عدالتیں


پاکستان میں وہ ملزمان جو پولیس کے روایتی تفتیشی طریقوں سے جان بچا، زندہ نکل آئیں تو عدالتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان پر خدا ہی رحم کرے۔ پنجاب میں کسی نے کہاوت سنائی تھی کہ 'خدا کسی دشمن کو بھی بیماری اور عدالت میں مقدمہ نہ دکھائے۔۔۔' اگر عدالتی نظام میں رشوت خوری اور بدعنوانی ایک مسئلہ ہے تو انصاف میں تعطل اور تاخیر کہیں بڑی بلا ہے۔ اگر دل کو لگتی کہوں تو پاکستانی (اور بھارتی) کے ہر عدالتی کمرے۔۔۔ جج اور وکلاء کی پیشانی پر مشہور کلاسیکی قانونی کہاوت کندہ کروا دینی چاہیے کہ، 'انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے'۔ مجھے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کی ضلعی عدالتیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مقدمات کی شنوائی ہوتی ہے اور ہزاروں لوگ طرح طرح کے مقدمات کی پیروی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ اس روز جتنے افراد کے ساتھ بات چیت ہوئی۔۔۔ اکثریت کے مقدمات کم از کم پچھلے پانچ برسوں سے التواء کا شکار تھے۔ مزید یہ کہ ان میں سے ہر شخص مقدمے کی پیروی اور رشوت کی صورت میں اب تک اوسطاً دو لاکھ روپے خرچ کر چکا تھا۔ پاکستان میں ایک غریب آدمی کے لیے دو لاکھ روپے خاصی بڑی رقم ہے۔
یہ مسائل صرف عدالت میں زیر التواء مقدمات تک محدود نہیں ہیں۔ وہاں موجود ایک بوڑھے شخص سے بھی ملاقات رہی جو گزشتہ چھ روز سے مسلسل کچہری کا چکر لگا رہا تھا۔ اب تک ہزاروں روپے کی لیگل فیس اور رشوت بھرنے کے باوجود جائیداد کا انتقال ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں لوگوں کی اکثریت ، بالخصوص دیہی علاقوں میں مشکلات کی وجہ سے جائیداد کی منتقلی اور مال سے متعلق معاملات کو غیر رسمی طریقے سے آپس ہی میں طے کرتے ہیں۔ مزید براں یہ کہ اگر ان معاملات میں کل کلاں کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے، تنازعہ جنم لے یا لوگوں کے بیچ آپسی چپقلش نکل آئے تو اس سے نبٹنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ریکارڈ اور نہ ہی ثبوت موجود ہوتا ہے۔
جنوبی ایشیاء میں مقدمات کی غیر ضروری طوالت اور عدالتوں میں اس بارے وقت کا بے انتہاء ضیاع، دراصل صرف بدعنوانی کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دوسرے عوامل بھی پائے جاتے ہیں۔ ان عوامل میں مقامی عدالتوں پر دباؤ، اثر و رسوخ، ڈراوے اور دھمکانے کے حربے، عملے کی کمی، نظام پر کار سرکار کا بے پناہ بوجھ اور وکلاء کی کلبی چالیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، سرفہرست پولیس اور عدالتی عملے بشمول ججوں کی سستی، کاہلی اور کام چوری پیش پیش ہے۔



اب ظاہر ہے، جب یہ عمل اس قدر سست اور التواء کا شکار ہو گا۔۔۔ تو عدالتوں پر بوجھ بڑھتا جائے گا اورانصاف کی فراہمی مزید سست ہو گی۔ یعنی، یہ ایک ایسا گھن چکر بن جاتا ہے جس کا نتیجہ نظام کی مشینری کے جام ہونے کی صورت میں ہی نکل سکتا ہے۔ اس سے نبٹنے کے لیے دو ہی صورتیں ہیں۔ اس کے لیے لاطینی زبان کی دو قانونی اصطلاحات، جن کا اردو میں ترجمہ 'بدی کی جراحی' اور 'ابدی حرکت پذیری' بنتا ہے۔ ان دو اصطلاحوں کو جوڑ کر پڑھا جائے تو جنوب ایشیاء کے عدالتی نظام کے مسائل کی جڑ اور حل کی صورت نکل آتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں یہ دونوں اصطلاحات عملی طور پر وکلاء میں عام اور خاصی مقبول ہیں۔ مئی 2009ء کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف کراچی کی ضلعی عدالتوں میں ایک لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء تھے ، جن کی شنوائی کے لیے 110 جج صاحبان تعینات کیے گئے تھے۔ یاد رہے، ایک اندازے کے مطابق تب اس شہر کی آبادی ایک کروڑ ستر لاکھ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک جج لیے دن میں قریباً سو مقدمات سننے لازم تھے۔ ہر روز بارہ سو کے قریب ملزمان کو کراچی کی ضلعی عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے تھا لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ کراچی پولیس کے پاس عدالتوں میں ہر روز صرف 500 ملزمان کو پیش کرنے کی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس سے مراد قیدیوں کو جیل سے ڈھونے کے لیے گاڑیاں اور عدالت کے احاطے میں حوالات اور دوسرے انتظامات ہیں۔
پاکستان میں بھی مقدمات سے متعلق کاروائی میں تعطل اور التواء سے نبٹنے کے لیے غالباً وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے جو انیسویں صدی کے اوائل میں انگریزی عدالتی نظام نے کم و بیش اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد کیا تھا۔ سب سے پہلے تو مقدمات میں چھانٹی کی جائے اور واقعی مقدمات کو علیحدہ کر کے اہم ترین زمرے میں شمار کر لیا جائے۔ مزید چھانٹی، مقدمے کی نوعیت اور اہمیت کے تحت کی جائے۔ لیکن ایسا کرنا خاصا مشکل ہو گا کیونکہ اس ترتیب کے کئی پہلو نکلتے ہیں۔ ان میں سب سے اول اور بڑی وجہ تو یہ ہے کہ جائز اور ناجائز مقدمات میں کوئی فرق نہیں ہے اور مقدمات کی کثیر تعداد آپس میں گڈ مڈ ہے۔ پھر مقدمات کے دوران پیشیوں کے لیے تاریخ کا نظام بڑا مسئلہ ہے۔ مقدمات کو التواء میں ڈالنے کے لیے کاروائی کو ملتوی کر دیا جاتا ہے۔ ایک ہی مقدمے میں درجن بھر سے زیادہ پیشیاں اور بار بار کاروائی کا ملتوی ہونا معمول کی بات ہے۔
کسی بھی مقدمے کی کاروائی کو ملتوی کرتے رہنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ایک بڑی وجہ وکلاء سے متعلق ہے کہ یہ حضرات بغیر کسی واقعی وجہ کے التواء اور اگلی پیشی کی درخواست دے دیا کرتے ہیں۔ مقدمے کی کاروائی کو ملتوی کرنے کی کئی جائز وجوہات بھی ہوتی ہیں جیسے قیدیوں کو جیل سے عدالت میں پیش کرنے کے لیے سہولیات کا فقدان ہے۔ کئی دوسری وجوہات میں بدعنوانی، اثر و رسوخ، دھمکانے کے حربے، ذاتی دوستیاں اور حکام کی سستی اور کام چوری شامل ہے۔ ایک ریٹائرڈ جج نے مجھے بتایا:
' یہاں کسی بھی جج کے لیے وکلاء کے ساتھ سختی برت کر بیر پالنا سودمند نہیں ہوتا۔ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اس شعبے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہمارے بیچ خاندانی مراسم تک پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی جج وکلاء کے بیچ غیر مقبول ہو تو اس کے بارے ہوائیاں اور افواہیں پھیلا دی جاتی ہیں جو عدلیہ کے اعلیٰ حکام تک بھی پہنچتی ہیں۔ نتیجہ، اس جج کی ترقی رک جاتی ہے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس غیر مقبول جج پر بدعنوانی کے الزامات لگ جائیں اور بیچارے کی باقی ماندہ سروس کھٹائی میں پڑ جائے بلکہ کئی بار تو الٹا جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ زیادہ تر جج حضرات 'جیو اور جینے دو' کے اصول پر کاربند رہتے ہیں اور وکلاء کی جانب سے مقدمات میں حیلوں اور حربوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔ چاہے ان کے مطالبات جیسے کاروائی ملتوی کرنا، پیشی پر پیشی ڈالنا اور پیشی پر غیر حاضری وغیرہ ناجائز ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ خاطر میں لانا ہی پڑتا ہے۔ ویسے، یہ بھی درست ہے کہ پورا عدالتی سسٹم ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اگر سب اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرنا شروع بھی کر دیں۔۔۔ تو یہ مسئلہ پھر بھی جوں کا توں برقرار رہے گا۔'
اس نظام کی مفلوج زدہ حالت کی ذمہ داری عدالتی حکام اور پولیس کے بیچ تلخ تعلقات پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ان دو دھڑوں کے بیچ دنیا میں ہر جگہ ہی کچھ نہ کچھ تناؤ رہتا ہی ہے لیکن پاکستان میں یہ اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے، تشدد پر منتج ہو سکتا ہے۔ اب تک یہ تو عیاں ہے کہ عدالتوں کے پاس مقدمات اور تفتیش سے متعلق پولیس کی اہلیت بارے شک و شبہ کی معقول وجوہات ہیں۔ دوسری جانب پولیس کو بھی گلہ رہتا ہے کہ نامی گرامی قاتلوں، دہشت گردوں اور کئی طرح کے جرائم پیشہ افراد ۔۔۔جن پر تفتیش کے دوران جرم ثابت ہو چکا تھا، عدالتوں سے بظاہر خوش نما بنیادوں پر چھوٹ مل جاتی ہے۔ اگر انہیں چھوٹ نہ بھی ملے، ان کے مقدمات طویل عرصہ تک زیر التواء رہتے ہیں اور کئی برس بعد بھی فیصلہ نہیں آتا۔
اس کا نتیجہ، جس بارے پولیس اہلکاروں نے بھی شکایت کی، 'اس ملک میں اگر آپ کسی واقعی طاقتور بدمعاش اور غنڈے سے نبٹنا چاہیں تو موقع پر گولی مار کر ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔' اسی شکایت کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی اور بھارتی پولیس کا اپنا رنگ نکل آیا ہے۔ اب تو یہ صورتحال ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی جرم کے خاتمے کے لیے ماورائے عدالت قتل کی ضرورت کو محسوس کرتی ہیں۔جنوبی ایشیاء میں پولیس مقابلے انصاف کا ایک نیا ستون بن کر ابھرے ہیں۔ وہ پولیس افسران جو اس معاملے میں سخت اور پیش قدم واقع ہوئے ہیں، سیاسی عوامی حلقوں میں ہیرو ٹھہرتے ہیں۔ عدالتوں کی جانب سے فیصلوں میں پس و پیش، بالخصوص اسلامی شدت پسندوں کے مقدمات میں اس بارے نااہلیت کا تباہ کن نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ ان شدت پسند عناصر کو اگرچہ ریاست کے خلاف سازش اور نقصان کی بنیاد پر مقدمات کا سامنا ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب چھوٹ جاتے ہیں۔
اس ضمن میں مختاراں مائی کا مقدمہ خاصی معقول مثال ہے۔ اس سے پولیس، عدالتوں اور سیاسی نظام کے بیچ بدترین باہمی عمل و تفاعل کی شکل سامنے آتی ہے۔ مختاراں مائی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ 2002ء میں پیش آیا تھا۔ مختاراں مائی آٹھ سال گزرنے کے بعد، 2010ء میں بھی انصاف کی منتظر تھی۔ اگر قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی سادہ مقدمہ ہے اور اس کا شور پوری دنیا میں سنا گیا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور قومی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی نے 2008ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد اس مقدمے کی پیروی اور حتمی اقدامات یقینی بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔لیکن 2010ء تک اس مقدمے کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا تھا۔
عدالتی نظام کی نا اہلی اور اس سبب عوام کی اکثریت کا عدالتوں پر عدم اعتماد اور اس سے غیریت کا ایک پہلو انگریز دور سے ملتا ہے۔ یہ پورا نظام انگریزی زبان اور بالخصوص قانون کی لاطینی اصطلاحات میں چلایا جاتا ہے۔ عوام کے لیے یہ سب بیگانہ ہے۔ ان کی اس نظام سے روگردانی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آبادی کا بڑا حصہ انگریزی زبان سمجھ ہی نہیں سکتا۔ یہ پہلو عوام کے ساتھ ساتھ عدالتی حکام اور اہلکاروں پر بھی صادق آتا ہے جو انگریزی سے بنیادی واقفیت رکھنے کے باوجود اس زبان کے پیچ و خم اور پیچیدگیوں سے نابلد ہیں۔ جس سے یقیناً اس پورے نظام کی نااہلیت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ عدالتی اہلکاروں کی کثیر تعداد اسی سبب اپنے فرائض درست طریقے سے سرانجام ہی نہیں دے پاتے۔
جنوری 2009ء میں، ملتان بار ایسوسی ایشن کے اس وقت صدر محمود اشرف خان سے ملاقات رہی۔ ان کے دفتر میں اس وقت انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب انہوں نے کلرک کو انگریزی زبان میں نوٹس لکھوانے شروع کیے۔ کلرک، جسے عام طور پر منشی کہا جاتا ہے۔۔۔ ایک عمر رسیدہ شخص تھا جس کی داڑھی کے بالوں میں سفیدی پھر چکی تھی اور سر پر اون کی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ اس کے صرف دانت ہی نہیں بلکہ انگریزی پر عبور بھی جڑ چکا تھا اور اسی سبب وہ بیچ بیچ میں الفاظ کی ادائیگی کے دوران اڑ جاتا تھا۔
‘The Following prisoners are required to be implemented as respondents’، وکیل صاحب نے کہا۔
منشی نے پہلے یہ جملہ زیر لب دہرایا اور پھر لکھتے ہوئے اونچی آواز میں دوبارہ کچھ یوں دہرانے لگا، ‘The following prisons are retired to be….’
‘Required!’، وکیل صاحب نے تنک کر کہا،
‘Are required to be imp… imprem, indem….’
‘Implemented!’
ظاہر ہے، نوٹس لکھنے کا یہ کام اگر بار ایسوسی ایشن کے صدر صاحب خود کر لیتے تو کافی آسانی ہو جاتی لیکن ظاہر ہے، اس سے جنوبی ایشیاء کے بنیادی اور ہر سطح پر پھیلے ہوئے اس تصور کی نفی ہوتی جس کے تحت اشرافیہ کی اپنے ہاتھ سے کام کرنے کے نتیجے میں عزت کم ہو جاتی ہے۔ یہ تو خیر ایک منشی کا قصہ ہے ورنہ پاکستان میں وکلاء کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ ملاقات رہی ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ یہ وکلاء انگریزی ٰ قانون کی اعلیٰ ڈگریوں کا حامل ہونے کے باوجود نہ صرف انگریزی زبان درست بولنے سے قاصر ہیں بلکہ لکھنے میں تو بالکل ہی کورے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے پاکستانی وکیلوں کی اکثریت واقعی قانونی تربیت اور علم سے نابلد رہ جاتی ہے اور یہاں تک کہ بنیادی نکتوں کو بھی سمجھنے میں قاصر رہتی ہے۔ یہی اثر پھر عدالتوں میں پیش کیے جانے والے مقدمات میں بھی دیکھنے میں آتا ہے، جس کے لیے یہ وکلاء اور ان کے منشی کسی صورت بھی پوری تیاری نہیں کر پاتے اور قانونی نکتے واضح ہی نہیں کر سکتے۔ نتیجہ مقدمات کے التواء، بار بار پیشیوں، جرح میں جھول اور عدالتی فیصلوں میں کمزوری کی صورت سامنے آتا ہے۔ مخالف وکیل کے لیے کسی بھی مقدمے میں شہ مات دینا آسان ہو جاتا ہے اور سارا ملبہ آخر میں عام آدمی، جو اپنا مقدمہ ان عدالتوں میں لے کر آیا ہے، اسی پر گرتا ہے۔
عدالتوں میں جرح اور ثبوت، قومی زبان اردو یا علاقائی زبانوں میں پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن ریکارڈ کے لیے ساری عدالتی کاروائی اور ثبوت انگریزی زبان میں ترجمہ کرنا لازم ہیں۔ 2009ء میں کراچی کی ضلعی عدالت میں کسی بچے کے اغواء کے ایک مقدمے کی کاروائی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک عورت کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔ وہ خاتون اردو میں بیان ریکارڈ کروا رہی تھی جبکہ جج انتہائی بودی انگریزی میں اپنے کلرک کو اس کا بیان انگریزی میں ترجمہ کر کے عام خط تحریر میں لکھواتا جا رہا تھا۔ بیان تو ریکارڈ ہو گیا لیکن اس روز مقدمے کی کاروائی ملتوی کرنی پڑی کیونکہ مدعی کا وکیل حاضر نہیں ہو سکا تھا۔ بیان ریکارڈ کروانے کے دوران یک طرف تماشا جاری تھا اور اس عورت کو اپنی کہی بات دو یا اس سے زیادہ دفعہ دہرانی پڑتی اور پھر جج کو تین دفعہ اپنے کلرک کو انگریزی میں سمجھانی پڑتی۔ یہی نہیں بلکہ اس عمل کے دوران دوسرے فریق کے وکیل اور جج دیر تک، تقریباً ہر جملے پر ایک دوسرے کی انگریزی زبان میں غلطیوں کی تصحیح اور بیان کے انگریزی ترجمہ کی نوک پلک درست کرتے رہے۔ کسی بھی مقدمے کی کاروائی کے دوران وکلاء جج کے ساتھ انگریزی یا اردو میں بات کر سکتے ہیں لیکن عام طور پر وکلاء انگریزی میں اپنی کاروائی پوری کرتے ہیں اور جج انگریزی ہی میں فیصلہ تحریر کرتا ہے۔ چنانچہ، جب تک کوئی بھی مقدمے کے فریقین کے لیے کاروائی اور فیصلے کا ترجمہ نہ کر لے، اسے اپنے ساتھ ہو رہے عدالتی معاملات بارے سرے سے پتہ ہی نہیں چلتا۔
میں نے اپنے کام سے انتہائی عاجز آئی ہوئی لیکن خاصی پر فکر جج آمنہ ناصر انصاری سے اس پورے عدالتی نظام کو اردو زبان میں منتقل کرنے کے بارے پوچھا تو کہنے لگیں،
'اردو میں منتقل نہ کر پانے کی سب سے اول اور بڑی وجہ تو یہ ہے کہ قانونی کاروائی اور فیصلے ہمیشہ ہی سابقہ نظیر اور مثالوں پر چلتے ہیں۔ ہمارے ملک کی عدالتوں کا انگریز دور تک کا سارا ریکارڈ انگریزی زبان میں ہے۔ اگر ہم انگریزی کو ترک کر دیں تو ہمارے نئے فیصلوں کی بنیاد میں دم نہیں رہے گا۔ ہمیں اس کام کے لیے سارے نظام کو صفر کو سے شروع کرنا پڑے گا اور خدا جانے، یہ ہمیں کس ڈگر پر لے جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس ملک میں زبان بذات خود بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پنجاب میں زیادہ تر عدالتی کاروائی اردو زبان میں ہی ہوتی ہے لیکن ریکارڈ کے لیے انگریزی میں ترجمہ اور ساری دفتری اور عدالتی مکتوبات اور ابلاغ بھی انگریزی میں ہی ہونا لازم ہے۔ لیکن کراچی میں معاملہ یہ ہے کہ اگر ہم عدالتی کاروائی کو اردو زبان پر منتقل کر دیں تو سندھی ناراض ہو جائیں گے اور اگر سندھی زبان لاگو کریں تو دوسرے لسانی دھڑے شور مچا دیں گے۔'
ملک کی تمام عدالتیں جس بنیادی وجہ سے انگریزی زبان میں کاروائی چلانے پر مجبور ہیں، وہ کراچی کی ضلعی عدالتوں کے باہر زیبائش سے کندہ کیے ہوئے انگریزی کے تین حروف ہیں۔ یہ حروف، 'جی آر آئی' ہیں اور ان عدالتوں کے احاطے میں ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جو ان تین حروف کا مطلب بتا سکتا ہو۔ یہ اصل میں Georgius Rex Imperator کا مخفف ہے جس کا مطلب 'جارج پنجم، شاہ انگلینڈ و شاہ ہند' ہے۔
اس ضلعی عدالتوں کے احاطے کی پرانی تصاویر دیکھیں تو کافی عرصے تک یہ اس علاقے میں واحد پرشکوہ عمارت ہوا کرتی تھی جس کے باہر وسیع شاہراہ گزرتی تھی۔ آس پاس آبادی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آج، اس پرشکوہ عمارت کا سامنے کا بناوٹی رخ ٹریفک کے رش اور دھول سے اٹی ہوئی سڑک کی جانب کھلتا ہے اور عدالتیں خود بازار کی گہما گہمی کے پیچھے چھپ گئی ہیں۔ عدالتوں کے باہر وسیع احاطہ بھی اب بازار کا حصہ ہی معلوم ہوتا ہے جہاں ہر وقت ہاکر، پولیس، قیدی، قیدیوں کے خاندان، وکلاء، منشی، کتب فروش اور عدالتی ٹاؤٹ پاؤں پھیلائے پڑے رہتے ہیں اور ریڑھیوں کی بہتات ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر عجیب و غریب احساس ہوتا ہے ۔گویا، طوفان بدتمیزی مچا ہے۔ ایسے میں کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک مقامی سماجی تنظیم سیلانی فاؤنڈیشن کے کارکنوں کا ایک ریلا آتا ہے۔ وہ نہایت سرعت کے ساتھ قیدیوں اور ان کے خاندانوں میں مفت کھانا تقسیم کرتے ہیں۔ یہ خیراتی عمل نہایت بھلا محسوس ہوتا ہے جو سیلانی فاؤنڈیشن نے قرانی احکامات کی روشنی میں جاری کر رکھا ہے اور یہ کراچی کے اس عدالتی احاطے میں پائی جانے والی بے پناہ سختیوں میں نرمی کا ایک گداز پہلو اجاگر کرتا ہے۔
اس رش اور بے پناہ ہجوم کے بیچ ایک منظر ایسا تھا جو دیکھنے میں عجیب اور بدیسی محسوس ہو رہا تھا۔ سبھی وکیل سیاہ کوٹ اور سفید شرٹیں پہنے، سیاہ ہی ٹائیاں باندھے سوٹ بوٹ میں ملبوس ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ اس دن کراچی میں درجہ حرارت قریباً پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ رہا ہو گا۔ ان وکیلوں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے سینکڑوں پینگوئین جہنم میں بند کر دیے گئے ہوں۔ خواتین وکلاء بھی سیاہ کوٹ اور سفید شلوار قمیص میں ملبوس تھیں لیکن سر پر سفید ہی رنگ کے دوپٹے بھی اوڑھ رکھے تھے۔ اسی دن، بار روم میں بیٹھے میں نے بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر سید منصور احمد سے وکلاء کے اس طرز عمل یعنی عدالت سے باہر بھی سیاہ کوٹ اور ٹائی لگائے پھرنے بارے استفسار کیا۔ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر نے مجھے انتہائی حیرت سے دیکھا اور فٹ بولا، 'یہ ہمارا یونیفارم ہے۔ ہم وکلاء کی شناخت اور نشان ہے۔' میں نے اپنی بہن کا حوالہ دیا جو لندن میں بیرسٹر ہے، اور توجہ دلانی چاہی کہ وہ کبھی بھی عدالت کے باہر وگ نہیں پہنتی اور اس گرمی تو وہ ہر گز نہ پہنے۔ اس پر جواب ملا،
'ہاں لیکن کراچی اور لندن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہاں لوگوں کی بڑی تعداد وکیل بننا چاہتی ہے۔ ہمیں خود کو عام لوگوں سے ممتاز رکھنا پڑتا ہے۔ انہیں کسی نہ کسی طور تو دکھانا پڑتا ہے کہ ہم خصوصی ہیں۔ ہمارے سیاہ کوٹ دیکھ کر لوگ فوراً ہی سمجھ جاتے ہیں کہ ہم ایڈوکیٹ ہیں کیونکہ اس احاطے میں صرف وکلاء ہی سیاہ کوٹ پہن سکتے ہیں۔ ہمارے سینئیرز نے سکھایا ہے کہ بھلے جتنی بھی گرمی ہو، ہمیں یہ کوٹ پہن کر رکھنا ہے کیونکہ عام لوگ یہ کوٹ دیکھ کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ ہم ایڈوکیٹ ہیں۔ اسی کی بدولت عزت کریں گے۔'
بار روم کے باہر تقریباً ہر دیوار پر بار ایسوسی ایشن کی مختلف نشستوں کے لیے ہو رہے انتخابات کے سلسلے میں امیدواروں نے مہم کی غرض سے پوسٹروں کی بھرمار کر رکھی تھی۔ ایک پوسٹر پر تحریر تھا، 'ملک میں وکیل برادری کی عزت اور وقار بڑھانے کے لیے محمد عادل خان ایڈوکیٹ کو ووٹ دے کامیاب کروائیں۔آپ کا ووٹ، وکلاء کے حقوق کا ترجمان ہے۔'
اگر پاکستان کے ریاستی عدالتی نظام میں اشرافیہ کی حکمرانی اور غلبے کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے تو وہیں یہ رجحان اس نظام میں تھوڑا ہی سہی لیکن بتدریج ترقی پسندی کا مظہر بھی ہے۔مثال کے طور پر پولیس کے ڈھانچے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن میں فرق بھی واضح ہے۔ پہلا حصہ عام کانسٹیبل اور نان کمیشنڈ افسران پر مشتمل ہے، پھر جونئیر افسران ہیں اور آخری حصہ سینئیر 'گزیٹڈ' افسر ہیں۔ گزیٹڈ افسروں کا تناسب پولیس فورس میں آٹھ سو اہلکاروں کے مقابلے میں ایک ہے۔ یہ افسران باقاعدہ امتحان کے بعد بھرتی کیے جاتے ہیں اور ان کا شمار سینئیر سول سروس میں ہوتا ہے۔ پولیس میں بھرتی اور رینک کا نظام انگریز دور سے اخذ شدہ ہے ۔ برطانوی دور میں بھی انگریز سینئیر افسران اور ہندوستانی افسروں کے بیچ تفریق کی جاتی تھی اور ان دونوں حصوں کی رینک اور فائل میں کافی واضح فرق ہوا کرتا تھا۔ آج بھی پاکستانی محکمہ پولیس کے سینئیر افسران (اسسٹنٹ سپرنٹنڈٹ اور اوپر) بھی عام طور پر جرُمیات کی اعلیٰ ڈگری یعنی جرم کا سائنسی اور تحقیقی علم مغربی یونیورسٹیوں سے ہی حاصل کرتے ہیں۔
جہاں تک عدالتی نظام کا تعلق ہے، یہ انگریزی قانون عامہ پر مبنی ہے اور انگریزوں کا ہی متعارف کردہ ہے۔ تب سامراجی وجوہات کی بناء پر برطانوی سلسلہ شاہی نے انگریزی نظام کا ایک انتہائی اہم جمہوری جز، یعنی جیوری کا تصور ہندوستان میں متعارف کردہ عدالتی نظام سے منہا کر دیا تھا۔ پاکستان اور بھارت، دونوں ہی ممالک نے آزادی کے بعد بھی عدالتی نظام کو آج بھی آمرانہ انداز میں جیوری کے بغیر ہی چلا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ مقامی اشرافیہ کی اکثریتی ان پڑھ عوام سے سخت بیر ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کو ڈر ہے کہ مقدمات میں جیوری انتہائی ترش رخ یعنی طرح طرح سے جیسے برادریوں، فرقہ بندیوں اور لسانی بنیادوں پر بٹی رہے گی۔
غیر رسمی اور غیر تسلیم شدہ جرگوں اور پنچایتوں میں بہرحال جیوری کا تصور موجود ہے۔ اس طریق انصاف میں عوام کی نمائندگی موجود ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو عدالتی حساب کتاب کی رو سے جرگے اور پنچایتیں ہی جمہوری ادارے ہیں۔ لیکن ان جرگوں اور پنچایتوں اور ریاستی نظام انصاف کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے جو پاکستان میں ترقی اور جمہوریت کے پروان چڑھنے کی راہ میں بھی حائل ہے۔ نظام انصاف پر مقامی اشرافیہ کے تسلط کو اگر الگ بھی رکھ دیا جائے تو بھی پاکستان کے عدالتی نظام، جرگوں اور پنچایتوں میں ملک کی صرف آدھی ہی آبادی کی نمائندگی موجود ہے۔ یعنی، ان رسمی اور غیر رسمی اداروں کی نمائندگی عام طور پر صرف اور صرف مردوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ریاستی عدالتی نظام میں کہیں نہ کہیں، تھوڑی بہت عورتوں کی نمائندگی موجود ہے لیکن وہ بہت ہی کم ہے۔ یہی نہیں بلکہ نمائندگی کی شرح بڑھنے کی رفتار بھی خاصی سست ہے۔ مثال کے طور پر کراچی کی ضلعی عدالتوں میں نو ہزار کے قریب وکلاء رجسٹرڈ ہیں جس میں صرف اور صرف پانچ سو، خواتین وکلاء ہیں۔ اسی طرح صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی عدلیہ میں خواتین ججوں کی تعداد گویا آٹے میں نمک، نہ ہونے کے برابر ہے۔
جہاں یہ، وہیں ملک کی وکلاء برادری میں ترقی پسند وکلاء جن میں کئی خواتین جیسے عاصمہ جہانگیر (ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چئیروومن) جیسے شعلہ بیاں اور جری لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ ان وکلاء کی مہمیز سوچ اور چابک دستی کا نتیجہ ہے کہ ملک کا جھول کھاتا ہوا عدلیہ کا نظام بھی وقتاً فوقتاً عورتوں کے حقوق کے تحفظ پر مبنی فیصلے اور احکام امتناعی جاری کر دیتا ہے۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا کہ ان ترقی پسند حلقوں کا زور اس قدر بڑھ کر ہوتا ہے کہ ریاستی عدالتیں جو عام طور پر دب جانے میں مقبول ہیں اور کئی انفرادی مقدمات میں انصاف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہیں، ان معاملات میں اکثر کسی سیاسی اور غیر سیاسی دباؤ کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتیں۔ دوسری طرف غیر رسمی جرگوں اور پنچایتوں کا حال یہ ہے کہ اگرچہ ان پر جمہوری ہونے کا گماں گذرتا ہے لیکن بہرحال اس کے نمائندے (جو ہمیشہ مرد ہی ہوتے ہیں)، جدید طرز انصاف، جدید دور کے تقاضوں اور فیصلوں میں عورتوں کے حقوق پر جھاڑو پھیر دیتے ہیں اور کسی سیاسی یا غیر سیاسی حلقے کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ جرگوں اور پنچایتوں کو غیر قانونی جانتی ہے، انہیں ملک کے آئین اور دستور کے منافی قرار دیتی ہے اور ان کے فیصلے ریاستی نظام میں غیر تسلیم شدہ رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس مقامی سطح پر مسائل کے حل اور مقدمات کو سرے لگانے کے لیے انہی جرگوں اور پنچایتوں پر انحصار کرتی ہے، تا کہ تنازعات کا حل نکلے اور امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو۔ یہ المیے کا وہ بیل ہے جس کے ان دو سینگوں پر پاکستان کے لبرل حلقے ہر وقت آر اور پار جھولتے رہتے ہیں لیکن خود اپنے آپ میں اس بارے بات کرنے اور اس کا ڈٹ کر سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے لبرل حلقے ہر دم سولی پر چڑھے رہتے ہیں اور ان کے ہاتھ پیروں میں یہ میخیں ٹھونکی رہتی ہیں کہ ان کی ترقی پسند سوچ جس میں جمہوری بالادستی کا تڑکہ بھی لگا ہے۔۔۔ اس کے باوجود تقریباً ہر لحاظ سے ملک کی جمہور یعنی پاکستانیوں (مردوں) کی اکثریت کو سرے سے منظور ہی نہیں ہے۔

سرورق: راولپنڈی: ضلعی عدالتوں میں ایک وکیل / ہیرالڈ / 2016ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر