بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے۔۔۔



آج سے چار سال پہلے کی بات ہے۔ مجھے دفتری کام کی غرض سے بنوں جانا پڑا۔۔۔ یہ سطر لکھ دی تو بوجوہ خیال آیا کہ وضاحت کر دوں۔ مجھے واقعی دفتری کام پیش آ گیا تھا۔ 
یہ وضاحت ضروری تھی۔ وہ یوں کہ اسی دن اور اسی حوالے سے یہ سنتے جائیں۔ 
ہمارے ایک دوست ہیں۔ وہ ذات کے کاکڑ ہیں لیکن ان میں کاکڑ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے زندگی میں دو چار ہی کاکڑ دیکھ رکھے ہیں لیکن یہ صاحب باقی کے تین کاکڑوں سے پرے لگتے ہیں۔ ایسے جیسے یہ کاکڑ  ہی نہیں ہیں۔
خیر آگے سنیے۔ پشاور سے یا پھر راولپنڈی سے بنوں جائیں تو وہاں پہنچنے کو دو راستے ہیں اور دونوں ہی انڈس ہائی وے سے نکلتے ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو اب شاہراہ عام ہے۔ یعنی اچھی بھلی پکی سڑک ہے جو کھلے میدانوں میں دوڑی دوڑی بنوں پہنچ جاتی ہے۔ دوسرا راستہ پہاڑی ہے اور بل کھاتا بنوں کو جا لگتا ہے۔ یہ کبھی عام راستہ تھا لیکن اب نہیں ہے۔ پہلے پہل لوگ بنوں سے ہو کر بنوں سے آگے  جیسے ڈیرہ اور کراچی وغیرہ جایا کرتے تھے۔ اب انڈس ہائی وے پر فراٹے بھرتے باہر سے ہی نکل جاتے ہیں۔ بہرحال یہ پہاڑی علاقہ کافی دلچسپ ہے اور کرک کی سوکھی، نمکین دھرتی سے ہو کر گزرتا ہے۔ بہت سے موڑ ہیں اور سفر بہت ہی دلچسپ ہوتا جاتا ہے۔ دو ایک نالے بھی آتے ہیں۔ ان میں بھی نمک کی سفیدی پھری ہوتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے پہاڑیاں مرچ مسالے جیسی گہری بھوری اور بہنے والا پانی نمک جیسا سفید ہے۔ بھلا منظر ہوتا ہے۔ عام طور اس راستے سے مقامی لوگ ہی جاتے ہیں، اس دن ہم بھی نکل لیے۔ میں نے چند تصاویر بنائیں، ویڈیو بھی بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ کاکڑ صاحب نے وہ سب دیکھا اور فوراً پوچھنے لگے، 'بنوں جا رہے ہو؟' میں نے کہا، 'ہاں!' تو فٹ بولے، 'تمھیں کچھ مجبوری آن پڑی ہے یا پھر عادت ہی ایسی ہے؟' تو، آپ بھی لکھ رکھیے۔۔۔ کاکڑ، اتنا بھی کاکڑ نہیں ہے اور مجھے واقعی دفتری کام پیش آ گیا تھا۔
تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، مجھے دفتری کام کی غرض سے بنوں جانا پڑا۔ میں الماس کے ہمراہ تھا۔ الماس، سیالکوٹیا ہے۔ اس کی رگ رگ میں مزاح بھرا ہے تو سفر خوب گزرتا ہے۔ وہ غالباً پہلی بار بنوں جا رہا تھا۔ اب مجھے علم نہیں ہے کہ دفتر کا منتظم اسے بنوں بھیجنے پر راضی کیونکر ہو گیا کیونکہ عام طور بنوں وغیرہ جانے کے لیے ڈرائیوروں کے لیے پشتو زبان کی شرط لازم ہوتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا، اس کے کئی رشتے دار طویل عرصہ سے بنوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک سیالکوٹیا، جس کے رشتہ دار بنوں میں بھی ہوں۔۔۔ یہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ تو ہم بنوں پہنچ گئے۔ اگلی صبح میں دفتر کے کام میں لگ گیا اور الماس نے مجھ سے کہا، 'میں شہر دیکھ لوں؟' الماس غالباً چالیس کے پیٹے میں ہے لیکن میں نے احتیاطاً، بنوں کے دفتر میں ایک دوسرے ڈرائیور کو نئے شہر میں اس کے ہمراہ کر دیا اور کہا، گھوم پھر لو۔۔۔ دوپہر تک واپس آ جائیو۔ وہ جب واپس آیا تو مرچ مسالوں، حلوے اور اونی شالوں سے لدا ہوا آیا۔ یہ بنوں کی سوغات تھی، جو اس نے لازمی خریدنا چاہیں۔ 
دفتر سے گیسٹ ہاؤس واپسی پر الماس مجھ سے کہنے لگا، 'سر آپ نے ایک بات نوٹ کی ہے؟' میں نے پوچھا، 'وہ کیا؟' تو کہنے لگا۔۔۔ 'بنوں میں آپ کو حجام کی دکانیں نظر نہیں آئیں گی۔۔۔' میں نے دلچسپی سے پوچھا، 'یہ بھلا کیا بات ہوئی؟ اتنا بڑا شہر ہے۔۔۔ حجام کیوں نہ ہوں گے بھلا؟' تو اس نے کہا، 'نہیں۔۔۔ واقعی، میں نے پورا بازار چھان مارا ہے۔۔۔ اکا دکا ہی ہیں!' پھر اس نے توقف کیا اور خود ہی کہنے لگا، 'مجھے تو لگتا ہے۔۔۔ بنوں میں حجاموں کا کاروبار نہیں چلتا ہو گا۔۔۔ آپ خود دیکھیں، سب نے گز گز لمبی زلفیں بڑھا رکھی ہیں اور سر پر پکول نامی پشتون ٹوپیاں جیسے فرض ہوں۔۔۔ ایسی جگہ، کوئی حجام کتنی دیر ٹک سکتا ہے؟' میں قدرے متفق تو ہوا لیکن یہ الماس کا مشاہدہ تھا۔ میں نے پہلی بار بغور لوگوں کو دیکھا۔۔۔ وہ سارے ایک ہی رنگ کے تھے۔ ایک ہی طرح سے زلفیں تراش رکھی تھیں، ایک ہی طرح کی پکول، ایک ہی طرح کی گھیرے دار شلواریں اور ایک ہی طرح سے شانوں پر چادریں پھیلا رکھی تھیں۔ پتہ یہ چلا کہ یہ سارے شمالی وزیرستان کے قبائلی ہیں جو سال ڈیڑھ پہلے، آپریشن کے سبب یہاں ہجرت کر کے منتقل ہوئے ہیں۔۔۔ اور انھی قبائلیوں سے اگلے روز ہماری ملاقاتیں بھی طے تھیں۔ 
میں نے الماس کو بنوں بارے کچھ باتیں بھی بتائیں۔۔۔ جیسے، یہ قدیم شہر ہے۔ یہ اتنا قدیم ہے کہ اس کے بعض علاقوں جیسے 'بھرت' وغیرہ کا ذکر تو ہندو اساطیر سے بھی ملتا ہے۔ ویسے یہ شہر انگریز دور میں، پہلے پہل چھاؤنی بنایا گیا تھا مگر اس سے قبل اس کو کابل اور ہندوستان کے بیچ شاہراہ قرار دیا جاتا تھا۔ یہ بھی کبھی پنجاب کا حصہ تھا اور پھر بیسویں صدی کے اوائل میں شمال مغربی سرحدی صوبے کا حصہ بن گیا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ الماس کو مزید متاثر کرنے کے لیے میں نے اس رات بنوں کی تھوڑی بہت تاریخ پڑھی۔ اگلے روز صبح اسے مزید باتیں بتائیں، جن سے وہ چنداں متاثر نہیں ہوا۔ لیکن، جب میں نے اسے بتایا کہ طویل عرصہ سے یہاں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر تو بنوچی ہیں لیکن ان کے علاوہ مروت، وزیر، نیازی، سید، ہندو اور جٹ اعوان وغیرہ بھی ہوتے ہیں تو وہ چہک اٹھا۔ ترنت بولا، 'اب سمجھ آئی۔۔۔ ہمارے رشتہ دار یہاں بھی کیوں پائے جاتے ہیں؟'
ہم سویرے ہی نکلے اور بنوں میں جہاں جہاں شمالی وزیرستان کے قبائلی خیمہ زن تھے، ان سے ملنے پہنچ گئے۔ دن بھر خوب رونق لگی رہی۔ جہاں بیٹھتے، وہیں محفل جم جاتی۔ مجھے پشتو کے جنوبی لہجے پر ایک دفعہ پھر ہاتھ صاف کرنے۔۔۔ جبکہ قبائلیوں کو ہنسنے کا موقع مل گیا تھا۔ جہاں بنوں کے شہریوں اور دیہاتیوں نے قبائلیوں کو بیٹھکیں اور حجرے کھول کر دے دیے تھے، وہ قدرے بہتر حالت میں تھے۔ وہ مجھے یوں احساس ہوا کہ ان کی بیٹھکوں اور حجروں میں اسلحہ بھی سنبھال کر رکھا گیا تھا۔ جیسے نمائش کرتے ہوں۔ مجھے یاد آیا۔ ایک دیہی بیٹھک میں جا کر براجمان ہوئے تو میں نے دیکھا کہ سڑک پر نصب شدہ کوڑے دان اکھاڑ کر اندر رکھ دیا تھا۔ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا تو میزبان نے بتایا، 'یہ تحصیل کونسل والوں نے یونیسیف کے تعاون سے نصب کیے تھے۔ ہمیں ڈر ہوا کہ اس کوڑے دان میں بم پھینک دے گا۔۔۔ اسی لیے اکھاڑ کر اندر رکھ دیے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی۔۔۔ اس علاقے میں دھماکہ بھی ہوا تھا'۔ میں نے سوچا، دیکھو تو۔۔۔ یہ بد امنی کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے۔ بنیادی سہولت بھی کسی قابل نہیں چھوڑتی۔
بہرحال، اسی دن ہم ایک عارضی کیمپ بھی گئے تھے۔ یہاں حالت ابتر تھی۔ ایک کھلے میدان میں بیس پچیس خیمے نصب تھے اور باہر سڑک کی جانب ایک خیمے کو حجرہ بنا رکھا تھا۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ قبائلی، سب سے پہلے حجرہ بناتے ہیں۔ خیر، اس خیمہ نما حجرے میں سخت گرمی تھی۔۔ ہم نے باہر سائے میں محفل لگانے کو ہی بہتر سمجھا۔ اس  عارضی خیمہ بستی کا حال بھی کچھ ایسا تھا جیسے کوئی قبائلی گاؤں ہوتا ہے۔ غالباً یہ سارے ایک ہی کنبے کے لوگ تھے۔۔۔ ان کے مشران، چار چھ بوڑھے اور پکی عمر کے تھے۔ سفید داڑھیاں، بڑی پگڑیاں، گھیرے دار شلواریں اور چہرے پر جیسے بلا کی داستانیں چھپی ہوں۔ ان کے سوا جتنے باقی قبائلی تھے۔۔۔ ادھیڑ عمر، جوان، نوجوان اور لونڈے لپاڑے۔۔۔ سبھی نشست کے دوران ادب سے چپ چاپ بیٹھے رہے اور صرف اسی وقت بولتے پائے گئے، جب مشر چپ ہوتا یا پھر انھیں بولنے کا اشارہ کرتا۔ مجھے تو بھئی اس نشست میں بہت مزہ آیا۔۔۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ اول سبھی اپنی نہیں ہانک رہے تھے بلکہ ترتیب برقرار تھی اور دوم یہ کہ بوڑھے بزرگوں کی باتیں کافی دلچسپ ہوتی ہیں۔۔۔ تجربے سے پر ہوتی ہیں۔ پھر، اگر وہ ایسے قبائلی ہوں جنھیں اس عمر میں یہ ساری کوفت اٹھانی پڑی تھی۔ ان کی باتوں میں عجب رنگ نکل آیا تھا۔ اس کنبے نے غالباً بہت دور، غالباً وزیرستان کے دوسرے کونے سے پیدل سفر کیا تھا۔ ان میں زیادہ تر پہلی بار اپنے گاؤں سے نکل کر یہاں تک پہنچے تھے۔ ان کی عورتوں، لڑکوں اور بچوں نے گھر کی چھتوں اور گاؤں کی زمین سے باہر کچھ بھی، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان کی ہجرت کی داستان المناک تھی۔ وہ دو سال پہلے یہاں پہنچے تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ دوسروں کی واقفیت تھی۔۔۔ انھیں سر چھپانے کو بیٹھکیں اور حجرے مل گئے۔ کسی نے ان پر نوازش کی اور اپنا خالی میدان ان کے حوالے کر دیا۔ اس پر انھوں نے امدادی خیمے لگا دیے۔ اب دو سال ہو چلے تھے۔ وہاں کھیتی باڑی کرتے، سرحد کے اس پار کاروبار کیا کرتے تھے۔ قانونی طور پر ان کے کاروبار کی چونکہ کوئی حیثیت نہیں تھی، اسی لیے اسے عام طور پر سمگلنگ سے موسوم کیا جاتا ہے۔۔ خیر، یہاں ان کے لڑکے، جوان اور ادھیڑ عمر۔۔۔ دن بھر بنوں کی منڈی میں مزدوری کرتے تھے اور اقوام متحدہ کی امداد بھی ملتی تھی۔ یہ محفل اس قدر دلچسپ تھی کہ ہمیں پتہ ہی نہ چلا کہ باتیں کرتے۔۔۔ تین گھنٹے گزر گئے۔ 
قبل اس کے، ہم اس بھلے کنبے کے مشران سے رخصت لیتے۔۔۔ میں نے آخری سوال پوچھا، 'اگر آج حکومت واپسی کا اعلان کر دے تو آپ واپس جانا چاہیں گے؟' اس پر بوڑھے قبائلی نے داڑھی پر ہاتھ پھیر کر ٹھیٹھ جنوبی پشتو میں جواب دیا، 'ہم تو دو سال سے اسی آس پر بیٹھے ہیں۔۔۔ کون ہے جو ان خیموں میں رہنا چاہتا ہے؟ اللہ غارت کرے۔۔۔ ہمیں تو اپنی زمین واپس چاہیے۔ ہم اپنی زمین پر اب انھیں (طالبان) اور نہ ہی انھیں (آرمی) دیکھنا چاہتے ہیں!'۔ اسے احساس ہوا کہ شاید کچھ زیادہ بول دیا ہے۔ اس نے فوراً تصحیح کی، 'ہمیں بس امن اور اپنا دیس چاہیے۔۔۔'۔ اسے پھر بھی تسلی نہیں ہوئی۔ وہ منجھا ہوا آدمی تھا، بات کا رخ موڑنے کے لیے نوجوانوں کی طرف اشارہ کر کے مزید بولا، 'ہم بوڑھے تو آج ہی واپس چلے جائیں گے۔۔۔ مگر پتہ کیا؟ یہ لونڈے اب واپس نہیں جا پائیں گے'۔ میں نے حیرانگی سے اپنے گرد درجنوں قبائلی جوانوں کی طرف دیکھا اور پوچھا، 'کیوں بھئی؟' 
بوڑھے قبائلی نے قہقہہ لگایا اور بولا، 'بھئی، ان حرام خوروں کو فیس بک کی لت پڑ گئی ہے!' اس پر ساری محفل کشت زعفران بن گئی۔ ہم نے ان سے رخصت لی۔ باقی کا دفتری کام نبٹا کر لوٹ آئے۔ اب بھی، کبھی کبھار بنوں جانا ہوتا ہے۔ وہ بوڑھا مشر، اس کا کنبہ اور باقی کے قبائلی بھی اب غالباً تین سال ہونے کو آئے ہیں۔۔۔ اپنے وطن کو لوٹ گئے تھے۔
یہ بات درست ہے۔ ان قبائلی لونڈے لپاڑوں کو واقعی فیس بک کی لت پڑ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن کے کچھ ہی عرصے بعد سننے کو ملا تھا کہ وزیرستان کے نوجوانوں نے قبائلی حقوق اور تحفظ کے لیے فیس بک پر ہی ایک تحریک شروع کر دی تھی۔ اس تحریک نے دیکھتے ہی دیکھتے خوب رنگ پکڑ لیا۔ پھر، اس تحریک سے بہت سوں کو غداری کی بو بھی آنے لگی، باقیوں کو قبائلی مہاجرین کو دہائیوں سے جاری مشقت اور اذیت کی مُشک آتی ہے۔ 

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر