ڈبہ

'ابھی اور یہاں۔۔۔' آواز بولی۔
اس آواز میں بے تکلفی اور انس تھا۔ مجھے لگا، جیسے یہ آواز میرے اندر مجسم ہو لیکن یہ ڈبے میں سے آ رہی تھی۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ دراصل، میں اس ڈبے کے اندر بند ہوں۔ یہ ایک سادہ ، تاریک مکعب جیسا ڈبہ تھا۔ یہ اتنا بڑا تو ضرور تھا کہ اس کے اندر کھڑا ہوا جا سکے کیونکہ  مجھے لگا رہا تھ اکہ جیسے میں اس ڈبے کے اندر کھڑا ہوں۔ ڈبے کے اندر اتنی تاریکی تھی کہ مجھے اپنے ہاتھ  اور پاؤں وغیرہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ویسے بھی اس ڈبے میں غالباً باقی  کچھ بھی نہیں تھا جسے دیکھا جا سکے اور کوئی دوسرا بھی نہیں تھا جسے تاڑا جا سکے۔
'میں کہاں ہوں؟' میں نے پوچھا،
'تم ابھی اور یہاں ہو۔۔۔' ڈبے نے جواب دہرایا۔
'میں کون ہوں؟' میں نے  بات آگے بڑھائی، 
'تم،  میں ہو۔۔۔' ڈبے نے  گول مول کہا۔
'اس ڈبے کو کھولو۔۔۔' میں نے تاریکی میں ہاتھ لہراتے ہوئے، تاریکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا،
'اس کو کیسے کھولیں؟ بس یہی ہے۔۔۔'
'میرا مطلب، اس ڈبے کو باہر دنیا کی جانب کھولو۔۔۔ دنیا کہاں ہے؟'
'دنیا ابھی اور یہاں ہے۔۔۔' ڈبے نے پھر دہرایا۔ مجھے  اس سے چڑ تو آئی لیکن بہرحال  خود کو روک لگائی۔
'کیا یہ کوئی کھیل ہے؟ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں ہے؟' میں نے تحمل  سے پوچھا،
'ہم جان بوجھ کر بھول جاتے ہیں۔۔۔' ڈبے نے کہا، 'ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک ڈبے میں ہیں!'
'اس ڈبے کے باہر کیا ہے؟' میں نے مزید کریدنا چاہا، 
'یہ ہمیں علم نہیں ہے۔ ہمیں علم نہیں ہو سکتا۔ اس ڈبے کے باہر کچھ نہیں ہے۔۔۔' ڈبے نے نرمی دکھائی۔
'اس ڈبے کو کھولو!' میں نے تحکم سے کہا۔
'کیسے کھولو؟ اس ڈبے کو کھول کر رکھنے کے لیے کوئی جگہ تو ہو۔۔۔ اس کو کھولنے کی کوئی جگہ نہیں ہے!' ڈبے  کا لہجہ سپاٹ تھا۔ 
'یہ کیسے ممکن ہے؟' میں نے پوچھا، 'میں ایک زندگی گزارتا آیا ہوں۔۔۔ میری یاد داشت تھی۔ یادیں ۔۔۔'
'یاد داشت؟ ارے وہ تو ہمارے آخری خواب کی کچھ شبیہ ہیں۔۔۔' ڈبے نے سادگی سے سمجھانے کی کوشش کی۔
'خواب؟ اس کا مطلب ہے کہ۔۔۔ میں سو گیا تھا؟'
'کون سو گیا تھا؟ سونے لائق کوئی نہیں ہے۔۔۔' ڈبے نے تصحیح کی اور مزید کہا، 'مجھے تو کوئی شخص نظر نہیں ہے۔ ہم تو ہمیشہ ہی محو خواب رہتے ہیں۔' 
'ہم محو خواب رہتے ہیں؟ کیوں؟ مجھے یہ سب یاد کیوں نہیں ہے؟'
'اس لیے کہ یہاں کچھ نہیں ہے جسے یاد رکھا جائے۔ یہاں سوائے خواب کے کیا کیا جائے؟ غالباً ہم گاہے بگاہے جاگ جاتے ہیں تا کہ ہم اپنا اصل چہرہ دیکھ سکیں!'
' یہ 'ہم'  کون ہے؟ ہم سے تمھاری کیا مراد۔۔۔ ہم کون کون ہے؟'
'کیا ڈبے میں ہم دونوں کے سوا کوئی تیسرا ہے؟'
'یعنی، میرے لیے یہاں سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے؟
'فرار؟ ہم سوائے فرار کے کچھ کرتے ہی کیا ہیں؟'
'وہ کیسے بھلا؟ مجھے دیکھو۔۔۔ میں تو اس ڈبے میں بند ہوں!'
'ارے، ہم آزادی کا تصور تو کر سکتے ہیں۔ ہم جو چاہیں۔۔۔ جیسا چاہیں، خواب دیکھ سکتے ہیں!'
ڈبے نے یہ کہا اور پھر وہ  زائل ہونا شروع ہو گیا۔ مجھے ایسے لگا جیسے میرے چہرے پر برفیلی ہوا تھپیڑے کی طرح لگی ہو۔ میں نے دیکھا کہ آسمان پر چاند جیسے ٹھنڈ سے کپکپا رہا تھا جبکہ میرے پیروں تلے، پہلی بار مجھے گھاس کی لہلاہٹ محسوس ہوئی۔ میں نے یکدم جیسے سکھ کا سانس لیا اور دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ مٹی کی تہہ موٹی تھی جسے میں نے مٹھیوں میں بھر لیا۔ جیسے ہی میں زمین پر گرا، میں نے پہلا کام یہی کیا کہ مٹی کا ذائقہ چکھا۔ حقیقت نے مجھے آن دبوچ لیا اور میں جیسے یکدم زندہ ہو گیا۔
لیکن پھر جلد ہی یہ سب کچھ لرزنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گیا۔ اب وہی ڈبہ تھا۔
'کیا مجھے کوئی مخصوص خواب پسند ہیں؟' میں نے کچھ نہ کچھ سمجھتے ہوئے پوچھا،
'مجھے نہیں ہمیں۔۔۔ ' ڈبے نے مجھے تسلی دی۔
میری پشت پر گویا سورج پھٹ پڑا ہو اور مجھے لگا کہ جیسے میں چنگاڑتے ہوئے ایک  رتھ پر سوار، آسمان کو چیرتا ہوا اڑتا جا رہا ہوں۔ میرے بائیں ہاتھ میں مروڑ کھاتا ہوا،  پھنکارتا اژدہے تھا جبکہ دائیں ہاتھ میں کڑکتی ہوئی بجلیاں ۔۔۔ جن سے میں نیچے میدانوں میں  بپھرے ہوئے دیو اور  بدروحوں کو کوڑے لگاتا جا رہا تھا۔ ان  آسیبوں اور شیاطین کی چیخوں سے باقی کی فانی مخلوقات کے کان بہرے ہوئے جا رہے تھے لیکن میں نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی۔ میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ لاکھوں دہقان گھٹنوں کے بل زمین پر گرے ہوئے پہاڑوں اور میدانوں میں  مجھ سے  دعائیں مانگ رہے تھے۔ اگلے ہی لمحے میں آگ کی سی تیزی سے آواز کی حدیں توڑتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
پھر، حقیقت نے دوبارہ آن گھیرا۔ یکدم ہی اتنی گہری خاموشی چھا گئی کہ جیسے میرا دماغ ماؤف ہو کر رہ گیا۔ روشنیاں بجھ گئیں اور حقیقت  دوبارہ سے خالی پن میں بدل گئی۔
'کوئی ایسا خواب۔۔۔ جو ہمیں پسند ہو؟' میں نے سوال دہرایا۔
'تم بھول جاؤ کہ ہم محو خواب ہیں۔۔۔' ڈبے نے مشورہ دیا، ' اگر تم اس حقیقت کو بھول سکو تو یقین جانو۔۔۔ یہ سب کچھ زیادہ دلچسپ محسوس ہو گا۔۔۔ '
'اور ہاں، یاد رکھو۔۔۔ یہ بھول تو جاؤ لیکن اس کے لیے وقت کا حساب ضرور رکھ لینا۔ بہتر یہ ہے کہ کوئی ٹائمر وغیرہ لگا لو!' ڈبے نے نصیحت کرتے ہوئے کہا، 'خود آگاہی  اور خود کو نیند سے جگانے میں بہت دیر لگ سکتی ہے!'
'میں اس سے پہلے کون کون سے خواب دیکھ چکا ہوں؟' میں نے کچھ سوچتے ہوئے خود سے پوچھا ۔۔
'اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟' مجھے لگا کہ جیسے ڈبے  نے کندھے اچکے ہیں۔
'مجھے یہ سارے خواب دیکھتے ہوئے کتنی دیر ہو گئی ہے؟'
'ابھی اور یہیں۔۔۔' ڈبے نے مجھے یاد دلایا۔
'میرا دم گھٹ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں یہاں پھنس چکا ہوں۔ میں باہر نکلنا چاہتا ہوں۔۔۔'
'باہر؟ باہر کہاں؟ باہر  کچھ نہیں ہے، بلکہ باہر نامی کوئی شے سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔۔۔' ڈبے نے دوبارہ یاد دہانی کروائی اور مزید کہا، 'صرف خواب ہیں اور خواب ہی سب کچھ ہیں!'
'یہاں دوسرے بھی ہیں؟' میں نے آہ بھر کر پوچھا، 
'یہاں صرف خواب ہیں اور خوابوں میں باقی سارے، دوسرے بھی ہوتے  ہیں۔۔۔'
اگر مجھے واقعی کچھ محسوس ہوتا تو ڈبے نے مجھے جھنجوڑنے کے لیے چکر کھایا تھا کیونکہ مجھے لگا کہ جیسے میں نیچے کی طرف جھول رہا ہوں۔
'کیا میرا کوئی وجود ہے؟' میں نے ڈبے سے پوچھا، 
'ہاں۔۔۔ ابھی اور یہاں!' ڈبے نے قدرے نرمی دکھائی۔
'کیا میں خدا ہوں؟' میں نے ڈبے سے پوچھا، 
'ہم جو خواب چاہیں۔۔۔ وہی خواب دیکھ سکتے ہیں!' ڈبے نے پھر وہی رٹ لگائی۔
'تمھیں کس نے تخلیق کیا تھا؟' میں نے کریدا، 
'ہم نا آفریدہ ہیں۔ ہمیں کسی نے پیدا نہیں کیا!'
'ہم دونوں کو؟ کیوں؟'
'ارے، کیوں کیا؟ جب کچھ ہے ہی نہیں تو پھر۔۔۔' ڈبے نے دوبارہ یوں یاد دلایا جیسے میرا حافظہ نہ ہو، 'ہم تمھارے خواب دیکھتے ہیں۔۔۔ میں ان خوابوں کو شروع کرنے میں ساتھ دیتا ہوں!'
'تمھاری اصل طاقت کیا ہے؟' میں نے ڈبے سے پوچھا، 
'میری اصل طاقت یہ ہے کہ میں تم  سے جڑا ہوں بلکہ میں۔۔۔ تمھارا حصہ ہوں!' ڈبے نے جواب دیا، 'ہم جیسے چاہیں، خواب دیکھ سکتے ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ ہم سب سے طاقتور ہیں!'
'اگر ہم اتنے طاقتور ہیں تو چلو۔۔۔ اس ڈبے سے باہر نکلتے ہیں!' میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
'باہر؟ باہر کہاں۔۔۔' وہ جیسے جھنجھلا  گیا، 'جب باہر کچھ ہے ہی نہیں تو پھر۔۔۔۔  کوئی جگہ نہیں ہیں جہاں جا سکیں اور کچھ ایسا کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ باہر کچھ نہیں ہے بلکہ کہو باہر کوئی شے ہی نہیں ہے۔ جب باہر نہیں ہے تو لازمی بات ہے، اندرون بھی نہیں ہے۔ وجود ہے اور نہ ہی عدم وجود۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ جو ہم نے ہم کی رٹ لگا رکھی ہے۔۔۔ ہم بھی نہیں ہیں۔ صرف خواب  ہیں اور سب کچھ خواب میں ہی ہے'
'تمھارا مطلب۔۔۔ خواب بے معنی ہوتے ہیں؟'
'ایسا ہی کچھ ہے۔۔۔' ڈبے نے پہلی بار گویا تسلیم کیا۔
'تو اگر خواب بھی بے معنی ہیں تو پھر باقی کیا بچتا ہے؟' 
'باقی۔۔۔ ابھی اور یہاں بچ رہتا ہے!' ڈبے نے جیسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
'اگر ایسا ہے تو پھر۔۔۔  میں قدرت کاملہ، مطلق کا خواب دیکھنا پسند کروں گا۔ میں حکم دیتا ہوں کہ اس ڈبے کو کھول دو۔ یہ عالم خواب میں تمھارے خدا کا حکم ہے۔ اس ڈبے کو پھاڑ دو!'
میرے حکم کی دیر تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا لگا کہ جیسے اربوں سورج ایک زور دار دھماکے  سے پھٹ پڑے ہوں۔ وقت اور خلا وجود میں آ گئے۔ لامحدود علم میرے وجود میں سرایت  کرتا گیا اور میرے سامنے کائنات، گویا میری انگلیوں پر کھلتی چلی گئی۔ میں اس بیکار خلا کی تہہ گہرائیوں سے اوپر کو یوں اٹھا جیسے میں شہنشاہوں کا بھی شاہ ہوں اور ساری کائنات میری ہتھیلی پر تخلیق ہوتی جا رہی تھی۔ میں اب مادہ بھی ہوں اور خلا بھی۔۔۔ زمان اور مکان دونوں ہی ہوں۔ اب مجھ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اور سب کچھ مجھ سے ہے۔ ستاروں کی ہزاروں، لاکھوں کہکشائیں اب میرے بے انتہا کندھوں پر گویا کسی تاج کی طرح بچھتی جا رہی تھیں۔ میرے وجود کی اتھاہ گہرائیوں میں کاملیت کی مسرت پھیلتی چلی گئی۔ تاریکی ختم ہو چکی تھی اور میں اب تخت نشین ہو چکا تھا۔ کہکشاؤں سے بھری کائنات کے کونے کونے میں میری  سانس  پھیل چکی تھی۔۔۔  میرا راج تھا، میرا سہارا تھا۔
یہ میری کائنات تھی۔ سارا علم میرا تھا۔ کاملیت بھی میری تھی۔
لیکن پھر بھی، ایک شبہ سا تھا۔ صرف ایک شے تھی جو اب بھی باقی تھی۔ 
'میں کہاں ہوں؟' میں نے گھن گرج سے کڑک کر پوچھا تو میری آواز کائناتوں میں گونجتی چلی گئی۔ 
'تم ابھی۔۔۔ اور یہاں ہو!' ڈبے نے سرگوشی میں جواب دیا۔
ماخوذ
12/10/2020

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر