اس دیس کی رسم اور دستور - 1


پاکستان میں ایک طرف تو ریاستی اور شرعی دونوں ہی طرح کے قوانین باقاعدہ تحریر شدہ، رسمی دستور ہیں۔ لیکن دوسری جانب مجموعہ رسم و رواج (سماجی، خاندانی، یا قبائلی قوانین) غیر تحریر شدہ اور غیر رسمی لیکن انتہائی مضبوط دستور ہیں کیونکہ یہ ریت اور رواج، لوگوں کے اصل کلچر، طور اور طریق زندگی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ رسم و رواج کو مقامی بوڑھے بزرگ، با اثر اشخاص یا خاندانوں میں مرد سربراہان لاگو کرواتے ہیں۔ یہ جنوب ایشیاء کے طول و عرض کے کلچر اور عوام کے بنیادی رویوں کو ظاہر کرتا ہے جو شہروں میں بھی عام ہے۔
پاکستان میں یہ رسم و رواج اور ریت پر مبنی قوانین شمالی اور وسطی پنجاب میں نسبتاً کمزور واقع ہوئے ہیں لیکن ان کا وجود مکمل ختم نہیں ہوا۔ محمد اعظم چوہدری نے ضلع فیصل آباد کے دیہاتی علاقوں میں کی گئی ایک تحقیق سے بھی یہ ثابت ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں کی آبادی کی اکثریت کے لیے ریاستی اور نہ ہی شرعی قوانین بلکہ یہی مقامی رسم و رواج اور نسل در نسل چلے آ رہے ضابطے ہی اہم ہیں۔ خاندانی جائیداد اور وراثت کی تقسیم، شادی بیاہ اور ازدواجی تعلقات کا تعین اور 'جرائم' کی وسیع اقسام اور مقامی تنازعات کے فیصلے انہی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اور مغربی تبصرہ نگار، عام طور پر یہ دونوں ہی ان مقامی رسوم، رواج اور ضابطوں کو اسلام سے جوڑ دیتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا عام خیال یہی ہے کہ یہ شریعت سے اخذ شدہ ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔
اس ضمن میں جامع اور آج تک بہترین تحقیق شدہ مثال پشتون ولی کی ہے جو پشتونوں کا مقامی اخلاقی ضابطوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یاد رہے اسی طرح کے مخصوص مقامی رسوم اور رواج پر مبنی اخلاقی ضابطے پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ کی ہر طرح کی آبادی، قبیلوں اور برادریوں میں عام پائے جاتے ہیں۔ تا ہم پاکستان میں کراچی کے مہاجروں نے خاصی حد تک ان مقامی رسوم اور رواج پر مبنی ضابطوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے 1947ء میں ہندوستان کے ان علاقوں سے یہاں ہجرت کی تھی جو کراچی اور پاکستان کے علاقائی ماحول سے یکسر مختلف تھے۔
مقامی سطح پر یہ غیر تسلیم شدہ انصاف کے نظام کئی طرح کی اشکال میں پائے جاتے ہیں لیکن ہر جگہ ان کی ہئیت اور نتائج عام طور پر برادریوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور طاقت کے توازن پر ٹکے ہوئے ہیں۔مغربی دنیا میں انصاف کے جدید نظام کا ماخذ رومی قوانین ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں جدید عدالتی نظام اور قوانین مغربی نظام انصاف پر قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کا بنیادی محور مجرموں کو سزائیں دینا ہے لیکن اس کا بنیادی مقصد ہمیشہ سے ایک ہی ہےکہ ہر صورت جرم کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان کے ریاستی نظام انصاف کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کیونکہ یہ بھی مغربی، یعنی برطانوی نظام انصاف کے تصور پر قائم ہے۔



دوسری جانب اگر پاکستان کے روایتی اور مقامی رسوم اور رواج پر مبنی انصاف کے نظام کو ٹٹولا جائے تو اس کے مقاصد مختلف ہیں۔ اس نظام کا مقصد اجتماعی عزت اور غیرت کا تحفظ، امن کی بحالی اور بنیادی نظم و ضبط کو قائم رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں ان معاشروں کے ساتھ بلا کی مماثلت رکھتا ہے جو مسلح برادریوں پر قائم ہیں ۔ برادریوں پر مبنی گروہوں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں اپنے آپ کو نچلی سطح پر آزاد اور خودمختار سمجھتے آئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس گروہوں میں بٹے معاشرے کی اپنی رسومات، رواج اور ضابطوں پر مشتمل قوانین کا پیدا ہونا بالکل منطقی ہے۔ مقامی رواج اور رسوم پر مبنی قوانین کے ماخذ کو سمجھنے کے لیے مجموعی طور پر دنیا کی مثال کافی ہے۔ وہ یوں کہ آج ہر ملک کے اپنے جدید قوانین اور دستور ہیں جو جرائم کے قلع قمع کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لیکن روایتی طور پر پائے جانے والے بین الاقوامی قوانین سفارتی کوششوں اور اصولوں پر بنے ہیں جو طرح طرح کے معاشروں اور اقوام کے نمائندہ ہیں۔ ان بین الاقوامی قوانین کا مقصد سزا اور جزا نہیں بلکہ مفاہمت اور مصلحت کو فروغ دینا ہے۔ یوں، بین الاقوامی قوانین موجود تو ہیں اور لاگو بھی کیے جاتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ان قوانین کی مدد سے دنیا میں تشدد اور دباؤ کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔ تشدد اور دباؤ جاری رہتا ہے لیکن یہ قوانین دنیا بھر میں مصلحت، مفاہمت، امن اور حمیت کو قائم رکھنے میں کام آتے ہیں۔
ان مقامی ضابطوں اور قوانین کے انتہائی مضبوط ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے کلچر اور طول و عرض میں، عزت اور غیرت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اگر کوئی شخص یا خاندان ایک مخصوص قسم کی بے عزتی، چوٹ یا گزند کا جواب تشدد اور دباؤ سے دینے میں ناکام رہے تو عام طور پر اپنی، معاشرے اور بستی کی آنکھوں میں گر جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں ایک شخص یا خاندان کے لیے اس سے بدتر صورتحال کوئی دوسری شے نہیں ہو سکتی۔ بے غیرتی سے مراد ناموری کو دھچکہ یا بدنامی ہے۔ بدنامی کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرد یا خاندان کے لیے ہر طرح کی سماجی توقعات اور امکانات کا راستہ سختی سے بند ہو جانا ہے۔
انگریز دور میں ایک جج، سر سیسل والش ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے سماجی 'عزت اور غیرت' نامی عظیم اور قسمت آور اصطلاح کو یوں بیان کیا تھا جس کا تشدد کے ساتھ گہرا تعلق ہے:
'ہر ہندوستانی، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔۔۔ اونچی پگڑی ہو یا کمی کمین، عزت اور غیرت رکھتا ہے اور ناموری کا دعویدار ہوتا ہے۔ہندوستانیوں کے لیے اپنی اولاد کے بعد عزت اور غیرت ہی سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر کسی ہندوستانی کی عزت اور غیرت کو مجروح کر دیا جائے تو یہ اس شخص کے لیے انتہائی غمی کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہندوستانی معاشرے میں اس ضمن میں ایک دوڑ جاری ہے، جس میں عزت اور غیرت کو مجروح کرنے سے زیادہ آسان کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔ ہندوستانیوں کی عزت اور غیرت کو مجروح کرنا اگر مفروضے یا تصور کی حد تک ہی کیوں نہ ہو، انہیں اس کا احساس بڑھ کر ہوتا رہتا ہے۔ جس شخص کی عزت اور غیرت کو مجروح کر دیا، وہ اسے کبھی بھول سکتا ہے اور نہ ہی کبھی معاف کر سکتا ہے۔'
پاکستان بھر میں کسی شخص کے قابل قدر اور اکرام کے لیے تمثیل انگیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ فلاں 'نہایت عزت دار' آدمی ہے اور پشتون علاقوں میں کہا جاتا ہے کہ فلاں 'خالص یا اصل پشتون ہے'۔ دونوں ہی صورتوں میں مراد، عزت اور غیرت کی راہ پر چلنے والا ہے۔ یہ معاملہ صرف انفرادی افعال، رائے یا فیصلوں کا نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق افراد کے زندگی گذارنے کے ڈھنگ سے گہرا واسطہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک عورت کے لیے عزت اور غیرت انفرادی سطح پر بھی صرف اپنے فعل یا رائے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے لباس، طور، اطوار، رویے، بات چیت اور سب سے اہم چال چلن اور اخلاقی رویوں میں عزت اور غیرت کا خیال رکھ کر عمر بسر کیا کرے۔
والش نے عزت کو ہر ایک فرد کا اپنا ذاتی یا انفرادی معاملہ گردانا ہے لیکن یہ صرف افراد تک محدود نہیں ہے۔ اس کا تعلق خاندانوں، کنبوں، برادریوں اور قبائل تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں ہر وہ فرد جو عزت اور غیرت کے تحفظ کے لیے جرم (اس معاملے میں تو خیر ہر طرح کا جرم شامل ہے) کا ارتکاب کرتا ہے، وہ عام طور پر اجتماعی نوعیت کے ہوا کرتے ہیں۔ مجرم کا ساتھ دینے کے لیے خاندان کے دوسرے افراد اور پشت پناہی کے لیے برادریاں اور قبائل بھی کود پڑتے ہیں۔ ان کا مقصد اپنے خاندان، برادری یا قبیلے کی عزت اور غیرت کا طمع ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں گواہان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، سفارشیں کروائی جاتیں ہیں، پولیس اہلکاروں اور ججوں کو رشوت دی جاتی ہے جبکہ جھوٹی شہادتیں تو بہت ہی عام بات ہے۔ اس معاشرے میں یہ سب غیر اخلاقی نہیں سمجھا جاتا بلکہ عام طور پر اسے غیر قانونی بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ بلکہ، اس کے برعکس یہ سارے معاملات تو قدیم ضابطے، یعنی خاندان سے وفاداری اور تحفظ کے ضابطے سے جوڑ دیے جاتے ہیں۔
ان رویوں کو والش نے بھی تسلیم کیا ہے:
'انگلینڈ میں جرائم کی تقریباً اقسام انفرادی فعل ہوا کرتا ہے اور عام طور پر اوسطاً ہر جرم میں دو سے زیادہ اشخاص ملوث نہیں ہوتے۔ ہندوستان کے ریاستوں میں عام طور پر کسی بھی جرم میں شریک افراد کی تعداد اوسطاً دس کے قریب ہوتی ہے۔'
پاکستان میں تشدد اتنا عام نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے ورنہ یہ معاشرہ کب کا بکھر چکا ہوتا لیکن یہ بات یاد رہے کہ تشدد کا امکان ہر وقت سر پر لٹکی تلوار کی طرح موجود رہتا ہے اور پس منظر میں اس کا بڑا عنصر باقی رہتا ہے۔۔ محمد اعظم چوہدری لکھتے ہیں:
'کسی بھی معاملے میں پولیس اور عدالتوں تک لے جانے میں عزت پر داغ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ آپ اکثر سنیں گے، 'اگر تم بہادر اور مضبوط مرد ہو تو سامنے آ کر دو بدو مقابلہ کرو۔ تم پولیس کا سہارا کیوں لیتے ہو؟' یہ طور عام ہے کہ اصل بدلہ اور انتقام دو بدو یا قریبی رشتہ دار ہی لے سکتے ہیں۔ یہ پولیس اور عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ لیکن دوسری جانب، اگر کوئی شخص اپنے مخالف کو تھانوں اور عدالتوں میں گھسیٹ کر، الجھانے اور ہراساں کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ قوی ٹھہرتا ہے اور اس کی عزت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ بالخصوص، عدالت میں کسی بھی مقدمے میں مخالف کو چت کرنے کے بعد جیتنے والے شخص کی حالت اور دی جانے عزت دیدنی ہوتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمات میں فتح حاصل کر کے عزت اور غیرت بحال کرنے کا یہ تصور بالآخر مخالفین کو ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ بازی کا عادی بنا دیتا ہے۔ گویا، یہ لوگ نشہ آور ہوں۔'
1990ء میں سندھ جانے کا اتفاق ہوا تو شکار پور کے ایک مقامی جاگیردار اور سیاسی خاندان کے نہایت اہم فرد نے کہا،
'اگر پڑوسی زمیندار آپ کو کمزور ہوتا دیکھ لے تو آپ کی جگہ لینے کے لیے بے شمار لوگ پیدا ہو جائیں گے اور وہ طرح طرح سے آپ کے مفادات کو زک پہنچانا شروع کر دیں گے۔ مثال کے طور پر مقدمے درج ہوں گے، پانی پر تنازعہ کھڑا ہو جائے گا یا قبضے کے لیے حربے اور بدمعاشی شروع ہو جائے گی۔اگر آپ خود اپنا تحفظ نہیں کر سکتے تو آپ اپنے کام داروں، کارندوں اور مزارعین کا تحفظ خاک کریں گے؟ وہ بھی سوال اٹھانا شروع کر دیں گے۔ اسی لیے طاقت اور مضبوطی کی ایک ظاہری صورت بنا کر رکھنی پڑتی ہے ورنہ آپ کو ختم کر دیا جائے گا۔ مضبوطی دکھانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ مسلح کارندوں کا ایک جتھا جمع کیے رکھیں لیکن کسی بھی صورت خون خرابے اور تشدد تک نوبت نہ آنے دیں کیونکہ پھر نسلوں تک دشمنی ختم نہیں ہوتی۔ خاندانوں اور برادریوں کے بیچ اس طرح کی چپقلش اور تنازعات کا معاملہ عدالتوں تک بھی جاتا ہے لیکن آخری وار کا فیصلہ کن حربہ تو بہرحال مسلح طاقت اور دو بدو لڑائی ہی ہوتا ہے۔۔۔
اندرون سندھ کے دیہی علاقوں میں اگر کوئی شخص کسی مضبوط اور با اثر قبیلے سے تعلق رکھتا ہے تو وہ کہیں بھی، کسی بھی وقت غیر مسلح جا سکتا ہے، لیکن دوسرے قبائل کے لوگوں کو یہ سہولت نہیں ملتی۔ اس صورتحال کو سندھ میں باقاعدہ عدالتی اور انصاف کا نظام متعارف کروا کر بدلا جا سکتا ہے۔ مغربی طرز تعلیم سے کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے لیکن لوگ ابھی تک اپنے قبائل اور برادریوں سے جڑے رہنے میں تحفظ محسوس کرتے ہیں۔ اس تبدیلی سے کئی برادریوں اور قبائل کے سرداروں نے بھی کسی حد تک سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ اب پہلے کی طرح قبائلی معاملات سخت نہیں ہیں اور ادلے کا بدلہ لینے، تلافی اور غیرت کے تحفظ کا امکان بھی کم ہو گیا ہے۔ جنید (زمیندار کا چھوٹا بھائی) جب بھی قبائلی جرگوں اور بیٹھکوں میں فیصے کے لیے بیٹھتا ہے تو اعتدال پسندی سے کام لیتا ہے تا کہ معاملات کو سنبھالے میں رکھا جا سکے اور خون خرابے کی بجائے مفاہمت اور مصلحت سے کام لیا جا سکے۔ علاقے کے دوسرے سردار اور قبائلی نامور حضرات بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ قبائلیوں کا جرگہ سسٹم تسلیم شدہ نہیں ہے لیکن حکومتی ادارے اور پولیس بھی جرگوں اور بیٹھکوں میں تنازعات کو حل کرنے پر زور دیتی ہے اور انہی کو ترجیح دیتی ہے۔ جہاں یہ، وہیں انہیں ایک حد میں بھی رکھتی ہے تا کہ معاملات ہاتھ سے نکلنے نہ پائیں۔ مجموعی طور پر جاگیرداروں کے طرز انصاف اور جرگے کے ذریعے قبائلی اور اجتماعی تنازعات کو ختم کرنے کی صلاحیت کو پسند کیا جاتا ہے کیونکہ ان بیٹھکوں میں جذبات کا عنصر نہیں ہوتا اور ان جرگوں میں کسی ایک فریق کی واضح جیت نہیں ہوتی۔ ویسے بھی، اب نت نئی بندوقیں اور ہتھیار آ چکے ہیں۔ ایک کلاشنکوف سے ہفتے کے اندر اتنے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے، جتنے پہلے پہل سالوں میں نہیں مرتے تھے۔ قبائل، برادریاں، پولیس اور حکومت۔۔۔ الغرض سبھی حالات کی سنگینی کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، کسی بھی قبیلے اور برادری کا سردار کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس کی ناک اپنے ہی قبیلے کے سامنے کٹے اور آنکھ نیچی ہو جائے۔۔۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر آغا طارق ہیں۔ آغا طارق نے مغل برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دن دیہاڑے، یہاں سے 500 میٹر دور راستے میں گولی مار دی تھی۔ مقتول نے آغا طارق کے خاندان میں ایک لڑکی سے بغیر اجازت، محبت کی شادی کر لی تھی۔ وہ لڑکی بھی غائب ہو گئی ہے۔۔۔ اسے بھی قتل کر دیا ہو گا۔ اب مغل بدلہ لینا چاہیں تو انہیں آغا طارق کے خاندان میں کسی شخص کو قتل کرنا ہو گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی پشت پناہی کے لیے ایک مضبوط قبیلہ اور خاندان ہو جو اس کام میں ان کی مدد کرے۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک مڈل کلاس فیملی ہے۔ مقتول کا ایک بھائی کراچی میں کسٹم کی نوکری کرتا ہے، ان کے پاس دولت بھی ہے اور کراچی، اسلام آباد میں تعلقات بھی کافی ہیں لیکن علاقے میں نہ تو اثر و رسوخ ہے اور نہ ہی ناموری ہے۔ وہ قتل کر کے کہاں جائیں گے؟ بھلے وہ بدلہ ہی کیوں نہ لیتے ہوں۔۔۔ ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ اسی لیے مغلوں نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا لیکن آغا طارق اور اس کے لوگوں نے عدالت میں عذر عدم موجودگی کی گواہی دے دی ہے۔ ان میں سے کوئی قتل کے وقت ہسپتال میں تھا۔ ایک نے تو پولیس کو پیسے دے کر یہ بھی کہلوا دیا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، وہ شہر کے بازار میں ٹریفک چالان کٹوا رہا تھا۔ مراد یہ ہے کہ آغا طارق اور اس کے خاندان کے کسی فرد پر یہ جرم کبھی ثابت نہیں ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ علاقے میں لوگ ان کو اس جرم پر لعن طعن بھی نہیں کریں گے بلکہ ان کی تو عزت اور بڑھ گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ لوگ اس شخص کی بہت عزت کرتے ہیں جو اپنی غیرت اور گھر کی عزت کا دفاع کرنا جانتا ہو۔ اگر کوئی جیل چلا بھی گیا تو وہاں دوسرے مجرم بھی ان کی عزت کریں گے۔۔۔ کہ بھئی، یہ وہ شخص ہے جس نے صحیح کام کیا ہے، اپنی غیرت کو مرنے نہیں دیا۔'
یاد رہے، یہ واقعہ سنانے والا کوئی علاقائی لچا بدمعاش یا ٹھگ نہیں بلکہ ایک قبیلے کا سردار اور کسی نامی گرامی یورپین بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز شخص تھا۔

سرورق: شہلا گل، سندھ / غیرت کے نام پر قتل / بلومبرگ، 2017ء

 اگلا باب: اس دیس کی رسم اور دستور - 2 | 14 جون، 2019ء 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر