ظالم اور جابر ہے لیکن جب عوام کا جم غفیر یا کسی بڑی تحریک اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ جائے تو یہ اسے روکنے کی قابلیت نہیں رکھتی۔ اس کی ایک وجہ تو محکمہ پولیس کی سخت سستی اور کاہلی ہے۔ اس سستی کا پولیس کو دی جانے والی انتہائی کم تنخواہوں اور محکماتی فوائد سے بھی گہرا تعلق ہے۔ پاکستان میں ہر جگہ، جہاں بھی پولیس اہلکاروں سے جرائم کی روک تھام بارے فعالیت کی بابت بات ہوئی۔۔۔ ان کا کہنا یہی رہا ہے کہ، 'جتنی تنخواہ ہمیں ملتی ہے، کیا آپ اتنی تنخواہ کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالیں گے؟ یا گرم اور سرد موسم میں خواہ مخواہ جان کھپائیں گے؟'۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے طول و عرض میں پولیس کا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ اس خطے کی پولیس فورس 'کاہلی اور سفاکیت کا امتزاج' ہے۔ یہی ان کا ماٹو ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انگریزوں نے جس پولیس فورس کی بنیاد رکھی تھی، وہ سماجی اور سیاسی دباؤ سے قدرے آزاد ہوا کرتی تھی۔ اس پر ریاستی کنٹرول رہا کرتا تھا۔ آج پاکستانی پولیس کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ مقامی سطح پر یہ فورس سماجی اور سیاسی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس کے افسران اور سپاہی، سبھی کسی نہ کسی با اثر سماجی یا سیاسی شخصیت کی منشاء کے تحت، برادریوں کے لیے، علاقائی جاگیرداروں اور شہری سرمایہ داروں کے واسطے دونوں ہاتھ باندھ کر ہر دم تیار رہتی ہے۔ قدرتی طور پر ایسی پولیس فورس اپنے تئیں اور ریاست کے لیے کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی۔
یہی وجہ تھی کہ اپنے زمانے میں بھٹو نے نیم فوجی دستوں کی تشکیل دی تھی جسے 'فیڈرل سیکورٹی فورس' یا 'ایف ایس ایف' کہا جاتا تھا۔ ان نیم فوجی دستوں میں پولیس اور فوج سے پیپلز پارٹی کے حمایتی اور وفادار لیکن خاصے بدمعاش اور ٹھگی قسم کے اہلکاروں اور افسران کو جمع کر دیا گیا تھا۔ یوں، بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایسی فورس تشکیل دے کر بھٹو نے گویا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے تھے۔ اب یہ تو معلوم نہیں ہے کہ بھٹو نے بذات خود اس فورس کو اپنے مخالفین اور ان کے خاندانوں پر جبر اور نشانہ بنانے کی کاروائیوں کا حکم دیا تھا یا نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ اس سارے قصے میں بھٹو کا کچھ نہ کچھ کردار ضرور رہا ہے۔ اس معاملے کی مثال یوں ہے کہ جیسے ہینری دوئم نے تھامس بیکٹ کے بارے کہا تھا کہ، 'کون ہے جو اس دق کرنے والے پادری سے میری جان چھڑائے؟' اور پھر ہینری دوئم کے کئی چاہنے والے میدان میں کود پڑے تھے اور کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ وار کس نے کیا اور وار کس نے کروایا؟
دوسری جانب، یہ بھی یاد رہے کہ پیپلز پارٹی، سوویت یا چینی کمیونسٹ پارٹی نہیں تھی اور نہ ہی ایف ایس ایف۔۔۔ 'این کے وی ڈی' تھی۔ ایف ایس ایف تو سرے سے پاکستانی سماج کو دھمکانے اور ڈرانے کے قابل بھی نہیں تھی تو قابو کیا کرتی؟ یہ ضرور ہوا کہ ایف ایس ایف کی وجہ سے بھٹو کے خلاف پاکستانی اشرافیہ اور با اثر اسٹیلشمنٹ کے حلقوں کے دل میں وہ نفرت جڑ پکڑ کر بیٹھ گئی جو اس سے قبل اور نہ بعد میں کسی پاکستانی حکمران اور پارٹی کے لیے دیکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو کو جب اقتدار سے ہٹایا گیا تو وہ سلوک ہوا جو دوسرے کسی حکمران چاہے وہ ایوب خان ہو یا مشرف یا نوازشریف۔۔۔ کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔ ایوب خان کو پاکستان میں ہی پرسکون ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے کی اجازت مل گئی تھی۔ نواز شریف کو بالآخر اپنے پورے خاندان کے ساتھ پرتعیش جلاوطنی نصیب ہوئی اور بعد میں سیاست میں دوبارہ آنے کی اجازت بھی مل گئی۔ اسی طرح مشرف پر آئین توڑ کر غداری کے مرتکب ہونے کا الزام لگتا ہے لیکن گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت بھی ملتی ہے۔
ضیاء الحق، بھٹو کو بھی جلاوطنی کا موقع دے دیتے انہوں نے اقتدار اور سیاست میں لوٹ کر آنے کا ارادہ واضح کر دیا۔ بعد ازاں بڑی ریلیوں سے اس امر کی تصدیق بھی ہونے لگی۔ تب، جنرل ضیاء اور ملک کی دوسری با اثر شخصیات جنہوں نے بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔۔۔ انہیں سمجھ آ گئی کہ اگر ایسا ہوا تو ان کا اور ان کے خاندانوں کا انجام اچھا نہیں ہے۔ چنانچہ بھٹو کو پھانسی دے کر اس خطرے کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ بھٹو کی غیر طبعی اور مبہم حالات میں موت سے پاکستانی رہنماؤں بارے میکاویلی کی وہ بات بھی سچ ہوتی محسوس ہوتی ہے کہ دنیا کے تقریباً معاشروں میں کوئی بھی شخص، بالخصوص عوامی حکمران اپنے مفادات کو لگنے والے دھچکے اور ضربیں تو بھول سکتا ہے لیکن کبھی بھی اپنی غیرت اور حمیت پر کیے جانے والے وار کو جواب دیے بنا نہیں رہ سکتا۔


سرورق: ذوالفقار علی بھٹو

 اگلا باب: ضیاء الحق | 27 مئی، 2019 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر