اس دیس کی رسم اور دستور - 3


ایک جدید اور متحد ریاست کے قیام کے ارادوں اور عمل میں سرکاری عدالتی اداروں کے متوازی ایک غیر رسمی اور غیر تسلیم شدہ مقامی انصاف کے نظام کا وجود اور اس کی حمایت سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ دراصل یہ وہی سوالات ہیں جن کی بناء پر دور جدیدیت کے اوائل میں یورپ اور دنیا کے باقی ترقی یافتہ حصوں میں شاہی حکام نے ان مقامی اداروں اور رسوم و رواج کو اپنے یہاں مکمل طور پر جدید اور ہم آہنگ قوانین میں ڈھال دیا تھا اور سب کے لیے یکساں اور برابر عدالتی نظام پر مبنی اداروں کو تشکیل دیا گیا تھا۔ ان اداروں میں حکام کی تعیناتی مرکزی حکومت کی جانب سے کی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں اس طرح کا نظام قائم کرنا بھارت اور پاکستان، دونوں ہی ریاستوں کے لیے سخت چیلنج رہا ہے۔ اس بارے بھارت سے تعلق رکھنے والے بشری ضابطوں اور دستور کے ماہر ایم۔پی۔جین نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
'مقامی ضابطوں اور رواجوں کو منسوخ کرنے کی ایک دوسری لیکن نہایت اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ریت اور رواج پر مبنی غیر رسمی قوانین قبائل، گروہوں اور فرقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔جب تک یہ رسوم اور رواج قانون کی شکل میں موجود رہیں گے، ذات اور پات کا نظام اور کلاس سسٹم بھی برقرار رہے گا۔ اگر ہر گروہ اور سماجی دھڑے کے اپنی رسوم اور رواج پر مبنی قوانین کی تنسیخ ہو جائے تو بڑے پیمانے پر قومی سطح پر عوام کے بیچ یگانگت پیدا ہو سکتی ہے اور انہیں یکجا کیا جا سکتا ہے۔'
جرگوں اور پنچایت کے نظام سے متعلق ایک قطعی پہلو یہ بھی ہے کہ طویل مدت میں، ان کے باقاعدہ عدالتی نظام کا حصہ بننے کے نتیجے میں پاکستانی عوام اور خواص یعنی مغربی تعلیم سے آراستہ اشرافیہ کے بیچ ایک ثقافتی اور تہذیبی تناؤ پیدا ہو جائے گا۔ پاکستان میں ریاست پر اسی اشرافیہ کی حاکمیت ہے اور عدلیہ کی سینئیر رینک میں بھی مغربی طرز انصاف کے لیے گہری حمایت پائی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں جمہوریت کے اوپر نہایت اہم اور بنیادی سوال اٹھتا ہے جو عورتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔
پشتون اور بلوچ (بشمول سندھ اور جنوبی پنجاب کے بلوچ قبائل) کے یہاں قبائلی جرگے تواتر کے ساتھ عورتوں کے لیے سزائیں تجویز کرتے رہتے ہیں۔ ان سزاؤں کے فیصلے جدید پاکستانی ریاست اور مغربی طرز انصاف کے سراسر منافی ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ شریعت اور اسلامی ذکاوت اور معقولیت کے بھی خلاف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام طور پر سماج کی اکثریت بالخصوص مرد طبقہ ان فیصلوں کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ جائز بھی سمجھتا ہے۔



جرگہ اور پنچایت کے ان فیصلوں میں چال چلن کی بناء پر اور حتیٰ کہ دوسرے قبائل یا برادری سے تعلق رکھنے والے مرد کے ساتھ قانونی اور شرعی شادی کرنے پر بھی عورت کا قتل، قبائل اور برادریوں کے بیچ تنازعات کے حل کے لیے نو عمر اور جوان لڑکیوں کی حوالگی اور کبھی کبھار سزا کے طور پر عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی وغیرہ شامل ہیں۔ پنچایت کے فیصلے پر اجتماعی زیادتی کے فیصلے عام طور پر با اثر برادری یا گروہ کی جانب سے کسی دوسری برادری یا گروہ کو سبق اور ان کا سماجی مقام یاد دلانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک انتہائی ظالمانہ مثال 2002ء میں پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں مختاراں مائی کے ساتھ پنچایتی فیصلے کے نتیجے میں اجتماعی زیادتی تھی۔ مختاراں مائی کا تعلق گجر برادری سے تھا۔ بلوچ قبیلے مستوئی کے جرگے نے حکم دیا اور اسی قبیلے کے مردوں نے مختاراں مائی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ حربہ بھارت میں بھی، اونچی ذات کے لوگ نچلی ذات کے لوگوں کو سبق سکھانے اور ان کی تذلیل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس معاملے کو قریب سے دیکھا جائے تو ایک نیا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں واقعی جمہوری رویوں سے اس درجہ نا آشنائی پائی جاتی ہے؟ یا دوسری صورت یہاں حد سے زیادہ جمہوریت پائی جاتی ہے؟ کہ ان پڑھوں، جاہلوں، علم دشمنوں اور بعض اوقات تشدد پسندوں کی رائے کو بھی مقدم رکھنا پڑتا ہے اور ان کی سوچ اور افعال ملک کے پڑھے لکھے طبقے، اشرافیہ اور خود ریاست پر حاوی ہو جاتی ہے؟ اور یہی نہیں، کیا ریاست اس قدر کمزور ہے کہ وہ اپنے ہی بنائے قوانین کو لاگو کرنے میں ناکام ہے؟
اس ضمن میں یہاں یہ ضرور یاد رکھا جائے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے یورپ میں جہاں انصاف کا نظام اور ریاستی انتظام جدید شکل اختیار کر رہا تھا اور جدید یورپی تہذیبوں کی بنیاد ڈل رہی تھی۔۔۔ یہ بڑا کام، ایک چھوٹی سی آمریت پسند اشرافیہ نے سرانجام دیا تھا۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی اس روشن خیال اشرافیہ کو اکثر ہی عوام کی جانب سے مزاحمت اور مخالفت کو کچلنے کے لیے آمرانہ رویہ اور اقدامات اٹھانے پڑتے تھے ۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی عوام سے اپنے افعال اور آہنی اقدامات کی توثیق کے لیے مشورہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
اس نہج پر پہنچنے کے لیے ایک دوسرا سوال پاکستان میں اشرافیہ سے متعلق سر اٹھاتا ہے جو اس ملک میں واقعی 'جاگیردار اشرافیہ' اور 'برادریوں کی سردار اشرافیہ' میں فرق سے متعلق ہے۔ ایک طرف واقعی جاگیردارانہ اشرافیہ کا تصور اور دوسری جانب وہ اشرافیہ نما ہے جسے انتخابات میں حصہ لے کر اپنی اہمیت جتوانی پڑتی ہے۔ یہیں سے وہ زاویے نکلتے ہیں جو پاکستانی معاشرے میں اشرافیہ کی نیک نیتی، اپنی جدید تعلیم اور شعور کا پاس رکھنے اور سب سے اہم عورتوں کے حقوق کے تحفظ (جن کے بارے قوانین کی کثرت بھی ہے) اور ان قوانین کے نافذ العمل کرنے میں سنجیدگی کے پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک ایسی 'اشرافیہ' جو برادریوں کی رائے پر انحصار کرتی ہو۔ وہ منتخب ہو کر جب پارلیمان میں پہنچتی ہے تو کسی طور بھی اس قابل نہیں ہوتی کہ اوپر بیان کردہ حتمی اقدامات اٹھا سکے۔ یہ لنگڑی لولی اشرافیہ بالخصوص ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پاکستان کے آمریت پسند کلچر میں اور قبائلی نظام زندگی کے اندر رہ کر دشمنیاں اور رقابتیں پالنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی سردار، خان اور نواب ایسا کر بھی گزرے تو اسے اپنے قبیلے، برادری اور عوامی حلقے سے شدید مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ہر قبیلے، برادری اور عوامی حلقے میں اس اشرافیہ کے نمائندوں کو دھول چٹا دینے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا سردار، خان، نوابزادہ اور وڈیرہ اسی اشرافیہ کے اندر ہی ہر وقت تیار بیٹھا رہتا ہے۔
مجھے ان حقائق کا ادراک بلوچستان میں ایک پشتون قبیلے کے سردار کے ساتھ ملاقات میں ہوا۔ بلوچستان کے پشتون صوبہ سرحد اور فاٹا کے پشتونوں کے برعکس بڑی حد تک لگی بندھی مطلق بلوچ روایات کے زیر اثر ہیں۔ اگر اس سردار کی صاف گوئی اور انسانیت سے لبریز فطری طرز نظر میں ہیرو صفتی نظر آئے تو میں آپ کو، اس کتاب کے قاری کو دعوت دوں گا کہ وہ خود اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا وہ یا میں اس حد تک جا سکتے ہیں؟
یہ سردار نوابزادہ ہے۔ ایک قبائلی سردار کا جانشین ہے۔ اس قبیلے نے کسی زمانے میں انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور پھر بعد میں مفاہمت کر لی تھی۔ تب قبیلے کے سردار کو 'نواب' کا لقب عطا ہوا تھا اور اس کی اولاد 'نوابزادہ' کہلاتی ہے۔ اس قبیلے کی یہ کہانی اس خطے کی اس قدیم روایت کی غمازی کرتی ہے جس کے تحت آج کا دشمن، کل دوست اور دوست، دشمن بن سکتا ہے۔ نوابزادہ کا قبیلہ افغان سرحد کے دونوں اطراف میں پھیلا ہوا ہے۔ افغانستان میں اس قبائلی سردار کا اب بھی اثر و رسوخ ہے لیکن بوجوہ بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ اس سردار کے دادا پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن بھی تھے۔
کوئٹہ شہر میں واقع اس سردار کی کوٹھی کے اندر دیواروں پر شکار کیے گئے پہاڑی بکروں کے سر سہرے کی طرح سجا رکھے تھے اور خاندانی آباؤ اجداد کی اسلحہ اٹھائے، تلواریں سجائے اور داڑھیوں والی تصاویر بھی ٹنگی ہوئی تھیں۔ ان تصاویر میں اشخاص کے چہروں پر تاثرات، گھنی داڑھی اور مونچھوں میں بلا کی مماثلت تھی۔ بلوچ سردار کے چہرے پر بھی ایسے ہی تاثرات تھے لیکن بال کافی کم تھے۔ خاصی بڑی مونچھ تو تھی لیکن داڑھی ترشی ہوئی اور قلمیں واضح تھیں اور سر کے بال گھنگھریالے اور لمبے تھے۔ سردار کی اس تراش خراش پر مجھے 1960ء کے زمانے میں لندن کا فیشن یاد آ گیا۔ سردار نے لندن میں بھی کچھ وقت بیتا رکھا تھا اور اس بارے انتہائی تاسف سے بتایا کہ 'وہ وقت میری زندگی کا یادگار اور خوشی سے بھرا ہوا تھا۔۔۔' لیکن میں ایسی جگہ پر ساری عمر نہیں گذار سکتا تھا جہاں میں راستے سے گذرتا تو لوگ مجھے جھک کر سلام نہ کرتے اور 'نواب صاحب' کو کوئی نہیں جانتا تھا۔
بلوچ سردار نے علاقے میں اپنی منصفی کی ذمہ داریاں کچھ یوں بیان کیں:
میرے قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی غریب اور مفلس شخص بھی اگر کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کے بھائی بند قبائلی، میری اور میرے ہمزادوں کے ساتھ دیتے ہوئے اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ وہ شخص چاہے رکشہ چلاتا ہو یا جوتے پالش کرنے کا معمولی کام ہی کیوں نہ کرتا ہو۔۔۔ وہ لوگوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر دیکھ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا سردار موجود ہے اور اس کی پشت پر ایک مضبوط قبیلہ ہے۔
ہمارے پاس قبیلے کے سینکڑوں لوگ ہر ماہ اپنے مسائل لے کر آتے ہیں۔ اگر یہ معمولی مسئلہ ہو تو ہم موقع پر فیصلہ کر دیتے ہیں ۔ اگر معاملہ پیچیدہ ہو تو پھر ہم جرگہ بلا لیتے ہیں اور جرگوئیوں میں سے ہی چند لوگوں کے ذمے معاملے کو دیکھنے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ ہم ایسے معاملات کے لیے دیکھ بھال کر جرگہ کے لوگوں کو چنتے ہیں۔ اگر مسئلہ ٹرانسپورٹ سے متعلق ہو تو ہم ایسے لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں جو اسی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر، کسی لین دین کا ہو تو پھر کاروباری لوگ آ جاتے ہیں۔ اگر مقدمے کے دونوں فریق چاہتے ہوں کہ معاملہ شریعت کی رو سے حل ہو تو ہم مولوی کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ لیکن ایک دفعہ جب جرگہ فیصلہ کر لے تو پھر اس کو لاگو کروانا بھی ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر، چند ماہ قبل ہمارے قبیلے کے ایک لڑکے نے دوسرے کو قتل کر دیا۔ اس مقدمے میں زرتلافی کا فیصلہ ہوا اور اب پیسے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ ہمارے اپنے قبیلے کا مقدمہ تھا، آسانی سے حل ہو گیا۔ لیکن حال ہی میں ایک مقدمہ پیش ہوا تھا جس میں ایک دوسرے قبیلے کے دو لڑکوں نے ہمارے قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کر لی تھی۔ ہم نے ان دونوں کو حراست میں لے لیا اور ہمارے قبیلہ کا جرگہ بیٹھا۔ ہم نے شریعت اور ریاستی قانون کے مطابق گواہان کو پیش کیا اور دوسرے قبیلے کے بڑوں کے ساتھ اس بارے بات کی۔ انہوں نے ہمیں ہرجانہ ادا کرنے کی پیشکش کی لیکن ہم صرف قتل یا زخمی کرنے کے مقدمات میں زر تلافی قبول کر سکتے ہیں۔ اگر جنسی زیادتی میں بھی پیسہ لے لیں تو یہ ہماری عزت اور غیرت کے منافی ہے اور ہماری عورتیں ہمیں طعنہ دیں گی۔ پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے ہم ان دونوں میں سے بے شک بڑے لڑکے کو قتل کر دیں لیکن دوسرے کو چھوڑ دیں۔ چنانچہ ہم نے بڑے لڑکے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور چھوٹے کی ناک اور دونوں کاٹ دیے۔ بڑے لڑکے کی عمر بیس سال سے اوپر رہی ہو گی جبکہ چھوٹا سولہ سال کا تھا۔۔۔'
'یہ کافی درشت انصاف ہے۔۔۔' میں نے لقمہ دیا،
'ہاں لیکن اگر ہم اس معاملے کو عدالت لے جاتے تو فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جاتے اور اس دوران یہ دونوں لڑکے گلیوں میں آزاد پھرتے اور کئی دوسری لڑکیوں کو نشانہ بناتے اور ہم پر ہنسا کرتے۔ اس سے قبائل کے درمیان مزید تلخی پیدا ہو جاتی اور آخر میں کئی لوگوں کا قتل ہو جاتا۔ یہ ہمارا قبائلی نظام ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اگر یہ اتنا ہی برا اور درشت ہوتا تو لوگ اس کو کب کا ترک کر چکے ہوتے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ ایک سخت فیصلہ ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص قتل و غارت اور ہماری لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہ سکے۔۔۔
اس نظام سے ہمیں امن قائم رکھنے اور قبائل کے بیچ خون خرابے کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں ہم نے ایک دوسرے قبیلے کے ساتھ جنوبی پنجاب میں زمین پر تنازعے کا حل نکالا ہے۔ چھ برس قبل، دونوں قبائل کے بیچ زمین کی ملکیت پر لڑائی ہو گئی تھی۔ دونوں قبائل کے دو دو آدمی قتل ہو گئے تھے اور ہمارے چار آدمی پچھلے چھ برس سے ملتان کی جیل میں پڑے ہوئے تھے۔ ہمارے قبیلے کے جرگے نے دوسرے قبیلے کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تصفیہ کر لیا ہے۔ وہ ہمارے آدمیوں کے خلاف مقدمات کو ختم کر دیں گے، ہم اسی ہفتے ملتان جائیں گے تا کہ اپنے آدمیوں کو جیل سے نکال لائیں۔ ملتان سے واپس آ کر ہمارا قبیلے دوسرے قبیلے کے جرگہ کے لیے دعوت کا اہتمام کرے گا، جس میں ہم باقاعدہ ایک دوسرے کو معاف کرنے کا وعدہ کریں گے۔ اس سے اگلے ہفتے وہ ہمارے لیے دعوت کا انتظام کریں گے۔'
'۔۔۔لیکن کیا یہ پاکستان کے قانون کے مطابق ہے؟' میں نے پوچھا،
'کونسا قانون؟ اس ملک میں کوئی واقعی قانون کہاں ہے ؟ اگر کوئی کارآمد قانون ہوتا تو پھر یہ لوگ میرے پاس اپنے مسائل لے کر مدد مانگنے کیوں آتے؟ میں اپنی مرضی سے یہ کام نہیں کرتا۔۔۔ میرا کراچی میں اپنا کاروبار ہے اور ان قبائلی معاملات کے لیے مجھے اس کاروبار کو چھوڑ کر آنا پڑتا ہے۔ لوگ میرے پاس اور میرے ہمزادوں کے پاس اس لیے آتے ہیں کیونکہ وہ ہماری عزت کرتے ہیں۔ یہ ہمارے نام کے ساتھ نوابزادہ دیکھ کر نہیں آتے بلکہ وہ اس لیے آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا کردار صاف ہے اور ہم انصاف کرنا جانتے ہیں۔ میں تو سراسر اپنے لوگوں کی دی ہوئی عزت کے بل بوتے پر چلتا ہوں۔ اس کے علاوہ تو میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ پولیس میری تابع ہے اور نہ ہی عدالتوں سے مجھے کوئی مدد ملتی ہے۔۔۔'
میں نے 'غیرت' سے متعلق مقدمات میں عورتوں کو دی جانے والی سزاؤں کے بارے پوچھا اور یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ چونکہ وہ کافی دیر تک انتہائی ترشی کے ساتھ اپنے ملک اور قبیلے کو لوگوں کی جہالت اور کند ذہنی کا گلہ کرتے رہے تھے، کیا نوابزادہ صاحب خود اپنے ہی روشن خیالات کو متعارف کروانے کے قابل ہوئے ہیں؟ اس پر جواب ملا،
'بعض اوقات تو جرگہ بلا لیا جاتا ہے لیکن مقدمے کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ اس پر مزید کمیٹی بنانے اور تفتیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اگر معاملات صاف ہوں تو میں جانتا ہوں کہ قبیلہ کیا سوچتا ہو گا، یہی کہ 'اس کا فیصلہ تو یہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔' لیکن عورتوں سے متعلق مقدمات کبھی سادہ نہیں ہوتے اور مجھے ہمیشہ ہی قبیلے کا ذہن پڑھنے میں وقت لگ جاتا ہے اور ان کی رائے سمجھنا مشکل ہوتی ہے۔ قبائل میں جو حقوق کی بات ہوتی ہے۔۔۔ عورتیں ہی نہیں، مرد بھی ان سختیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ویسے بھی۔۔۔ اس ملک میں باقی کس کو واقعی حقوق حاصل ہیں؟
چونکہ میں نے کئی سفر کر رکھے ہیں اور تعلیم یافتہ بھی ہوں، تو میرے لیے عورتوں سے متعلق اس طرح کے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ میں سوچ سوچ کر ہلکان ہو جاتا ہوں کہ آخر کیا فیصلہ ہو اور ان کے ساتھ کیسے نبٹوں؟ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مثال کے طور پر قبیلے کی سرداری سنبھالتے ہی میں نے پہلا فیصلہ یہ کیا تھا کہ میں کسی صورت بھی مقدمات کو حل کرنے کے لیے عورتوں کے تبادلے اور انھیں تلافی کی صورت بنانے کی اجازت نہیں دوں گا۔ ہمارے قبائلی نظام میں ایسے فعل اب بھی عام ہیں لیکن میں اپنے قبیلے میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ بجائے، میں قبائلیوں کے بیچ فیصلوں میں پیسے کو استعمال میں لانے کو فروغ دیتا ہوں۔ اگر کوئی قبائلی پھر بھی راضی نہ ہو تو دوسرے فریق سے مزید پیسے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن عورتوں کا لین دین۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ اس جرگے میں یہ کسی صورت نہیں ہو گا۔
اسی طرح میں اپنے جرگوں میں کبھی کسی لڑکی کو کسی سے شادی کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اگر یہ دو خاندانوں کے بیچ باقاعدہ اور پہلے سے طے شدہ معاملہ ہو تو پھر دوسری بات ہے۔ اگر کوئی جوڑا بھاگ کر، اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کر لے تو میں ان لوگوں پر دباؤ ڈالتا ہوں کہ وہ اس جوڑے کو قتل کرنے کی بجائے شادی تسلیم کر لیں لیکن لڑکے کے خاندان پر جرمانہ ضرور عائد کرتا ہوں کیونکہ یہ لڑکی کے خاندان کی عزت برقرار رکھنے اور قبیلے میں ان کی ناک کٹنے سے بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ عورتوں سے متعلق اس طرح کے مسائل میں میری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ انتہائی احتیاط سے کام لوں۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اس طرح کے معاملات میں نہ ہی پڑوں تو بہتر ہے۔ جب میں سمجھتا ہوں کہ خون خرابے کے بغیر ایسے مسائل حل کر سکتا ہوں تو کر لیتا ہوں ورنہ مقدمہ اپنے کسی ہمزاد کے حوالے کر دیتا ہوں۔'
'تو کیا آپ کے ہمزاد بھی آپ کی طرح روشن خیالی سے ان معاملات کو دیکھتے ہیں؟'
'یہ تو خیر ان کا اپنا معاملہ بن جاتا ہے لیکن دیکھیں، جہاں ممکن ہو۔۔۔ میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے میرے اپنے گھر اور کنبے میں اکثر ناچاقی پیدا ہو جاتی ہے۔ میں کسی بھی معاملے میں جرگے کو کہہ سکتا ہوں کہ میں ان کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں اور اگر وہ اس کو پسند نہیں کرتے تو بے شک مقدمہ پولیس اور عدالت کے پاس لے جائیں۔۔۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ کوئی بھی شخص میری اطاعت نہیں کرے گا۔ اور ویسے بھی، پھر میری بات کون مانے گا؟ یہ ضرور ہے کہ عورتوں سے متعلق مقدمات میں کبھی کبھار میں ایسا کر لیتا ہوں کیونکہ آخر میں خود بھی تو بیٹیوں کا باپ ہوں۔ اگر کاروبار کا کوئی مسئلہ ہو تو میں جرگے کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو سکتا ہوں لیکن ایسے نازک معاملات میں۔۔۔ بات یہ ہے کہ اگر پیسے کا معاملہ ہو تو کسی نہ کسی طرح دوسرے شخص سے پیسہ نکالا جا سکتا ہے لیکن عورتیں۔۔۔'
میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ بلوچ سردار واقعی عورتوں سے متعلق مقدمات میں احتیاط برتنے کی پوری کوشش کرتا ہے یا نہیں لیکن مجھے یہ یقین ضرور ہو گیا کہ وہ ایسا ضرور چاہتا ہے۔ آگے چل کر ہم چند دوسرے بلوچ سرداروں کے بارے بھی جانیں گے جو اس سردار کے برعکس پوری زور و شور سے قبائلی جرگوں کے سخت اور ناجائز فیصلوں کی حمایت کرتے رہے۔ وہ بلوچ سردار بھی پڑھے لکھے اور بیرون ملک سے ہی تعلیم یافتہ تھے اور بے شک۔۔۔ اسی سردار کی طرح، 'جمہور پسند' بھی واقع ہوئے تھے۔

سرورق: مختیار مائی- 2002ء میں مظفرگڑھ کی ایک پنچایت میں فیصلے کے نتیجے میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائی گئیں / اے ایف پی/ 2016ء

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر