وکلاء تحریک


2007ء کے اواخر تک ایسا لگتا تھا کہ پاکستانی عدلیہ کی اشرافیہ اور عوام کے بیچ بالآخر ایک پل بننے جا رہا ہے۔ عدلیہ کے لیے یہ عوامی حمایت آخر کار ملک میں روشن خیالی کی لہر بن کر ابھرے گی۔ یہی نہیں، عدلیہ کو بھی آخر کار ایک ایسا سنہری موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنی ہئیت میں بنیادی تبدیلی کی مدد سے بتدریج ارتقائی عمل میں داخل ہو سکتی ہے۔ یہ سنہرا تصور وکلاء تحریک کی بنیادوں میں جڑا ہوا تھا۔ اس تحریک نے صدر مشرف کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد اس کے، صدر زرداری کی حکومت کو بھی وکلاء تحریک سے اسی طرح کے خطرات کا سامنا تھا۔
وکلاء تحریک کی ابتداء 2007ء کے اوائل میں ہوئی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتحار چوہدری نے پہلی بار صدر مشرف کے اختیارات اور طاقت پر قدغن لگانا شروع کیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی شہریوں کی امریکیوں کے ہاتھ 'گمشدگی' پر بھی سوال اٹھانے شروع کر دیے۔ تس پر مشرف نے بدعنوانی کو وجہ بنا کر چیف جسٹس کو عہدے سے معزول کر دیا۔ صدر مملکت کے ہاتھوں چیف جسٹس کی اس طور معزولی کے نتیجے میں ملک بھر کے وکلاء نے صدر کے خلاف تحریک شروع کر دی۔ ان کی حمایت میں عوام کی کثیر تعداد بھی سڑکوں پر نکل آئی۔ صدر مشرف کے مستعفیٰ ہونے کے بعد، وکلاء کی یہ تحریک صدر زرداری کے خلاف بھی چھوٹے پیمانے پر جاری تھی۔



اس تحریک کی بازگشت مغربی میڈیا میں بھی سنائی دی۔ نیو یارک ٹائمز نے وکلاء تحریک کو 'حالیہ تاریخ میں اسلامی دنیا میں لبرل حلقوں اور جمہوری طاقتوں کی سب سے موثر اور متعاقب تحریک' قرار دیا۔ پاکستان کے لبرل حلقوں نے بھی پہلے پہل اس تحریک کو ملکی تاریخ میں ایک ایک اہم سنگ میل ہی سمجھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی پڑھی لکھی مڈل کلاس بھی ایک سیاسی قوت بن کر بنیادی حقوق کی علمبردار اور پسی ہوئی عوام کی آواز بن کر ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔
یہ عین ممکن ہے کہ طویل مدت میں وکلاء تحریک پاکستانی تاریخ میں نئے اور بہتر دور کی ابتداء، ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھی جائے گی۔ 2010ء میں بہرحال حالات یہ تھے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، دونوں کے تجزیوں کے مطابق یہ تحریک کئی اہم نکات اور پہلوؤں کو نظرانداز کر کے تقریباً ختم ہونے کے قریب تھی۔ اس میں سب سے اول تو یہ تھا کہ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں قانون کی مثال اس مرغی کی مانند ہے جس کے بارے پشتو میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ، 'مرغی اسی کی ہے جس نے پہلے پکڑ لی!'
طاقت اور قانون بارے یہ کہاوت 1990ء کی دہائی میں 'جمہوری دور' بارے بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔ 1993ء میں نئی سیاسی طاقتوں کے ابھرنے اور سپریم کورٹ کی خودمختاری اور واضح طور پر نواز شریف کی جانب جھکاؤ سے خوفزدہ ہو کر پیپلز پارٹی کی حکومت نے سپریم کورٹ اور پنجاب کی ہائی کورٹ کے سارے ججوں کو ہٹا کر اپنے نامزد کردہ جج تعینات کر دیے۔ اس عمل کا نتیجہ عدلیہ اور انتظامیہ کے بیچ دور باشی کی صورت نکلا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات ماننے اور وکلاء نے پیپلز پارٹی کے تعینات کردہ ججوں کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ عدلیہ کا پورا نظام جام ہو کر رہ گیا تھا۔
اس کے بعد 1997ء سے 1999ء کے دوران نواز شریف کے دور حکومت میں اس سے بھی بدتر صورتحال پیدا ہوئی۔ نواز حکومت نے پیپلز پارٹی سے بھی دو قدم آگے نکل کر عدلیہ پر قدغن لگانے کی کوشش کی۔ ہوا یوں کہ سپریم کورٹ نے نواز حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ایک قانون کو چیلنج کر دیا۔ اس قانون کے تحت پولیس کو ماورائے عدالت قتل پر مطلق امان اور عفو عام مل گیا تھا۔ عدالت کے اس اقدام پر نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف تند خو مہم کا آغاز کر دیا جس کے دوران مسلم لیگ کی قومی قیادت، کارکنوں کے ہمراہ سپریم کورٹ کی عمارت پر چڑھ دوڑی تھی۔ 1997ء کے اواخر تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اس وقت کے صدر فاروق لغاری کے ہمراہ اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ صدر فاروق لغاری عدلیہ کی آزادی کے حامی تھے۔
نوے کی دہائی میں عدلیہ کے خلاف دونوں ہی قومی جماعتوں کی مہمات کے بعد 2007ء میں پاکستانی اور مغربی میڈیا کے چیدہ تبصرہ نگاروں کے لیے مشرف حکومت کا عدالت عظمیٰ کے ساتھ ٹکراؤ سمیٹ کر بیان کرنا قدرے عجیب صورتحال بن چکا تھا۔ مزید یہ کہ وکلاء تحریک نے تو گویا رنگ میں بھنگ ڈال دیا کیونکہ عدلیہ کے حق میں جاری اس تحریک کو دونوں ہی جماعتوں یعنی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ اسی سبب، محسوس ہوا کہ وکلاء کی یہ تحریک دراصل جمہوریت کی واقعی بحالی کی طرف ایک اہم قدم بن سکتی ہے۔ ایسا لگا کہ صدر مشرف نے 'آمریت' کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدلیہ پر جو قدغن لگایا ہے، اس کے خلاف سیاسی اور عوامی حلقے یک جان ہو کر آن کھڑے ہوئے ہیں اور یہ کسی بھی مرحلے پر ملک میں جانی پہچانی اقتدار اور طاقت کے حصول کی جنگ محسوس نہیں ہوئی۔
پاکستان میں ہر فوجی اور سویلین حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب بھی کبھی اس عمل میں ناکام ہوئے یا عدلیہ نے جوابی آنکھیں دکھائیں تو تقریباً سب حکمرانوں نے ہمیشہ ہی عدلیہ کو غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات سے دھمکانے کی کوشش کی ہے۔ 2007ء سے 2009ء تک جاری رہی عدلیہ کی خود مختاری کا دفاع کرنے والی اس تحریک سے اس کے حمایتیوں نے کافی زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ ایک نئے دور اور ملک میں اساسی تبدیلی کا آغاز ہے۔ تاہم، مسئلہ یہ ہے کہ 2009ء تک عدلیہ اور وکلاء کسی حد تک اس تحریک کے سیاسی حامیوں کے بیچ بٹ چکے تھے۔ عدلیہ کا پلڑا نواز شریف کی جانب جھکا ہوا تھا اور وکلاء کے دھڑے مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین کے حامی بن چکے تھے۔
اس سیاسی بھیڑ چال کا نتیجہ یہ نکلا سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو معطل کر دیا اور پیپلز پارٹی کے وزراء کے خلاف بدعنوانی کے تحت قائم کیے گئے مقدمات کو دوبارہ کھول دیا۔ اس اقدام پر عدلیہ کو ملک کے لبرل حلقوں، بالخصوص صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے، یہ لبرل صحافی اور تجزیہ کار اس سے قبل مشرف دور میں عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کے حق میں رونا روتے اور اس بارے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے قریبی حلقے جو عام طور پر لبرل واقع ہوئے ہیں، انہوں نے ملک میں عدلیہ اور فوجی گٹھ جوڑ کی سازشوں کا واویلا مچا دیا۔ یہی نہیں بلکہ ان حلقوں نے عدلیہ اور قومی میڈیا کو دوبارہ سے 'سدھانے' کی ضرورت پر بھی زور دینا شروع کر دیا۔
جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، نواز شریف نے 1997ء میں اپنے دور حکومت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس کو غیر آئینی اور پرتشدد طریقوں سے اپنے عہدے سے الگ کیا تھا۔ غالباً اس کے بعد پیش آنے والے قومی معاملات کا نتیجہ ہے کہ نوازشریف کا رویہ اب یکسر بدل چکا ہے یا شاید اب بھی ویسے کا ویسا ہی ہے۔ اگرچہ نواز شریف اس وقت (2010ء میں) عدلیہ کے سیاسی حمایتی ہیں لیکن یہ عین ممکن ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو سپریم کورٹ ان کے خلاف بھی بدعنوانی، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کا پنڈورا باکس پھر سے کھول دے۔۔۔ یا شاید ایسا نہ کرے۔ بات یہ ہے کہ وکلاء تحریک کے بعد عدلیہ کچھ بھی کر گزرنے یا کچھ بھی نہ کرنے میں خود مختار ہو چکی ہے۔ ریاست کے اس ستون کے حوالے سے ممکنات کا دائرہ خاصا وسیع ہو چکا ہے۔ قصہ مختصر، وکلاء تحریک عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے امید پیدا کرنے میں تو کامیاب رہی ہے لیکن اس ضمن میں کوئی بھی شے یقینی نہیں بنا پائی۔
وکلاء تحریک کو اگر ترقی پسند قوتوں کی سوچ سمجھ بھی لیا جائے تو اس کی کامیابی کے لیے اہلیت پھر بھی ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ نامور لبرل وکلاء جیسے کراچی میں منیر ملک اور لطیف آفریدی وغیرہ اس تحریک کے راہبروں میں شامل تھے تاہم مقامی سطح پر اس تحریک کی قیادت، رینک اور فائل وغیرہ وکلاء کے سخت قدامت پسند طبقے کے ہاتھ میں تھی۔ یہ قدامت پسند طبقہ مشرف کے امریکی اتحاد میں شامل ہونے کے فیصلے اور بھارت کے ساتھ مفاہمتی ایجنڈے کے سخت خلاف رہا ہے۔ جیسے، محمود اشرف خان نے بتایا:
'میں بھی تحریک طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہوں۔ طالبان نے افغانستان میں لوگوں کی خواہش کے عین مطابق امن اور انصاف قائم کیا۔۔۔ پاکستان میں بھی طالبان نے شریعت نافذ کروائی اور انہوں نے اغواء، منشیات کی سمگلنگ اور ایسے ہی دوسرے جرائم پر سخت سزائیں دیں۔ طالبان ہمیشہ سے ہی پاکستان کے وفادار رہے ہیں اور یہ دہشت گرد حملے ان کا کام نہیں ہے۔۔۔ اگر وہ ایسا کر بھی رہے ہیں تو یہ حکومت کی اپنی غلطی ہے۔ یہ حکومتی زیادتیوں۔۔۔ جیسے لال مسجد میں قتل عام کا ردعمل ہے۔ اگر آپ کے خاندان کے لوگ اور ساتھی قتل کر دیے جائیں اور ملک کا عدالتی نظام آپ کو انصاف بھی نہ دلوا سکے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ آپ مڑ کر وار نہیں کریں گے؟ لال مسجد میں ہزاروں بے گناہ عورتوں کا قتل عام ہوا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ آپریشن اور دھماکے وغیرہ اصل میں یہودیوں اور عیسائیوں نے کروائے ہیں تا کہ پاکستان میں خانہ جنگی پھیل جائے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان لڑکیوں کے سکول جلا دیتے ہیں لیکن ایسے واقعات میں طالبان کا کم ہی ہاتھ نظر آیا ہے۔ اس طرح کے کام اکثر بیرونی طاقتیں کرواتی ہیں تا کہ طالبان کو بدنام کیا جا سکے۔ افغانستان میں بھارت کی درجن سے زیادہ کونسلیٹ دفتر ہیں۔۔۔ ان کا کیا کام ہے؟ وہ کرزئی حکومت کی امداد نہیں کر رہے بلکہ طالبان کے اندر دھڑوں کو شہ دے رہے ہیں تا کہ پاکستان کو تباہ کیا جا سکے۔۔۔'
چنانچہ، اگر پاکستانی عدالتیں شدت پسندوں اور مشتبہ دہشت گردوں کو بالآخر چھوٹ دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں تو اس کی وجہ صرف ثبوتوں کی کمی یا شدت پسندوں اور حکومت کی جانب سے ڈرانا اور دھمکانا نہیں ہے۔ ملک کی عدلیہ میں، ججوں اور وکلاء میں بھی عام طور پر شدت پسند حلقوں اور دہشت گرد عناصر کے لیے کہیں نہ کہیں ہمدردی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جنوری 2011ء میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے پولیس ہی سے تعلق رکھنے والے محافظ کے ہاتھوں قتل اور اس کے بعد عدالتی احاطوں اور کمروں میں مقدمے کی کاروائی کے دوران پیش آنے والے واقعات ہیں۔
میرے لیے اس موقع پر یہ کہنا انتہائی ضروری ہے کہ چاہے قدامت پسند وکلاء جیسے محمود اشرف خان ہوں یا وکلاء میں لبرل حلقوں کے نمائندہ جیسے منیر ملک وغیرہ ہوں۔۔۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ کئی معاملات پر گفتگو کے دوران یہ دونوں ہی منطق، معقولیت اور مکالمے میں دلیل اور ثبوت کے اصولوں سے پھر جاتے ہیں۔ گویا انہیں اس کا ادراک ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ اکثر معقولیت اور منطق سے بیر رکھتے ہیں۔ ان کا معاملہ بھی پاکستان کی تقریباً آبادی جیسا ہی ہے لیکن بات یہ ہے کہ یہ دونوں پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں ہی سینئیر وکیل ہیں۔ منیر ملک کو بھی یہی یقین تھا کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور دوسرے ممالک مل کر پاکستانی طالبان کو شہ دیتے ہیں اور وہی اس ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم، منیر ملک اپنے اس دعویٰ اور قطعی یقین کی وجوہات بیان کرنے سے قاصر تھے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ سب نہایت اہم ہے۔ بلکہ پاکستان میں ترقی کے لیے اس طرح کی تحاریک توانائی کا کام کر سکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وکلاء کی یہ تحریک واقعی عوامی سطح پر اصلاحات کی ایک مہم ہے یا پھر یہ بھی وہی پرانی گھسی پٹی روایت کی ایک نئی کڑی ہے جس میں پوری قوم کسی جادو کی چھڑی کی تلاش میں نکلی ہوئی ہے۔ ایک ایسی روایت جو کوئی سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی بجائے بیٹھے بٹھائے، معجزانہ طور پر اس ملک کو درپیش مسائل کا حل نکال کر دے اور تبدیلی کا مظہر بنے؟ نیو یارک ٹائمز کے جس تبصرے کا حوالہ اوپر دیا گیا تھا، اسی آرٹیکل میں جیمز تارب نے ایک احتجاجی مظاہرے میں شامل وکلاء کے بارے یہ بھی لکھا تھا کہ وہ اپنے مقاصد کے بارے 'بظاہر بدحواسی اور خلل' کا شکار ہیں۔ اس مظاہرے کے دوران بلند کیے جانے والے نعرے اور جگہ جگہ آویزاں بینروں کو دیکھ کر بھی یہی گماں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ملتان کی بار ایسوسی ایشن کے دفتر پر ایک بڑا بینر آویزاں تھا، جس پر لکھا تھا۔۔۔ 'چیف جسٹس کی بحال کراؤ، پاکستان کو نجات دلاؤ!'۔ اسی طرح ایک دوسرے بینر پر جلی حروف میں تحریر تھا، 'آزاد عدلیہ کا ایک ہی نشان۔۔۔ مسائل سے چھٹکارا، امن اور امان!'۔
وکلاء تحریک سے متعلق 2010ء میں مجموعی صورتحال زیادہ اچھی نہیں تھی۔ بلکہ اس بارے حوصلہ شکنی پائی جاتی تھی۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ عام پاکستانیوں کی اکثریت نے وکلاء تحریک کا ساتھ ان کے ایجنڈے کی وجہ سے نہیں دیا تھا بلکہ اس وقت ملک میں یہ تحریک واحد قوت نظر آ رہی تھی جو عوام کی مشرف حکومت سے نفرت کی ترجمان تھی۔ بعد ازاں مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد عوام کی یہ نفرت صدر زرداری کی حکومت کے لیے مختص ہو گئی۔ عوام کسی بھی طرح سے وکلاء کو بحیثیت ایک کلاس، پسند نہیں کرتے اور ریاست کے عدالتی نظام سے بدستور جوں کے توں نالاں ہیں۔
مزید براں یہ کہ عوام نے درحقیقت وکلاء تحریک کی روشن خیال اور لبرل ایجنڈے پر حمایت نہیں کی کیونکہ اس تحریک کا ایسا کوئی ایجنڈا کبھی رہا ہی نہیں ہے۔ وکلاء کا اصل مقصد تو عدلیہ کی آزادی، طاقت کا حصول اور عزت کمانا تھا۔ یہ تینوں ہی مقاصد اصولی طور پر انتہائی دلکش ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاستی عدلیہ ایک انتہائی کمزور اور نقائص سے بھرپور ریاستی ادارہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ عوام کی اکثریت اس کی کارکردگی سے سخت متنفر ہے۔
بدقسمتی سے اس تحریک میں شامل افراد جیسے اشرف خان وغیرہ انفرادی سطح پر اپنے تئیں عدلیہ میں اصلاحات سے متعلق کئی بیش قیمت تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں لیکن مجموعی طور پر وکلاء تحریک عدلیہ اور وکلاء کے تنظیمی ڈھانچوں میں ان اصلاحات بارے سنجیدگی پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر وکلاء تحریک طویل مدت میں عوام کی حمایت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس بارے تحریک کی قیادت اور عدلیہ کو سنجیدگی سے سوچنے کی سخت ضرورت ہے لیکن بات یہ ہے کہ اس طرح کی اصلاحات خود عدلیہ اور وکلاء کے کئی دھڑوں کے لیے غیر مانوس اور بے چینی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ اس تحریک کی قیادت اور کارکنان سے میری جب بھی کبھی گفتگو رہی ہے، اس بارے اٹھائے گئے سوالات پر ان کا ردعمل ایسا تھا جیسے وہ اس نکتے کو سمجھنے سے قطعی قاصر تھے۔ ایسی صورتحال میں قیادت اور کارکنان کو تحریک بارے عدلیہ اور وکلاء کے تنظیمی ڈھانچوں میں اصلاحی ایجنڈے کی اہمیت کا اندازہ ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔ ان کے لیے یہ تحریک کی بقاء اور مثالیت کے لیے سرے سے کوئی شے ہی نہیں تھی۔
چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے دور میں، بالخصوص بحالی کے بعد تو 'سو موٹو نوٹس' یعنی از خود اقدامات کا انبار لگا دیا ہے۔ وہ گاہے بگاہے انفرادی اور نچلی سطح کے معاملات اور بگاڑ بارے از خود اقدامات کے ذریعے خاصے متفکر نظر آتے رہے ہیں۔ انہوں نے انہی اقدامات کے تحت پولیس افسران، بیوروکریٹوں اور محکماتی اور ادارہ جاتی حکام کو عدالت میں بلوا کر اور ان کی عزت نفس مجروح کر کے عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے تئیں قانون کی بالادستی کے بھی حامی نظر آتے ہیں لیکن یہ سنجیدگی صرف ان قوانین سے متعلق ہے جو ان کی اپنی سوچ اور پسند کا مظہر ہیں۔ چیف جسٹس کے کام کرنے کا ذاتی طریقہ کار ہے جو بلا شک و شبہ آمرانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا آمرانہ رویہ وکلاء تحریک کی قیادت کے وہ سربراہان جن سے میری گفتگو رہی، ان کے طرز عمل اور سوچ میں بھی دیکھنے میں آیا تھا اور اس میں لبرل یا قدامت پسند کی کوئی تفریق نہیں تھی۔



یہاں ایک دفعہ پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تحریک واقعی نظام میں تبدیلی کی کوشش تھی یا افتخار چوہدری (اور ممکنہ طور پر آئندہ آنے والے چیف جسٹس صاحبان) بھی اس تحریک کے ثمرات کے نتیجے میں وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو عام طور پر سیاستدان اور ان کے نمائندگان پاکستان کے کسی بھی سیاسی دفتر میں کھیل کی صورت کھیلتے آ رہے ہیں۔ یعنی، سیاستدان عام آدمی کی کسی بھی انتظامی مسئلے میں مدد کرتے ہیں اورپھر اس مدد کے عوض سیاسی حمایت بٹورتے رہتے ہیں۔ مزید براں یہ ہے کہ 2009ء سے چیف جسٹس افتخار چوہدری اور اعلیٰ عدلیہ کے دوسرے جج صاحبان از خود اقدامات اور انتظامی احکامات کا جس طور اور جس تواتر سے استعمال کرنا شروع ہوئے تھے، وہ ان کی آئینی اور قانونی حیثیت اور اہلیت سے کہیں باہر تھا۔ مثال کے طور پر ملک کی عدالت عظمیٰ نے حکومت کو بازاروں میں بنیادی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے کا بھی حکم دیا تھا۔ اگر یہ رجحان اسی طور جاری رہا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ عدالتیں ہمیشہ ہی ہر حکومت کے متصادم رہیں گی اور اس ضمن میں یہ بات یاد رہے کہ ہم قطعی طور پر نہیں جانتے کہ مستقبل میں عوامی حمایت اور ہمدردیاں کس کے ساتھ رہیں گی؟
وکلاء تحریک کے بعد عدلیہ میں نچلی سطح پر وکلاء اور وکلاء کے دھڑوں نے اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا ہے۔ یہ گاہے بگاہے اپنی رائے اور طاقت کا واقعی اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ رائے کے اس اظہار پر بالجبر تھونپنے کا گمان ہوتا ہے۔ وکلاء تحریک کے دوران، وکیل مخالفین کو پیٹتے اور پولیس کے ساتھ گتھم گتھا نظر آئے تھے لیکن اب بھی وکلاء تنظیموں اور انفرادی سطح پر وکیلوں کا یہی طور جاری ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی اور مشرف کے استعفیٰ نے گویا مہمیز کا کام دیا ہے اور وکلاء اسے اپنی فتح کے علاوہ انفرادی سطح پر، یہاں تک کہ مقدمات کی کاروائی کے دوران بھی اس تشدد کو جاری رکھنے کا لائسنس سمجھتے ہیں۔ اگست 2009ء میں جب میں لاہور میں ہی تھا۔۔۔ پتہ چلا کہ وکلاء کے ایک گروہ نے کسی پولیس افسر کے ساتھ مار پیٹ کی اور اسے شدید زخمی کر دیا۔ اس تشدد کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس پولیس افسر نے عدالت میں ان وکلاء کے موکل کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی۔ جب یہ خبر ٹی وی پر نشر ہوئی تو اس واقعہ کے اگلے ہی دن وکلاء نے اس خبر کے پیچھے اس ٹی وی چینل کے رپورٹر اور کیمرہ مین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور ساز و سامان توڑ پھوڑ دیا۔ اسی طرح ملک بھر سے جج حضرات کی جانب سے توہین عدالت کے قانون کے استعمال میں اضافہ ہو گیا ہے اور اسی قانون کی مدد سے پریس اور عدلیہ کے نقادوں کا منہ بند رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی قانون کے تحت کئی اہم سرکاری اور غیر سرکاری عہدے داروں کو عدالتوں میں ججوں کے سامنے نہ صرف ہزیمت اٹھانی پڑی ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے میرے ایک دوست نے اس سارے معاملے کو خشک مزاجی سے کچھ یوں سمیٹا تھا،
'تو آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ فوج کے پاس وردی اور بندوق ہے، جس کے بل بوتے پر وہ لوگوں کو پیٹتے ہیں۔ پولیس کے پاس بھی ہے۔ یہ وکیل بھی کالا کوٹ پہن کر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس ملک میں جس کے ہاتھ طاقت اور اختیار لگ جائے تو وہ یہی کرتا پھرتا ہے۔۔۔'

سرورق: اسلام آباد میں معزول چیف جسٹس کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج کے دوران ایک وکیل، پولیس کی شیلنگ سے بھاگتے ہوئے / ٹائم / 2007ء


-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر