اس دیس کی رسم اور دستور - 2


علاقائی اور لسانی طبقات کی سطح پر ریت، رسوم اور رواج میں کافی حد تک عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ ایک ہی گاؤں میں رواجی قوانین کے تحت کیے جانے والے فیصلے مختلف سطحوں پر کیے جاتے ہیں۔ یہ سب زیر نظر مسئلے یا تنازعے پر منحصر ہے۔ تاہم، ہر جگہ پر ایک چیز مشترک ہے۔ یہ پاکستان کے دیہی اور شہری، دونوں ہی طرح کے علاقوں میں پائی جانے والی شے ہے۔ وہ یہ کہ پدر اقتداری خاندان جو عام طور پر خاصے وسیع واقع ہوتے ہیں، جو اگرچہ 'پدری' معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں لیکن پاکستان اور ہندوستان میں بہوؤں اور بیٹیوں کی ان گنت تعداد اس بارے بخوبی آگاہ ہے کہ اس معاشرے کے پدری اور مردانہ سرگروہی چہرے مہرے کے پیچھے عام طور پر گھرانوں میں اصل مردم آزار اور کڑی رسوم اور رواج کو لاگو کروانے میں ظالمانہ حد تک، یہاں تک کہ بنیادی حقوق بھی غصب ہو جائیں۔۔۔ چوٹی کا کردار ادا کرنے والی دراصل بڑی بوڑھیاں اور پکی عمر کی عورتیں ہی ہوتی ہیں۔
عام طور پر روایتی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ کسی ایک وسیع خاندان کے اندر پیدا ہوتا ہے تو صرف اور صرف اسی خاندان کے افراد ہی 'گھر کا مسئلہ، گھر کے اندر' حل کرنے کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔ اس بارے فیصلہ گھر کے کسی بڑے بوڑھے، یعنی 'بزرگ 'کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اس ضمن میں گھر کے دوسرے افراد بالخصوص بڑی عمر کی عورتوں اور مردوں کے ساتھ مشورہ کر سکتا ہے۔ اگر کسی صورتحال میں اس خاندان یا گھرانے کا کوئی فرد یا افراد، گھر سے باہر کسی سے بھی چاہے وہ ریاستی ادارہ ہو یا علاقائی جرگہ قانونی مدد طلب کرے تو یہ اس خاندان کے لیے عام طور پر اجتماعی بے عزتی تصور کی جاتی ہے۔ اگر مسئلہ دو مختلف خاندانوں کے بیچ ہو تو بھی، عام طور پر دونوں گھرانوں کے بڑے بوڑھے بیٹھ کر بات چیت سے خود ہی کسی نہ کسی حل پر مبنی فیصلہ نکال لاتے ہیں۔ خاندانی مسائل میں ریاستی یا شرعی عمل دخل نہ ہونے کے برابر رہتا ہے، لیکن اکثر ان فیصلوں پر مذہبی چھاپ ضرور چڑھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
اگر معاملات جنسی نوعیت، کسی کے چال چلن اور خاندان کی عزت اور غیرت سے متعلق ہوں تو ایسے مقدمات خاندانی سطح پر ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔ عام طور پر ایسے مقدمات میں متعلقہ عورت کو اپنے خاندان کے لوگوں کے ہاتھوں موت کی سولی چڑھنا پڑتا ہے۔ پاکستان بھر میں جہاں بھی ہو، ایسے معاملات میں رواج یہی ہے کہ دوسرے کسی بھی قسم کے نظام اور انصاف کے تقاضوں کو خاطر میں نہ لایا جائے اور نہ ہی لایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان بھر میں عام طور پر ایسے مقدمات کی پیروی کرنے میں کوئی بھی عوامی حلقہ اور طبقہ ملک کے ریاستی اداروں اور حکام کے ساتھ تعاون نہیں کرتا۔ اسی لیے ایسے واقعات کی تقریباً تعداد کبھی رپورٹ بھی نہیں ہوتی۔ (یہ بات بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے)۔
تاہم، اگر معاملہ سنگینی اختیار کر لے یا دو مختلف برادریوں کے افراد سے متعلق ہو (بعض اوقات ایک ہی برادری یا خاندان کے ٹوٹنے یا اختلافات کی وجہ سے بھی ہوتا ہے)؛ ایسی صورتحال میں ایک یا دونوں فریق تنازعے کو حل کرنے کے لیے بیرونی مدد طلب کرتے ہیں۔ اس کا مقصد بھی ممکنہ طور پر تشدد کو روکنا ہوتا ہے یا پھر تشدد ہو چکا ہوتا ہے، اس کے بعد دونوں فریقوں کے بیچ صلح کروانے کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ مدد بھی عام طور پر ریاستی اداروں یا حکام سے طلب نہیں کی جاتی بلکہ علاقے کے چند چیدہ، نامی گرامی اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو جمع کر کے ایک بیٹھک تشکیل دے دی جاتی ہے۔ پنجاب اور شمالی ہندوستان میں ایسی بیٹھک کو 'پنچایت' کہا جاتا ہے۔ پنچایت ھندوستانی لفظ ہے جس کا مطلب 'پانچ کی مجلس' ہے۔ پشتون، سندھی اور بلوچ علاقوں میں عام طور پر مقامی بزرگوں اور نامی گرامی افراد کی مجلس کے لیے پشتو کا لفظ 'جرگہ' استعمال کیا جاتا ہے۔
پشتون اور بلوچ علاقوں میں، جہاں قبائلی نظام کے ڈھانچے کے نقش ابھی بھی خاصے واضح ہیں۔۔۔ جرگہ کی مجلس بہت عام ہے اور آئے روز منعقد ہوتی ہے۔ بلوچوں، سندھیوں اور کئی دوسرے قبائل کے کلچر میں ایسی مجالس کی دیکھ بھال اور باقاعدہ سربراہی سرداروں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ سردار خود یا اپنے نامزد کردہ کسی قریبی رشتہ دار کے ذریعے ان مجالس کی سربراہی کرواتے ہیں۔ پنجاب میں 'پنچایت' کی ساخت قدرے ڈھیلی ڈھالی اور غیر رسمی ہوتی ہے۔ اگر مقدمے میں ایک ہی برادری کے لوگ ملوث ہوں تو پنچایت میں اسی برادری اور کنبے کے بڑے بزرگ بیٹھتے ہیں۔ اگر مختلف کنبے یا برادریوں کا معاملہ ہو تو پھر گاؤں میں سے کوئی نہ کوئی با اثر شخص، عام طور پر سب سے بڑے زمیندار کو برادریوں کے نمائندوں کے علاوہ موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ دو یا دو سے زیادہ، مختلف گاؤں کے بڑے مل بیٹھ کر پنچایت منعقد کریں اور آپسی تنازعات پر بات چیت کریں۔
ان مجالس کی رکنیت عام طور پر غیر رسمی اور عارضی ہوتی ہے، جو مقامی سطح پر ہی عام موافقت کے تحت طے ہو جاتی ہے؛ ان مجالس کا بطور 'جج' حصہ بننے کے لیے سماجی اور مالی حیثیت ضرور دیکھی جاتی ہے۔ پشتونوں اور بلوچوں میں یہ رتبہ اور حیثیت بالخصوص نہایت اہم ہوتی ہے اور عام طور پر مقامی مذہبی شخصیت یا ملا اس بارے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تا ہم، ملاؤں کو اس ضمن میں خصوصی عہدہ یا منصب خود بخود ہی عطا نہیں ہو جاتا اور نہ ہی یہ خود سے کوئی فیصلہ صادر کر سکتے ہیں بلکہ اگر فریقین مناسب سمجھیں تو انھیں بات چیت میں شامل کرتے ہیں۔ اس سے اس مذہبی طبقے کی پشتون اور بلوچ معاشروں میں قدرے کم حیثیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ان مجالس میں کیے جانے والے فیصلے بھی سوائے چند ایک موقعوں کے، ہمیشہ ہی پنچایت یا جرگے کے اراکین کے بیچ اتفاق رائے سے طے کیے جاتے ہیں۔
یہ بات یاد رکھی جائے کہ پنچایت یا جرگوں کے سامنے پیش کیے جانے والے جرائم کے مقدمات میں، مبینہ ملزم دنیا میں ہر جگہ کی طرح ہمیشہ ہی اپنے 'جرم' کی وجہ سے نفرت کا شکار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ آفاقی ہے کہ ایسا شخص عام طور پر پورے معاشرے کے لیے ایک داغ اور عافیت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی گاؤں میں چکی والا جب آٹے میں برادہ ملاتا ہے تو اس کا یہ فعل قابل نفرت ٹھہرتا ہے۔ ایسے لوگوں پر جرمانے عائد ہوتے ہیں، انھیں برادری اور گاؤں سے نکال دیا جاتا ہے یا کسی دوسرے طریقے سے عوام کے بیچ رسوا کیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیاء کے دیہاتی علاقوں میں چور اچکوں، ٹھگوں وغیرہ کو منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا کر پورے گاؤں کا چکر لگوانے کا طریقہ بہت ہی پرانا ہے۔
اس لحاظ سے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ عام طور پر پنچایت یا جرگہ وہی فیصلہ کرتا ہے جو عوامی سطح پر ملزم کے حوالے سے مجلس لگنے سے پہلے ہی طے ہو چکا ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ پنچایت یا جرگہ جیسی مجالس بھلے ایک قدیم روایت اور مقامی سطح پر نہایت محترم 'عدالت' سمجھی جاتی ہوں، عوامی اور سماجی رائے اور دباؤ کے سامنے بے بس ہوتی ہیں۔ پنچایت اور جرگے، بھلے جس قدر بھی بڑے اور با اثر شخصیات پر مشتمل ہوں، ان کا حال ایک سا ہی ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں 'لویہ جرگہ' پایا جاتا ہے۔ یہ قومی سطح پر عوامی اسمبلی یا جرگے کا دوسرا نام ہے۔ جرگوں میں خاندانی اور علاقائی معاملات زیر بحث آتے ہیں جبکہ لویہ جرگہ میں نہایت اہم معاملات، یہاں تک کہ قومی سطح کے بھی پیش ہوتے ہیں۔ ان سبھی سطحوں پر فیصلے باقاعدہ قانونی نکتوں اور انصافی تقاضوں کو سامنے رکھ کر نہیں کیے جاتے بلکہ ان عناصر پر منحصر ہوتے ہیں جن سے برابری کا شبہ ملتا ہو یا پھر تعلق اور رشتہ داریاں خراب نہ ہوتی ہوں۔ ان جرگوں کے فیصلوں کا مقصد اور سب سے بڑا عنصر ہمیشہ ہی عوامی سطح پر امن کو قائم رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔ جرگوں اور پنچایتوں کے نتیجے میں فیصلوں سے ظاہر ہے، کسی نہ کسی حد تک جیت اور شکست کا پہلو ضرور ہوتا ہے لیکن سماجی سطح پر امن برقرار رکھنے اور خاندانی نیک نامی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ فیصلوں میں کسی بھی فریق کی مطلق جیت نہ ہو۔ بلکہ تقریباً ہمیشہ ہی دونوں فریقین کی 'ساکھ' بحال رکھنے کے لیے فیصلوں میں مفاہمت اور مصلحت کا عامل ہمیشہ ہی غالب رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر جرگوں اور پنچایتوں کے فیصلوں میں سزا کی بجائے تلافی پر تکیہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی مجالس کے فیصلوں کی یہی روح ہے۔
جیو ٹی وی کے صدر عمران اسلم اس بارے کہتے ہیں:
'پاکستان کا پورا سسٹم ایک غیر رسمی انداز میں چل رہا ہے۔ آپ اس سسٹم کو 'غیر رسمی اخلاقی معیشت' کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یہ سسٹم بار بار مڑ کر اشرافیہ کے منہ پر کالک تھونپ دیتا ہے۔ قوانین کی جانب عوامی رویے بھی اسی سسٹم کا حصہ ہیں۔ ایک چیز، جس کی وجہ سے عام لوگ ریاست کے انگریزی عدالتی نظام میں خامی گردانتے ہیں۔۔۔ وہ اس نظام میں کسی تلافی کی صورت کا موجود نہ ہونا ہے۔ مثال کے طور پر کسی شخص کا بھائی قتل ہو جائے، وہ اس بات پر تو بالضرور خوش ہو گا کہ عدالت نے قاتل کو پھانسی پر چڑھا دیا لیکن وہ شخص یہ سوال ضرور پوچھے گا کہ اب اس کے مقتول بھائی کے گھرانے کی کفالت کون کرے گا؟ اس گھرانے کی جمع پونجی، پولیس اور عدالتی کارندوں کو رشوت کھلانے اور قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بھینٹ چڑھ چکی ہوتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ روایتی اور شرعی، دونوں ہی طرح کے نظاموں میں عام طور پر بیچ بچاؤ اور تلافی کی گنجائش پائی جاتی ہے جو عام لوگوں کے لیے قابل قبول لیکن انتہائی اہم بھی ہے۔'
انگریز دور کے برطانوی حکام بھی اپنے نظام انصاف میں اس طرح کے جھول کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں جدید مغربی عدالتی اور انتظامی نظام متعارف کروانے اور بعد ازاں اداروں اور مقامی نمائندگی قائم ہوتے ہوئے بھی چند اہم انگریز حکام نے روایتی نظام انصاف کو اس جدید نظام میں باقاعدہ جگہ دینے کی سفارشات کی تھیں۔ اس دور کے ایک چیدہ اور خاصے پرفکر افسر، سر ماؤنٹ سٹورٹ الیفسٹون نے مقامی رواج پر مبنی قوانین کو نہ صرف تحفظ دینے بلکہ اسے تسلیم کرنے پر بھی زور دیا تھا۔ سر ماؤنٹ کے مطابق یہ حکومت کے لیے جلد ہی ایک انگریزی مجموعہ قانون کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال سے نبٹنے کے لیے اہم ضرورت بن جائے گا۔ انگریزی قوانین نہ صرف یہ کہ مقامی آبادی کے لیے غیر موزوں تھے بلکہ ان کی سمجھ اور ریت سے بھی باہر تھے۔
آزادی کے بعد سے اب تک، پاکستان اور بھارت دونوں ہی ممالک نے کئی دفعہ جرگہ اور پنچایت کو باضابطہ طور پر ریاستی عدالتی نظام کا حصہ بنا کر نمائندگی دینے کی کوششیں کی ہیں۔ بھارت میں 'پنچایتی راج' یا بنیادی جمہوری حکومت کے قیام کا ایجنڈا کانگریس کے گاندھی پروگرام کا حصہ رہا ہے۔ ایوب خان اور مشرف دور میں بھی بنیادی اور مقامی جمہوری اداروں کے قیام میں بھی اسی مقصد کا عنصر ملتا ہے۔ لیکن بعد ازاں سیاسی اشرافیہ نے اس نظام کو آمریت کو سہارا دینے کے پائے قرار دے لپیٹ دیا تھا۔
اگر عدالتی نظام کی واقعی بات کی جائے تو پاکستان میں اس سے متعلق معاملات کو دو حصوں، رسمی اور غیر رسمی سطحوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ غیر رسمی سطح پر پولیس بھی پورے پاکستان (اور بالخصوص قبائلی علاقوں) میں عام طور پر مقامی رسوم پر مبنی نظام انصاف پر تکیہ کرتی ہے۔ اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ اور اس نکتے پر کئی لوگوں نے زور دیا ہے کہ پاکستانی سماج کی زمینی حقیقتوں اور پولیس کی ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث روایتی قوانین کے بغیر کام کرنا ناممکن ہے۔ بالخصوص، قبائلی علاقوں میں تو جرگوں کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ پرتشدد اور خونی قبائلی لڑائیوں کی صورت نکل سکتا ہے۔
2009ء میں صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے پولیس چیف نے مجھے بتایا (یہی بات بیس برس قبل شکار پور کے پولیس چیف نے بھی کہی تھی):
ہم ہر دم ریاستی عدالتی نظام اور قبائلی نظام کے بیچ معلق رہ کر کام کرتے ہیں۔ جب دو قبائل آپس میں کسی وجہ سے لڑتے اور جھگڑتے ہیں تو میرا پہلا اور نہایت اہم ردعمل دونوں فریقین پر دباؤ بڑھانا ہوتا ہے۔ ہم دونوں فریقین کے تشدد پر مائل تند اور تیز لوگوں کو حراست میں لے لیتے ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو سرداروں کو بھی تھانے میں بلا لانے سے گریز نہیں کرتے اور انہیں کچھ دیر اپنے پاس رکھتے ہیں۔ جب وہ اپنا سبق سیکھ لیتے ہیں اور معاملات کو سلجھانے کے لیے دماغ ٹھنڈا کر لیتے ہیں تو پھر ہم ہی انہیں گفت و شنید کی میز پر لے آتے ہیں۔ آپ ان قبائل اور برادریوں کو پولیس کی مدد سے آپس میں بھڑنے سے روک سکتے ہیں لیکن تنازعہ کا حل نکالنے کے لیے ہمیشہ ہی جرگوں اور بیٹھکوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جھگڑے اور لڑائیاں تب ہی ختم ہوتی ہیں جب یہ خود چاہتے ہیں اور آپس میں معاملات طے کر لیتے ہیں۔ ہم فوج کی طرح نہیں ہیں کہ لوگوں کو اطاعت گذاری پر مجبور کرنے کے لیے ان پر گولیاں چلاتے پھریں۔ آخر، ہم نے انہی لوگوں کے بیچ رہ کر بسر کرنی ہے اور انہی لوگوں کے ساتھ مل کر امن و امان بحال رکھنا ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پورا انتظامی سسٹم اور امن و امان بکھر جائے گا۔'
یہ اور ایسے ہی کئی دوسرے بیانات سے پاکستانی ریاست کے ہر سطح پر فطرتاً مصلحت پسند ہونے اور لین دین کا تصور پختہ ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی پولیس (اور تقریباً سول سروس) ابھی تک انگریز دور کے استعماری انداز میں کار سرکار چلاتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ قرون وسطیٰ کے دور کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یعنی، آج بھی پاکستانی پولیس جرائم کا پیچھا نہیں کرتی بلکہ ہر دم بنیادی امن و امان قائم رکھنے میں جتی رہتی ہے۔ درحقیقت پاکستانی پولیس آج بھی 'برٹش انڈین پولیس ایکٹ 1861ء' میں معمولی ردوبدل کے ساتھ کام کرتی ہے۔ یہ وہ قانون ہے جو 1857ء کے فوراً بعد ہندوستان میں جاری افراتفری اور ہنگامہ خیزی سے نبٹنے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی ڈھانچہ اور قاعدہ اس زمانے میں آئرلینڈ کی نیم فوجی پولیس فورس کے طرز پر بنایا گیا تھا جس کا مقصد بے قابو اور نچلی سطح کی خود سر آبادی کو حد میں رکھنا تھا۔
پولیس کے طرز عمل میں پایا جانے والا مصالحتی اور ضرورت کے تحت ردعمل صرف قبائلی علاقوں میں بڑے تنازعات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے مقدمات اور چپقلشوں میں بھی ویسا کا ویسا استعمال ہوتا ہے۔ اگست 2008ء میں ضلع پشاور کے تہکال تھانے میں ایک تفتیشی افسر نے حال ہی میں علاقے کے دو خاندانوں کے بیچ جھگڑے کا قصہ سنایا۔ اس نے کہا کہ ایک ہی محلے میں بسر رکھنے والے ان دو گھرانوں کے بیچ عرصے سے چپقلش چلی آ رہی تھی لیکن یہ جھگڑا اصل میں خالصتاً اشتعال کا نتیجہ تھا جو پشاور میں گرمی کے موسم میں بجلی منقطع ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔
ہوا یوں کہ دونوں گھرانوں نے طویل انتظار اور بجلی کے محکمے کے اہلکاروں کو رشوت دے کر محلے میں بلا تو لیا لیکن قدرتی طور پر وہ اہلکار ان دونوں میں سے پہلے کسی ایک کی طرف جاتے۔ اسی بات پر ان گھرانوں میں تو تو میں میں ہو گئی اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ پھر پستول نکل آئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں سے ایک فریق کے دو افراد مارے گئے۔ 'یہ جھگڑا شروع کس نے کیا تھا؟' میں نے پوچھا۔ 'خدا ہی بہتر جانتا ہے۔۔۔' تفتیشی افسر نے اطمینان سے جواب دیا، 'دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں۔۔۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ جرائم پیشہ لوگ نہیں ہیں۔ یہ عام لوگ ہیں جن کا خون جوش مار گیا تھا۔ اس ملک میں یہ بہت عام بات ہے۔۔۔'
جنھوں نے گولیاں چلائی تھیں، وہ فرار ہو کر پشاور سے ملحق فاٹا کے علاقے خیبر ایجنسی میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے۔ خیبر ایجنسی سے ان مجرموں کو واپس لانا تقریباً ناممکن تھا۔ تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ پولیس نے اپنے تئیں (کسی قدر) خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ کی مدد سے اور پشاور میں ان کے رشتہ داروں پر دباؤ ڈال کر واپس لانے کی کوشش تو کی، '۔۔۔لیکن آخر میں ہوا یہ کہ ہم نے مقتولین کے خاندان کو جرگہ بلانے پر راضی کر لیا تا کہ کسی تصفیہ تک پہنچ سکیں اور ان کے نقصان کی تلافی ہو۔ دونوں فریقین نے جرگے کا فیصلہ ماننے پر حامی بھر لی۔ مقتولین کے رشتہ داروں کو ایک کروڑ روپے ادا ہوا اور انہوں نے قران پر قسم اٹھائی کہ وہ انتقام نہیں لیں گے۔ جب یہ ہو گیا تو انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ اس علاقے میں قتل کے بدلے پچاس لاکھ سے دو کروڑ روپے تک خون بہا ادا کیا جاتا ہے لیکن کبھی کبھار تلافی کے لیے گاڑیوں اور جائیداد بھی دی جاتی ہے۔ پہلے پہل تو سوارہ کی رسم بھی ہوا کرتی تھی جس میں قتل کے بدلے جوان لڑکیاں بھی بدلے میں دے دی جاتی تھیں۔ لیکن یہ رسم کم از کم شہروں کی حدود میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔'
جہاں نچلی سطح پر مقامی پولیس غیر رسمی طریقوں سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش میں لگی ہے، وہیں سینئیر افسران پورے نظام کو بدلنے کی سنجیدہ کوششوں کے بارے سوچتے رہتے ہیں۔ ان کی اس سوچ کا مقصد عوام میں انصاف کے مقبول طریقوں، تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور موثر انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ تب صوبہ سرحد کے محکمہ پولیس کے انسپکٹر جنرل ملک نوید خان خاصے قابل اور صاحب فکر افسر واقع ہوئے تھے اور ان دنوں زیادہ تر طالبان کے خلاف برسرپیکار رہتے تھے۔ جولائی 2009ء میں انہوں نے اپنے مصروف وقت میں سے کچھ دیر نکال کر مجھے انصاف کے متعلق بہ بحالی پر ایک نہایت دل آویز لیکچر دیا۔ یہ دنیا بھر کے کئی ممالک بشمول نیوزی لینڈ میں بھی ایک نیا رجحان ہے جہاں جرائم سے نبٹنے کے لیے انصاف کے تقاضوں کی ازسر نو تشکیل دینے کے اصولوں پر چلتا ہے۔ اگر سنجیدگی سے کام لیا جائے تو یہ رجحان جنوب ایشیائی معاشروں کے روایتی طریق انصاف میں تبدیلی کے لیے خاصا متاثر کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس ضمن میں نوید خان نے تجرباتی طور پر صوبے کے چند اضلاع کے تھانوں میں پولیس کے ساتھ پبلک کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں علاقے کے با اثر اور نامی گرامی افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو مقامی تھانیدار کے ساتھ مل کر ہر طرح کے جرائم بشمول قتل کے مقدمات میں بھی مصالحت اور تلافی کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر رسمی اور غیر تسلیم شدہ جرگوں کے برعکس یہ کمیٹیاں ایسے فیصلے، مثال کے طور پر قتل کے بدلے قتل، قتل کے بدلے عورتوں کا بدلہ وغیرہ کا اختیار نہیں رکھتیں۔ اس طرح کے فیصلے پاکستان کے ریاستی قوانین کے منافی ہیں۔ ملک نوید کے بقول،
'اگر ہم جرگہ سسٹم کو باقاعدہ شکل دے کر سرکاری انتظام کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف غیر قانونی فیصلوں کا تدارک ہو سکتا ہے بلکہ ہمارے یہاں پہلے سے موجود قدیم اور روایتی نظام کو بحال بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی، وکیلوں کے سوا کوئی شخص مقدمات کو عدالتوں میں گھسیٹنے کے حق میں نہیں ہوا کرتا۔ ہماری عدالتوں میں مقدمات کی پیروی انتہائی تھکا دینے والا اور مہنگا عمل ہے۔ صوبے کی پولیس بھی اس طویل عمل سے تنگ آ جاتی ہے۔ پولیس پہلے ہی طالبان کی پیدا کردہ مشکل صورتحال کے ساتھ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی ہوش مند شخص جیلوں کو بھرنے کا حامی نہیں ہوگا۔ کسی کے جیل چلے جانے سے جرائم کا شکار ہونے والے متاثرین کی بھی تشفی نہیں ہوتی تا آنکہ انہیں زیادتی کی زر تلافی یا کسی دوسری طرح سے ہرجانہ نہ مل جائے۔ جیلوں کا حال یہ ہے کہ غلطی سرزد ہونے والے بالآخر پیشہ ور مجرم بن کر نکلتے ہیں۔ پاکستان کا نظام ایسا ہے کہ یہاں آپ مجرموں کو زیادہ دیر تک جیلوں میں بند بھی نہیں رکھ سکتے۔۔۔ وہ کسی نہ کسی طرح، کچھ عرصہ سزا بھگت کر پھر باہر نکل ہی آتے ہیں۔'
تاہم، ان غیر رسمی اور غیر تسلیم شدہ انصاف کی تراکیب کو باقاعدہ تسلیم شدہ ریاستی عدالتی نظام میں ضم کرنے کی راہ میں کئی طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ سب سے پہلی اور بڑی رکاوٹ تو ججوں، وکلاء اور پولیس کے مالی مفادات ہیں۔ ان کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ جو مقدمات کی فیس اور رشوت کی صورت ہوا کرتا ہے، یکدم ختم ہو جائے گا۔ اس کا تعلق اس نکتے سے بھی ہے کہ وہ فریقین جو مقامی طریق انصاف سے خوش نہ ہوں تو پھر بھی ہر صورت عدالتوں اور پولیس سے استدعا کریں گے۔ مقامی عوامی حلقوں کی نسبت پولیس اور عدالتوں کے پاس بہرطور وسیع اختیارات اور دباؤ ڈالنے کے ذرائع ہوتے ہیں۔ رشوت ادا کرنے کے بعد تو یہ ساری مشینری بالخصوص فوراً ہی حرکت میں آ جاتی ہے۔
دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ چونکہ یہ غیر رسمی اور مخصوص مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی جرگہ کا نظام نچلی سطح پر جیسے گاؤں یا قبائلی طبقے میں قائم ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور نمائندگی کے اہل بھی جانے پہچانے ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جرگے اور پنچایت میں فریقین کی اہمیت اور ان کی سماج میں حیثیت کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اول تو برابری کی سطح برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف ملک میں اور بالخصوص شہروں میں آبادی بڑھتی جا رہی ہے جس کے سبب روز بروز پاکستان کے اندر اس طرح کا نظام تا دیر اور موثر طریقے سے چلائے رکھنا ممکن نہیں ہے۔
مجھے اوپر بیان کردہ رکاوٹوں کی عملی شکل اس وقت نظر آئی جب بیس برس بعد 2009ء میں دوبارہ مینگورہ جانے کا اتفاق ہوا۔ مینگورہ، ضلع سوات کا ہیڈکوارٹر ہے۔ سوات کے لوگ آج بھی علاقے کی پرانی خود مختار ریاست کے دور کو یاد کرتے ہیں جب والی سوات کی حکمرانی تھی اور منصفانہ فیصلے ہوا کرتے تھے۔ والی سوات نے ایک نظام متعارف کروایا تھا جس میں اہم نوعیت کے مقدمات کی شنوائی کے لیے وہ خود عدالت لگایا کرتے تھے اور اپنی ریاست کے ہر اہم شخص کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ لیکن جب والی سوات کی حکمرانی ہوا کرتی تھی، تب اس پورے علاقے کی آبادی قریباً پانچ لاکھ رہی ہو گی۔ آج صرف مینگورہ شہر کی آبادی (مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب یہ چھوٹا سا قصبہ ہوا کرتا تھا) اٹھارہویں صدی کے لندن یا پیرس جیسے شہروں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی اور اس ہمہ جہت شہر میں روایتی طرز پر مبنی، یعنی ذاتی جان پہچان اور باہمی رضامندی کے پیمانوں پر قائم جرگہ کے تحت فیصلے کرنا بالکل ناممکن ہے۔ 

سرورق: ایبٹ آباد: عنبرین ریاست کو جرگہ کے حکم پر گاڑی میں زندہ جلا دیا گیا / رائٹرز / 2016ء


-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر