کیوں بھئی پیارے؟

بہت پہلے کی بات ہے۔ اب یہ تو یاد نہیں کتنا پہلے لیکن بہت ہی پہلے کی بات ہے۔ اس وقت میں لونڈا لپاڑہ ہوتا تھا اور مجھے علم ہی نہیں تھا کہ میں لونڈا لپاڑہ ہوں بلکہ کیا سرے سے کچھ ہوں؟ ان دنوں مجھے رہ رہ کر ایک خیال آیا کرتا تھا کہ بھئی، تم کس لیے جیتے ہو؟ تمھارا مقصد کیا ہے؟ تم پیدا ہوئے، تم پڑھ لکھ گئے اور اب تم نوکری بھی کرتے ہو۔ کبھی کبھار کچھ لکھ بھی لیتے ہو، لیکن اس سارے قضیے کا مقصد کیا ہے؟ اب یہ وہ وقت تھا کہ جب کسی کو مجھ سے کوئی توقع نہیں تھی۔ کوئی پوچھتا نہیں تھا، اس لیے اپنی ہی دھن میں مگن رہتے تھے۔
اچھا، دھن کیا تھی؟ دھن یہ ہوا کرتی تھی کہ جس طرف منہ اٹھایا ،نکل لیے اور سوائے بی بی جی۔۔۔ کسی کو فکر نہ ہوتی تھی۔ نوکری اچھی تھی تو خوب گھومتے تھے۔ سب سے پہلے تو اپنا ضلع دیکھا، پھر دوسروں کے اضلاع دیکھنے نکل گئے۔ کیسے کیسے لوگ ملے؟ ان پر پھر کبھی لکھیں گے۔ بہرحال، سگرٹ وغیرہ پی لیتے تھے۔۔۔ اورکبھی کبھار فلم دیکھ لیتے تھے۔ کھانے پینے کا اتنا شوق نہیں تھا لیکن پھر بھی یار دوستوں کے ساتھ۔۔۔ یہ بھی بھلا کوئی دھن تھی؟ تو اس بیکار کی دھن میں ایک خیال آیا کرتا تھا کہ بھئی، تمھیں تو چالیس برس کی عمر میں چل بسنا چاہیے۔ اب، اس دھن میں زیادہ جی کر کیا کرو گے؟
تو یہ خیال پکا ہو گیا۔ میں نے طے کر لیا کہ چالیس سال کی عمر میں مر جاؤں گا۔ میں نے تیاری بھی شروع کر دی۔ میں نے ایک دن ادریس کو یہی بتایا کہ، میں چالیس سال کی عمر میں مر جاؤں گا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور پھر تونسہ کی سرائیکی ہنسی میں زور دار قہقہہ لگایا اور منہ بھر کر گالی بک دی۔ میں جھینپ تو گیا لیکن اب ادریس سے کیا شرمندہ ہوتے؟
پھر یوں ہی چلتے رہے۔ کئی موڑ آئے۔ ایک موڑ پر تماز بھی آ گیا۔
اب جب تماز آ گیا تو مجھے سمجھ نہ آئے کہ میں اپنے اس خیال کے ساتھ کیا کروں؟ ایک طرف وہ خیال تھا اور دوسری جانب تماز تھا۔ اسی لیے فوراً ہی زندگی کا بیمہ کروا لیا۔ اس سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو اگلے ہی برس، ایک اور بیمہ بھی کروا لیا کہ چلو۔۔۔ چالیس برس کی عمر میں مر بھی گئے تو ۔۔۔ لیکن تسلی نہیں ہوئی۔ جیسے جیسے وقت آگے بڑھا، اس خیال کی بات بھی بڑھتی چلی گئی۔ مجھے سخت خوف آنے لگا۔ پھر ایک دن اچانک اس خوف سے تنگ آ کر بیٹھے بٹھائے خیال آیا، بھئی۔۔۔ تم تو مرنا ہی نہیں چاہتے!
میرا ایک دوست ہے۔ اس کا نام امتیاز شاہ ہے۔ کچھ دن پہلے، شاہ جی نے مجھ سے کہا کہ 'کولیٹرل بیوٹی' نامی ایک فلم ہے۔ وہ ضرور دیکھ لوں۔ تو میں نے وہ فلم دیکھ لی۔ اس فلم میں ایک منظر ہے۔ ایک کردار ہے جسے کینسر کا مرض لاحق ہے اور وہ جلد ہی مرجائے گا۔ تو اس کو فلم کا ایک دوسرا کردار کہتا ہے، بھئی۔۔ میں نے پتہ لگایا ہے کہ تم جیے تو خوب ہو۔۔۔ لیکن تمھارا مرنا ٹھیک نہیں ہے۔ تمھیں چاہیے کہ تم اپنوں کو آگاہ کرو۔۔۔ انھیں تیاری کا موقع دو، انھیں اس امر سے محروم نہ کرو۔ تس پر وہ جلد ہی مر جانے والا کردار کہتا ہے کہ، 'پتہ ہے۔۔۔ میں کبھی اس حق میں ہی نہیں رہا کہ کوئی تا دیر جیا کرے۔۔۔ اب سو سال تک کوئی کیوں جیے؟ لیکن اب میں جینا چاہتا ہوں۔ میں سو سال تک جینا چاہتا ہوں۔ ذرا سوچو، جب میں سو برس کا بڈھا ہوں گا تو میرا بیٹا ستر برس کا ہو گا۔ میرا پوتا، چالیس برس کا اور پڑپوتا قریباً دس برس۔۔۔ میں دادا ہی نہیں، پردادا ہوں گا۔ میں مرنا نہیں چاہتا، میں پردادا بننا چاہتا ہوں!
میری اماں، بی بی جی آج ستر برس کی ہو گئی ہیں۔ پچھلے برس انھیں نمونیہ ہو گیا۔ وہ خوب بیمار پڑ گئیں۔ یہی نہیں بلکہ جنوری کے انھی دنوں میں ان کے اکلوتے ، چھیاسٹھ برس کے سگے بھائی کا بھی انتقال ہو گیا تو بہت ہی عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی۔ ایک دن میں ان کے ساتھ چمٹا کچھ دوائی دارو کر رہا تھا اور نقاہت ان کے رو رو سے ٹپک رہی تھی۔ ان کی حالت ایسی تھی کہ بعض دفعہ دوائی پلانے کے لیے پوری کشتی کرنی پڑتی تھی۔ اسی کشمکش میں، وہ پیچھے کو ڈھلک کر بیٹھیں اور بولیں۔۔۔ تم مجھے مرنے کیوں نہیں دیتے؟ میں پہلے ہی بہت جی چکی ہوں۔۔۔ اب تم مجھ سے اور کیا چاہتے ہو؟ یہ سن کر میں ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔ مجھ سے ان کی آنکھوں میں التجا اور بے بسی تیرتی ہوئی نظر آئی۔ پھر کیا ہوا؟ میں بے ساختہ بولا، 'فی الوقت تو میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ سو سال پورے کر لیں۔۔۔ پھر آگے دیکھیں گے، کیا کرنا ہے!' میں نے دیکھا، ان کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی بے بسی دیکھتے ہی دیکھتے ہوا ہو گئی اور جیسے۔۔۔ دیدے روشن ہو گئے۔پھر چند دن کے اندر وہ چنگی بھلی بھی ہو گئیں۔ یہ ضرور ہے کہ انھیں اب بھی درد۔۔۔ نقاہت اور دوسرے مرض وغیرہ رہتے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ جینا چاہتی ہیں۔
تو میں نے ایک خیال پالا تھا کہ میں چالیس برس کی عمر میں مر جاؤں گا۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ اب میں مرنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے پیاروں کے لیے جینا چاہتا ہوں لیکن وقت ہے کہ جیسے تیز ندی کی طرح بہتا ہی چلا جا رہا ہے۔ تماز بھی اب چار برس کا ہو جائے گا۔ چار برس۔۔۔ ایسے گزرے جیسے تیز ہوا گزر جاتی ہے۔ تو مجھے اس کا بہت افسوس لگ گیا۔ وقت اتنی تیزی سے کیوں گزر رہا ہے؟ یہ موا، ٹھہرتا کیوں نہیں ہے؟ لیکن وقت ہے۔۔۔ کیا کیجیے؟
اب میں آپ کو مزید کیا بتاؤں؟ یہ آخری بات ٹک ٹاک سے متعلق ہے۔ ٹک ٹاک بارے تو پھر کبھی۔۔۔ لیکن ٹک ٹاک پر ایک بندہ ہے۔ اس کا نام نصیر بلوچ ہے اور غالباً بہت ہی مشہور ہے۔ چند دن پہلے، میں ٹک ٹاک پر وقت ضائع کر رہا تھا۔ یہ بھی عجب معاملہ ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور میں اسے ضائع بھی کرتا ہوں۔۔۔ اس پر بھی پھر کبھی سہی، لیکن ابھی نصیر بلوچ کے متعلق سنیے۔غالباً وہ کوئی مزدور ہے اور کسی اینٹ کے بھٹے پر کام کرتا ہے اور ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا کر خوش رہتا ہے۔ بہرحال، اس کا ایک بیٹا ہے۔ بہت ہی چھوٹا سا، غالباً دو یا تین برس کا ہو گا؟ اس کی ایک ویڈیو نظر آئی۔ اس ویڈیو کا منظر کچھ یوں تھا:
اینٹ کے بھٹے پر نصیر بلوچ مٹی کیچڑ سے اٹے ہوئے کپڑے پہنے۔۔۔ کچے راستے پر اپنے ہی جیسے ٹک ٹاک پارٹنر کے ساتھ ننگے پیر ایسے آگے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے جیسے تیز دوڑتا ہو۔ ان دونوں کے درمیان میں اس کا بیٹا بھی ننگے پیر چلتا آ رہا ہے۔ ویڈیو میں نظر تو یہ آتا ہے کہ نصیر بلوچ اور اس کا دوست تیز بھاگ رہے ہیں لیکن وہ چھوٹا سا بچہ اپنی ہی دھن میں، اپنی رفتار سے دیکھ بھال کر، آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ اب اگر نصیر بلوچ تیز بھاگے تو اپنے بیٹے سے بہت آگے نکل جائے گا لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ وہ نظر تو یوں آ رہا ہے کہ کسی اتھلیٹ کی طرح تیز بھاگتا دکھائی دیتا ہے لیکن۔۔۔ اس کی رفتار بالکل اتنی ہی ہے جتنی کہ اس بچے کی ہے۔ وہ ویڈیو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ تینوں تیز رفتاری سے آگے بھی بڑھ رہے ہیں اور دھیمے بھی ہیں۔ وقت تیزی سے گزر بھی رہا ہے اور یہ ٹھہرا بھی ہوا ہے۔
یہ ویڈیو دیکھ کر جیسے گتھی سلجھ گئی۔ اینٹ کے بھٹے پر مزدوری کرنے والا نصیر بلوچ، بقول شخصے، بازی لے گیا۔ صاحبو۔۔۔ جیسے بادل چھٹ گئے۔ مجھے یہ پتہ چلا کہ آدمی نے آخر مر ہی جانا ہے۔ وہ آج مرے، کل مرے۔۔۔ چالیس برس کی عمر میں مرے۔۔۔ سو برس پورے کر لے یا پھر پردادا بن کر مرے لیکن آخر ہم نے مر ہی جانا ہے۔ یہ آج تک کی، پہلی حققیت ہے۔ پھر مجھے یہ پتہ چلا کہ وقت ہے۔۔۔ یہ گزر کر ہی رہے گا۔ اسے روک لگانا، ٹھہرانا ناممکن ہے۔ یہ دوسری حقیقت ہے۔
یہ دونوں حقیقتیں تو گویا، اٹل ہیں۔ مجھے آخر میں یہ پتہ چلا کہ ہم اپنی حقیقت بھی تخلیق کر سکتے ہیں۔ ایسی تصوراتی حقیقت کہ جس میں وقت ٹھہر جاتا ہے اور ہم طویل مدت تک جی بھی سکتے ہیں۔ میں نے یہ سمجھ لیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ مجھے جلد یا بدیر حقیقت کا سامنا تو کرنا ہی ہے لیکن۔۔۔ مجھے اپنی حقیقت بھی تخلیق کرنی ہے۔ اس کے لیے صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنی رفتار میں کمی لانی ہے اور اسے تماز کی رفتار کے ساتھ ملانا ہے۔ پھر کیا ہو گا؟ پھر یہ ہو گا کہ بھلے میں چالیس برس کی عمر میں مر جاؤں لیکن میں آہستہ، آہستہ۔۔۔ ایک ایک لمحہ خوب مزے لے لے کر بسر کروں گا۔ پھر گھنٹے دن اور سال صدیاں بن جائیں گی۔ میں ایک ایک دن میں کئی کئی برس جی پاؤں گا۔ لیکن، اس کام کے لیے آپ کو ایک پیارا چاہیے۔ اس پیارے کو ہمراہ رکھنا ضروری ہے، اس کے قدم میں قدم ڈال کر چلنا، واحد شرط ہے۔
اب میں کیا کرتا ہوں؟ میں نے یہ بھی جانا ہے کہ جتنے پیارے ہوں گے، یہ وقت اتنا ہی پھیلتا جائے گا۔ تو اب میں اور کچھ بھی نہیں کرتا۔ بس پیارے ڈھونڈتا رہتا ہوں۔ جب مجھے کوئی پیارا ملتا ہے تو میں اسے پکار کر کہتا ہوں، کیوں بھئی پیارے۔۔۔ ایک ایک لمحے میں سو سو سال جینا چاہتے ہو؟

- ختم شد -

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر