پولیس


پاکستان میں پولیس اور عدالتی نظام کی کارکردگی جن مسائل سے متاثر رہتی ہے، اس کا احاطہ کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔ لیکن، اگر ان مسائل کی وجہ کو ایک لفظ میں بیان کرنا پڑے تو وہ 'برادری' ہو گا۔ وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس افسر نے اس نکتے کو کچھ یوں سمجھایا،
'کسی بھی کنبے اور خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ سختی سے جڑے ہوتے ہیں۔ چنانچہ، اگر آپ کسی ایک شخص کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلانا چاہیں تو غالباً آپ کو اس ایک شخص کی بجائے دس افراد کو گرفتار کرنا پڑے گا یا دھمکانا ہو گا۔ سب سے پہلے تو کسی بھی جرم میں مشتبہ اس شخص کو گرفتار کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد اسی کنبے کے تین افراد کو جھوٹی گواہی کے جرم، مزید تین کو پولیس اور ججوں کو رشوت دینے کے جرم اور تین وہ ہوں گے جو گواہوں کو دھمکائیں گے۔ انہیں بھی گرفتار کرنا پڑے گا۔ اگر یہ خاندان اثر و رسوخ کا حامل ہے تو پھر آپ بے شک کسی دوسرے دور دراز تھانے یا ضلع میں ٹرانسفر کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔ یوں، مجھ سے پوچھیں تو سب سے آسان حل یہی ہے کہ کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔
آپ ابتدائی تفتیشی رپورٹ یا 'ایف آئی آر' کی مثال لیں۔ فرض کریں، دو افراد یا برادریوں کے بیچ لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے اور قتل وغیرہ بھی ہو جائے ۔ اب یہ ہو گا کہ مقتول کے وارثین کسی ایک تھانے میں اس بہیمانہ زیادتی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دیں گے۔ مخالف فریق ، کسی دوسرے تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دے گا کہ ، اصل میں توان پر حملہ ہوا تھا ۔ انہوں نے تو دفاع میں جارحیت سے کام لیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ہی درست کہتے ہوں؟ پولیس اور عدالتیں ان دونوں ہی رپورٹوں کے بیچ جھول کر ثبوت اور گواہی کی بنیاد پر حقیقت تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ ثبوت اور گواہی کا حال یہ ہے کہ ہر شے، ہر ہر شے جھوٹی ہوتی ہے ۔ یہ گواہیاں اور ثبوت کبھی ایک اور کبھی دوسرے کے حق میں جھولتے رہتے ہیں۔چنانچہ، مقدمہ چلتا ہی رہتا ہے یا پھر اس فریق کے حق میں فیصلہ آ جاتا ہے جو بڑھ کر اثر و رسوخ اور طاقت رکھتا ہے۔



اب فرض کریں، اگر کوئی مقدمہ ایسا ہو کہ جس میں کسی بھی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے اور آپ کو صاف پتہ ہو کہ اصل میں ہوا کیا تھا؟ یہاں بھی معاملات اتنے آسان نہیں ہوتے۔ آپ کو مجرم کو گرفتار کرنے کے لیے اس کے پورے خاندان اور مقامی سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات کرنے پڑتے ہیں۔ انہیں قائل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے۔۔۔ اگر معاملہ گرفتاری تک پہنچ جائے تو پھر اس کے لیے کچھ نہ کچھ تو بدلے میں چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔ تو، ایسے مقدمات میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ مجرم کا خاندان اس کے بدلے میں کسی دوسرے مقدمے کا سہارا لیتا ہے جس میں انہیں مخالف فریق کے کسی آدمی کو جانے دیا جاتا ہے۔ یہ تو بہت ہی عام بات ہے۔ ہمارے یہاں اسے 'مک مکا' کہا جاتا ہے۔۔۔'
پولیس اور عدالتوں کے لیے مسائل کی ابتداء جھوٹ سے ہوتی ہے۔ حیران کن طور پر۔۔۔ یا کم از کم میرے لیے یہ امر حیرانگی کا باعث ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں قران پر ہاتھ رکھ کر گواہی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس سے مراد، زبانی قران کی قسم نہیں بلکہ قران کے اصل نسخے پر ہاتھ رکھ کر گواہی دینا ہے۔ میں نے سید منصور احمد، جو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔۔۔ اس کی وجہ پوچھی تو شگفتگی کے ساتھ مسکرا کر بولے ، 'یہ نہایت سادہ بات ہے۔ لوگوں کی اکثریت قران پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائے گی لیکن پھر بھی جھوٹ بولیں گے۔ اس امر سے مذہب کی بدنامی ہوتی ہے اور پاکستان میں مذہب کی بدنامی کی اجازت دینے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔۔۔'
انگریز دور میں بھی افسران اور شعبہ کے ماہرین نے اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی اور پھر اسے نظام سے منسوب کر لیا۔ تاویل یہ دی گئی کہ اس خطے میں جدید عدالتوں کا موازنہ مقامی جرگوں اور پنچایتوں سے کیا جاتا ہے۔ جرگوں اور پنچایتوں میں تو ہر شخص دوسرے کو اچھی طرح جانتا ہے اور کسی بھی مقدمے کے بنیادی حقائق سے واقف ہوتا ہے اور جھوٹ بولنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔ جنرل سر ولیم سلی مین کے الفاظ میں، جو کہ ٹھگی اور ٹھگ پیشوں کے طریقوں کے خلاف مہم سازی میں اہم کردار رکھتے ہیں۔۔۔ لکھتے ہیں،
'مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی اپنے مقامی سماجی حلقوں میں اسی قدر جھوٹ بولتے ہیں جتنا کہ دنیا بھر میں کسی بھی علاقے، معاشرے اور آبادی میں اس کا تناسب ہوتا ہے۔ یہ تو صرف ہماری عدالتیں ہیں جہاں جھوٹی گواہیوں کی شرح بہت ہی زیادہ ہے۔ یہاں کسی بھی علاقے میں جو عدالت جتنی پرانی ہو گی، اس عدالت میں غلط بیانی کا تناسب بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔'
انگریز دور کے ایک افسر ڈینزل ایبسٹن تھے۔ یہ زبردست انتظام کار گزرے ہیں اور کارنامہ پنجاب کا نژاد نامہ اور نسلی نگاری ترتیب دینا ہے۔ وہ عام اور روزمرہ معاملات میں مقامی بلوچوں کی ایماندرای اور صاف گوئی کا تو دم بھرتے ہیں لیکن انگریزی عدالتوں میں بے انتہاء غلط بیانی اور تہہ در تہہ جھوٹ کا ذکر بھی کرتے ہیں۔
یہاں یاد رہے کہ زیادہ تر معاملات میں لوگ ریاستی عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں اور جھوٹ کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل ہی نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے اپنے خاندان، کنبے یا برادری کا ساتھ دینے اور اپنوں کو تحفظ دینے کی قدیم روایت کی پاسداری قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اس ضمن میں اہم 'جاگیردار' سیاستدان اور کسی معمولی مزارعے یا مزدور میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سب ہی اپنی حیثیت اور وسائل کے مطابق جہاں تک ممکن ہو پولیس اور عدالت کو دھوکہ دینے، بگاڑنے اور دباؤ ڈالنے میں اپنے رشتہ داروں، قرابت داروں اور اتحادیوں کی مدد کرتے ہیں۔ دباؤ سے مراد طبعی ، جسمانی اور زیادہ تر سیاسی اثر و رسوخ ہوتا ہے۔
یہ صرف نچلی سطح کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بات بہت اوپر تک جاتی ہے۔ 2009ء کی بات ہے۔ میں پاکستان کے ایک صوبے کے محکمہ پولیس کے انسپکٹر جنرل کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ اسی اثناء میں صوبہ کے وزیراعلیٰ کا فون آ گیا۔ وہ صاحب پولیس انسپکٹر جنرل پر اتنی زور و شور سے دھاڑ رہے تھے کہ میں کئی فٹ دور بیٹھ کر بھی فون کے ریسیور میں شور سن سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب کسی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی شکایت لگا رہے تھے، جس نے ان کی جماعت کے ایک اہم رہنماء کی کوٹھی سے کسی ڈاکو کو گرفتار کر لیا تھا۔
انسپکٹر جنرل پولیس کافی دیر تک نہایت بیچارگی کے ساتھ وزیراعلیٰ کو اس ضمن میں تفصیلی انکوائری، ڈاکو کی فی الفور رہائی اور گستاخ پولیس افسر کی دوسرے ضلع میں تبادلے کی یقین دہانی کرواتے رہے۔ یاد رہے، اس صوبے کا وزیراعلیٰ عام طور پر ملک میں اپنی اہلیت، پھرتی، محنت کشی اور قدرے ایمانداری کے لیے مشہور ہے۔ پنجاب کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے مجھے بتایا تھا کہ صوبے کے 648 تھانوں میں آدھے تھانیدار مقامی سیاستدانوں کی مرضی سے، صوبائی حکومت پر دباؤ ڈال کر تعینات کروائے گئے ہیں۔ یہ تھانیدار اپنے تھانوں کی حدود میں ان سیاستدانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
مزید براں یہ کہ عدالتی نظام نہ صرف یہ کہ سیاسی طور پر تعاملی واقع ہوا ہے بلکہ یہ ایک ہتھیار کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ لوگ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بہت بڑی تعداد میں جھوٹے مقدمات درج کرواتی ہے اور حکومتی جماعت اس ضمن میں چار قدم آگے نکل کر مخالفین کو ریاستی وسائل کے بل بوتے پر عدالتوں میں بھی گھسیٹتی ہے۔ انہی جھوٹے مقدمات کو ملک کے انٹیلی جینس ادارے، بالخصوص آئی ایس آئی اکثر ہی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ادارے، انہی مقدمات کے ذریعے پارلیمانی امیدواروں کو انتخابات سے علیحدگی یا سیاسی جماعتوں سے وفاداریاں بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ ایسی صورتحال ہے جس میں ہر دم دروغ گوئی، ناراستی اور سیاسی دباؤ سے کام لیا جاتا ہے۔ اب دنیا کی چاہے سب سے بہترین، فاواں ساز و سامان سے لیس، بہترین تنخواہوں کی حامل اور انتہائی منظم پولیس بھی ایسے دباؤ کا شکار ہو جائے گی کہ اس کے لیے اصل کام یعنی کار سرکار سر انجام دینا ناممکن ہو گا۔ پاکستانی (اور بھارتی!) پولیس تنظیم اور استعداد میں بہت ہی پیچھے ہے اور سخت دباؤ کا شکار ہے۔
اگست 2008ء میں، جب میں پشاور میں تھا تو ایک عام پولیس اہلکار کو درپیش مسائل اور سخت ماحول کا ادراک ہوا۔ پشاور کے مضافات میں ایک تھانے میں جانا ہوا۔ اس تھانے کی حدود میں صرف 2008ء میں 18 قتل رپورٹ ہو چکے تھے۔ میں نے اس تھانے میں تفتیشی سیکشن کے سربراہ، ایک سب انسپکٹر سے بات چیت کی۔ ہم نے تھانے میں اس کے دفتر کی بجائے اس کمرے میں بیٹھ کر بات کی جہاں تھانے کے سبھی اہلکار دوران ڈیوٹی کھاتے اور سویا کرتے تھے۔ یہ جگہ کسی انتہائی خستہ حال، کسی کچی آبادی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ دیواریں کھرچی ہوئی تھیں اور چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ جس وقت میں وہاں موجود تھا، بجلی بھی نہیں تھی اور سخت گرمی میں ظاہر ہے، عام پولیس اہلکاروں کو جینریٹر کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ مون سون کے اس موسم میں صرف یہ کمرہ ہی نہیں بلکہ پورا تھانہ پسینے اور سڑانڈ کی حبس سے بھرا کنواں بنا ہوا تھا ۔ پولیس اہلکاروں کی وردیاں چاروں دیواروں پر کھونٹیوں پر ٹنگی ہوئی تھیں اور ایک کونے میں شیو کا سامان اور آئینہ بھی رکھا ہوا تھا۔ اس تھانے میں چند میزوں، کرسیوں، دو الماریوں اور تین چارپائیوں کے سوا مزید کوئی فرنیچر نہیں تھا۔
سب انسپکٹر پکی عمر ، بھاری بھرکم جسامت اور دیکھنے میں سخت جان نظر آتا تھا۔ اس کے ہاتھ اتنے بڑے تھے کہ مکا بناتا تو دیکھ کر خوف آتا کہ جو ان ہاتھوں سے تفتیش کے دوران پٹتا ہو گا، اس کا کیا حال ہوتا ہو گا؟ میں نے اس سے پوچھا کہ صوبہ سرحد میں پولیس کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟ اس سوال پر وہ نہایت تلخی سے ہنسا اور بولا،
'کہاں سے شروع کیا جائے؟ سب سے پہلے تو تنخواہیں اور معاشی تحفظ ضروری ہے۔ موٹروے پولیس کو دیکھ لیں، سب یہی کہتے ہیں کہ موٹروے پولیس نہایت ایماندار اور محنت کش ہے۔ وہ کیوں نہ ہو؟ انہیں ہم سے دگنی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ ہمیں اچھی رہائش اور کام کرنے کے موزوں جگہ بھی درکار ہے۔ اس تھانے کا حال دیکھ لیں۔ ہمیں تیز رفتار گاڑیوں، موثر ریڈیو سسٹم، ہتھیاروں اور بلٹ پروف جیکٹوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔ آپ ہی بتائیں، کیا دنیا میں کہیں بھی پولیس کا ادارہ ان سب سہولیات کے بغیر موثر کام کر سکتا ہے؟ جو تنخواہ ہمیں ملتی ہے، پکیا آپ اس تنخواہ میں طالبان کے خلاف لڑائی میں اپنی جان گنوانے کا سوچ سکتے ہیں؟'
سب انسپکٹر نے مزید بتایا کہ اس وقت صوبہ سرحد میں صرف ایک فنگر پرنٹ مشین ہے۔ اس بارے افسران نے بھی بعد میں نہایت صاف گوئی سے تصدیق کی کہ یہ مشین بے کار ہے کیونکہ اول تو صوبے میں انگلیوں کے نشانات کے ذخیرہ کو وثق کی صورت جمع کرنے کی سہولت ہی نہیں ہے۔ دوم، پولیس کو اس مشین کے استعمال کرنے کا طریقہ آتا ہے اور نہ ہی آج تک کسی نے سنجیدگی سے پولیس کو فنگر پرنٹ حاصل کرنے کی ٹریننگ دی ہے۔ یہ امر پنجاب کے ایک بڑے حصے اور اندرون سندھ کی پولیس کے بارے بھی یوں ہی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ پاکستانی پولیس کو کسی بھی وقوعہ پر شہادتوں کو محفوظ کرنے کی بنیادی ٹریننگ بھی حاصل نہیں ہے اور یہ امر صرف دیہی یا دور دراز علاقوں کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ملک کے دارالحکومت اور وزارت داخلہ کی سپیشل سروسز، انٹیلی جینس بیورو بھی اس شعبے میں کوری ہے۔ پولیس کی وگرگوں تفتیشی صلاحیت سے متعلق یہ حالت بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کھل کر سامنے آ گئی جو نہایت شرمناک تھی اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بنی۔ وقوعہ پر تمام ثبوت اور شہادتیں دو گھنٹے کے اندر دھو دی گئی تھیں اور بعد میں اسی سبب بیسیوں سازشی نظریے گھڑ لیے گئے تھے جو آج تک ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔
مناسب ٹریننگ اور موزوں ساز و سامان کی قلت تو ایک طرف، اس ملک میں پولیس کی نفری کی بھی سخت کمی ہے۔ پاکستان میں ہر جگہ۔۔۔ سرکاری املاک، حکام اور سیاستدانوں کی حفاظت پر مامور پولیس کی تعداد کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ شاید پولیس کی نفری اور طاقت بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح، اگر بڑے شہروں میں ضرورت پڑے تو مضافاتی علاقوں سے بھی پولیس کی بھاری نفری فوراً ہی طلب کی جا سکتی ہے لیکن دیہی علاقوں اور بالخصوص پنجاب کے دیہہ میں عام طور پر اوسطاً پچاس گاؤں کے لیے ایک تھانہ ہے۔ بھارت میں تو یہ اوسط اس سے بھی بدتر ہے۔ پاکستان بھر میں جن پولیس اہلکاروں کے ساتھ آج تک بات چیت کا موقع ملا ہے، ان میں شاذ و نادر ہی کسی کو علاقے میں آبادی سے متعلق درست معلومات تھیں بلکہ انہیں تو پچھلے ایک برس میں اپنے علاقے میں پیش آنے والے جرائم کی تعداد اور دوسرے اہم واقعات بارے بھی پوری طرح علم نہیں تھا۔
نتیجہ یہ ہے کہ مراعات نہ ملنے کے ساتھ ساتھ روایتی سستی اور ملک میں گرم موسم کی سختی کی وجہ سے پولیس زیادہ تر ردعمل دکھانے میں ہی مصروف رہتی ہے۔ آپ پاکستان میں آگ بجھانے والی گاڑیوں اور ایمبولینسوں کی طرح کبھی بھی پولیس کی گاڑیوں کو تیزی سے کسی سمت جاتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔کسی سیاستدان، جج یا سینئیر افسر کے قافلے میں پولیس گاڑیاں دوڑانا یا کسی وقوعہ کی جانب کسی بڑے افسر کا بذات خود سرعت سے جانا علیحدہ بات ہے۔ عام طور پر، پولیس اہلکار تھانے میں ہی بیٹھے مقدمات کے درج ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور قتل کے معاملات میں تو اکثر و بیشتر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ وارثین کو مقتول کی لاش اٹھا کر چوک میں احتجاج کرنا پڑا اور اکثر تھانے بھی لے جانی پڑی تا کہ پولیس کو اطلاع ہو سکے۔ اس طرح ظاہر ہے کہ اگر پولیس کو بہترین ٹریننگ حاصل بھی ہو تو وقوعہ اور جرم سے متعلق دوسری تفصیلات کی فورینزک اہمیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔چونکہ پاکستانی آبادی کی اکثریت ان پڑھ ہے، پولیس اہلکار جو چاہیں اپنی مرضی سے ایف آئی آر میں کسی بھی جرم کی تفصیلات درج کر سکتے ہیں اور گواہوں سے اس کی تصدیق بھی کروا سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر پولیس کو پیسہ یا کوئی دوسرا مالی فائدہ نظر آئے تو وہ سرے سے مقدمہ درج ہی نہیں کرتے۔
پاکستانی پولیس کے تفتیشی طریقہ کار میں ایک اہم اور خاصی متنازع تکنیک تشدد کا استعمال ہے۔ عام طور پر کسی بھی مقدمے میں ملزم، اس کے رشتہ داروں اور گواہوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس بارے پولیس اہلکار، بشمول سینئیر افسران بھی خاصے صاف گو واقع ہوئے ہیں اور اس بارے تنقید کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے ایک سینئیر افسر نے بتایا:
'میں صوبے میں فنگر پرنٹنگ، فورینزک جانچ پڑتال اور دوسری جدید تکنیکوں کو متعارف کروانا چاہتا ہوں لیکن پولیس کے محکمے میں ابھی تک پرانا کلچر ہے۔ تھانیدار اور نچلی رینک کے پولیس اہلکار اس بارے خاصے قنوطی واقع ہوئے ہیں۔ وہ ایسی کسی بھی کوشش سے متعلق یہی کہیں گے، 'ارے، رہنے دو۔۔۔ یہ ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے افسروں کے چونچلے ہیں اور کچھ نہیں ہے۔ میں تو اسی طریقہ کار پر عمل کروں گا جو خاصا موثر ہے۔ ملزم کو چٹائی پر لٹاؤ اور چھترول کرو۔۔۔ ساری بات خود بخود ہی باہر نکل آئے گی۔'
پشاور میں جس تفتیشی افسر سے میری بات ہوئی تھی، اس نے کار چوری کی ایک واردات کا حوالہ دیا تھا جس میں ملزم فرار ہو کر گاڑی سمیت مہمند ایجنسی نکل گیا تھا:
'ابتدائی اطلاع درج ہوئی تو ہم نے اس کے باپ کو گرفتار کر لیا اور اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تا کہ گاڑی واگزار کروائی جا سکے۔ اگر اس کا باپ جوان آدمی ہوتا تو ہم اس کی خبر لیتے۔ وہ خود بخود ہی اپنے بیٹے کا اتا پتہ بتا دیتا لیکن چونکہ وہ بوڑھا آدمی تھا۔۔۔ اس لیے ہم نے اس پر تشدد نہیں کیا۔ ہم نے تو اسے عام طریقوں اور حیلوں سے ڈرایا دھمکایا۔ اس کے خاندان میں دوسرے افراد پر درج مقدمات کے حوالے سے دباؤ ڈالا۔۔۔ بات یہ ہے کہ اس معاشرے میں ہر شخص ہی کوئی نہ کوئی جرم کر چکا ہے۔ ہم نے اسے کہا کہ اگر وہ ہمارے ساتھ تعاون نہ کرے گا تو ہم مہمند ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ سے کہلوا کر ایجنسی میں اس کے رشتہ داروں کے سارے گھر مسمار کروا دیں گے۔ یہ دباؤ کارگر ثابت ہوا اور آخر کار گاڑی برآمد کروا لی گئی۔'
پولیس کے اس طرح کے حربے اور ہر چھوٹے سے بڑے کام اور سروس کے لیے رشوت خوری کی انتہا کا نتیجہ ہے کہ عوام کی اکثریت پولیس سے جہاں تک ممکن ہو، کتراتی ہے اور مقدمات کے حل کے لیے دوسرے غیر رسمی اور زیادہ تر غیر تسلیم شدہ اور غیر قانونی طریے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا پولیس کی کارکردگی پر ملک یا صوبے میں فوجی یا سویلین حکومت سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ اس تفتیشی افسر نے صاف صاف قطعی طور پر جواب حصوں اور ٹکڑوں میں دیا۔ میں جب پشاور میں اس افسر کے تھانے میں گیا تھا، اس سے دو دن قبل ہی مشرف نے بطور صدر استعفیٰ دے دیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا مشرف کے جانے کے بعد چونکہ اب ملک میں 'جمہوریت' آ چکی ہے، تشدد کے طریقوں کے استعمال میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ اس پر اس افسر کا ردعمل ایسا تھا جیسے میں نے کوئی انوکھی بات کہہ دی ہو۔ اس کی حیرانگی اور چہرے کے تاثرات دیکھنے لائق تھے۔ دراصل، میں نے نہ صرف ایک بے معنی سوال پوچھا تھا بلکہ اس کے نزدیک اس سوال اور اس سوال میں اصل بات کا زمینی حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔
بہرحال، یہ صورتحال کسی بھی طرح ہمیشہ اس طرح نہیں رہتی یا کہیے یہ پتھر پر لکیر نہیں ہے۔ پولیس کے محکمے میں کئی بالا اور انتہائی ذہین افسران بھی پائے جاتے ہیں جو ہر دم اہلکاروں کی کارکردگی اور حالات کو بہتر بنانے میں کوشاں رہتے ہیں۔پشاور میں، اس سب انسپکٹر نے بھی موٹروے پولیس کی مثال دی تھی۔ یہ پاکستانی پولیس میں ایک بہترین مثال ہے اور اس سویلین فورس کو دیکھ کر امید پیدا ہوتی ہے کہ اگر ماحول اور مواقع پیدا کیے جائیں تو پاکستانی پولیس بھی انتہائی کارگر اور فرض شناس ہو سکتی ہے۔ موٹروے پولیس کے اہلکاروں کو ملنے والی خاطر خواہ تنخواہوں کے سبب انہیں رشوت خوری کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اور چونکہ انہیں افسرانہ احکامات اسلام آباد سے موصول ہوتے ہیں، اس لیے انہیں کسی مقامی سیاسی اور غیر سیاسی اثر و رسوخ اور دباؤ کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ جہاں یہ، وہیں غالباً یہ بھی انتہائی اہم ہے کہ موٹروے پولیس کو کام کرنے کے لیے اچھی سہولیات، خاطر خواہ مراعات اور جدید موٹر وے جیسا ماحول میسر ہے جہاں جا بجا ان کی سہولت کے لیے چوکیاں اور کیفے بھی قائم ہیں اور جدید ٹیکنالوجی بھی دستیاب ہے۔ اس سے ان اہلکاروں کو اس محکمے کا حصہ بننے پر اور قوم کو خدمات فراہم کرنے پر فخر بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہی فخر، ان کے لیے سرمایہ ہے اور عوام میں مقبولیت اور فرض شناسی کا باعث بھی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ موٹر وے پولیس فرض شناس اور ایماندار واقع ہوئی ہے۔ ہم ایک دن اسلام آباد سے لاہور کی جانب سفر کر رہے تھے ۔ موٹر وے پولیس نے قانون توڑنے پر ہماری گاڑی کو نہایت اطمینان سے روک کر، ڈرائیور کو نپے تلے پیشہ ورانہ انداز میں بغیر کسی حیل و حجت چالان کا ٹکٹ تھما دیا۔ ان پولیس اہلکاروں کی جسمانی حرکات و سکنات اور ظاہری ٹھاٹھ باٹھ سے ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ رشوت کے عوض ڈرائیور کو چالان سے منہا کر سکتے ہیں۔ میں نے اس ملک میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد کو حیرانگی اور غم و غصے کی حالت میں گلہ کرتے دیکھا ہے جو موٹر وے پر پولیس کے منصفانہ اور پیشہ ورانہ سلوک پر نالاں نظر آتے تھے۔ وہ پاکستان میں کسی پولیس اہلکار کے اشرافیہ کے ساتھ اس طرح کے رویے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتے۔ جہاں موٹر وے پولیس کی یہ مثالی کارکردگی ہے وہیں یہ بھی صاف ہے کہ پاکستان میں جدید موٹر ویز اور موٹر وے پولیس جیسے ادارے بھی گویا کسی انوکھی دنیا سے وارد ہونے والی جگہ اور لوگ محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے ،جیسے یہ اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ اس دیس کے نہیں ہیں اور ان کا اس خطے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ آپ موٹروے سے اترے نہیں اور فرق واضح محسوس ہو جاتا ہے۔ یکدم ہی احساس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کچھ دیر کسی سنہرے خواب میں بسر کر کے حقیقی دنیا میں دوبارہ لوٹ آئے ہیں۔ جہاں یہ، وہیں قدرتی طور پر یہ خیال بھی آتا ہے کہ اس خواب کی تعبیر ناممکن نہیں ہے۔ اگرپاکستان میں موٹر وے پولیس جیسا ادارہ قائم ہو کر پیشہ ورانہ انداز میں چل سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں، پورے ملک میں پولیس کا باقی محکمہ بھی انہی خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے۔

سرورق: لاہور: چیک پوسٹ پر مامور ایک پولیس اہلکار /پاکستان ٹو ڈے/ 2012ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر