انصاف کا نظام: تعارف


حصہ دوم: پاکستان کی ساخت اور ڈھانچہ

انصاف کا نظام: تعارف
'وہ طریق جو کسی کتاب میں تو تحریر نہیں ہیں لیکن بالآخر وہ قانون بن جاتے ہیں جو دیرپا ہوتے ہیں۔ جب لوگ رسم و رواج کے عادی ہو جائیں تو وہ اس پر ت پر تکیہ کر کے آخر کار اسی پر اتفاق رائے قائم کر لیتے ہیں۔ تب، رسم و رواج معاشرے کے ان مٹ قوانین کی شکل اختیار کر لیتے ہیں !'
ستمبر 2008ء میں مہمند ایجنسی جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دورے کا تفصیلی حال تو آگے چل کر آیا ہے لیکن یہاں اس کا تذکرہ یوں کر رہا ہوں کہ اس دن ریاستی نظام انصاف بارے عام پاکستانیوں کا رویہ اور انداز فکر واضح ہو گیا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ آخر طالبان اس عوامی رویے اور نقطہ نگاہ کو اپنے فائدے اور مقاصد کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں؟ تضمیر خان ایجنسی کا رہائشی اور ایک کسان ہے۔ اس نے بات شروع کی تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے بھی اس موقف کی تائید کی:
'طالبان کا طریقہ انصاف پاکستانی ریاست کے عدالتی نظام سے کئی درجے بہتر ہے۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو طالبان ہاتھوں ہاتھ۔۔۔ عین موقع پر ہی بغیر کسی اجرت اور خرچہ کے انصاف فراہم کر دیتے ہیں۔ پولیس اور عدالتوں کے چکر میں تو سب کچھ ہتھیا لیا جاتا ہے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آتا۔۔۔'
حیران کن طور پر ،تضمیر خان کی اس رائے کو مقامی زمیندار، یعنی ' ملک صاحب' کے کام دار اور ملا کی حمایت بھی حاصل تھی۔ میں اسی قبائلی ملک کے یہاں مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔ ملک صاحب کے دھول سے اٹے اور دھوپ سے دھندلائے حجرے میں یہ سب لوگ جمع تھے جو کسی طور بھی اشرافیہ کا حصہ نہیں لگتے اور یہ نہ ہی پسماندہ اور مظلوم تھے۔ کام دار، جس کا نام شہزاد تھا۔۔۔ اس نے مجھے نہایت صاد طریقے سے حال ہی میں طالبان کے انصاف کا ایک قصہ سنایا، جو کچھ یوں تھا:
'پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ شبقدر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت اور اس کا شوہر قتل کر دیے گئے۔ وہ عورت جسم فروشی کا کام کرتی تھی اور اس کا شوہر، اس سے یہ کام کرواتا تھا۔ طالبان نے اسے ایک نہیں بلکہ دو بار خبردار کیا اور پھر جب وہ باز نہ آئے تو ان دونوں کو گرفتار کر لیا۔ شوہر کو تو موقع پر ہی دیکھتے ہی قتل کر دیا لیکن عورت کی ناک کاٹ کر، آنکھیں نکال دیں اور پھر اس پر کار چڑھا دی۔'
مسجد کے ملا نے جلدی سے شہزاد کی بات میں اضافہ کیا،
'میں اس عورت کو قتل کیے جانے کے فعل سے قطعی طور پر متفق ہوں۔ میرے خیال میں اسے قتل ہی کر دینا چاہیے تھا کیونکہ وہ قبیح جرم میں ملوث تھی۔ ویسے بھی، اس لڑائی میں تو ہر روز سینکڑوں لوگ قتل کیے جا رہے ہیں۔ البتہ، یہ ضرور ہے کہ اس طرح آنکھیں نکال کر اور ناک کاٹ کر کسی کو نہیں مارا جانا چاہیے۔ یہ قران اور شریعت کے خلاف ہے۔'
تاہم، اس نے مزید یہ کہا کہ وہ طالبان کی حمایت کرتا ہے کیونکہ وہ جلد اور واقعی انصاف فراہم کرتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ان کا نظام انصاف کافی سخت اور کڑا ہو سکتا ہے:
'ہمارے علاقے میں طالبان کا کام اطمینان بخش ہے۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو طالبان تین دن کے اندر اس مسئلے کا منصفانہ حل نکال کر دے دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ پولیس سٹیشن چلے جائیں تو وہ آپ کی ساری رقم بھی ہتھیا لیں گے اور اگلے بیس سال فیصلہ بھی نہیں ہو گا۔ پاکستان میں تو انصاف صرف امیروں کو ملتا ہے۔ اسی لیے تو یہاں مہمند ایجنسی میں دور دور سے۔۔۔ یہاں تک کہ چارسدہ سے بھی لوگ طالبان کے پاس اپنے مسائل اور مقدمات لے کر آتے ہیں۔'



اس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کے طریق انصاف میں سختی اور درشتی کی جس طور مغربی میڈیا اور پاکستانی لبرل حلقے مذمت کرتے ہیں، یہ ضروری نہیں ہے کہ مقامی آبادیوں کے لیے بھی اسی طور قابل مذمت ہو۔ پاکستانی معاشرے میں انصاف کی مقامی روایات اور رواج پہلے ہی بہت سخت ہیں اور عورتوں کے لیے تو یہ کہیں زیادہ کرخت ہیں۔ ملا کا اشارہ اسی جانب تھا۔ یعنی جسم فروش عورت اور اس کے شوہر کو دی جانے والی سزا شریعت سے زیادہ پشتون ولی سے میل کھاتی تھی۔ اس سے بھی کہیں زیادہ، عوام ریاستی نظام انصاف کو انتہائی کراہت اور گھن کی نظر سے دیکھتی ہے اور یہ وہ رویہ ہے جو مہمند ہی نہیں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں ہر جگہ عام نظر آتا ہے۔
تاہم، پاکستانی آبادی کو بے قصور، ظالمانہ اور اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنے والے نظام انصاف کا شکار سمجھنا بھی ہر گز درست نہیں ہے۔ بجائے، پاکستان میں انصاف کا معاملہ سیاست کی ہی توسیع کا ہے۔ یعنی یہ کہ ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں ذرہ برابر بھی اختیار ہے وہ نظام انصاف کو بدعنوانی کے ذریعے اپنے مقصد کے لیے توڑنے اور مروڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کا کوئی لحاظ نہیں برتا جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ عدالتوں کے سامنے پیش ہونے والے کیس افراد اور گروہوں کے ہاتھ میں وہ ہتھیار بن جاتے ہیں جو قومی اور علاقائی سطح پر اقتدار اور اختیار ہتھیانے یا کسی دوسرے کے ہاتھ سے چھڑانے کے کام آ سکتے ہیں۔ ریاستی اور علاقائی سطح پر روایتی نظام انصاف دونوں ہی طرح ان کیسوں کے نتائج کا دارومدار سیاسی وابستگیوں اور مفاداتی پاس کے تحت ہی نکلتے ہیں۔ اس سے مراد برادریوں، دولت، اثر و رسوخ اور مسلح افواج کے مفادات کا تحفظ ہے اور بعض اہم معاملات اور اکثر ہی عوام کی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ابلاغ کے ذرائع وقت کے ساتھ بدلتے آئے ہیں اور آج کل جدید الیکٹرانک میڈیا اہم نوعیت کے کیسوں میں رائے عامہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان میں رائج روایتی اور علاقائی نظام انصاف میں با اثر اور طاقتوروں کی رائے اور اختیار کو ہمیشہ ہی برتری اور فوقیت ملتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عام طور پر مذہبی اخلاقیات کا سہارا لیا جاتا ہے اور شریعت کی چھتری استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان کا ریاستی نظام انصاف انگریز دور کے انتظامی طریق سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس نظام میں غریبوں اور کمزوروں کے ساتھ امتیازی سلوک مستقل حقیقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ہولناک حد تک سستی اور پیچیدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ طریق انصاف خاصا مہنگا بھی پڑتا ہے جس میں سب سے زیادہ خرچہ پولیس اور عدالتی حکام اور اہلکاروں پر اٹھتا ہے۔
یہ حقائق ہر پاکستانی کو ازبر ہیں۔ اسی سبب پاکستانی عدالتی نظام اور پولیس سے خوف کا شکار رہتے ہیں اور عام طور پر عوام کی اکثریت ریاستی نظام انصاف کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ حقیقت ان پاکستانیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جو اس نظام کو ہمہ وقت لوٹ کھسوٹ، جوڑ توڑ اور مخالفین کے استحصال کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اردو زبان میں ایک شعر ہے اور دنیا کی اکثر زبانوں میں مطلب یہی نکلتا ہے کہ،
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا / لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
ان حالات کے باوجود، غالباً اسلامی نظام کی چاہ اور تعلیمات یا پھر انسان کی آفاقی خصلت کے تحت پاکستانیوں کی اکثریت کے دل میں ایک بہتر اور مساوات پر مبنی نظام انصاف کی خواہش پائی جاتی ہے۔ اسی خواہش اور تمنا کا نتیجہ ہے کہ ملک کے پڑھے لکھے طبقے میں بنیادی انسانی حقوق کے کئی علمبردار جرات مند اور دلاور وکلاء جیسے عاصمہ جہانگیر وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2007ء میں پرویز مشرف کے خلاف وکلاء کی تحریک سے پاکستانیوں نے بہت ہی زیادہ توقعات وابستہ کر لی تھیں۔ یہ تحریک اگرچہ وقت کے ساتھ دم توڑ گئی لیکن کسی نہ کسی صورت، چھوٹے پیمانے پر صدر زرادری کے خلاف اب بھی جاری ہے اور اگلے کئی برسوں تک اس کی باقیات سلگتی رہیں گی۔
عام پاکستانیوں کی اکثریت، انصاف کے خواب کو اسلامی شرعی نظام کی شکل میں پورا ہوتا دیکھتے ہیں۔ آگے آنے والے ابواب میں اس بارے مزید بات ہو گی لیکن فی الوقت یہاں نوٹ کیا جائے کہ 2009ء میں بہار کے موسم تک پشتون علاقوں میں طالبان کا اسلامی نظام اور شرعی انصاف کا دعویٰ خاصا مقبول تھا اور ملک کے باقی حصوں میں پاکستانیوں کی اکثریت طالبان کے خلاف فوجی کاروائی کے مخالف تھے۔
پاکستانی نیوز چینل جیو ٹی وی کے صدر عمران اسلم کے الفاظ میں:
'آپ عام آدمی سے جمہوریت کے بارے پوچھیں تو وہ سمجھانے میں ناکام رہے گا لیکن انصاف کے نظام بارے جاننا چاہیں۔۔۔ تو وہ اس اس سوال کی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی پر جمہوریت سے زیادہ عدالتی نظام اثر انداز ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ چونکہ لوگ مذہبی ہیں تو انہیں اسلام سے انصاف کا فہم اور احساس ملتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیں، خدا کے ناموں میں ایک تہائی کا مطلب منصفی، منصف مزاجی، مساوات، مطابقت، ہم آہنگی اور توازن سے جڑا ہے۔ پاکستانی جمہوریت کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہاں انتخابی جمہوریت ووٹر کی خواہشات اور مرضی کی ترجمان نہیں ہے۔'
تاہم، پاکستانیوں کے بارے کلی طور پر یہ کہنا بالکل غلط ہو گا کہ عوام کی حیثیت ریاستی عدالتی نظام کے سامنے ایک میمنے کی سی ہے اور بدعنوان وکلاء، پولیس، جج اور سیاسی اشرافیہ ان کو بھنبھوڑتے رہتے ہیں۔ اس میں سچائی ضرور ہے لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ پاکستانی عوام (اور بھارتی عوام !) کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ محدود اختیارات بھی آ جائیں تو اسی ریاستی عدالتی نظام کو کھوکھلا کرنے میں جت جاتے ہیں۔ یعنی انفرادی اور گروہی مفادات اور مقاصد کے تحفظ کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اوپر سے نیچے، یہاں تک کہ جڑوں میں بھی طاقت کے حصول کے لیے کھینچ تان جاری رہتی ہے۔ اس کھینچ تان میں سیاست، جائیداد اور اصولوں میں کوئی تمیز نہیں رہتی۔ اسی جوڑ توڑ اور عدالتی نظام کو توڑنے اور مروڑنے کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں باہمی اتفاق، اعتماد اور توازن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ معاملہ سیاسی یا ملکیتی مخالفین تک محدود نہیں ہے بلکہ خاندانوں اور برادریوں کے اندر بھی دھکم پیل لگی رہتی ہے۔
اس سارے قصے کا ایک اضافی لیکن انتہائی اہم اور تباہ کن پہلو اور بھی ہے۔ ماضی قدیم میں، کسی زمانے میں انگلینڈ میں بھی یہی طور پایا جاتا تھا ۔ لوگوں کی اکثریت پہلے تو رشوت ادا کر کے یا پھر ججوں، گواہان اور جیوری کو ڈرا دھمکا کر اپنا الو سیدھا کرتے تھے اور پھر جب مل بیٹھتے تھے تو عدالتی نظام کو برا بھلا کہہ کر بدنام بھی کرتے پھرتے تھے۔ ان دونوں معاشروں میں البتہ فرق یہ ہے کہ انگریزوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگرچہ یہ کرپٹ ہی سہی لیکن بہرحال انگلستان کا اپنا نظام ہے اور اس کی جڑیں اس ملک کی اوائل تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں۔
پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں لوگ پہلے اختیار، پیسے اور طاقت کا استعمال کر کے اس نظام کو توڑ مروڑتے ہیں اور پھر اس کو کوسنے بھی دیتے ہیں لیکن کسی پاکستانی کو کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ پاکستان کا اپنا، ریاستی نظام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام اس کا اپنا نہیں ہے۔ یہ انگریز دور کا نظام ہے جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ برصغیر کے طول و عرض میں طویل عرصے سے لاگو چلا آ رہا ہے۔ اس نظام کا مقصد ہندوستان پر انگریزی غلبہ اور تسلط باقی رکھ کر حکمرانی قائم رکھنا تھا۔ آزادی کے بعد پاکستانی حکومتوں اور پارلیمان نے اس نظام میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تقریباً ہر اس جگہ جہاں نو آبادیاتی اور استعماری نظام نافذ رہا ہے، یہ حقیقت پھن پھیلائے کھڑی ہے کہ اول۔۔۔ جدید قانونی نظام بھی کسی طور بھی مقامی نہیں ہے۔ دوم۔۔۔ مقامی آبادیوں نے آج تک ایسے کسی نظام کو پوری طرح قبول نہیں کیا اور سوئم۔۔۔۔ یہ نظام اکثر و بیشتر روایتی علاقائی نظام کے ساتھ متصادم رہتا ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے پڑوسی ممالک جیسے بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ میں بھی یوں ہی نظر آتی ہے۔ پاکستان اور اسلامی دنیا کے باقی ممالک میں بہرحال ریاستی عدالتی نظام کو اپنی حلال زادگی برقرار رکھنے میں دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ وہ یوں کہ اسے ایک طرف روایتی طور پر مقامی لیکن غیر رسمی اور غیر تحریری چلن جنہیں عام طور پر رواجوں کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب جامع اور تحریر شدہ، باقاعدہ قانونی شکل میں شرعی نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ریاستی اور شرعی ضابطے ازروئے قانون فطرتاً 'عظیم رواج اور روایات' ہیں جنھیں عام طور پر مقامی اور خاندانی 'معمولی رسوم اور رواج' کی مخالفت اور ان کے الٹ ہونے کا سامنا رہتا ہے۔ یہ 'عظیم' اور 'معمولی' ضابطے ہر دم آپس میں مقابلے کی حالت میں ایک دوسرے کو ہٹانے کے در پر رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزرا ہے۔۔۔ یہ دونوں طرح کے ضابطے آپس میں گڈ مڈ ہو گئے ہیں اور ان دونوں ہی نے معاشرے میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ اس کی بڑی مثال پشتون علاقوں میں طالبان کی جانب سے پیش کردہ وہ نظام انصاف ہے جو شریعت اور پشتون ولی کا امتزاج ہے۔
پاکستان کے رسم و رواج اور انصافی پہلوؤں کے تناظر میں دیکھا جائے تو شرعی اور ریاستی، دونوں ہی طرح کے ضابطوں اور قوانین کی روح اصلاحاتی اور ترقی پسند ہے؛ بالخصوص عورتوں کے معاملے میں تو یہ بات صد فیصد درست ہے۔ ہم آگے چل کر تفصیل سے دیکھیں گے لیکن یاد رہے کہ پاکستان میں ہمیشہ ہی عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، بھیانک بدتہذیبی اور زیادتی مقامی رسوم اور رواج کے تحت ہوتی ہے۔ شرعی اور ریاستی قوانین اور ضابطوں میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ قبائلی روایات جیسے بلوچ یا پشتون۔۔۔ مجھے کہنے دیجیے کہ ان وحشیانہ اور بربریت پر مبنی قبائلی روایت کے سامنے وہ شرعی قوانین ہیں جو رسول خدا، محمدؐ نے ساتویں صدی عیسوی میں عرب قبائل کی جہالت اور تاریکی کو دور کرنے اور تہذیب سکھانے کے لیے بنائے تھے۔ یہ کسی طور پر بھی ایک طرح کے ضابطے نہیں ہیں۔ اس خطے کی سماجی دو رخی کی یہ حقیقت انگریزوں پر اچھی طرح آشکار تھی اور انہوں نے اس کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا۔
ان عدالتی نظاموں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہی دراصل پاکستانی ریاست کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ہے اور یہی وجوہات پاکستان کی جدید سماجی اور معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ ایک جدید اور مہذب ریاست کے قیام کا تصور، عوام میں مقبول ایک یکساں اور متوازن نظام انصاف کے ساتھ جڑا ہے۔ اس یکساں نظام انصاف پر ریاست اور ریاستی حکام کا (کم از کم اصولی سطح پر)عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس نظام کے تحت ضابطے اور قوانین بنانے کا اختیار ایک ہی اتھارٹی کے پاس ہونا بھی لازم ہے اور عدالتی نظام بھی اسی طور یکساں لاگو ہونا درکار ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی سطح پر اگر کوئی جھول رہ بھی جائے تو وہ معمولی ہونا چاہیے اور اس کا جواب اس علاقے میں مقبول مذہب کے ضابطوں میں عام مل جانا چاہیے۔ قوانین اور عمل درآمد میں غیر منظور شدہ اور بے اجازت رد و بدل نہ صرف غیر قانونی ہو بلکہ ناجائز بھی سمجھا جائے۔ لیکن پاکستان کی کل آبادی میں معاملہ بالکل برعکس ہے کیونکہ عوام کے یہاں طرح طرح کے ضابطے اور قوانین دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہاں ریاست کا قانون بھی ہے، شرعی ضابطے بھی ہیں اور مقامی قبائلی، فرقہ بند اور سماجی رسم و رواج بھی پائے جاتے ہیں۔
عام عوام ان طرح طرح کے قوانین اور ضوابط پر مشتمل نظاموں میں نہایت آسانی کے ساتھ جہاں فائدہ نظر آئے چکر لگاتے رہتے ہیں اور جس قدر ممکن ہو، رعایت تلاش کرتے ہیں۔ اکثر تو یہ دیکھنے میں بھی آتا ہے کہ اس مقصد کے لیے تشدد اور ڈراوے اور دھمکانے سے بھی کام لیا جاتا ہے، چاہے وہ ریاست، مذہب یا خاندان کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔ وہ حکام جن کا اصل کام ریاستی قوانین اور ضابطوں کی عمل داری ہے، وہ بھی اکثر شرعی قوانین سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ یہ بھی سارے قصے کے آخر میں مقامی رسم و رواج اور روایت پر آن کر ٹک جاتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ حکام اکثر ہی دیکھتے بھالتے، جان بوجھ کر تشدد اور دھمکانے کے حربوں سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ حکام بدعنوان یا پست ہمت واقع ہوئے ہیں لیکن زیادہ تر مثال کے طور پر پولیس اہلکار اس لیے مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں رسم و رواج اور برادری کا بول بالا ہے۔ یوں، پاکستان میں 'نظریہ ضرورت' اور 'مک مکا' اوپر سے لے کر نیچے ریاست اور معاشرے کی جڑوں میں عام پھیلا ہوا ہے۔ یہاں طاقت اور اختیار بات چیت، سمجھوتے، دباؤ اور تشدد کا معاملہ ہے۔ یہ کسی طور بھی باقاعدہ اصول پسندی، ضابطہ کاری، قانونی بالادستی اور انصاف کا امر نہیں ہے۔


سرورق: سٹی کورٹس، کراچی میں ایک وکیل درخواست تحریر کرتے ہوئے / ہیرلڈ، ڈان



-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر